Wednesday, July 24, 2024

شداد کی جنت : مشہور واقعے کی تحقیق

بسم الله الرحمن الرحيم 

السلام عليكم و رحمة الله وبركاته 

محمد اقباال قاسمي سلفي 

مصادر: مختلف مراجع و مصادر 

موضوع : شداد کی جنت : مشہور واقعے کی تحقیق 


صوفی سنتوں کے قصے کہانیوں پر عمل کرنے والے دیوبندی اور رضاخانی ایوان عام سے لیکر ایوان تقلید کے علماء و مفتیان تک میں جنت شداد کا قصہ مشہور ہے کہ شداد نامی شخص نے دنیا میں ہی اپنے لیے جنت بنوائی تھی، لیکن وہ اس سے لطف اندوز نہیں ہو سکا ؛ چنانچہ جیسے ہی وہ اپنی اس بنوائی ہوئی جنت میں داخل ہونا چاہا،اس کی موت ہوگئی ۔
یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ تفسیر کی مختلف کتابوں میں بھی موجود ہے جو اس طرح ہے : 
عاد کے دو بیٹے شداد و شدید تھے۔ وہ دونوں بادشاہ بنے اور سب پر غالب آ گئے پھر شدید مر گیا۔ اور تمام حکومت شداد کو مل گئی۔ وہ دنیا کا بادشاہ ہوا۔ اس زمانہ کے بادشاہ اس کے ماتحت ہو گئے۔ اس نے جنت کا ذکر سنا۔ تو کہنے لگا میں ایسی جنت بناتا ہوں۔ اس نے عدن کے کسی صحرا میں ارم شہر تین سو سال میں بنوایا۔ اس کی عمر نو سو سال تھی۔ یہ بہت بڑا شہر تھا۔ اس کے مکانات سونے چاندی کے بنے تھے۔ اور زبر جدویا قوت کے ستون عما رات کے اندر دیے گئے۔ اس میں قسم قسم کے درخت اور نہریں بھی تھیں۔ جب اس کی تعمیر مکمل ہو چکی تو وہ اہل مملکت کو لے کر اس کی طرف چل دیا۔ جب ایک دن رات کا سفر رہ گیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان پر آسمان سے چیخ بھیج کر ہلاک کر دیا۔

تفسیر کی اکثر کتابوں میں یہ داستان بکھری پڑی ہیں ۔

لیکن جنت شداد کا مذکورہ بالا واقعہ بالکل جھوٹا اور من گھڑت ہے ۔ کسی بھی صحیح حدیث میں یہ واقعہ مذکور نہیں ہے۔ جنت ارضی کا یہ قصہ بنی اسرائیل کی خرافات ہیں اور ان ہی  کے بد دینوں اور زندیقوں کی گھڑی ہوئی ہیں ۔

علامہ آلوسی لکھتے ہیں: 
جنت شداد والی کہانی موضوع اور گھڑی ہوئی ہے ۔
(,تفسیر روح المعانی۔ 3/472)

حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں: 

یہ ساری تفصیلات بنی اسرائیل کی خرافات ہیں ۔ان کے بد دینوں اور زندیقوں کی گھڑی ہوئی ہیں ۔
(تفسیر ابن کثیر: 6/454)

علامہ ابن خلدون لکھتے ہیں: جنت کے نمونہ بر جو شہر آباد ہے آخر وہ شہر کہاں چلا گیا؟شداد کے مرنے کے بعد پھر اس شہر کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی، وہ کس سرزمین میں ہے؟ عدن کے میدانوں میں بھی اس کا کوئی وجود نظر نہیں آیا، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہیں یہ جنت ارضی بنائی گئی ، خاص طور پر جب اتنا خوبصورت شہر بنایا گیا جس کی روۓ زمین پر کوئی مثال نہ ہو،پھر کوئی مؤرخ اس کا ذکر کیوں نہیں کرتا، کسی قوم کی کہانیوں میں اس کا ذکر کیوں نہیں ہے ۔؟
(تاریخ ابن خلدون: 1/12)

