بسم الله الرحمن الرحيم
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
محمد اقبال قاسمي سلفي
موضوع: بیعت یزید اور صحابہ کرام
مصادر : مختلف مراجع و مصادر
چاند جو محرم کا نظر آتا ہے
تیرے تن میں کیوں شیطان اتر آتا ہے۔
یزید بن معاویہ بن ابی سفیان بن حرب بن امیہ الاموی القرشی رضی اللہ عنہما کو جس طرح اس حرمت والے مہینے میں سب و شتم کرنا حلال تصور کیاجاتا ہے ۔ انہیں لعن طعن کیا جاتا ہے اور انہیں خلافت کا نااہل قرار دیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا صحابہ اور خیر القرون کے لاکھوں مسلمانو نے وسیع و عریض خلافت کی باگ ڈور ایک ناایل کے سپرد کر دی تھی۔ اس سے بھی پہلے یہ سوال پیدا ہوتا کہ پوری امت بشمول صحابہ ایک نااہل کو اپنا خلیفہ نامزد کرنے پر متفق ہوگئی تھی۔
کیونکہ یزید کو خلیفہ بنانے والے خود صحابہ کرام تھے ۔ تو کیا صحابہ کرام نے ایک نااہل شخص کو اپنا خلیفہ منتخب کرلیا تھا۔ کیا صحابہ کرام کے تعلق سے یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے خلافت کی باگ ڈور ایک نااہل شخص کے ہاتھ میں سپرد کر دی تھی۔
جبکہ جس صحابی نے یزید کو خلیفہ بنانے کا مشورہ دیا تھا وہ جلیل القدر صحابی حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ جو اصحاب بیعت رضوان میں سے ہیں جن کے متعلق اللہ رب العزت فرماتاہے:
لَّقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا۔
یقینا اللہ ان مومنوں سے خوش ہوگیا جبکہ وہ درخت تلے تجھ سے بیعت کر رہے تھے ۔ ان کے دلوں میں جو تھا اس نے معلوم کرلیا اور ان پر اطمینان نازل فرمایا اور انہیں قریب کی فتح نصیب فرمائی۔
(سوره فتح:18)
جب اہل مدینہ نے یزید بن معاویہ کی بیعت سے انکار کیا تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے خادموں اور لڑکوں کو جمع کیا اور کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر غدر کرنے والے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا کھڑا کیا جائے گا اور ہم نے اس شخص ( یزید ) کی بیعت، اللہ اور اس کے رسول کے نام پر کی ہے اور میرے علم میں کوئی غدر اس سے بڑھ کر نہیں ہے کہ کسی شخص سے اللہ اور اس کے رسول کے نام پر بیعت کی جائے اور پھر اس سے جنگ کی جائے اور دیکھو مدینہ والو! تم میں سے جو کوئی یزید کی بیعت کو توڑے اور دوسرے کسی سے بیعت کرے تو مجھ میں اور اس میں کوئی تعلق نہیں رہا، میں اس سے الگ ہوں۔
(صحيح البخاري: حديث نكبر: 7111)
صحیح ترین روایات میں صرف اور صرف دو صحابی کا اختلاف ثابت ہے۔ ایک عبدالرحمن بن ابی بکر اور دوسرے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما۔
لیکن ان کا اختلاف بھی یزید کی ذات، شخصیت اور ان کے اخلاق و کردار سے نہیں تھا بلکہ صرف اور صرف باپ کے بعد بیٹے کو خلیفہ بناۓ جانے سے متعلق تھا۔
جیسا کہ مندرجہ ذیل روایت سے ظاہر ہے:
عبد الرحمان بن ابی بکر کھڑے ہوۓ اور کہا: اے بنو امیہ! آپ ہماری طرف سے پیش کردہ تین طریقوں میں سے کوئی کوئی ایک طریقہ میں منتخب کر لو۔ اللہ کے نبی ﷺ کے طریقے کو اپناؤ یا ابوبکر صدیق رضی اللہ کے طریقے کو اپناؤ یا عمر فاروق رضی اللہ کے طریقے کو اپناؤ۔ یہ معاملہ اللہ کے نبی ﷺ کے سامنے بھی تھا اور آپ کے خاندان میں ایسے لوگ بھی تھے جنہیں اگر اللہ کے نبی ﷺ اپنا ولی عہد (خلیفہ) مقرر کر دیتے تو وہ اس کے اہل تھے۔ اس کے بعد ابو بکر کا دور آیا تو ان کے خاندان میں بھی ایسے لوگ تھے جنہیں ابوبکر صدیق رضی اگر ولی عہد بنادیتے تو وہ اس کے اہل تھے۔ اس کے بعد عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دور آیا اور ان کے خاندان میں بھی ایسے لوگ تھے کہ اگر وہ انہیں ولی عہد بنا دیتے تو وہ اس کے اہل تھے۔ لیکن انہوں نے یہ معاملہ مسلمانوں کی ایک جماعت پر چھوڑ دیا اور تم لوگ چاہتے ہو کہ اس معاملے کو قیصریت(خاندانی) بنا ڈالو کہ جب ایک قیصر فوت ہو تو اس کی جگہ دوسرا قیصر لے لے۔
(تاریخ ابن ابی خیثمہ، واسنادہ صحیح)
اس روایت سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ اس اختلاف کی بنیاد یزید کی شخصیت یا اس کا فاسق یا فاجر ہونا نہیں تھا بلکہ یہ اختلاف اس اندیشے پر مبنی تھا کہ کہیں باپ کے بعد بیٹے کو خلیفہ بنانے سے خلافت ملو کیت میں نہ تبدیل ہو جائے اور ہر خلیفہ کے بعد اس کا بیٹا ہی خلیفہ بننے لگے۔
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے اختلاف کا سبب بھی یہی تھا نہ کہ یزید کی شخصیت وصلاحیت۔
جیسا کہ حضرت حسین رضی اللہ کے والد حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت سے بھی بعض صحابہ کرام نے اختلاف رائے کیا تھا لیکن وہ بھی حضرت علی رضی اللہ کی شخصیت سے اختلاف نہیں بلکہ بعض مصلحتوں کو بنیاد بنا کراختلاف کیا گیا تھا۔
امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی میں ہی خلیفہ کی نامزدگی کیوں کر دی اور اگر کرنی ہی تھی تو اپنے بیٹے کو ہی کیوں خلیفہ نامزد کیا۔ اور وہ بھی عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن عباس جیسے صحابہ کرام کے رہتے ہوئے؟؟
تو پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ ایسا اس وقت کے حالات کے پیش نظر کیا گیا تھا اور ایسا کرنا ضروری بھی تھا۔ یہی اس وقت کی مصلحت کا تقاضا تھا۔ مسلمانوں کو باہمی جنگ وجدال سے بچانا تھا۔ اگر معاویہ رضی اللہ عنہ اپنی زندگی میں ہی کسی کو خلیفہ نامزد نہ کرتے بلکہ اس معاملے کو مسلمانوں کے باہمی مشورے پر چھوڑ دیتے تو اندیشہ تھا کہ لوگ فتنہ و فساد میں مبتلا ہوجاتے۔ کیونکہ اس وقت باغی تحریک کوفہ میں پوری قوت کے ساتھ موجود تھی۔ گرچہ یہ تحریک حضرت معاویہ اور زیاد رضی اللہ عنہمَا کی کاروائی سے وقتی طور پر دب گئی تھی لیکن راکھ میں چنگاریاں موجود تھیں اور آپ رضی اللہ عنہ کو یہ نظر آرہا تھا کہ آپ کی وفات کے بعد یہ چنگاریاں کبھی بھی آگ بن کر فتنے کو بھڑکا سکتی ہیں۔ اس چنگاری کو اپنی زندگی میں ہی بجھا دیں تاکہ امت میرے بعد فتنے کا شکار نہ ہوجاۓ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی میں ہی خلافت کی نامزدگی فرمادی۔
رہا یہ سوال کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بعد خلافت کی نامزدگی کے لئے اپنے بیٹے یزید کا ہی انتخاب کیوں کیا جبکہ جلیل القدر صحابہ موجود تھے؟
تو اگر آپ اس وقت کے حالات کا جائزہ لیں گے تو معلوم ہو جائے گا کہ سن 60ھ میں نبی ﷺ کو وفات پاۓ نصف صدی گذر چکے تھے ۔ اس نصف صدی میں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے علاوہ نبی ﷺ کے اکابر صحابہ جو آپ کے قریبی ساتھی تھے، وفات پا چکے تھے۔
