Thursday, December 19, 2024

بعد وفات مرنے والے کے ہاتھوں کو سینے یا ناف کے اوپر باندھ دینا

بسم الله الرحمن الرحيم 


السلام عليكم و رحمة الله وبركاته 

موضوع : بعد وفات مرنے والے کے ہاتھوں کو سینے یا ناف کے اوپر باندھ دینا

از : محمد اقبال قاسمي سلفي 

مصادر : مختلف مراجع و مصادر 


موت کے بعد مرنے والے کے ہاتھوں کو کہاں رکھا جاۓ ؟ احناف میں اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ لوگ بعد انتقال مردے کے ہاتھوں کو سیدھا کرنے کے بجائے سینے یا ناف کے اوپر حالت نماز کی طرح باندھ دیتے ہیں ۔ لیکن یہ درست نہیں ہے۔ ایسا کرنا کسی بھی صحیح حدیث میں موجود نہیں ہے ، صحیح تو کیا کسی ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے جس میں یہ طریقہ موجود ہو، اور نہ ہی حنفی کتب فقہ میں یہ طریقہ موجود ہے۔ 
چنانچہ مراقی الفلاح میں ہے:

"وتوضع ‌يداه ‌بجنبيه ولا يجوز وضعهما على صدره."

(كتاب الصلاة، باب احكام الجنائز،ص:212، ط:المكتبة العصرية)

حاشیۃ الطحطاوی میں ہے:

"وتوضع ‌يداه ‌بجنبيه" إشارة لتسليمه الأمر لربه "ولا يجوز وضعهما على صدره" لأنه صنيع أهل الكتاب."

(كتاب الصلاة، باب احكام الجنائز، ص:564، ط:دارالكتب العلمية)

الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے:

"وتوضع ‌يداه ‌بجنبيه، ولا يجوز وضعهما على صدره؛ لأنه من عمل الكفار."

(القسم الاول: العبادات، الباب الثاني :الصلاة،ج:2، ص:1481، ط:دارالفكر)

جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن حنفی ابن فتوے میں رقمطراز ہیں: 
واضح رہے کسی بھی شخص کے انتقال کے بعداسلام و شریعت کا حکم یہ ہےکہ اس کے اعضاء مکمل طور پر سیدھے کردیے جائیں، اور اسی کیفیت و حالت میں اس کو غسل و کفن دینے کا حکم ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں مردے کو غسل دے دیا گیا ہو یا نہیں بہر صورت اس کے ہاتھ سیدھے رکھے جائیں گے۔

دارالافتاء 
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر: 144405100332

بریلویوں کے مفتی امجد علی اپنی کتاب بہار شریعت میں لکھتے ہیں:
 :
میت کے دونوں ہاتھ کروٹوں میں رکھیں سینہ پر نہ رکھیں کہ یہ کفار کا طریقہ ہے ۔ بعض جگہ ناف کے نیچے اس طرح رکھتے ہیں جیسے نماز کے قیام میں یہ بھی نہ کریں” 
(بہار شریعت : ج: 1 ، ح: 4 ، ص: 816 ، میت کے نہلانے کا بیان )

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ فقہ حنفی میں بھی یہ صراحت موجود ہے کہ کسی بھی شخص کے انتقال کے بعد اس کے اعضاء مکمل طور پر درست کر دئیے جائیں۔ ہاتھوں کو سینے یا ناف کے اوپر باندھ دینا فقہ حنفی کی رو سے بھی غلط ہے ۔ لہذا بعض حنفی حضرات جو بعد وفات اپنے مردوں کے ہاتھوں کو سینے یا ناف کے اوپر باندھ دیتے ہیں ، ان کا یہ عمل خود ان کے فقہ کی رو سے غلط ہے۔ 

اللهم اردنا الحق حقا وارزقنا اتباعه و ارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه

No comments:

Post a Comment

Recent posts

وقف ترمیمی بل

عامۃ المسلمین میں ایسے کئی لوگ ہوسکتے ہیں جو نئے وقف قانون کی باریکیوں سے واقف نہ ہوں اسی لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس پر تفصیلی گفتگو ہو۔ م...