Tuesday, September 24, 2024

نماز جنازہ پڑھاتے وقت امام کہاں کھڑا ہو !

بسم الله الرحمن الرحيم 

السلام عليكم و رحمة الله وبركاته 

موضوع: نماز جنازہ پڑھاتے وقت امام کہاں کھڑا ہو !

از : محمد اقبال قاسمي سلفي 

مصادر : مختلف مراجع و مصادر ! 

کتاب و سنت کی شاہراہ کو چھوڑ کر صوفی سنتوں کے قصے کہانیوں پر عمل کرنے والے دیوبندی اور رضاخانی علماء اور مفتیان کو عام طور پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہ نماز جنازہ پڑھاتے ہوے میت کے درمیان میں کھڑے ہوتے ہیں ، خواہ جنازہ مرد کا ہو یا عورت کا۔ 

چنانچہ دارالعلوم دیوبند سے جب یہ سوال کیا گیا کہ میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ بالغ مرد یابالغ عورت کے جنازہ کی نماز میں امام کہاں پر کھڑے ہوں گے؟کمر یاسینے کے سامنے؟ 

تو دارالعلوم دیوبند نے جواب دیا: 
سینے کے سامنے۔ یقوم للرجل والمرأةِ بحذاء الصدر وھذا أحسن (عالمگیري: ۱/۱۸۰، ط بیروت)

دار الافتاء 
دارالعلوم دیوبند 
فتویٰ نمبر: 24386

جیساکہ اس فتوے سے واضح ہے کہ جنازے کی نماز میں امام ہر حال میں میت کے سینے کے بالمقابل کھڑا ہوگا، اسی طریقے کو ان کے یہاں حسن قرار دیا گیا ہے ۔
فتاوی عالمگیری میں ہے: یقوم للرجل والمرأةِ بحذاء الصدر وھذا أحسن (عالمگیري: ۱/۱۸۰)

(امام سینے کے بالمقابل کھڑا ہوگا ،مرد ہو یا عورت ۔)

اسی طرح معتبر عند الاحناف در مختار میں ہے: 
"(ويقوم الإمام) ندباً (بحذاء الصدر مطلقاً) للرجل والمرأة؛ لأنه محل الإيمان والشفاعة لأجله.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 216)

لیکن مذکورہ بالا طریقہ اس نبوی طریقے کے یکسر خلاف ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح احادیث کی روشنی میں ثابت شدہ ہے۔

سینے کے پاس کھڑے ہونے کی کوئی صحیح دلیل موجود نہیں ہے ۔صحیح تو کیا کسی ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے جس میں عند الصدر کے الفاظ موجود ہوں۔
صحیح طریقہ نبوی یہ ہے کہ جنازہ پڑھاتے وقت امام کو مرد کے سر کے بالمقابل اور عورت کے درمیان میں کھڑا ہونا چاہیے۔

عَنْ نَافِعٍ أَبِي غَالِبٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ فِي سِكَّةِ الْمِرْبَدِ، ‏‏‏‏‏‏فَمَرَّتْ جَنَازَةٌ مَعَهَا نَاسٌ كَثِيرٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ جَنَازَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَتَبِعْتُهَا، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا أَنَا بِرَجُلٍ عَلَيْهِ كِسَاءٌ رَقِيقٌ عَلَى بُرَيْذِينَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلَى رَأْسِهِ خِرْقَةٌ تَقِيهِ مِنَ الشَّمْسِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ مَنْ هَذَا الدِّهْقَانُ ؟ قَالُوا:‏‏‏‏ هَذَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا وُضِعَتِ الْجَنَازَةُ، ‏‏‏‏‏‏قَامَ أَنَسٌ فَصَلَّى عَلَيْهَا، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَا خَلْفَهُ، ‏‏‏‏‏‏لَا يَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ شَيْءٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ عِنْدَ رَأْسِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏لَمْ يُطِلْ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يُسْرِعْ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ ذَهَبَ يَقْعُدُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ يَا أَبَا حَمْزَةَ، ‏‏‏‏‏‏الْمَرْأَةُ الْأَنْصَارِيَّةُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَرَّبُوهَا وَعَلَيْهَا نَعْشٌ أَخْضَرُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ عِنْدَ عَجِيزَتِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَصَلَّى عَلَيْهَا نَحْوَ صَلَاتِهِ عَلَى الرَّجُلِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ جَلَسَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ:‏‏‏‏ يَا أَبَا حَمْزَةَ، ‏‏‏‏‏‏هَكَذَا كَانَ يَفْعَلُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يُصَلِّي عَلَى الْجَنَازَةِ كَصَلَاتِكَ:‏‏‏‏ يُكَبِّرُ عَلَيْهَا أَرْبَعًا، ‏‏‏‏‏‏وَيَقُومُ عِنْدَ رَأْسِ الرَّجُلِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَجِيزَةِ الْمَرْأَةِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ.

حضرت نافع ابوغالب رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ میں ( بصرہ میں ) مربد محلہ کی ایک گلی میں تھا کہ ایک جنازہ گزرا ، اس کے ساتھ بہت سے لوگ تھے ۔ لوگوں نے کہا : یہ عبداللہ بن عمیر کا جنازہ ہے تو میں بھی اس کے ساتھ ہو لیا ۔ میں نے ایک آدمی دیکھا جو ایک باریک سی اونی چادر اوڑھے ہوئے اپنے چھوٹے سے گھوڑے پر سوار تھا ، دھوپ سے بچاؤ کے لیے اس نے اپنے سر پر کپڑا رکھا ہوا تھا ۔ میں نے پوچھا : یہ محترم بزرگ کون ہیں ؟ لوگوں نے کہا : یہ ( صحابی رسول ) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہیں ۔ چنانچہ جب میت کو رکھا گیا تو حضرت انس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور اس کا جنازہ پڑھایا ، میں ان کے پیچھے تھا میرے اور ان کے درمیان کوئی چیز حائل نہ تھی ۔ آپ اس میت کے سر کے مقابل کھڑے ہوئے اور چار تکبیریں کہیں ۔ آپ نے نماز میں طوالت کی ، نہ جلدی ۔ پھر بیٹھنے لگے تو لوگوں نے کہا : اے ابوحمزہ ! ( حضرت انس رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے ) یہ ایک انصاری خاتون ( کا جنازہ ) ہے اور وہ اسے قریب لائے اور میت کے اوپر سبز رنگ کا پردہ تھا ۔ ( تابوت نما رکاوٹ جو عورت کی نعش پر رکھی جاتی ہے ) تو آپ اس کی کمر کے مقابل کھڑے ہوئے اور جنازہ پڑھایا جیسے کہ مرد کا پڑھایا تھا پھر آپ بیٹھ گئے ۔ تو علاء بن زیاد نے پوچھا : اے ابوحمزہ ! کیا رسول اللہ ﷺ بھی ایسے ہی جنازہ پڑھایا کرتے تھے جیسے کہ آپ نے پڑھایا ہے کہ چار تکبیریں کہتے اور مرد کے لیے اس کے سر کے سامنے اور عورت کے لیے اس کی کمر کے مقابل کھڑے ہوا کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا۔