حضور کی وفات کے وقت جو صحابہ نوجوان تھے، وہ بھی اب ستر کے پیٹے میں تھے۔ ہاں آپ کی وفات کے موقع پر جو صحابہ بچے تھے، وہ اب پچاس ساٹھ سال کی عمر میں تھے اور ان لوگوں میں ابن عمر، ابن عباس، حسین بن علی اور ابن زبیر رضی اللہ عنہم نمایاں تھے۔ اب ہم ان تمام بزرگوں کے حالات کو تفصیل سے دیکھتے ہیں۔
1۔ سب سے پہلے بزرگ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تھے جو فاروق اعظم کے بیٹے تھے اور ان کی پرورش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوئی تھی۔ آپ کو سیاسی سرگرمیوں سے دلچسپی نہیں تھی بلکہ اس کی بجائے آپ اپنا زیادہ وقت عبادت اور تعلیم کے میدان میں گزارتے تھے۔ کئی مرتبہ آپ کو خلیفہ بنانے کی تجویز پیش ہوئی تو آپ نے اسے مسترد کر دیا تھا۔
2۔ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی پبلک ایڈمنسٹریشن کے میدان کے آدمی نہ تھے بلکہ ان کی سرگرمیوں کا میدان علمی تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور میں آپ بصرہ کے گورنر رہ چکے تھے لیکن اب طویل عرصہ سے ایڈمنسٹریٹو معاملات سے دور تھے۔ آپ نے مکہ میں ایک بہترین تعلیمی اور ریسرچ انسٹی ٹیوٹ قائم کر رکھا تھا اور یہی پراجیکٹ آپ کی زندگی کا اب مشن بن چکا تھا۔ اس ادارے میں آپ نہایت ذہین و فطین طلباء کو مستقبل میں امت کی فکری قیادت کے لیے تیار کر رہے تھے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اسی ادارے نے وہ جلیل القدر عالم پیدا کیے جو اگلی نسل میں مسلمانوں کے چوٹی کے فکری و مذہبی راہنما بنے۔
3۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ایک نہایت جلیل القدر بزرگ اور عالم تھے۔ آپ ہجرت نبوی کے بعد پیدا ہونے والے پہلے بچے تھے اور خلفاء راشدین اور خود حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم کے زمانے میں اہم خدمات انجام دے چکے تھے۔ آپ کا معاملہ یہ تھا کہ آپ کا اثر و رسوخ صرف مکہ اور مدینہ تک محدود تھا اور آپ کو پورے عالم اسلام میں وہ اثر و رسوخ حاصل نہ تھا جو کہ خلیفہ کے لیے ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعد میں جب آپ نے اپنی خلافت کا اعلان کیا تو عراق اور شام کے لوگوں نے آپ کے خلاف بغاوت کر دی۔
4۔ چوتھے شخص حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما تھے جو کہ منصب خلافت کے لیے نہایت اہل تھے اور عالم اسلام میں آپ کی شخصیت کو مقبولیت حاصل تھی۔ افسوس کہ آپ کے معاملے میں عراق کے باغیوں نے ایک ایسا منصوبہ بنا رکھا تھا کہ جس کے باعث یہ شدید خطرہ لاحق تھا کہ یہ لوگ آپ کے ساتھ وہی معاملہ کریں گے جو اس سے پہلے آپ کے والد حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ کر چکے تھے۔
واقعہ یہ ہے کہ اس زمانے میں عراق ایک مشکل صوبہ تھا۔ یہاں ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی باغی تحریک کے خلاف کاروائی کی گئی تھی اور اس کے زخم ابھی تازہ تھے۔ باغی زخمی سانپ کی طرح بل کھا رہے تھے اور ان کے سینے حکومت کے خلاف بغض و عناد سے بھرے ہوئے تھے۔ ان باغیوں کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اولاد سے ہمدردی نہیں تھی مگر اپنے اقتدار کے لیے یہ ان حضرات کو بطور سیڑھی استعمال کرنا چاہتے تھے۔ ان کے سامنے اپنے پیشروؤں کا وہی ماڈل تھا کہ خلیفہ کو کٹھ پتلی بنا کر اس کے پردے میں اپنا اقتدار قائم کیا جائے۔ اس کے لیے ان باغیوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو نظر میں رکھا ہوا تھا اور اس سے پہلے آپ کو کئی مرتبہ ترغیب دلا چکے تھے کہ آپ بغاوت کے لیے اٹھیں تو یہ ان کا ساتھ دیں گے لیکن حضرت حسین نے انہیں خاموش کر دیا تھا۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی انٹیلی جنس کا نظام بہت مضبوط تھا اور وہ یقینی طور پر ان باغیوں کے عزائم سے باخبر تھے۔ اگر وہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو نامزد کر دیتے تو اس بات کا پورا خطرہ موجود تھا کہ یہ باغی اقتدار پر قابض ہو جائیں گے۔ اہل شام ان کی مخالفت کریں گے اور خانہ جنگی دوبارہ شروع ہو جائے گی۔
اس زمانے کے سیاسی حالات میں ایک اور بڑا مسئلہ یہ تھا کہ اہل شام اور بنو امیہ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے سوا اور کسی خاندان کی حکومت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ کسی بھی اور خاندان سے اگر خلیفہ بنتا تو اس بات کا غالب امکان موجود تھا کہ شام میں بغاوت ہو جائے گی۔ شام چونکہ قیصر روم کی سرحد پر واقع تھا، اس وجہ سے وہاں کسی بھی خانہ جنگی کا رسک نہیں لیا جا سکتا تھا کیونکہ قیصر ایسے ہی موقع کی تلاش میں تھا اور اس سے پہلے بھی بار بار حملے کر چکا تھا۔ اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ سن64 میں یزید کی وفات کے فوراً بعد اہل شام میں اختلاف پیدا ہو گیا اور وہ ایک سال تک کسی خلیفہ پر متفق نہ ہو سکے تھے۔ علم عمرانیات کے بانی علامہ ابن خلدون جیسے مورخ نے بھی یہی بات کہی ہے۔ لکھتے ہیں:
حضرت معاویہ نے یزید کو ولی عہد بنایا کیونکہ اگر یزید ولی عہد نہ ہوتا تو مسلمانوں میں پھوٹ پیدا ہونے کا ڈر تھا۔ کیونکہ بنو امیہ اپنے سوا کسی دوسرے کی خلافت کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔ اگر کسی غیر کو ولی عہد بنا دیا جاتا تو وہ اسے مانتے نہیں اور اس طرح اتحاد میں خلل آتا۔
اس مسئلے کا ایک اور پہلو بھی تھا اور وہ یہ کہ حضرات حسین، ابن عباس اور ابن زبیر رضی اللہ عنہم پبلک ایڈمنسٹریشن سے کافی عرصہ سے دور تھے اور انہوں نے اپنی پوری توجہ امت کی تعلیم و تربیت اور تزکیہ نفس کی طرف وقف کر دی تھی۔ اس وجہ سے انہیں امور حکومت کا تجربہ نہ تھا۔ اس کے برعکس یزید امور حکومت کو انجام دینے میں مسلسل حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا تھا اور اس نے تجربہ حاصل کر رکھا تھا۔
یہی وہ اسباب اور فیکٹرز تھے جس کی وجہ سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو اپنی زندگی میں ہی خلافت کی نامزدگی کرنی پڑی اور وہ بھی اپنے بیٹے یزید کی شکل میں۔
یزید کو خلیفہ بناۓ جانے پر ہمیں صحابی رسول حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی نیت پر شک کرنے کا کوئی حق نہیں بنتا۔
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!
Share it as sadaqae jariya
ReplyDelete