بسم الله الرحمن الرحيم
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
تحریر: محمد اقبال قاسمي سلفي
موضوع: نابالغ لڑکے کی امامت اور فتوی دارالعلوم دیوبند!
مصادر: مختلف مراجع و مصادر
امامت کا مستحق کون ہے؟ محدثین رحمھم اللہ اجمعین نے کتب احادیث میں عنوان باندھا ہے :
"باب مَنْ أَحَقُّ بِالإِمَامَةِ"
(امامت کا زیادہ حقدار کون ہے) اور اس عنوان کے تحت نبی کریم ﷺ کی وہ حدیثیں ذکر کی ہیں جو امامت کے اصول و شرائط پر مبنی ہیں۔ وہ درج ذیل ہیں:
1)ابو مسعود بدری انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللهِ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً، فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ، فَإِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَاءً، فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً، فَأَقْدَمُهُمْ سِلْمًا، وَلَا يَؤُمَّنَّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي سُلْطَانِهِ، وَلَا يَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ عَلَى تَكْرِمَتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ» قَالَ الْأَشَجُّ فِي رِوَايَتِهِ: مَكَانَ سِلْمًا سِنًّا۔
لوگوں کی امامت وہ کرائے جو ان میں سے کتاب اللہ کو زیادہ پڑھنے والا ہو ، اگر وہ پڑھنے میں برابر ہوں تو وہ جو ان میں سے سنت کا زیادہ عالم ہو ، اگر وہ سنت ( کے علم ) میں بھی برابر ہوں تو وہ جس نے ان سب کی نسبت پہلے ہجرت کی ہو ، اگر وہ ہجرت میں برابر ہوں تو وہ جو اسلام قبول کرنے میں سبقت رکھتا ہو ۔ کوئی انسان وہاں دوسرے انسان کی امامت نہ کرے جہاں اس ( دوسرے ) کا اختیار ہو اور اس کے گھر میں اس کی قابل احترام نشست پر اس کی اجازت کے بغیر کوئی نہ بیٹھے ۔‘‘ ( ابوسعید ) اشج نے اپنی روایت میں ’’ اسلام قبول کرنے میں ‘‘ ( سبقت ) کے بجائے ’’ عمر میں ‘‘ ( سبقت رکھتا ہو ) کہا ۔
(صحيح المسلم : 1524)
امامت کا زیادہ مستحق کون ہے، اس حدیث میں بالترتیب چار وجوہ استحقاق کو بیان کیا گیا ہے۔ (1) قوم کی امامت وہ کراۓ جو کتاب اللہ کا زیادہ قاری ہو۔ (2) اس کے بعد ان میں سے جو سنت کا زیادہ عالم ہو۔ (3) اس کے بعد جس نے ہجرت پہلے کی ہو (4) اس کے بعد جو عمر میں بڑا ہو، بعض راویوں نے اسلام کا ذکر کیا ہے یعنی اسلام قبول کرنے میں جس نے سبقت کی ہو۔
واضح ہو کہ ہمارے اس دور میں حافظ، قاری اور عالم ہونے کے خاص معیار متعارف ہو گئے ہیں۔ حالانکہ سلف کے ہاں یہ فرق معروف نہ تھے۔ حافظ حضرات ایک حد تک مُجَوِّد اور صاحب علم بھی ہوتے تھے اور ان کا لقب ”قاری“ ہوتا تھا چونکہ نماز کا تعلق قرآن مجید کی قرات کے ساتھ ساتھ دیگر اہم مسائل سے بھی ہے۔ اس لئے امامت کے لئے ایسا شخص افضل ہے، جو حافظ اور عالم ہو بہ نسبت اس شخص کے جو صرف حافظ ہو یا صرف عالم ہو۔
