Monday, October 20, 2025

عصر حنفی یعنی مثلین پر عصر کی نماز پڑھنا !

بسم اللہ الرحمن الرحیم
 
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
 
موضوع: عصر حنفی یعنی مثلین پر عصر کی نماز پڑھنا !  
مصادر: مختلف مراجع و مصادر 

محمد اقبال قاسمی سلفی 

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے: 
عن ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَمَّنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام عِنْدَ الْبَيْتِ مَرَّتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فَصَلَّى الظُّهْرَ فِي الْأُولَى مِنْهُمَا حِينَ كَانَ الْفَيْءُ مِثْلَ الشِّرَاكِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ حِينَ كَانَ كُلُّ شَيْءٍ مِثْلَ ظِلِّهِ، 

 نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرائیل علیہ السلام نے خانہ کعبہ کے پاس میری دو بار امامت کی، پہلی بار انہوں نے ظہر اس وقت پڑھی ( جب سورج ڈھل گیا اور ) سایہ جوتے کے تسمہ کے برابر ہو گیا، پھر عصر اس وقت پڑھی جب ہر چیز کا سایہ اس کے ایک مثل ہو گیا۔
سنن ترمذی : 149
اس روایت کی سند حسن ہے،
 اسے ابن خزیمہ [ح 352] ابن حبان [ح 279] ابن الجارود [ح149] الحاکم [ج1 ص 193] نے صحیح کہا ہے۔
 ابن عبدالبر، ابوبکر بن العربی اور النووی وغیرہم نے صحیح کہا ہے۔ [نيل المقصود فى التعليق على سنن ابي داؤد ح 393]
 امام بغوی اور نیموی حنفی نے حسن کہا ہے۔ [آثار السنن ص 89 ح 194]

صحیح بخاری اور مسلم میں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھا کرتے تھے جب سورج بلند اور صاف ہوتا، [نماز کے بعد] ایک شخص عوالی تک جا کر واپس آجاتا ، اور سورج ابھی بلند ہی ہوتا تھا"
بخاری: (550) مسلم : (621)

بخاری اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ : "وہ صحابی مسجد قبا پہنچ جاتے ، اور سورج ابھی تک بلند ہوتا تھا" اس کا مطلب یہ ہے کہ سورج کی تپش اور روشنی باقی ہوتی تھی، مدینہ منورہ سے قریب ترین عوالی کا حصہ دو میل کے فاصلے پر ہے، اور دوسرا کنارہ چھ میل کے فاصلے پر ہے۔
مزید کیلئے دیکھیں: " فتح الباری" (2/39)

 ان صحیح اور صریح روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ عصر کا وقت ایک مثل پر شروع ہو جاتا ہے. 
ان صحیح اور صریح روایات کے برخلاف احناف کا یہ موقف ہے کہ عصر  کا وقت اس وقت شروع ہوتا ہے جب  ہر شے کا سایہ، اس کے سایہ اصلی کے سوا دو مثل نہ ہو جائے۔
جیساکہ قدوری وغیرہ میں موجود ہے ۔
چنانچہ مختصر القدوری میں لکھا ہوا ہے: ”و أول وقت الظهر إذا زالت الشمس و آخر وقتها عند أبي حنيفة إذا صار ظل كل شيء مثليه سوي فيء الزوال“۔

“ ترجمہ: ظہر کا اول وقت زوالِ شمس کے بعد شروع ہوتا ہے اور آخر وقت امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمۃ کے نزدیک اس وقت تک رہتا ہے جب تک ہر شے کا سایہ، اس کے سایہ اصلی کے سوا دو مثل نہ ہو جائے۔ (مختصر القدوری، ص 23، دار الكتب العلمية)

