Friday, July 30, 2021

ہندوستانی منووادی علماء اور ذات پات کی موضوع(من گھڑت) روایتیں ۔۔۔۔ ‏


مولانا اقبال قاسمی سلفی

مفتی شفیع عثمانی پاکستانی (م1976ء) دارالعلوم دیوبند کے شعبہ افتاء پر فائز ہونے کے بعد "نہایات االارب فی غایات النسب" نامی کتاب لکھی تھی ۔ اس کتاب میں قاری محمد طیب صدیقی صاحب کی تقریظ "انساب و قبائل کا تفاضل" اور مولانا اشرف علی تھانوی صاحب کا کتابچہ" وصل السبب فی فصل النسب بھی بطور ضمیمہ شامل تھا۔ مفتی شفیع صاحب نے اس کتاب میں ضعیف، موضوع اور باطل احادیث کا سہارا لے کر ذات پات، اونچ نیچ اور مسلمانوں کے ایک مخصوص طبقے کی تذلیل میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی چاہے "من كذب على معتمدا فليتبوأمقعده من النار."(جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا اسے اپنا ٹھکانہ جہنم بنا لینا چاہئیے۔) کا مصداق کیوں نہ بننا پڑے۔
چنانچہ مفتی صاحب پیشہ ور برادریوں اور پیشوں کے ضمن میں موضوع احادیث نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
1)اکذب الناس الصباغ"(کنزالعمال، کتاب البیوع)
سب لوگوں سے زیادہ جھوٹے رنگریز ہیں۔

2) جب قیامت کا دن ہوگا تو  ایک منادی آواز دے گا کہ وہ لوگ کہاں ہیں جنہوں نے زمین پر رہتے ہوئے اللہ کے ساتھ خیانت کی تھی؟ اس پر ٹھٹھیرے،صراف اور پارچہ باف حاضر کئے جائیں گے۔ (کنز العمال) 

3) میری امت میں سب سے زیادہ بدتر لوگ دستکاری کرنے والے اور سنار ہیں۔
 (کنز العمال) 

4) جس شخص کی تجارت غلہ کی ہوتی ہے اس کے دل میں مسلمانوں کی دشمنی سمائی رہتی ہے کہ وہ ہمیشہ مہنگائی کا خواستگار رہتا ہے۔ (کنز العمال) 

مفتی محمد شفیع عثمانی پاکستانی کے ذریعہ پیش کردہ یہ تمام احادیث موضوع اور بے اصل ہیں۔ 
ان احادیث کو خود کنز العمال کے مصنف شیخ متقی علی الہندی(م1567ء) نے ضعیف کہا ہے جن کی کتاب سے مفتی صاحب نے ان موضوع احادیث کو نقل کیا ہے۔
کیونکہ ان احادیث میں فرقد سنجی، معمر کدیمی اور عثمان بن مقسم جیسے کذاب اور حدیثیں گھڑنے والے روات موجود ہیں۔ ایسے راویوں کی روایت پیش کرنا اشرف علی تھانوی اور مفتی شفیع جیسے تدلیس بازوں کا ہی شیوہ ہو سکتا ہے۔
 
مذکورہ بالا احادیث کی حقیقت کی وضاحت اسی جماعت دیوبندیہ کے محدث کبیر علامہ حبیب الرحمان اعظمی کی زبانی پیش خدمت ہے ، وہ فرماتے ہیں:
اور یہ حضرات جن حدیثوں کی تقویت امر کے درپے ہیں نہ ان کی سند کا پتہ ہے ، نہ کسی محدث نے ان کے یسیر الضعف ہونے کی صراحت کی ہے۔بلکہ اس کے برعکس وہ ایسی کتابوں سے منقول ہیں جن کی حدیثوں کی نسبت حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی "عجالہ نافعہ" میں فرماتے ہیں":
"بہر حال یہ حدیثیں اعتماد اور بھروسے کے لائق نہیں ہیں" یہ حمایتی (منووادی حضرات) اس بات کو بھی نظر انداز کر دیتے ہیں۔ "

(انساب و کفاءت کی شرعی حیثیت ، عنوان:بعض پیشہ وروں کی مذمت کی حدیثیں:محدث مولانا حبیب الرحمان اعظمی) 

تعجب خیز تو یہ ہے کہ جب مولانا تھانوی اور مفتی شفیع صاحب کے ان غیر اسلامی نظریات ( ذاتی واد) پر اعتراض ہوا تو دونوں حضرات نے  بڑی ڈھٹائی سے یہ عذر پیش کیا تھا کہ اگر ہماری کتاب پر اعتراض ہے تو سب سے پہلے ان لوگوں پر اعتراض کرنا چاہیئے جن کی کتابوں سے ہم نے لکھا ہے۔ واہ!!!!!!!! 
کون نہ مر جاۓ اس سادگی پہ اے خدا!!