سنن ابوداؤد: حدیث نمبر: 3194

 ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ صَلَّيْتُ وَرَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ عَلَيْهَا لِلصَّلَاةِ وَسَطَهَا . 
  حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں : میں نے نبی ﷺ کی اقتدا میں ایک عورت کا جنازہ پڑھا جو کہ ایام نفاس میں فوت ہوئی تھی ۔ تو آپ ﷺ اس کے درمیان کے مقابل کھڑے ہوئے تھے ۔  
سنن ابوداؤد: حدیث نمبر: 3195

ان‌احدیث سے معلوم ہوا کہ عورت کی نماز جنازہ ہو تو امام اس کی کمر کے پاس کھڑا ہو گا، اور مرد کی نماز جنازہ ہو تو سر کے پاس ، کیونکہ انس بن مالک نے عبداللہ بن عمیر کا جنازہ ان کے سر کے پاس ہی کھڑے ہو کر پڑھایا تھا اور علاء بن زیاد کے پوچھنے پر انہوں نے کہا تھا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کرتے دیکھا.

امام ترمذی ؒ فرماتے ہیں:
(وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا)
أَيْ إِلَى أَنَّ الْإِمَامَ يَقُومُ حِذَاءَ رَأْسِ الرَّجُلِ وَحِذَاءَ عَجِيزَةِ الْمَرْأَةِ (وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ)
وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَهُوَ الْحَقُّ وَهُوَ رِوَايَةٌ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ قَالَ فِي الْهِدَايَةِ وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ أَنَّهُ يَقُومُ مِنَ الرَّجُلِ بِحِذَاءِ رَأْسِهِ وَمِنَ الْمَرْأَةِ بِحِذَاءِ وَسَطِهَا لِأَنَّ أَنَسًا فَعَلَ كَذَلِكَ وَقَالَ هُوَ السُّنَّةُ۔
(تحفة الأحوذي)
یعنی بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں کہ جنازہ کی نماز میں امام مرد میت کے سر کے پاس کھڑا ہو اور عورت کے بدن کے وسط میں کمر کے پاس۔
امام احمد ؒ اور اسحق ؒ اور امام شافعی ؒ کا یہی قول ہے اور یہی حق ہے اور ہدایہ میں حضرت امام ابوحنیفہ ؒ سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ امام مرد میت کے سرکے پاس اور عورت کے وسط میں کھڑا ہو اس لیے کہ حضرت انس ؓ نے ایسا ہی کیا تھا اور فرمایا تھا کہ سنت یہی ہے۔

جنازے کی نماز پڑھاتے وقت جنازے کے سامنے کھڑے ہونے کا یہی صحیح اور مسنون طریقہ ہے۔
اس کے بر عکس احناف کے یہاں رائج اور ان کی کتب فتاویٰ میں درج طریقے کی کوئی بھی شرعی دلیل موجود نہیں ہے ، وہ طریقہ بے سند اور بے دلیل ہے۔ کسی بھی صحیح حدیث میں وہ طریقہ موجود نہیں ہے ،صحیح تو کیا کسی ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے جس میں یہ طریقہ موجود ہو۔

 حنفیوں کا یہ کہنا کہ دل منبع ایمان ہے اس لیے اس کے سامنے کھڑا ہونا چاہیے ، جیسا کہ درمختار میں ہے:"(ويقوم الإمام) ندباً (بحذاء الصدر مطلقاً) للرجل والمرأة؛ لأنه محل الإيمان والشفاعة لأجله.
یہ مخالفت حدیث اور محض قیاس آرائی ہے ۔

اس طرح سنن ابوداؤد ، حدیث نمبر 3195 کے بارے میں ان‌ کا یہ کہنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے پردہ کرنے کے لیے پیٹ کے سامنے کھڑے ہوئے تھے، غلط ہے، کیونکہ کسی روایت میں یہ وجہ بیان نہیں کی گئی، نہ عقل اس توجیہ کی تائید کرتی ہے کیونکہ امام کے پیٹ کے سامنے کھڑا ہونے سے پوری صف سے پردہ ممکن نہیں۔ صرف دو چار آدمیوں سے پردہ ہو سکتا ہے اور وہ کسی بھی جگہ کھڑے ہونے سے حاصل ہو سکتا ہے نہ کہ صرف پیٹ کے سامنے کھڑا ہونے سے۔ ویسے بھی پورا جنازہ کفن میں لپیٹا ہوا ہوتا ہے۔
احناف کی تاویل اس لیے بھی فاسد ہے کہ اس روایت میں اس عورت کی میت پر سبز رنگ کے تابوت کے رکاوٹ ہونے کا ذکر موجود ہے :
‏‏‏‏‏‏( وَعَلَيْهَا نَعْشٌ أَخْضَرُ۔)

 راوی حدیث حضرت ابو غالب کہتےہیں: ’’ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے اس عمل کے متعلق دریافت کیا جو وہ عورت کی کمر کے مقابل کھڑے ہوئے تھے تو لوگوں نے کہا یہ اس لئے ہوتا تھا کہ میت پر تابوت نہیں رکھا جاتا تھا تو امام عورت کی کمر کے مقابل کھڑا ہو جاتا تاکہ اس کے لئے قوم سے پردہ بن جائے۔ ‘‘
احناف کا اس سے دلیل پکڑنا بے فائدہ ہے ،کیونکہ ابو غالب کو یہ وجہ بتانے والے لوگ مجہول ہیں۔ اور مجہول لوگوں کی وجہ سے ہم رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے طریقے کو نہیں چھوڑ سکتے۔


علامہ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: 
 " السنة أن يقف الإمام عند عجيزة المرأة بلا خلاف للحديث ; ولأنه أبلغ في صيانتها عن الباقين وفي الرجل وجهان: الصحيح : باتفاق المصنفين , وقطع به كثيرون وهو قول جمهور أصحابنا المتقدمين أنه يقف , عند رأسه " والثاني " : قاله أبو علي الطبري عند صدره..., والصواب ما قدمته عن الجمهور , وهو عند رأسه ونقله القاضي حسين عن الأصحاب.." انتهى من "شرح المهذب" (5/183) ۔

 سنت یہ ہے کہ امام عورت کے وسط میں کھڑا ہو، اس میں کسی (سلف)کا اختلاف نہیں ہے اور یہی حدیث کے مطابق ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ

علامہ شوکانی فرماتے ہیں: 

قال الشوكاني رحمه الله : " وإلى ما يقتضيه هذان الحديثان ـ حديث سمرة ، وأنس رضي الله عنهما ـ من القيام عند رأس الرجل ووسط المرأة ذهب الشافعي وهو الحق.." انتهى من " نيل الأوطار" (4/80) .

