السلام عليكم و رحمة الله وبركاته
موضوع: نماز جنازہ پڑھاتے وقت امام کہاں کھڑا ہو !
از : محمد اقبال قاسمي سلفي
مصادر : مختلف مراجع و مصادر !
کتاب و سنت کی شاہراہ کو چھوڑ کر صوفی سنتوں کے قصے کہانیوں پر عمل کرنے والے دیوبندی اور رضاخانی علماء اور مفتیان کو عام طور پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہ نماز جنازہ پڑھاتے ہوے میت کے درمیان میں کھڑے ہوتے ہیں ، خواہ جنازہ مرد کا ہو یا عورت کا۔
چنانچہ دارالعلوم دیوبند سے جب یہ سوال کیا گیا کہ میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ بالغ مرد یابالغ عورت کے جنازہ کی نماز میں امام کہاں پر کھڑے ہوں گے؟کمر یاسینے کے سامنے؟
تو دارالعلوم دیوبند نے جواب دیا:
سینے کے سامنے۔ یقوم للرجل والمرأةِ بحذاء الصدر وھذا أحسن (عالمگیري: ۱/۱۸۰، ط بیروت)
دار الافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتویٰ نمبر: 24386
جیساکہ اس فتوے سے واضح ہے کہ جنازے کی نماز میں امام ہر حال میں میت کے سینے کے بالمقابل کھڑا ہوگا، اسی طریقے کو ان کے یہاں حسن قرار دیا گیا ہے ۔
فتاوی عالمگیری میں ہے: یقوم للرجل والمرأةِ بحذاء الصدر وھذا أحسن (عالمگیري: ۱/۱۸۰)
(امام سینے کے بالمقابل کھڑا ہوگا ،مرد ہو یا عورت ۔)
اسی طرح معتبر عند الاحناف در مختار میں ہے:
"(ويقوم الإمام) ندباً (بحذاء الصدر مطلقاً) للرجل والمرأة؛ لأنه محل الإيمان والشفاعة لأجله.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 216)
لیکن مذکورہ بالا طریقہ اس نبوی طریقے کے یکسر خلاف ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح احادیث کی روشنی میں ثابت شدہ ہے۔
سینے کے پاس کھڑے ہونے کی کوئی صحیح دلیل موجود نہیں ہے ۔صحیح تو کیا کسی ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے جس میں عند الصدر کے الفاظ موجود ہوں۔
صحیح طریقہ نبوی یہ ہے کہ جنازہ پڑھاتے وقت امام کو مرد کے سر کے بالمقابل اور عورت کے درمیان میں کھڑا ہونا چاہیے۔
عَنْ نَافِعٍ أَبِي غَالِبٍ، قَالَ: كُنْتُ فِي سِكَّةِ الْمِرْبَدِ، فَمَرَّتْ جَنَازَةٌ مَعَهَا نَاسٌ كَثِيرٌ، قَالُوا: جَنَازَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ، فَتَبِعْتُهَا، فَإِذَا أَنَا بِرَجُلٍ عَلَيْهِ كِسَاءٌ رَقِيقٌ عَلَى بُرَيْذِينَتِهِ، وَعَلَى رَأْسِهِ خِرْقَةٌ تَقِيهِ مِنَ الشَّمْسِ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا الدِّهْقَانُ ؟ قَالُوا: هَذَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، فَلَمَّا وُضِعَتِ الْجَنَازَةُ، قَامَ أَنَسٌ فَصَلَّى عَلَيْهَا، وَأَنَا خَلْفَهُ، لَا يَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ شَيْءٌ، فَقَامَ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ، لَمْ يُطِلْ، وَلَمْ يُسْرِعْ، ثُمَّ ذَهَبَ يَقْعُدُ، فَقَالُوا: يَا أَبَا حَمْزَةَ، الْمَرْأَةُ الْأَنْصَارِيَّةُ، فَقَرَّبُوهَا وَعَلَيْهَا نَعْشٌ أَخْضَرُ، فَقَامَ عِنْدَ عَجِيزَتِهَا، فَصَلَّى عَلَيْهَا نَحْوَ صَلَاتِهِ عَلَى الرَّجُلِ، ثُمَّ جَلَسَ، فَقَالَ الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، هَكَذَا كَانَ يَفْعَلُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُصَلِّي عَلَى الْجَنَازَةِ كَصَلَاتِكَ: يُكَبِّرُ عَلَيْهَا أَرْبَعًا، وَيَقُومُ عِنْدَ رَأْسِ الرَّجُلِ، وَعَجِيزَةِ الْمَرْأَةِ ؟ قَالَ: نَعَمْ.
