Tuesday, March 28, 2023

تراویح میں حفاظ کرام کا بحالت رکوع وسجود قرآن کریم کی تلاوت کرنا! ‏

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

            محمد اقبال قاسمي سلفي

تراویح میں حفاظ کرام کا بحالت رکوع وسجود قرآن کریم کی تلاوت کرنا! 

تراویح پڑھاتے ہوئے حفاظ کرام جب نسیان یا متشابہات کے شکار ہو تے ہیں تو اکثر رکوع کر لیا کرتے ہیں اور اس متشابہات یا نسیان سے نکلنے کی کوشش اور جدو جہد دوسری رکعت سے پہلے رکوع یا سجدے میں ہی شروع کر دیتے ہیں ۔ 

لیکن حفاظ کرام کی یہ کوشش اور جدوجہد یعنی رکوع اور سجدے میں قرآن پڑھنااور قرآن کی آیتیں دہرانا ایسا عمل ہے جس کی سخت ممانعت وارد ہوئی ہے، 

جیساکہ صحیح مسلم میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے:
، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَشَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ، يَرَاهَا الْمُسْلِمُ، أَوْ تُرَى لَهُ، أَلَا وَإِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ الْقُرْآنَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا، فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ، فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے ( دروازے کا ) پردہ اٹھایا ( اس وقت ) لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف بستہ تھے ۔ آپ نے فرمایا :’’ لوگو ! نبوت کی بشارتوں میں سے اب صرف سچے خواب باقی رہ گئے ہیں جو مسلمان خود دیکھے گا یا اس کے لیے ( کسی دوسرے کو ) دکھایا جائے گا ۔ خبردار رہو ! بلاشبہ مجھے رکوع اور سجدے کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے ، جہاں تک رکوع کا تعلق ہے اس میں اپنے رب عزوجل کی عظمت و کبریائی بیان کرو اور جہاں تک سجدے کا تعلق ہے اس میں خوب دعا کرو ، ( یہ دعا اس ) لائق ہے کہ تمہارے حق میں قبول کر لی جائے ۔(صحیح مسلم:1074) 

علامہ یوسف بنوری حنفی اپنے فتوے میں لکھتے ہیں:
 اگر حافظ  صاحب تراویح کے دوران رکوع اور سجدے میں تسبیحات کی جگہ دل دل میں اگلی آیات پڑھتے رہتے ہیں یا زبان سے بھی آہستہ آہستہ دہرالیتے ہیں تو یہ درست نہیں ہے کیوں کہ رکوع اور سجدہ کی حالت میں قرآن کریم پڑھنا منع ہے، باقی رکوع اور سجدے کی تسبیحات سنت ہیں ان کے ترک کرنے سے نماز کراہت کے ساتھ ادا ہوجائے گی، اور اگر حافظ صاحب رکوع اور سجدہ میں زبان سے اگلی آیت نہیں دہراتے، تسبیحات بھی پڑھتے رہتے ہیں، مگر دل ودماغ کو اگلی آیت سوچنے کی طرف متوجہ رکھتے ہیں، اس صورت میں نماز ہوجائے گی، لیکن ایسا کرنا بھی بہتر نہیں ہے
فتوی نمبر : 144109201505
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

 مولانا احمد رضا خان حنفی بریلوی لکھتے ہیں:”قیام کے سوا  رکوع و سجود و قعود کسی جگہ بسم اﷲ پڑھنابھی  جائز نہیں کہ وہ آیۂ قرآنی ہے اور نماز میں قیام کے سوااورجگہ کوئی آیت پڑھنی ممنوع ہے۔“
(فتاوی رضویہ،جلد 6،صفحہ35) 

واضح ہوکہ دعاء پر مشتمل جو قرانی آیتیں ہیں انہیں بطور دعا سجدے میں پڑھی جا سکتی ہیں  اور پڑھنی چاہیے کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:" جہاں تک سجدے کا تعلق ہے اس میں خوب دعا کرو ، ( یہ دعا اس ) لائق ہے کہ تمہارے حق میں قبول کر لی جائے "۔(صحیح مسلم:1074) 
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!!