اس سلسلے میں وہب بن منبہ کی ایک روایت کو بطور تائید پیش کی جاتی ہے کہ عبداللہ بن قلابہ کا ایک اونٹ کم ہو گیا ،اس کو تلاش کرتا ہوا وہ وہاں پہنچ گیا، جہاں جنت شداد واقع تھی ، اس نے جنت کو دیکھا اور اس میں سے بیش قیمت چیزیں بھی اپنے پاس لیتا آیا، جب یہ خبر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے عبداللہ بن قلابہ کو طلب کیا، اس نے آکر اپنا واقعہ بیان کیا، اس کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کعب احبار کو بلوایا اور ان سے پوچھا کہ عبداللہ بن قلابہ جو کہ رہا ہے کیا وہ صحیح ہے؟ کعب بن احبار نے کہا : عبداللہ جہاں پہنچا تھا، وہ ارم ذات العماد ہے اور کتاب میں لکھا ہوا ہے کہ ایک زمانے میں مسلمانوں کا ایک فرد وہاں پہنچے گا، اس کا رنگ زردی مائل ہوگا اور اس کے ابرو پر تل ہوگا ۔گفتگو خثم کرکے جب کعب نے عبداللہ بن قلابہ کی طرف دیکھا تو قسم کھا کر کہا کہ یہی شخص ہے جس کے بارے میں جنت شداد دیکھنے کی پیشنگوئی کی گئی ہے ۔

لیکن اس روایت کو بطور تائید پیش تو کی جاتی ہے ، لیکن یہ روایت بذات خود موضوع اور من گھڑت ہے ۔
حافظ ابن کثیر رحمہ االلہ لکھتے ہیں: 
ابن قلابہ کا قصہ بھی غیر مستند ہے ۔ 
(تفسیر ابن کثیر: 6/454)

علامہ آلوسی لکھتے ہیں: 
جنت شداد اور ابن قلابہ والی دونوں کہانیاں موضوع اور گھڑی ہوئی ہیں ۔
(,تفسیر روح المعانی۔ 3/472)

(بحوالہ: تفسیروں میں اسرائیلی روایات از مولانا نظام الدین اسیر ادروی)

 جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن نے بھی اپنے فتوے میں اس واقعے کو من گھڑت کہا ہے۔

چنانچہ فرماتے ہیں
: شداد اور اس کی جنت کا واقعہ کتبِ تفاسیر میں سے تفسیر مظہری ،تفسیر رازی اور روح المعانی میں سورہ فجر کی تفسیر میں ذکر کیا گیا ہے، اول الذکر دو تفاسیر میں اسے ذکر کرکے کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا جب کہ موخر الذکر تفسیر میں یہ قصہ ذکر کرکے صاحبِ تفسیر روح المعانی علامہ آلوسی رحمہ اللہ نے مندرجہ ذیل الفاظ میں تبصرہ کیا ہے:

"وخبر شداد المذكورأخوه في الضعف بل لم تصح روايته كما ذكره الحافظ ابن حجر فهو موضوع كخبر ابن قلابة".(روح المعانى:15 / 338)

یعنی شداد کا واقعہ من گھڑت ہے۔نیز اول الذکر ہر دو تفاسیر میں بھی اس واقعہ کو کسی مستند روایت سے بیان نہیں کیا گیا۔

دارالافتاء 
 جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتوی نمبر : 144004200158