 تعجب مولانا اور مفتی پر نہیں بلکہ تعجب بالاۓ تعجب تو ان اندھے معتقدین(اندھ بھکتوں)پر ہے  جو ایسے برہمن وادیوں کے سلسلہ بیعت کے مرید بنے ہوئے ہیں۔ اسی لئے میرا سوال اب مولانا اور مفتی صاحبان کے پیروکاروں سے ہی ہے کہ یہ اصول دنیا میں کس قوم کا ہے کہ محض کسی کتاب میں کسی بات کا مذکور ہونا ہی اس کے 
صحیح ہونے کی دلیل ہے؟؟؟

اور اگر بالفرض یہ اصول ہے۔
 تو کیا یہ اصول صرف انہی روایتوں کو پیش کرنے کے لئے جن سے ایک مخصوص طبقے کی دل آزاری ہوتی ہے۔؟؟؟ یہ اصول روایت ان روایتوں کے لئے کیوں نہیں جن سے مزعومہ ذاتوں (جن سے مفتی شفیع کا تعلق ہے) کی مذمت ہوتی ہے۔؟؟؟ 
جبکہ اسی کنزالعمال میں ایک دو نہیں بلکہ بے شمار ایسی روایتیں موجود ہیں جو مفتی صاحب کے مفروضہ ذات کی دھجیاں اڑاتی ہیں۔ 
برہمن وادی مفتی شفیع پر منوواد کا ایسا بھوت سوار تھا کہ مسلمانوں میں ذات پات اور اونچ نیچ کو قائم کرنے کے لئے یہ کسی بھی حد تک جا سکتے تھے۔ خواہ   موضوع حدیثیں پیش کر کے رسول ﷺ پر بہتان تراشی کیوں نہ کرنی پڑے۔
 
ان ہی کی جماعت حنفیہ دیوبندیہ کے محدث کبیر حبیب الرحمان اعظمی کی زبانی سنئیے۔ لکھتے ہیں:

یہیں سے مفتی شفیع صاحب کے مبلغ علم وعقل کا" 
 اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ چنانچہ جب پارچہ باف جماعت یہ کہتی ہے کہ آپ لوگ وعظ و تقریر میں ہماری قوم کی تذلیل کرتے ہیں لہذا آپ لوگ معذرت نامہ شائع کیجئے تو مفتی شفیع صاحب جواب دیتے ہیں کہ تمہاری قوم کی تذلیل تو فلاں حدیث میں سرکار نے بھی کی ہے۔ بریں عقل ودانش بیاید گریست! بیچارے مولوی صاحب کو میں کس طرح سمجھاؤں کہ کنز العمال کی جس روایت کا حوالہ دیا ہے اس کی سند تک کا پتہ نہیں ہے۔ ایسی بے سروپا روایت استحلال عرض مسلم (مسلمانوں کے آبروریزی کے جواز) کی سند نہیں بن سکتی۔ 
پھر مولوی شفیع صاحب کی اس سے بڑھ کر عقلمندی یہ ہےکہ انھوں نے لغو و لایعنی و بے تحقیق قصوں کو اور اس چیز کو جس کو وہ حدیث سمجھتے ہیں برابر کردیا۔ افسوس ہے اس دین ودیانت اور اس فہم و فراست پر!!

پھر حدیث بیان کرنے میں بھی مفتی شفیع صاحب کی حیثیت اور ہے، اور مصنف کنزالعمال کی حیثیت اور۔ مصنف کنز العمال کا تو موضوع ہی یہی ہے کہ متفرق کتابوں میں جتنی باتیں حدیث کے عنوان سے مذکور ہیں انسب کو یکجا کردیں۔ لہذا ان کا ذکر کرنا بقصد تذلیل نہیں ہو سکتا۔
یہی وجہ ہے کہ مصنف کنز العمال نے مولوی شفیع صاحب کی ذکر کردہ روایت جس طرح نقل کی ہے، اسی طرح وہ حدیثیں بھی نقل کی ہیں جن میں بنو العباس اور بنو امیہ کی سخت مذمت ہوتی ہےہے اور قریش کے نوجوانوں کے ہاتھوں امت اسلامیہ کی بربادی اور افراد قبیلہ مضر کا لوگوں کو دین سے بر گشتہ کرنا اس اور قتل عام کرنا بھی مذکور ہے۔ 

پس معلوم ہوا کہ مصنف کنز العمال کا مقصود کسی قوم کی تذلیل نہیں ہے۔ جبکہ مفتی شفیع صاحب کا مقصد صرف فتنہ انگیزی و دل آزاری جماعت مسلمین ہی ہے۔ 

نیز مصنف کنز العمال نے جس طرح مولوی شفیع کی ذکر کردہ روایت نقل کی ہے، اسی طرح پارچہ باف جماعت کی اعلیٰ درجے کی فضیلت والی احادیث بھی ذکر کی ہے۔ بر خلاف مولوی شفیع صاحب کہ جس کا اصل مقصد ہی بعض پیشہ والوں کی مذمت ثابت کرنا اور اہانت آمیز من گھڑت قصے بیان کرنا ہے۔"
(انساب و کفاءت کی شرعی حیثیت:مولانا حبیب الرحمان اعظمی ) 

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!!!

