السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
محمد اقبال قاسمي سلفي
موضوع: وطن کی محبت ایمان کا حصہ ہے۔ "حدیث نہیں ہے ۔
مصادر: مختلف مراجع و مصادر
صوفی سنتوں کے قصے کہانیاں سننے اور سنانے والے حنفی عوام، علماء، خطباء اور مفتیوں کویہ حدیث اکثر بیان کرتے ہوئے سنا جاتا ہے۔
حب الوطن من الايمان
وطن کی محبت ایمان کا حصہ ہے۔
لیکن یہ بالکل بے سند اور موضوع روایت ہے۔ صحیح تو کیا، کوئی ضعیف سند بھی اس کی کتب احادیث میں موجود نہیں ہے۔
علامہ صغانی حنفی نے اسے موضوع کہا ہے۔
(الموضوعات : 81)
علامہ سیوطی لکھتے ہیں :
(حديث) "حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الإِيمَانِ" لم أقف عليه.
"یہ حدیث مجھے نہیں مل سکی۔" (الدر المنتثرۃ : 190)
علامہ سخاوی لکھتے ہیں :
حَدِيث: حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الإِيمَانِ، لم أقف عليه.
"مجھے بھی نہیں ملی۔"
(المقاصد الحسنة : 386)
علامہ البانی نے السلسلۃ الضعیفہ میں اسے موضوع قرار دیا ہے۔
دارالعلوم دیوبند نے بھی اپنے فتوے میں اسے موضوع کہا ہے۔
چنانچہ جب دارالعلوم دیوبند سے پوچھا گیا۔
سوال:
براہ کرم ، حب الوطنی سے متعلق قرآنی آیات (نمبر) اور احادیث ارسال فرمائیں یا اس طرف رہنمائی کریں
جواب:
میرے علم میں ایسی کوئی صحیح حدیث نہیں ہے جو حب الوطنی سے متعلق ہو اور نہ ہی کسی قرآنی آیت میں اس کا ذکر ہے۔ بطور حدیث کے حب الوطن من الایمان جو سنی جاتی ہے علماء نے اس کو موضوع کہا ہے۔
دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتوی نمبر : 1716
علامہ یوسف بنوری حنفی دیوبندی پاکستانی سے جب اس بابت سوال کیا گیا کہ کیا:
اسلام نے وطن سے محبت کو ایمان کا جزو قرار دیا ہے؟ جواب صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں عنایت فرمائیں۔
جواب:
حب الوطن من الإیمان" یعنی وطن سے محبت ایمان کا جز ہے، اس قسم کی بات عوام الناس میں حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے طور پر مشہور ہے، جب کہ مذکورہ الفاظ کی نسبت رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرنا درست نہیں، اس لیے کہ محدثین نے اس روایت کو موضوع یعنی من گھڑت قرار دیا ہے،جیساکہ "موضوعات الصغاني" میں ہے:
١- حبُّ الوطنِ منَ الإيمانِ. موضوعات الصغاني.الصفحة أو الرقم: 53)
موضوع المقاصد الحسنةمیں ہے:
٢- حبِّ الوطنِ منَ الإيمانِ. ( المقاصد الحسنة للسخاوي، الصفحة أو الرقم: 218) قال السخاوي : لم أقف عليه.
الدرر المنتثرةمیں ہے:
٣- حبُّ الوطنِ من الإيمانِ. ( الدرر المنتثرة للسيوطي، الصفحة أو الرقم: 65) قال السيوطي : لم أقف عليه.
الأسرار المعروفة میں ہے:
٤- حبُّ الوطنِ مِنَ الإيمانِ.
( الأسرار المرفوعة لملا علي القاري، الصفحة أو الرقم: 189) قال علي القاري: قيل: لا أصل له أو بأصله موضوع.
البتہ محدثین میں سے علامہ سخاوی رحمہ اللہ مذکورہ روایت کے معنی کو صحیح قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ روایت اگرچہ صحیح نہیں، لیکن اس کا معنی درست ہے.
وقال في المقاصد: لم أقف عليه، ومعناه صحيح.
جب کہ دیگر محدثین نے علامہ سخاوی رحمہ اللہ کے اس قول کو قبول نہیں کیا اور ایمان اور وطن کی محبت کے تلازم کا انکار کیا ہے، اور ایمان کے جز ہونے کا انکار کیا ہے۔
ورد القاري قوله: (ومعناه صحيح) بأنه عجيب، قال: إذ لا تلازم بين حب الوطن وبين الإيمان.
پس مذکورہ بالا تفصیل سے ثابت ہوتا ہے کہ وطن کی محبت کو ایمان کا جز قرار دینا اور اس کی نسبت رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرنا صحیح نہیں، البتہ بعض دیگر کچھ روایات سے وطن کی محبت کا ممدوح ہونا معلوم ہوتا ہے، تاہم ان روایات میں سے کسی سے بھی محبتِ وطن کا ایمان کا جز ہونا ثابت نہیں ہوتا.
