السلام عليكم و رحمة الله وبركاته
موضوع : عید کے دن معانقہ کرتے ہوئے تین بار گلے ملنا۔
محمد اقبال قاسمي سلفي
مصادر: مختلف مراجع و مصادر
ہمارے یہاں جیسا کہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ عيد الفطر اور عيد الاضحى کے موقع پر لوگ ایک دوسرے سے گلے ملتے کا التزام کرتے ہیں ،نیز یہ دیکھا جاتا ہے کہ لوگ معانقے میں تین بار گلے ملتے ہیں جو کہ سراسر غلط ہے ۔
معانقے کا یہ طریقہ کتاب و سنت میں کہیں بھی موجود نہیں ہے ، صحیح تو کیا کسی ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے جس میں معانقے میں تین بار گلے ملنا مذکور ہو۔
دارالعلوم دیوبند سے بھی اس بابت جب پوچھا گیا کہ کیا اسلام میں تین مرتبہ گلے ملنا جائز ہے جیسا کہ بہت سارے لوگ عید کے دن ایک دوسرے کوسلام کرنے کے لیے کرتے ہیں؟ برائے کرم آپ میرے سوالوں کا مستند حوالہ سے جواب عنایت فرماویں۔
جواب : سلام کے بعد مصافحہ کرنا اور طویل وقفہ کے بعد ملاقات پر گلے ملنا ثابت ہے، لیکن خاص عید کی نماز کے بعد گلے ملنے کا رواج اور تخصیص والتزام ثابت نہیں، معانقہ (گلے ملنا) ایک طرف ہونا چاہیے،.
دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتویٰ نمبر : 17473
کسی بھی موقع سے معانقے میں تعدد یا تکرار نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے
نہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے
نہ تابعین رحمہم اللہ سے الخ
مفتی حبیب الرحمن اعظمی اپنے فتوے میں لکھتے ہیں : "معانقہ یعنی گلے ملنا ایک مرتبہ میں ایک بار اور ایک ہی جانب ہونا چاہیے، بار بار یا تین مرتبہ ملنے کو ضروری سمجھنا جہالت یا رسم ہے۔"
جس طرح مصافحہ ایک بار ہی ہاتھ ملانے کو کہتے ہیں، کوئی بھی مصافحے میں تین بار ہاتھ نہیں ملاتا، اسی طرح معانقہ ایک بار ہی گلے ملنے کو کہتے ہیں۔
معانقہ داہنے طرف سے ہونا چاہیے ۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں :
(كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعجبه التيمن في شأنه في ظهوره وترجله وتنعله). متفق عليه.
رسول اللہ ﷺ اپنے تمام کاموں میں جہاں تک ممکن ہوتا دائیں طرف سے شروع کرنے کو پسند فرماتے تھے ۔ طہارت کے وقت بھی ، کنگھا کرنے اور جوتا پہننے میں بھی ۔
صحیح بخاری :426
برخلاف حنفیوں کے جو یہ کہتے ہیں کہ" عام اصول کے مطابق ( ہر اچھے کام میں داہنے طرف سے شروع کرنا مسنون ہے )تو داہنے طرف کو ہی ترجیح ہے مگرمعانقہ کا منشا چونکہ ہیجان المحبة ہے جس کا محل قلب ہے اور صورت تیاسر میں جانبین کے قلوب باہم زیادہ قریب ہوتے ہیں اس لیے تیاسر راجح ہے"سراسر حدیث و سنت کے مقابلے میں عقلی گھوڑے دوڑانا ہے۔ یہ بات اس لیے بھی غلط ہے کیونکہ صورت تیامن میں بھی جانبین کے قلوب باہم قریب ہوتے ہیں، کیونکہ محل قلب انسان کی گردن نہیں بلکہ سینہ ہے جو بہر صورت ایک دوسرے سے ملے ہوتے ہیں ۔
معانقہ کا مفہوم عربی زبان جیسا کہ"المنجد" میں ہے، صرف یہ ہے کہ ’جَعَلَ یَدَیْهِ عَلٰی عُنِقِهٖ وَ ضَمَّهُ اِلٰی صَدْرِهٖ۔‘ (المنجمد) اپنے دونوں ہاتھوں کو دوسرے کی گردن پر کر کے اسے سینہ سے ملا لینا،اس میں تعدّد یا تکرار کی کوئی ضرورت نہیں۔