لیکن یہ موقف کہ عصر کا وقت اس وقت شروع ہوتا ہے جب ہر چیز کا سایہ اس کے سایہ اصلی کے سوا دو مثل ہو جائے ، کسی صحیح اور صریح حدیث میں موجود نہیں ہے ۔
صحیح تو کیا کسی حسن  سند سے بھی ایسی کوئی مرغوں  روایت موجود نہیں ہے جس میں دو مثل پر عصر کا وقت شروع ہونے کی صراحت ہو۔
یہ موقف (عصر کا وقت اس وقت شروع ہوتا ہے جب ہر چیز کا سایہ اس کے سایہ اصلی کے سوا دو مثل ہو جائے) ائمہ ثلاثہ (مالک، شافعی، احمد) ، صاحبین یعنی امام ابو یوسف اور امام محمد، امام طحاوی اور ایک روایت کے مطابق خود ابو حنیفہ کی رائے کے خلاف ہے ۔

کیونکہ ائمہ ثلاثہ (مالک، شافعی، احمد) صاحبین یعنی امام ابو یوسف اور امام محمد وغیرہ کا یہی مسلک ہے کہ عصر کا وقت مثل اول پر شروع ہو جاتا ہے نہ کہ منزل ثانی پر۔امام طحاوی رحمہ اللہ نے بھی یہی موقف اختیار کیا ہے۔ ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے ایک روایت یہی منقول ہے ۔
صاحب در مختار علامہ علاؤ الدین محمد بن علی حصکفی حنفی لکھتے ہیں :‏

وَقْتُ الظُّهْرِ مِنْ زَوَالِهِ) ۔۔ (إلَى بُلُوغِ الظِّلِّ مِثْلَيْهِ) وَعَنْهُ مِثْلَهُ، وَهُوَ قَوْلُهُمَا وَزُفَرَ وَالْأَئِمَّةِ الثَّلَاثَةِ. قَالَ الْإِمَامُ ‏الطَّحَاوِيُّ: وَبِهِ نَأْخُذُ. وَفِي غُرَرِ الْأَذْكَارِ: وَهُوَ الْمَأْخُوذُ بِهِ. وَفِي الْبُرْهَانِ: وَهُوَ الْأَظْهَرُ. لِبَيَانِ جِبْرِيلَ. وَهُوَ نَصٌّ فِي ‏الْبَابِ. وَفِي الْفَيْضِ: وَعَلَيْهِ عَمَلُ النَّاسِ الْيَوْمَ وَبِهِ يُفْتَى سِوَى فَيْءٍ
(در مختار : 1/ 359)‏

سورج کے ڈھلنے سے ظہر کا وقت شروع ہو جاتا ہے یہاں تک کہ ہر چیز کا سایہ اس کے سایہ اصلی کے علاوہ دو مثل ہو جائےاور ‏امام ہی سے ایک روایت ایک مثل کی بھی ہے اور یہی(ایک مثل کا قول ) امام زفر ، ائمہ ثلاثہ اور صاحبین کا بھی ہے ۔ امام طحاوی ‏نے کہا : وَبِهِ نَأْخُذُ( ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں ) اور غرر الاذکار میں ہے وَهُوَ الْمَأْخُوذُ بِهِ( اسی قول کو لیا گیا ہے ) اور برہان میں ‏ہے: وَهُوَ الْأَظْهَرُ.( یہی ظاہر ہے) حضرت جبرئیل کے بیان کی وجہ سے جو کہ اس باب میں نص ہے اور فیض میں ہے : وبہ ‏یفتی ٰ (اور اسی پر فتوی ہے )نیز آج لوگوں کا عمل اسی ایک مثل پر ہے ۔

لیکن احناف صحیح اور صریح روایات ، ائمہ ثلاثہ ، ابو حنیفہ کے دونوں شاگرد ابویوسف ، امام محمد اور فقہ حنفی کے بیرسٹر امام طحاوی کے موقف کو بالاۓ طاق رکھتے ہوئے مثل ثانی پر ہی عصر کی نماز ادا کرتے ہیں ۔مثل اول پر نماز ادا کرنے کو عموماً نادرست سمجھا جاتا ہے۔ شاید اسی لیے ہندو پاک کی حنفی مساجد میں عصر کی اذان مثل اول پر نہیں بلکہ ہمیشہ مثل ثانی پر دی ہے۔ 