علامہ شوکانی فرماتے ہیں کہ حدث سمرہ اور حدیث انس کا یہ تقاضا ہے کہ امام مرد کے سر کے قریب اور عورت کے درمیان میں کھڑا ہو ۔امام شافعی کا یہی مسلک ہے اور یہی حق ہے۔


علامہ ابن باز رحمہ االلہ فرماتے ہیں: 

وقال الشيخ ابن باز رحمه الله : " ويسن أن يقف الإمام عند رأس الرجل وعند وسط المرأة لثبوت ذلك عن النبي صلى الله عليه وسلم من حديث أنس وسمرة بن جندب رضي الله عنهما , وأما قول بعض العلماء: إن السنة الوقوف عند صدر الرجل فهو قول ضعيف ليس عليه دليل فيما نعلم.." انتهى من "مجموع الفتاوى" (13/142) .

شیخ بن باز رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں: حدیث انس اور حدیث سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالٰی عنہما کی وجہ سے سنت یہی ہے کہ امام مرد کے سر کے قریب اور عورت کے وسط میں کھڑا ہو ۔
اور کچھ علماء کا یہ کہنا کہ سینے ک پاس کھڑا ہونا سنت ہے ، تو یہ ایسا کمزور قول ہے جس پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔

اللهم اردنا الحق حقا وارزقنا اتباعه و ارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه!

Sunday, September 22, 2024

مردے کی آنکھ میں سرمہ لگانا

بسم الله الرحمن الرحيم 

السلام عليكم و رحمة الله وبركاته 

موضوع : مردے کی آنکھ میں سرمہ لگانا 

مصادر: مختلف مراجع و مصادر 

از : محمد اقبال قاسمي سلفي

میت کو غسل دینے اور عطر لگانے کے بعد عام طور سے ہمارے یہاں احناف میت کی آنکھوں میں سرمہ بھی لگایا کرتے ہیں۔جبکہ حنفی علما نے اسے زینت قرار دیتے ہوئے فعل عبث قرار دیا ہے اور یہ کہا ہے کہ سرمہ میت کو ہرگز نہ لگانا چاہیے۔
آئیے حنفی علماء کے فتوے ملاحظہ کرتے ہیں ۔

  جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن اپنے فتوے میں لکھتے ہیں: 
میت کو سنت طریقے کے مطابق عطر کا فور لگایا جائے۔ سرمہ نہ لگایا جائے، یہ زینت ہے اور انتقال کے بعد میت زینت سے بے نیاز ہوچکا ہے، یہی وجہ ہے کہ فقہاء نے لکھا ہے کہ بالوں میں کنگھی نہ کی جائے بال او رناخن نہ کاٹے جائیں ۔(فتاوی رحیمیہ) لہٰذا میت کو سرمہ لگانا درست نہیں ہے۔

البحرالرائق میں ہے:

( قوله : ولايسرح شعره ولحيته ، ولايقص ظفره وشعره ) ؛ لأنها للزينة ، وقد استغنى عنها، والظاهر أن هذا الصنيع لايجوز. قال في القنية: أما التزين بعد موتها والامتشاط وقطع الشعر لايجوز، والطيب يجوز". (5/278)فقط

دارالافتاء 
 جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر: 144010201200

رضاخانی علماء اور مفتیوں سے بھی اس بابت ممانعت وارد ہے۔
چنانچہ:
 مفتی محمد حبیب اللہ نعیمی اشرفی لکھتے ہیں :
   ”میت کو غسل دینے کے بعد سرمہ لگانا نہ چاہیے، چوں کہ میت کو نہ زینت کی ضرورت ہے، نہ آنکھوں کی حفاظت کی حاجت ہے، لہذا یہ فعل عبث ہے۔ سرمہ میت کو ہرگز نہ لگایا جائے۔واللہ تعالیٰ اعلم۔“
  (حبیب الفتاوی، کتاب الصلاۃ، باب الجنائز، ج: ١، ص: ٥٤٥، شبیر برادرز لاہور۔)

    مفتی محمد اختر رضا خان سے سوال ہوا کہ مردہ کو سرمہ لگانا جائز ہے یا نہیں؟ تو آپ نے جواب دیا: 

  ” الجواب: ناجائز ہے۔
 رد المحتار میں ہے: ” لما في القنيةمن أن التزئين بعد موتها و الإمتشاط و قطع الشعر لا يجوز. نهر.“ واللہ تعالیٰ اعلم۔“
  ( فتاویٰ تاج الشریعہ، کتاب الصلاۃ، ج: ٤، ص: ٤٩٣، جامعۃ الرضا، بریلی )
  
اللهم اردنا الحق حقا وارزقنا اتباعه و ارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه

Saturday, September 21, 2024

میت کو قبر میں اتارتے وقت کی دعا !

بسم الله الرحمن الرحيم 

السلام عليكم و رحمة الله وبركاته 

موضوع: میت کو قبر میں اتارتے وقت کی دعا ! 

مصادر : مختلف مراجع و مصادر 
 
از : محمد اقبال قاسمي سلفي 

صوفی سنتوں کے قصے کہانیوں پر عمل کرنے والے دیوبندی اور رضاخانی عوام ،علما اور مفتیوں کو بھی یہ مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ میت کو قبر میں اتارتے وقت بلند آواز سے کلمہ شہادت پڑھا کرتے ہیں ۔آیا یہ صحیح ہے کہ نہیں۔آئیے کتاب و سنت کی روشنی میں جانتے ہیں ۔
آپ کو بتا دیں کہ میت کو قبر میں اتارتے وقت کلمہ شہادت پڑھنا کسی بھی صحیح حدیث میں مذکور نہیں ہے ۔صحیح تو کیا ،کسی ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے جس میں یہ مذکور ہو۔
میت کو قبر میں اتاتے وقت 
بسم الله وعلي ملة رسول الله یا بسم الله و علي سنة رسول الله پڑھنا مشروع ہے۔