Tuesday, July 23, 2024

سلیمان علیہ السلام کی طرف سے تمام حیوانات کی دعوت والے قصہ کی تحقیق

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم و رحمة الله وبركاته 

محمد اقباال قاسمي سلفي

موضوع : سلیمان علیہ السلام کی طرف سے تمام حیوانات کی دعوت والے قصہ کی تحقیق

مصادر : مختلف مراجع و مصادر 

علماء ،مفتیان اور مقررین حضرات سلیمان علیہ السلام کے حوالے سے اکٹر یہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ سلیمان علیہ السلام نے اللہ سے کہا کہ میں تیری مخلوق کی دعوت کرنا چاہتا ہوں ،اللہ رب العزت نے کہا :تو نہیں کر سکتا، سلیمان علیہ السلام نے کہا: نہیں، میں کرنا چاہتا ہوں، تو اللہ رب العزت نے کہا کہ اچھا کر لے۔ سلیمان علیہ السلام چھ ماہ تک کھانا بناتے رہے اور پہاڑ جیسا کھانا تیار کر لیا، اور اس کے بعد کہا : اللہ اپنی مخلوق کو بھیج، اللہ رب العزت نے ایک مچھلی بھیجی جس نے سارے کھانے کا ایک لقمہ بنا یا اور کھا گئی۔ اور کہا : مجھے میرا رب روزانہ تین ایسے لقمے کھلاتا ہے ،تو نے مجھے بھوکا رکھا ہے، تو سلیمان علیہ السلام سجدے میں گر گئے کہ یا اللہ، واقعی پالنا تیرا ہی کام ہے۔

لیکن یہ روایت سراسر بے سند اور غیر معتبر ہے۔ کسی بھی صحیح حدیث میں یہ واقعہ مذکور نہیں ہے ۔صحیح تو کیا کسی ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے ، جس میں یہ یہ واقعہ مذکور ہو۔

علامه عبد الكريم قشیری (المتوفي: 465ھ) نے درج ذیل الفاظ کے ساتھ اس واقعہ کو نقل فرمایا ہے ۔

چنانچہ فرماتے ہیں : 
"وقيل: إن سليمان عليه السلام سأل الله تعالى أن يضيف يوما جميع الحيوانات فأذن له في ذلك، فجمع الطعام مدة طويلة، فأرسل الله حوتا، فأكل جميع ما جمعه، ثم سأله الزيادة، فقال له سليمان: أأنت تأكل كل يوم مثل هذا؟ فقال: كل يوم ثلاثة أضعاف هذا، فليتك لم تضفني، ولا أحالني الله عليك." 

(التحبير في شرح التذكير، فصل في معنى العظيم، (ص: 41)، ط/ دار الكتب العلمية، بيروت)

لیکن جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا ، علامہ عبدالکریم قشیری نے اس کی کوئی سند ذکر نہیں کی بلکہ صیغہ تمریض "قیل" کے ساتھ ہی ذکر کیا ہے ۔

اسی واقعہ کو علامہ قشیری رحمہ اللہ کے حوالہ سےعلامہ دَمِیری رحمہ اللہ (المتوفي:808ھ) نے ’’یقال‘‘کےلفظ کے ساتھ نقل فرمایا ہے ۔

(حياة الحيوان الكبرى، الحوت، (1/ 380)، ط/ دار الكتب العلمية، بيروت)

بعد ازاں اس واقعہ کو علامہ صفوری رحمہ اللہ (المتوفي: 894ھ) نے بھی ’’حکایۃ‘‘ کے عنوان سے نقل فرمایا ہے۔

(نزهة المجالس، باب الكرم والفتوة ورد السلام، (1/ 213)/ ط/ المطبعه الكاستلية - مصر)

جیسا کہ مذکورہ بالا عبارات سے معلوم ہوا کہ کسی ‌نے بھی اس واقعے کی سند ذکر نہیں کی ہے۔
جتنے لوگوں نے بھی اسے نقل کیا ہے ،اسے قیل (کہا گیا) یقال (کہا جاتا ہے) حكاية (نقل کیا جاتا ہے ) جیسے الفاظ سے ہی نقل کیا ہے، جن الفاظ کو وضاعین اور قصہ گو حضرات بے سند، اور من گھڑت قصے کہانیوں کو نقل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

عَبْدَ اللهِ بْنَ الْمُبَارَكِ، يَقُولُ: «الْإِسْنَادُ مِنَ الدِّينِ، وَلَوْلَا الْإِسْنَادُ لَقَالَ مَنْ شَاءَ مَا شَاءَ.
 
عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اسناد ( سلسلہ سند سے حدیث روایت کرنا ) دین میں سے ہے ۔ اگر اسناد نہ ہوتا تو جو کوئی جو کچھ چاہتا ، کہہ دیتا ۔ 
(صحیح مسلم: 32) 

امام ابوعبد اللہ الحاکم فرماتے ہیں: اگر اسناد نہ ہوتی، محدثین کرام اس کی طلب اور اس کی حفاظت و صیانت کا مکمل اہتمام نہ فرماتے تو مینارۂ اسلام منہدم ہوچکا ہوتا ، ملحدین اور بدعتیوں کو حدیثیں گڑھنے اور اسانید کو الٹ پلٹ کرنے پر قدرت ہوجاتی؛ کیوں کہ احادیث جب اسانید سے خالی ہوں گی تو وہ بے اعتبار ہوکر رہ جائیں گی ۔ (معرفۃ علوم الحدیث ،ص : 115)

 سفیان ثوری رَحْمَہ اللہ فرماتے ہیں: الَإسْنَادُ سِلَاحُ الْمُؤْمِنِ , فَإِذَا لَمْ يَكُنْ مَعَهُ سِلَاحٌ , فَبِأَيِّ شَيْءٍ يُقَاتِلُ ؟ یعنی : اسناد، مومن کا ہتھیار ہے، جب اس کے پاس ہتھیار ہی نہیں ہوگا تو وہ کس چیز سے جنگ لڑے گا ۔( کتاب المجروحین، ص:31)

عبد اللہ بن مبارک رحمہ الله فرماتے ہیں : بَیْنَنَا وَ بَیْنَ الْقَوْمِ الْقَوَائِمُ: یَعْنِي الِاسْنَادَ۔ یعنی : ہمارے (محدثین) اور دوسرے لوگوں کے درمیان قابل اعتماد چیز اسناد ہے ۔
(مقدمہ مسلم) 

اللهم اردنا الحق حقا وارزقنا اتباعه و ارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه!

۔

Saturday, July 20, 2024

عوج بن عنق کی لمبائی کا دیومالائی قصہ

‌بسم الله الرحمن الرحيم 

السلام عليكم و رحمة الله وبركاته 

محمد اقباال قاسمي سلفي 

موضوع: عوج بن عنق کی لمبائی کا دیومالائی قصہ !

مصادر: مختلف مراجع و مصادر! 


 عوام الناس حتی کہ علماء اور مفتیان کے درمیان بھی عوج بن عنق جسے عوج بن عناق بھی کہاجاتاہے ،کے متعلق یہ بات مشہور ہے کہ وہ اس قدر قدآور تھا کہ سمندر کی گہرائیوں سے مچھلیاں پکڑا کرتا تھا اور سورچ میں بھون کر اسے کھایا کرتا تھا۔
طوفان نوح میں پہاڑ تو ڈوب گئے مگر پانی اس کے گھٹنے تک بھی نہیں پہنچ سکا ، موسی علیہ السلام کا قد دس ہاتھ تھا ، ان کا عصا دس ہاتھ کا تھا ، موسی ںنے دس ہاتھ بلندی پر اچھل کر اس کو عصا مارا تب جاکر اس کے ٹخنے میں لگ سکا لیکن وہ اسی ایک ڈنڈے میں مر گیا ۔اتفاق سے دریا کے جس کنارے پر وہ مرا ،وہ دریا کی چوڑائی تھی ، ایک کنارے پر اس کا پاؤں تھا تو دوسرے کنارے پر اس کا سر۔ اس طرح وہ اس دریا پر ایک پل بن گیا اور لوگ ایک ہزار سال تک اس پل سے آتے جاتے رہے۔