جبکہ مثل ثانی کو لازم پکڑنا اور مثل اول پر عصر کی نماز پڑھنے کو غیر مقلدیت باور کرانا خود موجودہ حنفی فتوؤں کے خلاف ہے ۔
کیونکہ موجودہ حنفی اداروں کے فتوؤں میں بھی اس بات کی صراحت موجود ہے کہ حنفی مذہب کے اندر اول وقت میں نماز صحیح ہوجاتی ہے۔ صاحبین یعنی امام ابویوسفؒ اور امام محمدؒ نیز ائمۂ ثلاثہ کے قول پر عمل کرتے ہوئے مثل اول پر نماز عصر ادا کرنے کی گنجائش دی گئی ہے ۔

جیساکہ اس بابت جب دارلعلوم دیوبند سے سوال کیا گیا کہ : 
میں پاکستان سے سعودی عرب آیا ہوں ملازمت کے سلسلے میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مسئلہ یہ ہے کہ نماز اوال وقت پڑھ لی جاتی ہے ، ظہر بارہ بجے اور عصر تین بجے ۔
تو دارالعلوم دیوبند نے جواب دیا : 
ہاں سعودیہ میں غیرحنفیوں کا غلبہ ہے اس لیے وہ لوگ ہرنماز اولِ وقت میں پڑھتے ہیں، ان کے ساتھ باجماعت آپ پڑھ لیا کریں، ظہر کی اورعصر کی بھی اول وقت میں یعنی عصر کی ایک مثل پر وہ لوگ پڑھتے ہیں تو آپ ان کے پیچھے اولِ وقت میں پڑھ لیا کریں۔ حنفی مذہب کے اندر بھی اول وقت میں نماز صحیح ہوجاتی ہے۔

دارالافتاء 
دارالعلوم دیوبند 
فتویٰ نمبر : 56852

دارالعلوم دیوبند کے اس فتوے سے  یہ واضح ہے کہ حنفی مذہب کے مطابق  ایک مثل پر حنفی کی نماز ہو جاتی ہے۔

بریلوی عالم مفتی محمد رحمت علی مصباحی چشتی قادری لکھتے ہیں : 
    ‏فقہا کے اختلاف سے امت کو یہ رخصت ضرور مل گئی کہ اگر کوئی شخص عصر کی نماز ایک مثل پر بھی ادا کر تا ہے تو اس کی ‏نماز درست ہو جائے گی کیوں کہ امام ابو حنیفہ کا بھی ایک قول یہی ہے۔ حدیث جبرئیل کا ظاہر بھی یہی ہے جو اس باب کی ‏اصل ہے۔ محققین حنفیہ جیسے: امام طحاوی ،علامہ ابن ہمام وغیرہ نے بھی اسی کو ترجیح دی ہے ۔

‏ اورمثل ِاول پر عصر کی نماز ضرورت کے وقت جیسے: سفر یا بیماری کی حالت میں بدرجہ اولیٰ ہو جائے گی۔

(بحوالہ آنلاین احسان میڈیا ) 

ار حنفی بریلوی فتوے کے مطابق بھی اگر کوئی شخص عصر کی نماز ایک مثل پر  ادا کر تا ہے تو اس کی ‏نماز درست ہو جائے گی۔کیوں کہ امام ابو حنیفہ کا بھی ایک قول یہی ہے۔ اور حدیث جبرئیل کا ظاہر بھی یہی ہے ۔نیز محققین حنفیہ جیسے: امام طحاوی ،علامہ ابن ہمام وغیرہ نے بھی اسی کو ترجیح دی ہے۔

