Thursday, October 9, 2025

مرنے سے پہلے دودھ بخشوانے کی رسم

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ 

موضوع: مرنے سے پہلے دودھ بخشوانے کی رسم 

مصادر : مختلف مراجع و مصادر

از: محمد اقبال قاسمی سلفی 

حنفی عوام الناس میں رائج بے شمار بے اصل رسومات میں سے ایک دودھ بخشوانے کی رسم ہے ، اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ لوگ اپنی والدہ کی وفات سے قبل دودھ بخشواتے ہیں ۔ چنانچہ جب ان کی والدہ مرنے کے قریب ہوتی ہیں تو ان کے پاس ان کی اولاد جاتی ہے اور کہتی ہے کہ” امی جان ! آ پ نے مجھے دودھ پیلایا ہے ، آپ کا مجھ پر احسان ہے ، میں آپ کی خدمت کا جو مجھ پر حق تھا وہ نہیں ادا کرسکا ، مجھے معاف کردیجئے“ اس رواج کو دودھ معاف کرنا کہتے ہیں اور اس کے ساتھ کھانا پینا وغیرہ کا پروگرام رکھے جاتے ہیں۔
جبکہ یہ بالکل بے اصل ہے۔ شریعت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔

 دارالعلوم دیوبند سے جب اس بابت سوال کیا گیا کہ : 

ہمارے یہاں کچھ لوگ بہار سے آکر بسے ہیں ، وہ اس طرح کرتے ہیں کہ جب ان کی والدہ مرنے کے قریب ہوتی ہیں تو ان کے پاس ان کی اولاد جاتی ہے اور کہتی ہے کہ” امی جان ! آ پ نے مجھے دودھ پیلایا ہے ، آپ کا مجھ پر احسان ہے ، میں آپ کی خدمت کا جو مجھ پر حق تھا وہ نہیں ادا کرسکا ، مجھے معاف کردیجئے“ اس رواج کو دودھ معاف کرنا کہتے ہیں اور اس کے ساتھ کھانا پینا وغیرہ کا پروگرام رکھے جاتے ہیں۔ براہ کرم، بتائیں کہ اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟قرآن وحدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں ۔ 
تو دارالعلوم نے جواب دیا: 
یہ دودھ بخشوانا بے اصل ہے، قرآن وحدیث سے اس کا کوئی ثبوت نہیں اور اس کے ساتھ کھانے پینے کا پروگرام رکھنا صرف رسم ورواج ہے اس کو ترک کردینا چاہیے۔البتہ والدین کے انتقال سے قبل اپنی کوتاہیوں اور نافرمانیوں کو معاف کروالینا بہترہے۔

دار الافتاء 
دارالعلوم دیوبند 
فتویٰ نمبر : 27380

اس بابت رضاخانی مذہب کے مفتیان نے بھی اسے بے اصل قرار دیا ہے۔ جیساکہ درج ذیل فتوے س واضح ہے۔
چنانچہ جب ان س پوچھا گیا کہ: عوام میں جو مشہور ہےکہ لڑکے اپنی ماں سے دودھ بخشواتے ہیں تو کیا یہ صحیح ہے حوالہ کے ساتھ جواب دیں
سائل:-
 یس نوری

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

دودھ بخشوانا شرعاً بے اصل چیز ہے اسکی قطعی کوئی حاجت نہیں ماں باپ پر یہ بچے کا حق ہے کہ وہ بچے کو دودھ پلاۓ تو ماں نے اپنا حق ادا کیا نہ کہ بچہ کے ذمے قرض کا بوجھ لادا ہے ہاں ماں کے احسانات اولاد پر کثیر ہیں ان سے اولاد ماں کی بہت کچھ خدمت کرکے بھی سبکدوش نہیں ہوسکتی

بلکہ والدین کی اطاعت اور انکے ساتھ حسن سلوک تاعمر ہرشخص پر لازم ہے جہاں تک ہوسکے ہر شخص اپنے والدین کی خوشنودی حاصل کرے اس لئے کہ رب کی رضا والدین کی رضا میں ہے

حدیث شریف میں ہے

رضا الرب فی رضا الوالدین یعنی رب کی رضا والدین کی رضا میں ہے

فتاویٰ مرکز تربیت افتاء جلد کتاب الحظر والاباحۃ دوم صفحہ396

شرف قلم حضرت علامہ و مولانا محمد غلام غوث اجملی ارشدی غفرلہ صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی
خادم درس و تدریس دارالعلوم اہلسنت غریب نواز چاپاکھور بارسوئی کٹیہار بہار
 8057787636

*ماشاءاللہ*
*✅الجواب صحیح مجیب والنجیح*
*محمدالطاف حسین قادری خادم التدریس دارالعلوم غوث الوری ڈانگا لکھیم پور کھیری*

 بریلویوں کےماہنامہ کنزالایمان دہلی صفحہ 18مارچ 2015)(بحوالہ ضیاء شریعت جلد 1 صفحہ 199 ) میں لکھا ہے: 
 ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں، ماں کا دودھ بخشوانا کیسا ہے، نہیں بخشوایا تو روح نہیں نکلے گی اٹک جائےگی قبر میں عزاب ہوگا اس کی شرعی اصل کیا ہے جواب عنایت فرمائیں بہت مہربانی ہوگی

       سائل۔ محمد رضا رضوی اورنگ آباد بہار
۔......................................................................
        وعلیکم السلام ورحمت اللہ وبرکاتہ 

*الجواب* شریعت میں دودھ پلانیوالی کا دودھ پینے والے پر کوئ مطالبہ نہیں اس لئے دودھ بخشوانا کوئ شرعی حکم نہیں اس کے علاوہ بھی اولاد پر ماں کے بے شمار حقوق ہیں انتقال کے بعد حقوق کے ادائیگی کی یہی صورت ہے کہ ان کے حق میں دعائے خیر اور ان کیلئے ایصال ثواب کرے وغیرہ( فتاویٰ بحرالعلوم جلد 2 صفحہ 79 کتاب الجنائز) ماں سے دودھ بخشوانے کو ضروری سمجھنا جاہلانہ خیال ہے کیوں کہ اپنے بچوں کو دودھ پلانا ماں کا حق ہے تو مائیں دودھ پلاکر اپنا حق ادا کرتی ہیں نہ یہ کہ بچوں پر قرض کا بوجھ ڈالتی ہے البتہ بچہ پر یہ ان کا احسان ہے کہ جس کی وجہ سے اللہ نے ان کا مرتبہ بہت اونچا کردیا ہے اور اولاد کو بھی حسن سلوک کا حکم دیا ہے( ماہنامہ کنزالایمان دہلی صفحہ 18مارچ 2015)(بحوالہ ضیاء شریعت جلد 1 صفحہ 199 )

No comments:

Post a Comment

Recent posts

تلاوت قرآن کے بعد صدق الله العظيم پڑھنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم  السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ  موضوع: تلاوت قرآن کے بعد صدق الله العظيم پڑھنا !  محمد اقبال قاسمی صاحب  مصادر: مخ...