Tuesday, October 26, 2021

روزہ ‏کی ‏من ‏گھڑت ‏نیت، ‏بصوم ‏غد ‏نویت ‏من ‏شھر ‏رمضان

بسم اللہ الرحمن الرحیم

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

موضوع: روزہ رکھنے کی من گھڑت نیت  اور مدرسہ رشیدیہ کا قابل تعریف اقدام ! 

مصادر : مختلف مراجع و مصادر 

   از : محمد اقبال قاسمی سلفی 

ہمارے یہاں  عام طور پر ہر سال کیلنڈروں میں حنفی اداروں کی جانب سے " بصوم غد نويت من شهر رمضان " ک الفاظ  روزہ رکھنے کی نیت کے طور پر شائع کیے جاتے ہیں۔ 

جبکہ روزہ رکھنے کی ایسی کوئی نیت کتاب سنت  میں موجود نہیں ہے۔
1) یہ نیت نہ قرآن مجید میں ہے۔ 
2) نہ کسی حدیث رسول ﷺ میں ہے۔ 
3) نہ خلفاء راشدین سے ثابت ہے۔ 
3) نہ عشرہ مبشرہ سے۔۔۔۔۔۔ 
 
3) نہ کسی صحابی رسول نے یہ نیت کی ہے۔ 
4) نہ کسی تابعی نے۔۔۔۔ 
5) نہ کسی تبع تابعین نے۔۔۔۔ 
6) نہ امام ابو حنیفہؒ، امام شافعی، امام مالک، اور امام احمد بن حنبل نے۔۔۔۔ 
7) نہ امام محمد اور ابو یوسف نے۔۔۔۔۔ 

 کسی صحیح سند میں تو کیا، کسی ضعیف اور من گھڑت سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے جس میں روزہ رکھنے کی نیت کے یہ الفاظ موجود ہوں ۔ 

دارالعلوم دیوبند سے جب اس نیت کے الفاظ کے متعلق سوال کیا گیا کہ کیا یہ نیت کسی حدیث میں موجود ہے، تو دارالعلوم دیوبند نے بھی یہ جواب دیا کہ روزہ کی نیت مذکورہ بالا الفاظ کے ساتھ کرنا کسی حدیث سے ثابت نہیں۔ 
(دارالعلوم دیوبند، سوال نمبر :7352) 

عنوان:
روزہ رکھنے کی نیت بصوم غد نویت من شہر رمضان کس حدیث سے ثابت ہے؟ کیا روزہ کی ان الفاظ سے نیت کرنا کسی حدیث سے ثابت نہیں ہے، یہ نبی ﷺ کی سنت نہیں بلکہ مشائخ کی سنت یے۔ (لیکن یہ کن مشائخ کی سنت ہے، وہ مشائخ کون ہیں آج تک ان کا اتا پتہ نہیں ہے۔) 
(سوال نمبر:7352) 

 یاد رکھیں تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔عمل کی درستگی کے لئے نیت کا درست ہونا ضروری ہے۔ 

اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا 
"تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر عمل کا نتیجہ ہر انسان کو اس کی نیت کے مطابق ہی ملے گا"
 (صحیح بخاری حدیث نمبر 1) 

اور نماز روزے تو ہماری اہم ترین عبادتوں میں سے ہے اگر  اس کی نیت ہی من گھڑت ہوگی تو ہماری عبادت کا کیا ہوگا کیونکہ رسول اللہﷺ کا فرمان ہے۔ 
من احدث في امرنا هذا ما ليس منه فهو رد ( متفق علیہ) 
ترجمہ: جس کسی نے بھی ہمارے اس دین میں کوئی نئی چیز گھڑی جو اس میں سے نہ ہو تو وہ مردود ہے۔ 
(صحیح بخاری حدیث نمبر 2697) 

اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں "جس کسی نے بھی کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا امر نہیں تو وہ مردود ہے۔ 
(صحیح مسلم حدیث نمبر 1718) 


اور روزے رکھنے کی من گھڑت نیت پر نہ تو رسول اللہ کا امر ہے نہ خلفاء راشدین کا ۔۔۔ 
اور چونکہ یہ عبادات کے قبیل سے ہے بلکہ تمام عبادات کے مبنی علیہ کے قبیل سے ہے اس لئے جب تک اس نیت پر اللہ اور اس کے رسول کے امر کی مہر نہ لگ جاۓ، اپنی طرف سے کوئی قیاس آرائی نہیں کی جا سکتی۔

 نیت صرف دل کے ارادے کا نام ہے۔ کسی بھی نماز ( فرض ، سنت، نفل، نماز تراویح، نماز جنازہ،عیدین ) یا روزے کی زبان سے نیت کرنا جہالت اور بدعت ہے۔ دین اسلام میں اس کے جواز کی کوئی گنجاش نہیں ہے۔ قرآن و حدیث، صحابہ کرام تابعین تبع تابعین سے  اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ 
اکابر علمائے احناف نے بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے اسے بدعت لکھا ہے۔

 امام ابن ہمام حنفی فرماتے ہیں:
بعض حفاظ نے کہا ہے کہ کسی صحیح یا ضعیف سند سے بھی ثابت نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی ابتدا کرتے وقت یہ فرماتے کہ میں فلاں نماز ادا کر رہا ہوں اور نہ ہی صحابہ یا تابعین میں سے کسی سے یہ منقول ہے۔ بلکہ جو منقول ہے وہ یہ کہ آپ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو ’اللہ اکبر‘ کہتے، اور یہ (زبان سے نیت کرنا) بدعت ہے۔ (فتح القدیر شرح الہدایہ‘‘ (۱/۲۶۶،۲۶۷)

علامہ حموی حنفی رقم طراز ہیں:

’ابن امیر حاج ’’حلیہ شرح منیہ‘‘ میں ’’فتح القدیر‘‘ کی عبارت پر اضافہ کرتے ہیں کہ یہ فعل ائمۂ اربعہ سے بھی مروی نہیں۔ ’’شرح الأشباہ والنظائر‘‘ (ص۴۵) میں (۵۔۶)
علامہ ابن نجیم حنفی لکھتے ہیں:
ظاہر ہےفتح القدیر سے اس کا بدعت ہونا ہی ثابت ہوتا ہے۔‘‘’(بحر الرائق‘‘ (ص۲۱۰)
علامہ حسن شرنبلالی حنفی نے ’’مجمع الروایات‘‘ سے نقل کیا ہے :
کہ زبان سے نیت بولنے کو بعض علماء نے حرام کہا ہے، اس لیے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے کرنے والے کو سزا دی ہے۔‘‘ (شرح نور الایضاح:۵۶)
فتاویٰ غربیۃ، کتاب الصلوۃ کے دسویں باب میں ہے:
’’کہا گیا ہے کہ زبان سے نیت کرنا بدعت ہے۔‘‘(فتاوی غربیہ:ج۳،ص۲۳۴)
امام ابن عابدین حنفی اپنی کتاب ) میں فرماتے ہیں:
زبان سے نیت کرنا بدعت ہے۔(رد المحتار‘‘ ۱/۲۷۹

 ملا علی قاری حنفی لکھتے ہیں:
’’الفاظ کے ساتھ نیت کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ بدعت ہے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع جس طرح آپ کے کاموں میں کرنا لازم ہے، اسی طرح اتباع کام کے نہ کرنے میں بھی لازم ہے، جو شخص آپ کے نہ کیے ہوئے پر اڑا رہےگا وہ بدعتی ہے... نیز فرماتے ہیں: تم جان چکے ہو کہ نہ بولنا ہی افضل ہے۔(مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح‘‘ (۱/۴۱)

مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی نقشبندی حنفی لکھتے ہیں:
’’زبان سے نیت کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سند صحیح بلکہ سند ضعیف سے بھی ثابت نہیں اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام رحمۃ اللہ علیہم زبان سے نیت نہیں کرتے تھے بلکہ جب اقامت کہتے تو صرف ’اللہ اکبر‘ کہتے تھے، زبان سے نیت بدعت ہے۔‘‘ (مکتوبات دفتر اول حصہ سوم، مکتوب نمبر ۱۸۶ ص۷۳)

طحطاوی حنفی ’’میں لکھتے ہیں:
’’صاحب در مختار‘‘ کے قول: ’’یعنی سلف نے اس کو پسند کیا ہے‘‘، اس میں اشارہ ہے اس امر کا کہ حقیقت میں نیت کے ثابت ہو نے کے بارے میں کسی کا اختلاف نہیں ہے اس لیے کہ زبان سے بولنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے اور نہ صحابہ وائمہ اربعہ سے، یہ تو محض بدعت ہے۔‘(‘شرح در مختار‘‘ (۱/۱۹۴)

علامہ انور شاہ کاشمیری دیوبندی حنفی فرماتے ہیں:
’’نیت صرف دل کا معاملہ ہے۔‘‘ 
(فیض الباری شرح صحیح البخاری :۱/۸)

علامہ عبد الحی لکھنوی حنفی فرماتے ہیں:
نماز کی ابتداء میں زبان سے نیت کرنا بدعت ہے۔(عمدۃ الرعایۃ حاشیہ شرح الوقایہ‘‘(۱/۱۵۹)

مولانا اشرف علی تھانوی اپنی لکھتے ہیں:
زبان سے نیت کرنا ضروری نہیں ہے بلکہ دل میں جب اتنا سوچ لیوے کہ آج کی ظہر کے فرض پڑھتی ہوں اور اگر سنت نماز پڑھتی ہو تو یہ سوچ لے کہ ظہر کی سنت پڑھتی ہوں، بس اتنا خیال کر کے ’اللہ اکبر‘ کہہ کے ہاتھ باندھ لیوے تو نماز ہو جاوےگی اور جو لمبی چوڑی نیت لوگوں میں مشہور ہے اس کا کہنا کچھ ضروری نہیں( ’’بہشتی زیور‘‘ (۲/۲۸)

جب اس بابت آج کے حنفی علماؤں سے مسئلہ دریافت کیا جاتا ہے اور جب ان سے یہ پوچھا جاتا ہے کہ نیت کے یہ الفاظ کس حدیث میں ہے۔ تو وہ بھی یہی جواب دیتے ہیں کہ یہ کسی حدیث میں نہیں ہے لیکن ساتھ میں یہ شوشہ اکثر چھوڑ دیا کرتے ہیں کہ زبان سے نیت کرنا بہتر ہے۔ 
معلوم ہونا چاہیئے کہ کسی شرعی مسئلے کے بارے میں یہ حکم لگانا کہ "یہ بہتر ہے" یہ بھی تو ایک شرعی حکم ہے۔ اور کوئی بھی شرعی حکم بغیر دلیل کے ثابت نہیں ہوتا۔ 

ہمیں آج یہ لکھتے ہوے خوشی ہو رہی ہے کہ مدرسہ رشیدیہ ڈنگرا ، ضلع گیا جو سالوں سے روزہ رکھنے کی اس خود ساختہ  نیت کو شائع کرتا چلا آرہا تھا ، اس نے اس سال  اپنے رمضان اشتہار ھیں اسے شائع نہ کر کے ایک قابل تعریف اقدام کیا ہے ۔ 

جزاکم اللہ احسن الجزاء 

اللهم اني اسئلك علما نافعا و رزقا طبيبا و عملا متقبلا!!