جزاکم اللہ خیرا! والسلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

Sunday, July 18, 2021

‏اسلام میں ذات پرستی اور علماء


بسم الله الرحمن الرحيم 

السلام عليكم و رحمة الله وبركاته 

موضوع :اسلام میں ذات پرستی اور علماء 

مصادر : مختلف مراجع و مصادر 

از قلم : محمد اقبال قاسمي سلفي 

تو ادھر ادھر کی نہ بات کر، یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا، 
مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں تیری رہبری کا سوال ہے۔

اللہ رب العزت کا ارشاد ہے۔ 
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ (سورۃ البقرہ:208) 
اے ایمان والو اسلام میں پورے طور سے داخل ہو جاؤ۔ 
اور شیطان کے نقش قدم کی پیروی نہ کرو۔ 
لیکن افسوس!! 

ایمان بیچنے پر ہیں اب سب تلے ہوئے
لیکن خرید ہو جو علی گڑھ کے بھاؤ سے۔ 

1)منکر حدیث، منو وادی اور انگریزوں کے خیر خواہ  سر سید احمد خان کے نام سے کون واقف نہیں ہے۔ لیکن بہت کم لوگوں کو اس بات کا علم ہے کہ یہ ہندوستان کے پایہ درجے کے منووادی علماء میں سے تھے جس کے اندر منوواد اور اونچ نیچ کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔
انگریزوں کی چاپلوسی  اور امت مسلمہ میں ذات پات اونچ نیچ کو فروغ دینے کی کوئی کسر نہیں چھوڑا کرتے تھے۔ 
انہیں نے تو 1857ء کی بغاوت میں بھی انگریزوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ اس بغاوت (جہاد) میں (مزعومہ) بڑی ذاتوں کا ہاتھ نہیں ہے۔ وہ تو آپ کے وفادار ہیں۔
اسباب بغاوت ہند: سر سید احمد خان) 

  اپنی برہمن وادی سوچ کا اظہار کرتے ہوئے یہ تک کہہ دیا تھا کہ اللہ تعالی صرف مسلمان تیلی ، .....اور ناخواندہ حضرات کو ہی سزا دے گا۔ 
چنانچہ وہ لکھتے ہیں :
"قیامت کے دن جب خداوند تعالی مسلمان تیلی، ......، ناخواندہ اور کم علم مسلمانوں کو سزا دینے لگے گا تو بندہ سامنے ہوکر عرض کرے گا کہ جناب باری انصاف فرمائیے۔"
(ہندوستان میں ذات پات اور مسلمان :مسعود عالم فلاحی، باب نہم)
یہ اعلی  تعلیم کا حقدار بھی صرف مخصوص طبقے کے لوگوں کو ہی سمجھتے تھے۔ 

 سر سید احمد خان کی انگریز بھکتی اور  منووادی نظریات کو دیکھنے کے بعد جواہر لال نہرو جی کو بھی یہ کہنا پڑا تھا کہ:
"سرسید اور دوسرے مذہبی نیتا حضرات در اصل عام لوگوں کی سیاست اور سماجی اٹھاؤ کے مخالف تھے، ان کے مطالبات کا عام لوگوں سے کوئی رشتہ نہیں تھا۔ ان کی مانگ صرف سماج کے اوپری طبقے کے ایک چھوٹے سے گروہ کے لئے محدود تھی۔"

"شرم تم کو مگر نہیں آئی"

قومی شاعر رام دھاری سنگھ دنکر لکھتے ہیں کہ سر سید کے ناقدوں میں اکبر الہٰ بادی بہت اہم گذرے ہیں۔ وہ سر سید کے انگریز بھکتی ہی کے خلاف نہیں بلکہ ان کے سماج سدھاروں کے بھی خلاف تھے۔ ان کے کتنے ہی شعر سر سید کو نشانہ بنا کر لکھے ہوئے دکھتے ہیں جیساکہ:
ایمان بیچنے پر ہیں اب سب تلے ہوئے
لیکن خرید ہو جو علی گڑھ کے بھاؤ سے۔ 
(بحوالہ ہندوستان میں ذات پات اور مسلمان:مسعود عالم فلاحی)

2) حکیم الامت اشرف علی فاروقی تھانوی صاحب!!! 