لیکن عوج بن عنق کا یہ واقعہ سراسر چھوٹا واقعہ ہے۔عقل و نقل ، دونوں اعتبار سے یہ واقعہ غلط ہے ۔
کیونکہ اس سے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ عوج بن عنق نے اتنی لمبی عمر پائی ہے کہ یہ حضرت نوح علیہ السلام سے کے زمانے سے لیکر حضرت موسی علیہ السلام کے زمانے تک زندہ رہا۔ جبکہ یہ بات قرآن و حدیث کی تصریحات کے صریح خلاف ہے ۔
اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں فرمایا :
 فَاَنْجَيْنَاهُ وَمَنْ مَّعَهٝ فِى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ (119) 
پھر ہم نے اسے اور جو اس کے ساتھ بھری کشتی میں تھے بچا لیا۔

ثُـمَّ اَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبَاقِيْنَ (120) 
پھر ہم نے اس کے بعد باقی لوگوں کو غرق کر دیا۔

سورہ نوح میں اللہ رب العزت نے فرمایا:
وَقَالَ نُوحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا (26) إِنَّكَ إِن تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوا إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا

سورہ نوح : 26,27

اور نوح نے کہا اے میرے رب! زمین پر کافروں میں سے کوئی رہنے والا نہ چھوڑ۔
اگر تو نے ان کو چھوڑ دیا تو تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور نسل بھی جو ہوگی تو فاجر اور کافر ہی ہوگی۔

ان آیتوں کے مطابق طوفان نوح میں چند ایمان والوں کے علاوہ جو نوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں سوار تھے ، کوئی بھی نہ بچ سکا ، یہاں تک کہ پیغمبر کا بیٹا اپنے باپ کی آنکھوں کے سامنے طوفان نوح کی نذر ہوگیا ۔
تو عوج بن عنق نامی کافر و بد بخت کے بارے میں یہ عقیدہ کیسے درست ہو سکتا ہے کہ وہ عذاب الٰہی کا شکار ہونے سے بچا رہ گیا ہو۔

یہ اس صحیح حدیث کے بھی خلاف ہے جس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
 خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ وَطُولُهُ فِي السَّمَاءِ سُتُونَ ذِرَاعًا فَلَمْ يَزَلُ الْخَلْقُ يَنْقُصُ حَتَّى الآنَ .
ترجمہ: اللہ رب العزت نے آدم کو پیدا کیا اور ان کی لمبائی آسمان میں ساٹھ ہاتھ تھی اس کے بعد اب تک اس میں کمی ہوتی رہی۔

متفق علیہ.  

حافظ ابن کثیر اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں : 
 مفسرین نے قوم جبارین کے سلسلے میں بہت سی اسرائیلی خرافات لکھی ہیں۔انہیں خرافات میں سے عوج بن عنق کی بھی کہانی ہے ۔ 

( تفسیرابن کثیر: ٥١٢/٢)

"علامہ آلوسی لکھتے ہیں: عوام میں عوج بن عنق کا افسانہ کافی مشہور ہے ا ر اس ک بارے میں عجیب و غریب داستانیں بیان کی جاتی ہیں ۔حافظ ابن حجر نے اپنے فتاویٰ میں لکھا ہے کہ حافظ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں کہ عوج بن عنق سے متعلق جتنی بھی داستانیں بیان کی جاتی ہیں ,یہ سب بکواس ہے ،اس کی کوئی اصل نہیں ہے ،یہ اہل کتاب کا گھڑا ہوا افسانہ ہے ، یہ قطعاً نوح علیہ السلام کے زمانے میں نہیں تھا، اور طوفان کے بعد کافروں میں سے کوئی بچا نہیں تھا۔ عوج کس طرح بچ گیا۔۔ 

