Friday, July 30, 2021
ہندوستانی منووادی علماء اور ذات پات کی موضوع(من گھڑت) روایتیں ۔۔۔۔
Sunday, July 18, 2021
اسلام میں ذات پرستی اور علماء
کیا رمضان میں فوت ہونے والے جنتی ہیں۔ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟
Friday, July 16, 2021
اسلامی برابری اور مسلمانوں میں مروجہ ذات و برادری؟ ؟
Saturday, July 10, 2021
کیا امت کا اختلاف رحمت ہے؟؟؟؟
مولانا اقبال قاسمی سلفی
کیا امت کا اختلاف رحمت ہے؟؟؟؟؟؟
مختلفین حضرات اپنے اختلاف، انتشار، مخالفت اور جدل و جدال کو چھپانے اور اسے جائز ٹھرانے کے مختلف حربے اپناتے رہتے ہیں۔ اپنے مسلک اور فرقے کی حمایت میں حدیثیں وضع کرنے سے بھی باز نہیں رہتے۔
ا
نہیں میں سے ایک موضوع روایت "اختلاف امتى رحمه" یے۔ (میری امت کا اختلاف رحمت ہے)
یہ بلکل بے سند اور موضوع روایت ہے۔ صحیح تو کیا کوئی ضعیف سند بھی اس روایت کی کسی معتبر حدیث کی کتاب میں موجود نہیں ہے۔
یہ موضوع روایت قرآنی آیات کے بھی خلاف ہے جن میں اللہ نے فرقہ بندی اور اختلاف سے منع فرماتا ہے:
وَ لَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ تَفَرَّقُوۡا وَ اخۡتَلَفُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَہُمُ الۡبَیِّنٰتُ ؕ وَ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱۰۵﴾ۙ(
سوره ال عمران:105)
تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اپنے پاس روشن دلیلیں آجانے کے بعد بھی تفّرقہ ڈالا اور اختلاف کیا ، انہی لوگوں کے لئے بڑا عذاب ہے ۔
انَّ الَّذِیۡنَ فَرَّقُوۡا دِیۡنَہُمۡ وَ کَانُوۡا شِیَعًا لَّسۡتَ مِنۡہُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ ؕ اِنَّمَاۤ اَمۡرُہُمۡ اِلَی اللّٰہِ ثُمَّ یُنَبِّئُہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَفۡعَلُوۡنَ ﴿۱۵۹﴾
بیشک جن لوگوں نے اپنے دین کو جدا جدا کر دیا اور گروہ گروہ بن گئے آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں بس ان کا معاملہ اللہ تعالٰی کے حوالے ہے پھر ان کو ان کا کیا ہوا جتلا دیں گے ۔
(سوره الانعام: 6)
ان ہی موضوع احادیث کا سہارا لیکر مرجئہ،قدریہ اور جہمیہ جیسے گمراہ فرقے وجود میں آۓ جس گمراہ مرجئہ فرقہ کی ایک شاخ فرقہ حنفیہ ہے جیسا کہ شیخ عبدالقادر جیلانی نے اپنی مشہور مایہ ناز کتاب غنیۃ الطالبین میں بالتفصیل اسے ذکر کیا ہے۔ اور پھر اسی فرقہ حنیفہ سے دیوبندی، بریلوی، قادیانی اور جماعت اسلامی جیسے فرقے وجود میں آۓ۔ اور اب تو بریلویوں ،دیوبندیوں میں بھانتی بھانتی کے کئی فرقے وجود میں آگۓ۔ جیسے حیاتی دیوبندی ، مماتی دیوبندی، تبلیغی دیوبندی۔ نیز فرقہ بندی کا یہ سلسلہ تاحال جاری یے۔
اختلاف امتی رحمۃ کو حدیث سمجھنا اور اور اسکی نسبت رسول ﷺ کی طرف کرنا اپنا ٹھکانا جہنم بنانے کے مترادف ہے۔
علامہ البانی فرماتے ہیں:
تلاش بسیار کے باوجود محدثین کو اس کی سند پر اطلاع نہیں ہوسکی۔
(سلسلة الاحاديث الضعيفة والموضوعة )
علامہ مناوی نے امام سبکی سے نقل کرتے ہوئے کہا : یہ روایت محدثین کے یہاں معروف (مانوس) نہیں ہے اورصحیح ، ضعیف تو کیا مجھے اس کی کوئی موضوع سند بھی نہیں ملی"۔ الله أكبر!!!
(سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ والموضوعہ )
امام عجلونی کشف الخفاء میں ملا علی قاری کی " الموضوعات " کے حوالے سے امام سیوطی کا قول نقل کرتے ہیں کہ:
"اس روایت کو نصر المقدسی نے "الحجه " میں اور امام بیہقی نے "الرساله الاشعريه میں بغیر سند کے ہی ذکر کر دیا ہے۔ "
(كشف الخفاء ومزيل الالباس عما اشتهر من الاحاديث على الالسنه)
علامہ البانی نے اس حدیث پر بحث کرتے ہوئے فرمایا :لا اصل له
اس حدیث کی کوئی اصل نہیں ہے۔
(السلسلة الضعيفة والموضوعة)
دارالعوام دیوبند سے جب اس حدیث کی صحت کے متعلق فتوی مانگا گیا تو مضحکہ خیز جو جواب ملا وہ پیش خدمت ہے:
" حدیث: ”اختلاف أمتي رحمة“ بالکل بے اصل نہیں ہے؛ بلکہ کئی ایک محدثین نے اسے حدیث کے طور پر ذکر کیا ہے جیسے نصر مقدسی نے کتاب الحجة میں، خطابی نے غریب الحدیث میں اورامام بیہقی نے رسالة اشعریہ میں
(تفصیل کے لیے جامع الأحادیث للسیوطی ، اور کشف الخفاء وغیرہ دیکھیں۔) "
(جواب نمبر:57654)
یعنی اس حدیث کے بے اصل نہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ کئی ایک محدثین نے اسے حدیث کے طور پر ذکر کیا ہے۔
جبکہ جن محدثین نے اسے ذکر کیا ہے ، انہوں نے ہی اسے بے اصل قرار دیا ہے۔ جیسا کہ اوپر میں دئیے گئے جلال الدین سیوطی وغیرہ ک قول سے ظاہر ہے۔ اور اگر بے اصل نہ بھی قرار دیتے تب بھی بے اصل ہی رہتی کیونکہ انہوں نے اس کی کوئی سند ذکر نہیں کی۔ اور کسی حدیث کا اصل اور بے اصل ہونا سند کے اعتبار سے ہوتاہے نہ کہ صرف کئی ایک محدثین کے ذکر کر دینے سے۔
واضح رہے کہ اس معنی کی تمام روایات ضعیف اور واہ جدا ہیں جیسے:
اختلافُ أصحابِي لِأُمَّتي رَحمَةٌ
الراوي : - | المحدث : العراقي | المصدر : تخريج مختصر المنهاج
الصفحة أو الرقم: 60 | خلاصة حكم المحدث : مرسل ضعيف
اختلافُ أصحابِي لكم رحمةٌ .
العراقي | المصدر : تخريج الإحياء
ضعيف
اختلافُ أصحابي رحمةٌ لأمتِي
- | المحدث : العجلوني : كشف الخفاء
مرسل ضعيف
اختِلافُ أصحابي لكم رَحم ۃ
الراوي : - | المحدث : الألباني | المصدر : صفة الصلاة
حكم المحدث : واه جدا
توضيح حكم المحدث: لا يصح
اللهم ارنا الحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابهوارزقنااجتنابہ
Recent posts
وقف ترمیمی بل
عامۃ المسلمین میں ایسے کئی لوگ ہوسکتے ہیں جو نئے وقف قانون کی باریکیوں سے واقف نہ ہوں اسی لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس پر تفصیلی گفتگو ہو۔ م...
Popular post
- قربانی کا جانور اور جنت کی سواری!
- نابالغ لڑکے کی امامت اور فتوی دارالعلوم دیوبند!
- موضوع : وضو میں ہر ہر عضو کے دھونے کی دعائیں اور حنفی فتوے !
- وقف ترمیمی بل
- شداد کی جنت : مشہور واقعے کی تحقیق
- -غار ثور میں ابو بکر صدیق کو سانپ کے ڈسنے کا واقعہ
- کیا قبر قبر روزانہ بولتی ہے: میں غربت کا گھر ہوں، میں تنہائی کا گھر ہوں، میں مٹی کا گھر ہوں، اور میں کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں
- "میں اور علی ایک نور تھے"وائرل روایت کی تحقیق!!!
- نماز میں اگر امام کو سہو ہو جاۓ تو مقتدی الله اكبر کے ذریعے لقمہ دے یا سبحان الله کہہ کر امام کو متنبہ کرے۔!!
- "علم حاصل کرو گرچہ تمہیں چین جانا پڑے"حدیث نہیں ہے