Monday, October 25, 2021

غزوہ احد میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا جگر چبانے کا واقعہ پارٹ 1

                    بسم اللہ الرحمن الرحیم
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

                          مولانا اقبال قاسمی سلفی

قصہ گو واعظین میں یہ واقعہ بڑے دھڑلے سے بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت ہند زوجہ ابوسفیان رضی اللہ عنہما نے حضرت حمزہ کا کلیجہ چبایا تھا۔ لیکن یہ واقعہ غلط اور نادرست ہے۔ 

یہ واقعہ غزوہ احد کے موقع کا ہے۔ صحیح احادیث میں جو اس واقعے کی تفصیل موجود ہے، سب سے پہلے ہم اسے ملاحظہ کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احد کے موقع پر ( تیر اندازوں کے ) پچاس آدمیوں کا افسر عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کو بنایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تاکید کر دی تھی کہ اگر تم یہ بھی دیکھ لو کہ پرندے ہم پر ٹوٹ پڑے ہیں۔ پھر بھی اپنی جگہ سے مت ہٹنا ‘ جب تک میں تم لوگوں کو کہلا نہ بھیجوں۔ اسی طرح اگر تم یہ دیکھو کہ کفار کو ہم نے شکست دے دی ہے اور انہیں پامال کر دیا ہے پھر بھی یہاں سے نہ ٹلنا ‘ جب میں تمہیں خود بلا نہ بھیجوں۔ پھر اسلامی لشکر نے کفار کو شکست دے دی۔ براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ‘ کہ اللہ کی قسم! میں نے مشرک عورتوں کو دیکھا کہ تیزی کے ساتھ بھاگ رہی تھیں۔ ان کے پازیب اور پنڈلیاں دکھائی دے رہی تھیں۔ اور وہ اپنے کپڑوں کو اٹھائے ہوئے تھیں۔ عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے کہا ‘ کہ غنیمت لوٹو ‘ اے قوم! غنیمت تمہارے سامنے ہے۔ تمہارے ساتھی غالب آ گئے ہیں۔ اب ڈر کس بات کا ہے۔ اس پر عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ کیا جو ہدایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی تھی ‘ تم اسے بھول گئے؟ لیکن وہ لوگ اسی پر اڑے رہے کہ دوسرے اصحاب کے ساتھ غنیمت جمع کرنے میں شریک رہیں گے۔ جب یہ لوگ ( اکثریت ) اپنی جگہ چھوڑ کر چلے آئے تو ان کے منہ کافروں نے پھیر دیئے ‘ اور ( مسلمانوں کو ) شکست زدہ پا کر بھاگتے ہوئے آئے ‘ یہی وہ گھڑی تھی ( جس کا ذکر سورۃ آل عمران میں ہے کہ ) ”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم کو پیچھے کھڑے ہوئے بلا رہے تھے“۔ اس سے یہی مراد ہے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بارہ صحابہ کے سوا اور کوئی بھی باقی نہ رہ گیا تھا۔ آخر ہمارے ستر آدمی شہید ہو گئے۔ بدر کی لڑائی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کے ساتھ مشرکین کے ایک سو چالیس آدمیوں کا نقصان کیا تھا ‘ ستر ان میں سے قیدی تھے اور ستر مقتول ‘ ( جب جنگ ختم ہو گئی تو ایک پہاڑ پر کھڑے ہو کر ) ابوسفیان نے کہا کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم کے ساتھ موجود ہیں؟ تین مرتبہ انہوں نے یہی پوچھا۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دینے سے منع فرما دیا تھا۔ پھر انہوں نے پوچھا ‘ کیا ابن ابی قحافہ ( ابوبکر رضی اللہ عنہ ) اپنی قوم میں موجود ہیں؟ یہ سوال بھی تین مرتبہ کیا ‘ پھر پوچھا ابن خطاب ( عمر رضی اللہ عنہ ) اپنی قوم میں موجود ہیں؟ یہ بھی تین مرتبہ پوچھا ‘ پھر اپنے ساتھیوں کی طرف مڑ کر کہنے لگے کہ یہ تینوں قتل ہو چکے ہیں اس پر عمر رضی اللہ عنہ سے نہ رہا گیا اور آپ بول پڑے کہ اے اللہ کے دشمن! اللہ گواہ ہے کہ تو جھوٹ بول رہا ہے جن کے تو نے ابھی نام لیے تھے وہ سب زندہ ہیں اور ابھی تیرا برا دن آنے والا ہے۔ ابوسفیان نے کہا اچھا! آج کا دن بدر کا بدلہ ہے۔ اور لڑائی بھی ایک ڈول کی طرح ہے ( کبھی ادھر کبھی ادھر ) تم لوگوں کو اپنی قوم کے بعض لوگ مثلہ کئے ہوئے ملیں گے۔ میں نے اس طرح کا کوئی حکم ( اپنے آدمیوں کو ) نہیں دیا تھا ‘ لیکن مجھے ان کا یہ عمل برا بھی نہیں معلوم ہوا۔ اس کے بعد وہ فخر یہ رجز پڑھنے لگا:
 أُعْلُ هُبَلْ أُعْلُ هُبَلْ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَا تُجِيبُوا لَهُ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا نَقُولُ ، قَالَ : قُولُوا اللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ ، قَالَ : إِنَّ لَنَا الْعُزَّى وَلَا عُزَّى لَكُمْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَا تُجِيبُوا لَهُ ، قَالَ : قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا نَقُولُ ، قَالَ : قُولُوا اللَّهُ مَوْلَانَا ، وَلَا مَوْلَى لَكُمْ .
 ‘ ہبل ( بت کا نام ) بلند رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ اس کا جواب کیوں نہیں دیتے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا ہم اس کے جواب میں کیا کہیں یا رسول اللہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہو کہ اللہ سب سے بلند اور سب سے بڑا بزرگ ہے۔ ابوسفیان نے کہا ہمارا مددگار عزیٰ ( بت ) ہے اور تمہارا کوئی بھی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جواب کیوں نہیں دیتے، صحابہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ! اس کا جواب کیا دیا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کہو کہ اللہ ہمارا حامی ہے اور تمہارا حامی کوئی نہیں۔ 
(sahi bukhari:3039) 

اسی طرح وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ نے بھی خود کی زبانی اس پورے واقعے کو بالتفصیل بیان کیا ہے۔ 
 میں عبیداللہ بن عدی بن خیار رضی اللہ عنہ کے ساتھ روانہ ہوا۔ جب حمص پہنچے تو مجھ سے عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا،هَلْ لَكَ فِي وَحْشِيٍّ نَسْأَلُهُ عَنْ قَتْلِ حَمْزَةَ
 آپ کو وحشی سے تعارف ہے۔ ہم چل کے ان سے حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بارے میں معلوم کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ ٹھیک ہے ضرور چلو۔ وحشی حمص میں موجود تھے۔ چنانچہ ہم نے لوگوں سے ان کے بارے میں معلوم کیا تو ہمیں بتایا گیا کہ وہ اپنے مکان کے سائے میں بیٹھے ہوئے ہیں، جیسے کوئی بڑا سا کپا ہو۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر ہم ان کے پاس آئے اور تھوڑی دیر ان کے پاس کھڑے رہے۔ پھر سلام کیا تو انہوں نے سلام کا جواب دیا۔ بیان کیا کہ عبیداللہ نے اپنے عمامہ کو جسم پر اس طرح لپیٹ رکھا تھا کہ وحشی صرف ان کی آنکھیں اور پاؤں دیکھ سکتے تھے۔ عبیداللہ نے پوچھا: اے وحشی! کیا تم نے مجھے پہچانا؟ راوی نے بیان کیا کہ پھر اس نے عبیداللہ کو دیکھا اور کہا کہ نہیں، اللہ کی قسم! البتہ میں اتنا جانتا ہوں کہ عدی بن خیار نے ایک عورت سے نکاح کیا تھا۔ اسے ام قتال بنت ابی العیص کہا جاتا تھا پھر مکہ میں اس کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا اور میں اس کے لیے کسی دایا کی تلاش کے لیے گیا تھا۔ پھر میں اس بچے کو اس کی ( رضاعی ) ماں کے پاس لے گیا اور اس کی والدہ بھی ساتھ تھی۔ غالباً میں نے تمہارے پاؤں دیکھے تھے۔ بیان کیا کہ اس پر عبیداللہ بن عدی رضی اللہ عنہ نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹا لیا اور کہا، ہمیں تم حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے واقعات بتا سکتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہاں، بات یہ ہوئی کہ بدر کی لڑائی میں حمزہ رضی اللہ عنہ نے طعیمہ بن عدی بن خیار کو قتل کیا تھا۔ میرے آقا جبیر بن مطعم نے مجھ سے کہا کہ اگر تم نے حمزہ رضی اللہ عنہ کو میرے چچا ( طعیمہ ) کے بدلے میں قتل کر دیا تو تم آزاد ہو جاؤ گے۔ انہوں نے بتایا کہ پھر جب قریش عینین کی جنگ کے لیے نکلے۔ عینین احد کی ایک پہاڑی ہے اور اس کے اور احد کے درمیان ایک وادی حائل ہے۔ تو میں بھی ان کے ساتھ جنگ کے ارادہ سے ہو لیا۔ جب ( دونوں فوجیں آمنے سامنے ) لڑنے کے لیے صف آراء ہو گئیں تو ( قریش کی صف میں سے ) سباع بن عبدالعزیٰ نکلا اور اس نے آواز دی، ہے کوئی لڑنے والا؟ بیان کیا کہ ( اس کی اس دعوت مبازرت پر ) امیر حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نکل کر آئے اور فرمایا، اے سباع! اے ام انمار کے بیٹے! جو عورتوں کے ختنے کیا کرتی تھی، تو اللہ اور اس کے رسول سے لڑنے آیا ہے؟ بیان کیا کہ پھر حمزہ رضی اللہ عنہ نے اس پر حملہ کیا ( اور اسے قتل کر دیا ) اب وہ واقعہ گزرے ہوئے دن کی طرح ہو چکا تھا۔ وحشی نے بیان کیا کہ ادھر میں ایک چٹان کے نیچے حمزہ رضی اللہ عنہ کی تاک میں تھا اور جوں ہی وہ مجھ سے قریب ہوئے، میں نے ان پر اپنا چھوٹا نیزہ پھینک کر مارا، نیزہ ان کی ناف کے نیچے جا کر لگا اور ان کی سرین کے پار ہو گیا۔ بیان کیا کہ یہی ان کی شہادت کا سبب بنا، پھر جب قریش واپس ہوئے تو میں بھی ان کے ساتھ واپس آ گیا اور مکہ میں مقیم رہا۔ لیکن جب مکہ بھی اسلامی سلطنت کے تحت آ گیا تو میں طائف چلا گیا۔ طائف والوں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک قاصد بھیجا تو مجھ سے وہاں کے لوگوں نے کہا کہ انبیاء کسی پر زیادتی نہیں کرتے ( اس لیے تم مسلمان ہو جاؤ۔ اسلام قبول کرنے کے بعد تمہاری پچھلی تمام غلطیاں معاف ہو جائیں گی ) چنانچہ میں بھی ان کے ساتھ روانہ ہوا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا اور آپ نے مجھے دیکھا تو دریافت فرمایا، کیا تمہارا ہی نام وحشی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ہی نے حمزہ کو قتل کیا تھا؟ میں نے عرض کیا، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس معاملے میں معلوم ہے وہی صحیح ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا: کیا تم ایسا کر سکتے ہو کہ اپنی صورت مجھے کبھی نہ دکھاؤ؟ انہوں نے بیان کیا کہ پھر میں وہاں سے نکل گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جب وفات ہوئی تو مسیلمہ کذاب نے خروج کیا۔ اب میں نے سوچا کہ مجھے مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ میں ضرور شرکت کرنی چاہیے۔ ممکن ہے میں اسے قتل کر دوں اور اس طرح حمزہ رضی اللہ عنہ کے قتل کا بدل ہو سکے۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر میں بھی اس کے خلاف جنگ کے لیے مسلمانوں کے ساتھ نکلا۔ اس سے جنگ کے واقعات سب کو معلوم ہیں۔ بیان کیا کہ ( میدان جنگ میں ) میں نے دیکھا کہ ایک شخص ( مسیلمہ ) ایک دیوار کی دراز سے لگا کھڑا ہے۔ جیسے گندمی رنگ کا کوئی اونٹ ہو۔ سر کے بال منتشر تھے۔ بیان کیا کہ میں نے اس پر بھی اپنا چھوٹا نیزہ پھینک کر مارا۔ نیزہ اس کے سینے پر لگا اور شانوں کو پار کر گیا۔ بیان کیا کہ اتنے میں ایک صحابی انصاری جھپٹے اور تلوار سے اس کی کھوپڑی پر مارا۔ انہوں ( عبدالعزیز بن عبداللہ ) نے کہا، ان سے عبداللہ بن فضل نے بیان کیا کہ پھر مجھے سلیمان بن یسار نے خبر دی اور انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ بیان کر رہے تھے کہ ( مسیلمہ کے قتل کے بعد ) ایک لڑکی نے چھت پر کھڑی ہو کر اعلان کیا کہ امیرالمؤمنین کو ایک کالے غلام ( یعنی وحشی ) نے قتل کر دیا۔ 
(Sahi bukhari:4072)

