Friday, June 28, 2024

عید کے دن معانقہ کرتے ہوئے تین بار گلے ملنا۔

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم و رحمة الله وبركاته

موضوع : عید کے دن معانقہ ثلاثہ یعنی تین بار گلے ملنا۔

 اقبال قاسمي سلفي

مصادر: مختلف مراجع و مصادر

ہمارے یہاں جیسا کہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ عيد الفطر اور عيد الاضحى کے موقع پر لوگ ایک دوسرے سے گلے ملتے کا التزام کرتے ہیں ،نیز یہ دیکھا جاتا ہے کہ لوگ معانقے میں تین بار گلے ملتے ہیں۔

لیکن معانقے کا یہ طریقہ کتاب و سنت میں کہیں بھی موجود نہیں ہے ، صحیح تو کیا کسی ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے جس میں معانقے میں تین بار گلے ملنا مذکور ہو۔

دارالعلوم دیوبند سے  اس بابت جب پوچھا گیا کہ کیا اسلام میں تین مرتبہ گلے ملنا جائز ہے جیسا کہ بہت سارے لوگ عید کے دن ایک دوسرے کوسلام کرنے کے لیے کرتے ہیں؟ برائے کرم آپ میرے سوالوں کا مستند حوالہ سے جواب عنایت فرماویں۔

تو دارالعلوم دیوبند نے جواب دیا: 
جواب : سلام کے بعد مصافحہ کرنا اور طویل وقفہ کے بعد ملاقات پر گلے ملنا ثابت ہے، لیکن خاص عید کی نماز کے بعد گلے ملنے کا رواج اور تخصیص والتزام ثابت نہیں، معانقہ (گلے ملنا) ایک طرف ہونا چاہیے،.

دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتویٰ نمبر : 17473


کسی بھی موقع سے معانقے میں تعدد یا تکرار نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے
نہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے 
نہ تابعین رحمہم اللہ سے الخ
 
مفتی حبیب الرحمن اعظمی اپنے فتوے میں لکھتے ہیں : "معانقہ یعنی گلے ملنا ایک مرتبہ میں ایک بار اور ایک ہی جانب ہونا چاہیے، بار بار یا تین مرتبہ ملنے کو ضروری سمجھنا جہالت یا رسم ہے۔"
 جس طرح مصافحہ ایک بار ہی ہاتھ ملانے کو کہتے ہیں، کوئی بھی مصافحے میں تین بار ہاتھ نہیں ملاتا، اسی طرح معانقہ ایک بار ہی گلے ملنے کو کہتے ہیں۔

 
معانقہ کا مفہوم عربی زبان جیسا کہ"المنجد" میں ہے، صرف یہ ہے کہ ’جَعَلَ یَدَیْهِ عَلٰی عُنِقِهٖ وَ ضَمَّهُ اِلٰی صَدْرِهٖ۔‘ (المنجمد) اپنے دونوں ہاتھوں کو دوسرے کی گردن پر کر کے اسے سینہ سے ملا لینا،اس میں تعدّد یا تکرار کی کوئی ضرورت نہیں۔

واضح ہو کہ عیدین میں گلے ملنے کا التزام و اہتمام کرنا،جیسا کہ موجودہ دیوبندی و بریلوی عوام ،علما و مفتیان  کے یہاں  کیا جاتا ہے، اسے عید کے دن ضروری سمجھتا ہی منہج سلف کے خلاف ہے ۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عید کےدن جب ایک دوسرے سے ملاقات کرتے تو تَقَبَّلَ اللّٰهُ مِنَّا وَ مِنكَ" (اللہ ہماری اور تمہاری عید قبول فرما لے! کہہ کر ایک دوسرے کو مبارک باد پیش کرتے۔
جبیر بن نفیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :
كان اصحاب النبى صلى اللّٰه عليه وسلم إذا التقوا يوم العيد، يقول بعضهم لبعض:’’تقبل اللّٰه منا ومنك‘‘
نبی کریم ﷺکے صحابہ جب عید کے دن ملاقات کرتے تو بعض صحابۂ کرام بعض سے:’’ تَقَبَّلَ اللّٰهُ مِنَّا وَمِنْكَ‘ کہتے تھے۔[صلاۃ العیدین للمحاملی بتحقیق نور الدین :ص:۲۱۸، ح:۱۴۷]
امام ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ نے فتح الباری میں اِس اثر کی سند کو حسن قرار دیا ہے۔
دیکھیں :[فتح الباری:۲؍۴۴۶، تحت الحدیث:۹۵۰]

