السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
موضوع: قربانی یا عقیقہ کا جانور ذبح کرتے وقت زبان سے نام لینا
حنفی علماء اور مفتیان کو اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ جانور ذبح کرنے سے پہلے ناموں کو درج کرنے اور زبان سے نام لینے کا اہتمام کرتے ہیں۔ مدرسوں سے ایسے کیلنڈرز شائع ہوتے ہیں جن میں ان شرکاء کے ناموں کے اندراج کے کالمز بنے ہوتے ہیں۔
اور حنفی عوام میں تو اس سلسلے میں بڑے تکلفات بھی پاۓ جاتے ہیں۔
حالانکہ قربانی یا عقیقہ کا جانور ذبح کرتے وقت زبان سے نام لینا ضروری نہیں ہے۔ دل میں ارادہ ہے کافی ہے ۔ اگر قربانی میں ایک سے زیادہ افراد شریک ہوں، تو ذبح کرتے وقت تمام حصے داروں کا نام زبان سے لینا ضروری نہیں ہے. دل میں ان سب کی طرف سے قربانی کی نیت کا ہونا کافی ہے۔
فقہ حنفی کی معتبر کتاب
بدائع الصنائع میں ہے :
فلا تتعين الأضحية إلا بالنية؛ وقال النبي - عليه الصلاة والسلام - «إنما الأعمال بالنيات وإنما لكل امرئ ما نوى» ويكفيه أن ينوي بقلبه ولا يشترط أن يقول بلسانه ما نوى بقلبه كما في الصلاة؛ لأن النية عمل القلب، والذكر باللسان دليل عليها.
بدائع الصنائع: (71/5، ط: دار الکتب العلمیة)
مشہور و معروف حنفی ادارہ دارالعلوم دیوبند سے جب اس بابت سوال کیا گیا کہ عقیقہ میں بچہ کا نام لینا ضروری ہے یا نہیں؟
تو دارالعلوم دیوبند نے جواب دیا:
عقیقہ میں بچہ کا نام لینا ضروری نہیں۔
دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتویٰ نمبر: 171870
اسی طرح مشہور و معروف حنفی دارالافتاء الاخالاص آن لائن سے جب اس بابت سوال کیا گیا کہ اجتماعی قربانی میں ذبح کے وقت تمام حصہ داروں کے نام خاص طور سے پوچھے جاتے ہیں، کیا ذبح کے وقت تمام حصہ داروں کے نام بتانا ضروری ہیں؟ اور اگر ذبح کرتے وقت نام نہ لیے جائیں تو کیا قربانی درست نہیں ہوگی؟
تو جواب دیا گیا :
اجتماعی قربانی میں مشترکہ جانور ذبح کرتے وقت حصہ داروں کے نام پکارنا ضروری نہیں ہیں، ذبح کرتے وقت ان کی طرف سے قربانی کی نیت کرنا کافی ہے۔
دارالافتاء
الاخالاص آن لائن
فتویٰ نمبر: 9663
حتی کہ حنفی دعوت اسلامی سے بھی جب اس بارے میں سوال کیا گیا کہ جانور ذبح کرتے وقت شرکاء کے نام زبان سے نہیں کہے لیکن دل میں نیت تھی کہ یہ فلاں فلاں کی قربانی ہے تو اس طرح قربانی ہوجائے گی ؟
تو جواب دیا گیا:
جن شرکاء کی طرف سے قربانی ہورہی ہے، ذبح کے وقت ان کا نام زبان سے لینا ضروری نہیں ،زبان سے نام لیے بغیربھی ان شرکاء کی طرف سے قربانی ہوجاتی ہے ۔لہذاسوال میں جن شرکاء کی قربانی کاذکرہے کہ ذبح کے وقت زبان سے ان کانام نہیں لیا،صرف دل میں نیت تھی توان کی قربانی درست ہوگئی ۔
خزانۃ الاکمل میں ہے”ولو لم یذکر اسماءھم عند الذبح جاز ،والمعتبر ھو النیۃ“ذبح کےوقت شرکاء کے نام زبان سے نہیں کہے جب بھی جائز ہے کہ معتبر نیت ہے۔(خزانۃ الاکمل،ج03، ص512،دار الکتب العلمیۃ ،بیروت)
ان حنفی فتوؤں سے معلوم ہوا کہ فقہ حنفی کے مطابق بھی قربانی یا عقیقہ کا جانور ذبح کرتے وقت شرکاء کا زبان سے نام لینا ضروری نہیں ہے بلکہ دل کا ارادہ ہی کافی ہے۔
لیکن افسوس کہ آج حنفی دیوبندی اور رضاخانی علماء اور مفتیان عید الاضحٰی یا دیگر مواقع پر عند الذبح زبان سے نام لینے کا اہتمام اس طرح کرتے ہیں گویا کہ یہ ضروری اور لازمی امر ہو۔
علامہ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"ولو وكله ، ونوى عند ذبح الوكيل : كفى ذلك ، ولا حاجة إلى نية الوكيل . بل لو لم يعلم الوكيل أنه مضح لم يضر" [المجموع] (8 / 406).
اور اگر اس نے کسی کو وکیل بنایا اور اس نے وکیل کے ذبح کرنے کے وقت نیٹ کرلی تو یہ کافی ہے، وکیل کو نیت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ اگر وکیل کو یہ معلوم نہ ہو کہ وہ (فلاں) قربانی کرنے والا ہے تب بھی کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔
صحیح مسلم کتاب الاضاحی میں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: ضَحَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ ذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ وَسَمَّى وَكَبَّرَ وَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سفید رنگ کے بڑے سینگوں والے مینڈھوں کی قربانی دی۔ آپ نے انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کیا بسم اللہ پڑھی اور تکبیر کہی۔ آپ نے (قربانی کے وقت انہیں لٹا کر) ان کے رخسار پر اپنا قدم مبارک رکھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5087]
No comments:
Post a Comment