عَنِ ابْنِ عُمَرَ:‏‏‏‏ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏كَانَ إِذَا وَضَعَ الْمَيِّتَ فِي الْقَبْرِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بِسْمِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔
  حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ نبی ﷺ جب میت کو قبر میں اتارتے ‘ تو یوں فرمایا کرتے : ( بسم الله وعلى سنة رسول الله ) ’’ اللہ کے نام سے اور رسول اللہ ( ﷺ ) کے طریقے پر ۔‘‘
سنن ابوداؤد: حدیث نمبر: 3213
، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أُدْخِلَ الْمَيِّتُ الْقَبْرَ قال، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ أَبُو خَالِدٍ:‏‏‏‏ مَرَّةً إِذَا وُضِعَ الْمَيِّتُ فِي لَحْدِهِ قَالَ مَرَّةً:‏‏‏‏ بِسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ مَرَّةً:‏‏‏‏ بِسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب میت قبر میں داخل کر دی جاتی ( اور کبھی راوی حدیث ابوخالد کہتے ) جب میت اپنی قبر میں رکھ دی جاتی تو آپ کبھی: بسم الله وبالله وعلى ملة رسول الله،‏‏‏‏ پڑھتے اور کبھی بسم الله وبالله وعلى سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم ”اللہ کے نام سے، اللہ کی مدد سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ پر میں اسے قبر میں رکھتا ہوں“ پڑھتے۔

سنن ترمذی: حدیث نمبر: 1046

اس روایت کو علامہ البانی رح نے صحیح الترمذی میں روایت کیا ہے اور اسے صحیح قرار دیا ۔

واضح ہوکہ اس حدیث کو امام ترمذی ،ابوداؤد وغیرہ نے گرچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے ، لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ حدیث عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے موقوفا روایت ہے اور اس کا موقوف ہونا ہی صحیح ہے۔
یعنی یہ الفاظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول نہیں ہیں بلکہ یہ الفاظ صحابی رسول عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما ک ہیں۔
جیساکہ علامہ دار قطنی نے موقوف روایت کو ہی ترجیح دی ہے ۔
تفصیل : 
اس حدیث کو امام بیہقی نے سنن الکبری للبیہقی نے ہمام سے مرفوعاً روایت کیا ہے ، گرچہ ہمام بن یحیی ثقہ ہیں لیکن قتادہ سے روایت کرنے والے شعبہ اور ہشام دستوائی نے اسے موقوفا ہی روایت کیا ہے ۔

وقال عبد بن حميد : قال يزيد : لم يرفع هذا الحديث أحد غير همام.
امام ترمذی نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے ۔
١)۔ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالَ:
حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ قَالَ: حَدَّثَنَا الحَجَّاجُ، عَنْ نَافِعٍ،
عَنْ ابْنِ عُمَرَ۔۔۔۔۔۔۔
اس سند میں حجاج مدلس ہے ۔

٢)حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا
إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ نَافِعٍ
، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَليْهِ وسَلَّمَ۔۔۔۔۔
اس سند میں اسماعیل بن عیاش ضعیف ہے ،جب وہ غیر شامی سے روایت کرے ۔لیث بن ابی سلیم مختلط ہیں ۔
اسی ابن ماجہ نے حدیث نمبر 1553 پر مرفوعاً روایت کیا ہے ۔ لیکن اس کی سند میں حَمَّادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكَلْبِيُّ راوی ہے جسے ابوحاتم نے منكر الحديث ،ابوزرعہ نے ” يروي أحاديث مناكير ” کہا ہے۔
اس کے علاوہ امام بزار نے روایت کیا ہے: 

وقال البزار 5825 : حَدَّثنا سوار بن سَهْل الضبعي ، حَدَّثنا سَعِيد بن
عامر ، حَدَّثنا سَعِيد بن أبي عَرُوبة ، عَن أيوب ، عَن نافع ، عَن ابن عُمَر ، عَن
النبي صلى الله عليه وسلم قال : إذا وضعتم موتاكم في القبر فقولوا : باسم الله وعلى
سنة رسول الله.

5826: وحَدَّثناه سوار ، حَدَّثنا سَعِيد بن عامر ، حَدَّثنا همام ، عَن
قتادة ، عَن أبي الصديق ، عَن ابن عُمَر ، عَن النبي صلى الله عليه وسلم ، بنحوه.

وحديث أيوب لا نعلَمُ رواه عَن سَعِيد بن أبي عَرُوبة إلاَّ سَعِيد بن
عامر.

أقول : ابن أبي عروبة اختلط وسعيد بن عامر اضطرب فيه ، وهمام خالفه شعبة
فوقفه .
وقال ابن عدي في الكامل (4/ 489) : حَدَّثَنَا عبدان، حَدَّثَنا شيبان،
حَدَّثَنا سويد بْن إِبْرَاهِيم عن حجاج عَنْ نَافِعٍ، عنِ ابْنِ عُمَر وأيوب عَنْ
نَافِعٍ، عنِ ابْنِ عُمَر أنه كان إذا وضع الميت في القبر قَالَ بسم اللَّه وعلى سنة
رَسُول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

وقال الحاكم 1355 – أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي
، بِهَمْدَانَ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ
، ثنا شُعْبَةُ ، وَأَخْبَرَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ
، ثنا بُنْدَارٌ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، ثنا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ،
عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ ” إِذَا
وَضَعَ الْمَيِّتَ فِي قَبْرِهِ قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ

وهذه كلها موقوفة

ورجح الدارقطني وقفه في العلل :” 2780 – وسُئِل عَن حَديث يُروى عن
نافع ، عن ابن عُمَر : كان النبي صَلَّى الله عَلَيه وسَلم إذا وضع المّيت في قبره
قال : بسم الله ، وعلى سنة رسول الله صَلَّى الله عَلَيه وسَلم.

فقال : يرويه حجاج بن أرطاة ، واختُلِفَ عنه : فرواه أبو خالد الأحمر ،
عن حجاج ، عن نافع ، عن ابن عُمَر ، قال : كان النبي صَلَّى الله عَلَيه وسَلم …

وغيره يرويه عن حجاج ، عن نافع ، عن ابن عُمَر : أنه كان يفعل … غير
مرفوع. وهو الصواب”

وذكروا للرواية المرفوعة – المرجوحة – شواهد

قال الطبراني في مسند الشاميين 3330 : حدثنا الحسين بن إسحاق ، ثنا علي
بن شبابة ، ثنا إبراهيم بن بكر الشيباني ، ثنا بسطام بن عبد الوهاب الأزدي ، عن مكحول
، عن واثلة ، قال :

 كان رسول الله صلى الله عليه وسلم
إذا وضع الميت في لحده ، قال : بسم الله وعلى سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم
ووضع خلف قفاه مدرة ، وبين كتفيه مدرة ، ومن ورائه أخرى .