اسی طرح ہجرت کی فضیلت صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے ساتھ خاص تھی۔
قابل غور ہے کہ اس حدیث میں بلوغت و عدم بلوغت کی کوئی شرط نہیں بیان کی گئی۔ بلکہ صحیح مسلم میں یہ حدیث موجود ہے کہ
عمرو بن سلمہ رضی تعالیٰ عنہ صحابہ کرام کی امامت کیا کرتے تھے جبکہ ان کی عمر صرف آٹھ سال کی تھی۔
2) حضرت عمرو بن سلمہ جرمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قافلے ہمارے پاس سے گزرا کرتے تھے ۔ ہم ان سے قرآن سیکھ لیتے تھے ۔ میرے والد محترم نبی ﷺ کے پاس اپنی قوم کا نمائندہ بن کر گئے ۔ واپسی کے وقت نبی ﷺ
نے فرمایا : تم میں سے امامت وہ کرائے جو زیادہ قرآن پڑھا ہوا ہو ۔ میرے والد واپس آئے اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تمھاری امامت وہ شخص کرائے جو قرآن زیادہ پڑھا ہوا ہو ۔ لوگوں نے تلاش کیا تو میں ان سب سے زیادہ قرآن پڑھا ہوا تھا ، لہٰذا میں ان کی امامت کراتا تھا ، حالانکہ میں آٹھ سال کا تھا۔
(سنن نسائى: 790)
اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ غیر مکلف نابالغ بچہ مکلف لوگوں کی امامت کرا سکتا ہے، اس لیے کہ "یؤم القوم أقراہم لکتاب اللہ" کے عموم میں غیر مکلف اور نابالغ بچے بھی داخل ہیں، اور کتاب و سنت میں کوئی بھی نص ایسا نہیں جو اس سے متعارض و متصادم ہو۔
یہ روایت صحیح بخاری، صحیح مسلم و سنن نسائی کے علاوہ اور بھی متعدد کتب احادیث میں موجود ہے۔ اس حدیث کی شرح میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اس حدیث میں شافعیوں کی حجت ہے کہ فرض نماز میں بھی سن تمیز (جس عمر میں نماز کی سمجھ ہو) کو پہنچا ہوا بچہ نماز پڑھا سکتا ہے۔ اس بارے میں اختلاف مشہور ہے ان لوگوں نے انصاف سے کام نہيں لیا جو کہتے ہيں کہ ان لوگوں نے ایسا اپنے اجتہاد سے کیا جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی اطلاع نہیں تھی، کیونکہ یہ لوگ تو ایک چیز کی نفی کی گواہی دے رہے ہیں (یعنی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی خبر نہيں تھی، انہيں کس نے بتایا کہ انہيں خبر نہيں تھی!) اور اس لیے بھی کہ وحی کے زمانے میں ایسی چیز کو جاری نہيں رہنے دیا جاتا جو جائز نہ ہو، جیسا کہ ابو سعید اور جابر رضی اللہ عنہما نے عزل کے جواز کی اسی کو دلیل بنایا تھا کہ ہم اسے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں کیا کرتے تھے اگر یہ منع ہوتا تو ہمیں قرآن میں منع کردیا جاتا۔ (فتح الباری)
3) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَحَدُهُمْ، وَأَحَقُّهُمْ بِالْإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ.
جب نمازی تین ہوں تو ان میں سے ایک ان کی امامت کرائے اور ان میں سے امامت کا زیادہ حقدار وہ ہے جو ان میں سے زیادہ ( قرآن ) پڑھا ہوا ہو.
