السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
مولانا اقبال قاسمي سلفي
موضوع: کیا کربلا میں نواسہ رسول ﷺ پر پانی بند کر دیا گیا تھا؟
مصادر: مختلف مراجع و مصادر
چاند جو ماہ محرم کا نظر آتا ہے
تیرے تن میں کیوں شیطان اترآتاہے۔
محرم الحرام میں میں جہاں عوام ڈھول اور تعزیے جیسے غیر اسلامی شیطانی افعال کو انجام دیتے ہیں وہیں واقعہ کربلا کی جعلی اور موضوع روایتیں بیان کرکے دیوبندی اور رضاخانی علماء اور مفتیان ان شیطانی کاموں کو مہمیز لگانے کا کام کرتے ہیں۔
ماہ محرم میں واقعہ کربلا کو بیان کرتے ہوئے ان ڈراما باز کلاکاروں کا صرف اور صرف یہ مقصد ہوتا ہے کہ لوگوں کی آنکھوں سے آنسوؤں کی قطار لگ جائے اور انہیں واقعہ کربلا پر جذباتی بناکر خوب داد تحسین حاصل کر سکیں۔
چنانچہ واقعہ کربلا بیان کرتے ہوئے اکثر یہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ میدان کربلا میں آل حسین پر پانی تک بند کردیا گیا اور آل حسین کو پانی کی ایک ایک بوند کے لیے ترسایا گیا جبکہ وہ شدت پیاس سے تڑپ رہے تھے لیکن پانی تک ان کی رسائی نہیں ہونے دی گئی۔
جبکہ میدان کربلا میں آب بندی کا یہ واقعہ سرے سے موضوع اور من گھڑت ہے۔ دنیا و جہان کی کتب احادیث میں کہیں بھی صحیح سند کےساتھ یہ واقعہ موجود نہیں ہے۔
کہا جاتا ہے کہ تین دن تک اہل بیت کے خیمے میں ایک بوند بھی پانی نہیں تھا اور مسلسل تین دن تک بچوں سے لے کر بڑوں تک سب پیاسے رہے اور کچھ مقررین تو اس سے بھی آگے بڑھ جاتے ہیں اور پانچ محرم سے ہی پانی بند کر دیتے ہیں تاکہ واقعہ مزید دردناک ہو جائے۔
جبکہ تاریخ ابن کثیر میں یہ روایت موجود ہے:
دسویں محرم کو امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے غسل فرمایا اور خوشبو لگائی اور بعض دوسرے ساتھیوں نے بھی غسل فرمایا۔
(البداية والنهاية، ج8، ص185)
اس روایت کو مقررین ہاتھ بھی نہیں لگاتے کیوں کہ اگر اسے بیان کر دیا گیا تو پھر لوگوں کو رلانے کا دھندا چوپٹ ہو جائے گا، پھر کس منھ سے کہا جائے گا کہ تین دن تک اہل بیت کے خیموں میں ایک بوند بھی پانی نہیں تھا۔
پانی بند ہونے والی صرف ایک طرف کی روایت(وہ بھی موضوع اور من گھڑت) کو بیان کرنا اور یہ کہنا کہ تین دن تک اہل بیت کے خیموں میں ایک بوند پانی نہیں تھا، اس سے واضح ہے کہ مقصد صرف لوگوں کو رلانا اور محفل میں رنگ جمانا ہے۔ اپنے مطلب کی روایات میں نمک مرچ لگا لگا کر بیان کرنا اور دوسری روایات کو ہڑپ جانا، یہ کیسی تقلیدیت اور رضا خانیت ہے؟
اسی طرح عبد اللہ بن حسین جنہیں علی اصغر کہا جاتا ہےہے، میدان کربلا میں ان کے پیاس کا افسانوی قصہ بھی باطل ہے۔ عموما واعظین کہتے ہیں کہ علی اصغر کو حسین رضی اللہ عنہ نے یزیدیوں کے سامنے لے جا کر پانی مانگا یہ فرضی قصہ "خاک کربلا" جیسی کتب میں بغیر حوالے کے درج ہے بلا تحقیق اور غور و خوض کے عوام الناس میں بیان کیا جاتا ہے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ واقعہ کربلا آج جھوٹ کا معمہ بنا دیا گیا ہے۔ اور واقعہ کربلا کی جتنی روایات ہیں وہ سب جھوٹی اور جعلی ہیں۔ کیونکہ ان روایتوں کے بیان کرنے والے اکثر راوی جھوٹے، جعلی، مجہول، غالی اور غیر معتبر ہیں۔ ستم بالاۓ ستم یہ کہ مؤرخین نے ان روایات کو بلا کسی نقد و تبصرہ کے اپنی کتابوں میں نقل کر دیا اور پھر وہی روایتیں عوام میں منتقل اور مشہور ہوگئیں۔ جس کا اعتراف شیعہ عالموں نے بھی کیا ہے۔ چنانچہ شیعہ مصنف شاکر عالم لکھتے ہیں: واقعہ کربلا کے بارے میں صدہا باتیں گھڑی گئی ہیں، ان واقعات کی تدوین عرصہ دراز کے بعد ہوئی، رفتہ رفتہ اختلاف کی اس قدر کثرت ہوگئی کہ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ سے الگ کرنا مشکل ہوگیا۔
( بحوالہ: آؤ محرم کی حقیقت تلاش کریں: ص 33)
فتاویٰ رضویہ میں احمد مولوی احمد رضا خان لکھتے ہیں:
شہادت نامے (شہادت کے بیانات) جو آج کل عوام میں رائج ہیں اکثر روایات باطلہ وبے سر وپا سے مملو، اکاذیب موضوعہ پر مشتمل ہیں۔ ایسے بیان کا پڑھنا اور سننا وہ شہادت نامہ ہو خواہ کچھ اور، مجلس میلاد مبارک میں ہو خواہ کہیں اور مطلقا حرام و ناجائز ہے