علامہ ابن قیم کہتے ہیں: حدیث موضوع ہونے کا ایک بڑا ثبوت یہ بھی ہے کہ وہ مشاہدے اور تجربے کے خلاف ہو، جیسے عوج الطویل کا قصہ ہے ، بڑی حیرت ہوتی ہے اس بد بخت کی جرأت پر جس نے یہ جھوٹا افسانہ گھڑ کر اللہ تعالٰیٰ پر افترا کیا ہے اور اس سے بھی زیادہ حیرت و تعجب ان لوگوں پر ہے جو اپنی کتابوں اور تفسیروں میں اس طرح کی لغو اور بیہودہ کہانیوں کو داخل کر دیتے ہیں اور مزید ستم یہ کہ اس روایت کے موضوع ا ور باطل ہونے پر شبہ بھی نہیں کرتے ۔"

(تفسیر روح المعانی: 6/352)

علامہ ابن خلدون لکھتے ہیں: قصہ گو اور افسانہ تراشوں نے قوم عاد و ثمود اور عمالقہ ک سلسلے میں خوب مبالغہ آرائی سے کام لیا ہے ۔مزید لکھتے ہیں کہ عوج بن عنق کے دور میں دوسرے باشندوں کے قدو قامت بھی اسی تناسب سے ہونا چاہیے اور اس قوم کے سارے آثار بھی اسی تناسب سے ہونا چاہیے ،لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ بیت المقدس اگرچہ اس میں بار تبدیلیاں ہوئی ہیں ، اس کے باوجود کچھ چیزیں اس کی قدیم ترین شکل و ہیئت پر ضرور دلالت کرنے والی ہونی چاہئے ،حتی الامکان اس کی بناوٹ ،اس کے دروازے ،اس کی دیواریں، اس کی چھت وغیرہ کو وغیرہ ۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ کہیں سے بھی یہ پتہ نہیں چلتا ہے کہ کبھی یہ مقام اتنی طویل القامت قوم کا مسکن رہا ہوگا ۔

(تاریخ ابن خلدون: 1/141)
بحوالہ تفسیروں میں اسرائیلی روایت از اسیر ادروی

اللهم اردنا الحق حقا وارزقنا اتباعه و ارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه!

Monday, July 1, 2024

موضوع : جھوٹ کی قباحت پر ایک دیہاتی صحابی کے متعلق جھوٹا واقعہ!

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم و رحمة الله وبركاته

محمد اقباال قاسمي سلفي

موضوع : جھوٹ کی قباحت پر ایک دیہاتی صحابی کے متعلق جھوٹا واقعہ!

مصادر : مختلف مراجع و مصادر ! 

حنفى علماء ، مفتيان اور مقررین جھوٹ کی مذمت پر تقریر و وعظ کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کی طرف منسوب اکثر یہ واقعہ بیان کرتے ہیں : 

"ایک دیہاتی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت اس شرط پر کی کہ وہ زنا، چوری، اور جھوٹ میں سے صرف ایک عادت چھوڑےگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جھوٹ چھوڑ دو، تو پھر جب بھی وہ زنا یا چوری کا ارادہ کرتا تو سوچتا کیسے یہ کام کر سکتا ہوں؟ اگر میں نےکر لیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھ لیا تو اگر سچ بولوں گا تووہ حد جاری کردیں گے، اور اگر جھوٹ بولوں گا تو اس کے چھوڑنے پر تو وہ مجھ سے وعدہ لے چکے ہیں، تو بس اس کی وجہ سے اسے تمام بری عادتوںسے چھٹکارا مل گیا۔"

ليكن یہ روایت سراسر جھوٹ ہے۔صحیح تو کیا ،کوئی ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے ۔
 