مثلین پر عصر کی نماز پڑھنے کی حنفی دلیلیں ۔

اب ان دلائل کو دیکھتے ہیں جن سے مثل ثانی پر احناف نے استدلال کیا ہے۔
  
1) آپ ﷺ فرماتے تھے کہ تم سے پہلے کی امتوں کے مقابلہ میں تمہاری زندگی صرف اتنی ہے جتنا عصر سے سورج ڈوبنے تک کا وقت ہوتا ہے ۔ توراۃ والوں کو توراۃ دی گئی ۔ تو انہوں نے اس پر ( صبح سے ) عمل کیا ۔ آدھے دن تک پھر وہ عاجز آ گئے ، کام پورا نہ کر سکے ، ان لوگوں کو ان کے عمل کا بدلہ ایک ایک قیراط ( بقول بعض دینار کا 6 / 4 حصہ اور بعض کے قول کے مطابق دینار کا بیسواں حصہ ) دیا گیا ۔ پھر انجیل والوں کو انجیل دی گئی ، انہوں نے ( آدھے دن سے ) عصر تک اس پر عمل کیا ، اور وہ بھی عاجز آ گئے ۔ ان کو بھی ایک ایک قیراط ان کے عمل کا بدلہ دیا گیا ۔ پھر ( عصر کے وقت ) ہم کو قرآن ملا ۔ ہم نے اس پر سورج کے غروب ہونے تک عمل کیا ( اور کام پورا کر دیا ) ہمیں دو دو قیراط ثواب ملا ۔ اس پر ان دونوں کتاب والوں نے کہا ۔ اے ہمارے پروردگار ! انہیں تو آپ نے دو دو قیراط دئیے اور ہمیں صرف ایک ایک قیراط ۔ حالانکہ عمل ہم نے ان سے زیادہ کیا ۔ اللہ عزوجل نے فرمایا ، تو کیا میں نے اجر دینے میں تم پر کچھ ظلم کیا ۔ انہوں نے عرض کی کہ نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پھر یہ ( زیادہ اجر دینا ) میرا فضل ہے جسے میں چاہوں دے۔
(صحیح البخاری: 557) 

اسی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے حنفی یہ کہتے ہیں کہ عصر کا وقت دو مثل پر شروع ہوتا ہے ، کیونکہ اس حدیث میں عصر تا مغرب کے وقت کو فجر تا ظہر اور ظہر تا عصر سے کم بتایا گیا ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب عصر کا وقت دو مثل پر مانا جائے ۔
لیکن حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس استدلال کا جواب دیتے ہوئے لکھا ہے:

"یہ بات اہل علم و فن کے ہاں مشہور ہے کہ جمہور کے موقف کے مطابق بھی عصر کا اول وقت [ایک مثل] مانیں تب بھی ظہر اور عصر کا درمیانی فاصلہ عصر اور مغرب کے درمیانی فاصلے سے زیادہ ہے،[اور احناف کے استدلال کا یہ جواب دیا جائے گا کہ] حدیث میں اِس بات کی صراحت نہیں ہے کہ دونوں [عیسائی اور مسلمانوں] میں سے کس نے زیادہ عمل کیا ہے؛ کیونکہ یہ بات کہنا بالکل درست ہے کہ سب [یہودیوں اور عیسائیوں] نے مل کر مسلمانوں سے زیادہ عمل کیا ہے" انتہی
" فتح الباری " (2/53)

 حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس حدیث سے استدلال کرنے کے مزید جوابات بھی فتح الباری میں نقل کیے ہیں۔

ابن حزم رحمہ اللہ اس بارے میں کہتے ہیں:
"ظہر کا وقت عصر کے وقت سے ہمیشہ ہر جگہ اور ہر زمانے میں زیادہ ہی ہوتا ہے" انتہی
" المحلى " (2/222)

 اس کے بعد ابن حزم نے اس بات کو علم فلکیات کے مطابق ثابت بھی کیا ہے، آپ اس کیلئے "المحلی" کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔

ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"یا اللہ! بڑا تعجب ہے! 
اس حدیث میں یہ کہاں سے ثابت ہوتا ہے کہ عصر کا وقت اس وقت تک شروع نہیں ہوگا جب تک اس کا سایہ دو مثل نہ ہو جائے؟ دلالت کی کونسی قسم سے یہ ثابت ہوتا ہے؟ یہاں زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ عصر کی نماز کے وقت سے لیکر غروب آفتاب تک کا دورانیہ ظہر اور عصر کے درمیانی دورانیے سے کم ہے، اور یہ بات واقعی بلا شک و شبہ صحیح ہے" انتہی
" إعلام الموقعين " (2/404)

لہذا اس حدیث کو عصر کے وقت کیلئے دلیل بنانے کی کوئی وجہ باقی ہی نہیں رہتی۔



2- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جس وقت گرمی زیادہ ہو تو نماز ٹھنڈے وقت میں ادا کرو؛ کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی حرارت سے ہوتی ہے)
بخاری: (536) مسلم :(615)