بسطام مجهول ، قال الحافظ الذهبي في ميزان الاعتدال :” 1172 – بسطام
بن عبد الوهاب.

عن مكحول.

قال الدارقطني: مجهول”
وجاء في مسند أحمد 22187 : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنَا
عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ
عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي
أُمَامَةَ قَالَ: لَمَّا وُضِعَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ ابْنَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقَبْرِ . قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
” {مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ، وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً
أُخْرَى} “، قَالَ: ثُمَّ لَا أَدْرِي أَقَالَ: بِسْمِ اللهِ وَفِي سَبِيلِ اللهِ
وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللهِ ؟ أَمْ لَا، فَلَمَّا بَنَى عَلَيْهَا لَحْدَهَا طَفِقَ
يَطْرَحُ لَهُمُ (1) الْجَبُوبَ وَيَقُولُ: ” سُدُّوا خِلَالَ اللَّبِنِ
” . ثُمَّ قَالَ: ” أَمَا إِنَّ هَذَا لَيْسَ بِشَيْءٍ وَلَكِنَّهُ يَطِيبُ
بِنَفْسِ الْحَيِّ “
قال محققو المسند :” إسناده ضعيف جداً، عبيد الله بن زحر -وهو الإفريقي-،
وعلي بن يزيد -وهو ابن أبي هلال الألهاني- ضعيفان . علي بن إسحاق: هو المروزي، ويحيى
بن أيوب: هو الغافقي .

وأخرجه الحاكم 2/379، وعنه البيهقي 3/409 من طريق عثمان بن صالح السهمي،
عن يحيى بن أيوب، بهذا الإسناد . قال البيهقي: وهذا إسناد ضعيف . وقال الذهبي: وهو
خبر واهٍ لأن علي بن يزيد متروك”

فبقيت الرواية الموقوفة التي رجحها الدارقطني ، وإن قيل إن هماما ثقة وقد
رفعه ، فيجاب أن شعبة أوثق ، وهمام كان يهم إذا حدث من حفظه

قال المزي في تهذيب الكمال :” قال محمد بن سعد : كان ثقة ، ربما غلط
فى الحديث .

و قال عبد الرحمن بن أبى حاتم : سئل أبو زرعة عن همام بن يحيى ، فقال
: لا بأس به .

و قال أيضا : سئل أبى عن همام ، و أبان العطار من تقدم منهما ؟ قال : همام
أحب إلى ما حدث من كتابه ، و إذا حدث من حفظه فهما متقاربان فى الحفظ و الغلط .

و قال أيضا : سألت أبى عن همام ، فقال : ثقة صدوق ، فى حفظه شىء ، و هو
فى قتادة أحب إلى من حماد بن سلمة ، و من أبان العطار “
وقال الحافظ في تهذيب التهذيب :” و قال الساجى : صدوق سىء الحفظ ،
ما حدث من كتابه فهو صالح ، و ما حدث من حفظه فليس بشىء “

وعليه فإن الخبر الصواب وقفه على ابن عمر

خلاصة: یہ روایت موقوفا ہی صحیح ، مگر ایک صحابی رسول کا عمل تو صحیح سند سے ثابت ہے ، جبکہ میت کو قبر میں اتارتے وقت کلمہ شہادت پڑھنے کہیں بھی کوئی ثبوت موجود نہیں ہے ۔
اللهم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعه و ارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه!

Friday, September 20, 2024

ایوب علیہ السلام کی بیماریوں کے متعلق من گھڑت واقعات ۔

بسم الله الرحمن الرحيم 

السلام عليكم و رحمة الله وبركاته 

محمد اقباال قاسمي سلفي 

موضوع : ایوب علیہ السلام کی بیماریوں کے متعلق من گھڑت واقعات ۔

مصادر : مختلف مراجع و مصادر ! 

حضرت ایوب علیہ السلام اللہ کے برگزیدہ ہستیوں میں سے تھے جن کو اللہ رب العزت نے نبی بنا کر مبعوث فرمایا، جنہیں اللہ رب العزت نے اپنی آزمائشوں سے آزمایا جس پر ایوب علیہ السلام نے صبر کیا اور شکرگزاری کا بھر پور ثبوت دیا ،جیسا کہ اللہ رب العزت نے سورہ ص آیت نمبر 38 میں فرمایا: 

وَاذْكُرْ عَبْدَنَـآ اَيُّوْبَۚ اِذْ نَادٰى رَبَّهٝٓ اَنِّىْ مَسَّنِىَ الشَّيْطَانُ بِنُصْبٍ وَّعَذَابٍ (41)اُرْكُضْ بِـرِجْلِكَ ۖ هٰذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَّشَرَابٌ (42)
وَوَهَبْنَا لَـهٝٓ اَهْلَـهٝ وَمِثْلَـهُـمْ مَّعَهُـمْ رَحْـمَةً مِّنَّا وَذِكْرٰى لِاُولِـى الْاَلْبَابِ (43)وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَلَا تَحْنَثْ ۗ اِنَّا وَجَدْنَاهُ صَابِرًا ۚ نِّعْمَ الْعَبْدُ ۖ اِنَّهٝٓ اَوَّابٌ (44)

اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کر، جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے شیطان نے تکلیف اور عذاب پہنچایا ہے۔
اپنا پاؤں (زمین پر) مار، یہ ٹھنڈا چشمہ نہانے اور پینے کو ہے۔
اور ہم نے ان کو ان کے اہل و عیال اور کتنے ہی اور بھی اپنی مہربانی سے عنایت فرمائے اور عقلمندوں کے لیے نصیحت ہے۔
اور اپنے ہاتھ میں جھاڑو کا مٹھا لے کر مار اور قسم نہ توڑ، بے شک ہم نے ایوب کو صابر پایا، وہ بڑے اچھے بندے، اللہ کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔

یہ آیتیں حضرت أیوب علیہ السلام کی زندگی کی ابتلاء و آزمائش کا بہترین خاکہ پیش کرتی ہیں اور یہ بتاتی ہیں کہ ان‌آزمائشوں پر آہ و فگا کرنے کے بجائے کس قدر صبر و استقامت کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے رب کو پکارا۔ انتہائی معجزانہ انداز میں چند جملوں کے اندر واقعے کی صحیح صورت حال کو واضح کر دیا گیا ہے ۔ نہ اس تکلیف کی تفصیل بتائی گئی اور نہ ہی ان کے بدن میں کسی طرح ک کیڑے پڑنے کا ذکر ہے ، جیسا کہ عوام و خواص میں یہ بات مشہور ہے ۔