Monday, March 27, 2023

نماز تراویح میں حفاظ کا آنکھیں بند کرکے قرآن پڑھنا!! ‏

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام ورحمة الله وبركاته

مولانا اقبال قاسمی سلفی 

مصادر : مختلف مراجع و مصادر ! 

نماز تراویح میں حفاظ کا آنکھیں بند کرکے قرآن پڑھنا!

تراویح پڑھاتے ہوئے بہت سارے  حفاظ کی یہ عادت ہوتی ہے کہ جب وہ حالت قیام میں قرآن کی تلاوت کر رہے ہوتے ہیں تو آنکھیں بند کر لیا کرتے ہیں۔ 

لیکن تراویح یا کسی بھی نماز میں بغیر ضرورت آنکھیں بند رکھنا مسنون طریقے کے خلاف ہے۔

دلائل سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ حالت نماز میں آنکھیں کھلی رکھتے تھے۔ 
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دھاری دار چادر میں نماز پڑھی۔ پھر فرمایا کہ اس کے نقش و نگار نے مجھے غافل کر دیا۔ اسے لے جا کر ابوجہم کو واپس کر دو اور ان سے  ( بجائے اس کے )  سادی چادر مانگ لاؤ۔ 
(صحیح بخاری:752)
اس حدیث سے پتہ چلا کہ نبی صلی نماز میں آنکھیں کھلی رکھا کرتے تھے، تبھی تو آپ کی نظر چادر پر پڑی جس کے نقش ونگار نے آپ کو غافل کر دیا۔ 

 اسی طرح صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ:
 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں سورج گہن ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گہن کی نماز پڑھی۔ لوگوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! ہم نے دیکھا کہ  ( نماز میں )  آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ سے کچھ لینے کو آگے بڑھے تھے پھر ہم نے دیکھا کہ کچھ پیچھے ہٹے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے جنت دیکھی تو اس میں سے ایک خوشہ لینا چاہا اور اگر میں لے لیتا تو اس وقت تک تم اسے کھاتے رہتے جب تک دنیا موجود ہے۔ 
 (صحیح بخاری:748) 

اس حدیث  سے بھی پتہ چلتا ہے کہ صحابہ کرام حالت نماز میں نبی کریم ﷺ کو دیکھا کرتے تھے اور یہ تبھی ممکن ہے جب ان کی آنکھیں نماز میں کھلی ہوئی ہوتی تھیں۔
 
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: 
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں بیٹھ جاتے تو اپنی انگلی سے قبلہ رخ اشارہ کرتے اور اپنی نگاہ اسی پر رکھتے۔“ 
(أبوعوانة، كتاب الصلاة: باب بيان الإشارة 2017، ابن خزيمة، كتاب الصلاة: باب الإشارة بالسبابة 719) 

ابو عوانہ کی ہی دوسری حدیث میں ہے: 
”یقیناًً نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد میں بیٹھ جاتے تو اپنا بایاں ہاتھ بائیں ران پر اور دایاں ہاتھ دائیں ران پر رکھتے اور شہادت والی انگلی سے اشارہ کرتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ آپ کے اشارے سے تجاوز نہیں کرتی تھی۔“ 
(أبوعوانة، كتاب الصلاة: باب الإشارة بالسبابة: 2018) 
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ تشہد کی صورت میں شہادت کی انگلی اٹھا کر قبلہ رخ اشارہ کرنا اور نظر اس پر رکھنامسنون ہے۔
اس سلسلے میں اور بھی بہت سے دلائل ہیں۔ 

