Monday, April 8, 2024

"اللہ 70 ماؤں سے بھی زیادہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے " کی تحقیق

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم و رحمة الله وبركاته

موضوع : "اللہ 70 ماؤں سے بھی زیادہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے " کی تحقیق 

 اقبال قاسمي سلفي

مصادر : مختلف مراجع و مصادر 

حنفی علماء اور مفتیان کرام اپنی تحریر و تقریر کے دوران اکثر یہ روایت بیان کرتے ہیں کہ اللہ 70 ماؤں سے بھی زیادہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے، بعض حضرات دعا میں بھی اس جملے کا کثرت سے واسطہ دے کر دعائیں کرتے ہیں ۔اور اس جملے کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرتے ہیں ۔

لیکن یہ روایت موضوع اور من گھڑت ہے ۔صحیح تو کیا کسی ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے، جس میں یہ بات مذکور ہو۔

 یقیناً اللہ تعالی ماں کی رحمدلی سے زیادہ اپنے بندوں پرمہربان ہے مگر یہ نہیں کہا جائے گا کہ اللہ تعالی سترماؤں سے زیادہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس عدد (ستر) کی  تخصیص و تقیید کی کوئی دلیل نہیں ہے گو کہ اللہ تعالی ستر ماؤں سے بھی زیادہ اپنے بندوںسے  محبت کرتا ہے۔

عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے: 
قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ ، فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنَ السَّبْيِ قَدْ تَحْلُبُ ثَدْيَهَا تَسْقِي ، إِذَا وَجَدَتْ صَبِيًّا فِي السَّبْيِ أَخَذَتْهُ فَأَلْصَقَتْهُ بِبَطْنِهَا وَأَرْضَعَتْهُ ، فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتُرَوْنَ هَذِهِ طَارِحَةً وَلَدَهَا فِي النَّارِ قُلْنَا : لَا ، وَهِيَ تَقْدِرُ عَلَى أَنْ لَا تَطْرَحَهُ فَقَالَ : لَلَّهُ أَرْحَمُ بِعِبَادِهِ مِنْ هَذِهِ بِوَلَدِهَا ۔

 نبی کریم ﷺ کے پاس کچھ قیدی آئے قیدیوں میں ایک عورت تھی جس کا پستان دودھ سے بھرا ہوا تھا اور وہ دوڑ رہی تھی ، اتنے میں ایک بچہ اس کو قیدیوں میں ملا اس نے جھٹ اپنے پیٹ سے لگا لیا اور اس کو دودھ پلانے لگی ۔ ہم سے حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم خیال کر سکتے ہو کہ یہ عورت اپنے بچہ کو آگ میں ڈال سکتی ہے ہم نے عرض کیا کہ نہیں جب تک اس کو قدرت ہو گی یہ اپنے بچہ کو آگ میں نہیں پھینک سکتی ۔ آنحضرت ﷺ نے اس پر فرمایا کہ اللہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے ۔ جتنا یہ عورت اپنے بچہ پر مہربان ہو سکتی ہے ۔
(صحیح بخاری: حدیث نمبر : 5999)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بے شک اللہ رب العزت اپنے بندوں پر  ایک ماں سے بھی زیادہ شفیق و مہربان ہے۔
, حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: 

 قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : جَعَلَ اللَّهُ الرَّحْمَةَ مِائَةَ جُزْءٍ ، فَأَمْسَكَ عِنْدَهُ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ جُزْءًا وَأَنْزَلَ فِي الْأَرْضِ جُزْءًا وَاحِدًا ، فَمِنْ ذَلِكَ الْجُزْءِ يَتَرَاحَمُ الْخَلْقُ حَتَّى تَرْفَعَ الْفَرَسُ حَافِرَهَا عَنْ وَلَدِهَا خَشْيَةَ أَنْ تُصِيبَهُ ۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول کریم ﷺ سے سنا ، آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے رحمت کے سو حصے بنائے اور اپنے پاس ان میں سے ننانوے حصے رکھے صرف ایک حصہ زمین پر اتارا اور اسی کی وجہ سے تم دیکھتے ہو کہ مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے ، یہاں تک کہ گھوڑی بھی اپنے بچہ کو اپنے سم نہیں لگنے دیتی بلکہ سموں کو اٹھا لیتی ہے کہ کہیں اس سے اس بچہ کو تکلیف نہ پہنچے ۔
(صحیح بخاری: حدیث نمبر : 6000)