دارالافتاء
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر: 144004200499
جعلی احادیث بیان کر کے بے دھڑک نبی کریم ﷺ پر بہتان باندھنے والے رضاخانی رھبان نے بھی اس روایت کو موضوع کہا ہے۔
بانی رضاخانیت، احمد رضا خان صاحب لکھتے ہیں:
حب الوطن من الایمان
(وطن کی محبت ایمان کا حصہ ہے۔ ) نہ حدیث سے ثابت نہ ہرگز اس کے یہ معنی،
*( الدارالمنتشرۃ فی الاحادیث المشتہرۃ حرف الحاء حدیث ۱۸۹ المکتب الاسلامی بیروت ص۱۰۰)
اس کے یہ معنی امام بدرالدین زرکشی نے اپنے جز اور امام شمس الدین سخاوی نے مقاصد حسنہ میں اور امام خاتم الحفاظ جلال الدین سیوطی نے الدرالمنتشرہ میں بالاتفاق اس روایت کو فرمایا: لم اقف علیہ (میں اس سے آگاہ نہیں ہوسکا۔
*( المقاصد الحسنہ للسخاوی حدیث ۳۸۶ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۱۰۹)*
( الدررالمنتشرۃ فی الاحادیث المشتہرۃ حروف الحاء حدیث ۱۸۹ المکتب الاسلامی بیروت ص۱۰۰)
( فتاوٰی رضویہ جلد:15 صفحہ: 295)
واضح ہوکہ وطن سے محبت ایک فطری شیء ہے نبی کریم ﷺ کو بھی اپنے وطن سے بے پناہ محبت تھی بلکہ محبت کی دعائیں مانگا کرتے تھے۔
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ : لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ ، وُعِكَ أَبُو بَكْرٍ ، وَبِلَالٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَتْ : فَدَخَلْتُ عَلَيْهِمَا ، قُلْتُ : يَا أَبَتِ كَيْفَ تَجِدُكَ ؟ وَيَا بِلَالُ كَيْفَ تَجِدُكَ ؟ قَالَتْ : وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا أَخَذَتْهُ الْحُمَّى يَقُولُ : كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ ، وَكَانَ بِلَالٌ إِذَا أَقْلَعَتْ عَنْهُ يَقُولُ : أَلَا لَيْتَ شِعْرِي ، هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ وَهَلْ أَرِدَنْ يَوْمًا مِيَاهَ مِجَنَّةٍ وَهَلْ تَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ ، أَوْ أَشَدَّ ، اللَّهُمَّ وَصَحِّحْهَا وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّهَا ، وَصَاعِهَا ، وَانْقُلْ حُمَّاهَا فَاجْعَلْهَا بِالْجُحْفَةِ.
ترجمہ:
جب رسول اللہ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ اور بلال رضی اللہ عنہ کو بخار ہو گیا ۔ بیان کیا کہ پھر میں ان کے پاس ( عیادت کے لیے ) گئی اور پوچھا ، محترم والد بزرگوار آپ کا مزاج کیسا ہے ؟ بلال رضی اللہ عنہ سے بھی پوچھا کہر آپ کا کیا حال ہے ؟ بیان کیا کہ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بخار ہوا تو وہ یہ شعر پڑھا کرتے تھے ” ہر شخص اپنے گھر والوں میں صبح کرتا ہے اور موت اس کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے ۔“ اور بلال رضی اللہ عنہ کو جب افاقہ ہوتا تو یہ شعر پڑھتے تھے ” کاش مجھے معلوم ہوتا کہ کیا میں پھر ایک رات وادی میں گزار سکوں گا اور میرے چاروں طرف اذخر اور جلیل ( مکہ مکرمہ کی گھاس ) کے جنگل ہوں گے اور کیا میں کبھی مجنہ ( مکہ سے چند میل کے فاصلہ پر ایک بازار ) کے پانی پر اتروں گا اور کیا پھر کبھی شامہ اور طفیل ( مکہ کے قریب دو پہاڑوں ) کو میں اپنے سامنے دیکھ سکوں گا ۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ کو اس کی اطلاع دی آپ نے دعا فرمائی کہ اے اللہ ! ہمارے دل میں مدینہ کی محبت بھی اتنی ہی کر دے جتنی مکہ کی محبت ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ اور اس کی آب و ہوا کو ہمارے موافق کر دے اور ہمارے لیے اس کے مد اور صاع میں برکت عطا فرما ، اللہ اس کا بخار کہیں اور جگہ منتقل کر دے اسے مقام جحفہ میں بھیج دے۔
(صحیح بخاری حدیث نمبر: 5654)
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَكَّةَ: مَا أَطْيَبَكِ مِنْ بَلَدٍ وَأَحَبَّكِ إِلَيَّ، وَلَوْلَا أَنَّ قَوْمِي أَخْرَجُونِي مِنْكِ مَا سَكَنْتُ غَيْرَكِ.
