السلام عليكم و رحمة الله وبركاته
موضوع : احمد رضا خاؤں بریلوی اور امی عائشہ صدیقہ کی شان میں گستاخی!
محمد اقبال قاسمي سلفي
مصادر : مختلف مراجع و مصادر !
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے احمد رضا خاؤں لکھتے ہیں :
تنگ و چست ان کالباس اور وہ جوبن کوابھار
مسکی جاتی ہے قبا سر سے کمر تک لے کر
یہ پھٹاپڑتاہے جوبن میرے دل کی صورت
کہ ہوئے جاتے ہیں جامہ سے بروں سینہ و بر
حوالہ: حدائق بخشش، جلد سوم، ص ٣٧، طبع پٹیالہ
ترجمہ :
آپ اتنا چست و تنگ لباس پہنتی تھیں کہ قپا سر سے لے کر پاؤں تک کھچی جاتی تھی ۔پھٹی جوانی کا ایسا ابھار تھا کہ سینۂ اور پہلو کپڑے سے باہر ہوے جاتے ہیں ۔
مذکورہ بالا اشعار کے اندر
امی عائشہ صدیقہ کی جس گستاخانہ انداز میں تصویر کشی کی گئی ہے ، اس کی مزید تشریح کی میرے اندر جرأت نہیں ہے ۔ایسی تصویر کشی تو دنیا کی کسی بھی ماں کے شایان شان نہیں ،چہ جائیکہ وہ ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ہو، امام الانبیاء امام اعظم ،رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ کی ہو۔
یہ تصویر کشی اگر کسی یہودی ، عیسائی ،ہندو یا کسی بھی دوسرے مذہب کے ماننے والے شاعر یا مصنف نے کی ہوتی تو قوم مسلم سڑکوں پر اتر آتی، مردہ باد کے نعرے لگاتی، ان گستاخانہ اشعار کے خلاف بھڑکے غصے کی آگ میں کتنے شہر جلا ڈالتی، مہینوں تک مظاہرے جاری رہتے، اس کی گرفتاری کے مطالبے ہوتے بلکہ اس کے قتل تک کا مطالبہ کردیا جاتا۔
لیکن افسوس کہ ان گستاخانہ اشعار کے شاعر کوئی ہندو یا پارسی نہیں ہے بلکہ رضاخانیوں کے امام ، مولوی احمد رضا خان بریلوی ہے جسے طائفہ رضاخانیہ
(نام نہاد) سنیوں کا ا امام مانتی ہے ۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ امی عائشہ صدیقہ کی شان میں ایسے گستاخانہ الفاظ استعمال کرنے والے کے خلاف مظاہرے ہوتے ، گستاخ عائشہ کے فتوے لگائے جاتے خواہ وہ کوئی بھی شخصیت ہو ، پھر وہ گستاخ عائشہ رضاخانیوں کے امام ،مولوی احمد رضا خان ہی کیوں نہ ہو ۔
No comments:
Post a Comment