حنفی حضرات اس حدیث سے استدلال پکڑتے ہوئے کہتے ہیں کہ: 
"ٹھنڈ اسی وقت ہوگی جب ہر چیز کا سایہ دو مثل ہو جائے گا؛ کیونکہ گرمی [ایک مثل تک] کم نہیں ہوگی، خاص طور پر ان کے علاقے[حجاز] میں " انتہی
" بدائع الصنائع " (1/315)

اس کے جواب میں یہ کہا گیا ہے کہ: مطلوبہ ٹھنڈ ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہونے پر بھی حاصل ہو جاتی ہے، چنانچہ اسی بات پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عمل کیا جاتا تھا، کیونکہ گزشتہ حدیث کے بقیہ حصے میں انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: (یہاں تک کہ سایہ ٹیلوں کے برابر ہو جاتا) بخاری: (629)

حافط ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اس حدیث کے ظاہری الفاظ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ عصر کو اتنا مؤخر کیا کہ ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہوگیا" انتہی
" فتح الباری " (2/29) اسی طرح دیکھیں:" الشرح الممتع " (2/98)

3- امام سرخسی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"ہمیں ظہر کا وقت شروع ہونے کے بارے میں یقین ہے، لیکن مختلف احادیث کی وجہ سے ظہر کے آخری وقت کے بارے میں شک پیدا ہو گیا، تو یقینی بات کو شک کی بنا پر ختم نہیں کیا جاسکتا" انتہی
" المبسوط " (1/141)

اس دلیل کا جواب اس طرح دیا جاسکتا ہے کہ : ظہر کے آخری وقت کے بارے میں یقینی بات ہمیں مذکورہ بالا صحیح اور صریح احادیث سے ملتی ہے، اور اہل علم بھی اسی کے قائل ہیں۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"نماز عصر کے ابتدائی وقت کے بارے میں متصادم رائے صرف ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے منقول ہے، چنانچہ قرطبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: "سب اہل علم نے انکی اس رائے سے اختلاف رکھا ہے، حتی کہ ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے شاگردوں نے بھی ان سے اختلاف رکھا"؛ ان کے بعد آنے والوں لوگوں نے انکے اس موقف کی تائید کی ہے" انتہی
" فتح الباری " (2/36)

سنن ابی داود کی ایک روایت ہے :
”آپ عصر کی نماز دیر سے پڑھتے تاآنکہ سورج صاف اور سفید ہوتا۔“ [65/1ح 408]
یہ روایت بلحاظ سند سخت ضعیف ہے،
محمد بن یزید الیمامی اور اس کا استاد یزید بن عبدالرحمٰن دونوں مجہول ہیں، دیکھئے تقریب التہذیب [6404، 7747]
لہٰذا ایسی ضعیف روایت کو ایک مثل والی صحیح احادیث کے خلاف پیش کرنا انتہائی غلط و قابل مذمت ہے۔

اس طرح ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے موقوفا روایت ہے کہ :
”جب سایہ ایک مثل ہو جائے تو ظہر کی نماز ادا کرو اور جب دو مثل ہو جائے تو عصر پڑھو۔“ [موطا امام مالك : 8/1 ح 9]
اس کا مطلب یہ ہے کہ ظہر والی نماز زوال سے لے کر ایک مثل تک پڑھ سکتے ہیں، یعنی ظہر کا وقت زوال سے لے کر ایک مثل تک ہے اور عصر کا افضل وقت ایک مثل سے لے کر دو مثل تک ہے۔
 مولانا عبدالحئی لکھنوی نے التعلیق الممجد [ص 41 حاشیہ9] میں اس موقوف اثر کا یہی مفہوم لکھا ہے، نیز اس ”اثر“ کے آخری حصہ ”فجر کی نماز اندھیرے میں ادا کر“ کی دیوبندی اور بریلوی دونوں فریق مخالفت کرتے ہیں، کیونکہ یہ حصہ ان کے مذہب سے مطابقت نہیں رکھتا۔
نیز یہ کہ صحیح اور صریح مرفوع حدیث کے حدیث کے مقابلے میں موقف روایت کو بطور حجت پیش کرنا کہاں کا انصاف ہے فیا للعجب ! 