حضرت نافع ابوغالب رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ میں ( بصرہ میں ) مربد محلہ کی ایک گلی میں تھا کہ ایک جنازہ گزرا ، اس کے ساتھ بہت سے لوگ تھے ۔ لوگوں نے کہا : یہ عبداللہ بن عمیر کا جنازہ ہے تو میں بھی اس کے ساتھ ہو لیا ۔ میں نے ایک آدمی دیکھا جو ایک باریک سی اونی چادر اوڑھے ہوئے اپنے چھوٹے سے گھوڑے پر سوار تھا ، دھوپ سے بچاؤ کے لیے اس نے اپنے سر پر کپڑا رکھا ہوا تھا ۔ میں نے پوچھا : یہ محترم بزرگ کون ہیں ؟ لوگوں نے کہا : یہ ( صحابی رسول ) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہیں ۔ چنانچہ جب میت کو رکھا گیا تو حضرت انس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور اس کا جنازہ پڑھایا ، میں ان کے پیچھے تھا میرے اور ان کے درمیان کوئی چیز حائل نہ تھی ۔ آپ اس میت کے سر کے مقابل کھڑے ہوئے اور چار تکبیریں کہیں ۔ آپ نے نماز میں طوالت کی ، نہ جلدی ۔ پھر بیٹھنے لگے تو لوگوں نے کہا : اے ابوحمزہ ! ( حضرت انس رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے ) یہ ایک انصاری خاتون ( کا جنازہ ) ہے اور وہ اسے قریب لائے اور میت کے اوپر سبز رنگ کا پردہ تھا ۔ ( تابوت نما رکاوٹ جو عورت کی نعش پر رکھی جاتی ہے ) تو آپ اس کی کمر کے مقابل کھڑے ہوئے اور جنازہ پڑھایا جیسے کہ مرد کا پڑھایا تھا پھر آپ بیٹھ گئے ۔ تو علاء بن زیاد نے پوچھا : اے ابوحمزہ ! کیا رسول اللہ ﷺ بھی ایسے ہی جنازہ پڑھایا کرتے تھے جیسے کہ آپ نے پڑھایا ہے کہ چار تکبیریں کہتے اور مرد کے لیے اس کے سر کے سامنے اور عورت کے لیے اس کی کمر کے مقابل کھڑے ہوا کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا۔
سنن ابوداؤد: حدیث نمبر: 3194
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ وَرَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا، فَقَامَ عَلَيْهَا لِلصَّلَاةِ وَسَطَهَا .
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں : میں نے نبی ﷺ کی اقتدا میں ایک عورت کا جنازہ پڑھا جو کہ ایام نفاس میں فوت ہوئی تھی ۔ تو آپ ﷺ اس کے درمیان کے مقابل کھڑے ہوئے تھے ۔
سنن ابوداؤد: حدیث نمبر: 3195
اناحدیث سے معلوم ہوا کہ عورت کی نماز جنازہ ہو تو امام اس کی کمر کے پاس کھڑا ہو گا، اور مرد کی نماز جنازہ ہو تو سر کے پاس ، کیونکہ انس بن مالک نے عبداللہ بن عمیر کا جنازہ ان کے سر کے پاس ہی کھڑے ہو کر پڑھایا تھا اور علاء بن زیاد کے پوچھنے پر انہوں نے کہا تھا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کرتے دیکھا.
امام ترمذی ؒ فرماتے ہیں:
(وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا)
أَيْ إِلَى أَنَّ الْإِمَامَ يَقُومُ حِذَاءَ رَأْسِ الرَّجُلِ وَحِذَاءَ عَجِيزَةِ الْمَرْأَةِ (وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ)
وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَهُوَ الْحَقُّ وَهُوَ رِوَايَةٌ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ قَالَ فِي الْهِدَايَةِ وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ أَنَّهُ يَقُومُ مِنَ الرَّجُلِ بِحِذَاءِ رَأْسِهِ وَمِنَ الْمَرْأَةِ بِحِذَاءِ وَسَطِهَا لِأَنَّ أَنَسًا فَعَلَ كَذَلِكَ وَقَالَ هُوَ السُّنَّةُ۔
(تحفة الأحوذي)
یعنی بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں کہ جنازہ کی نماز میں امام مرد میت کے سر کے پاس کھڑا ہو اور عورت کے بدن کے وسط میں کمر کے پاس۔
امام احمد ؒ اور اسحق ؒ اور امام شافعی ؒ کا یہی قول ہے اور یہی حق ہے اور ہدایہ میں حضرت امام ابوحنیفہ ؒ سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ امام مرد میت کے سرکے پاس اور عورت کے وسط میں کھڑا ہو اس لیے کہ حضرت انس ؓ نے ایسا ہی کیا تھا اور فرمایا تھا کہ سنت یہی ہے۔
جنازے کی نماز پڑھاتے وقت جنازے کے سامنے کھڑے ہونے کا یہی صحیح اور مسنون طریقہ ہے۔
اس کے بر عکس احناف کے یہاں رائج اور ان کی کتب فتاویٰ میں درج طریقے کی کوئی بھی شرعی دلیل موجود نہیں ہے ، وہ طریقہ بے سند اور بے دلیل ہے۔ کسی بھی صحیح حدیث میں وہ طریقہ موجود نہیں ہے ،صحیح تو کیا کسی ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے جس میں یہ طریقہ موجود ہو۔
حنفیوں کا یہ کہنا کہ دل منبع ایمان ہے اس لیے اس کے سامنے کھڑا ہونا چاہیے ، جیسا کہ درمختار میں ہے:"(ويقوم الإمام) ندباً (بحذاء الصدر مطلقاً) للرجل والمرأة؛ لأنه محل الإيمان والشفاعة لأجله.