مولانا نے  بھی ہندوستان میں منوازم کو فروغ دینے میں کوئی موقع نہیں چھوڑا۔  ذات پات کی بنیاد پر لوگوں کی تحقیر وتذلیل میں ذرا برابر عار محسوس نہیں کرتے تھے ،یا انہیں ذات پات کے مرض میں بری طرح مبتلا مریض الامت کہا جاۓ تو بیجا نہ ہوگا حالانکہ لوگ انہیں حکیم الامت کے لقب سے ملقب کرتے ہیں ۔
یہ اپنی کتاب الرفیق فی سواء الطریق میں لکھتے ہیں :

" تین روز ۔۔۔۔۔ہے نے نماز کیا پڑھ لی اپنے آپ کو برگزیدہ ہستی سمجھنے لگا۔ "

شبیر احمد حکیم صاحب"مساوات بہار شریعت "کے حوالے سے مولانا تھانوی کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ:
"۔۔۔۔۔ اور نائیوں کو مسلمان گھرانوں میں داخل نہ ہونے دیا جائے. "
مولانا تھانوی نے ذات پات پر مبنی "رسالہ تبلیغ" نامی ایک کتاب بھی لکھی تھی، جس کے خلاف پورے ہندوستان میں مسلمانوں بالخصوص انصاری شیخوں اور قریشیوں نے مظاہرہ کیا۔ سہارنپور کی مومن کانفرنس نے بذریعہ خط مولانا سے وضاحت طلب کی اور اس کتاب سے اس طرح کی عبارتوں کو نکالنے کا مطالبہ کیا، لیکن مولانا نے ان عبارتوں کو نکالنے کا نہ حکم صادر فرمایا اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی معقول عذر ہی پیش کیا۔بلکہ ادھر ادھر کی بات کر کے خاموشی اختیار کر لی۔ بلکہ مفتی شفیع عثمانی کے ذریعہ اس کتاب کے قابل اعتراض عبارتوں پر مزید حاشیہ آرائی کروادی،  جو پہلے سے بھی زیادہ بغض وعناد اور تحقیر وتذلیل پر مبنی تھیں۔ (العیاذباللہ)
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مولانا اپنی عبارتوں پر نظر ثانی کرتے، دلخراش عبارتوں کو اس کتاب سے نکال باہر کرتے۔ ملی اتحاد کو قائم کرتے۔ لیکن افسوس مولانا سے یہ تو نہ ہو سکا بلکہ مزید امام شہاب الدین الابشىيهي(م850 ھ) کی کتاب "المستطرف فی کل فن مستظرف" سے بے سند اور من گھڑت روایتیں پیش کردی جو ان شاءاللہ ہم اگلے پوسٹ میں آپ کے سامنے رکھیں گے۔ لوگوں سے نہیں تو کم از کم یہ موضوع روایتیں پیش کرتے ہوئے  کاش اللہ کا خوف کھاۓ ہوتے۔ 
ہاں! خوف کھانے کی ضرورت کیا تھی انہیں، جنت جو ان کی جاگیر ہے۔ جیسا کہ غایات النسب میں یہ بات مفتی شفیع نے کہی ہے۔ "بخشش و مغفرت کی مستحق بھی یہ چار قومیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "

ایسے ہی لوگوں کے بارے میں اللہ رب العزت سورہ بقرہ میں فرماتا ہے:
وَقَالُوا لَن يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَن كَانَ هُودًا أَوْ نَصَارَىٰ ۗ تِلْكَ أَمَانِيُّهُمْ ۗ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ (111) 
بَلَىٰ مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ أَجْرُهُ عِندَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (112)
اور یہ کہتے ہیں کہ جنت میں سواۓ یہودی اور عیسائی کے کوئی داخل نہ ہوگا۔ یہ تو بس ان کی آرزوئیں ہیں۔ ان کہئے کوئی دلیل لاؤ اگر تم سچے ہو ۔ سنو! جو بھی اللہ کے لئے اپنے آپ کو جھکا دے اور اچھا عمل کرے تو اس کا اجر اس کے رب کے پاس ہوگا اور اسے کوئی خوف نہیں گا اور نہ وہ غمگین ہونگے۔ (سورۃ البقرہ:111، 112) 

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!!

کیا ‏رمضان میں ‏فوت ‏ہونے ‏والے ‏جنتی ‏ہیں۔ ‏؟ ‏؟ ‏؟ ‏؟ ‏؟ ‏

مولانا اقبال قاسمی سلفی

جیسا کہ عوام مشہور ہے کہ رمضان میں فوت ہونا باعث فضیلت ہے اور رمضان المبارک میں فوت ہونے والا بغیر کسی سوال جواب کے جنت میں چلا جاتا ہے۔ گرچہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو۔ جیسا کہ دارالعلوم دیوبند کے ایک فتوے (فتویٰ نمبر: 54438) میں یہ بات کہی گئی ہے۔ 

" اگر کسی فاسق مسلمان کی موت رمضان المبارک یا جمعہ میں ہوجائے تو اس کو ہلکا عذاب ہوگا اس کے بعد قیامت تک مرتفع ہوجاتا ہے اور وہ عذاب قبر سے محفوظ رہے گا، اور اگر کسی کافر کی موت ان ایام میں ہوجائے تو اس سے صرف رمضان المبارک اور جمعہ میں عذاب مرتفع ہوگا، رمضان وجمعہ گزرنے کے بعد پھر اس پر عذاب ہوگا اور اگلا رمضان وجمعہ آنے پر پھر اس سے عذاب اٹھالیا جائے گا، اور یہی سلسلہ جاری رہے گا۔ یہی تمام اہل السنة والجماعة کا عقیدہ ہے"-
(دارالافتاء دارالعلوم دیوبند) 