سنن ترمذی میں ہے: جب احد کی جنگ ہوئی تو انصار کے چونسٹھ ( ۶۴ ) اور مہاجرین کے چھ کام آئے۔ ان میں حمزہ رضی الله عنہ بھی تھے۔ کفار نے ان کا مثلہ کر دیا تھا، انصار نے کہا: اگر کسی دن ہمیں ان پر غلبہ حاصل ہوا تو ہم ان کے مقتولین کا مثلہ اس سے کہیں زیادہ کر دیں گے۔ پھر جب مکہ کے فتح کا وقت آیا تو اللہ تعالیٰ نے آیت وإن عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم به ولئن صبرتم لهو خير للصابرين نازل فرما دی۔ ایک صحابی نے کہا: لا قريش بعد اليوم ( آج کے بعد کوئی قریشی وریشی نہ دیکھا جائے گا ) آپ نے فرمایا: ” ( نہیں ) چار اشخاص کے سوا کسی کو قتل نہ کرو“ 
(sunan tirmdi:3129) 

مسند احمد میں زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی زبانی یوں ہے:

سیّدنا زبیر بن عوام ‌رضی
 ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: احد کے روز ایک خاتون دوڑتی ہوئی آ رہی تھی اور قریب تھا کہ وہ آکر شہداء کو دیکھ لے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس بات کو ناپسند کر رہے تھے کہ وہ شہداء کو (ان کی اس حالت میں) دیکھے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عورت، عورت، (اس کو شہدا ء کے پاس آنے سے بچاؤ) سیّدنا زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے پہچان لیا کہ وہ میری والدہ سیدہ صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ہیں، پس میں جلدی سے ادھر گیا اور قبل اس کے کہ وہ شہداء تک جا پہنچتیں، میں ان تک جا پہنچا، لیکن چونکہ وہ مضبوط خاتون تھیں، اس لیے انہوں نے میرے سینے پر ضرب لگائی اور کہا: پرے ہٹ جا،تیرا کوئی ٹھکانہ نہ ہو۔ لیکن جب میں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تمہیں روکنے کا حکم دیا ہے، یہ سن کر وہ رک گئیں، ان کے پاس دو کپڑے تھے، انہوں نے وہ نکالے اور کہا: یہ دو کپڑے ہیں، میں اپنے بھائی حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لیے لائی ہوں، کیونکہ مجھے اس کی شہادت کی اطلاع ملی ہے، ان کو ان کپڑوں میں کفن دینا، سو ہم سیّدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو کفن دینے کے لیے وہ دو کپڑے لے آئے، لیکن اچانک دیکھا کہ ان کے پہلو میں ایک شہید انصاری بھی پڑا ہے، اس کے ساتھ بھی مثلہ کیا گیا ہے، تو ہمیں اس میں بے مروتی اور ناانصافی محسوسی ہوئی کہ سیّدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دو کپڑوں میں کفن دیں اور انصاری کے لیے ایک کپڑا بھی نہ ہو۔ پھر ہم نے دونوں کپڑے ماپے، چونکہ ان میں سے ایک بڑا نکلا تھا، اس لیے ہم نے ان دونوں شہداء کے درمیان قرعہ ڈالا، جس کے حصے میں جو کپڑا آیا، ہم نے اسے اس میں کفن دے دیا۔  
(Musnad Ahmad:3121)

ان احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ:
(1) غزوہ احد میں ستر صحابہ کرام نے جام شہادت نوش فرمایا تھا۔ 
2) شہداء کرام ہیں کی لاشوں کا مثلہ کیا گیا تھا 
3)حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی لاش کا بھی کفار نے مثلہ کیا تھا۔ 
4) ان روایتوں میں کہیں بھی بھی بھی بھی ہند بنت عتبہ کا حضرت حمزہ کا کلیجہ نکال کر چبانے کا ذکر موجود نہیں ہے۔ جبکہ اس واقعے کے متعلق یہ صحیح ترین روایتیں ہیں۔

5) اس جنگ میں جتنے بھی صحابہ شریک تھے کسی سے بھی اس طرح کی کوئی روایت نہیں نقل کی گئی اور کفار کی طرف سے اس جنگ میں جتنے مرد اور عورتیں شریک تھیں جو کہ اس جنگ کے چشم دید گواہ تھے، ان میں سے کسی نے بھی حضرت ہند رضی اللہ عنہا کا یہ قصہ بیان نہیں کیا کہ اُس نے حمزہ رضی اللہ عنہ کی لاش کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا۔ہاں البتہ ابوسفیان رضی اللہ عنہ جنگ کے اختتام پر ایک اعلان خود کرتے ہیں:’’ہمارے کچھ افراد نے لاشوں کا مثلہ کیا ہے لیکن میں نے نہ تو اس کا حکم دیا تھا اور نہ مجھے یہ بات بری معلوم ہوئی۔ 
6) وحشی بن حرب جس نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا شہید کیا تھا، جو اس واقعے کا مرکزی کردار ہے اور جنہوں نے اس واقعے کو تفصیل کے ساتھخود کی زبانی بیان کیا ہے، حضرت ہند کے متعلق ایسی کوئی بات نہیں بیان کرتے ہیں۔

7) وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ اس وقت حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کے غلام تھے نہ کہ ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا کا۔ ہند بنت عتبہ سے وحشی کا کوئی تعلق نہیں تھا۔

8) حضرت حمزہ کو شہید کرنے کا لالچ وحشی رضی اللہ عنہ کو جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالی عنہ نے دیا تھا نہ کہ ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا نے جیسا کہ صحیح بخاری حدیث نمبر 4072 میں خود ان ہی کی زبانی اس بات کی گواہی موجود ہے:
إِنَّ حَمْزَةَ قَتَلَ طُعَيْمَةَ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ بِبَدْرٍ، فَقَالَ لِي مَوْلاَيَ جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ إِنْ قَتَلْتَ حَمْزَةَ بِعَمِّي فَأَنْتَ حُرٌّ۔ 

ترجمہ:بات یہ ہوئی کہ بدر کی لڑائی میں حمزہ رضی اللہ عنہ نے طعیمہ بن عدی بن خیار کو قتل کیا تھا۔ میرے آقا جبیر بن مطعم نے مجھ سے کہا کہ اگر تم نے حمزہ رضی اللہ عنہ کو میرے چچا ( طعیمہ ) کے بدلے میں قتل کر دیا تو تم آزاد ہو جاؤ گے۔

9) وحشی رضی اللہ عنہ نے جب اسلام قبول کیا تو اللہ کے رسول ﷺ نے ان کا اسلام تو قبول کر لیا لیکن ساتھ میں انہیں سامنے نہ آنے کی ہدایت بھی دی تھی :

حَتَّى قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَآنِي قَالَ: «آنْتَ وَحْشِيٌّ». قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ: «أَنْتَ قَتَلْتَ حَمْزَةَ». قُلْتُ قَدْ كَانَ مِنَ الأَمْرِ مَا بَلَغَكَ. قَالَ: «فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُغَيِّبَ وَجْهَكَ عَنِّي». قَالَ فَخَرَجْتُ، فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ ترجمہ:
 جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا اور آپ نے مجھے دیکھا تو دریافت فرمایا، کیا تمہارا ہی نام وحشی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ہی نے حمزہ کو قتل کیا تھا؟ میں نے عرض کیا، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس معاملے میں معلوم ہے وہی صحیح ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا: کیا تم ایسا کر سکتے ہو کہ اپنی صورت مجھے کبھی نہ دکھاؤ؟ انہوں نے بیان کیا کہ پھر میں وہاں سے نکل گیا، یہاں تک کہ نبی ﷺ کی وفات ہو گئی۔ 
لیکن جب ہند بنت عتبہ اور ان کے زوجہ ابو سفیان مسلمان ہوئے تو نبیﷺ نے ان سے اس طرح کی کوئی بات نہیں کہی جیسے وحشی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہی تھی جبکہ ہند بنت عتبہ وحشی سے زیادہ بڑی مجرمہ تھیں کیونکہ بقول ان کے ہند بنت عتبہ ہی کے کہنے پر وحشی نے حضرت حمزہ کو قتل کیا تھا اور اس کے بعد ہند نے ان کا کلیجہ چبایا۔ 
بلکہ صحیح بخاری کے الفاظ تو کچھ اور ہی بتاتے ہیں:
 عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان فرماتی ہیں کہ : ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اسلام لانے کے بعد ) حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ! روئے زمین پر کسی گھرانے کی ذلت آپ کے گھرانے کی ذلت سی زیادہ میرے لیے خوشی کا باعث نہیں تھی لیکن آج کسی گھرانے کی عزت روئے زمین پر آپ کے گھرانے کی عزت سے زیادہ میرے لیے خوشی کی وجہ نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس میں ابھی اور ترقی ہو گی۔ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے“ پھر ہند نے کہا: یا رسول اللہ! ابوسفیان بہت بخیل ہیں تو کیا اس میں کچھ حرج ہے اگر میں ان کے مال میں سے ( ان کی اجازت کے بغیر ) بال بچوں کو کھلا دیا اور پلا دیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا ہاں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ دستور کے مطابق ہونا چاہئے۔
(Sahi bukhari:3825) 
اسی طرح فتح مکہ کے موقع سے آپ نے فرمایا تھا:مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ أَغْلَقَ عَلَيْهِ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ ..

غزوہ احد میں حضرت حمزہ کا جگر چبانے کے واقعے کی تحقیق پارٹ 3

بسم اللہ الرحمن الرحیم
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ 

مولانا اقبال قاسمی سلفی

اس سے پہلے کے دو ہوسٹ میں ہم نے یہ دیکھا تھا کہ غزوہ احد میں حضرت ہند بنت عتبہ کا حضرت حمزہ کا جگر چبانے کے متعلق جو مسند روایات آئی ہیں وہ منقطع، شاذ اور منکر المتن ہیں۔ 
اب ہم ان روایات کو دیکھیں گے جو اس واقعے کے متعلق مرسل وارد ہوئی ہیں۔ 

 امامِ بیہقی نے دلائل النبوۃ میں، ابن اسحاق نے "السیرۃ" میں، علامہ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں اور واقدی نے مغازی میں اس روایت کو مرسلاً بیان کیا ہے۔ 

چنانچہ امام بیہقی نے 
 من طريق ابن لهيعة، عن أبي الأسود، عن عروة بن الزبير اسے روایت کیا ہے:

1)قال البيهقي:
أخبرنا أبو عبد الله الحافظ، قال: أخبرنا أبو جعفر البغدادي، قال: حدثنا محمد بن عمرو بن خالد، قال: حدثنا أبي قال: حدثنا ابن لهيعة، عن أبي الأسود، عن عروة بن الزبير.. ووجدوا حمزة بن عبد المطلب عم رسول الله صلى الله عليه وسلم قد بقر بطنه، واحتملت كبده، حملها وحشي، وهو قتله وشق بطنه، فذهب بكبده إلى هند بنت عتبة في نذر نذرته حين قتل أباها يوم بدر..
(دلائل النبوة.3/282) 


ترجمہ: عروہ ابن زبیر کہتے ہیں کہ:لوگوں نے حضرت حمزہ کو اس حال میں پایا تھا کہ ان کا پیٹ چیر کر کلیجہ نکال لیا گیا تھا، وحشی اسے لئے ہواتھا، اسی نے قتل کیا تھا اور ہیٹ بھی اسی نے چاک کئے تھے، وہ حضرت حمزہ کے کلیجے کو لے کر ہند بنت عتبہ کے پاس گیا اس نذر کو پوری کرنے کے لئے جو ہند بنت عتبہ نے اس دن مانی تھی جب اس کا باپ بدر کے دن مارا گیا تھا۔ 
اس روایت میں ابن لہیعہ راوی یے جو ضعیف ہیں کیونکہ کتابیں جلنے کے بعد یہ کثیر اختلاط کے شکار ہو گئے تھے۔ نیز عروہ بن زبیر تابعی ہیں جو براہ راست اس واقعے کو بیان کر رہےہیں جبکہ وہ اس وقت موجود نہیں تھے۔لہذا یہ روایت مرسل ہونے کی وجہ سے بھی ضعیف ہے۔ 