لیکن قرآن کے بیان کردہ مختصر ، سچے اور سنہرے حروف پر افسانہ تراشوں نے رنگ آمیزی کرکے کچھ کا کچھ بنا دیا ہے ۔اور آج ہماری تفسیری کتابیں اس رنگ آمیزی سے بھری ہوئی ہیں ۔
چنانچہ اکثر مفسرین نے ان آیتوں کی تفسیر میں یہ نقشہ کھینچا ہے کہ جب ایوب علیہ السلام پر مصیبتیں آئیں تو اولادیں مرگئیں جسم مریض ہوگیا یہاں تک کہ سوئی کے ناکے کے برابر سارے جسم میں ایسی جگہ نہ تھی جہاں بیماری نہ ہو صرف دل سلامت رہ گیا اور پھر فقیری اور مفلسی کا یہ حال تھا کہ ایک وقت کا کھانا پاس نہ تھا کوئی نہ تھا جو خبر گیر ہوتا سوائے ایک بیوی صاحبہ ؓ کے جن کے دل میں خوف اللہ تھا لوگوں کا کام کاج کر کے اپنا اور اپنے میاں کا پیٹ پالتی تھیں آٹھ سال تک یہی حال رہا حالانکہ اس سے پہلے ان سے بڑھ کر مالدار کوئی نہ تھا۔ اولاد بھی بکثرت تھی اور دنیا کی ہر راحت موجود تھی۔ اب ہر چیز چھین لی گئی تھی اور شہر کا کوڑا کرکٹ جہاں ڈالا جاتا تھا وہیں آپ کو لا بٹھایا تھا۔ اسی حال میں ایک دو دن نہیں سال دو سال نہیں آٹھ سال کامل گذارے اپنے اور غیر سب نے منہ پھیرلیا تھا۔ خیریت پوچھنے والا بھی کوئی نہ تھا۔

جلال الدین سیوطی نے الدر المنثور میں حضرت قتادہ کی ایک روایت نقل کی ہے کہ جب حضرت ایوب کو یہ ابتلاء پیش آیا تو بن کے آل اولاد ، مال مویشی سب ہلاک ہوگئے اور بن کے جسم کو شدید نقصان پہنچا ،حضرت ایوب علیہ السلام سات سال اور کچھ مہینے اس مصیبت میں رہے اور بنی اسرائیل کے کوڑے خانے میں ڈال دیئے گئے ،ان کے جسم کے زخموں میں کیڑے رینگتے رہے، پھر اللہ نے ان کی مصیبت کو کم‌ کر دیا اور بن کو بہترین اجر دیا۔

(الدر المنثور: 7/166)

عبد الرحمٰن بن جبیر کی روایت میں ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام مال و اولاد اور جسم‌کی بیماری میں مبتلا ہو گئے تو ان کو ایک گھوڑے پر ڈال دیا گیا، ان کی بیوی شہر میں جا کر محنت مزدوری کرتی تھی اور ان کے کھانے پینے کا بندوبست کرتی تھی یہ دیکھ کر شیطان کو غصہ آیا اور اس نے مالداروں س جا کر یہ کہ دیا کہ یہ عورت جو تمہارے یہاں آتی ہے ،اس کو بھگاتے کیوں نہیں ہو ،اس کے ش ہر کو کوڑھ ہ ، یہ عورت اس کی تیمارداری کرتی ہے ، اس کے بدن کو اپنے ہاتھ سے چھوٹی ہے ، یہ عورت جذام پھیلا دے گی ،تمہارے کھانے گندے ہو جائیں گے ، اس کو اپنے دروازوں بر کھڑے مت ہونے دو ، اس کے بعد لوگوں نےاس کی مدد سے ہاتھ کھینچ لیا اور جب کسی کے پاس جاتی تو لوگ اس کو دھتکار دیتے ، یا بڑی نرمی کی تو کہتے کہ تم‌دور کھڑی رہو ،ہمارے قریب مت آؤ، ہم وہیں تمہیں کھانا دے دیتے ہیں۔

الدر المنثور: 7/169

اسی طرح وہب بن منبہ کی روایت ہے ۔
اس سلسلے میں اور بھی کئی راویوں کے روایت ہے ۔لیکن ان میں سے اکثر موضوع اور من گھڑت ہے ۔

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف حنفی دیوبندی بنوری ٹاؤن نے بھی حضرت ایوب علیہ السلام کے بدن میں کیڑے پڑنے کی باتوں کو غیر معتبر اور مقام نبوت و منصب رسالت کے خلاف بتایا ہے۔
چنانچہ جب ان سے اس بابت سوال کیا گیا کہ اہل علم کی محفل تھی، حضرت ایوب علیہ السلام کا موضوع چھڑ گیا ایک عالم زید نے کہا کہ حضرت ایوب کے جسم میں کیڑے نہیں پڑے تھے؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ انبیاء کو ایسے جسمانی ،عیوب جس سے لوگ نفرت کریں، بری کرتا ہے، دوسرے نے کہا کہ کیڑے پڑے تھے۔ آپ مستند، عربی تفاسیر سے اس مسئلہ میں رہنمائی فرمائیں!
تو انہوں نے جواب دیا : 
حضرت ایوب علیہ السلام کے بارے میں قرآنِ پاک میں اللہ رب العزت نے صرف ان کی آزمائش و تکلیف کا تذکرہ کیا ہے کہ جس عارضہ میں مبتلا ہوگئے تھے، اس میں ان کے لیے سخت تکلیف اور مشقت تھی ، البتہ جسمانی تکلیف کی نوعیت کیا تھی؟

 اس سلسلہ میں قرآن وحدیث میں کوئی صراحت منقول نہیں ہے، اور بدن میں کیڑے وغیرہ پڑنے کی جو باتیں عوام میں مشہور ہیں، یہ سب غیر معتبر ہیں ، نیز مقامِ نبوت اور منصبِ رسالت کے بھی خلاف ہیں، اس لیے ان پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی انہیں بیان کیا جائے ۔ 
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر: فتوی نمبر : 144110201106

اسی طرح دارالعلوم دیوبند نسے جب اس بابت سوال کیا گیا کہ بعض لوگ بیان میں کہتے ہیں کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے بدن پر کیڑے پڑ گئے تھے جب کوئی کیڑا ان کے بدن سے گر جاتا تو وہ اس کو اٹھاکر بدن پر ڈال لیتے اور کہتے کہ تیری روزی میرے بدن میں ہے تو کیوں جاتا ہے؟ کیا یہ صحیح ہے؟
تو دارالعلوم دیوبند نے جواب دیا: 
 

