Thursday, June 2, 2022

اسلام میں استقامت اور ثابت قدمی کی اہمیت ‏

بسم الله الرحمن الرحيم

اسلام میں استقامت اور ثابت قدمی کی اہمیت 
مولانا اقبال قاسمی سلفی 

استقامت کے لغوی معنی ہیں سیدھے ہوجانا اور کھڑے ہوجانا۔ 
اصطلاحی مفہوم ہے کسی چیز پر مستقل ہوجانا، مستقل مزاجی، ثابت قدمی، استقلال، consistency. 
اور شریعت میں استقامت کا مطلب ہے 
اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی پیروی میں ثابت قدمی اختیار کرنا۔ 
استقامت دین ہر مسلمان کا فریضہ ہے اور اللہ رب العزت نے کئی آیات میں استقامت اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ 

1)فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَن تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا ۚ إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ 
تو تم ثابت قدم رہو جیسا تمہیں حکم دیا گیا ہے اور وہ لوگ بھی جو تمہارے ساتھ رجوع کرنے والا ہے اور اے لوگو! تم سرکشی نہ کرو بیشک وہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔
(سورہھود:112)

2)عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، قُلْ لِي فِي الْإِسْلَامِ قَوْلًا لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا بَعْدَكَ - وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ غَيْرَكَ - قَالَ:    قُلْ: آمَنْتُ بِاللهِ، فَاسْتَقِمْ.

حضرت سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! مجھے اسلام کے بارے میں ایسی پکی بات بتائیے کہ آپ کے بعد مجھے کسی سے اس کے بارے میں سوال کرنے کی ضرورت نہ رہے ( ابواسامہ کی روایت میں ’’ آپ کے بعد ‘‘ کے بجائے ’’ آپ کے سوا ‘‘ کے الفاظ ہیں ) آپ نے ارشاد فرمایا :’’ کہو : آمنت باللہ ( میں اللہ پر ایمان لایا ) ، پھر اس پر پکے ہو جاؤ ۔‘‘
(Sahi muslim:38) 

3)  حضرت لقمان اپنے بیٹے کو صبر و استقامت کی نصیحت ان الفاظ میں کرتے ہیں:

یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَ اْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ انْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ اصْبِرْ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَؕ-اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِۚ(۱۷)

اے میرے بیٹے!نماز قائم رکھ اور اچھی بات کا حکم دے اور بری بات سے منع کر اور تجھے جو مصیبت آئے اس پر صبر کر، بیشک یہ ہمت والے کاموں میں سے ہے۔ 
(سورۃ لقمان) 

3) اللہ تعالی نے ایمان والوں کو صبر و استقامت اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ یٰۤاَیُّهَا  الَّذِیْنَ  اٰمَنُوا  اصْبِرُوْا  وَ  صَابِرُوْا  وَ  رَابِطُوْا-  وَ  اتَّقُوا  اللّٰهَ  لَعَلَّكُمْ  تُفْلِحُوْنَ۠( سورہ ال عمران:200)

اے ایمان والو!صبر کرو اور ثابت قدم رہواوراسلامی سرحد کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو ا س امید پر کہ تم کامیاب ہوجاؤ ۔

4) ماہ رمضان مسلسل صبر و استقامت کی ٹریننگ دینے کے لئے ہر سال ہمارے درمیان جلوہ افروز ہوتا ہے۔ 

5)پورا نظام کائنات صبر و استقامت کا درس دیتا ہے۔ ایک سورج ہی کو دیکھ لیں کس طرح مسلسل استقامت کے ساتھ اپنا کام کئے جا رہا ہے۔ ایک پل کے لئے بھی اس نے استقامت کا دامن نہیں چھوڑا۔اگر ایک لمحے کے لئے بھی وہ اس فرمانبرداری سے منھ موڑ لے تو کائنات کا نظام درہم برہم ہوجاۓ۔

6) منزل تک پہنچنے کے لئے استقامت ضروری ہے۔ کامیابی کے حصول کے لئے تیز ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ مستقل مزاج ہونا ضروری ہے۔ آپ خرگوش کی طرح تیز رفتار ہوں یا نہ ہوں لیکن کچھوے کی طرح مستقل اور مسلسل ضرور ہوں۔

7) انگلش کا مشہور محاورہ ہے۔ Rom was not built in a day. روم ایک دن میں روم نہیں بن گیا تھا۔ یعنی کوئی شہر کوئی ملک ایک دن میں ترقی یافتہ نہیں ہوجاتا بلکہ اسے اس مقام تک پہنچنے کے لئے کئی سال لگ جاتے ہیں اور کئی سالوں کے مسلسل جدو جہد کے بعد اسے یہ کامیابی ملتی ہے۔ 

8) دنیا کی جتنی عظیم شخصیتیں ہیں ان کی عظیم شخصیت کا راز ان کی ثابت قدمی اور مستقل مزاجی ہے۔
وہ چاہے محدثین ہوں، فقہاء ہوں ۔ یا پھر نیوٹن، آئنسٹائن، تھامس واٹسن اور اے پی جے عبد الکلام ہی کیوں نہ ہوں۔ 
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نُوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ‌وَر پیدا

9) قرآن پاک کا تئیس سالوں میں تدریجی طور سے نازل ہونا بھی استقامت اور مستقل مزاجی کا درس دیتا ہے۔ 
اللہ رب العزت نے کافروں کے مطالبے کا جواب اس انداز میں دیا ہے:
وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةًۚۛ-كَذٰلِكَۚۛ-لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَ رَتَّلْنٰهُ تَرْتِیْلًا(۳۲)

اور کافروں نے کہا: ان پرسارا قرآن ایک ہی مرتبہ کیوں نہیں اتار دیاگیا؟ (ہم نے) یونہی (اس قرآن کو تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا) تاکہ اس کے ساتھ ہم تمہارے دل کو مضبوط کریں اور ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کرپڑھوایا۔
(Surah furqan:32)

10) اللہ رب العزت کو بھی وہ اعمال زیادہ محبوب ہیں جن پر ہمیشگی اختیار کیا جائے۔ 
 عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ :    سَدِّدُوا ، وَقَارِبُوا وَاعْلَمُوا أَنْ لَنْ يُدْخِلَ أَحَدَكُمْ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ ، وَأَنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ۔ 

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”درمیانی چال اختیار کرو اور بلند پروازی نہ کرو اور عمل کرتے رہو، تم میں سے کسی کا عمل اسے جنت میں نہیں داخل کر سکے گا، میرے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جس پر ہمیشگی کی جائے خواہ کم ہی کیوں نہ ہو۔“ 
(Sahi bukhari:6464) 

یقین محکم، عمل پیہم، محبت فاتح عالم 
جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

11) نبی کریم ﷺ صبر و استقامت کی اکثر دعا مانگا کرتے تھے:
عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ:‏‏‏‏    يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ، ‏‏‏‏‏‏ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ   ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏آمَنَّا بِكَ وَبِمَا جِئْتَ بِهِ فَهَلْ تَخَافُ عَلَيْنَا ؟ قَالَ:‏‏‏‏    نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ الْقُلُوبَ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللَّهِ يُقَلِّبُهَا كَيْفَ يَشَاءُ

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا پڑھتے تھے يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك ”اے دلوں کے الٹنے پلٹنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ آپ پر اور آپ کی لائی ہوئی شریعت پر ایمان لے آئے کیا آپ کو ہمارے سلسلے میں اندیشہ رہتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، لوگوں کے دل اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہیں جیسا چاہتا ہے انہیں الٹتا پلٹتا رہتا ہے“۔  
suman) Tirmidhi:2140) 

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَیْتَنَا وَ هَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةًۚ-اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ(۸)
ترجمہ: کنزالعرفان
اے ہمارے رب تو نے ہمیں ہدایت عطا فرمائی ہے ،اس کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، بیشک تو بڑاعطا فرمانے والاہے۔
(سورہ آل عمران:8) 
اللہ ہم سب کو ایمان اور عمل صالح پر ثابت قدمی عطا فرمائے!! 
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه آمين!!!

No comments:

Post a Comment

Recent posts

وقف ترمیمی بل

عامۃ المسلمین میں ایسے کئی لوگ ہوسکتے ہیں جو نئے وقف قانون کی باریکیوں سے واقف نہ ہوں اسی لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس پر تفصیلی گفتگو ہو۔ م...