2) ابن اسحاق کی ذکر کردہ روایت:
ابن اسحاق نےاسے "السیرۃ" میں بیان کیا ہے۔ 
روایت : أخبرنا عبد الله بن الحسن الحراني قال: نا النفيلي قال: نا محمد بن سلمة عن محمد بن اسحق قال: قد وقفت هند بنت عتبة كما حدثني صالح بن كيسان والنسوة الآتون معها يمثلن بالقتلى من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يجدعن الآذان والآناف حتى اتخذت هند من آذان الرجال وأنافهم خذماً وقلائداً، وأعطت خذمها وقلائدها وقرطيها وحشياً غلام جبير بن مطعم، وبقرت عن كبد حمزة فلاكتها فلم تستطيع أن تسيغها، ثم علت على صخرة مشرفة فصرخت بأعلى صوتها وقالت، من الشعر حين ظفروا بما أصابوا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم:نحن جزيناكم بيوم بدرفأجابتها هند بنت أثاثة بن عباد بن المطلب بن عبد مناف فقالت:والحرب بعد الحرب ذات سعر ما كان لي عن عتبة من صبر ولا أخي وعمه وبكر شفيت نفسي وقضيت نذري شفيت وحشي غليل صدري فشكر وحشي علي عمري حتى ترم أعظمي في قبري 
(سيرة ابن إسحاق :كتاب السير والمغازي)

ابن اسحاق سے مروی ہے کہ مجھ سے صالح بن کیسان نے بیان کیا کہ ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا اور ان کے ساتھ شریک خواتین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہدا ساتھیوں کا مثلہ کرنے لگیں ، وہ ان کے ناک اور کان کاٹ رہی تھیں‌، یہاں‌تک کہ ہند رضی اللہ عنہا نے جو اپنے ہار ، پازیب اور بالیاں وغیرہ وحشی کو دے چکی تھیں ، ان شہدا کے کٹے ہوئے ناکوں اور کانوں کے پازیب بنائے ہوئی تھیں اور انہوں نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہا کا کلیجہ چیر کر نکالا اور چبانے لگیں‌، لیکن اسے بآسانی حلق میں اتار نہ سکیں تو تھوک دیا ۔ پھر ایک اونچی چٹان پر چڑھ گئیں اور بلند آواز سے چیختے ہوئے کہا :

'' ہم نے تمہیں یومِ بدر کا بدلہ دے دیا ، جنگ کے بعد جنگ جنون والی ہوتی ہے ، عتبہ کے معاملے میں مجھ میں صبر کی سکت نہ تھی ، اور نہ ہی اپنے بھائی اور اس کے چچا ابوبکر پر میں نے اپنی جان کو شفا دی اور انتقام کو پور کیا ، وحشی تو نے میرے غصہ کی آگ بجھا دی ، پس وحشی کا مجھ پر عمربھراحسان رہے گا ، یہاں‌تک کہ قبر میں میری ہڈیاں بوسیدہ ہو جائیں‌' 
(سیرۃ ابن اسحاق ج3 ص36)
یہ روایت ابن اسحاق کی ہے اور ابن اسحاق خود ہی ضعیف ہے۔یحییٰ بن سعيد القطان ابن اسحاق کے بارے میں فرماتے ہیں : 
"كذاب، ومرة: تركته متعمدا ولم أكتب عنه حديثا قط، ومرة: جرحه۔" 
نیز صالح بن کیسان گرچہ ثقہ ہیں لیکن تابعی ہیں، انہوں نے اس واقعے کو پایا ہی نہیں ہے لہذا یہ روایت مرسل ہونے کی وجہ سے بھی ضعیف ہے۔ 

3) علامہ ابن کثیر نے اس واقعے کو بلا سند موسی بن عقبہ تابعی کے حوالے سے بیان ہے۔ لکھتے ہیں:
وذكر موسى بن عقبة: أن الذي بقر عن كبد حمزة وحشي فحملها إلى هند فلاكتها فلم تستطع أن تسيغها۔ 
ترجمہ:حضرت حمزہ کا جگر چاک کرنے والا وحشی تھا وہ اسے ہند بنت عتبہ کے پاس لے کر گیا اور وہ اسے چبانے لگی لیکن نگل نہ سکی۔ 
(البدایہ والنہایہ ج4 ص 43)
 
لیکن موسی بن عقبہ تابعی ہیں انہوں نے بھی رسول ﷺ کو نہیں پایا ہے اور نہ یہ اس غزوے میں شریک تھے۔ اور اس کی سند کا بھی کو پتہ نہیں ہے۔

اس کے علاوہ اس واقعے کو اردو سیرت نگاروں نے بھی خوب جگہ دی ہے ۔ 
صاحب الرحیق المختوم نے بھی اس واقعے کو سیرت ابن ہشام کے حوالےسے بیان کیا ہے۔ یہاں تک کہ ہمارے یہاں یہ جھوٹا واقعہ تعلیمی نصاب کی کتابوں میں بھی درج ہوتا ہے۔ لیکن جیسا کہ ان تحقیقات سے واضح ہوگیا کہ اس واقعے کی ایک بھی سند صحیح نہیں ہے۔ یہ واقعہ بنوامیہ کے خلاف رافضیوں کی طرف سے پھیلایا گیا ایک جھوٹا پروپیگنڈہ ہے۔ جسے قصہ گو واعظین فتح مکہ کے پر اللہ کے رسول ﷺ کے حسن اخلاق کی مثال بیان کرتے ہوئے پیش کرتے ہیں۔ 
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!! 

Thursday, October 21, 2021

غزوہ احد میں حضرت حمزہ کا کلیجہ چباۓ جانے کا واقعہ!! پارٹ 2

بسم اللہ الرحمن الرحیم

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

غزوہ احد میں حضرت حمزہ کا کلیجہ چباۓ جانے کا واقعہ!! پارٹ 2

مولا اقبال قاسمی سلفی

اس سے پہلے کے پوسٹ میں ہم نے بتایا تھا کہ اس واقعے کے متعلق صحیح احادیث میں حضرت ہند بنت عتبہ کے ذریعہ حضرت حمزہ کا کلیجہ چبانے ذکر کہیں موجود نہیں ہے۔ 

آئیے اب ان روایتوں کا جائزہ لیتے جن میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا یہ واقعہ بیان ہوا ہے۔

یہ روایتیں مسند اور مرسل دونوں طرح نقل ہوئی ہیں۔ 
یعنی اس واقعے کی بعض سندیں براہ راست صحابی رسول تک پہنچتی ہیں اور بعض تابعی پر موقوف ہے۔ 

ابن سعد، ابن ابی شیبہ اور امام احمد بن حنبل نے من طريق حماد بن سلمة، عن عطاء بن السائب، عن الشعبي، عن ابن مسعود اسے مسند بیان کیا ہے۔ چنانچہ مسند احمد میں ہے:  

(۱۰۷۳۱)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النِّسَائَ کُنَّ یَوْمَ أُحُدٍ خَلْفَ الْمُسْلِمِینَ یُجْہِزْنَ عَلٰی جَرْحٰی الْمُشْرِکِینَ، فَلَوْ حَلَفْتُ یَوْمَئِذٍ رَجَوْتُ أَنْ أَبَرَّ إِنَّہُ لَیْسَ أَحَدٌ مِنَّا یُرِیدُ الدُّنْیَا، حَتَّی أَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: {مِنْکُمْ مَنْ یُرِیدُ الدُّنْیَا وَمِنْکُمْ مَنْ یُرِیدُ الْآخِرَۃَ ثُمَّ صَرَفَکُمْ عَنْہُمْ لِیَبْتَلِیَکُمْ} فَلَمَّا خَالَفَ أَصْحَابُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعَصَوْا مَا أُمِرُوا بِہِ، أُفْرِدَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی تِسْعَۃٍ سَبْعَۃٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَرَجُلَیْنِ مِنْ قُرَیْشٍ وَہُوَ عَاشِرُہُمْ، فَلَمَّا رَہِقُوہُ، قَالَ: ((رَحِمَ اللّٰہُ رَجُلًا رَدَّہُمْ عَنَّا۔)) قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَاتَلَ سَاعَۃً حَتّٰی قُتِلَ، فَلَمَّا رَہِقُوہُ أَیْضًا قَالَ: ((یَرْحَمُ اللّٰہُ رَجُلًا رَدَّہُمْ عَنَّا۔)) فَلَمْ یَزَلْیَقُولُ ذَا حَتّٰی قُتِلَ السَّبْعَۃُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِصَاحِبَیْہِ: ((مَا أَنْصَفْنَا أَصْحَابَنَا۔)) فَجَائَ أَبُو سُفْیَانَ فَقَالَ: اعْلُ ہُبَلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((قُولُوا: اَللَّہُ أَعْلٰی وَأَجَلُّ۔)) فَقَالُوا: اللّٰہُ أَعْلٰی وَأَجَلُّ، فَقَالَ أَبُو سُفْیَانَ: لَنَا عُزّٰی وَلَا عُزّٰی لَکُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((قُولُوا: اللّٰہُ مَوْلَانَا وَالْکَافِرُونَ لَا مَوْلٰی لَہُمْ۔)) ثُمَّ قَالَ أَبُو سُفْیَانَ: یَوْمٌ بِیَوْمِ بَدْرٍ، یَوْمٌ لَنَا وَیَوْمٌ عَلَیْنَا، وَیَوْمٌ نُسَائُ وَیَوْمٌ نُسَرُّ، حَنْظَلَۃُ بِحَنْظَلَۃَ، وَفُلَانٌ بِفُلَانٍ، وَفُلَانٌ بِفُلَانٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَا سَوَائً أَمَّا قَتْلَانَا فَأَحْیَائٌیُرْزَقُونَ، وَقَتْلَاکُمْ فِی النَّارِ یُعَذَّبُونَ۔)) قَالَ أَبُو سُفْیَانَ: قَدْ کَانَتْ فِی الْقَوْمِ مُثْلَۃٌ، وَإِنْ کَانَتْ لَعَنْ غَیْرِ مَلَإٍ مِنَّا مَا أَمَرْتُ وَلَا نَہَیْتُ وَلَا أَحْبَبْتُ وَلَا کَرِہْتُ وَلَا سَائَ نِیْ وَلَا سَرَّنِی، قَالَ: فَنَظَرُوا فَإِذَا حَمْزَۃُ قَدْ بُقِرَ بَطْنُہُ وَأَخَذَتْ ہِنْدُ کَبِدَہُ فَلَاکَتْہَا فَلَمْ تَسْتَطِعْ أَنْ تَأْکُلَہَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أَأَکَلَتْ مِنْہُ شَیْئًا؟)) قَالُوا: لَا، قَالَ: ((مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُدْخِلَ شَیْئًا مِنْ حَمْزَۃَ النَّارَ۔)) فَوَضَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَمْزَۃَ فَصَلَّی عَلَیْہِ، وَجِیئَ بِرَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَوُضِعَ إِلَی جَنْبِہِ،فَصَلَّی عَلَیْہِ، فَرُفِعَ الْأَنْصَارِیُّ وَتُرِکَ حَمْزَۃُ، ثُمَّ جِیء َ بِآخَرَ فَوَضَعَہُ إِلَی جَنْبِ حَمْزَۃَ فَصَلَّی عَلَیْہِ، ثُمَّ رُفِعَ وَتُرِکَ حَمْزَۃُ، حَتَّی صَلَّی عَلَیْہِیَوْمَئِذٍ سَبْعِینَ صَلَاۃ۔ (مسند احمد: ۴۴۱۴)

