السلام عليكم و رحمة الله وبركاته
محمد اقباال قاسمي سلفي
مصادر: مختلف مراجع و مصادر
موضوع : شداد کی جنت : مشہور واقعے کی تحقیق
صوفی سنتوں کے قصے کہانیوں پر عمل کرنے والے دیوبندی اور رضاخانی ایوان عام سے لیکر ایوان تقلید کے علماء و مفتیان تک میں جنت شداد کا قصہ مشہور ہے کہ شداد نامی شخص نے دنیا میں ہی اپنے لیے جنت بنوائی تھی، لیکن وہ اس سے لطف اندوز نہیں ہو سکا ؛ چنانچہ جیسے ہی وہ اپنی اس بنوائی ہوئی جنت میں داخل ہونا چاہا،اس کی موت ہوگئی ۔
یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ تفسیر کی مختلف کتابوں میں بھی موجود ہے جو اس طرح ہے :
عاد کے دو بیٹے شداد و شدید تھے۔ وہ دونوں بادشاہ بنے اور سب پر غالب آ گئے پھر شدید مر گیا۔ اور تمام حکومت شداد کو مل گئی۔ وہ دنیا کا بادشاہ ہوا۔ اس زمانہ کے بادشاہ اس کے ماتحت ہو گئے۔ اس نے جنت کا ذکر سنا۔ تو کہنے لگا میں ایسی جنت بناتا ہوں۔ اس نے عدن کے کسی صحرا میں ارم شہر تین سو سال میں بنوایا۔ اس کی عمر نو سو سال تھی۔ یہ بہت بڑا شہر تھا۔ اس کے مکانات سونے چاندی کے بنے تھے۔ اور زبر جدویا قوت کے ستون عما رات کے اندر دیے گئے۔ اس میں قسم قسم کے درخت اور نہریں بھی تھیں۔ جب اس کی تعمیر مکمل ہو چکی تو وہ اہل مملکت کو لے کر اس کی طرف چل دیا۔ جب ایک دن رات کا سفر رہ گیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان پر آسمان سے چیخ بھیج کر ہلاک کر دیا۔
تفسیر کی اکثر کتابوں میں یہ داستان بکھری پڑی ہیں ۔
لیکن جنت شداد کا مذکورہ بالا واقعہ بالکل جھوٹا اور من گھڑت ہے ۔ کسی بھی صحیح حدیث میں یہ واقعہ مذکور نہیں ہے۔ جنت ارضی کا یہ قصہ بنی اسرائیل کی خرافات ہیں اور ان ہی کے بد دینوں اور زندیقوں کی گھڑی ہوئی ہیں ۔
علامہ آلوسی لکھتے ہیں:
جنت شداد والی کہانی موضوع اور گھڑی ہوئی ہے ۔
(,تفسیر روح المعانی۔ 3/472)
حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں:
یہ ساری تفصیلات بنی اسرائیل کی خرافات ہیں ۔ان کے بد دینوں اور زندیقوں کی گھڑی ہوئی ہیں ۔
(تفسیر ابن کثیر: 6/454)
علامہ ابن خلدون لکھتے ہیں: جنت کے نمونہ بر جو شہر آباد ہے آخر وہ شہر کہاں چلا گیا؟شداد کے مرنے کے بعد پھر اس شہر کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی، وہ کس سرزمین میں ہے؟ عدن کے میدانوں میں بھی اس کا کوئی وجود نظر نہیں آیا، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہیں یہ جنت ارضی بنائی گئی ، خاص طور پر جب اتنا خوبصورت شہر بنایا گیا جس کی روۓ زمین پر کوئی مثال نہ ہو،پھر کوئی مؤرخ اس کا ذکر کیوں نہیں کرتا، کسی قوم کی کہانیوں میں اس کا ذکر کیوں نہیں ہے ۔؟
(تاریخ ابن خلدون: 1/12)
اس سلسلے میں وہب بن منبہ کی ایک روایت کو بطور تائید پیش کی جاتی ہے کہ عبداللہ بن قلابہ کا ایک اونٹ کم ہو گیا ،اس کو تلاش کرتا ہوا وہ وہاں پہنچ گیا، جہاں جنت شداد واقع تھی ، اس نے جنت کو دیکھا اور اس میں سے بیش قیمت چیزیں بھی اپنے پاس لیتا آیا، جب یہ خبر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے عبداللہ بن قلابہ کو طلب کیا، اس نے آکر اپنا واقعہ بیان کیا، اس کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کعب احبار کو بلوایا اور ان سے پوچھا کہ عبداللہ بن قلابہ جو کہ رہا ہے کیا وہ صحیح ہے؟ کعب بن احبار نے کہا : عبداللہ جہاں پہنچا تھا، وہ ارم ذات العماد ہے اور کتاب میں لکھا ہوا ہے کہ ایک زمانے میں مسلمانوں کا ایک فرد وہاں پہنچے گا، اس کا رنگ زردی مائل ہوگا اور اس کے ابرو پر تل ہوگا ۔گفتگو خثم کرکے جب کعب نے عبداللہ بن قلابہ کی طرف دیکھا تو قسم کھا کر کہا کہ یہی شخص ہے جس کے بارے میں جنت شداد دیکھنے کی پیشنگوئی کی گئی ہے ۔
لیکن اس روایت کو بطور تائید پیش تو کی جاتی ہے ، لیکن یہ روایت بذات خود موضوع اور من گھڑت ہے ۔
حافظ ابن کثیر رحمہ االلہ لکھتے ہیں:
ابن قلابہ کا قصہ بھی غیر مستند ہے ۔
(تفسیر ابن کثیر: 6/454)
علامہ آلوسی لکھتے ہیں:
جنت شداد اور ابن قلابہ والی دونوں کہانیاں موضوع اور گھڑی ہوئی ہیں ۔
(,تفسیر روح المعانی۔ 3/472)
(بحوالہ: تفسیروں میں اسرائیلی روایات از مولانا نظام الدین اسیر ادروی)
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن نے بھی اپنے فتوے میں اس واقعے کو من گھڑت کہا ہے۔
چنانچہ فرماتے ہیں
: شداد اور اس کی جنت کا واقعہ کتبِ تفاسیر میں سے تفسیر مظہری ،تفسیر رازی اور روح المعانی میں سورہ فجر کی تفسیر میں ذکر کیا گیا ہے، اول الذکر دو تفاسیر میں اسے ذکر کرکے کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا جب کہ موخر الذکر تفسیر میں یہ قصہ ذکر کرکے صاحبِ تفسیر روح المعانی علامہ آلوسی رحمہ اللہ نے مندرجہ ذیل الفاظ میں تبصرہ کیا ہے:
"وخبر شداد المذكورأخوه في الضعف بل لم تصح روايته كما ذكره الحافظ ابن حجر فهو موضوع كخبر ابن قلابة".(روح المعانى:15 / 338)
یعنی شداد کا واقعہ من گھڑت ہے۔نیز اول الذکر ہر دو تفاسیر میں بھی اس واقعہ کو کسی مستند روایت سے بیان نہیں کیا گیا۔
دارالافتاء
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر : 144004200158