بسم الله الرحمن الرحيم
السلام ورحمة الله وبركاته
مولانا اقبال قاسمی سلفی
مصادر : مختلف مراجع و مصادر !
نماز تراویح میں حفاظ کا آنکھیں بند کرکے قرآن پڑھنا!
تراویح پڑھاتے ہوئے بہت سارے حفاظ کی یہ عادت ہوتی ہے کہ جب وہ حالت قیام میں قرآن کی تلاوت کر رہے ہوتے ہیں تو آنکھیں بند کر لیا کرتے ہیں۔
لیکن تراویح یا کسی بھی نماز میں بغیر ضرورت آنکھیں بند رکھنا مسنون طریقے کے خلاف ہے۔
دلائل سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ حالت نماز میں آنکھیں کھلی رکھتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دھاری دار چادر میں نماز پڑھی۔ پھر فرمایا کہ اس کے نقش و نگار نے مجھے غافل کر دیا۔ اسے لے جا کر ابوجہم کو واپس کر دو اور ان سے ( بجائے اس کے ) سادی چادر مانگ لاؤ۔
(صحیح بخاری:752)
اس حدیث سے پتہ چلا کہ نبی صلی نماز میں آنکھیں کھلی رکھا کرتے تھے، تبھی تو آپ کی نظر چادر پر پڑی جس کے نقش ونگار نے آپ کو غافل کر دیا۔
اسی طرح صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں سورج گہن ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گہن کی نماز پڑھی۔ لوگوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! ہم نے دیکھا کہ ( نماز میں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ سے کچھ لینے کو آگے بڑھے تھے پھر ہم نے دیکھا کہ کچھ پیچھے ہٹے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے جنت دیکھی تو اس میں سے ایک خوشہ لینا چاہا اور اگر میں لے لیتا تو اس وقت تک تم اسے کھاتے رہتے جب تک دنیا موجود ہے۔
(صحیح بخاری:748)
اس حدیث سے بھی پتہ چلتا ہے کہ صحابہ کرام حالت نماز میں نبی کریم ﷺ کو دیکھا کرتے تھے اور یہ تبھی ممکن ہے جب ان کی آنکھیں نماز میں کھلی ہوئی ہوتی تھیں۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں بیٹھ جاتے تو اپنی انگلی سے قبلہ رخ اشارہ کرتے اور اپنی نگاہ اسی پر رکھتے۔“
(أبوعوانة، كتاب الصلاة: باب بيان الإشارة 2017، ابن خزيمة، كتاب الصلاة: باب الإشارة بالسبابة 719)
ابو عوانہ کی ہی دوسری حدیث میں ہے:
”یقیناًً نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد میں بیٹھ جاتے تو اپنا بایاں ہاتھ بائیں ران پر اور دایاں ہاتھ دائیں ران پر رکھتے اور شہادت والی انگلی سے اشارہ کرتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ آپ کے اشارے سے تجاوز نہیں کرتی تھی۔“
(أبوعوانة، كتاب الصلاة: باب الإشارة بالسبابة: 2018)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ تشہد کی صورت میں شہادت کی انگلی اٹھا کر قبلہ رخ اشارہ کرنا اور نظر اس پر رکھنامسنون ہے۔
اس سلسلے میں اور بھی بہت سے دلائل ہیں۔
لیکن ان سب حدیثوں کے برعکس ایک بھی ایسی روایت موجود نہیں ہے جس میں نبی کریم ﷺ کا حالت نماز میں آنکھیں بند رکھنا مذکور ہو۔
بلکہ اس پر ایک روایت میں ممانعت ہے جیسا کہ معجم طبرانی میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلاةِ فَلا يَغْمِضْ عَيْنَيْهِ۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم میں سے کوئی نماز کے لئے کھڑا ہوتو وہ اپنی آنکھیں بند نہ کرے۔
(معجم الكبير للطبرانی والاوسط)
معجم الكبير للطبرانی والاوسط کے علاوہ اس روایت کو علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں، علامہ سیوطی نے الجامع الصغیر میں اور علامہ البانی نے ضعیف الجامع میں روایت کیا ہے۔
یہ روایت ضعیف ہے، علامہ ذہبی نے اس روایت کو منکر اور علامہ البانی نے ضعیف قرار دیا ہے۔
یہ روایت گرچہ ضعیف ہے لیکن اصل یعنی آنکھوں کو بند رکھنا سنت سے ثابت نہیں ہے، اور تمام تر خیر و بھلائی نبوی طریقے پر عمل کرنے میں ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي
ترجمہ:اسی طرح نماز پڑھنا جیسے تم نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ (صحیح بخاری:631)
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تو آنکھیں بند کرکے نماز پڑھنے کو یہودیوں کا فعل قرار دیا کرتے تھے۔
کاسانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: "یہ مکروہ ہے؛ کیونکہ یہ سنت سے متصادم ہے؛ کیونکہ نماز کی حالت میں سجدے کی جگہ پر دیکھنا شرعی عمل ہے، نیز یہ بھی کہ ہر عضو کا عبادت میں حصہ ہے چنانچہ اسی طرح آنکھوں کا بھی عبادت میں حصہ ہے"
( بدائع الصنائع 1/503 )
حالت نماز میں آنکھیں کھلی رکھنا اس لئے بھی ضروری ہے تاکہ مصلی کے آگے کوئی گذرنے نہ پاۓ۔
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے:
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْ أَحَدِكُمْ شَيْءٌ وَهُوَ يُصَلِّي فَلْيَمْنَعْهُ فَإِنْ أَبَى فَلْيَمْنَعْهُ ، فَإِنْ أَبَى فَليُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر تم میں سے نماز پڑھنے میں کسی شخص کے سامنے سے کوئی گزرے تو اسے گزرنے سے روکے، اگر وہ نہ رکے تو پھر روکے اور اگر اب بھی نہ رکے تو اس سے لڑے وہ شیطان ہے۔
(صحيح البخاري:3274)
نمازی کو حالت نماز میں ہی زہریلے جانوروں کا مارنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْتُلُوا الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ: الْحَيَّةَ وَالْعَقْرَبَ۔
ابو ہریرەؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نماز پڑھتے ہوئے بھی دو کالے جانوروں کو قتل کر دو یعنی سانپ اور بچھو۔ (سنن ابوداؤد:921)
اور ان زہریلے جانوروں کو قتل کرنا تبھی ہوگا جب انسان حالت نماز میں اپنی آنکھیں کھلی رکھے گا۔
نبی کریم ﷺ اپنی سواری پر بھی نفلی نمازیں پڑھ لیا کرتے تھے:
ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر خواہ اس کا رخ کسی طرف ہو ( نفل ) نماز پڑھتے تھے لیکن جب فرض نماز پڑھنا چاہتے تو سواری سے اتر جاتے اور قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے۔ (صحيح البخاري:400)
اور یہ ظاہر ہے کہ سواری پر نماز پڑھنے کی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں بہر صورت کھلی رہتی ہونگی۔
علامہ یوسف بنوری حنفی اس مسئلے کا جواب دیتے ہوۓ لکھتے ہیں:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تاہم آنکھیں کھلی رکھ کر نماز پڑھنا زیادہ بہتر ہے؛ کیوں کہ (حالتِ قیام میں) سجدہ کی جگہ کو دیکھنا مسنون ہے اور آنکھیں بند کرنے سے یہ سنت ترک ہوجاتی ہے۔
فتوی نمبر : 144004200151
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
دارالعلوم دیوبند نے اس سوال کا جوا ب دیتے ہوئے لکھا ہے:
آنکھیں بند کرکے نماز پڑھنا خلاف سنت اور مکروہ تنزیہی ہے اور نماز میں خشوع کے لیے قیام کی حالت میں نگاہ سجدہ کی جگہ، رکوع میں پنجوں پر، سجدے میں ناک کے بانسے پر، قعدہ میں گود میں اور سلام کے وقت دائیں، بائیں مونڈھے پر رکھنی چاہیے جواب نمبر: 171607دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
البتہ مصلی کے سامنے کوئی ایسا عمل انجام دیا جا رہا ہو جو نماز کے خشوع خضوع کے منافی ہو مثلاً حالت نماز میں کسی غیر محرم کا سامنا ہو یا منافی صلاۃ کوئی عمل ہورہا ہو، ایسی صورت میں الضرورات تبيح المحظورات کے پیش نظر آنکھیں بند کی جا سکتی ہیں تاکہ نماز کا خشوع خضوع برقرار رہے کیونکہ یہی نماز کی روح ہے۔
﴿قَدۡ أَفۡلَحَ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ ٱلَّذِینَ هُمۡ فِی صَلَاتِهِمۡ خَـٰشِعُونَ
تحقیق کہ وہ لوگ کامیاب ہوگئے جو اپنی نمازوں میں خشوع خضوع اختیار کرنے والے ہیں۔
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!!