دارالعلوم دیوبند نے بھی  ستر ماؤں والی حدیث سے لا علمی کا اظہار کیا ہے ۔
چنانچہ دارالعلوم دیوبند نے اس بابت ایک فتوے کا جواب دینے ہوے لکھا ہے : 

" احادیث مبارکہ میں ستر ماوٴں کا ذکر ہمیں نہیں ملا؛ البتہ احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالی ایک ماں کی رحمدلی سے زیادہ اپنے بندوں پرمہربان ہے ۔"

دار الافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتویٰ نمبر : 603880

مذکورہ بالا احادیث کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ اللہ کی رحمت اور محبت یقیناً ایک ماں سے زیادہ ہے۔ ستر ماؤوں سے مثال دینا اس کی رحمت و شفقت کو محدود کرنا ہوا،  اور نہ ہی یہ کسی حدیث میں مذکور ہے۔

اسے عدد کثرت مان کر کثرت محبت کے طور پر بھی بیان کرنا درست نہیں ہے کیونکہ لوگ اسے حدیث سمجھ کر  بطور حدیث بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
اور ایسی روایتوں کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب کرنا نبی صلّی اللہ علیہ وسلم پر بہتان باندھنا ہے جس کی سخت وعید وارد ہیں ۔

 ، عَنْ سَلَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ يَقُلْ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ .
سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا :جو شخص میرے نام سے وہ بات بیان کرے جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
(صحیح بخاری: 109)

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) نے اس کثیر الاستعمال جملے کے بابت جواب دیتے ہوے لکھا: 

(1)سوال میں بیان کردہ جملہ بہت تلاش کے باوجود کسی حدیث میں نہیں مل سکا ، یہ بغیر کسی سند کے لوگوں کی زبانوں پر جاری ہو گیا ہے، لہٰذا جب تک کوئی مستند حوالہ نہ ملے اسے بطورِ حدیث بیان نہ کیا جائے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ارحم الراحمین ہے وہ اپنے بندوں پر فضل و کرم فرماتا ہے اس کی رحمت اور اپنے بندوں سے محبت کو بیان کرنے کے لیے اسی جملے کو بیان کرنا تو ضروری نہیں ، بے شمار آیات و احادیث میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمت اور اپنے بندوں سے محبت فرمانے کا ذکر ہے، چاہیے کہ وہ آیات و احادیث بیان کی جائیں ۔
ایسی بہت سی احادیث کتبِ احادیث میں موجود ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر رحمت و مہربانی کو بیان کیا گیا ہے، ہمیں چاہیے کہ ان احادیث کو بیان کریں، اور جن روایات کو بیان کرنے سے علمائے کرام منع فرمائیں انہیں بیان کرنے سے باز رہیں ۔

(2)اس جملے کو بغیر حدیث کہے کثرتِ محبت کے طور پر بیان کرنے میں حرج نہیں کہ ستر (70) عددِ کثرت ہے ، عام محاوروں میں یہ عدد کسی چیز کی زیادتی و کثرت کو بیان کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن اس طرح بیان کرتے ہوئے بھی اس کی وضاحت کر دینی چاہیے کہ یہ حدیث نہیں ، کیونکہ عموماً لوگ اسے حدیث سمجھ لیتے ہیں اور پھر حدیث کہہ کر آگے بیان کرتے ہیں۔


No comments:

Post a Comment

Recent posts

تعزیہ، عاشورہ کا میلہ اور فتوی احمد رضا خان

 احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں : تعزیہ آتا دیکھ کر اعراض و روگردانی کریں۔ اس کی طرف دیکھنا ہی نہیں چاہیے ۔ (عرفان شریعت حص...