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
نمازِ عصر کو پہلے وقت میں ادا کرنا مسنون ہے، اس کی درج ذیل وجو ہات ہیں:

1. اللہ تعالی کا فرمان ہے: ( فَاستَبِقُوا الخَيرَاتِ) نیکیوں کیلئے سبقت کرو[البقرة:148]، لہذا اچھے کاموں کیلئے سبقت کرنی چاہیے۔

2. یہ بات ثابت شدہ ہے کہ نماز کی اول وقت میں ادائیگی افضل ہے۔

3. نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ : "آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھا کرتے تھے، اور سورج بلند ہوتا تھا" بخاری:(547) مسلم :(647) " انتہی
" الشرح الممتع " (2/104)

اس مسئلے کے بارے میں مزید مصادر و مراجع کیلئے دیکھیں:
" المحلى " (2/197) ، " نهاية المحتاج (1/364) ، " فتح القدير " (1/227) ، و " حاشية الدسوقی" (1/177) ، " الموسوعة الفقهية " (7/173)

Thursday, October 9, 2025

مرنے سے پہلے دودھ بخشوانے کی رسم

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ 

موضوع: مرنے سے پہلے دودھ بخشوانے کی رسم 

مصادر : مختلف مراجع و مصادر

از: محمد اقبال قاسمی سلفی 

حنفی عوام الناس میں رائج بے شمار بے اصل رسومات میں سے ایک دودھ بخشوانے کی رسم ہے ، اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ لوگ اپنی والدہ کی وفات سے قبل دودھ بخشواتے ہیں ۔ چنانچہ جب ان کی والدہ مرنے کے قریب ہوتی ہیں تو ان کے پاس ان کی اولاد جاتی ہے اور کہتی ہے کہ” امی جان ! آ پ نے مجھے دودھ پیلایا ہے ، آپ کا مجھ پر احسان ہے ، میں آپ کی خدمت کا جو مجھ پر حق تھا وہ نہیں ادا کرسکا ، مجھے معاف کردیجئے“ اس رواج کو دودھ معاف کرنا کہتے ہیں اور اس کے ساتھ کھانا پینا وغیرہ کا پروگرام رکھے جاتے ہیں۔
جبکہ یہ بالکل بے اصل ہے۔ شریعت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔

 دارالعلوم دیوبند سے جب اس بابت سوال کیا گیا کہ : 

ہمارے یہاں کچھ لوگ بہار سے آکر بسے ہیں ، وہ اس طرح کرتے ہیں کہ جب ان کی والدہ مرنے کے قریب ہوتی ہیں تو ان کے پاس ان کی اولاد جاتی ہے اور کہتی ہے کہ” امی جان ! آ پ نے مجھے دودھ پیلایا ہے ، آپ کا مجھ پر احسان ہے ، میں آپ کی خدمت کا جو مجھ پر حق تھا وہ نہیں ادا کرسکا ، مجھے معاف کردیجئے“ اس رواج کو دودھ معاف کرنا کہتے ہیں اور اس کے ساتھ کھانا پینا وغیرہ کا پروگرام رکھے جاتے ہیں۔ براہ کرم، بتائیں کہ اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟قرآن وحدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں ۔ 
تو دارالعلوم نے جواب دیا: 
یہ دودھ بخشوانا بے اصل ہے، قرآن وحدیث سے اس کا کوئی ثبوت نہیں اور اس کے ساتھ کھانے پینے کا پروگرام رکھنا صرف رسم ورواج ہے اس کو ترک کردینا چاہیے۔البتہ والدین کے انتقال سے قبل اپنی کوتاہیوں اور نافرمانیوں کو معاف کروالینا بہترہے۔

دار الافتاء 
دارالعلوم دیوبند 
فتویٰ نمبر : 27380

اس بابت رضاخانی مذہب کے مفتیان نے بھی اسے بے اصل قرار دیا ہے۔ جیساکہ درج ذیل فتوے س واضح ہے۔
چنانچہ جب ان س پوچھا گیا کہ: عوام میں جو مشہور ہےکہ لڑکے اپنی ماں سے دودھ بخشواتے ہیں تو کیا یہ صحیح ہے حوالہ کے ساتھ جواب دیں
سائل:-
 یس نوری