قرآن کریم میں اتنا بتایا گیا ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام کوایک شدید قسم کا مرض لاحق ہوگیا تھا، لیکن اس مرض کی نوعیت نہیں بتائی گئی۔ احادیث میں بھی اس کی کوئی تفصیل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول نہیں ہے۔ البتہ بعض آثار سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ علیہ السلام کے جسم کے ہرحصے پر پھوڑے نکل آئے تھے، یہاں تک کہ لوگوں نے گھن کی وجہ سے آپ کو ایک کوڑی پر ڈال دیا تھا، لیکن بعض مفسرین نے ان آثار کو درست تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ انبیاء علیہم السلام پر بیماریاں تو آسکتی ہیں، لیکن انھیں ایسی بیماریوں میں مبتلا نہیں کیا جاتا، جن سے لوگ گھن کرنے لکیں۔ حضرت ایوب علیہ السلام کی بیماری بھی ایسی نہیں ہوسکتی، بلکہ یہ کوئی عام قسم کی بیماری تھی، لہٰذا وہ آثار جن میں حضرت ایوب علیہ السلام کی طرف پھوڑے پھنسیوں کی نسبت کی گئی ہے یا جن میں کہا گیا ہے کہ آپ کو کوڑی پر ڈال دیا گیا تھا، یا بعض لوگوں کا یہ بیان کہ حضرت ایوب علیہ السلام کے بدن پر کیڑے پڑگئے تھے، روایةً و درایةً قابل اعتماد نہیں ہیں۔ (معارف القرآن)
دار الافتاء 
دارالعلوم دیوبند 
فتویٰ نمبر: 7047
رضاخانیوں کا غالی بدعتی گروہ دعوت اسلامی نے بھی اس واقعے کو غیر معتبر قرار دیا ہے ۔
چنانچہ ان دعوت اسلامی کے بہنوں کے اجتماع میں جب اس واقعے کو بیان کیا گیا کہ حضرت ایوب علیہ الصلوۃ و السلام کو نہ کوڑھ کا مرض تھا اور نہ ہی آپ علیہ الصلوۃ والسلام کے بدن مبارک میں کیڑے پڑے تھے ، کیونکہ انبیائے کرام علیھم السلام ان چیزوں سے پاک ہوتے ہیں جن سے لوگوں کو گھن آتی ہو۔"

   اب بعض لوگوں کا یہ کہنا ہےکہ یہ درست نہیں ہے اور ایوب علیہ السلام کے بدن میں معاذ اللہ کیڑے پڑے تھے ، یہ بات پہلے بھی کچھ علما بیان کرتے چلے آئے ہیں ، تو ایسے لوگوں کو کس طرح سمجھائیں ، اس کا کوئی ثبوت بیان کر دیجیے ۔

تو جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں: 

   حضرت ایوب علیہ السلام بلا شبہ اللہ پاک کے نبی ہیں اورانبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام ہر اس بات سے محفوظ ومامون ہوتے ہیں جن سے لوگوں کو گھن آتی ہے ، لہٰذا حضرت ایوب علیہ السلام کے متعلق یہ کہنا کہ مَعَاذَ اللہ آپ کو کوڑھ کا مرض تھا یا بدنِ مبارک میں کیڑے پڑ گئے تھے ہر گز درست نہیں ، بلکہ یہ غیر معتبر واقعہ ہے ، جیساکہ کتب ِمعتبرہ میں موجود ہے :

   چنانچہ مفتی اعظم پاکستان مفتی وقار الدین قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں :" حضرتِ ایوب علیہ السلام کے جسم پر کیڑے پڑنا منقول تو ہے ، پر تمام مفسرین نے اسے نقل نہیں کیا ہےبعض تفسیروں میں ایسے واقعات کو لکھ کر ان کی صحّت کے بارے میں یہ لکھ دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انھیں بھی واقعے کے بارے میں شبہ تھا اللہ تعالیٰ انبیاے کرام کو کسی ایسے مرض میں مبتلا نہیں فرماتا جس سے لوگوں کو نفرت ہو لہٰذا جب تک کسی صحیح حدیث سے یہ واقعہ ثابت نہ ہو تب تک اسے بیان کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ "(وقارالفتاوی ، جلد01 ، صفحہ 71،کراچی)

   مزید اس کی تفصیل کے متعلق صراط الجنان فی تفسیر القرآن میں ہے :

   "حضرت ایوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بیماری کے بارے میں علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:"عام طور پر لوگوں میں مشہور ہے کہ مَعَاذَ اللہ آپ کو کوڑھ کی بیماری ہو گئی تھی۔ چنانچہ بعض غیر معتبر کتابوں میں آپ کے کوڑھ کے بارے میں بہت سی غیر معتبر داستانیں بھی تحریر ہیں ، مگر یاد رکھو کہ یہ سب باتیں سرتا پا بالکل غلط ہیں اور ہر گز ہرگز آپ یا کوئی نبی بھی کبھی کوڑھ اور جذام کی بیماری میں مبتلا نہیں ہوا، اس لئے کہ یہ مسئلہ مُتَّفَق علیہ ہے کہ اَنبیاء عَلَیْہِمُ السَّلَام کا تمام اُن بیماریوں سے محفوظ رہنا ضروری ہے جو عوام کے نزدیک باعث ِنفرت و حقارت ہیں ۔ کیونکہ انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلَام کا یہ فرضِ منصبی ہے کہ وہ تبلیغ و ہدایت کرتے رہیں تو ظاہر ہے کہ جب عوام ان کی بیماریوں سے نفرت کر کے ان سے دور بھاگیں گے تو بھلا تبلیغ کا فریضہ کیونکر ادا ہو سکے گا؟ الغرض حضرت ایوب عَلَیْہِ السَّلَام ہرگز کبھی کوڑھ اور جذام کی بیماری میں مبتلا نہیں ہوئے بلکہ آپ کے بدن پر کچھ آبلے اور پھوڑے پھنسیاں نکل آئی تھیں جن سے آپ برسوں تکلیف اور مشقت جھیلتے رہے اور برابر صابر و شاکر رہے۔" (عجائب القرآن مع غرائب القرآن، حضرت ایوب علیہ السلام کا امتحان، ص181 ، 182 )