اسی طرح محمد بن زیاد الالہانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:
’’كُنَّا ناتي اَبَا اُمَامَة وواثلة بن الْاَسْقَع فِي الْفطر والاضحي، ونقول لَهما:قبل اللّٰه منا ومنكم، فَيَقُولَانِ:ومنكم ومنكم‘‘
ہم عید الفطر اور عید الاضحی کے دن ابو امامہ اور واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہما کے پاس جاتے تو کہتے :’’قَبَّلَ اللّٰهُ مِنَّا وَمِنْكَم‘‘اللہ ہمارے اور آپ کے( نیک اعمال کو) قبول فرمائے ،پھر دونوں صحابی رسول جواب دیتے :’’ومنکم ومنکم‘‘اور آپ کے بھی اور آپ کے بھی ۔[مختصر اختلاف الفقہاء للطحاوی ، اختصار الجصاص بتحقیق الدکتورعبد اللہ نذیر احمد :۴؍۳۸۵]
حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے مذکور اثر کی سند کو حسن قرار دیا ہے۔
دیکھیں :[فتاویٰ علمیہ :۲؍۱۳۳۔۱۳۴]

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام باہمی ملاقات کے وقت مصافحہ کرتے اور جب سفر سے آتے تو معانقہ کرتے۔ 
سلسله احاديث صحيحه: 2649

وعن أنس قال : كان أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم إذا تلاقوا تصافحوا ، وإذا قدموا من سفر تعانقوا . رواه الطبراني في " الأوسط " ( 1 / 37 ) ، وصححه الشيخ الألباني في " السلسلة الصحيحة " ( 2647 ) 

کچھ لوگ یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ عیدین میں معانقہ بطور عبادت نہیں بلکہ بطور عادت کرتے ہیں، اور عادات میں جب تک ممانعت ٹابت نہ ہو ،مباح ہے۔

جواباً عرض ہے کہ یہ عمل بطور عادت ہی سہی، عبادت اور عادت ہر دو میں  ،صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اسلاف کی پیروی ہی اعلی و ارفع ہے۔

دارالعلوم دیوبند نے بھی اپنے فتوے میں اسے ناذرست قرار دیا ہے اور روافض کا طریقہ بتایا ہے۔۔چنانچہ دارالعلوم دیوبند سے جب یہ فتویٰ طلب کیا گیا کہ عید میں لوگ ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں ، یہ عمل کیسا ہے؟

تو دارالعلوم نے جواب دیتے ہوئے لکھاکہ " ہماری شریعت میں عیدی معانقہ ثابت نہیں، یہ روافض کا طریقہ بتایا جاتا ہے۔ بس عید کی مبارکبادی پیش کردینا کافی ہے، معانقہ یعنی گلے ملنے کی کوئی ضرورت نہیں۔"

دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتویٰ نمبر : 41573

اسی طرح عیدین میں معانقہ اور مصافحہ کے متعلق ایک دوسرے فتوے میں رقمطراز ہے :

"ابتدائے ملاقات کے وقت گلے ملنا اور مصافحہ ملانا مسنون ہے، خواہ عید کا روز ہو یا کوئی اور، اس سے کوئی منع نہیں کرتا؛ لیکن اپنی طرف سے مصافحہ اور معانقہ کو عید کے روز کے ساتھ یا عید کی نماز کے بعد کے ساتھ خاص کرلینا یہ صحیح نہیں ہے، مصافحہ یا معانقہ کی تخصیص عید کے روز کے ساتھ نہ تو ا للہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور نہ صحابہٴ کرام سے؛ اس لیے ہمیں بھی ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اس طرح کی تخصیص اور التزام سے احتراز کرنا چاہیے۔ (رد المحتار، ۹/۵۴۷، باب الاستبراء وغیرہ، ط: زکریا، وفتاوی محمودیہ: ۳/ ۱۴۵)"
دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتویٰ نمبر: 60669

اس بابت دیگر علماء دیوبند کے فتاوی ملاحظہ کریں:

 ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺭﺷﯿﺪﺍﺣﻤﺪ ﮔﻨﮕﻮہی'ﻓﺘﺎﻭﯼ رﺷﯿﺪﯾﮧ'ﻣﯿﮟ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ :
”ﻋﯿﺪﯾﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﻌﺎﻧﻘﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﺑﺪﻋﺖ ﮨﮯ“ ۔
‏( ﺹ 443: ،ﺳﻌﯿﺪ‏)

ﻣﻔﺘﯽﮐﻔﺎﯾﺖ ﺍﻟﻠﮧ  ﺩﮨﻠﻮﯼ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ :

”ﻋﯿﺪﯾﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﻌﺎﻧﻘﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﯾﺎ ﻋﯿﺪ ﮐﯽ
ﺗﺨﺼﯿﺺ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ ﻣﺼﺎﻓﺤﮧ ﮐﺮﻧﺎ
ﺷﺮﻋﯽ ﻧﮩﯿﮟ، ﺑﻠﮑﮧ ﻣﺤﺾ ﺍﯾﮏ ﺭﺳﻢ ﮨﮯ“ ۔

‏( ﮐﻔﺎﯾﺖ ﺍﻟﻤﻔﺘﯽ : 3/302 ،ﺩﺍﺭﺍﻻﺷﺎﻋﺖ‏)

ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺍﺷﺮﻑ ﻋﻠﯽ ﺗﮭﺎﻧﻮ ﯼ ﺭﻗﻢ ﻃﺮﺍﺯ ﮨﯿﮟ :

”ﻗﺎﻋﺪﮦ ﮐﻠﯿﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻋﺒﺎﺩﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ
ﺷﺎﺭﻉ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺟﻮ ﮨﯿﺌﺖ ﻭ ﮐﯿﻔﯿﺖ
ﻣﻌﯿّﻦ ﻓﺮﻣﺎﺩﯼ ﮨﮯ،ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺗﻐﯿّﺮ ﻭﺗﺒﺪّﻝ
ﺟﺎﺋﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺼﺎﻓﺤﮧ ﭼﻮﮞ ﮐﮧ ﺳﻨﺖ
ﮨﮯ، ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻋﺒﺎﺩﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﮯ، ﺣﺴﺐِ
ﻗﺎﻋﺪﮦ ﻣﺬﮐﻮﺭﮦ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﺌﺖ ﻭ ﮐﯿﻔﯿﺖ ِ
ﻣﻨﻘﻮ ﻟﮧ ﺳﮯ ﺗﺠﺎﻭﺯ ﺟﺎﺋﺰ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﺎﺍﻭﺭ
ﺷﺎﺭﻉ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼ ﻡ ﺳﮯ ﺻﺮﻑ ﺍﻭﻝِ ﻟِﻘﺎﺀ
ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺑﺎﻻﺟﻤﺎﻉ ﯾﺎﻭﺩﺍﻉ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺑﮭﯽ
ﻋﻠﯽ ﺍﻻﺧﺘﻼﻑ ﻣﻨﻘﻮﻝ ﮨﮯ،ﭘﺲ ﺍﺏ ﺍﺱ ﮐﮯ
ﻟﯿﮯ ﺍﻥ ﺩﻭ ﻭﻗﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺤﻞ
ﻭ ﻣﻮﻗﻊ ﺗﺠﻮﯾﺰ ﮐﺮﻧﺎ ﺗﻐﯿﯿﺮ ﻋﺒﺎﺩ ﺕ ﮐﺮﻧﺎ
ﮨﮯ، ﺟﻮﻣﻤﻨﻮﻉ ﮨﮯ ﻟﮩٰﺬﺍ ﻣﺼﺎﻓﺤﮧ ﺑﻌﺪ
ﻋﯿﺪﯾﻦ ﯾﺎ ﺑﻌﺪ ﻧﻤﺎﺯﭘﻨﺠﮕﺎﻧﮧ ﻣﮑﺮﻭﮦ ﻭ
ﺑﺪﻋﺖ ﮨﮯ،ﺷﺎﻣﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﺼﺮﯾﺢ
ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ “۔ ‏
( ﺍﻣﺪﺍﺩ ﺍﻟﻔﺘﺎﻭﯼ : 1/557 ،ﻣﮑﺘﺒﮧ
ﺩﺍﺭﺍﻟﻌﻠﻮﻡ ،ﮐﺮﺍﭼﯽ‏)

 ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻇﻔﺮ ﺍﺣﻤﺪ ﻋﺜﻤﺎﻧﯽﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ :

”ﻋﯿﺪﯾﻦ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺼﺎﻓﺤﮧ ﮐﺎ ﺟﻮ
ﺭﻭﺍﺝ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺑﺪﻋﺖ ﮨﮯ، ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺍﻭﻗﺎﺕ
ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﺷﺨﺺ ﺳﮯ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ
ﻧﺌﯽ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻣﺼﺎﻓﺤﮧ ﮐﺮ ﻟﮯ، ﻭﺭﻧﮧ
ﻧﮩﯿﮟ“ ۔ 
‏( ﺍﻣﺪﺍﺩ ﺍﻻﺣﮑﺎﻡ : 1/188 ، ﻣﮑﺘﺒﮧ ﺩﺍﺭ
ﺍﻟﻌﻠﻮﻡ،ﮐﺮﺍﭼﯽ ‏)
ﻣﻔﺘﯽ ﻣﺤﻤﺪ ﺷﻔﯿﻊ  ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ :
” ﯾﮧ ﺑﺪﻋﺖ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺷﻌﺎﺭِ ﺭﻭﺍﻓﺾ ﮨﮯ، ﺗﺮﮎ
ﮐﺮﻧﺎﭼﺎﮨﯿﮯ“ ۔ ‏( ﺍﻣﺪﺍﺩ
ﺍﻟﻤﻔﺘﯿﻦ،ﺹ 187: ،ﺩﺍﺭﺍﻻﺷﺎﻋﺖ‏)

ﻣﻔﺘﯽﻣﺤﻤﻮﺩ ﺣﺴﻦ ﮔﻨﮕﻮﮨﯽ 
ﺍﺱ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ :
” ﻋﯿﺪ ﮐﺎ ﻣﺼﺎﻓﺤﮧ ﻭ ﻣﻌﺎﻧﻘﮧ ﺑﺪﻋﺖ ﮨﮯ“ ۔
‏( ﻓﺘﺎﻭﯼ ﻣﺤﻤﻮﺩﯾﮧ : 8/464 ، ﺍﺩﺍﺭﮦ
ﺍﻟﻔﺎﺭﻭﻕ،ﮐﺮﺍﭼﯽ‏)
ﻣﻔﺘﯽ ﺳﯿﺪ ﻋﺒﺪﺍﻟﺮﺣﯿﻢ ﻻﺟﭙﻮﺭﯼ دیوبندیﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ :

” ﻋﯿﺪ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﻠﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﺎﻧﻘﮧ ﻭ
ﻣﺼﺎﻓﺤﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻣﺮِ ﻣﺴﻨﻮﻥ ﻧﮩﯿﮟ
ﮨﮯ،ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﺧﺘﺮﺍﻋﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﺑﺪﻋﺎﺕ ﻣﯿﮟ
ﺳﮯ ﮨﮯ،ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ﻣﯿﮟ ﺟﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﮯ
ﺍﺱ ﮐﺎ ﭘﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻠﺘﺎ،ﻏﯿﺒﻮﺑﺖ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ
ﻣﺼﺎﻓﺤﮧ ﺍﻭﺭ ﻃﻮﯾﻞ ﻏﯿﺒﻮﺑﺖ ﭘﺮ ﻣﻌﺎﻧﻘﮧ
ﺛﺎﺑﺖ ﮨﮯ،ﻣﮕﺮ ﻋﯿﺪ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻥ ﮐﺎ
ﺛﺒﻮﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ،ﯾﮩﺎﮞ ﯾﮧ ﺣﺎﻟﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ
ﺭﻓﻘﺎﺀ ﺟﻮ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﯾﮏ ﺑﻠﮑﮧ ﺑﺮﺍﺑﺮ
ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍﮮ ﺗﮭﮯ، ﺳﻼﻡ ﺍﻭﺭ ﺧﻄﺒﮧ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ
ﻣﻌﺎﻧﻖ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﻣﺮِ ﺩﯾﻨﯽ
ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ،ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﯾﮧ ﻏﻠﻂ ﭼﯿﺰ ﮨﮯ“ ۔

‏( ﻓﺘﺎﻭﯼﺭﺣﯿﻤﯿﮧ : 2/111 ، 112 ،ﺩﺍﺭﺍﻻﺷﺎﻋﺖ‏) ․

ﻣﻔﺘﯽ ﺭﺷﯿﺪ ﺍﺣﻤﺪ ﻟﺪﮬﯿﺎﻧﻮﯼ دیوبندی ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ :

” ﯾﮧ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭﮐﺮﻧﺎ ﺑﺪﻋﺖ ﺍﻭﺭ ﻣﮑﺮﻭﮦ ﮨﮯ …ﺑﺪﻋﺖ ﯾﺎ ﮐﺴﯽ ﮔﻨﺎﮦ ﮐﺎ ﺍﺭﺗﮑﺎﺏ ﮐﺴﯽ ﻣﺼﻠﺤﺖ ﮐﮯ ﭘﯿﺶ ِ ﻧﻈﺮ ﮨﺮ ﮔﺰﺟﺎﺋﺰ ﻧﮩﯿﮟ، ﺍﻟﺒﺘﮧ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﻣﻨﻊ ﮐﺮﻧﺎﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﺟﺐ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﯽ ﺍﻣﯿﺪ ﮨﻮ، ﻭﺭﻧﮧ 'ﻧﮩﯽ ﻋﻦ ﺍﻟﻤﻨﮑﺮ' ﺿﺮﻭﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ، ﻏﺮﺽ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺧﻮﺩ ﻧﻤﺎﺯِ ﻋﯿﺪ ﮐﮯ ﺑﻌﺪﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﻣﺼﺎﻓﺤﮧ ﯾﺎ ﻣﻌﺎﻧﻘﮧ ﻧﮧ ﮐﺮﮮ،ﮨﺎﮞ! ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮨﯽ ﺑﻌﺪ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ،ﻣﮕﺮ ﺗﺸﺒّﮧ ﺑﺎﻟﺒﺪﻋﺔ ﺍﻭﺭ
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﺎﺋﯿﺪ ﮐﺎ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ
ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺟﺘﻨﺎﺏ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎہئے.“ 
‏(ﺍﺣﺴﻦ ﺍﻟﻔﺘﺎﻭﯼ : 1/354 ،ﺳﻌﯿﺪ ‏)
 ﻣﻮﻻﻧﺎﻣﺤﻤﺪ ﯾﻮﺳﻒ ﻟﺪﮬﯿﺎﻧﻮﯼ دیوبندی 
ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ :
” ﯾﮧ ﺳﻨﺖ ﻧﮩﯿﮟ، ﻣﺤﺾ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﻨﺎﺋﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﯾﮏ ﺭﺳﻢ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﯾﻦ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺳﻤﺠﮭﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ﻻﺋﻖ ﻣﻼﻣﺖ ﺳﻤﺠﮭﻨﺎ ﺑﺪﻋﺖ ﮨﮯ.“
( ﺁﭖ ﮐﮯ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ
ﮐﺎ ﺣﻞ : 
2/573 ،ﻣﮑﺘﺒﮧ ﻟﺪﮬﯿﺎﻧﻮﯼ

قارئین ! یہ فتوے جو آپ نے ملاحظہ کیے ہیں ،یہ فتوے اہلحدیث علماء کے نہیں بلکہ خود علماء دیوبند کے ہیں ،جن کی عوام ،علماء اور مفتیان آج اس بدعت میں دھڑلے سے مبتلا ہیں ،اور ان کے علماء کو جب اس جانب توجہ دلائی جاتی ہے یا اپنے ہی گھر کے فتووں کا آئینہ دکھایا جاتا ہے تو سر کھجانے لگتے ہیں ،بلکہ سر چھپانے لگتےہیں ۔ 

اور معانقہ داہنے طرف سے ہونا چاہیے ۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں :
 (كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعجبه التيمن في شأنه في ظهوره وترجله وتنعله). متفق عليه.

 رسول اللہ ﷺ اپنے تمام کاموں میں جہاں تک ممکن ہوتا دائیں طرف سے شروع کرنے کو پسند فرماتے تھے ۔ طہارت کے وقت بھی ، کنگھا کرنے اور جوتا پہننے میں بھی ۔
صحیح بخاری :426

برخلاف ان احناف کے جو یہ کہتے ہیں کہ" عام اصول کے مطابق ( ہر اچھے کام میں داہنے طرف سے شروع کرنا مسنون ہے )تو داہنے طرف کو ہی ترجیح ہے مگرمعانقہ کا منشا چونکہ ہیجان المحبة ہے جس کا محل قلب ہے اور صورت تیاسر میں جانبین کے قلوب باہم زیادہ قریب ہوتے ہیں اس لیے تیاسر راجح ہے" 
فتوے دارالعلوم دیوبند 
فتویٰ نمبر : 53413

لیکن یہ سراسر حدیث و سنت کے مقابلے میں عقلی گھوڑے دوڑانا ہے۔ یہ بات اس لیے بھی غلط ہے کیونکہ صورت تیامن میں بھی جانبین کے قلوب باہم قریب ہوتے ہیں، کیونکہ محل قلب انسان کی گردن نہیں بلکہ سینہ ہے جو بہر صورت ایک دوسرے سے ملے ہوتے ہیں ۔

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہمیں کتاب و سنت اور فہم سلف پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین !!



No comments:

Post a Comment

Recent posts

معاشرتی عقائد نہ کہ شرعی عقائد

معاشرتی عقائد نہ کہ شرعی عقائد  ۱۔ آذان کے وقت عورتوں کا دوپٹہ اوڑھنا۔ ۲۔ قرآن گر جائے تو اسے چومنا یا اس کے کفارہ میں آٹا صدقہ کرنا۔ ۳۔ ق...

Popular post