Saturday, February 8, 2025

صحابی کی داڑھی کے ایک ہی بال میں فرشتوں کے جھولنے کی تحقیق!

بسم الله الرحمن الرحيم 

السلام عليكم و رحمة الله وبركاته ! 

موضوع: صحابی کی داڑھی کے ایک ہی بال میں فرشتوں کے جھولنے کی تحقیق!

از : محمد اقبال قاسمي سلفي 

مصادر: مختلف مراجع و مصادر 

داڑھی رکھنے کی فضیلت کے متعلق اکثر یہ روایت بیان کردی جاتی ہے کہ ایک صحابیُ رسول تھے جنکی فقط ایک ہی داڑھی تھی جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم داڑھی کے اس ایک بال کو دیکھتے تو مسکرا دیتے. پھر صحابیُ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سوچ کر کہ ایک ہی داڈھی توہے ۔اکھاڑ دیا ۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ جب ان کے چہرے پر پڑی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراضگی کا اظہار فرماتے ہوےُ ارشاد فرمایا کہ تمہاری داڑھی کے اس ایک بال پر ستر ہزار فرشتے جھولا جھولتے تھے۔ 

باک و ہند میں زبان زد عوام و خواص یہ روایت بالکل بے سند اور بے اصل ہے، صحیح تو کیا کسی ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے جس میں یہ بات موجود ہو۔

کچھ لوگ صحابی کی داڑھی کے دو بال کے حوالے سے اس فضیلت کو بیان کرتے ہیں ۔

اس معنی کی ایک روایت بیان کی جاتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: 

ولقد كان احد الصحابة لديه شعرتين في لحيته فقط فكان كلما رأه النبي صلى الله عليه وسلم ابتسم فيستغرب ذلك الصحابي رضي الله عنه وعندها ذهب ذلك الصحابي وحلق تلك الشعرتين فلما راه النبي صلى الله عليه وسلم سأله عن سبب حلقها فقال ذلك الصحابي اني اراك يارسول الله كلما رايتني ابتسمت ـ او فيما معنى الحديث ـ فقال صلى الله عليه وسلم ان سبب الابتسام هو انه صلى الله عليه وسلم يرى مع كل شعرة ملك يحرسها۔

لیکن یہ بھی بے سند اور بے اصل روایت ہے ۔صحیح تو کسی ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے جس میں یہ بات موجو ہو۔
دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا حدیث میں ایسے کسی صحابی کا تذکرہ ملتا ہے جن کے چہرے پر داڑھی کے دو بال تھے اور ان کو اکھاڑنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراضی کا اظہار کیا اور فرمایا کہ ان بالوں سے فرشتے کھیلتے تھے؟

تو انہیں نے جواب دیا : 
سوال میں آپ نے جو الفاظ ذکر کیے ہیں،حدیث کی کتابوں میں تلاش کے باوجود ہمیں مذکورہ الفاظ سے کوئی حدیث نہیں مل سکی، لہذا جب تک کسی معتبر سند سے اس کاثبوت نہ مل جائے، اس وقت تک اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرکے بیان کرنے سے احتراز کیاجائے۔

دارالافتاء 
: جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر: 144503101453
،
علماء و مفتیان کرام کو چاہیے کہ اس طرح کی بے سند اور موضوع روایات کو بیان کرنے سے خود بھی بچیں اور قوم و ملت کی بھی حفاظت فرمائیں۔

اللهم اني اسئلک علما نافعا و رزقا طىبا وعملا متقبلا!

Thursday, February 6, 2025

کھانا کھانے سے پہلے کی دعا : بسم الله وعلى بركة الله میں حرف جر " علی " کا عدم ثبوت !

بسم الله الرحمن الرحيم 

السلام عليكم و رحمة الله وبركاته 

موضوع: کھانا کھانے سے پہلے کی دعا : بسم الله وعلى بركة الله میں حرف جر " علی " کا عدم ثبوت !

از : محمد اقبال قاسمي سلفي 

مصادر : مختلف مراجع و مصادر 

احناف کے یہاں کھانا کھانے سے پہلے " بسم الله وعلى بركة الله" کے الفاظ کے ساتھ دعا پڑھی اور سکھائی جاتی ہے ۔

لیکن ان الفاظ کے ساتھ یہ دعا کہیں مذکور نہیں ہے ، صحیح تو کیا کسی ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے جس میں بعینہ یہ الفاظ موجود ہوں، یعنی بسم الله وعلى بركة الله میں " حرف جر علی" کی زیاتی کسی بھی روایت میں موجود نہیں ہے ۔

لفظ "علی" ک ساتھ یہ دعا حصن حصین ، سلاح المؤمن اور تفسیر ثعالبی اور تفسیر مظہری جیسی کتابوں میں موجود تو ہے ۔ لیکن جس مستدرک الحاکم کے حوالے سے یہ دعا ان کتابوں میں مذکور ہے ،اس مستدرک الحاکم میں یہ دعا بغیر "علی" یعنی بسم اللہ و برکۃ اللہ کے الفاظ کے ساتھ ہے ۔

 (بسم اللہ وبركة الله )کے بجائے【بسم اللہ و علی برکۃ اللہ】 کے الفاظ کے ساتھ یہ دعا شاید سب سے پہلے ابن الامام نے اپنی کتاب " سلاح المومن "(ص۳۹۴) میں ذکر کیا ہے ، اور اس کی نسبت انہوں نےحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کی طرف کی ہے اور حوالہ مستدرک حاکم کا دیا ہے ۔اس کے بعد ابن الامام پر اعتماد کرتے ہوئے ابن الجزری نے (حصن حصین)میں (وعلی برکۃ اللہ)کے الفاظ سےیہ دعا ذکر کی ، اور وہاں سے دعاؤں کی کتابوں میں اور زبانوں پر پھیل گئی۔ یعنی اس دعا میں حرف جر کے ساتھ اضافے کا اولین مصدر ابن الامام کی کتاب سلاح المؤمن فی الدعاء والذکر ہے۔
حالانکہ ابن الامام نے سلاح المؤمن میں جس مستدرک الحاکم کا حوالہ دیا ہے ، اس مستدرک الحاکم میں حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی روایت میں دعا کے یہ الفاظ ہی سرے سے موجود نہیں ہے ۔
بلکہ یہ الفاظ حضرت ابن عباس کی روایت سے وارد ہے، لیکن اس میں دعا کے الفاظ بسم الله وبركة الله ہے ، نہ کہ بسم اللہ وعلی برکۃ اللہ. 
دارلعلوم دیوبند نے بھی فتویٰ دیتے ہوے یہ لکھا کہ اصل ماخذ (مستدرک الحاکم)جس کے حوالے سے یہ دعا مختلف کتب میں درج ہے ، وہاں و علی برکۃ اللہ ک بجائے وبرکۃ اللہ یعنی علی کے بغیر ہی درج ہے۔

چنانچہ دارالعلوم دیوبند سے جب اس بابت سوال کیا گیا کہ کھانا کھانے سے پہلے کی دعا میں بسم اللہ کے بعد و علی برکة اللہ کا ثبوت ہے یا نہیں؟

تو دارالعلوم دیوبند نے جواب دیتے ہوئے لکھا: 
حصن حصین میں ”وعلی برکة اللہ“ یعنی ”علی“ کے ساتھ یہ دعا موجود ہے، اسی طرح مستدرک حاکم میں بھی یہ دعا ہے؛ البتہ اس میں ”وبرکة اللہ“ ہے یعنی ”علی“ کے بغیر صرف ”واو“ عاطفہ کے ساتھ۔ عن ابن عباس رضی اللہ عنہما، أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم وأبا بکر وعمر رضی اللہ عنہما أتوا بیت أبی أیوب فلما أکلوا وشبعوا قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: خبز ولحم وتمر وبسر ورطب إذا أصبتم مثل ہذا فضربتم بأیدیکم فکلوا بسم اللہ وبرکة اللہ ہذا حدیث صحیح الإسناد ولم یخرجاہ․ (رقم: ۷۰۸۴، مستدرک حاکم) کنزل العمال میں شعب الایمان للبیہقی کے حوالے سے یہ روایت آئی ہے؛ البتہ اس کے اخیر میں یہ الفاظ ہیں ”فقولوا: بسم اللہ وبركة اللہ“ (کنزل العمال، رقم: ۴۰۸۴۵) نیزدیکھیں: حاشیة تحفة الالمعی (۱/۲۴۶)

دارالافتاء 
دارلعلوم دیوبند 
فتویٰ نمبر: 160896

خلاصہ یہ کہ جن معتبر کتابوں میں یہ دعا درج ہے، ان معتبر کتابوں میں بطور ماخذ مستدرک الحاکم کا حوالہ درج کیا گیا ہے ، جبکہ مستدرک الحاکم میں برکۃ اللہ سے پہلے علی موجود ہی نہیں ہے ۔
مستدرک الحاکم میں یہ روایت اس طرح ہے: 
امام حاکم روایت کرتے ہیں: 

 أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ قَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، بِمَرْوَ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُوَجِّهِ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ، أَنْبَأَ الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَيْسَانَ، ثَنَا عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَتَوْا بَيْتَ أَبِي أَيُّوبَ فَلَمَّا أَكَلُوا وَشَبِعُوا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُبْزٌ وَلَحْمٌ وَتَمْرٌ وَبُسْرٌ وَرُطَبٌ إِذَا أَصَبْتُمْ مِثْلَ هَذَا فَضَرَبْتُمْ بِأَيْدِيكُمْ فَكُلُوا بِسْمِ اللَّهِ وَبَرَكَةِ اللَّهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ ""
 [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7084 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لائے ، جب یہ لوگ پیٹ بھر کر کھانا کھا چکے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : "روٹی ، گوشت ، کھجور ، بسر اور رطب کھجوریں جب تمہیں ملیں تو بسم اللہ وبرکۃ اللہ کہہ کر کھانا شروع کیا کرو ۔ "
 
(مستدرک الحاکم: حدیث نمبر: 7084)
اس روایت میں بِسْمِ اللَّهِ وَبَرَكَةِ اللَّهِ کے الفاظ ہیں نہ کہ بِسْمِ اللَّهِ وعلى وَبَرَكَةِ اللَّهِ.

بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ ہو سکتا ہے کہ مستدرک الحاکم کے بعض نسخوں میں بِسْمِ اللَّهِ وعلی وَبَرَكَةِ اللَّهِ» کے الفاظ ہوں اور جن لوگوں نے اس دعا کو علی ک ساتھ نقل کیا ہے ، انہوں نے انہی نسخوں کو سامنے رکھا ہو۔ 
تو جواباً عرض ہے کہ یہ باتیں بلا دلیل ہونے کی وجہ سے ناقابل قبول ہے ۔
مزید یہ کہ یہ احتمال اس لیے بھی مردود ہے کیونکہ امام حاکم سے پہلے امام طبرانی نے نے بھی یہی حدیث حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے بغیر علی کے ذکر کیا ہے ۔اور آج مستدرک الحاکم کے جتنے بھی متداول نسخے موجود ہیں ،ان میں سے کسی نسخے میں یہ دعا " علی" کے ساتھ موجود نہیں ہے یعنی سبھی نسخوں میں صرف "بسم اللہ وبرکۃ اللہ" (بغیر علی کے) ہے۔

ان حقائق کے ہوتے ہوے یہ فتویٰ دینا کہ " مذکورہ دعا کا ثبوت حدیث میں ہے، بعض جگہ "علی"کے ساتھ ہے بعض جگہ"علی" کے بغیر، اس لیے دونوں طرح پڑھنا درست ہے۔" فتویٰ تحقیقی نہیں بلکہ تقلیدی ہے۔

کیونکہ کسی بھی سند سے کوئی ایسی حدیث موجود نہیں ہے جس میں یہ دعا " علی" کے ساتھ موجود ہے ۔صحیح تو کیا کسی ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی حدیث موجود نہیں ہے ۔

اسی طرح کا ایک تقلیدی فتویٰ درج ذیل ہے جسے دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن نے اپنے فتوے میں دیا ہے: 

چنانچہ لکھتے ہیں کہ مذکورہ دعا کا ثبوت حدیث میں ہے، بعض جگہ "علی"کے ساتھ ہے بعض جگہ"علی" کے بغیر، اس لیے دونوں طرح پڑھنا درست ہے۔ 

فتویٰ نمبر: 143908200678

مذکورہ دعا کا ثبوت بعض جگہ حدیث میں ہے ، جیساکہ مفتی صاحب اپنے فتوے میں فتویٰ طراز ہیں ، لیکن اس بعض جگہ جہاں یہ دعا " علی " کے ساتھ موجود ہے ، مفتی صاحب نے کوئی حوالہ نہیں دیا اور کبھی نہیں دے سکتے ۔
کم از کم ایک حوالہ پیش فرما دیتےجہاں یہ دعا علی کے ساتھ موجود ہو۔ 

آگے آپ خود فیصلہ فرما لیں ۔

ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی !

اللهم انی اسئلك علما نافعا و رزقا طىبا و عملا متقبلا !

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم کا ایک یہودی کے پاخانہ والے بستر کی صفائی سے متعلق روایت کی تحقیق !

بسم الله الرحمن الرحيم 

السلام عليكم و رحمة الله وبركاته 

موضوع : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم کا ایک یہودی کے پاخانہ والے بستر کی صفائی سے متعلق روایت کی تحقیق ! 

از : محمد اقبال قاسمي سلفي 

مصادر : مختلف مراجع و مصادر 

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق کریمانہ بر گفتگو کرتے ہوے بہت سارے حنفی علماء ، مفتیان اور مقررین کو درج ذیل واقعہ بیان کرتے ہوے سنا جاتا ہے۔ 

واقعہ درج ذیل ہے : 
ایک بار ایک یہودی ہمارے پیارے نبی محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کا مہمان بنا- حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قاعدہ تھا کہ اپنے مہمانوں کو اپنے گھر ٹھہراتے تھے اور ان کے کھانے پینے کا انتظام خود کرتے تھے - اس یہودی کو بھی ہمارے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر میں ہی ٹھہرایا، اسے اچھا کھانا کھلایا اور سونے کے لیے صاف ستھرا بستر دیا- اسے رات کا کھانا کھلا کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے میں تشریف لے گئے تو اس نے بستر پر پیشاب کیا، گندگی پھیلائی اور صبح ہونے سے پہلے بھاگ گیا- صبح ہونے پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم مہمان کا حال پوچھنے تشریف لائے تو یہودی کی شرارت کا حال معلوم ہوا- آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تو سوار بھیج کر اس شریر کو گرفتار کروا سکتے تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبر کیا اور اپنے مبارک ہاتھوں سے بستر صاف کرنے لگے - اب خدا کا کرنا کیا ہوا کہ جس وقت یہودی وہاں سے بھاگا تو گھبراہٹ میں اپنی تلوار وہیں بھول گیا- راستے میں تلوار کا خیال آیا تو واپس پلٹا کہ شاید ابھی وہاں کوئی نہ آیا ہو جہاں مجھے ٹھہرایا گیا تھا اور دیوار کے اوپر سے اندر جھانکنے لگا- یہ وہ وقت تھا جب اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مبارک ہاتھوں سے بستر دھو رہے تھے - یہودی کی اپنی قوم کے سرداروں کا یہ حال تھا کہ غرور کی وجہ سے وہ اپنا جوتا بھی خود صاف نہ کرتے تھے ، اپنا معمولی سے معمولی کام بھی غلاموں اور لونڈیوں سے کراتے تھے اور یہاں دونوں جہانوں کے سردار گندے بستر کو اپنے مبارک ہاتھوں سے دھو رہے تھے - یہودی کے دل پر اس بات کا بہت اثر ہوا اور اسے یقین آ گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ضرور اللہ کے سچے رسول ہیں- کسی معمولی آدمی کا اخلاق اتنا اچھا نہیں ہو سکتا- وو بے اختیار پکار اٹھا-" یا رسول اللہ! مجھ سے سخت غلطی ہوئی- میں معافی مانگتا ہوں اور کلمہ پڑھ کر سچے دل سے مسلمان ہوتا ہوں-" حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تسلی دی کہ انسان سے غلطی ہو ہی جاتی ہے اور پھر اسے کلمہ پڑھا کر مسلمان کر لیا۔

علماء و مفتیان کرام کے بیانات کے علاوہ یہ واقعہ مختلف کتابوں میں بھی درج ہے جو بچوں کو پڑھایا اور سکھایا جاتا ہے۔

لیکن در حقیقت یہ واقعہ کسی بھی حدیث میں مذکور نہیں ہے ، صحیح تو کیا کسی ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے جس میں یہ واقعہ مذکور ہو۔

دارالعلوم دیوبند سے جب اس واقعے کی بابت یہ دریافت کیا گیا کہ برائے مہربانی اس حدیث کی تحقیق اور حوالہ ارسال کریں۔ تاکہ ہم بیان میں بیان کرتے وقت حوالہ طلب کرنے پر حوالہ پیش کر سکیں۔

تو دارالعلوم دیوبند نے جواب دیتے ہوے لکھا : 

سوال میں جس تفصیل کے ساتھ واقعہ تحریر ہے اس تفصیل کے ساتھ ہماری نظر سے نہیں گذرا۔ جن بزرگ نے بیان کیا انھیں سے حوالہ معلوم کرلیں۔

دارالافتاء 
دارالعلوم دیوبند 
فتویٰ نمبر: 602843

مولانا طارق امین خان صاحب لکھتے ہیں: 
تلاش بسیار ک باوجود مذکورہ روایت سنڈا انہی الفاظ ک ساتھ تا حال ہمیں کہیں نہیں مل سکی ۔ اور جب تک اس کی کوئی معتبر سند نہ ملے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتساب سے بیان کرنا موقوف رکھا جاۓ. 
(غیر معتبر روایات کا فنی جائزو : جلد نمبر 2 صفحہ نمبر : 351)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کریمانہ اور مہمان نوازی کے متعلق کتب احادیث میں صحیح احادیث موجود ہیں ، خطباء اور واعظین حضرات کو چاہیے کہ ان صحیح احادیث کا مطالعہ کریں اور ایسے بے سند واقعات و روایات کو بیان کرنے سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں ۔

کیونکہ سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا :جو شخص میرے نام سے وہ بات بیان کرے جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
(صحیح بخاری: 109)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ شرح نخبہ میں فرماتے ہیں: علماء کا اتفاق ہے کہ موضوع حدیث بیان کرنا حرام ہے، سواۓ اس کے, کہ وہ اس کے موضوع ہونے کی تصریح کردے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
من حدث عني بحديث يرى انه كذب فهو احد الكاذبين۔ 
جو شخص مجھ سے حدیث نقل کرے اور وہ خیال کرتا ہو کہ یہ جھوٹ ہے تو وہ خود جھوٹا ہے۔ (مقدمہ صحیح مسلم) بحوالہ شرح نخبہ۔ 
 عَنْ الْمُغِيرَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : إِنَّ كَذِبًا عَلَيَّ لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ . 
 
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نے نبی کریم ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے کہ میرے متعلق کوئی جھوٹی بات کہنا عام لوگوں سے متعلق جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے جو شخص بھی جان بوجھ کر میرے اوپر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
(صحیح بخاری: 1291)

Wednesday, February 5, 2025

کھانا کھانے کے بعد کی صحیح دعا

بسم الله الرحمن الرحيم 

السلام عليكم و رحمة الله وبركاته 

موضوع : کھانا کھانے کے بعد کی صحیح دعا
 
بقلم : محمد اقبال قاسمي سلفي 

مصادر: مختلف مراجع و مصادر 

احناف کے یہاں کھانا کھانے کے بعد کی درج ذیل دعا پڑھی اور سکھائی جاتی ہے : 
 " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا ، وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا من المُسْلِمِينَ "۔

لیکن یہ دعا ان الفاظ کے ساتھ یعنی " وَجَعَلَنَا من المُسْلِمِينَ "میں "من" کے اضافے کے ساتھ کہیں بھی موجود نہیں ہے ۔

صحیح تو کیا کسی ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے جس میں حرف جر من کی زیادتی کے ساتھ یہ دعا موجود ہو۔

سنن اربعہ میں موجود اس دعا کو بغور ملاحظہ کریں۔

سنن ابن ماجہ :

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا أَكَلَ طَعَامًا قَالَ : «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا ، وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ»
 حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ جب کھانا کھاتے تھے تو فرماتے تھے : ( الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا ، وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ ) ’’ اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں کھلایا ، پلایا اور ہمیں مسلمان بنایا ۔‘‘ 
 (سنن ابن ماجہ: حدیث نمبر: 3283)

سنن ابوداؤد : 

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ . 
(سنن ابوداؤد: حدیث نمبر: 3850)

سنن ترمذی : 

، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَكَلَ أَوْ شَرِبَ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ
(سنن ترمذی: حدیث نمبر: 3457)

سنن نسائی الکبری میں یہ روایت: 
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ» . 

(سنن نسائی الکبری: حدیث نمبر: 10047)

اس کے علاوہ مشکوۃ المصابیح میں موجود یہ دعا : 
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْن مَاجَه۔
(مشکوۃ المصابیح: حدیث نمبر: 4204)

ان مصادر اصلیہ میں جہاں محدثین اپنی سند سے روایت کرتے ہیں ، ان محدثین میں سے کسی نے بھی اس دعا کو " من " کی زیادتی ک ساتھ نہیں بیان کیا ہے ، ان محدثین کے علاوہ ابن أبي شيبة في المصنف ، برقم: 24992 ، وأحمد في المسند، برقم: 11276 ، وعبد بن حميد في المسند، برقم: 907، والبيهقي في الشعب، برقم: 5639، والبغوي في شرح السنة، برقم: 2829. نے بھی اسے اپنی اپنی سندوں سے روایت کیا ہے ، لیکن ان محدثین نے بھی وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ کو بغیر من کے ہی ذکر کیا ہے۔
اس کے علاوہ جن شارحین و ناقلین نے نقل کیا ہے ،انہوں نے انہی مصادر اصلیہ کے حوالے سے اس دعا کو اپنی اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے۔
جبکہ مصادر اصلیہ میں " من " موجود ہی نہیں ہے ۔
 
 جمع الفوائد من جامع الأصول ومجمع الزوائد ، أشرف المسائل إلى شرح الشمائل یا پھر ہمارے یہاں رائج مستند دعا کی کتابوں میں " و جعلنا من المسلمین " تو ہے ،لیکن یہ کتابیں مصادر اصلیہ کی حیثیت نہیں رکھتیں۔ اور تعجب تو یہ ہ کہ ان کتابوں میں مصادر اصلیہ کے حوالے سے ہی یہ دعا موجود ہے۔جبکہ آپ یہ دیکھ چکے ہیں کہ ان مصادر اصلیہ میں یہ دعا من کی زیادتی کے ساتھ کہیں موجود ہی نہیں ہے۔

علامه على متقى ہندی نے کنز العمال ( 104/7 رقم: 18179 ) میں سنن اربعہ اور ضیاء مقدسی کے حوالہ سے ” من المسلمین ” کے الفاظ نقل کیے ہیں، لیکن سنن اربعہ میں( جیسا کہ اوپر حوالہ گذرا) اور الأحادیث المختارة میں ضیاء مقدسی نے بغیر مِنْ کے وجعلنا مسلمین ہی ذکر کیا ہے.

التیسیر بشرح الجامع الصغیر،للامام مناویؒ (2/254) میں ہے : 

(كَانَ إِذا فرغ من طَعَامه) أَي من أكله (قَالَ الْحَمد لله الَّذِي أطعمنَا وَسَقَانَا وَجَعَلنَا مُسلمين) عقب بِالْإِسْلَامِ لِأَن الطَّعَام يُشَارك فِيهِ الْآدَمِيّ والبهيمة وَإِنَّمَا وَقعت الخصوصية بالهداية إِلَى الْإِسْلَام۔
 (المختارۃ للضیاء المقدسی) عَن أبي سعيد) الْخُدْرِيّ،بِإِسْنَاد حسن۔

بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ ہو سکتا ہے کہ جن ناقلین نے اپنی کتابوں میں "من المسلمین" کے الفاظ نقل کئے ہیں ، ان ناقلین کے سامنے مصادر اصلیہ کا کوئی ایسا نسخہ رہا ہوگا جس میں یہ دعا من کے ساتھ موجود ہو۔

تو جواباً عرض ہے کہ ان حضرات کی یہ بات بے دلیل ہونے کی وجہ سے ناقابل قبول ہے ۔نیز آج تک ان کتابوں کے جتنے متداول نسخے دریافت ہو چکے ہیں اور قابل دسترس ہیں ، ان میں کہیں بھی اس دعا میں حرف جر من کی زیادتی موجود نہیں ہے ۔یہ بڑی حیرت کی بات ہے کہ 
دارالعلوم دیوبند سے جب اس بابت سوال کیا گیا کہ کھانے کے بعد کی مشہور دعا میں \'وجعلنا\' کے بعد \'من\' ہے یا نہیں؟ دینیات(ممبئی) کی کتب میں\' وجعلنا مسلمین لکھا ہے ؟ 
تو دارالعلوم دیوبند نے جواب دیتے ہوئے لکھا: 

"کھانے کے بعد کی مطلوبہ دعا دس سے زائد کتب حدیث میں مذکور ہے، اور ساری جگہوں پر ”وجلعنا مسلمین“ ”من“ کے بغیر ہی ذکر ہے، نیز حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب رحمة اللہ علیہ خصائل نبوی (ص: ۲۴۹) کے حاشیہ میں شمائل ترمذی میں ”من“ کے بغیر وارد شدہ حدیث کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے یہ لکھا ہے، فرماتے ہیں: ”ہکذا في جمیع النسخ الموجودة من الہندیة والمصریة، وفي بعض الحواشي بطریق النسخة ”من المسلمین“؛ اس لیے آپ دعا بغیر ”من“ کے ہی پڑھا کریں۔ حوالہٴ کتب مندرجہ ذیل ہیں: أخرجہ أبوداوٴد: (کتاب الأطعمة، باب ما یقول الرجل إذا طعم، رقم: ۳۸۵۰)، والترمذي: (کتاب الدعوات، باب ما یقول إذا فرغ من الطعام، رقم: ۳۴۵۷)، وفي ”شمائلہ مع جمیع الوسائل“: (ما جاء في قول رسول اللہ- صلی اللہ علیہ وسلم- قبل الطعام، ۱/۲۹۰)، والنسائي ”في الکبری“: (رقم الحدیث: ۱۰۱۲۰، ۱۰۱۲۱، ۱۰۱۲۲)، وفي ”عمل الیوم واللیلة“: (رقم: ۲۸۸، ۲۸۹، ۲۹۰)، وابن ماجة: (کتاب الأطعمہ، باب مایقال: إذا فرغ من الطعام، رقم: ۳۲۸۳) وابن السني في ”عمل الیوم واللیلة“ (باب ما یقول: إذا أکل، رقم: ۴۶۴)، وابن أبي شیبة مرفوعاً: (الأطعمة، في التسمیة علی الطعام، رقم: ۲۴۹۹۲)، وموقوفاً: (رقم: ۲۴۹۹۵)

دارالافتاء 
دارالعلوم دیوبند 
فتویٰ نمبر: 146079

اب تک آپ نے 
واضح ہو کہ کھانا کھانے کے بعد کی یہ دعا والی روایت ہے سرے سے ضعیف ہے، کیونکہ اس روایت کی سند میں حجاج بن أرطاہ ضعیف اور مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے۔ اس ک علاوہ بسم الله الرحمن الرحيم 

السلام عليكم و رحمة الله وبركاته 

موضوع : کھانا کھانے کے بعد کی دعا 
بقلم : محمد اقبال قاسمي سلفي 

مصادر: مختلف مراجع و مصادر 

احناف کے یہاں عموماً کھانا کھانے کے بعد " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا ، وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا من المُسْلِمِينَ " دعا پڑھی جاتی ہے .

لیکن یہ دعا ان الفاظ کے ساتھ یعنی " وَجَعَلَنَا من المُسْلِمِينَ "میں من کے اضافے کے ساتھ کہیں بھی موجود نہیں ہے ۔
صحیح تو کیا کسی ضعیف اور موضوع سند سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے جس میں حرف جر من کی زیادتی کے ساتھ یہ دعا موجود ہو۔

سنن ماجہ میں موجود یہ دعا: 

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا أَكَلَ طَعَامًا قَالَ : «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا ، وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ»
 حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ جب کھانا کھاتے تھے تو فرماتے تھے : ( الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا ، وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ ) ’’ اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں کھلایا ، پلایا اور ہمیں مسلمان بنایا ۔‘‘ 
 (سنن ابن ماجہ: حدیث نمبر: 3283)

سنن ابوداؤد میں یہ روایت: 

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ . 
(سنن ابوداؤد: حدیث نمبر: 3850)

سنن ترمذی میں یہ روایت: 

، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَكَلَ أَوْ شَرِبَ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ
(سنن ترمذی: حدیث نمبر: 3457)

مشکوۃ المصابیح میں موجود یہ دعا : 
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْن مَاجَه۔
(مشکوۃ المصابیح: حدیث نمبر: 4204)

سنن نسائی الکبری میں یہ روایت: 
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ» . 

(سنن نسائی الکبری: حدیث نمبر: 10047)

ان مصادر اصلیہ میں جہاں محدثین اپنی سند سے روایت کرتے ہیں ، ان محدثین میں سے کسی نے بھی اس دعا کو " من " کی زیادتی ک ساتھ نہیں بیان کیا ہے ، ان محدثین کے علاوہ ابن أبي شيبة في المصنف ، برقم: 24992 ، وأحمد في المسند، برقم: 11276 ، وعبد بن حميد في المسند، برقم: 907، والبيهقي في الشعب، برقم: 5639، والبغوي في شرح السنة، برقم: 2829. نے بھی اسے اپنی اپنی سندوں سے روایت کیا ہے ، لیکن ان محدثین نے بھی وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ کو بغیر من کے ہی ذکر کیا ہے۔
اس کے علاوہ جن شارحین و ناقلین نے نقل کیا ہے ،انہوں نے انہی مصادر اصلیہ کا حوالہ دیا ہے جبکہ مصادر اصلیہ میں " من " موجود ہی نہیں ہے ۔
 
 جمع الفوائد من جامع الأصول ومجمع الزوائد، أشرف المسائل إلى شرح الشمائل یا پھر ہمارے یہاں رائج مستند دعا کی کتابوں میں " و جعلنا من المسلمین " تو ہے ،لیکن ان کتابوں میں بھی مصادر اصلیہ کے حوالے سے ہی یہ دعا موجود ہے۔جبکہ آپ یہ دیکھ چکے ہیں کہ ان مصادر اصلیہ میں یہ دعا من کی زیادتی کے بغیر ہی ہے۔

علامه على متقى ہندی نے کنز العمال ( 104/7 رقم: 18179 ) میں سنن اربعہ اور ضیاء مقدسی کے حوالہ سے ” من المسلمین ” کے الفاظ نقل کیے ہیں، لیکن سنن اربعہ میں( جیسا کہ اوپر حوالہ گذرا) اور الأحادیث المختارة میں ضیاء مقدسی نے بغیر مِنْ کے وجعلنا مسلمین ہی ذکر کیا ہے.

التیسیر بشرح الجامع الصغیر،للامام مناویؒ (2/254) میں ہے : 

(كَانَ إِذا فرغ من طَعَامه) أَي من أكله (قَالَ الْحَمد لله الَّذِي أطعمنَا وَسَقَانَا وَجَعَلنَا مُسلمين) عقب بِالْإِسْلَامِ لِأَن الطَّعَام يُشَارك فِيهِ الْآدَمِيّ والبهيمة وَإِنَّمَا وَقعت الخصوصية بالهداية إِلَى الْإِسْلَام(حم والضياء (المختارۃ للضیاء المقدسی) عَن أبي سعيد) الْخُدْرِيّ،بِإِسْنَاد حسن۔

بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ ہو سکتا ہے کہ جن ناقلین نے اپنی کتابوں میں "من المسلمین" ک الفاظ نقل کئے ہیں ، ان ناقلین کے سامنے مصادر اصلیہ کا کوئی ایسا نسخہ رہا ہوگا جس میں یہ من کے ساتھ موجود ہو۔

تو جواباً عرض ہے کہ ان حضرات کی یہ بات بے دلیل ہونے کی وجہ سے ناقابل قبول ہے ۔نیز آج تک ان کتابوں کے جتنے متداول نسخے دریافت ہو چکے ہیں ان  میں کہیں بھی حرف جر من کی زیادتی موجود نہیں ہے۔ 

دارالعلوم دیوبند سے جب اس بابت سوال کیا گیا کہ کھانے کے بعد کی مشہور دعا میں \'وجعلنا\' کے بعد \'من\' ہے یا نہیں؟ دینیات(ممبئی) کی کتب میں\' وجعلنا مسلمین لکھا ہے ؟ 
تو دارالعلوم دیوبند نے جواب دیتے ہوئے لکھا: 