    یونہی بعض کتابوں میں جو یہ واقعہ مذکور ہے کہ بیماری کے دوران حضرت ایوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے جسم مبارک میں کیڑے پیدا ہو گئے تھے جو آپ کا جسم شریف کھاتے تھے، یہ بھی درست نہیں کیونکہ ظاہری جسم میں کیڑوں کا پیدا ہونا بھی عوام کے لئے نفرت و حقارت کا باعث ہے اور لوگ ایسی چیز سے گھن کھاتے ہیں ۔لہٰذا خطباء اور واعظین کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پیارے نبی حضرت ایوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف ایسی چیزوں کو منسوب نہ کریں جن سے لوگ نفرت کرتے ہوں اور وہ منصبِ نبوت کے تقاضوں کے خلاف ہو۔

مجیب:ابوالفیضان عرفان احمدمدنی

فتوی نمبر:WAT-1179

تاریخ اجراء:22ربیع الاول1444ھ/19اکتوبر2022ء

علامہ اسیر ادروی لکھتے ہیں: 

یہ صحیح ہے کہ ایوب علیہ السلام ابتلاء و آزمائش میں رہے ، ان کا متاع و مال اور اولاد تباہ و برباد ہو گئے ، شدید بیمار بھی رہے، ان حالات میں انہوں نے صبر و ضبط کا وہ عظیم المثال مطاہرہ کیا کہ ان کا صبرضرب المثل بن گیا اور آخر قصہ میں قرآن نے ان کی فضیلت بیان کر کے قصہ تمام کر دیا ، ابتلاء میں کوئی شک نہیں ، لیکن یہ کیا ضروری ہے کہ خدا تو اسے نہ بیان کرے ،خدا کا رسول جو اسے تلاوت کر رہا ہے ، اس کی تفصیل سے خاموش رہے ، اور افسانہ تراشوں اور حکایت سازوں کے گھڑے ہوے قصوں ،جھوٹے سچے قصوں کو اس کے ساتھ جوڑ کر قرآن کی صداقت و حقانیت کو غیر وں کی نگاہ میں داغدار کیا جائے اور ایسے اتہامات عائد کیے جائیں جو کسی نبی یا رسول کی ذات کے لیے قابل قبول نہیں ہو سکتے ۔جو یہود اللہ پر الزام تراشیاں کرتے ہیں وہ حضرت ایوب کو کیس بخش سکتے ہیں ؟
یہ بات قابل تسلیم‌ نہیں کہ ان کو کوڑھ اور جذام ہو گیا تھا، ان کا جسم سر سے پائوں تک ایسا زخم بن گیا تھا کہ کیڑے دوڑتے پھرتے یا وہ گھور اور مزیلہ میں پھنک دیے گیۓ تھے اور بنی اسرائیل کے کتے ان سے چھیڑ کرتے تھے، اگر اللہ رب العزت اپنے پیغمبروں کو ایسے گھناؤنے اور نفرت انگیز مرضوں میں مبتلا کرے گا تو پیغمبروں کا مقصد تبلیغ کیسے پورا ہوگا ؟ لوگ ان سے نفرت کریں گے ، دور بھاگیں گے ، جب عوام و خواص ان سے گھن کریں گے تو ان کی بات کون سنے گا ؟ پھر ایسی نبوت و رسالت کیا مفید ہوگی ؟

اانبیاء ہمیشہ شریف اور معزز گھرانوں میں پیدا ہوتے رہے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام کے اہل خاندان ،اعزہ ،اقربا کیا ہو گیۓ ؟جو ان کو گھر میں رکھتے اور کھانا کھلاتے ، صرف بیوی ان کی خدمت کرتی ہوئ نظر آتی ہے اور نوبت یہاں تک آجاتی ہے کہ ان کو سر کی چوٹیاں تک فروخت کرنی پڑتی ہیں تاکہ حضرت ایوب کو ایک وقت کا کھانا کھلا سکے ۔
اس لیے بہتر یہی ہوگا کہ قرآن و صحیح حدیث ن واقعے کے جتنے حصے کو بیان کیا ہے صرف اتن ہی حل پر اکتفا کیا جائے اور اس طرح کی گندی اور گھناؤنی باتوں کو ایک نبی کی طرف منسوب کرنے سے پرہیز کیا جائے۔ ایک مسلمان کے لئے صحیح راستہ یہی ہے جو نبیوں اور رسولوں کی عظمت و جلالت قدر کا صحیح شناسا اور رتبہ شناس ہے۔
جب قرآن و حدیث ن ہمیں واقعے کی تفصیل نہیں بتائیہے تو تیسرا کون ہے جو حضرت ایوب کا واقعہ ہمیں سنا رہا ہے ؟ یہ بتایا جاۓ کہ یہ تفصیلات کہاں سے آئیں ؟ وہ کون مستند ذریعہ ہے جس کے بیان کردہ واقعے کو بلا تحقیق قبول کر لیا جاۓ ؟ علماء امت کے نزدیک اسرائیلیات متروک ہیں ، اس لیے ادھر سے آنکھیں پھیر لو اور ان خرافات سے اپنے کانوں کو بند کر لو کیونکہ وہ بےبنیاد افسانے اور کہانیاں گھڑا کرتے ہیں ۔

(تفسیروں میں اسرائیلی روایات: اسیر ادروی ، صفحہ نمبر : 84)
اللهم اردنا الحق حقا وارزقنا اتباعه و ارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه! 

حضرت عبدااللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں: 
 تم اہل کتاب سے کسی چیز کے بارے میں کیوں پوچھتے ہو جبکہ تمہاری کتاب جو رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی وہ تازہ بھی ہے اور محفوظ بھی اور تمہیں اس نے بتا بھی دیا کہ اہل کتاب نے اپنا دین بدل ڈالا اور اللہ کی کتاب میں تبدیلی کر دی اور اسے اپنے ہاتھ سے ازخود بنا کر لکھا اور کہا کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ اس کے ذریعہ دنیا کا تھوڑا سا مال کما لیں ۔ تمہارے پاس ( قرآن و حدیث کا ) جو علم ہے وہ تمہیں ان سے پوچھنے سے منع کرتا ہے ۔ واللہ ! میں تو نہیں دیکھتا کہ اہل کتاب میں سے کوئی تم سے اس کے بارے میں پوچھتا ہو جو تم پر نازل کیا گیا ہو ۔
صحیح بخاری: حدیث نمبر: 7363
اللهم اردنا الحق حقا وارزقنا اتباعه و ارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه!

Recent posts

وقف ترمیمی بل

عامۃ المسلمین میں ایسے کئی لوگ ہوسکتے ہیں جو نئے وقف قانون کی باریکیوں سے واقف نہ ہوں اسی لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس پر تفصیلی گفتگو ہو۔ م...