علامہ یوسف بنوری حنفی پاکستانی اپنے فتوے میں رقمطراز ہیں:

 "مولانا اشرف علی تھانوی  کے ملفوظات میں ہے:

 رمضان میں اگر انتقال ہو تو ایک قول یہ ہے کہ قیامت کے دن حساب نہیں ہوتا ۔ یہی جی کو لگتا ہے اور  أنا عند ظن عبدي بيپر عمل کرے۔ “(26/405)

  اور اگر کوئی غیر مسلم  رمضان المبارک میں مر جائے تو صرف ماہ مبارک کے احترام میں رمضان المبارک تک عذاب قبر سے محفوظ رہے گا،اور رمضان کے بعد پھر اسے عذاب ہوگا۔

علامہ یوسف بنوری حنفی دیوبندی پاکستانی  
فتوی نمبر : 143909200282

لیکن نہ تو یہ تمام اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے اور نہ ہی یہ کسی صحیح حدیث میں مذکور ہے بلکہ یہ حنفی حضرات کے خود ساختہ مسائل میں سے ہے۔

ان تمام مفروضے کے لئے علامہ جلال الدین سیوطی (المتوفی 911ھ) کی کتاب شرح الصدور کے حوالے سے حضرت انس رضی الله عنہ کی ایک روایت پیش کی جاتی ہے۔ لیکن علامہ نے اس 
روایت کو ابن رجب (م 795ھ) کی طرف منسوب کرکے  خود ہی اس کے ضعف کی طرف اشارہ کردیا ہے۔۔

ابن رجب نے اسے اپنی کتاب اهوال القبور میں صفحہ نمبر 187 (مکتبہ دار الزمان مدینہ منورہ تحقیق و تخریج محمد نظام الدین الفتیح) پر 
وقد يرفع عذاب القبر او بعضه في بعض الاوقات الشريفه
کے عنوان کے تحت اس روایت کو بایں الفاظ ذکر کیاہے۔ 
"فقد روي باسناد ضعيف عن انس بن مالك :ان عذاب القبر يرفع عن الموتى في شهر رمضان " (اهوال القبور ص187) 
ترجمہ : انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ایک ضعیف سند سے روایت کی گئی کہ رمضان کے مہینے میں مردوں سے عذاب قبر ہٹالیا جاتاہے"۔ 
لیکن ابن رجب حنبلی نے اسے صیغۂ تمریض کے ساتھ ذکر کر کے اس کے ضعف کو واضح کردیا نیز اس روایت کی کوئی سند ذکر نہیں کی۔ 
 یہ ہے وہ بے سند روایت جس کی بنیاد پر رمضان میں مرنے والے مسمان ہی نہیں بلکہ کافروں تک سے عذاب الہی کے ہٹا لئے جانے کے دعوے کئے جا رہے ہیں۔

Friday, July 16, 2021

اسلامی ‏برابری ‏اور ‏مسلمانوں میں مروجہ ذات و ‏برادری؟ ‏؟ ‏ ‏



مولانا اقبال قاسمی سلفی

اسلام دنیا کا وہ واحد مذہب ہے جو انسانوں کے درمیان حسب و نسب اور رنگ ونسل کی بنیاد پر فرق نہیں کرتا بلکہ تمام انسانیت کو ایک ماں باپ کی اولاد کہہ کر خوبصورت خطاب کرتا ہے، جیساکہ سورة النساء میں ارشاد باری ہے:

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّکُمُ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّ خَلَقَ مِنۡہَا زَوۡجَہَا وَ بَثَّ مِنۡہُمَا رِجَالًا کَثِیۡرًا وَّ نِسَآءً ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیۡ تَسَآءَلُوۡنَ بِہٖ وَ الۡاَرۡحَامَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیۡکُمۡ  رَقِیۡبًا ﴿۱﴾

 اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو  ، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا  اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کر کے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں  ، اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو  بیشک اللہ تعالٰی تم پر نگہبان ہے۔ 
(سورۃ النساء:1) 

ا
 انسانیت کے غمخوار جناب محمد ﷺ نے بھی انسانوں کو یہی پیغام دیا۔ 

لا فضلَ لعربيٍّ على عجميٍّ ، ولا لعجميٍّ على عربيٍّ ، ولا لأبيضَ على أسودَ ، ولا لأسودَ على أبيضَ - : إلَّا بالتَّقوَى ، النَّاسُ من آدمُ ، وآدمُ من ترابٍ : 
(شرح الطحاوية: 361 ، صحيح) 
 نہ کسی عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت ہے۔ نہ کسی عجمی کو عربی پر، نہ کالے کو گورے پر اور نہ گورے کو کالے پر مگر تقوی کے ذریعے۔ 
سارے لوگ آدم کی اولاد ہے اور آدم کو مٹی سے پیدا کیا گیا۔ 
و عَنْ أَنَسِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ :   اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا ، وَإِنِ اسْتُعْمِلَ حَبَشِيٌّ كَأَنَّ رَأْسَهُ زَبِيبة 
 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  ( اپنے حاکم کی )  سنو اور اطاعت کرو، خواہ ایک ایسا حبشی  ( غلام تم پر )  کیوں نہ حاکم بنا دیا جائے جس کا سر سوکھے ہوئے انگور(گنجا)کے برابر ہو۔
(صحیح بخاری:693) 