واضح ہو کہ عیدین میں گلے ملنے کا التزام و اہتمام کرنا،جیسا کہ احناف کے یہاں ان دنوں کیا جاتا ہے، اسے عید کے دن ضروری سمجھتا ہی منہج سلف کے خلاف ہے ۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عید کےدن جب ایک دوسرے سے ملاقات کرتے تو تَقَبَّلَ اللّٰهُ مِنَّا وَ مِنكَ" (اللہ ہماری اور تمہاری عید قبول فرما لے! کہہ کر ایک دوسرے کو مبارک باد پیش کرتے۔( فتح الباری ۴۴۶/۲ )، (السنن الکبرٰی للبیهقی،بَابُ مَا رُوِیَ فِی قَولِ النَّاسِ یَومَ العِیدِ بَعضُهُم لِبَعضٍ: تَقَبَّلَ …الخ، رقم:۶۲۹۴)،( الجامع الصحیح للسنن والمسانید، اَلتَّهنِئَة بِالعِیدِ)
کچھ لوگ یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ عیدین میں معانقہ بطور عبادت نہیں بلکہ بطور عادت کرتے ہیں، اور عادات میں جب تک ممانعت ٹابت نہ ہو ،مباح ہے۔
جواباً عرض ہے کہ یہ عمل بطور عادت ہی سہی، عبادت اور عادت ہر دو میں ،صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اسلاف کی پیروی ہی اعلی و ارفع ہے۔
دارالعلوم دیوبند نے بھی اپنے فتوے میں اسے ناذرست قرار دیا ہے ۔چنانچہ دارالعلوم دیوبند سے جب یہ فتویٰ طلب کیا گیا کہ عید میں لوگ ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں ، یہ عمل کیسا ہے؟
تو دارالعلوم نے جواب دیتے ہوئے لکھاکہ " ہماری شریعت میں عیدی معانقہ ثابت نہیں، یہ روافض کا طریقہ بتایا جاتا ہے۔ بس عید کی مبارکبادی پیش کردینا کافی ہے، معانقہ یعنی گلے ملنے کی کوئی ضرورت نہیں۔"
دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتویٰ نمبر : 41573
اسی طرح عیدین میں معانقہ اور مصافحہ کے متعلق ایک دوسرے فتوے میں رقمطراز ہے :
"ابتدائے ملاقات کے وقت گلے ملنا اور مصافحہ ملانا مسنون ہے، خواہ عید کا روز ہو یا کوئی اور، اس سے کوئی منع نہیں کرتا؛ لیکن اپنی طرف سے مصافحہ اور معانقہ کو عید کے روز کے ساتھ یا عید کی نماز کے بعد کے ساتھ خاص کرلینا یہ صحیح نہیں ہے، مصافحہ یا معانقہ کی تخصیص عید کے روز کے ساتھ نہ تو ا للہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور نہ صحابہٴ کرام سے؛ اس لیے ہمیں بھی ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اس طرح کی تخصیص اور التزام سے احتراز کرنا چاہیے۔ (رد المحتار، ۹/۵۴۷، باب الاستبراء وغیرہ، ط: زکریا، وفتاوی محمودیہ: ۳/ ۱۴۵)"
دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتویٰ نمبر: 60669
معانقہ در اصل سفر سے آنے کے بعد ہے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام باہمی ملاقات کے وقت مصافحہ کرتے اور جب سفر سے آتے تو معانقہ کرتے۔
سلسله احاديث صحيحه: 2649
وعن أنس قال : كان أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم إذا تلاقوا تصافحوا ، وإذا قدموا من سفر تعانقوا . رواه الطبراني في " الأوسط " ( 1 / 37 ) ، وصححه الشيخ الألباني في " السلسلة الصحيحة " ( 2647 )
وعن عون بن أبي جحيفة عن أبيه قال : لما قدم جعفر من هجرة الحبشة تلقَّاه النبي صلى الله عليه وسلم فعانقه وقبَّل ما بين عينيه . رواه الطبراني في " الكبير " ( 2 / 108 ) ، وله شواهد كثيرة ذكرها الحافظ ابن حجر في " التلخيص الحبير " ( 4 / 96 ) ، وصححه الشيخ الألباني في " السلسلة الصحيحة " ( 2657 )
اللهم اردنا الحق حقا وارزقنا اتباعه و ارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه
No comments:
Post a Comment