Thursday, November 27, 2025

قربانی یا عقیقہ کا جانور ذبح کرتے وقت زبان سے نام لینا

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ 

موضوع: قربانی یا عقیقہ کا جانور ذبح کرتے وقت زبان سے نام لینا

حنفی علماء اور مفتیان کو اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ جانور ذبح کرنے سے پہلے ناموں کو درج کرنے اور زبان سے نام لینے کا اہتمام کرتے ہیں۔ مدرسوں سے ایسے کیلنڈرز شائع ہوتے ہیں جن میں ان شرکاء کے ناموں کے اندراج کے کالمز بنے ہوتے ہیں۔
اور حنفی عوام میں تو اس سلسلے میں بڑے تکلفات بھی پاۓ جاتے ہیں۔ 

حالانکہ قربانی یا عقیقہ کا جانور ذبح کرتے وقت زبان سے نام لینا ضروری نہیں ہے۔ دل میں ارادہ ہے کافی ہے ۔ اگر قربانی میں ایک سے زیادہ افراد شریک ہوں، تو ذبح کرتے وقت تمام حصے داروں کا نام زبان سے لینا ضروری نہیں ہے. دل میں ان سب کی طرف سے قربانی کی نیت کا ہونا کافی ہے۔ 

فقہ حنفی کی معتبر کتاب 
بدائع الصنائع میں ہے : 

فلا تتعين الأضحية إلا بالنية؛ وقال النبي - عليه الصلاة والسلام - «إنما الأعمال بالنيات وإنما لكل امرئ ما نوى» ويكفيه أن ينوي بقلبه ولا يشترط أن يقول بلسانه ما نوى بقلبه كما في الصلاة؛ لأن النية عمل القلب، والذكر باللسان دليل عليها.

بدائع الصنائع: (71/5، ط: دار الکتب العلمیة)

مشہور و معروف حنفی ادارہ دارالعلوم دیوبند سے جب اس بابت سوال کیا گیا کہ عقیقہ میں بچہ کا نام لینا ضروری ہے یا نہیں؟
تو دارالعلوم دیوبند نے جواب دیا: 
عقیقہ میں بچہ کا نام لینا ضروری نہیں۔

دارالافتاء 
دارالعلوم دیوبند 
فتویٰ نمبر: 171870

اسی طرح مشہور و معروف حنفی دارالافتاء الاخالاص آن لائن سے جب اس بابت سوال کیا گیا کہ اجتماعی قربانی میں ذبح کے وقت تمام حصہ داروں کے نام خاص طور سے پوچھے جاتے ہیں، کیا ذبح کے وقت تمام حصہ داروں کے نام بتانا ضروری ہیں؟ اور اگر ذبح کرتے وقت نام نہ لیے جائیں تو کیا قربانی درست نہیں ہوگی؟
تو جواب دیا گیا : 
اجتماعی قربانی میں مشترکہ جانور ذبح کرتے وقت حصہ داروں کے نام پکارنا ضروری نہیں ہیں، ذبح کرتے وقت ان کی طرف سے قربانی کی نیت کرنا کافی ہے۔
دارالافتاء 
الاخالاص آن لائن 
فتویٰ نمبر: 9663

حتی کہ حنفی دعوت اسلامی سے بھی جب اس بارے میں سوال کیا گیا کہ جانور ذبح کرتے وقت شرکاء کے نام زبان سے نہیں کہے لیکن دل میں نیت تھی کہ یہ فلاں فلاں کی قربانی ہے تو اس طرح قربانی ہوجائے گی ؟

تو جواب دیا گیا: 
جن شرکاء کی طرف سے قربانی ہورہی ہے، ذبح کے وقت ان کا نام زبان سے لینا ضروری نہیں ،زبان سے نام لیے بغیربھی ان شرکاء کی طرف سے قربانی ہوجاتی ہے ۔لہذاسوال میں جن شرکاء کی قربانی کاذکرہے کہ ذبح کے وقت زبان سے ان کانام نہیں لیا،صرف دل میں نیت تھی توان کی قربانی درست ہوگئی ۔