ترجمہ:سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ احد کے دن خواتین مسلمانوں کے پیچھے تھیں اور وہ مشرکین کے زخمی لوگوں کی مرہم پٹی اور خدمت کر رہی تھیں، میں اس روز قسم اُٹھا کر کہہ سکتا تھا کہ ہم میں سے ایک بھی آدمی دنیا کا خواہش مند اور طالب نہ تھا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {مِنْکُمْ مَنْ یُرِیدُ الدُّنْیَا وَمِنْکُمْ مَنْ یُرِیدُ الْآخِرَۃَ ثُمَّ صَرَفَکُمْ عَنْہُمْ لِیَبْتَلِیَکُمْ}… اس لیے کہ تم میں سے کچھ لوگ دنیا کے طالب تھے اور کچھ آخرت کی خواہش رکھتے تھے، تب اللہ نے تمہیں کافروں کے مقابلہ میں پسپا کر دیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے۔ جب بعض صحابہ سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حکم کی خلاف ورزی ہو گئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حکم عدولی کے مرتکب ہوئے اور حالات نے رخ بدلا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سات انصار اور دو قریشیوں کے ایک گروپ میں علیحدہ ہو گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان میں دسویں فرد تھے، جب کفار آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر چڑھ آئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس آدمی پر اللہ کی رحمت ہو جو ان حملہ آوروں کو ہم سے ہٹائے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم برابر یہ بات کہتے رہے تاآنکہ ان میں سے سات آدمی شہید ہو گئے اور صرف دو آدمی باقی بچے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ان دونوں ساتھیوں سے فرمایا: ہم نے اپنے ان ساتھیوں سے انصاف نہیں کیا (یعنی قریشیوں نے انصاریوں سے انصاف نہیں کیا کہ انصاری ہییکے بعد دیگرے نکل نکل کر شہید ہوتے گئے یا ہمارے جو لوگ میدان سے راہِ فرار اختیار کر گئے ہیں انہوں نے ہمارے ساتھ انصاف نہیں کیا)۔ ابو سفیان نے آکر کہا: اے ہبل! تو سربلند ہو تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے جواب میں تم یوں کہو اَللّٰہُ أَعْلَی وَأَجَلُّ (اللہ ہی بلند شان والا اور بزرگی والا ہے۔) صحابہ نے بلند آواز سے کہا: اَللّٰہُ أَعْلَی وَأَجَلّ۔ُپھر ابو سفیان نے کہا: ہمارا تو ایک عزی ہے اور تمہارا کوئی عزی نہیں ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم کہو اللہ ہمارا مدد گار ہے اور کافروں کا کوئی بھی مدد گار نہیں ہے۔ پھر ابو سفیان نے کہا: آج کا دن بدر کے دن کا بدلہ ہے، آج ہمیں فتح ہوئی ہے، اس روز ہمیں شکست ہوئی تھی، ایک دن ہمیں برا لگا اور ایک دن ہمیں اچھا لگا، حنظلہ کے مقابلے میں حنظلہ، فلاں کے فلان مقابلے میں اور فلاں بالمقابل فلاں، یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہمارے تمہارے درمیان کوئی برابری نہیں، ہمارے مقتولین زندہ ہیں، انہیں اللہ کی طرف سے رزق دیا جاتا ہے اور تمہارے مقتولین جہنم میں ہیں، انہیں عذاب سے دو چار کیا جاتا ہے۔ ابو سفیان نے کہا: تمہارے یعنی مسلمانوں کے مقتولین کا مثلہ کیا گیا ہے ،یہ کام ہماری رائے یا مشاورت کے بغیر ہوا ہے، میں نے نہ اس کا حکم دیا اور نہ اس سے روکا۔ اور میں نے اسے پسند یا نا پسند بھی نہیں کیا، مجھے اس کا نہ غم ہوا ہے اور نہ خوشی۔ صحابہ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جب شہدائے کرام کو دیکھاتو سیّد نا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا پیٹ چاک کیا گیا تھا، ابو سفیان کی بیوی ہند نے ان کا جگر نکال کر اسے چبایا، مگر وہ اسے کھا نہ سکی،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا اس نے اس میں سے کچھ کھایا تھا؟ صحابہ نے عرض کیا: جی نہیں ،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ حمزہ کے جسم کے کسی بھی حصہ یا اس کے جزء کو جہنم میں داخل کرنے والا نہیں ہے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی میت کو سامنے رکھ کر ان کی نماز جنازہ ادا کی، بعد ازاں ایک انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی میت کو لایا گیا، اسے سیّدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پہلو میں رکھ کر اس کی نماز جنازہ ادا کی گئی، انصاری کی میت کو اُٹھا لیا گیا اور سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی میت کو وہیں رہنے دیا گیا، پھر ایک اور شہید کو لایا گیا، اسے بھی سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پہلو میں رکھ کر اس کی نماز جنازہ ادا کی گئی، پھر اسے اُٹھا لیا گیا اور سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو وہیں رہنے دیا گیا،یہاں تک کہ اس روز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی نماز جنازہ ستر بار ادا فرمائی۔ 
(Musnad Ahmad:10731) 
علامہ ابن کثیر اس کی سند کے متعلق فرماتے ہیں:" تفرد به أحمد وهذا إسناد فيه ضعف أيضا من جهة عطاء بن السائب. فالله أعلم. والذي رواه البخاري أثبت۔ 

اس روایت کو بیان کرنے میں امام احمد منفرد ہیں
یہ سند عطاء بن سائب کی وجہ سے بھی ضعیف ہے، اور امام بخاری کی روایت ہی اثبت ہے۔ 
(البدایہ والنہایہ ج4 ص 46) 

عطاء بن سائب مختط راوی ہیں، اسی وجہ سے علامہ ہیثمی اس سند کے بارے میں فرماتے ہیں: اس سند میں عطاء بن سائب ہیں اور وہ مختلط ہیں۔
 ابن حجر العسقلاني عطاء بن سائب کے بارے میں میں فرماتے ہیں: 
صدوق اختلط بأخرة، وقال مرة: صدوق اختلط، ومرة: من مشاهير الرواة الثقات إلا أنه اختلط فضعفوه بسبب ذلك وتحصل لي من مجموع كلام الأئمة أن رواية شعبة وسفيان الثوري وزهير بن معاوية وزائدة وأيوب وحماد بن زيد عنه قبل الاختلاط وأن جميع من روى عنه غير هؤلاء فحديثه ض۔
اور عطا بن سائب سے روایت کرنے والے حماد بن سلمہ ہیں، جن کا سماع عطاء بن سائب سے مختلف فیہ ہے، انہوں نے اپنے استاد عطاء بن سائب سے قبل الاختلاط سنا ہے یا بعد الاختلاط، یہ مختلف فیہ ہے۔ بعض نے سماعت قبل الاختلاط کو تسلیم کیا ہے اور بعض نے بعد الاختلاط کو۔ حافظ ابن حجر دونوں حال میں سننے کو تر جیح دیا یے، قبل الاختلاط بھی اور بعد الاختلاط بھی۔ 
اور اگر حماد بن سلمہ کا سماع عطاء بن سائب سے قبل الاختلاط تسلیم بھی کرلیں تب بھی عطاء بن سائب کے استاد عامر الشعبی کا سماع عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں ہے:
قال الحاكم:"لم يسمع عبد الله بن مسعود ، إنما رآه رؤية".(سؤالات مسعود بن علي السجزي.149).قال الهيثمي:"الشعبي لم يسمع من ابن مسعود".(مجمع الزوائد.298/5). قال الداراقطني:"لم يسمع من ابن مسعود و إنما رآه رؤية".(رواة التهذيب.3092).
لہذا یہ روایت منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔
دوسری وجہ ضعف اس روایت کا شاذ ہونا ہے۔
اس روایت میں کئی ایسی باتیں ہیں جو دوسری صحیح روایات میں نہیں ہے جیسے:

1)صحیح بخاری ودیگر کتب ِصحاح میں مسلمان عورتوں کے مشرکین زخمیوں پرحملہ آور ہونے کا ذکرنہیں ہے جبکہ یہاں اس بات کا ذکر ہے کہ مسلمان عورتیں زخمی مشرکوں پرحملہ آور ہو رہی تھیں ۔
2) صحیح احادیث میں : یوم لنا ویوم علینا، ویوم نُسَاء ویوم نُسَرُّ، حنظلة بحنظلة وفلان بفلان کا ذکر بھی نہیں ہے جبکہ اس روایت میں مسجع ومقفیٰ عبارت موجود ہے جو خود ساختہ معلوم ہوتی ہے۔

3)اس روایت میں ذکر ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان کے جواب میں خود فرمایا: لا سواء أما قتلانا فأحیاء یُرزقون وقتلاکم في النار یُعذَّبون جبکہ صحیح حدیث میں منقول ہے کہ حضرت عمربن خطابؓ نے اس مفہوم کا جواب دیا تھا۔

4)اس روایت میں اس بات کا ذکر ہے کہ ابوسفیان نے پہلےأعلُ ھُبل کانعرہ لگایا تھا جبکہ صحیح احادیث میں ہے کہ اس نے دامنِ اُحد میں کھڑا ہوکر پوچھا تھا کہ تم میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہے؟ کیا تم میں ابن ابی قحافہ ہے؟ کیا تم میں ابن خطاب ہے، پھر اس کے بعد اس نے أعلُ ھبل کہا تھا۔
5) اس روایت میں ہے کہ حضرت رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداے اُحد کی فرداً فرداً نمازِ جنازہ پڑھی اور حضرت حمزہؓ کی ستر مرتبہ نمازِ جنازہ پڑھی جبکہ صحیح احادیث میں ہے کہ آپؐ نے شہداے اُحد کو نہ توغسل دیا تھااور نہ ان کی نمازِ جنازہ پڑھی تھی بلکہ اُنہیں خود شہادت سمیت دفن کردیا تھا۔ علاوہ ازیں اس میں کئی ایسی باتیں اوربھی ہیں جو اس روایت کے شاذ ہونے پر دلالت کرتی ہیں ۔
6) اس روایت کامتن بھی منکر ہے اور وہ اس طرح کہ اس روایت میں ذکر ہے کہ آپ نے پوچھا: (أ أکلت منھا شیئا؟) قالوا: لا، (قال ما کان اﷲ لیدخل شیئًا من حمزة النار) اس روایت کامدعا ہے کہ ہندبن عتبہ اسلام قبول نہیں کرے گی اور جہنم میں داخل ہوگی کیونکہ اللہ نے حمزہؓ بن عبدالمطلب کے بدن کے کسی جز کو ایسے بدن میں داخل نہیں ہونے دیا جو آگ میں جلنا ہے۔ جبکہ صحیح بخاری جیسی کتب ِصحاح میں صحیح الاسناد روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ ہندؓ نے فتح مکہ کے دن اسلام قبول کیا اور ساری زندگی اسلام و ایمان پرقائم رہیں۔
بلکہ ایمان لانے کے بعد محبت رسول کا اظہار ان الفاظ میں کرتی ہیں: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ مِنْ أَهْلِ خِبَاءٍ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يَذِلُّوا مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ ، ثُمَّ مَا أَصْبَحَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَهْلُ خِبَاءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ ، أَنْ يَعِزُّوا مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ ، قَالَ : وَأَيْضًا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِ۔ ترجمہ:
یا رسول اللہ! روئے زمین پر کسی گھرانے کی ذلت آپ کے گھرانے کی ذلت سی زیادہ میرے لیے خوشی کا باعث نہیں تھی لیکن آج کسی گھرانے کی عزت روئے زمین پر آپ کے گھرانے کی عزت سے زیادہ میرے لیے خوشی کی وجہ نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس میں ابھی اور ترقی ہو گی۔ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ 
(Sahi bukhari:3825) 

اگرچہ اس روایت کو شیخ احمد شاکر اور دوسرے بعض محققین مسند احمد نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے لیکن وہ من حیث المجموع ہے۔ اور مجموعی حیثیت سے کسی حدیث کو صحیح قرآن دینا اس بات کو مستلزم نہیں ہوتا کہ اس حدیث کا ہر ہر جز صحیح یے۔ 


اس سے پہلے ہم نے یہ دیکھا تھا کہ غزوہ احد میں حضرت ہند بنت عتبہ کا حضرت حمزہ کا جگر چبانے کے متعلق جو مسند روایات آئی ہیں وہ منقطع، شاذ اور منکر المتن ہیں۔ 
اب ہم ان روایات کو دیکھیں گے جو اس واقعے کے متعلق مرسل وارد ہوئی ہیں۔ 

 امامِ بیہقی نے دلائل النبوۃ میں، ابن اسحاق نے "السیرۃ" میں، علامہ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں اور واقدی نے مغازی میں اس روایت کو مرسلاً بیان کیا ہے۔ 

چنانچہ امام بیہقی نے 
 من طريق ابن لهيعة، عن أبي الأسود، عن عروة بن الزبير اسے روایت کیا ہے:

1)قال البيهقي:
أخبرنا أبو عبد الله الحافظ، قال: أخبرنا أبو جعفر البغدادي، قال: حدثنا محمد بن عمرو بن خالد، قال: حدثنا أبي قال: حدثنا ابن لهيعة، عن أبي الأسود، عن عروة بن الزبير.. ووجدوا حمزة بن عبد المطلب عم رسول الله صلى الله عليه وسلم قد بقر بطنه، واحتملت كبده، حملها وحشي، وهو قتله وشق بطنه، فذهب بكبده إلى هند بنت عتبة في نذر نذرته حين قتل أباها يوم بدر..
(دلائل النبوة.3/282) 


ترجمہ: عروہ ابن زبیر کہتے ہیں کہ:لوگوں نے حضرت حمزہ کو اس حال میں پایا تھا کہ ان کا پیٹ چیر کر کلیجہ نکال لیا گیا تھا، وحشی اسے لئے ہواتھا، اسی نے قتل کیا تھا اور ہیٹ بھی اسی نے چاک کئے تھے، وہ حضرت حمزہ کے کلیجے کو لے کر ہند بنت عتبہ کے پاس گیا اس نذر کو پوری کرنے کے لئے جو ہند بنت عتبہ نے اس دن مانی تھی جب اس کا باپ بدر کے دن مارا گیا تھا۔ 
اس روایت میں ابن لہیعہ راوی یے جو ضعیف ہیں کیونکہ کتابیں جلنے کے بعد یہ کثیر اختلاط کے شکار ہو گئے تھے۔ نیز عروہ بن زبیر تابعی ہیں جو براہ راست اس واقعے کو بیان کر رہےہیں جبکہ وہ اس وقت موجود نہیں تھے۔لہذا یہ روایت مرسل ہونے کی وجہ سے بھی ضعیف ہے۔ 

2) ابن اسحاق کی ذکر کردہ روایت:
ابن اسحاق نےاسے "السیرۃ" میں بیان کیا ہے۔ 
روایت : أخبرنا عبد الله بن الحسن الحراني قال: نا النفيلي قال: نا محمد بن سلمة عن محمد بن اسحق قال: قد وقفت هند بنت عتبة كما حدثني صالح بن كيسان والنسوة الآتون معها يمثلن بالقتلى من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يجدعن الآذان والآناف حتى اتخذت هند من آذان الرجال وأنافهم خذماً وقلائداً، وأعطت خذمها وقلائدها وقرطيها وحشياً غلام جبير بن مطعم، وبقرت عن كبد حمزة فلاكتها فلم تستطيع أن تسيغها، ثم علت على صخرة مشرفة فصرخت بأعلى صوتها وقالت، من الشعر حين ظفروا بما أصابوا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم:نحن جزيناكم بيوم بدرفأجابتها هند بنت أثاثة بن عباد بن المطلب بن عبد مناف فقالت:والحرب بعد الحرب ذات سعر ما كان لي عن عتبة من صبر ولا أخي وعمه وبكر شفيت نفسي وقضيت نذري شفيت وحشي غليل صدري فشكر وحشي علي عمري حتى ترم أعظمي في قبري 
(سيرة ابن إسحاق :كتاب السير والمغازي)

ابن اسحاق سے مروی ہے کہ مجھ سے صالح بن کیسان نے بیان کیا کہ ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا اور ان کے ساتھ شریک خواتین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہدا ساتھیوں کا مثلہ کرنے لگیں ، وہ ان کے ناک اور کان کاٹ رہی تھیں‌، یہاں‌تک کہ ہند رضی اللہ عنہا نے جو اپنے ہار ، پازیب اور بالیاں وغیرہ وحشی کو دے چکی تھیں ، ان شہدا کے کٹے ہوئے ناکوں اور کانوں کے پازیب بنائے ہوئی تھیں اور انہوں نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہا کا کلیجہ چیر کر نکالا اور چبانے لگیں‌، لیکن اسے بآسانی حلق میں اتار نہ سکیں تو تھوک دیا ۔ پھر ایک اونچی چٹان پر چڑھ گئیں اور بلند آواز سے چیختے ہوئے کہا :

'' ہم نے تمہیں یومِ بدر کا بدلہ دے دیا ، جنگ کے بعد جنگ جنون والی ہوتی ہے ، عتبہ کے معاملے میں مجھ میں صبر کی سکت نہ تھی ، اور نہ ہی اپنے بھائی اور اس کے چچا ابوبکر پر میں نے اپنی جان کو شفا دی اور انتقام کو پور کیا ، وحشی تو نے میرے غصہ کی آگ بجھا دی ، پس وحشی کا مجھ پر عمربھراحسان رہے گا ، یہاں‌تک کہ قبر میں میری ہڈیاں بوسیدہ ہو جائیں‌' 
(سیرۃ ابن اسحاق ج3 ص36)
یہ روایت ابن اسحاق کی ہے اور ابن اسحاق خود ہی ضعیف ہے۔یحییٰ بن سعيد القطان ابن اسحاق کے بارے میں فرماتے ہیں : 
"كذاب، ومرة: تركته متعمدا ولم أكتب عنه حديثا قط، ومرة: جرحه۔" 
نیز صالح بن کیسان گرچہ ثقہ ہیں لیکن تابعی ہیں، انہوں نے اس واقعے کو پایا ہی نہیں ہے لہذا یہ روایت مرسل ہونے کی وجہ سے بھی ضعیف ہے۔ 

3) علامہ ابن کثیر نے اس واقعے کو بلا سند موسی بن عقبہ تابعی کے حوالے سے بیان ہے۔ لکھتے ہیں:
وذكر موسى بن عقبة: أن الذي بقر عن كبد حمزة وحشي فحملها إلى هند فلاكتها فلم تستطع أن تسيغها۔ 
ترجمہ:حضرت حمزہ کا جگر چاک کرنے والا وحشی تھا وہ اسے ہند بنت عتبہ کے پاس لے کر گیا اور وہ اسے چبانے لگی لیکن نگل نہ سکی۔ 
(البدایہ والنہایہ ج4 ص 43)
 
لیکن موسی بن عقبہ تابعی ہیں انہوں نے بھی رسول ﷺ کو نہیں پایا ہے اور نہ یہ اس غزوے میں شریک تھے۔ اور اس کی سند کا بھی کو پتہ نہیں ہے۔

اس کے علاوہ اس واقعے کو اردو سیرت نگاروں نے بھی خوب جگہ دی ہے ۔ 
صاحب الرحیق المختوم نے بھی اس واقعے کو سیرت ابن ہشام کے حوالےسے بیان کیا ہے۔ یہاں تک کہ ہمارے یہاں یہ جھوٹا واقعہ تعلیمی نصاب کی کتابوں میں بھی درج ہوتا ہے۔ لیکن جیسا کہ ان تحقیقات سے واضح ہوگیا کہ اس واقعے کی ایک بھی سند صحیح نہیں ہے۔ یہ واقعہ بنوامیہ کے خلاف رافضیوں کی طرف سے پھیلایا گیا ایک جھوٹا پروپیگنڈہ ہے۔ جسے قصہ گو واعظین فتح مکہ کے پر اللہ کے رسول ﷺ کے حسن اخلاق کی مثال بیان کرتے ہوئے پیش کرتے ہیں۔ 

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!!

Sunday, October 3, 2021

بیعت یزید اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محمد اقبال قاسمي سلفي

موضوع: بیعت یزید اور صحابہ کرام

مصادر : مختلف مراجع و مصادر
 
چاند جو محرم کا نظر آتا ہے 
تیرے تن میں کیوں  شیطان اتر آتا ہے۔ 

یزید بن  معاویہ بن ابی سفیان بن حرب بن امیہ الاموی القرشی رضی اللہ عنہما  کو جس طرح اس حرمت والے مہینے میں سب و شتم کرنا حلال تصور کیاجاتا ہے ۔ انہیں لعن طعن کیا جاتا ہے اور انہیں خلافت کا نااہل قرار دیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا صحابہ اور خیر القرون کے لاکھوں مسلمانو نے وسیع و عریض خلافت کی باگ ڈور ایک ناایل کے سپرد کر دی تھی۔ اس سے بھی پہلے یہ سوال پیدا ہوتا کہ پوری امت بشمول صحابہ ایک نااہل کو اپنا خلیفہ نامزد کرنے پر متفق ہوگئی تھی۔ 

کیونکہ یزید کو خلیفہ بنانے والے خود صحابہ کرام تھے ۔ تو کیا صحابہ کرام نے ایک نااہل شخص کو اپنا خلیفہ منتخب کرلیا تھا۔ کیا صحابہ کرام کے تعلق سے یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے خلافت کی باگ ڈور ایک نااہل شخص  کے ہاتھ میں سپرد کر دی تھی۔

جبکہ جس صحابی نے یزید کو خلیفہ بنانے کا مشورہ دیا تھا وہ جلیل القدر صحابی حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ جو اصحاب بیعت رضوان میں سے ہیں جن کے متعلق اللہ رب العزت فرماتاہے:
 لَّقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا۔ 
یقینا اللہ ان مومنوں سے خوش ہوگیا جبکہ وہ درخت تلے تجھ سے بیعت کر رہے تھے ۔ ان کے دلوں میں جو تھا اس نے معلوم کرلیا اور ان پر اطمینان نازل فرمایا اور انہیں قریب کی فتح نصیب فرمائی۔ 
(سوره فتح:18) 

جب اہل مدینہ نے یزید بن معاویہ کی بیعت سے انکار کیا تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے خادموں اور لڑکوں کو جمع کیا اور کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر غدر کرنے والے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا کھڑا کیا جائے گا اور ہم نے اس شخص  ( یزید )  کی بیعت، اللہ اور اس کے رسول کے نام پر کی ہے اور میرے علم میں کوئی غدر اس سے بڑھ کر نہیں ہے کہ کسی شخص سے اللہ اور اس کے رسول کے نام پر بیعت کی جائے اور پھر اس سے جنگ کی جائے اور دیکھو مدینہ والو! تم میں سے جو کوئی یزید کی بیعت کو توڑے اور دوسرے کسی سے بیعت کرے تو مجھ میں اور اس میں کوئی تعلق نہیں رہا، میں اس سے الگ ہوں۔
   (صحيح البخاري: حديث نكبر: 7111) 
 
 صحیح ترین  روایات میں صرف اور صرف دو صحابی کا اختلاف ثابت ہے۔ ایک عبدالرحمن بن ابی بکر اور دوسرے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما۔ 
لیکن ان کا اختلاف بھی یزید کی ذات، شخصیت اور ان کے اخلاق و کردار سے نہیں تھا بلکہ صرف اور صرف باپ کے بعد بیٹے کو خلیفہ بناۓ جانے سے متعلق تھا۔

 جیسا کہ مندرجہ ذیل روایت سے ظاہر ہے:

عبد الرحمان بن ابی بکر کھڑے ہوۓ اور کہا: اے بنو امیہ! آپ ہماری طرف سے پیش کردہ تین طریقوں میں سے کوئی کوئی ایک طریقہ میں منتخب کر لو۔ اللہ کے نبی ﷺ کے طریقے کو اپناؤ یا ابوبکر صدیق رضی اللہ کے طریقے کو اپناؤ یا عمر فاروق رضی اللہ کے طریقے کو اپناؤ۔ یہ معاملہ اللہ کے نبی ﷺ کے سامنے بھی تھا اور آپ کے خاندان میں ایسے لوگ بھی تھے جنہیں اگر اللہ کے نبی ﷺ اپنا ولی عہد (خلیفہ) مقرر کر دیتے تو وہ اس کے اہل تھے۔ اس کے بعد ابو بکر کا دور آیا تو ان  کے خاندان میں بھی ایسے لوگ تھے جنہیں ابوبکر صدیق رضی اگر ولی عہد بنادیتے تو وہ اس کے اہل تھے۔ اس کے بعد عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دور آیا اور ان کے خاندان میں بھی ایسے لوگ تھے کہ اگر وہ انہیں ولی عہد بنا دیتے تو وہ اس کے اہل تھے۔ لیکن انہوں نے یہ معاملہ مسلمانوں کی ایک جماعت پر چھوڑ دیا اور تم لوگ چاہتے ہو کہ اس معاملے کو قیصریت(خاندانی) بنا ڈالو کہ جب ایک قیصر فوت ہو تو اس کی جگہ دوسرا قیصر لے لے۔ 
(تاریخ ابن ابی خیثمہ، واسنادہ صحیح)
اس روایت سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ اس اختلاف کی بنیاد یزید کی شخصیت یا اس کا فاسق یا فاجر ہونا نہیں تھا بلکہ یہ اختلاف اس اندیشے پر مبنی تھا کہ کہیں باپ کے بعد بیٹے کو خلیفہ بنانے سے خلافت ملو کیت میں نہ تبدیل ہو جائے اور ہر خلیفہ کے بعد اس کا بیٹا ہی خلیفہ بننے لگے۔

عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے اختلاف کا  سبب بھی یہی تھا نہ کہ یزید کی شخصیت وصلاحیت۔ 
جیسا کہ حضرت حسین رضی اللہ کے والد حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت سے بھی بعض صحابہ کرام نے اختلاف رائے کیا تھا لیکن وہ بھی حضرت علی رضی اللہ کی شخصیت سے اختلاف نہیں بلکہ بعض مصلحتوں کو بنیاد بنا کراختلاف کیا گیا تھا۔ 

امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی میں ہی خلیفہ کی نامزدگی کیوں کر دی اور اگر کرنی ہی تھی تو اپنے بیٹے کو ہی کیوں خلیفہ نامزد کیا۔ اور وہ بھی عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن عباس جیسے صحابہ کرام کے رہتے ہوئے؟؟ 

تو پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ ایسا اس وقت کے حالات کے پیش نظر کیا گیا تھا اور ایسا کرنا ضروری بھی تھا۔ یہی اس وقت کی مصلحت کا تقاضا تھا۔ مسلمانوں کو باہمی جنگ وجدال سے بچانا تھا۔ اگر معاویہ رضی اللہ عنہ اپنی زندگی میں ہی کسی کو خلیفہ نامزد نہ کرتے بلکہ اس معاملے کو مسلمانوں کے باہمی مشورے پر چھوڑ دیتے تو اندیشہ تھا کہ لوگ فتنہ و فساد میں مبتلا ہوجاتے۔ کیونکہ اس وقت باغی تحریک کوفہ میں پوری قوت کے ساتھ موجود تھی۔ گرچہ یہ تحریک حضرت معاویہ اور زیاد رضی اللہ عنہمَا کی کاروائی سے وقتی طور پر دب گئی تھی لیکن راکھ میں چنگاریاں موجود تھیں اور آپ رضی اللہ عنہ کو یہ نظر آرہا تھا کہ آپ کی وفات کے بعد یہ چنگاریاں کبھی بھی آگ بن کر فتنے کو بھڑکا سکتی ہیں۔ اس چنگاری کو اپنی زندگی میں ہی بجھا دیں تاکہ امت میرے بعد فتنے کا شکار نہ ہوجاۓ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی میں ہی خلافت کی نامزدگی فرمادی۔

رہا یہ سوال کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بعد خلافت کی نامزدگی کے لئے اپنے بیٹے یزید کا ہی انتخاب کیوں کیا جبکہ جلیل القدر صحابہ موجود تھے؟

تو اگر آپ اس وقت کے حالات کا جائزہ لیں گے تو معلوم ہو جائے گا کہ سن 60ھ میں نبی ﷺ کو وفات پاۓ نصف صدی گذر چکے تھے ۔ اس نصف صدی میں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے علاوہ نبی ﷺ کے اکابر صحابہ جو آپ کے قریبی ساتھی تھے، وفات پا چکے تھے۔ 
حضور کی وفات کے وقت جو صحابہ نوجوان تھے، وہ بھی اب ستر کے پیٹے میں تھے۔ ہاں آپ کی وفات کے موقع پر جو صحابہ بچے تھے، وہ اب پچاس ساٹھ سال کی عمر میں تھے اور ان لوگوں میں ابن عمر، ابن عباس، حسین بن علی اور ابن زبیر رضی اللہ عنہم نمایاں تھے۔ اب ہم ان تمام بزرگوں کے حالات کو تفصیل سے دیکھتے ہیں۔

1۔ سب سے پہلے بزرگ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تھے جو فاروق اعظم کے بیٹے تھے اور ان کی پرورش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوئی تھی۔ آپ کو سیاسی سرگرمیوں سے دلچسپی نہیں تھی بلکہ اس کی بجائے آپ اپنا زیادہ وقت عبادت اور تعلیم کے میدان میں گزارتے تھے۔ کئی مرتبہ آپ کو خلیفہ بنانے کی تجویز پیش ہوئی تو آپ نے اسے مسترد کر دیا تھا۔

2۔ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی پبلک ایڈمنسٹریشن کے میدان کے آدمی نہ تھے بلکہ ان کی سرگرمیوں کا میدان علمی تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور میں آپ بصرہ کے گورنر رہ چکے تھے لیکن اب طویل عرصہ سے ایڈمنسٹریٹو معاملات سے دور تھے۔ آپ نے مکہ میں ایک بہترین تعلیمی اور ریسرچ انسٹی ٹیوٹ قائم کر رکھا تھا اور یہی پراجیکٹ آپ کی زندگی کا اب مشن بن چکا تھا۔ اس ادارے میں آپ نہایت ذہین و فطین طلباء کو مستقبل میں امت کی فکری قیادت کے لیے تیار کر رہے تھے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اسی ادارے نے وہ جلیل القدر عالم پیدا کیے جو اگلی نسل میں مسلمانوں کے چوٹی کے فکری و مذہبی راہنما بنے۔

3۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ایک نہایت جلیل القدر بزرگ اور عالم تھے۔ آپ ہجرت نبوی کے بعد پیدا ہونے والے پہلے بچے تھے اور خلفاء راشدین اور خود حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم کے زمانے میں اہم خدمات انجام دے چکے تھے۔ آپ کا معاملہ یہ تھا کہ آپ کا اثر و رسوخ صرف مکہ اور مدینہ تک محدود تھا اور آپ کو پورے عالم اسلام میں وہ اثر و رسوخ حاصل نہ تھا جو کہ خلیفہ کے لیے ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعد میں جب آپ نے اپنی خلافت کا اعلان کیا تو عراق اور شام کے لوگوں نے آپ کے خلاف بغاوت کر دی۔

4۔ چوتھے شخص حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما تھے جو کہ منصب خلافت کے لیے نہایت اہل تھے اور عالم اسلام میں آپ کی شخصیت کو مقبولیت حاصل تھی۔ افسوس کہ آپ کے معاملے میں عراق کے باغیوں نے ایک ایسا منصوبہ بنا رکھا تھا کہ جس کے باعث یہ شدید خطرہ لاحق تھا کہ یہ لوگ آپ کے ساتھ وہی معاملہ کریں گے جو اس سے پہلے آپ کے والد حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ کر چکے تھے۔

 واقعہ یہ ہے کہ اس زمانے میں عراق ایک مشکل صوبہ تھا۔ یہاں ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی باغی تحریک کے خلاف کاروائی کی گئی تھی اور اس کے زخم ابھی تازہ تھے۔ باغی زخمی سانپ کی طرح بل کھا رہے تھے اور ان کے سینے حکومت کے خلاف بغض و عناد سے بھرے ہوئے تھے۔ ان باغیوں کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اولاد سے ہمدردی نہیں تھی مگر اپنے اقتدار کے لیے یہ ان حضرات کو بطور سیڑھی استعمال کرنا چاہتے تھے۔ ان کے سامنے اپنے پیشروؤں کا وہی ماڈل تھا کہ خلیفہ کو کٹھ پتلی بنا کر اس کے پردے میں اپنا اقتدار قائم کیا جائے۔ اس کے لیے ان باغیوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو نظر میں رکھا ہوا تھا اور اس سے پہلے آپ کو کئی مرتبہ ترغیب دلا چکے تھے کہ آپ بغاوت کے لیے اٹھیں تو یہ ان کا ساتھ دیں گے لیکن حضرت حسین نے انہیں خاموش کر دیا تھا۔

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی انٹیلی جنس کا نظام بہت مضبوط تھا اور وہ یقینی طور پر ان باغیوں کے عزائم سے باخبر تھے۔ اگر وہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو نامزد کر دیتے تو اس بات کا پورا خطرہ موجود تھا کہ یہ باغی اقتدار پر قابض ہو جائیں گے۔ اہل شام ان کی مخالفت کریں گے اور خانہ جنگی دوبارہ شروع ہو جائے گی۔

اس زمانے کے سیاسی حالات میں ایک اور بڑا مسئلہ یہ تھا کہ اہل شام اور بنو امیہ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے سوا اور کسی خاندان کی حکومت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ کسی بھی اور خاندان سے اگر خلیفہ بنتا تو اس بات کا غالب امکان موجود تھا کہ شام میں بغاوت ہو جائے گی۔ شام چونکہ قیصر روم کی سرحد پر واقع تھا، اس وجہ سے وہاں کسی بھی خانہ جنگی کا رسک نہیں لیا جا سکتا تھا کیونکہ قیصر ایسے ہی موقع کی تلاش میں تھا اور اس سے پہلے بھی بار بار حملے کر چکا تھا۔ اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ سن64  میں یزید کی وفات کے فوراً بعد اہل شام میں اختلاف پیدا ہو گیا اور وہ ایک سال تک کسی خلیفہ پر متفق نہ ہو سکے تھے۔ علم عمرانیات کے بانی علامہ ابن خلدون جیسے مورخ نے بھی یہی بات کہی ہے۔ لکھتے ہیں:

حضرت معاویہ نے یزید کو ولی عہد بنایا کیونکہ اگر یزید ولی عہد نہ ہوتا تو مسلمانوں میں پھوٹ پیدا ہونے کا ڈر تھا۔ کیونکہ بنو امیہ اپنے سوا کسی دوسرے کی خلافت کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔ اگر کسی غیر کو ولی عہد بنا دیا جاتا تو وہ اسے مانتے نہیں اور اس طرح اتحاد میں خلل آتا۔ 

اس مسئلے کا ایک اور پہلو بھی تھا اور وہ یہ کہ حضرات حسین، ابن عباس اور ابن زبیر رضی اللہ عنہم پبلک ایڈمنسٹریشن سے کافی عرصہ سے دور تھے اور انہوں نے اپنی پوری توجہ امت کی تعلیم و تربیت اور تزکیہ نفس کی طرف وقف کر دی تھی۔ اس وجہ سے انہیں امور حکومت کا تجربہ نہ تھا۔ اس کے برعکس یزید امور حکومت کو انجام دینے میں مسلسل حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا تھا اور اس نے تجربہ حاصل کر رکھا تھا۔

یہی وہ اسباب اور فیکٹرز تھے جس کی وجہ سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو اپنی زندگی میں ہی خلافت کی نامزدگی کرنی پڑی اور وہ بھی اپنے بیٹے یزید کی شکل میں۔ 
یزید کو خلیفہ بناۓ جانے پر ہمیں صحابی رسول حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی نیت پر شک کرنے کا کوئی حق نہیں بنتا۔

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه! 