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

دودھ بخشوانا شرعاً بے اصل چیز ہے اسکی قطعی کوئی حاجت نہیں ماں باپ پر یہ بچے کا حق ہے کہ وہ بچے کو دودھ پلاۓ تو ماں نے اپنا حق ادا کیا نہ کہ بچہ کے ذمے قرض کا بوجھ لادا ہے ہاں ماں کے احسانات اولاد پر کثیر ہیں ان سے اولاد ماں کی بہت کچھ خدمت کرکے بھی سبکدوش نہیں ہوسکتی

بلکہ والدین کی اطاعت اور انکے ساتھ حسن سلوک تاعمر ہرشخص پر لازم ہے جہاں تک ہوسکے ہر شخص اپنے والدین کی خوشنودی حاصل کرے اس لئے کہ رب کی رضا والدین کی رضا میں ہے

حدیث شریف میں ہے

رضا الرب فی رضا الوالدین یعنی رب کی رضا والدین کی رضا میں ہے

فتاویٰ مرکز تربیت افتاء جلد کتاب الحظر والاباحۃ دوم صفحہ396

شرف قلم حضرت علامہ و مولانا محمد غلام غوث اجملی ارشدی غفرلہ صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی
خادم درس و تدریس دارالعلوم اہلسنت غریب نواز چاپاکھور بارسوئی کٹیہار بہار
 8057787636

*ماشاءاللہ*
*✅الجواب صحیح مجیب والنجیح*
*محمدالطاف حسین قادری خادم التدریس دارالعلوم غوث الوری ڈانگا لکھیم پور کھیری*

 بریلویوں کےماہنامہ کنزالایمان دہلی صفحہ 18مارچ 2015)(بحوالہ ضیاء شریعت جلد 1 صفحہ 199 ) میں لکھا ہے: 
 ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں، ماں کا دودھ بخشوانا کیسا ہے، نہیں بخشوایا تو روح نہیں نکلے گی اٹک جائےگی قبر میں عزاب ہوگا اس کی شرعی اصل کیا ہے جواب عنایت فرمائیں بہت مہربانی ہوگی

       سائل۔ محمد رضا رضوی اورنگ آباد بہار
۔......................................................................
        وعلیکم السلام ورحمت اللہ وبرکاتہ 

*الجواب* شریعت میں دودھ پلانیوالی کا دودھ پینے والے پر کوئ مطالبہ نہیں اس لئے دودھ بخشوانا کوئ شرعی حکم نہیں اس کے علاوہ بھی اولاد پر ماں کے بے شمار حقوق ہیں انتقال کے بعد حقوق کے ادائیگی کی یہی صورت ہے کہ ان کے حق میں دعائے خیر اور ان کیلئے ایصال ثواب کرے وغیرہ( فتاویٰ بحرالعلوم جلد 2 صفحہ 79 کتاب الجنائز) ماں سے دودھ بخشوانے کو ضروری سمجھنا جاہلانہ خیال ہے کیوں کہ اپنے بچوں کو دودھ پلانا ماں کا حق ہے تو مائیں دودھ پلاکر اپنا حق ادا کرتی ہیں نہ یہ کہ بچوں پر قرض کا بوجھ ڈالتی ہے البتہ بچہ پر یہ ان کا احسان ہے کہ جس کی وجہ سے اللہ نے ان کا مرتبہ بہت اونچا کردیا ہے اور اولاد کو بھی حسن سلوک کا حکم دیا ہے( ماہنامہ کنزالایمان دہلی صفحہ 18مارچ 2015)(بحوالہ ضیاء شریعت جلد 1 صفحہ 199 )

Recent posts

تلاوت قرآن کے بعد صدق الله العظيم پڑھنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم  السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ  موضوع: تلاوت قرآن کے بعد صدق الله العظيم پڑھنا !  محمد اقبال قاسمی صاحب  مصادر: مخ...