Tuesday, July 18, 2023

عرش پر نعلین پہن کر نبی کریم ﷺ کا تشریف لے جانا! ‏

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محمد اقبال قاسمي سلفي

موضوع: عرش پر نعلین پہن کر نبی کریم ﷺ کا تشریف لے جانا! 

صوفی سنتوں کے موضوع اور من گھڑت قصے کہانیوں پر عمل کرنے والے تقلیدی رضاخانی عوام، علماء، مفتیوں اور قصہ گو واعظین کو واقعہ معراج پر زور خطابت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اکثر یہ واقعہ سنا جاتا ہے کہ نبی کریم ﷺ‎ معراج پر تشریف لے گئے تو اللہ تعالی نے آپ سے فرمایا کہ اے محبوب! آپ نعلین پہنے ہوئے آئیں تو حضور ﷺ اسی طرح یعنی نعلین مبارک پہنے ہوئے عرش پر تشریف لے گئے. 

لیکن مذکورہ روایت بے اصل، بے بنیاد اور باطل محض ہے۔ صحیح تو کیا، کوئی ضعیف اور موضوع سند بھی کتب احادیث میں موجود نہیں ہے۔ 
اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف ایسی روایتوں کا انتساب اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر بہتان باندھنا ہے۔ 

رضاخانیوں کے امام، امام احمد رضا خان صاحب نے بھی اسے باطل اور موضوع قرار دیا ہے۔ 
چنانچہ احمد رضا کھاؤں صاحب سے جب یہ سوال کیا گیا کہ کیا:

" یہ صحیح ہے کہ شب معراج مبارک جب حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم عرش بریں پر پہونچے، نعلین پاک اتارنا چاہیں کہ حضرت موسی علیہ السلام کو وادئ ایمن میں نعلین شریف اتارنے کا حکم ہواتھا، فوراً غیب سے ندا آئی اے حبیب تمہارے مع نعلین شریف رونق افروز ہونے سے عرش کی زینت اور عزت زیادہ ہوگی۔  

(الملفوظ حصہ دوم ص 196) 
تو احمد رضا کھاؤں صاحب نے جواب دیا۔ 

جواب: یہ روایت محض باطل اور موضوع ہے۔ 

اسی طرح رضا کھاؤنیوں کے فقیہ ہند شریف الحق امجدی فرماتے ہیں:  

"نعلین مقدس پہنے ہوئے عرش پر جانا جھوٹ اور موضوع ہے۔ جیساکہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ نے "عرفان شریعت حصہ دوم ص:۹ " پر تحریر فرمایا ہے۔
 (فتاویٰ شارح بخاری، جلد۱، ص۳۰۶)
اس کے بعد دوسرے صفحہ پر لکھتے ہیں: کہ اس روایت کے جھوٹ اور موضوع ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ کسی حدیث کی معتبر کتاب میں یہ روایت مذکور نہیں۔ جو صاحب یہ بیان کرتے ہیں کہ نعلین پاک پہنے عرش پر گئے ان سے پوچھیے کہ کہاں لکھا ہے۔
 ( حوالہ سابق ص۳۰۷)"

مذکورہ روایت پوری اس طرح ہے: 

روي أن الرسول عندما وصل إلى العرش ليلة المعراج أراد أن يخلع نعليه، فنودي: لماذا تخلع نعليك؟ فقال: إلهي خشيت عاقبة الطرد، ومرارة الرد، وأن يقال لي كما قيل لأخي موسى، فنودي: يا محمد، إن كان موسى أراد، فأنت المراد، وإن كان موسى أحب، فأنت المحبوب، وإن كان موسى طلب، فأنت المطلوب، وأنت القريب، وأنت الحبيب، فسلني ما تحب، فإني سميع مجيب.
فقال الرسول الكريم: إلهي؛ لا أسالك آمنة التي ولدتني، ولا حليمة التي أرضعتني، ولا فاطمة ابنتي، وإنما أسألك أمتي، فقيل له: يا نبي الرحمة، ما أشفقك على هذه الأمة! أمتك خلق ضعيف، وأنا رب لطيف، وأنت نبي شريف، ولا يضيع الضعيف بين اللطيف والشريف، فوعزتي وجلالي؛ لأقسمن القيامة بيني وبينك شطرين: أنت تقول: أمتي أمتي، وأنا أقول: رحمتي رحمتي. 

اسے عبد الحئی حنفی لکھنوی "الآثار المرفوعة في الأخبار الموضوعة" میں روایت کرنے کے بعد فرماتے ہیں: 
یہ روایت موضوع اور باطل ہے۔ 


اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!

No comments:

Post a Comment

Recent posts

وقف ترمیمی بل

عامۃ المسلمین میں ایسے کئی لوگ ہوسکتے ہیں جو نئے وقف قانون کی باریکیوں سے واقف نہ ہوں اسی لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس پر تفصیلی گفتگو ہو۔ م...