بسم الله الرحمن الرحيم
السلام عليكم و رحمة الله وبركاته
موضوع : کھانا کھانے کے بعد کی صحیح دعا
بقلم : محمد اقبال قاسمي سلفي
مصادر: مختلف مراجع و مصادر
احناف کے یہاں کھانا کھانے کے بعد کی درج ذیل دعا پڑھی اور سکھائی جاتی ہے :
" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا ، وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا من المُسْلِمِينَ "۔
لیکن یہ دعا ان الفاظ کے ساتھ یعنی " وَجَعَلَنَا من المُسْلِمِينَ "میں "من" کے اضافے کے ساتھ کہیں بھی موجود نہیں ہے ۔
صحیح تو کیا کسی ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے جس میں حرف جر من کی زیادتی کے ساتھ یہ دعا موجود ہو۔
سنن اربعہ میں موجود اس دعا کو بغور ملاحظہ کریں۔
سنن ابن ماجہ :
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا أَكَلَ طَعَامًا قَالَ : «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا ، وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ»
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ جب کھانا کھاتے تھے تو فرماتے تھے : ( الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا ، وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ ) ’’ اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں کھلایا ، پلایا اور ہمیں مسلمان بنایا ۔‘‘
(سنن ابن ماجہ: حدیث نمبر: 3283)
سنن ابوداؤد :
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ .
(سنن ابوداؤد: حدیث نمبر: 3850)
سنن ترمذی :
، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَكَلَ أَوْ شَرِبَ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ
(سنن ترمذی: حدیث نمبر: 3457)
سنن نسائی الکبری میں یہ روایت:
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ» .
(سنن نسائی الکبری: حدیث نمبر: 10047)
اس کے علاوہ مشکوۃ المصابیح میں موجود یہ دعا :
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْن مَاجَه۔
(مشکوۃ المصابیح: حدیث نمبر: 4204)
ان مصادر اصلیہ میں جہاں محدثین اپنی سند سے روایت کرتے ہیں ، ان محدثین میں سے کسی نے بھی اس دعا کو " من " کی زیادتی ک ساتھ نہیں بیان کیا ہے ، ان محدثین کے علاوہ ابن أبي شيبة في المصنف ، برقم: 24992 ، وأحمد في المسند، برقم: 11276 ، وعبد بن حميد في المسند، برقم: 907، والبيهقي في الشعب، برقم: 5639، والبغوي في شرح السنة، برقم: 2829. نے بھی اسے اپنی اپنی سندوں سے روایت کیا ہے ، لیکن ان محدثین نے بھی وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ کو بغیر من کے ہی ذکر کیا ہے۔
اس کے علاوہ جن شارحین و ناقلین نے نقل کیا ہے ،انہوں نے انہی مصادر اصلیہ کے حوالے سے اس دعا کو اپنی اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے۔
جبکہ مصادر اصلیہ میں " من " موجود ہی نہیں ہے ۔
جمع الفوائد من جامع الأصول ومجمع الزوائد ، أشرف المسائل إلى شرح الشمائل یا پھر ہمارے یہاں رائج مستند دعا کی کتابوں میں " و جعلنا من المسلمین " تو ہے ،لیکن یہ کتابیں مصادر اصلیہ کی حیثیت نہیں رکھتیں۔ اور تعجب تو یہ ہ کہ ان کتابوں میں مصادر اصلیہ کے حوالے سے ہی یہ دعا موجود ہے۔جبکہ آپ یہ دیکھ چکے ہیں کہ ان مصادر اصلیہ میں یہ دعا من کی زیادتی کے ساتھ کہیں موجود ہی نہیں ہے۔
علامه على متقى ہندی نے کنز العمال ( 104/7 رقم: 18179 ) میں سنن اربعہ اور ضیاء مقدسی کے حوالہ سے ” من المسلمین ” کے الفاظ نقل کیے ہیں، لیکن سنن اربعہ میں( جیسا کہ اوپر حوالہ گذرا) اور الأحادیث المختارة میں ضیاء مقدسی نے بغیر مِنْ کے وجعلنا مسلمین ہی ذکر کیا ہے.
التیسیر بشرح الجامع الصغیر،للامام مناویؒ (2/254) میں ہے :
(كَانَ إِذا فرغ من طَعَامه) أَي من أكله (قَالَ الْحَمد لله الَّذِي أطعمنَا وَسَقَانَا وَجَعَلنَا مُسلمين) عقب بِالْإِسْلَامِ لِأَن الطَّعَام يُشَارك فِيهِ الْآدَمِيّ والبهيمة وَإِنَّمَا وَقعت الخصوصية بالهداية إِلَى الْإِسْلَام۔
(المختارۃ للضیاء المقدسی) عَن أبي سعيد) الْخُدْرِيّ،بِإِسْنَاد حسن۔
بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ ہو سکتا ہے کہ جن ناقلین نے اپنی کتابوں میں "من المسلمین" کے الفاظ نقل کئے ہیں ، ان ناقلین کے سامنے مصادر اصلیہ کا کوئی ایسا نسخہ رہا ہوگا جس میں یہ دعا من کے ساتھ موجود ہو۔
تو جواباً عرض ہے کہ ان حضرات کی یہ بات بے دلیل ہونے کی وجہ سے ناقابل قبول ہے ۔نیز آج تک ان کتابوں کے جتنے متداول نسخے دریافت ہو چکے ہیں اور قابل دسترس ہیں ، ان میں کہیں بھی اس دعا میں حرف جر من کی زیادتی موجود نہیں ہے ۔یہ بڑی حیرت کی بات ہے کہ
دارالعلوم دیوبند سے جب اس بابت سوال کیا گیا کہ کھانے کے بعد کی مشہور دعا میں \'وجعلنا\' کے بعد \'من\' ہے یا نہیں؟ دینیات(ممبئی) کی کتب میں\' وجعلنا مسلمین لکھا ہے ؟
تو دارالعلوم دیوبند نے جواب دیتے ہوئے لکھا:
"کھانے کے بعد کی مطلوبہ دعا دس سے زائد کتب حدیث میں مذکور ہے، اور ساری جگہوں پر ”وجلعنا مسلمین“ ”من“ کے بغیر ہی ذکر ہے، نیز حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب رحمة اللہ علیہ خصائل نبوی (ص: ۲۴۹) کے حاشیہ میں شمائل ترمذی میں ”من“ کے بغیر وارد شدہ حدیث کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے یہ لکھا ہے، فرماتے ہیں: ”ہکذا في جمیع النسخ الموجودة من الہندیة والمصریة، وفي بعض الحواشي بطریق النسخة ”من المسلمین“؛ اس لیے آپ دعا بغیر ”من“ کے ہی پڑھا کریں۔ حوالہٴ کتب مندرجہ ذیل ہیں: أخرجہ أبوداوٴد: (کتاب الأطعمة، باب ما یقول الرجل إذا طعم، رقم: ۳۸۵۰)، والترمذي: (کتاب الدعوات، باب ما یقول إذا فرغ من الطعام، رقم: ۳۴۵۷)، وفي ”شمائلہ مع جمیع الوسائل“: (ما جاء في قول رسول اللہ- صلی اللہ علیہ وسلم- قبل الطعام، ۱/۲۹۰)، والنسائي ”في الکبری“: (رقم الحدیث: ۱۰۱۲۰، ۱۰۱۲۱، ۱۰۱۲۲)، وفي ”عمل الیوم واللیلة“: (رقم: ۲۸۸، ۲۸۹، ۲۹۰)، وابن ماجة: (کتاب الأطعمہ، باب مایقال: إذا فرغ من الطعام، رقم: ۳۲۸۳) وابن السني في ”عمل الیوم واللیلة“ (باب ما یقول: إذا أکل، رقم: ۴۶۴)، وابن أبي شیبة مرفوعاً: (الأطعمة، في التسمیة علی الطعام، رقم: ۲۴۹۹۲)، وموقوفاً: (رقم: ۲۴۹۹۵)
دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتویٰ نمبر: 146079
اب تک آپ نے
واضح ہو کہ کھانا کھانے کے بعد کی یہ دعا والی روایت ہے سرے سے ضعیف ہے، کیونکہ اس روایت کی سند میں حجاج بن أرطاہ ضعیف اور مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے۔ اس ک علاوہ بسم الله الرحمن الرحيم
السلام عليكم و رحمة الله وبركاته
موضوع : کھانا کھانے کے بعد کی دعا
بقلم : محمد اقبال قاسمي سلفي
مصادر: مختلف مراجع و مصادر
احناف کے یہاں عموماً کھانا کھانے کے بعد " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا ، وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا من المُسْلِمِينَ " دعا پڑھی جاتی ہے .
لیکن یہ دعا ان الفاظ کے ساتھ یعنی " وَجَعَلَنَا من المُسْلِمِينَ "میں من کے اضافے کے ساتھ کہیں بھی موجود نہیں ہے ۔
صحیح تو کیا کسی ضعیف اور موضوع سند سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے جس میں حرف جر من کی زیادتی کے ساتھ یہ دعا موجود ہو۔
سنن ماجہ میں موجود یہ دعا:
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا أَكَلَ طَعَامًا قَالَ : «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا ، وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ»
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ جب کھانا کھاتے تھے تو فرماتے تھے : ( الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا ، وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ ) ’’ اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں کھلایا ، پلایا اور ہمیں مسلمان بنایا ۔‘‘
(سنن ابن ماجہ: حدیث نمبر: 3283)
سنن ابوداؤد میں یہ روایت:
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ .
(سنن ابوداؤد: حدیث نمبر: 3850)
سنن ترمذی میں یہ روایت:
، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَكَلَ أَوْ شَرِبَ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ
(سنن ترمذی: حدیث نمبر: 3457)
مشکوۃ المصابیح میں موجود یہ دعا :
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْن مَاجَه۔
(مشکوۃ المصابیح: حدیث نمبر: 4204)
سنن نسائی الکبری میں یہ روایت:
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ» .
(سنن نسائی الکبری: حدیث نمبر: 10047)
ان مصادر اصلیہ میں جہاں محدثین اپنی سند سے روایت کرتے ہیں ، ان محدثین میں سے کسی نے بھی اس دعا کو " من " کی زیادتی ک ساتھ نہیں بیان کیا ہے ، ان محدثین کے علاوہ ابن أبي شيبة في المصنف ، برقم: 24992 ، وأحمد في المسند، برقم: 11276 ، وعبد بن حميد في المسند، برقم: 907، والبيهقي في الشعب، برقم: 5639، والبغوي في شرح السنة، برقم: 2829. نے بھی اسے اپنی اپنی سندوں سے روایت کیا ہے ، لیکن ان محدثین نے بھی وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ کو بغیر من کے ہی ذکر کیا ہے۔
اس کے علاوہ جن شارحین و ناقلین نے نقل کیا ہے ،انہوں نے انہی مصادر اصلیہ کا حوالہ دیا ہے جبکہ مصادر اصلیہ میں " من " موجود ہی نہیں ہے ۔
جمع الفوائد من جامع الأصول ومجمع الزوائد، أشرف المسائل إلى شرح الشمائل یا پھر ہمارے یہاں رائج مستند دعا کی کتابوں میں " و جعلنا من المسلمین " تو ہے ،لیکن ان کتابوں میں بھی مصادر اصلیہ کے حوالے سے ہی یہ دعا موجود ہے۔جبکہ آپ یہ دیکھ چکے ہیں کہ ان مصادر اصلیہ میں یہ دعا من کی زیادتی کے بغیر ہی ہے۔
علامه على متقى ہندی نے کنز العمال ( 104/7 رقم: 18179 ) میں سنن اربعہ اور ضیاء مقدسی کے حوالہ سے ” من المسلمین ” کے الفاظ نقل کیے ہیں، لیکن سنن اربعہ میں( جیسا کہ اوپر حوالہ گذرا) اور الأحادیث المختارة میں ضیاء مقدسی نے بغیر مِنْ کے وجعلنا مسلمین ہی ذکر کیا ہے.
التیسیر بشرح الجامع الصغیر،للامام مناویؒ (2/254) میں ہے :
(كَانَ إِذا فرغ من طَعَامه) أَي من أكله (قَالَ الْحَمد لله الَّذِي أطعمنَا وَسَقَانَا وَجَعَلنَا مُسلمين) عقب بِالْإِسْلَامِ لِأَن الطَّعَام يُشَارك فِيهِ الْآدَمِيّ والبهيمة وَإِنَّمَا وَقعت الخصوصية بالهداية إِلَى الْإِسْلَام(حم والضياء (المختارۃ للضیاء المقدسی) عَن أبي سعيد) الْخُدْرِيّ،بِإِسْنَاد حسن۔
بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ ہو سکتا ہے کہ جن ناقلین نے اپنی کتابوں میں "من المسلمین" ک الفاظ نقل کئے ہیں ، ان ناقلین کے سامنے مصادر اصلیہ کا کوئی ایسا نسخہ رہا ہوگا جس میں یہ من کے ساتھ موجود ہو۔
تو جواباً عرض ہے کہ ان حضرات کی یہ بات بے دلیل ہونے کی وجہ سے ناقابل قبول ہے ۔نیز آج تک ان کتابوں کے جتنے متداول نسخے دریافت ہو چکے ہیں ان میں کہیں بھی حرف جر من کی زیادتی موجود نہیں ہے۔
دارالعلوم دیوبند سے جب اس بابت سوال کیا گیا کہ کھانے کے بعد کی مشہور دعا میں \'وجعلنا\' کے بعد \'من\' ہے یا نہیں؟ دینیات(ممبئی) کی کتب میں\' وجعلنا مسلمین لکھا ہے ؟
تو دارالعلوم دیوبند نے جواب دیتے ہوئے لکھا:
"کھانے کے بعد کی مطلوبہ دعا دس سے زائد کتب حدیث میں مذکور ہے، اور ساری جگہوں پر ”وجلعنا مسلمین“ ”من“ کے بغیر ہی ذکر ہے، نیز حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب رحمة اللہ علیہ خصائل نبوی (ص: ۲۴۹) کے حاشیہ میں شمائل ترمذی میں ”من“ کے بغیر وارد شدہ حدیث کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے یہ لکھا ہے، فرماتے ہیں: ”ہکذا في جمیع النسخ الموجودة من الہندیة والمصریة، وفي بعض الحواشي بطریق النسخة ”من المسلمین“؛ اس لیے آپ دعا بغیر ”من“ کے ہی پڑھا کریں۔ حوالہٴ کتب مندرجہ ذیل ہیں: أخرجہ أبوداوٴد: (کتاب الأطعمة، باب ما یقول الرجل إذا طعم، رقم: ۳۸۵۰)، والترمذي: (کتاب الدعوات، باب ما یقول إذا فرغ من الطعام، رقم: ۳۴۵۷)، وفي ”شمائلہ مع جمیع الوسائل“: (ما جاء في قول رسول اللہ- صلی اللہ علیہ وسلم- قبل الطعام، ۱/۲۹۰)، والنسائي ”في الکبری“: (رقم الحدیث: ۱۰۱۲۰، ۱۰۱۲۱، ۱۰۱۲۲)، وفي ”عمل الیوم واللیلة“: (رقم: ۲۸۸، ۲۸۹، ۲۹۰)، وابن ماجة: (کتاب الأطعمہ، باب مایقال: إذا فرغ من الطعام، رقم: ۳۲۸۳) وابن السني في ”عمل الیوم واللیلة“ (باب ما یقول: إذا أکل، رقم: ۴۶۴)، وابن أبي شیبة مرفوعاً: (الأطعمة، في التسمیة علی الطعام، رقم: ۲۴۹۹۲)، وموقوفاً: (رقم: ۲۴۹۹۵)
دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتویٰ نمبر: 146079
اب تک آپ نے «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ» میں حرف جر "من " کا اضافہ ملاحظہ کیا۔
لیکن کھانا کھانے کے بعد کی یہ دعا والی روایت ہی سرے سے ضعیف ہے، کیونکہ اس روایت کی سند میں حجاج بن أرطاہ ضعیف اور مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے۔
اس کے علاوہ اس کی سند میں ابن اخی سعید جیسے مجہول راو ی موجود ہے۔
علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے شیخ الاسلام کی کتاب الکلم الطیب میں اس کی تخریج کرتے ہوۓ کہا کہ :
یہ حدیث ضعیف الاسناد ہے اس لیے کہ اس میں راویوں کا اضطراب ہے جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی نے تھذيب اور اس سے قبل حافظ مزی رحمہ اللہ تعالی نے تحفۃ الاشراف ( 3 / 353 - 354 ) میں اوران سے بھی قبل امام بخاری رحمہ اللہ تعالی نے التاریخ الکبیر ( 1 / 353 - 354 ) میں اورامام نسائ رحمہ اللہ تعالی نے الیوم واللیلۃ ( 288 - 290 ) میں بیان کیا ہے اورامام ترمذی رحمہ اللہ تعالی نےاس مسئلہ میں متساھل ہونے کی باوجوداسے حسن نہیں کہا ۔ اھـ دیکھیں الکلم الطیب تخریج علامہ البانی ( 189 ) ۔
اس دعا کے علاوہ کھانا کھانے کے بعد کی دو سری صحیح دعائیں کتب احادیث میں موجود ہیں :
(2) الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا۔
(صحیح بخاری : حدیث نمبر: 5458)
(3)الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی أَطْعَمَنِی ہَذَا وَرَزَقَنِیہِ مِنْ غَیْرِ حَوْلٍ مِنِّی وَلَا قُوَّةٍ"
ترمذی (3458 ) وابن ماجہ ( 3285 )
دارالعلوم دیوبند بے بھی فتویٰ دیتے ہوے یہ لکھا ہے کہ مذکورہ تینوں دعاؤوں میں سند کے اعتبار سے سب سے قوی ، دوسرے نمبر کی حدیث (الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا۔) ہے۔
(صحیح بخاری : حدیث نمبر: 5458)
پھر تیسرے نمبر کی حدیث
(الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی أَطْعَمَنِی ہَذَا وَرَزَقَنِیہِ مِنْ غَیْرِ حَوْلٍ مِنِّی وَلَا قُوَّةٍ" ) ہے۔
ترمذی (3458 ) وابن ماجہ ( 3285 )
پھر پہلے نمبر کی حدیث ۔(الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ) ہے۔
دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتویٰ نمبر: 171764