یہ مخالفت حدیث اور محض قیاس آرائی ہے ۔
اس طرح سنن ابوداؤد ، حدیث نمبر 3195 کے بارے میں ان کا یہ کہنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے پردہ کرنے کے لیے پیٹ کے سامنے کھڑے ہوئے تھے، غلط ہے، کیونکہ کسی روایت میں یہ وجہ بیان نہیں کی گئی، نہ عقل اس توجیہ کی تائید کرتی ہے کیونکہ امام کے پیٹ کے سامنے کھڑا ہونے سے پوری صف سے پردہ ممکن نہیں۔ صرف دو چار آدمیوں سے پردہ ہو سکتا ہے اور وہ کسی بھی جگہ کھڑے ہونے سے حاصل ہو سکتا ہے نہ کہ صرف پیٹ کے سامنے کھڑا ہونے سے۔ ویسے بھی پورا جنازہ کفن میں لپیٹا ہوا ہوتا ہے۔
احناف کی تاویل اس لیے بھی فاسد ہے کہ اس روایت میں اس عورت کی میت پر سبز رنگ کے تابوت کے رکاوٹ ہونے کا ذکر موجود ہے :
( وَعَلَيْهَا نَعْشٌ أَخْضَرُ۔)
راوی حدیث حضرت ابو غالب کہتےہیں: ’’ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے اس عمل کے متعلق دریافت کیا جو وہ عورت کی کمر کے مقابل کھڑے ہوئے تھے تو لوگوں نے کہا یہ اس لئے ہوتا تھا کہ میت پر تابوت نہیں رکھا جاتا تھا تو امام عورت کی کمر کے مقابل کھڑا ہو جاتا تاکہ اس کے لئے قوم سے پردہ بن جائے۔ ‘‘
احناف کا اس سے دلیل پکڑنا بے فائدہ ہے ،کیونکہ ابو غالب کو یہ وجہ بتانے والے لوگ مجہول ہیں۔ اور مجہول لوگوں کی وجہ سے ہم رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے طریقے کو نہیں چھوڑ سکتے۔
علامہ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
" السنة أن يقف الإمام عند عجيزة المرأة بلا خلاف للحديث ; ولأنه أبلغ في صيانتها عن الباقين وفي الرجل وجهان: الصحيح : باتفاق المصنفين , وقطع به كثيرون وهو قول جمهور أصحابنا المتقدمين أنه يقف , عند رأسه " والثاني " : قاله أبو علي الطبري عند صدره..., والصواب ما قدمته عن الجمهور , وهو عند رأسه ونقله القاضي حسين عن الأصحاب.." انتهى من "شرح المهذب" (5/183) ۔
سنت یہ ہے کہ امام عورت کے وسط میں کھڑا ہو، اس میں کسی (سلف)کا اختلاف نہیں ہے اور یہی حدیث کے مطابق ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ
علامہ شوکانی فرماتے ہیں:
قال الشوكاني رحمه الله : " وإلى ما يقتضيه هذان الحديثان ـ حديث سمرة ، وأنس رضي الله عنهما ـ من القيام عند رأس الرجل ووسط المرأة ذهب الشافعي وهو الحق.." انتهى من " نيل الأوطار" (4/80) .
علامہ شوکانی فرماتے ہیں کہ حدث سمرہ اور حدیث انس کا یہ تقاضا ہے کہ امام مرد کے سر کے قریب اور عورت کے درمیان میں کھڑا ہو ۔امام شافعی کا یہی مسلک ہے اور یہی حق ہے۔
علامہ ابن باز رحمہ االلہ فرماتے ہیں:
وقال الشيخ ابن باز رحمه الله : " ويسن أن يقف الإمام عند رأس الرجل وعند وسط المرأة لثبوت ذلك عن النبي صلى الله عليه وسلم من حديث أنس وسمرة بن جندب رضي الله عنهما , وأما قول بعض العلماء: إن السنة الوقوف عند صدر الرجل فهو قول ضعيف ليس عليه دليل فيما نعلم.." انتهى من "مجموع الفتاوى" (13/142) .
شیخ بن باز رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں: حدیث انس اور حدیث سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالٰی عنہما کی وجہ سے سنت یہی ہے کہ امام مرد کے سر کے قریب اور عورت کے وسط میں کھڑا ہو ۔
اور کچھ علماء کا یہ کہنا کہ سینے ک پاس کھڑا ہونا سنت ہے ، تو یہ ایسا کمزور قول ہے جس پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔
اللهم اردنا الحق حقا وارزقنا اتباعه و ارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه!