Friday, April 26, 2024

موضوع : احمد رضا خاؤں بریلوی اور امی عائشہ صدیقہ کی شان میں گستاخی!

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم و رحمة الله وبركاته

موضوع : احمد رضا خاؤں بریلوی اور امی عائشہ صدیقہ کی شان میں گستاخی!

محمد اقبال قاسمي سلفي

مصادر : مختلف مراجع و مصادر ! 


حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے احمد رضا خاؤں لکھتے ہیں : 

تنگ و چست ان کالباس اور وہ جوبن کوابھار
مسکی جاتی ہے قبا سر سے کمر تک لے کر
یہ پھٹاپڑتاہے جوبن میرے دل کی صورت


کہ ہوئے جاتے ہیں جامہ سے بروں سینہ و بر

حوالہ: حدائق بخشش، جلد سوم، ص ٣٧، طبع پٹیالہ
ترجمہ :
آپ اتنا چست و تنگ لباس پہنتی تھیں کہ قپا سر سے لے کر پاؤں تک کھچی جاتی تھی ۔پھٹی جوانی کا ایسا ابھار تھا کہ سینۂ اور پہلو کپڑے سے باہر ہوے جاتے ہیں ۔
مذکورہ بالا اشعار کے اندر 
امی عائشہ صدیقہ کی جس گستاخانہ انداز میں تصویر کشی کی گئی ہے ، اس کی مزید تشریح کی میرے اندر جرأت نہیں ہے ۔ایسی تصویر کشی تو دنیا کی کسی بھی ماں کے شایان شان نہیں ،چہ جائیکہ وہ ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ہو، امام الانبیاء امام اعظم ،رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ کی ہو۔
یہ تصویر کشی اگر کسی یہودی ، عیسائی ،ہندو یا کسی بھی دوسرے مذہب کے ماننے والے شاعر یا مصنف نے کی ہوتی تو قوم مسلم سڑکوں پر اتر آتی، مردہ باد کے نعرے لگاتی، ان گستاخانہ اشعار کے خلاف بھڑکے غصے کی آگ میں کتنے شہر جلا ڈالتی، مہینوں تک مظاہرے جاری رہتے، اس کی گرفتاری کے مطالبے ہوتے بلکہ اس کے قتل تک کا مطالبہ کردیا جاتا۔

لیکن افسوس کہ ان گستاخانہ اشعار کے شاعر کوئی ہندو یا پارسی نہیں ہے بلکہ رضاخانیوں کے امام ، مولوی احمد رضا خان بریلوی ہے جسے طائفہ رضاخانیہ 
(نام نہاد) سنیوں کا ا امام مانتی ہے ۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ امی عائشہ صدیقہ کی شان میں ایسے گستاخانہ الفاظ استعمال کرنے والے کے خلاف مظاہرے ہوتے ، گستاخ عائشہ کے فتوے لگائے جاتے خواہ وہ کوئی بھی شخصیت ہو ، پھر وہ گستاخ عائشہ رضاخانیوں کے امام ،مولوی احمد رضا خان ہی کیوں نہ ہو ۔

Monday, April 8, 2024

"اللہ 70 ماؤں سے بھی زیادہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے " کی تحقیق

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم و رحمة الله وبركاته

موضوع : "اللہ 70 ماؤں سے بھی زیادہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے " کی تحقیق 

مولانا اقبال قاسمي سلفي

مصادر : مختلف مراجع و مصادر 

علماء اور مفتیان کرام حضرات اپنی تحریر و تقریر کے دوران اکثر یہ روایت بیان کرتے ہیں کہ اللہ 70 ماؤں سے بھی زیادہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے، بعض حضرات دعا میں بھی اس جملے کا کثرت سے واسطہ دے کر دعائیں کرتے ہیں ۔اور اس جملے کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرتے ہیں ۔

لیکن یہ روایت موضوع اور من گھڑت ہے ۔صحیح تو کیا کسی ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے، جس میں بات مذکور ہو۔

 یقیناً اللہ تعالی ماں کی رحمدلی سے زیادہ اپنے بندوں پرمہربان ہے مگر یہ نہیں کہا جائے گا کہ اللہ تعالی سترماؤں سے زیادہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی کوئی دلیل نہیں ہے اور جس کی دلیل نہ ہوتعین کرکے وہ بات کہنا صحیح نہیں ہےگوکہ اللہ تعالی سترنہیں اس سے بھی زیادہ ماؤں کی رحم دلی سے بھی زیادہ رحمدل ہے مگر عدد مخصوص کرنا صحیح نہیں ہے ۔

 عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ ، فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنَ السَّبْيِ قَدْ تَحْلُبُ ثَدْيَهَا تَسْقِي ، إِذَا وَجَدَتْ صَبِيًّا فِي السَّبْيِ أَخَذَتْهُ فَأَلْصَقَتْهُ بِبَطْنِهَا وَأَرْضَعَتْهُ ، فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتُرَوْنَ هَذِهِ طَارِحَةً وَلَدَهَا فِي النَّارِ قُلْنَا : لَا ، وَهِيَ تَقْدِرُ عَلَى أَنْ لَا تَطْرَحَهُ فَقَالَ : لَلَّهُ أَرْحَمُ بِعِبَادِهِ مِنْ هَذِهِ بِوَلَدِهَا ۔

 نبی کریم ﷺ کے پاس کچھ قیدی آئے قیدیوں میں ایک عورت تھی جس کا پستان دودھ سے بھرا ہوا تھا اور وہ دوڑ رہی تھی ، اتنے میں ایک بچہ اس کو قیدیوں میں ملا اس نے جھٹ اپنے پیٹ سے لگا لیا اور اس کو دودھ پلانے لگی ۔ ہم سے حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم خیال کر سکتے ہو کہ یہ عورت اپنے بچہ کو آگ میں ڈال سکتی ہے ہم نے عرض کیا کہ نہیں جب تک اس کو قدرت ہو گی یہ اپنے بچہ کو آگ میں نہیں پھینک سکتی ۔ آنحضرت ﷺ نے اس پر فرمایا کہ اللہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے ۔ جتنا یہ عورت اپنے بچہ پر مہربان ہو سکتی ہے ۔

صحیح بخاری: حدیث نمبر : 5999


مذکورہ بالا روایت کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالی ماں کی رحمدلی سے زیادہ اپنے بندوں پرمہربان اور رحم دل ہے، مگر عدد مخصوص کرنا "کہ ستر ماؤں سے زیادہ مہربان ہے" صحیح نہیں ہے۔


, حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: 
 عن ابي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : جَعَلَ اللَّهُ الرَّحْمَةَ مِائَةَ جُزْءٍ ، فَأَمْسَكَ عِنْدَهُ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ جُزْءًا وَأَنْزَلَ فِي الْأَرْضِ جُزْءًا وَاحِدًا ، فَمِنْ ذَلِكَ الْجُزْءِ يَتَرَاحَمُ الْخَلْقُ حَتَّى تَرْفَعَ الْفَرَسُ حَافِرَهَا عَنْ وَلَدِهَا خَشْيَةَ أَنْ تُصِيبَهُ ۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول کریم ﷺ سے سنا ، آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے رحمت کے سو حصے بنائے اور اپنے پاس ان میں سے ننانوے حصے رکھے صرف ایک حصہ زمین پر اتارا اور اسی کی وجہ سے تم دیکھتے ہو کہ مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے ، یہاں تک کہ گھوڑی بھی اپنے بچہ کو اپنے سم نہیں لگنے دیتی بلکہ سموں کو اٹھا لیتی ہے کہ کہیں اس سے اس بچہ کو تکلیف نہ پہنچے ۔

صحیح بخاری: حدیث نمبر : 6000

صحیح مسلم میں یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ کی سو رحمتیں ہیں ، ان میں سے ایک رحمت ہے جس کے ذریعے سے مخلوق آپس میں ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے اور ننانوے ( رحمتیں ) قیامت کے دن کے لیے ( محفوظ ) ہیں ۔‘‘

صحیح مسلم: حدیث نمبر : 6975

دارالعلوم دیوبند نے بھی  ستر ماؤں والی حدیث سے لا علمی کا اظہار کیا ہے ۔
چنانچہ دارالعلوم دیوبند نے اس بابت ایک فتوے کا جواب دینے ہوے لکھا ہے : 


" احادیث مبارکہ میں ستر ماوٴں کا ذکر ہمیں نہیں ملا؛ البتہ احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالی ایک ماں کی رحمدلی سے زیادہ اپنے بندوں پرمہربان ہے ۔"

دار الافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتویٰ نمبر : 603880

مذکورہ بالا احادیث کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ اللہ کی رحمت اور محبت یقیناً ایک ماں سے زیادہ ہے۔ مگر کسی عدد کو مخصوص کرنا کسی حدیث میں مذکور نہیں ہے ۔

اور ایسی روایتوں کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب کرنا نبی صلّی اللہ علیہ وسلم پر بہتان باندھنا ہے جس کی سخت وعید وارد ہیں ۔


 ، عَنْ سَلَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ يَقُلْ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ .
سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا :جو شخص میرے نام سے وہ بات بیان کرے جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
(صحیح بخاری: 109)

اللهم اردنا الحق حقا وارزقنا اتباعه و ارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه !!

Recent posts

تلاوت قرآن کے بعد صدق الله العظيم پڑھنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم  السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ  موضوع: تلاوت قرآن کے بعد صدق الله العظيم پڑھنا !  محمد اقبال قاسمی صاحب  مصادر: مخ...