   خزانۃ الاکمل میں ہے”ولو لم یذکر اسماءھم عند الذبح جاز ،والمعتبر ھو النیۃ“ذبح کےوقت شرکاء کے نام زبان سے نہیں کہے جب بھی جائز ہے کہ معتبر نیت ہے۔(خزانۃ الاکمل،ج03، ص512،دار الکتب العلمیۃ ،بیروت)
ان حنفی فتوؤں سے معلوم ہوا کہ فقہ حنفی کے مطابق بھی قربانی یا عقیقہ کا جانور ذبح کرتے وقت شرکاء کا زبان سے نام‌ لینا ضروری نہیں ہے بلکہ دل کا ارادہ ہی کافی ہے۔

لیکن افسوس کہ آج حنفی دیوبندی اور رضاخانی علماء اور مفتیان عید الاضحٰی یا دیگر مواقع پر عند الذبح زبان سے نام لینے کا اہتمام اس طرح کرتے ہیں گویا کہ یہ ضروری اور لازمی امر ہو۔
علامہ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
  "ولو وكله ، ونوى عند ذبح الوكيل : كفى ذلك ، ولا حاجة إلى نية الوكيل . بل لو لم يعلم الوكيل أنه مضح لم يضر" [المجموع] (8 / 406).

اور اگر اس نے کسی کو وکیل بنایا اور اس نے وکیل کے ذبح کرنے کے وقت نیٹ کرلی تو یہ کافی ہے، وکیل کو نیت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ اگر وکیل کو یہ معلوم نہ ہو کہ وہ (فلاں) قربانی کرنے والا ہے تب بھی کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔

صحیح مسلم کتاب الاضاحی میں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: ضَحَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ ذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ وَسَمَّى وَكَبَّرَ وَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سفید رنگ کے بڑے سینگوں والے مینڈھوں کی قربانی دی۔ آپ نے انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کیا بسم اللہ پڑھی اور تکبیر کہی۔ آپ نے (قربانی کے وقت انہیں لٹا کر) ان کے رخسار پر اپنا قدم مبارک رکھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5087]

Tuesday, November 11, 2025

فقہ حنفی میں امامت کے شرمناک شرائط

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ 

موضوع: فقہ حنفی میں امامت کے شرمناک شرائط 
مصادر: مختلف مراجع و مصادر 

محمد اقبال قاسمی سلفی 

امامت کون کرے یا لوگوں میں سے امام کس کو بنایا جائے ۔اس تعلق سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح حدیث موجود ہے ۔

صحیح مسلم میں ابو مسعود بدری انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللهِ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً، فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ، فَإِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَاءً، فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً، فَأَقْدَمُهُمْ سِلْمًا۔
لوگوں کی امامت وہ کرائے جو ان میں سے کتاب اللہ کو زیادہ پڑھنے والا ہو ، اگر وہ پڑھنے میں برابر ہوں تو وہ جو ان میں سے سنت کا زیادہ عالم ہو ، اگر وہ سنت ( کے علم ) میں بھی برابر ہوں تو وہ جس نے ان سب کی نسبت پہلے ہجرت کی ہو ، اگر وہ ہجرت میں برابر ہوں تو وہ جو اسلام قبول کرنے میں سبقت رکھتا ہو ۔ 

(صحيح المسلم : 1524) 

امامت کا زیادہ مستحق کون ہے، اس حدیث میں بالترتیب چار وجوہ استحقاق کو بیان کیا گیا ہے۔
 (1) قوم کی امامت وہ کراۓ جو کتاب اللہ کا زیادہ قاری ہو۔ (2) اس کے بعد ان میں سے جو سنت کا زیادہ عالم ہو۔ 
(3) اس کے بعد جس نے ہجرت پہلے کی ہو ۔
(4) اس کے بعد جو عمر میں بڑا ہو، بعض راویوں نے اسلام کا ذکر کیا ہے یعنی اسلام قبول کرنے میں جس نے سبقت  کی ہو۔
اس صحیح حدیث کے مقابلے میں فقہ حنفی کی شرائط کا ملاحظہ کریں ۔
صحیح حدیث کے برخلاف فقہ حنفی میں احقیت امامت کے ترتیب وار سولہ مرحلے بتائے گئے ہیں۔ جو درج ذیل ہیں:

چنانچه رد المختار علی در المختار میں اس طرح بیان کیا گیا ہے :

والاحق بالامامة الاعلم باحكام الصلواة ثم الاحسن تلاوة للقراة ثم الأورع ثم الاسن ثم الاحسن خلقاً ثم الاحسن وجهاً ثم اصبحهم اى اسمحهم وجها ثم اكثرهم حسبا ثم الاشرف نسبا ثم الاحسن صوتاً ثم الاحسن زوجة ثم الأكثر مالاً ثم الأكثر جاهاً ثم الانظف ثوبا ثم الاكبر رأسا والاصغر عضواً ثم المقيم على المسافر ثم الحر الاصلى على العتيق ثم المتيمم عن حدث على المتيمم عن جنابة فان استووا يقرع او الخيار الى القوم.

ردالمحتار علی در المختار شرح فی تنویر الابصار ص ۱۳/۱-۴۱۲]

 ترجمہ : ١ امامت کا سب سے زیادہ حق دار وہ شخص ہے جو نماز کے احکام سب سے زیادہ جانتا ہو۔ ۲:۔ پھر وہ جو سب سے اچھی تلاوت کرنے والا ہو۔ ۳:۔ پھر وہ جو سب سے زیادہ پرہیز گار ہو۔ ۔ پھر وہ جو سب سے پہلے اسلام لایا ہو۔ ۵:۔ پھر سب سے اچھے اخلاق والا ۔ ۶:۔ پھر سب سے زیادہ خوبصورت ۔ ۷:۔ پھر سب سے زیادہ روشن چہرے والا ۔ ۔ پھر سب سے زیادہ حسب والا۔ و پھر سب سے زیادہ شریف نسب والا ۔ ۱۰:۔ پھر سب سے زیادہ اچھی آواز والا ۔ 11۔ پھر سب سے زیادہ خوبصورت بیوی والا ۔ ۱۲:۔ پھر سب سے زیادہ مال والا۔ ۱۳:۔ پھر سب سے زیادہ بڑے مرتبے والا ۔ ۱۴:۔ پھر سب سے زیادہ خوش لباس ۱۵:۔ پھر بڑے سروالا ۔ ۱۶:۔ چھوٹے آلہ تناسل والا ۔ ۱۷:۔ پھر مقیم مسافر پر۔ ۱۸ پھر اصلی آزاد آزاد شدہ پر ۔ ۱۹:۔ پھر وضو کے قائم مقام تیم کرنے والا غسل کے قائمقام تیم کرنے والے پر۔ ۲۰:۔ تو اگران سب شرائط میں برابر ہوں تو پھر قرعہ اندازی کی جائے گی یا ۲۱:۔ پھر قوم کو اختیار دے دیا جائے گا کہ جس کو چاہے امام بنائے. 

یہ ہیں وہ گائڈ لائنس جو فقہ حنفی نے أمام کے انتخاب کے لیے اپنے  ماننے والوں کو عنایت کیے ہیں جو کہ  کسی بھی صحیح حدیث میں مذکور نہیں ہے ، صحیح تو کیا کسی ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے جس میں یہ شرطیں موجود ہوں۔ 
ان شرائط میں سے مضحکہ خیز شرط ہے  "پھر سب سے خوبصورت بیوی والا"۔ جیساکہ احقیت نمبر گیارہ میں بیان کیا گیا ہے یعنی اگر مذکورہ بالا دس اوصافِ میں سارے امیدوار امام مساوی ہوں تو پھر امامت کے لیے اس امام کو تر جیح دی جائے گی جس کی بیوی سب سے زیادہ خوبصورت ہو۔ اور یہ احناف کے  مفتی بہ مسائل میں سے ہے۔ جیساکہ دارالعلوم دیوبند سے جب اس بابت دریافت کیا گیا کہ امامت کی شریعت میں جہاں بہت سارے شرائط ہیں کیا ان میں ایک یہ بھی ہے کہ جب تمام چیزوں میں برابری پا ئی جائے گی تو امامت کا حق اسکو حاصل ہوگا جسکی بیوی سب سے زیادہ خوبصورت ہو؟
تو دارالعلوم دیوبند نے جواب دیا: 

