Friday, June 18, 2021

ایک بڑھیا کا رسول ﷺ پر کوڑا پھینکنے کا واقعہ؟

         بسم الله الرحمن الرحيم 

السلام عليكم و رحمة الله وبركاته 

مولانا اقبال قاسمی سلفی


موضوع : ایک بڑھیا کا رسول ﷺ پر کوڑا پھینکنے کا واقعہ؟

مصادر : مختلف مراجع و مصادر ! 

عام طور سے قصہ گو واعظین لوگوں کا من بہلانے کے لئے جھوٹے اور من گھڑت قصے، کہانیاں سناکر لوگوں کو گمراہ تو کرتے ہی رہتے ہیں لیکن یہ جرم اس وقت مزید  سنگینی اختیار کر لیتا ہے جب یہ قصہ گو واعظین منبر و محراب سے من گھڑت اور بے سند قصوں کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب کرکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بہتان تراشیوں کا ارتکاب کرتے ہیں ۔

ان ہی میں سے ایک بڑھیا کا واقعہ ہے:

چنانچہ حنفی علماء اور مفتیان  اکثر یہ روایت بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک عورت کوڑا پھینکا کرتی تھی۔ ایک دن اس نے کوڑا نہ پھینکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے گھر چلے گئے،وہ بیمار تھی تو آپ نے اس کے گھر کو صاف کیا۔ پانی بھرا، اس نے آپ کے اخلاق کو دیکھ کر پوچھا کہ تم کون ہو،آپ نے بتایا کہ میں محمدﷺ ہوں، اتنا سننا تھا کہ وہ مسلمان ہو گئی۔ 

لیکن اللہ کے رسول ﷺ کی طرف منسوب بڑھیا کا یہ واقعہ بلکل جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔ حدیث کی کسی کتاب میں اس واقعہ کی  صحیح تو کیا کوئی ضعیف اور موضوع سند بھی مذکور نہیں ہے۔ 

علماۓ احناف نے بھی اس روایت  کو بے سند قرار دیا ہے۔ علامہ یوسف حنفی پاکستانی  اپنے  فتوے میں فرماتے ہیں:

"واضح رہے کہ رسولِ اَکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک ذات سے منسوب کسی بھی واقعہ کے درست ہونے کے لیے مستند  کتبِ احادیث میں منقول ہونا ضروری ہے، پس جو واقعہ مستند کتبِ احادیث میں منقول نہ ہو وہ شرعاً بے اصل ہے اور اسے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرکے بیان کرنا شرعاً جائز نہیں۔

صورتِ مسئولہ میں جو واقعہ تعلیمی نصاب کی کتب میں منقول ہے وہ بے اصل قصہ ہے، مستند کتبِ احادیث میں ایسا کوئی واقعہ نہیں ملتا، لہذا رسولِ اَکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ کریمہ بیان کرنے کے لیے ایسے من گھڑت واقعات کا سہارہ لینے کی چنداں ضرورت نہیں، اور  مذکورہ قصہ کی نسبت رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرنا جائز نہیں۔

آپ ﷺ کو خلقِ عظیم کے اعلیٰ مرتبہ پر فائز ہونے کی سند خود باری تعالیٰ نے عطا فرمائی ہے، اور آپ ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں قدم قدم پر اعلیٰ اخلاقی قدروں کی بے نظیر مثالیں موجود ہیں، مستند ذخیرہ احادیث وکتبِ سیرت ان حوالوں سے بھرا ہوا ہے، لہٰذا آپ ﷺ کے کریمانہ اخلاق کے واقعات صحیح اور ثابت شدہ کتابوں سے بیان کیے جائیں۔فقط واللہ اعلم"

فتوی نمبر : 144004201397

اسی طرح دارالعلوم دیوبند نے بھی ایسے کسی واقعہ کے کتب احادیث میں مذکور ہونے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے, چنانچہ جب دارالعلوم دیوبند سے پوچھا گیا کہ:

اللہ کے نبی کی سیرت کے تعلق سے اکثر یہ دو واقعات بڑھیا کے سننے ملتے ہیں، ایک وہ بڑھیا جو اللہ کے نبی پر روزانہ کوڑا کرکٹ پھینکا کرتی تھی اور دوسرا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ایک بڑھیا کا قصہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکا سامان اٹھایا اور اس نے آپ علیہ السلام کے بارے میں برابھلا شروع کردیا پھر جب آپ علیہ السلام نے اپنا نام بتایا تو وہ بڑھیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کی وجہ سے مسلمان ہوئی ، ان واقعات کی کیا حقیقت ہے ؟
 
تو جواب ملا :

"یہ دونوں واقعات کسی حدیث میں ہماری نظر سے نہیں گذرے( اور نہ ہی کبھی گذریں گے ان شاءاللہ)  کسی اچھے مورخ کی طرف رجوع فرمائیں"
فتویٰ نمبر:155541

اس لئے ہر مسلمان کو چاہیئے کہ ایسے واقعات بیان کرنے سے پہلے تحقیق کرلے ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ایسے واقعات بیان کرکے وہ جہنم کا مستحق ہو جائے۔ کیونکہ اس طرح کے بے سند واقعات  اللہ کے رسول ﷺ کی طرف منسوب کرکے بیان کرنا رسول ﷺ کے اوپر بہتان باندھنا ہے۔ اور اللہ کے رسول ﷺ پر بہتان باندھنے کی بہت سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔ 
حضرت ابو ہریرەؓ فرماتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا:
جو شخص گھڑ کر میری طرف ایسی بات منسوب کرے جو میں نے نہیں کہی ہے تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔    (ابن ماجہ:34، صحیح)
 
عَنْ الْمُغِيرَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ :    إِنَّ كَذِبًا عَلَيَّ لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : مَنْ نِيحَ عَلَيْهِ يُعَذَّبُ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ.   
  حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ: "میرے متعلق کوئی جھوٹی بات کہنا عام لوگوں سے متعلق جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے جو شخص بھی جان بوجھ کر میرے اوپر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔"
(صحيح البخاري:1291) 

ابو ہریرەؓ فرماتے ہیں:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات بیان کر دے ۔ ‘‘ 
(صحیح مسلم:5) 


حضرت ابو ہریرەؓ فرماتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا: 
انسان بسا اوقات کوئی ایسی بات کہہ دیتا ہے جسکی پروا نہیں کرتا لیکن اسی بات کی وجہ سے وہ ستر سال کی مسافت سے جہنم میں گرتا چلا جاتا ہے۔ 
(صیحح الترغيب والترہیب:2875) 

اس لئے مسلمانوں بالخصوص مقررین کو چاہیئے کہ نبی کریم ﷺ کے حوالے سے کوئی بھی واقعہ بیان کرنے سے پہلےاس کی تحقیق کر لیں، اصول حدیث کی روشنی میں اس کی جانچ کر لیں۔اورصرف انہیں باتوں کو بیان کریں جو صحیح سند سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں.
نبیﷺ کے بلنداخلاق کے بہت سارے واقعات صحیح احادیث میں موجود ہیں۔ 

اللهم اردنا الحق حقا وارزقنا اتباعه و ارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه !!

1 comment:

Recent posts

وقف ترمیمی بل

عامۃ المسلمین میں ایسے کئی لوگ ہوسکتے ہیں جو نئے وقف قانون کی باریکیوں سے واقف نہ ہوں اسی لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس پر تفصیلی گفتگو ہو۔ م...