لیکن  ان سب حدیثوں کے برعکس ایک بھی ایسی روایت موجود نہیں ہے جس میں  نبی کریم ﷺ کا حالت نماز میں آنکھیں بند رکھنا مذکور ہو۔ 

بلکہ اس پر ایک روایت میں ممانعت ہے جیسا کہ معجم طبرانی میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلاةِ فَلا يَغْمِضْ عَيْنَيْهِ۔ 

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم میں سے کوئی نماز کے لئے کھڑا ہوتو وہ اپنی آنکھیں بند نہ کرے۔ 
(معجم الكبير للطبرانی والاوسط) 
معجم الكبير للطبرانی والاوسط کے علاوہ اس روایت کو علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں، علامہ سیوطی نے الجامع الصغیر میں اور علامہ البانی نے ضعیف الجامع میں روایت کیا ہے۔ 
یہ روایت ضعیف ہے، علامہ ذہبی نے اس روایت کو منکر اور علامہ البانی نے ضعیف قرار دیا ہے۔ 
یہ روایت گرچہ ضعیف ہے لیکن اصل یعنی آنکھوں کو بند رکھنا سنت سے ثابت نہیں ہے، اور تمام تر خیر و بھلائی نبوی طریقے پر عمل کرنے میں ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي

ترجمہ:اسی طرح نماز پڑھنا جیسے تم نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ (صحیح بخاری:631) 

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تو آنکھیں بند کرکے نماز پڑھنے کو یہودیوں کا فعل قرار دیا کرتے تھے۔ 
کاسانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: "یہ مکروہ ہے؛ کیونکہ یہ سنت سے متصادم ہے؛ کیونکہ نماز کی حالت میں سجدے کی جگہ پر دیکھنا شرعی عمل ہے، نیز یہ بھی کہ ہر عضو کا عبادت میں حصہ ہے چنانچہ اسی طرح آنکھوں کا بھی عبادت میں حصہ ہے"
( بدائع الصنائع 1/503 )

حالت نماز میں آنکھیں کھلی رکھنا اس لئے بھی ضروری ہے تاکہ مصلی کے آگے کوئی گذرنے نہ پاۓ۔
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے:
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :    إِذَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْ أَحَدِكُمْ شَيْءٌ وَهُوَ يُصَلِّي فَلْيَمْنَعْهُ فَإِنْ أَبَى فَلْيَمْنَعْهُ ، فَإِنْ أَبَى فَليُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ.
 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر تم میں سے نماز پڑھنے میں کسی شخص کے سامنے سے کوئی گزرے تو اسے گزرنے سے روکے، اگر وہ نہ رکے تو پھر روکے اور اگر اب بھی نہ رکے تو اس سے لڑے وہ شیطان ہے۔
(صحيح البخاري:3274) 

نمازی کو حالت نماز میں ہی زہریلے جانوروں کا مارنے کا حکم دیا گیا ہے۔ 
عنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ اقْتُلُوا الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ:‏‏‏‏ الْحَيَّةَ وَالْعَقْرَبَ۔
 ابو ہریرەؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نماز پڑھتے ہوئے بھی دو کالے جانوروں کو قتل کر دو یعنی سانپ اور بچھو۔ (سنن ابوداؤد:921) 
اور ان زہریلے جانوروں کو قتل کرنا تبھی ہوگا جب انسان حالت نماز میں اپنی آنکھیں کھلی رکھے گا۔ 

نبی کریم ﷺ اپنی سواری پر بھی نفلی نمازیں پڑھ لیا کرتے تھے:
ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر خواہ اس کا رخ کسی طرف ہو  ( نفل )  نماز پڑھتے تھے لیکن جب فرض نماز پڑھنا چاہتے تو سواری سے اتر جاتے اور قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے۔ (صحيح البخاري:400)
اور یہ ظاہر ہے کہ سواری پر نماز پڑھنے کی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں بہر صورت کھلی رہتی ہونگی۔ 