"کھانے کے بعد کی مطلوبہ دعا دس سے زائد کتب حدیث میں مذکور ہے، اور ساری جگہوں پر ”وجلعنا مسلمین“ ”من“ کے بغیر ہی ذکر ہے، نیز حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب رحمة اللہ علیہ خصائل نبوی (ص: ۲۴۹) کے حاشیہ میں شمائل ترمذی میں ”من“ کے بغیر وارد شدہ حدیث کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے یہ لکھا ہے، فرماتے ہیں: ”ہکذا في جمیع النسخ الموجودة من الہندیة والمصریة، وفي بعض الحواشي بطریق النسخة ”من المسلمین“؛ اس لیے آپ دعا بغیر ”من“ کے ہی پڑھا کریں۔ حوالہٴ کتب مندرجہ ذیل ہیں: أخرجہ أبوداوٴد: (کتاب الأطعمة، باب ما یقول الرجل إذا طعم، رقم: ۳۸۵۰)، والترمذي: (کتاب الدعوات، باب ما یقول إذا فرغ من الطعام، رقم: ۳۴۵۷)، وفي ”شمائلہ مع جمیع الوسائل“: (ما جاء في قول رسول اللہ- صلی اللہ علیہ وسلم- قبل الطعام، ۱/۲۹۰)، والنسائي ”في الکبری“: (رقم الحدیث: ۱۰۱۲۰، ۱۰۱۲۱، ۱۰۱۲۲)، وفي ”عمل الیوم واللیلة“: (رقم: ۲۸۸، ۲۸۹، ۲۹۰)، وابن ماجة: (کتاب الأطعمہ، باب مایقال: إذا فرغ من الطعام، رقم: ۳۲۸۳) وابن السني في ”عمل الیوم واللیلة“ (باب ما یقول: إذا أکل، رقم: ۴۶۴)، وابن أبي شیبة مرفوعاً: (الأطعمة، في التسمیة علی الطعام، رقم: ۲۴۹۹۲)، وموقوفاً: (رقم: ۲۴۹۹۵)

دارالافتاء 
دارالعلوم دیوبند 
فتویٰ نمبر: 146079

اب تک آپ نے «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ» میں حرف جر "من " کا اضافہ ملاحظہ کیا۔
لیکن کھانا کھانے کے بعد کی یہ دعا والی روایت ہی سرے سے ضعیف ہے، کیونکہ اس روایت کی سند میں حجاج بن أرطاہ ضعیف اور مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے۔
اس کے علاوہ اس کی سند میں ابن اخی سعید جیسے مجہول راو ی موجود ہے۔
علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے شیخ الاسلام کی کتاب الکلم الطیب میں اس کی تخریج کرتے ہوۓ کہا کہ :
یہ حدیث ضعیف الاسناد ہے اس لیے کہ اس میں راویوں کا اضطراب ہے جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی نے تھذيب اور اس سے قبل حافظ مزی رحمہ اللہ تعالی نے تحفۃ الاشراف ( 3 / 353 - 354 ) میں اوران سے بھی قبل امام بخاری رحمہ اللہ تعالی نے التاریخ الکبیر ( 1 / 353 - 354 ) میں اورامام نسائ رحمہ اللہ تعالی نے الیوم واللیلۃ ( 288 - 290 ) میں بیان کیا ہے اورامام ترمذی رحمہ اللہ تعالی نےاس مسئلہ میں متساھل ہونے کی باوجوداسے حسن نہیں کہا ۔ اھـ دیکھیں الکلم الطیب تخریج علامہ البانی ( 189 ) ۔

 اس دعا کے علاوہ کھانا کھانے کے بعد کی دو سری صحیح دعائیں کتب احادیث میں موجود ہیں : 
(2) الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا۔  
(صحیح بخاری : حدیث نمبر: 5458)
(3)الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی أَطْعَمَنِی ہَذَا وَرَزَقَنِیہِ مِنْ غَیْرِ حَوْلٍ مِنِّی وَلَا قُوَّةٍ" 
ترمذی (3458 ) وابن ماجہ ( 3285 ) 

دارالعلوم دیوبند بے بھی فتویٰ دیتے ہوے یہ لکھا ہے کہ مذکورہ  تینوں دعاؤوں میں سند کے اعتبار سے سب سے قوی ، دوسرے نمبر کی حدیث (الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا۔) ہے۔  
(صحیح بخاری : حدیث نمبر: 5458)
 پھر تیسرے نمبر کی حدیث     
(الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی أَطْعَمَنِی ہَذَا وَرَزَقَنِیہِ مِنْ غَیْرِ حَوْلٍ مِنِّی وَلَا قُوَّةٍ" ) ہے۔
ترمذی (3458 ) وابن ماجہ ( 3285 ) 
 پھر پہلے نمبر کی حدیث ۔(الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ) ہے۔
 
دارالافتاء 
دارالعلوم دیوبند 
فتویٰ نمبر: 171764

Recent posts

وقف ترمیمی بل

عامۃ المسلمین میں ایسے کئی لوگ ہوسکتے ہیں جو نئے وقف قانون کی باریکیوں سے واقف نہ ہوں اسی لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس پر تفصیلی گفتگو ہو۔ م...