اسلام کی اسی بے نظیر خوبی نے اسے عرب کے دلوں کا دھڑکن بنادیا تھا۔ 

حضرت بلال حبشی، سلمان فارسی اور صہیب رومی جیسے غلاموں کو مذہب اسلام نے گلے سے لگایا اور وہ مقام عطا کیا جس پر آج بھی دنیا نازاں ہے۔

اسلام نے دنیا کو مساوات کا درس دیا۔ سماجی اونچ نیچ اور بھید بھاؤ کا خاتمہ کیا، برتری اور فضیلت کا معیار صرف اور صرف تقوی کو قرار دیا۔ کون کس خاندان سے تعلق رکھتا ہے؟ ، کس کا بیٹا ہے؟ ، کس کی بیوی ہے؟ کس کا باپ ہے؟ یہ چیزیں اسلام کی نظر میں بے حیثیت اور بے وقعت ہے۔ یہاں دنیا اور آخرت میں کامیابی کا معیار صرف اور صرف عمل صالح ہے۔

اللہ نے by birth(پیدائشی) کسی کو فضیلت والا نہیں قرار دیا کہ کوئی صرف اس لئے فضیلت کا حامل ہے کیونکہ وہ فضیلت والے کے گھر پیدا ہوا ہے۔ 

اسلام نے انسانوں کو سید شیخ اور انصاری بناکر ذاتوں میں تقسیم نہیں کیا تھا۔ forward اور backward میں نہیں بانٹا تھا، اشراف اور ارذال کی کیٹگری (category) نہیں بنائی تھی۔ 
یہ لعنت خود لوگوں کے ذریعے لوگوں پر مسلط کی گئی یے جس میں آج مسلم سماج پوری طرح لت پت ہے ۔ عوام ہی نہیں خواص بھی پوری طرح اس میں گرفتار ہیں۔

جس طرح ہندووں میں ذاتیں ہوتی ہیں اور پھر ان کے گوتر ہوتے ہیں اسی طرح مسلمانوں نے بھی ذاتیں اور گوتر بنا لی ہیں۔ پہلے تو اپنے آپ کو سید شیخ کی ذاتیں بنائی پھر ان کے گوتر بناۓ۔ جیسے صدیقی شیخ، فاروقی شیخ، عثمانی شیخ، علوی شیخ اور انصاری شیخ(انصار مدینہ کی طرف نسبت کرتے ہوئے.
اور اس ذات پات کا پالن اتنی سختی سے کیا جاتا ہے کہ یہ ایک دوسرے کے یہاں شادی بیاہ تک نہیں کرتے۔ بیٹیوں کا زندگی بھر کنواری رکھ لینا، کافروں کے ساتھ راہ فرار اختیار کروا دینا، ولد الزنا کا دادا اور نانا بن جانا گوارہ ہے لیکن ایک صدیقی شیخ کو انصاری شیخ کے یہاں رشتہ کرنا گوارہ نہیں ہے۔

 جمعیت اہلحدیث کے سابق صدر مولانا مختار احمد ندوی نے"البلاغ" اکتوبر 2000ء میں بہتے آنسو کے تحت "ذات برادری کی ماری کنواری بوڑھیاں" کے عنوان سے ایک مضمون لکھا ہے اس میں انہوں نے اپنے انتہائی قریبی اور اعلی پایہ کے اہلحدیث دوست کے بارے میں لکھا ہے کہ ان کی پہاڑ جیسی شخصیت تھی، ان کا گھرانا معزز تھا، خاندانی وجاہت کچھ کم نہ تھی ، لیکن ان کی دو صاحبزادیاں ایک 75 سالہ اور دوسری 68 سالہ باوجود شکل وصورت انتہائی پرکشش، تعلیم یافتہ ، خوشحال اور عزت و شہرت کے کنواری بوڑھی ہوگئیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ صاحب رحمہ اللہ تڑپ کر رہ گئے لیکن ان کو اپنی برادری میں مناسب رشتہ نہ مل سکا۔ انہوں نے مروجہ ذات برادری کے واسطے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے صریح احکاماحکامات کو ٹھکرا دیا۔
)(بحوالہ ہندوستان  میں ذات پات اور مسلمان: مسعود عالم فلاحی)