علامہ یوسف بنوری حنفی  اس مسئلے کا جواب دیتے ہوۓ لکھتے ہیں: 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تاہم آنکھیں کھلی رکھ کر نماز پڑھنا زیادہ بہتر ہے؛ کیوں کہ (حالتِ قیام میں) سجدہ کی جگہ کو دیکھنا مسنون ہے اور آنکھیں بند کرنے سے یہ سنت ترک ہوجاتی ہے۔
فتوی نمبر : 144004200151
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

دارالعلوم دیوبند نے اس سوال کا جوا ب دیتے ہوئے لکھا ہے:
آنکھیں بند کرکے نماز پڑھنا خلاف سنت اور مکروہ تنزیہی ہے اور نماز میں خشوع کے لیے قیام کی حالت میں نگاہ سجدہ کی جگہ، رکوع میں پنجوں پر، سجدے میں ناک کے بانسے پر، قعدہ میں گود میں اور سلام کے وقت دائیں، بائیں مونڈھے پر رکھنی چاہیے جواب نمبر: 171607دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

البتہ مصلی کے سامنے کوئی ایسا عمل انجام دیا جا رہا ہو جو نماز کے خشوع خضوع کے منافی ہو مثلاً حالت نماز میں کسی غیر محرم کا سامنا ہو یا منافی صلاۃ کوئی عمل  ہورہا ہو، ایسی صورت میں الضرورات تبيح المحظورات کے پیش نظر آنکھیں بند کی جا سکتی ہیں تاکہ نماز کا خشوع خضوع برقرار رہے کیونکہ یہی نماز کی روح ہے۔ 
﴿قَدۡ أَفۡلَحَ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ  ٱلَّذِینَ هُمۡ فِی صَلَاتِهِمۡ خَـٰشِعُونَ 
تحقیق کہ وہ لوگ کامیاب ہوگئے جو اپنی نمازوں میں خشوع خضوع اختیار کرنے والے ہیں۔ 
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!!

Sunday, March 26, 2023

‎ہم رمضان کا استقبال کیسے کریں! ‏

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
       ہم رمضان کا استقبال کیسے کریں! 

محمد اقبال قاسمی سلفی


1)رمضان جیسے بابرکت مہینے کو پانا ایک مسلمان کے لیے یقیناً باعث غنیمت ہے، کتنے لوگ جو گذشتہ  رمضان میں ہمارے ساتھ تھے، تراویح،تہجد میں ہمارے ساتھ شریک ہوکر مسجدوں کو آباد کرنے والے تھے اس سال نہیں ہیں،وہ اس دار فانی سے رخصت ہو گئے، ہم ان کے لئے دعا گو ہیں:
رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠(۱۰)
ترجمہ: 
 اے ہمارے رب! ہمیں اورہمارے ان بھائیوں کوبخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے اور ہمارے دل میں ایمان والوں کیلئے کوئی کینہ نہ رکھ، اے ہمارے رب! بیشک تو نہایت مہربان، بہت رحمت والا ہے
(سورہ حشر:10) 
 
لیکن اللہ وحدہ لاشریک نے ہمیں اب تک زندگی کی مہلت دے رکھی ہے تاکہ ہم اپنی نیکیوں میں اضافہ کریں۔ 
حضرت عبداللہ بن ربیعہ سلمی رضی اللہ عنہ جو کہ صحابیٔ رسول  ﷺ  ہیں ، نے حضرت عبید بن خالد سلمی رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ  ﷺ  نے دو آدمیوں کو آپس میں بھائی بنا دیا ۔ ان میں سے ایک شہید ہو گیا اور دوسرا اس کے کچھ بعد فوت ہوا ۔ ہم نے اس کا جنازہ پڑھا ۔ نبی  ﷺ  نے فرمایا :’’ تم نے ( جنازے میں ) اس کے لیے کیا دعا کی ؟ ‘‘ صحابہ نے عرض کیا : ہم نے اس کے لیے یہ دعا کی : [اللھم ! اغفرلہ ……… الحقہ بصاحبہ] ’’ اے اللہ ! اسے معاف فرما ۔ اس پر رحم فرما اور اسے اس کے ساتھی ( بھائی ) کے ساتھ ملا دے ۔‘‘ نبی  ﷺ  نے فرمایا :’’ تو اس کے بعد اس کی نمازیں اور دوسرے نیک اعمال کدھر گئے ؟  اللہ کی قسم ! ان کے درمیان تو زمین و آسمان کے مابین جیسا فاصلہ ہے ۔
(سنن نسائی:1987) 