امامت میں سب سے پہلے استحقاق اس شخص کو ہے جو صحیح العقیدہ ہونے کے ساتھ مسائل طہارت ونماز سے واقف ہو یعنی عالم ہو اور قرآن صحیح پڑھنا جانتا ہو، پھر اس کی ایک ترتیب ہے کہ اس کے بعد کون زیادہ حق دار ہے، اس کے اخیر میں ایک مرحلہ یہ بھی ہے کہ اگر سب لوگ مطلوبہ اوصاف میں برابر ہوں تو ان میں جس کی بیوی زیادہ خوبصورت ہوگی اس کو استحقاق ہوگا کیوں کہ ایسا شخص قلب ونظر کے اعتبار سے زیادہ عفیف ہوگا۔

دارالافتاء 
دارالعلوم دیوبند 
فتویٰ نمبر : 42873

اس فتوے کے مطابق بھی فقہ حنفی میں استحقاق امامت کی ایک ترتیب اور ایک مرحلہ یہ ہے کہ جس کی بیوی زیادہ خوبصورت ہوگی وو امامت کا زیادہ مستحق ہوگا بہ نسبت اس امام کے جس کی بیوی کم خوبصورت ہوگی ۔
یعنی مطلوبہ اوصافِ برابر ہونے کی صورت میں امامت کے لیے اس قاری، عالم، مفتی اور متقی کو ترجیح دی جائے گی جس کے پاس سب سے زیادہ خوبصورت بیوی ہوگی۔ 
فتوے میں اس کی توجیہ یہ کی گئی ہے کہ  ایسا شخص قلب ونظر کے اعتبار سے زیادہ عفیف ہوگا۔

لیکن یہ توجیہ اس لیے بے بنیاد ہے کہ 
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کو مطلقاً عفت و پاکدامنی کا ذریعہ بتایا ہے، جیساکہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ 
‏‏‏‏‏:‏‏‏‏ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبَابًا لَا نَجِدُ شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ، ‏‏‏‏‏‏مَنِ اسْتَطَاعَ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ.۔
 ہم نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں نوجوان تھے اور ہمیں کوئی چیز میسر نہیں تھی۔ نبی کریم ﷺ نے ہم سے فرمایا کہ نوجوانوں کی جماعت ! تم میں جسے بھی نکاح کرنے کے لیے مالی طاقت ہو اسے نکاح کرلینا چاہیے کیونکہ یہ نظر کو نیچی رکھنے والا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا عمل ہے اور جو کوئی نکاح کی بوجہ غربت طاقت نہ رکھتا ہو اسے چاہیے کہ روزہ رکھے کیونکہ روزہ اس کی خواہشات نفسانی کو توڑ دے گا۔
صحیح بخاری: حدیث نمبر : 5066
تو ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ استحقاق امامت کی اس لمبی حنفی  ترتیب میں شادی شدہ امام کو غیر شادی شدہ پر ترجیح دی جاتی تو کہیں بہتر ہوتا۔
اور بیوی کو ملاحظہ کرنا ہی تھا تو خوبصورتی کے بجائے امام صاحب کی بیوی کی  خوب سیرت اور حسن کردار کو زیر ترتیب لایا جاتا کہ امام اسے بنایا جاۓ گا جس کی بیوی سب سے زیادہ نیک سیرت وکردار والی ہوگی، تو تھوڑی دیر کے لیے نقلا نہ سہی عقل میں بات سماتی۔

حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
 " تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ: لِمَالِهَا، وَلِحَسَبِهَا، وَجَمَالِهَا، وَلِدِينِهَا، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ"

عورت سے نکاح چار چیزوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے اس کے مال کی وجہ سے اور اس کے خاندانی شرف کی وجہ سے اور اس کی خوبصورتی کی وجہ سے اور اس کے دین کی وجہ سے اور تو دیندار عورت سے نکاح کر کے کامیابی حاصل کر، اگر ایسا نہ کرے تو تیرے ہاتھوں کو مٹی لگے گی (یعنی اخیر میں تجھ کو ندامت ہو گی)
صحیح بخاری: حدیث نمبر : 5090
اس حدیث کی رو سے اگر شرط لگانی ہی تھی تو خوبصورتی کے بجائے خوب سیرت ہونے کو وجہ ترجیح قرار دیا جاتا تو کہیں زیادہ مناسب اور لائق ہوتا۔ 

لیکن امامت کے لیے وجہ ترجیح یہ کہ امام  اسے بنایا جائے گا جس کی بیوی زیادہ حسین ہوگی، یہ بات آج تک مجھے تو کیا فقہ حنفی پر عمل کرنے والے حنفیوں کی عقل میں نہیں سمائی ۔اسی لیے اماموں کے انتخاب میں کہیں بھی حنفی کمپنی اس ترتیب کو ملحوظ  نہیں رکھتی ہے ۔ حالانکہ جب یہ فقہ میں مذکور ہے اور غیر منسوخ ہے تو اس پر انہیں عمل پیرا ہونا چاہیے تھا ، لیکن عجب طرفہ تماشا ہے ایک طرف اس مسئلے کو صحیح مانتے ہوئے اس کا دفاع کرتے ہیں ،اسی ک۔ مطابق فتوے دیتے ہیں لیکن جب عمل کرنے کی باری آتی ہے تو اسے یکسر فراموش کر دیا جاتا ہے ۔
احناف کا اس ترتیب پر عمل نہ کرنا اور عمل کرنے سے پرہیز کرنا یہ بتاتا ہے کہ فقہ حنفی کا یہ مسئلہ خود ان کی نظر میں بھی حیاسوز اور مردود و مطروح ہے۔  
ورنہ اس ترتیب کی رو سے ہر عالم ، مفتی،متقی کو اپنے علم و افتاء اور تقوے کے علاوہ  اس بات کی بھی  فکر کرنی ہوگی کہ آیا اس کی بیوی خوبصورت ہے یا نہیں ۔ خوبصورت بیوی ہونے کے لیے لازمی طور سے انہیں ان لڑکیوں سے نکاح کرنا ہوگا جو خوبصورت ہوں۔

جبکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: 

يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَلَا إِنَّ رَبكُمْ وَاحِدٌ، وَإِنَّ أَباكُمْ وَاحِدٌ، أَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبيٍّ عَلَى أَعْجَمِيٍّ، وَلَا لِعَجَمِيٍّ عَلَى عَرَبيٍّ، وَلَا لِأَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ، وَلَا أَسْuسوَدَ عَلَى أَحْمَرَ، إِلَّا بالتَّقْوَى۔

 لوگو! تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے یاد رکھو! کسی عربی کو کسی عجمی پر کسی عجمی کو کسی عربی پر کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو کسی گورے پر ۔ سوائے تقویٰ کے اور کسی وجہ سے فضیلت حاصل نہیں ہے۔ 
 مسند احمد: حدیث نمبر : 27647

Recent posts

تلاوت قرآن کے بعد صدق الله العظيم پڑھنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم  السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ  موضوع: تلاوت قرآن کے بعد صدق الله العظيم پڑھنا !  محمد اقبال قاسمی صاحب  مصادر: مخ...