(صحيح مسلم:1529)
اس حدیث سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ امامت وہ کراۓ جسے قرآن سب سے زیادہ یاد ہو خواہ وہ دوسروں کے مقابلے میں ایک بچہ ہی کیوں نہ ہو۔
ان صحیح احادیث کے خلاف احناف کا یہ موقف ہے کہ نابالغ قارئ قرآن لڑکے کی امامت درست نہیں ہے۔
چنانچہ اس بابت جب دارالعلوم دیوبند سے فتویٰ طلب کیا گیا :
سوال:
کیا8 سال کا بچہ نماز پڑھا سکتاہے ؟اگر نہیں تو اس روایت کاکیاجواب ہوگا؟ عن عمروبن سلمہ الجرمی رض ۔ ۔ ۔ الی.. واناابن ثمان سنین ۔ ۔ (سنن النسائی۔للالبانی۔الجزء الاول۔رقم 761)
جواب :
آٹھ سالہ بچہ نابالغ ہوتا ہے اور نابالغ بالغین کی امامت نہیں کرسکتا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے: لایوٴم الغلام حتی یحتلم اور حضرت ابن مسعودرضی اللہ عنہ سے مروی ہے: لایوٴم الغلام الذي لاتجب علیہ الحدود․ اور نسائی شریف کی مذکورہ روایت کا جواب یہ ہے کہ متعدد وجوہ سے یہ روایت قابل استدلال نہیں اول یہ کہ حدیث میں اس بات کی کوئی صراحت نہیں کہ عمرو بن سلمہ کے نابالغ ہونے کی حالت میں امامت کی اطلاع حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے باوجود امامت پر برقرار رکھا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فقط قوم کے اَقرأ شخص کو امامت کی ہدایت فرمائی تھی لوگوں نے اپنے اجتہاد سے عمرو بن سلمہ کو امام بنا لیا کیونکہ وہ قرآن سب سے اچھا پڑھتے تھے اور سب سے زیادہ قرآن کا حصہ یاد تھا۔ دوسری بات یہ کہ بعض روایت میں یہ بھی ہے کہ عمرو بن سلمہ فرماتے ہیں کہ جب میں سجدہ کرتاتھا تو میری سرین کھل جاتی تھی تو ایک عورت نے فرمایا کہ اپنے قاری کے ستر کو چھپاوٴ․․․․ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ وضو، نماز کے ضروری مسائل سے اس وقت پوری طرح واقف نہیں تھے۔ تیسری بات یہ کہ امام خطابی فرماتے ہیں کہ امام احمد عمرو بن سلمہ کے اثر کو ضعیف قرار دیتے ہیں اور ایک مرتبہ فرمایا ”اس کو چھوڑو اس میں کچھ نہیں ہے“ خلاصہ یہ کہ کبار صحابہ کے اقوال و اثار کی موجودگی میں ایک بچے کے فعل سے استدلال درست نہیں۔
دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتوی نمبر: 131106
فتوے کا تعاقب!!
درج بالا فتوے میں مسئلہ ہذا کا جواب دیتے ہوئے دارالعلوم دیوبند نے درج ذیل دلیلیں پیش فرمائی ہیں۔
1) آٹھ سالہ بچہ نابالغ ہوتا ہے اور نابالغ بالغین کی امامت نہیں کرا سکتا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے: لایوٴم الغلام حتی یحتلم. (نیل الاوطار مطبوعہ دارالکتب العربی بیروت 2/ 424 بحوالہ اثرم فی سننہ، اعلاء السنن 4/ 299 ح 1268)
(بچہ امامت نہیں کرا سکتا جب تک وہ بالغ نہ ہوجاۓ)اور حضرت ابن مسعودرضی اللہ عنہ سے مروی ہے: لایوٴم الغلام الذي لاتجب علیہ الحدود․(نیل الاوطار 3/ 165، بحوالہ سنن الاثرم، اعلاء السنن للتھانوی 4/ 298 ح 1267) (وہ بچہ امامت نہیں کر سکتا جب تک اس پر حدود واجب نہ ہو جائیں۔)
آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ دارالعلوم دیوبند کی بطور دلیل پیش کردہ یہ دونوں روایتیں بے سند اور بے بنیاد ہیں۔ صحیح باسند احادیث کے مقابلے میں بے سند اور بے بنیاد دلائل پیش کرکے فتوے دینا دارالعلوم دیوبند جیسے ادارے کا ہی طرۂ امتیاز ہے۔