2) رمضان المبارک  نیکیوں کے بہار کا موسم ہے اس لئے رمضان سے پہلے  ہم اپنےاندر  نیکیوں کی تڑپ اور طلب میں مزید اضافہ کرلیں۔ 
 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب ماہ رمضان کی پہلی رات آتی ہے، تو شیطان اور سرکش جن جکڑ دیئے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں، ان میں سے کوئی بھی دروازہ کھولا نہیں جاتا۔ اور جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، ان میں سے کوئی بھی دروازہ بند نہیں کیا جاتا، پکارنے والا پکارتا ہے: خیر کے طلب گار! آگے بڑھ، اور شر کے طلب گار! رک جا  اور آگ سے اللہ کے بہت سے آزاد کئے ہوئے بندے ہیں  ( تو ہو سکتا ہے کہ تو بھی انہیں میں سے ہو )  اور ایسا  ( رمضان کی )  ہر رات کو ہوتا ہے“۔ 
(سنن ترمذی:682) 

نبی کریم ﷺ فرما رہے ہیں اے باغی الشر اقصر۔ 
اے شر کے متلاشی رک جا۔ 
یعنی اب تو رک جا، اب تو گناہوں سے باز آجا، گناہ کرتے ہوئےپورے سال گذر گۓ،رمضان آگیا،اب تو باز آجا، اب تو پلٹ، اپنے رب کریم کو یاد کر، آنسو بہا، وہ بڑا کریم اور غفور الرحیم ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

3) رمضان سے ایک دو دن پہلے یا یوم الشک میں روزہ نہ رکھیں۔ 
 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ:لَا يَتَقَدَّمَنَّ أَحَدُكُمْ رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صَوْمَهُ فَلْيَصُمْ ذَلِكَ الْيَوْمَ۔ 
  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص رمضان سے پہلے  ( شعبان کی آخری تاریخوں میں )  ایک یا دو دن کے روزے نہ رکھے البتہ اگر کسی کو ان میں روزے رکھنے کی عادت ہو تو وہ اس دن بھی روزہ رکھ لے۔ 
(صحیح بخاری:1914) 

4) رمضان سے پہلے اپنی نیتوں کو خالص کر لیں۔ 

عَنْ شَدَّادِبْنِ أَوْسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: «من صَلَّى يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ وَمَنْ صَامَ يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ وَمَنْ تَصَدَّقَ يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ»
حضرت شداد بن اوس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص دکھلاوے کی خاطر نماز پڑھتا ہے تو اس نے شرک کیا ، جو شخص دکھلاوے کی خاطر روزہ رکھتا ہے تو اس نے شرک کیا ، اور جو شخص دکھلاوے کی خاطر صدقہ کرتا ہے تو اس نے شرک کیا ۔‘‘ دونوں احادیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے ۔(مشکوۃ:5331) 

5) استقبال رمضان میں رمضان کی آمد سے پہلے اپنے  دلوں کو اپنے مسلم بھائیوں کے لئے صاف کر لیں کہیں ایسا نہ ہوکہ رمضان کے روزے، تراویح، تہجد تلاوتیں، سب کے سب یہیں رہ جائیں اور ہماری ساری عبادتیں ضائع چلی جائیں۔ 