(فتاوٰی رضویہ، 24، ص 514 رضا فاؤنڈیشن، لاہور)۔
اس کے جعلی روایت کے برخلاف صحیح احادیث سے یہ ثابت شدہ ہے کہ خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر باغیوں نے بئر رومہ کا پانی بند کردیا تھا جس رومہ کو عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میٹھے پانی کے لیے مسلمانوں کو وقف کیا تھا۔
ثقہ تابعی ثمامہ بن حزن حزن القشیری کہتے ہیں کہ میں سیدنا عثمان کی شہادت کے دن بیت خلافت میں حاضر ہوا اور انہیں حالات سے مطلع کیا تو آپ رضی اللہ نے باغیوں سے مخاطب ہوکر فرمایا:
"اپنے ان دونوں ساتھیوں کو بلاؤ جنہوں نے میرے خلاف بھڑکایا ہے۔ "
انہیں بلایا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر دریافت فرماتا ہوں کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ جب نبی کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو مدینہ میں بئر رومہ کے علاوہ میٹھے پانی کا کوئی کنواں موجود نہیں تھا، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے خالص مال سے یہ کنواں خریدے گا اور اس پر اس کا استحقاق عام مسلمانوں کی طرح ہوگا تو اسے اس سے کہیں بہتر جنت میں ملے گا تو وہ کنواں میں نے خالص اپنے مال سے خریدا لیکن آج تم مجھے ہی اس کے پانی سے روک رہے ہو؟؟
(فضائل صحابہ لاحمد بن حنبل حدیث نمبر : 797 و اسنادہ صحیح)
اسی طرح اسلام کی پہلی جنگ میں اللہ رب العزت نے مسلمانوں کو بارش کے ذریعہ کس طرح مدد فرمائی۔
اللہ رب العزت نے سورہ انفال میں ارشاد فرمایا:
إِذْ يُغَشِّيكُمُ النُّعَاسَ أَمَنَةً مِنْهُ وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً لِيُطَهِّرَكُمْ بِهِ وَيُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّيْطَانِ وَلِيَرْبِطَ عَلَى قُلُوبِكُمْ وَيُثَبِّتَ بِهِ الْأَقْدَامَ.
(سورة الانفال: 11)
اس وقت کو یاد کرو جب کہ اللہ تم پر اونگھ طاری کر رہا تھا تم پر سے گھبراہٹ دور کرنے کے لیے اور تم پر آسمان سے پانی برسا رہا تھا کہ اس پانی کے ذریعہ سے تم کو پاک کر دے اور تم پر سے شیطانی وسوسوں کو دور کردے اور تمہارے دلوں کو مضبوط کردے اور تمہارے قدم جما دے۔
(سورہ انفال: 11)
اس بارش کے تین فائدے ہوے : ایک یہ کہ مسلمانوں کو وافر مقدار میں پانی دستیاب ہوگیا ۔ دوسرے یہ کہ مسلمان چونکہ وادی کے بالائی حصہ پر تھے اس لیے بارش کی وجہ سے ریت جم گئی اور زمین اتنی مضبوط ہو گئی کہ قدم اچھی طرح جم سکیں اور نقل و حرکت بھی بآسانی ہو سکے۔ تیسرے یہ کہ لشکر کفار نشیب کی جانب تھا ، بارش ہوجانے کی وجہ سے وہاں کیچڑ ہوگئی اور پاؤں دھنسنے لگے ۔
میں عرب کا پہلا شخص ہوں جس نے راہ خدا میں تیر پھینکا، اور ہم نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کرتے وقت دیکھا ہے کہ ہمارے پاس خاردار درختوں کے پھل اور کیکر کے درخت کے علاوہ کھانے کے لیے کچھ نہ تھا یہاں تک کہ ہم لوگ قضائے حاجت میں بکریوں کی طرح مینگنیاں نکالا کرتے تھے ۱؎، اور اب قبیلہ بنی اسد کے لوگ مجھے دین کے سلسلے میں ملامت کرنے لگے ہیں، اگر میں اسی لائق ہوں تو بڑا ہی محروم ہوں اور میرے اعمال ضائع ہو گئے۔
(سنن ترمذی : حدیث نمبر: 2366)
سعد رضی الله عنہ نے یہ بات اس وقت کہی تھی جب بعض جاہل لوگوں نے آپ پر چند الزامات لگائے تھے، ان الزامات میں سے ایک الزام یہ بھی تھا کہ آپ کو ٹھیک سے نماز پڑھنا نہیں آتی، یہ آپ کے کوفہ کے گورنری کے وقت کی بات ہے، اور شکایت خلیفہ وقت عمر فاروق رضی الله عنہ سے کی گئی تھی۔
ان صحیح ، ثابت شدہ سنہرے واقعات کے بجائے موضوع اور جعلی روایتیں امت کے سامنے پیش کی جاتی ہیں، تاکہ جاہل اور تقلیدی عوام کو بیوقوف بنا کر اپنا الو سیدھا کر سکیں۔
میدان کربلا میں پانی بند کئے جانے کی جعلی روایت کو بیان کرنے کے بجائے ان صحیح واقعات و سیر کو بیان کیا جائے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ پیارے نبی ﷺ اور آپ کے جان نثار صحابہ کو اسلام کی راہ میں کیسی مشقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!
No comments:
Post a Comment