. ایک مشہور اہل حدیث عالم دین نے راقم الحروف(مسعود عالم فلاحی) کو بتایا کہ ایک  اہل حدیث صاحب نے اپنی بچی کی شادی ایک قبر پجوا(قبر کے پجاری) سے کی ہے کیونکہ وہ ان کی ذات کا تھا۔ ایک دن وہ صاحب میرے پاس تشریف لائے اور کہنے لگے کہ مولانا جو شخص امام کے پیچھے سورہ فاتحہ نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی ہے۔ تو میں نے کیا ہمارے اہلِ حدیث علماء نے آپ کو یہی بتایا ہو گا لیکن یہ نہیں بتایا کہ قبر پجوا سے بیاہنا حرام ہے۔ اگر نہیں بتایا تو میں بتاتا ہوں کہ آپ کی لڑکی کا نکاح نہیں ہوا کیونکہ آپ کا داماد قبوری(قبر کا پجاری) ہے جا کر آپ نکاح فسخ کرائیں۔ اس کے بعد وہ صاحب کبھی اس طرح کی باتیں نہیں کرتے۔ 
(ہندوستان میں ذات پات اور مسلمان:مسعود عالم فلاحی۔ باب نہم) 

ایسے ہی لوگوں کے بارے میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:
أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ ۚ فَمَا جَزَاءُ مَن يَفْعَلُ ذَٰلِكَ مِنكُمْ إِلَّا خِزْيٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرَدُّونَ إِلَىٰ أَشَدِّ الْعَذَابِ ۗ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ، ولَٰئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الْحَيَاةَ الدُّنْيَا بِالْآخِرَةِ ۖ فَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ 
(سورۃ البقرہ:،86،85) 
کیا بعض احکام پر ایمان رکھتے ہو اور بعض کے ساتھ کفر کرتے ہو اور تم میں سے جو بھی ایسا کرے گا اس کی سزا اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ دنیا میں رسوائی اور آخرت میں سخت عذاب کی مار، اور اللہ تعالی تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں۔ (85) 
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے بدلے خرید لیا ہے، ان کے نہ تو عذاب ہلکے ہونگے اور نہ ان کی مدد کی جاۓ گی ۔ 

یہ تصویر اس جماعت کی ہے جو صرف اور صرف قرآن وحدیث پر چلنے کی دعویدار ہے تو بقیہ غیر اہل حدیث جماعتوں کاا حال کیا ہوگا جن کا منہج ہی منواسمرتیاں(ہدایہ، درمختار اور فتاویٰ عالمگیری)جیسی کتابیں ہیں۔ 

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه

Saturday, July 10, 2021

کیا امت کا اختلاف رحمت ہے؟؟؟؟

 

مولانا اقبال قاسمی سلفی

کیا امت کا اختلاف رحمت ہے؟؟؟؟؟؟ 

 مختلفین  حضرات اپنے  اختلاف، انتشار، مخالفت اور جدل و جدال کو چھپانے اور اسے جائز ٹھرانے کے مختلف حربے اپناتے رہتے ہیں۔ اپنے مسلک اور فرقے کی حمایت میں حدیثیں وضع کرنے سے بھی باز نہیں رہتے۔ 

ا

نہیں میں سے ایک موضوع روایت "اختلاف امتى رحمه" یے۔ (میری امت کا اختلاف رحمت ہے) 


یہ بلکل بے سند اور موضوع روایت ہے۔ صحیح تو کیا کوئی ضعیف سند بھی اس روایت کی کسی معتبر حدیث کی کتاب میں موجود نہیں ہے۔

 یہ موضوع روایت قرآنی آیات کے بھی خلاف ہے جن میں اللہ نے فرقہ بندی اور اختلاف سے منع فرماتا ہے:

وَ لَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ تَفَرَّقُوۡا وَ اخۡتَلَفُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَہُمُ الۡبَیِّنٰتُ ؕ وَ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱۰۵﴾ۙ(

سوره ال عمران:105) 

 تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اپنے پاس روشن دلیلیں آجانے کے بعد بھی تفّرقہ ڈالا اور اختلاف کیا  ، انہی لوگوں کے لئے بڑا عذاب ہے ۔

انَّ الَّذِیۡنَ فَرَّقُوۡا دِیۡنَہُمۡ  وَ کَانُوۡا  شِیَعًا لَّسۡتَ مِنۡہُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ ؕ اِنَّمَاۤ  اَمۡرُہُمۡ  اِلَی اللّٰہِ ثُمَّ یُنَبِّئُہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَفۡعَلُوۡنَ ﴿۱۵۹﴾


 بیشک جن لوگوں نے اپنے دین کو جدا جدا کر دیا اور گروہ گروہ بن گئے  آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں بس ان کا معاملہ اللہ تعالٰی کے حوالے ہے پھر ان کو ان کا کیا ہوا جتلا دیں گے ۔ 

 (سوره الانعام: 6)