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:    تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ، وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا، إِلَّا رَجُلًا كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ، فَيُقَالُ: أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا، أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا، أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ہر اس بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناتا ، اس بندے کے سوا جس کی اپنے بھائی کے ساتھ عداوت ہو ، چنانچہ کہا جاتا ہے : ان دونوں کو مہلت دو حتی کہ یہ صلح کر لیں ، ان دونوں کو مہلت دو حتی کہ یہ صلح کر لیں ۔ ان دونوں کو مہلت دو حتی کہ یہ صلح کر لیں ۔‘‘ ( اور صلح کے بعد ان کی بھی بخشش کر دی جائے ۔(صحیح مسلم:2565) 

6) رمضان آنے سے پہلے روزے کے مقصد کو جانیں
اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے۔ 
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ(۱۸۳)
ترجمہ:
اے ایمان والو تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے تاکہ تمہارے اندر تقوی کی صفت پیدا ہو۔ 
اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ روزہ کا مقصد محض بھوک پیاس برداشت کرنا ہرگز نہیں ہے، بلکہ روزہ کا مقصد تو یہ ہےکہ ہم پرہیزگار بنیں، ہر حال میں اللہ سے ڈرنے والا اور اس کے حکموں پر چلنے والا بنیں۔ 

لَنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰكِنْ یَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْؕ-كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْؕ-وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ(۳۷)
ترجمہ: 
اللہ کے ہاں ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں اورنہ ان کے خون، البتہ تمہاری طرف سے پرہیزگاری اس کی بارگاہ تک پہنچتی ہے ۔ 
(سورہ حج:37) 

قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ
تم فرماؤ، بیشک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے جو سارے جہانوں کا رب ہے۔
(سورہ الانعام:162)

 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :    مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ ، فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ    . 

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر کوئی شخص جھوٹ بولنا اور دغا بازی کرنا  ( روزے رکھ کر بھی )  نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔ (صحیح بخاری:1903)
 
یعنی اللہ ایسے روزوں سے بے نیاز ہے، اس کی تو شان ہی بے نیازی کی ہے۔ 
الله الصمد اس کی شان بے نیاز ہے۔ 
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَى اللّٰهِۚ-وَ اللّٰهُ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ(۱۵)
ترجمہ: 
اے لوگو! تم سب اللہ کے محتاج اور اللہ ہی بے نیاز ہے سب خوبیوں سراہا.(سوره فاطر:15) 

7) کتاب اللہ کو اس ماہ کے ساتھ خواص مناسبت ہے۔ 
 
8) استقبال رمضان میں شعبان  کے اخیر عشرہ سے ہی تکبیر اولی کے ساتھ نماز پڑھنے کی عادت ڈالیں اور نبوی فضیلت کے مستحق بنیں۔  عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏    مَنْ صَلَّى لِلَّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا فِي جَمَاعَةٍ يُدْرِكُ التَّكْبِيرَةَ الْأُولَى، ‏‏‏‏‏‏كُتِبَتْ لَهُ بَرَاءَتَانِ، ‏‏‏‏‏‏بَرَاءَةٌ مِنَ النَّارِ، ‏‏‏‏‏‏وَبَرَاءَةٌ مِنَ النِّفَاقِ 
 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی رضا کے لیے چالیس دن تک تکبیر اولیٰ کے ساتھ باجماعت نماز پڑھی تو اس کے لیے دو قسم کی برات لکھی جائے گی: ایک آگ سے برات، دوسری نفاق سے برات“۔
(سنن ترمذی:241)

اللهم اردنا الحق حقا  وارزقنا اتباعه

Recent posts

وقف ترمیمی بل

عامۃ المسلمین میں ایسے کئی لوگ ہوسکتے ہیں جو نئے وقف قانون کی باریکیوں سے واقف نہ ہوں اسی لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس پر تفصیلی گفتگو ہو۔ م...