حد تو یہ ہے کہ اس واقعے کے ذریعے مقررین و مفتیان جھوٹ کی مذمت پر ایک طرف عوام کو وعظ و نصیحت کر رہے ہوتے ہیں وہیں دوسری جانب اس واقعے کو بیان کر کے خود ہی جھوٹ بولنے کا ارتکاب کر رہے ہوتے ہیں ۔ کیونکہ یہ روایت ہی بے سند اور جھوٹی ہے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کر کے جھوٹی روایت بیان کرنا عام جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے ۔
بلکہ اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔

عَنْ الْمُغِيرَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : إِنَّ كَذِبًا عَلَيَّ لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ۔
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نے نبی کریم ﷺ سے سنا: 
 آپ فرماتے تھے کہ میرے متعلق کوئی جھوٹی بات کہنا عام لوگوں سے متعلق جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے ، جو شخص بھی جان بوجھ کر میرے اوپر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
(صحیح بخاری: 1291)

عَنْ سَلَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ يَقُلْ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ .
سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا :جو شخص میرے نام سے وہ بات بیان کرے جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
(صحیح بخاری: 109)

اس واقعہ ک علامہ مناوی (1031 ھ) رحمہ اللہ تعالی نے "شرح الأربعين النووية" میں درج ذیل الفاظ میں نقل فرمایا ہے:

"وقد ورَدَ أنَّ أعرابيًّا بايع المصطفى صلى الله عليه وسلم على تركِ خصلةٍ من خصالٍ كالزِّنا والسرقة والكذب، فقال له النبيّ صلى الله عليه وسلم: «دعِ الكذب» فصار كلَّما همَّ بزنا أو سرقة قال: كيف أصنع؟ إن فعلت سألني النبيُّ، فإن صدقته حدَّني، وإن كذبته فقد عاهدني على ترك الكذب، فكان تركه سببًا لترك الفواحش كلها".  

(شرح الأربعين النووية للمناوي (ص: ٢١٠)، ط/ المكتبة العربية السعودية، وزارة التعليم)

ترجمہ : ایک دیہاتی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت اسشرط پر کی کہ وہ زنا، چوری، اور جھوٹ میں سے صرف ایک عادت چھوڑےگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جھوٹ چھوڑ دو، تو پھر جب بھی وہ زنا یا چوری کا ارادہ کرتا تو سوچتا کیسے یہ کام کر سکتا ہوں؟ اگر میں نےکر لیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھ لیا تو اگر سچ بولوں گا تووہ حد جاری کردیں گے، اور اگر جھوٹ بولوں گا تو اس کے چھوڑنے پر تووہ مجھ سے وعدہ لے چکے ہیں، تو بس اس کی وجہ سے تمام بری عادتوںسے چھٹکارا مل گیا۔

لیکن علامہ مناوی نے اس کی کوئی سند ذکر نہیں کی ہے۔ اسی طرح واقعات و مواعظ یہاں تک کہ حنفی درسی کتب میں بھی شامل درس ہوکر حنفی مولویوں اور مفتیوں کے ذریعہ بڑے ذوق و شوق سے یہ روایت پڑھی اور پڑھائی جاتی ہے ۔
واۓ ناکامی ! متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا۔

جھوٹ کی مذمت پر کتاب و سنت میں بہت سارے مواد موجود ہیں ،مقررین کو چاہیے کہ اس طرح کی جھوٹی اور تقلیدی روایات کے بجائے صحیح احادیث کا مطالعہ کریں ، تاکہ قوم و ملت کو ضلالت و گمراہی کے قعر عمیق سے نکال کر کتاب و سنت کی شاہراہ پر گامزن کر سکیں ۔

اللهم اردنا الحق حقا وارزقنا اتباعه و ارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه!

Recent posts

وقف ترمیمی بل

عامۃ المسلمین میں ایسے کئی لوگ ہوسکتے ہیں جو نئے وقف قانون کی باریکیوں سے واقف نہ ہوں اسی لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس پر تفصیلی گفتگو ہو۔ م...