مولانا مودودی ‏اور ‏امیر ‏معاویہ ‏پر ‏الزام ‏بغاوت! ‏! ‏

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

مولانا اقبال قاسمی سلفی


مولانا مودودی ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے من گھڑت رویات کا سہارا لے کر صحابہ کرام پر جی بھر کر افترا پردازی کی ہے۔ بے سند روایتوں کے ذریعے صحابہ کرام کی عظیم شخصیتوں پر قلم کاری کا خوب مظاہرہ کیا ہے۔ مولانا خود تو بے سند یافتہ مولانا تھے لیکن دوسروں کو سند خوب دیا کرتے تھے۔ انہوں نے تو صحابہ کرام کو بھی حق اور باطل کا certificate دے دیا تھا۔ 
چنانچہ  مولانا لکھتے ہیں:

"اس جنگ کے دوران میں ایک واقعہ ایسا پیش آیا جس نے نص صریح سے یہ بات کھول دی کہ فریقین میں سے حق پر کون ہے اورباطل پر کون وہ واقعہ یہ ہے کہ حضرت عمار بن یاسر جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فوج میں شامل تھے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی فوج سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے، حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے متعلق نبی ﷺ کا یہ ارشاد صحابہ میں مشہور تھا۔ اور بہت سے صحابیوں نے اس کو حضور ﷺ کی زبان مبارک سے سنا تھا کہ تم کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا"۔ 
(خلافت و ملوکیت۔ص 136) 

در اصل حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے تعلق سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشنگوئی تھی کہ اے عمار! تمہیں باغی گروہ قتل کرے گا۔ پوری روایت ملاحظہ کریں۔ 

حضرت عکرمہ کہتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے اور  ( اپنے صاحبزادے )  علی بن عبداللہ سے فرمایا تم دونوں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جاؤ اور ان سے احادیث نبوی سنو۔ چنانچہ ہم حاضر ہوئے ‘ اس وقت ابوسعید رضی اللہ عنہ اپنے  ( رضاعی )  بھائی کے ساتھ باغ میں تھے اور باغ کو پانی دے رہے تھے ‘ جب آپ نے ہمیں دیکھا تو  ( ہمارے پاس )  تشریف لائے اور  ( چادر اوڑھ کر )  گوٹ مار کر بیٹھ گئے ‘ اس کے بعد بیان فرمایا ہم مسجد نبوی کی اینٹیں  ( ہجرت نبوی کے بعد تعمیر مسجد کیلئے )  ایک ایک کر کے ڈھو رہے تھے لیکن عمار رضی اللہ عنہ دو دو اینٹیں لا رہے تھے ‘ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ادھر سے گزرے اور ان کے سر سے غبار کو صاف کیا پھر فرمایا افسوس! عمار کو ایک باغی جماعت قتل کرےگی ‘ یہ تو انہیں اللہ کی  ( اطاعت کی )  طرف دعوت دے رہا ہو گا لیکن وہ اسے جہنم کی طرف بلا رہے ہوں گے۔ 
(Sahi bukhari 2812) 
 
یہ روایت صحیح بخاری ، مسلم کے علاوہ اور بھی متعدد کتب حدیث میں موجود ہے۔ 

اس حدیث میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا۔ "افسوس! عمار کو ایک باغی جماعت قتل کرے گی"۔ 

واضح رہے کہ صحابی رسول حضرت عمار جنگ صفین(جو حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کے درمیان ہوئی تھی)  میں حضرت علی کے ساتھ تھے اور اسی جنگ  میں آپ قتل ہو گۓ تھے۔ اور اللہ کے رسول ﷺ کی حدیث کے مطابق آپ کو باغی جماعت قتل کرے گی۔ 
اب اس باغی جماعت سے کون سے جماعت مراد ہے۔ کیا اس کا مصداق امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی جماعت ہے؟؟
 جیسا کہ مولانا مودودی اور شیعہ حضرات اس حدیث کا مصداق امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی جماعت کو قرار دے کر انہیں ہدف تنقید بناتے ہیں۔ اسی حدیث کے ذریعے شیعیت زدہ لوگ امیر معاویہ اور ان کی جماعت پر تکفیری فتوے لگاتے ہیں۔ 

لیکن سوال یہ کہ:

1) مولانا مودودی اس حدیث کے ذریعہ دو ٹوک انداز میں جس طرح حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما کی جماعت کو حق اور باطل کا سرٹیفکیٹ جاری فرما رہے ہیں۔ یہ حدیث تو بقول مولانا صحابہ کرام کے درمیان مشہور تھی لیکن کیا صحابی رسول میں سے کسی ایک نے بھی اس حدیث کی بنیاد پر امیر معاویہ اور ان کی جماعت کو باغی جماعت قراردیا تھا؟ اگر نہیں تو کیوں؟؟ 

2) کیا صحابہ کرام یہ جاننے کے بعد بھی کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی جماعت باغی جماعت ہے، پھر بھی کیا ایک باغی جماعت جماعت کا ساتھ دینے رہے؟؟؟ 

3) حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت حسن اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کے درمیان صلح ہوگئ تھی اور پوری امت امیر معاویہ کی خلافت پر متفق ہو گئی تھی، تو کیا حضرت حسن اور صحابہ کرام کی پوری جماعت یہ جاننے کے بعد بھی کہ معاویہ باغی ہیں، ایک باغی کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا تھا؟؟

4) حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بیس سال تک بلا نزاع خلیفہ رہے، تو کیا صحابہ کرام اور پوری امت ایک باغی کو بیس سال تک اپنا خلیفہ  تسلیم کئے رہی اور کسی ایک نے بھی یہ کہنے  کی جرأت نہ کی کہ حدیث رسول ﷺ کے مطابق آپ اور آپ کی جماعت باغی جماعت ہے؟؟ 

 جنگ صفین کے دوران ہی ایک مرحلہ ایسا آیا کہ جنگ بندی کی پیشکش کی گئی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس پیشکش کو قبول بھی کیا تو کیا، بقول مولانا مودودی اور ان کے چاہنے والے، نص صریح سے فیصلہ ہو جانے کے بعد بھی، کہ باغی کون ہے، حضرت علی نے اسے قبول کیا؟؟ جبکہ قرآن تو کہتا ہے باغی جماعت سے اس وقت تک قتال کرو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آۓ۔ 
(سوره الحجرات:09) 

6) پھر تو حضرت علی کو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما سے جنگ کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی کیونکہ حضرت عمار ان کے ساتھ تھے۔ لوگوں کو بس یہ حدیث سنا دیتے، فیصلہ ہوجاتا۔ کیونکہ صحابہ کرام یہ جاننے کے بعد کہ حضرت علی حق پر ہیں، کبھی حضرت معاویہ کا ساتھ نہیں دیتے۔ دلچسپ بات تو یہ کہ حضرت علی کی طرف سے ایسے صحابہ بھی لڑ رہے تھے جو اس حدیث کے راوی بھی ہیں۔ مثلاً ابو قتادہ، ابو حذیفہ اور ابو الیسر رضی اللہ عنہم۔ 

7) بقول مولانا مودودی اور ان کے چاہنے والے، حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے متعلق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ پیشنگوئی بہت مشہور تھی،تو کیا حضرت عمار کی شہادت کے بعد کسی بھی صحابی رسول نے مولانا مودودی کی طرح سمجھ داری اور جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے امیر معاویہ اور ان کی جماعت کو باطل اور باغی قرار دیا اور یہ کہا کہ اب تو نص صریح سے فیصلہ ہو گیا کہ حق پر کون ہے اور باطل پر کون؟؟ جیسا کہ مولانا مودودی فیصلہ فرما رہے ہیں۔ ان کے فیصلے کو ایک بار پھر ملاحظہ کریں: 
"اس جنگ کے دوران میں ایک واقعہ ایسا پیش آیا جس نے نص صریح سے یہ بات کھول دی کہ فریقین میں سے حق پر کون ہے اورباطل پر کون وہ واقعہ یہ ہے کہ حضرت عمار بن یاسر جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فوج میں شامل تھے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی فوج سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے، حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے متعلق نبی ﷺ کا یہ ارشاد صحابہ میں مشہور تھا"۔ 
(خلافت و ملوکیت۔ ص 136)

 اس حدیث میں وارد الفئة الباغيه (باغی جماعت)کا صحیح اطلاق کیا ہے اور اس کے حقیقی مصداق کون لوگ ہیں۔ ان شاء اللہ اسے ہم اگلے پوسٹ میں مطالعہ کریں گے۔ 
 
والسلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ! 

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!!!
Maulana Maududi is one of those people who have resorted to fabricated traditions and slandered the Companions. He has done a good job of writing on the great personalities of the Companions through unauthentic traditions. Maulana himself was an uncertified Maulana but he used to give certificates to others. He even gave a certificate of truth and falsehood to the Companions. So Maulana writes: “During this war there was an incident which revealed from the clear text who is on the right side and who is on the wrong side. The incident is that Hazrat Ammar bin Yasir Among the army of Anhu were those who were martyred while fighting the army of Hazrat Mu'awiyah. You were going to be killed by a rebel group. " (Khilafah and Kingship, p. 136) In fact, there was a prophecy of the Messenger of Allah (peace be upon him) regarding Hazrat Ammar bin Yasir that O Ammar! You will be killed by a rebel group. See the whole tradition. Hazrat Ikrimah says: Ibn 'Abbas (may Allah be pleased with him) said to him and (his son) Ali ibn Abdullah (may Allah be pleased with him) that you both go to the service of Abu Sa'eed Al-Khudri (may Allah be pleased with him) and listen to the hadiths of the Prophet So we came. At that time, Abu Sa'id (may Allah be pleased with him) was in the garden with his (foster) brother and was watering the garden. He sat down and said, "We were carrying the bricks of the Prophet's Mosque (for the construction of the mosque after the Prophet's migration) one by one, but Ammar was bringing two bricks." He passed by and wiped the dust off his head. Ammar will be killed by a rebellious group. It may be inviting them to Allah (obedience) but they will be calling him to Hell. (Sahi bukhari 2812) This narration is found in Sahih Bukhari, Muslim and many other books of hadith. In this hadith, the Messenger of Allah said: "Alas! Ammar will be killed by a rebel group." It should be noted that Sahabi Rasool Hazrat Ammar was with Hazrat Ali in the battle of Safin (which took place between Hazrat Ali and Hazrat Mu'awiyah) and he was killed in that battle. And according to the hadith of the Messenger of Allah, the rebellious group will kill you.
Now which party is meant by this rebellious party? Is this the case with the party of Amir Mu'awiyah? As Maulana Maududi and the Shiites use this hadith as an example of Amir Mu'awiyah's party and target him as a target of criticism. It is through this hadith that Shiite people issue Takfiri fatwas against Amir Muawiyah and his party. But the question is: 1) Maulana Maududi is issuing a certificate of truth and falsehood to this group of Hazrat Ali and Mu'awiyah through this hadith. According to Maulana, this hadith was popular among the Companions, but did any of the Companions of the Prophet call Amir Mu'awiyah and his party a rebellious group on the basis of this hadith? If not why ?? 2) Did the Companions, even after knowing that the party of Hazrat Mu'awiyah (RA) is a rebellious party, still support a rebellious party ??? 3) After Hazrat Ali, Hazrat Hassan and Hazrat Mu'awiyah were reconciled and the whole Ummah agreed on the caliphate of Amir Mu'awiyah. That Muawiyah is a rebel, had he made a deal with a rebel ?? 4) Hazrat Amir Muawiyah (RA) remained the caliph without any dispute for twenty years, so did the Companions and the entire Ummah accept a rebel as their caliph for twenty years and no one dared to say that the hadith of the Prophet (SAW) According to you and your party is a rebel party ?? It was during the Battle of Safin that a ceasefire was offered and Hazrat Ali accepted the offer, according to Maulana Maududi and his admirers, even after the text had been decided. Who is the rebel, Hazrat Ali accepted it ?? While the Qur'an says fight the rebellious group until they return to the command of Allah. (Surat al-Hujurat: 09) 6) Then there was no need for Hazrat Ali to fight Hazrat Mu'awiyah because Hazrat Ammar was with him. If only this hadith had been narrated to the people, a decision would have been made. Because the Companions, after knowing that Hazrat Ali is on the right path, never support Hazrat Muawiyah. Interestingly, such companions were also fighting on behalf of Hazrat Ali who are also the narrators of this hadith. For example, Abu Qatada, Abu Hudhaifah and Abu Al-Yasir. 7) According to Maulana Maududi and his admirer, the prediction of the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) about Hazrat Ammar (RA) was very famous. Demonstrating courage and bravery, he declared Amir Muawiyah and his party as false and rebellious and said that now it has been decided from the clear text who is on the right and who is on the wrong ?? As Maulana Maududi decides. Look at his decision again: "During this war, there was an incident which made it clear from the text who is on the right side and who is on the wrong side. The incident is that Hazrat Ammar bin Yasir Those who were in the army of Hazrat Ali (RA) were martyred while fighting the army of Hazrat Mu'awiyah (RA). (Khilafah and Monarchy) p. Inshallah we will read it in the next post.
Assalamu Alaikum

Recent posts

تلاوت قرآن کے بعد صدق الله العظيم پڑھنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم  السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ  موضوع: تلاوت قرآن کے بعد صدق الله العظيم پڑھنا !  محمد اقبال قاسمی صاحب  مصادر: مخ...