 ان ہی موضوع احادیث کا سہارا لیکر مرجئہ،قدریہ اور جہمیہ جیسے گمراہ فرقے وجود میں آۓ جس گمراہ مرجئہ فرقہ کی ایک شاخ فرقہ حنفیہ ہے جیسا کہ شیخ عبدالقادر جیلانی نے اپنی مشہور مایہ ناز کتاب غنیۃ الطالبین میں بالتفصیل اسے ذکر کیا ہے۔ اور پھر اسی فرقہ حنیفہ سے  دیوبندی، بریلوی، قادیانی اور جماعت اسلامی جیسے  فرقے وجود میں آۓ۔ اور اب تو بریلویوں ،دیوبندیوں میں بھانتی بھانتی کے کئی فرقے وجود میں آگۓ۔ جیسے حیاتی دیوبندی ، مماتی دیوبندی، تبلیغی دیوبندی۔ نیز فرقہ بندی کا یہ سلسلہ تاحال جاری یے۔


اختلاف امتی رحمۃ کو حدیث سمجھنا اور اور اسکی نسبت رسول ﷺ کی طرف کرنا اپنا ٹھکانا جہنم بنانے کے مترادف ہے۔

 علامہ البانی فرماتے ہیں:

تلاش بسیار کے باوجود محدثین کو اس کی سند پر اطلاع نہیں ہوسکی۔ 

(سلسلة الاحاديث الضعيفة والموضوعة ) 

علامہ مناوی نے امام سبکی سے نقل کرتے ہوئے کہا : یہ روایت محدثین کے یہاں معروف (مانوس) نہیں ہے اورصحیح ، ضعیف تو کیا مجھے اس کی کوئی موضوع سند بھی نہیں ملی"۔ الله أكبر!!! 

(سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ والموضوعہ ) 

امام عجلونی کشف الخفاء میں ملا علی قاری کی " الموضوعات " کے حوالے سے امام سیوطی کا قول نقل کرتے ہیں کہ:

"اس روایت کو نصر المقدسی نے "الحجه " میں اور امام بیہقی نے "الرساله الاشعريه میں بغیر سند کے ہی ذکر کر دیا ہے۔ "

(كشف الخفاء ومزيل الالباس عما اشتهر من الاحاديث على الالسنه)

 علامہ البانی نے اس حدیث پر بحث کرتے ہوئے فرمایا :لا اصل له

اس حدیث کی کوئی اصل نہیں ہے۔ 

(السلسلة الضعيفة والموضوعة)

دارالعوام دیوبند سے جب اس حدیث کی صحت کے متعلق فتوی مانگا گیا تو مضحکہ خیز جو جواب ملا وہ پیش خدمت ہے:

" حدیث: ”اختلاف أمتي رحمة“ بالکل بے اصل نہیں ہے؛ بلکہ کئی ایک محدثین نے اسے حدیث کے طور پر ذکر کیا ہے جیسے نصر مقدسی نے کتاب الحجة میں، خطابی نے غریب الحدیث میں اورامام بیہقی نے رسالة اشعریہ میں 

(تفصیل کے لیے جامع الأحادیث للسیوطی ، اور کشف الخفاء   وغیرہ دیکھیں۔) "

(جواب نمبر:57654)


یعنی اس حدیث کے بے اصل نہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ کئی ایک محدثین نے اسے حدیث کے طور پر ذکر کیا ہے۔ 

جبکہ جن محدثین نے اسے ذکر کیا ہے ، انہوں نے ہی اسے بے اصل قرار دیا ہے۔ جیسا کہ اوپر میں دئیے گئے جلال الدین سیوطی وغیرہ ک قول سے ظاہر ہے۔ اور اگر بے اصل نہ بھی قرار دیتے تب بھی بے اصل ہی رہتی کیونکہ انہوں نے اس کی کوئی سند ذکر نہیں کی۔ اور کسی حدیث کا اصل اور بے اصل ہونا سند کے اعتبار سے ہوتاہے نہ کہ صرف کئی ایک محدثین کے ذکر کر دینے سے۔

واضح رہے کہ اس معنی کی تمام روایات ضعیف اور واہ جدا ہیں جیسے:

اختلافُ أصحابِي لِأُمَّتي رَحمَةٌ

الراوي : - | المحدث : العراقي | المصدر : تخريج مختصر المنهاج

الصفحة أو الرقم: 60 | خلاصة حكم المحدث : مرسل ضعيف

اختلافُ أصحابِي لكم رحمةٌ .

 العراقي | المصدر : تخريج الإحياء

  ضعيف


 اختلافُ أصحابي رحمةٌ لأمتِي

- | المحدث : العجلوني : كشف الخفاء

 مرسل ضعيف

اختِلافُ أصحابي لكم رَحم ۃ

الراوي : - | المحدث : الألباني | المصدر : صفة الصلاة


 حكم المحدث : واه جدا

توضيح حكم المحدث: لا يصح


اللهم ارنا الحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابهوارزقنااجتنابہ

Recent posts

وقف ترمیمی بل

عامۃ المسلمین میں ایسے کئی لوگ ہوسکتے ہیں جو نئے وقف قانون کی باریکیوں سے واقف نہ ہوں اسی لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس پر تفصیلی گفتگو ہو۔ م...