رسول اللہ ﷺ نے مکہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:کتنا پاکیزہ شہر ہے تو اور تو کتنا مجھے محبوب ہے ، میری قوم نے مجھے تجھ سے نہ نکالا ہوتا تو میں تیرے علاوہ کہیں اور نہ رہتا۔
(سنن ترمذی حدیث نمبر: 3926)
اسی طرح آپ ﷺ مدینہ سےبھی بیحد محبت کرتے تھے ۔ بخاری شریف میں ہے کہ جب آپ سفر سے واپس ہوتے اور مدینہ نظر آنے لگتا تو مدینہ سے محبت میں سواری تیز کردیتے چنانچہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا:
كان رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم إذا قَدِمَ مِن سفرٍ ، فأَبْصَرَ درجاتِ المدينةِ ، أَوْضَعَ ناقتَه ، وإن كانت دابَّةً حرَّكَها .
(صحيح البخاري:1802)
ترجمہ: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے مدینہ واپس ہوتے اور مدینہ کے بالائی علاقوں پر نظر پڑتی تو اپنی اونٹنی کو تیز کردیتے، کوئی دوسرا جانور ہوتا تو اسے بھی ایڑ لگاتے۔
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اپنے وطن سے محبت کرنا جائز ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اسے نصف ایمان یا ایمان کا کوئی حصہ قرار دیا جائے، وطن سے محبت کو کسی بھی صحیح حدیث میں ایمان کا حصہ قرار نہیں دیا گیا ہے۔ اور جس حدیث میں اسے ایمان کا حصہ قرار دیا گیا ہے وہ بے سند اور موضوع ہے۔ جس کا بیان کرنا حرام ہے الا یہ کہ اس کے موضوع اور من گھڑت ہونے کو واضح کرنے کی نیت سے بیان کی جاۓ۔
سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا :جو شخص میرے نام سے وہ بات بیان کرے جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
(صحیح بخاری: 109)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ شرح نخبہ میں فرماتے ہیں: علماء کا اتفاق ہے کہ موضوع حدیث بیان کرنا حرام ہے، سواۓ اس کے, کہ وہ اس کے موضوع ہونے کی تصریح کردے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
من حدث عني بحديث يرى انه كذب فهو احد الكاذبين۔
جو شخص مجھ سے حدیث نقل کرے اور وہ خیال کرتا ہو کہ یہ جھوٹ ہے تو وہ خود جھوٹا ہے۔ (مقدمہ صحیح مسلم) بحوالہ شرح نخبہ۔
عَنْ الْمُغِيرَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : إِنَّ كَذِبًا عَلَيَّ لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ .
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ
میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے کہ میرے متعلق کوئی جھوٹی بات کہنا عام لوگوں سے متعلق جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے جو شخص بھی جان بوجھ کر میرے اوپر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
(صحیح بخاری: 1291)
علامہ علاءالدین حصکفی صاحب در مختار فرماتے ہیں: موضوع روایات پر تو بہر صورت عمل جائز نہیں ہے، نیز اسے بیان کرنا بھی جائز نہیں ہے، مگر یہ کہ ساتھ ساتھ اس کے موضوع ہونے کو بتا دیا جائے۔ (در مختار: ص 87)
علامہ سخاوی لکھتے ہیں: اس لئے کہ نبی کریم ﷺ کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنا ایسا نہیں ہے جیسا کہ مخلوق میں سے کسی دوسرے انسان کی طرف منسوب کردینا۔ کیونکہ ارباب علم و بصیرت نے یہ اتفاق کیا ہے کہ یہ کام گناہ کبیرہ میں سے سب سے بڑا گناہ ہے۔اور متعدد علماء دین اور ائمہ نے ایسے شخص کی توبہ قبول نہ ہونے کی صراحت فرمائی ہے۔ بلکہ شیخ ابو محمد جوینی نے تو ایسے شخص کو کافر کہاہے اور اس کے فتنے اور نقصانات سے ڈرایا ہے۔
(المقاصد الحسنه صفحہ نمبر: 4)
مناظر دیوبند مولانا طاہر حسین گیاوی حنفی دیوبندی " انگشت بوسی سے بائیبل بوسی تک" میں 12-13 پر لکھتے ہیں:
جس طرح حضور اکرم ﷺ کے فرمان کا انکار کرنا محرومی اور تباہی کا باعث ہے، اسی طرح کسی دوسرے کی بات کو حضور ﷺ کا فرمان بتانا بھی عظیم ترین گناہ اور کفر کا سبب ہے۔
(انگشت بوسی سے بائیبل بوسی تک: از مناظر دیوبند مولانا طاہر حسین گیاوی صفحہ نمبر: 12)
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!
No comments:
Post a Comment