2) دارالعلوم دیوبند نے عمرو بن سلمہ کی روایت کا بزعم خویش جواب دیتے ہوئے لکھا کہ :" اور نسائی شریف کی مذکورہ روایت کا جواب یہ ہے کہ متعدد وجوہ سے یہ روایت قابل استدلال نہیں ہے۔ اول یہ کہ حدیث میں اس بات کی کوئی صراحت نہیں کہ عمرو بن سلمہ کے نابالغ ہونے کی حالت میں امامت کی اطلاع حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے باوجود امامت پر برقرار رکھا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فقط قوم کے اَقرأ شخص کو امامت کی ہدایت فرمائی تھی لوگوں نے اپنے اجتہاد سے عمرو بن سلمہ کو امام بنا لیا کیونکہ وہ قرآن سب سے اچھا پڑھتے تھے اور سب سے زیادہ قرآن کا حصہ یاد تھا"۔
جواب : یہ ساری باتیں صحیح احادیث اور صحابہ کرام کے متفقہ فیصلے کے مقابلے میں محض تقلیدی قیاس آرائی ہے، کیونکہ بالفرض یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ صحابہ کرام نے نبی کریم ﷺ کو مطلع کئے بغیر اپنے اجتہاد سے ایک آٹھ سالہ بچے کو اپنا امام مقرر کر لیا تھا تو بہرحال صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کا وہ اجتہاد دارالعلوم دیوبند کےتقلیدی اجتہاد سے کہیں زیادہ اولی و ارفع ہے کہ دارالعلوم دیوبند کے اجتہاد کے مقابلے میں صحابہؓ کے اجتہاد پر عمل کیا جائے۔ وہ صحابہ کرام جو ابھی ابھی نبوی دارالعلوم سے نماز کے مسائل بالمشافہہ اخذ کرکے آۓ تھے۔ نیز وہ زمانہ نزول وحی کا تھا، اگر عمروبن سلمہ کی امامت درست نہ ہوتی تو وحی کے ذریعے سے نازل وحی اپنے حبیب کریم ﷺ کو اس سے ضرور باخبر کردیتا، مزید برآں حنفی رضاخانیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ حضور عالم الغیب ہیں، پھر وہ کس منہ سے یہ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ کو اس واقعے کی خبر تک نہ ہوئی ہوگی۔ فیا للعجب!
3) اس فتوے میں آگے لکھا ہے : "دوسری بات یہ کہ بعض روایت میں یہ بھی ہے کہ عمرو بن سلمہ فرماتے ہیں کہ جب میں سجدہ کرتاتھا تو میری سرین کھل جاتی تھی تو ایک عورت نے فرمایا کہ اپنے قاری کے ستر کو چھپاوٴ․․․․ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ وضو، نماز کے ضروری مسائل سے اس وقت پوری طرح واقف نہیں تھے۔"
جواب: اس سے کہیں یہ ثابت نہیں ہوتا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے اس امام کو وضو اور نماز کے ضروی مسائل بھی نہیں معلوم تھے، کیونکہ سنن نسائی کی روایت میں عمروبن سلمہ خود فرماتے ہیں:
جب میری قوم کے لوگ نبی ﷺ کے پاس سے لوٹے تو انھوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے واپسی کے وقت ہمیں یہ تعلیم دی کہ: ’’ تمھاری امامت وہ شخص کرائے جو قرآن مجید زیادہ پڑھا ہوا ہو ۔‘‘ تو انھوں نے مجھے بلایا اور مجھے رکوع اور سجدے کا طریقہ سکھایا الخ
(سنن نسائی:768)
اس سے معلوم ہوتا کہ صحابہ کرام نے منصب امامت پر فائز کرنے سے پہلے اپنے امام کو نماز کے متعلق ضروی مسائل سے آگاہی کرادی تھی۔
اور عمروبن سلمہ امام بننے سے پہلے امامت کے مسائل سیکھ چکے تھے ورنہ یہ کیسے تصور کیا جا سکتا ہے کہ جو صحابہ ابھی ابھی نبی کریم ﷺ سے براہِ راست دین کا فہم لے کر آۓ ہوں انہوں نے آتے ہی اس فہم کا ایسا ثبوت دیا کہ امامت ایک ایسے بچے کے حوالے کر دی جسے ابھی وضو اور طہارت کے مسائل بھی معلوم نہ تھے؟
اور فتوے میں دارالعلوم دیوبند کا یہ کہنا کہ: حالت نماز میں ان کا ستر کھل جایا کرتا تھا۔"
جواب: یہ ان کی مجبوری اور اضطراری حالت تھی، اور حالت اظطراری پر اعتراض کرنا، فتوؤں اور جلسوں میں اس حالت اظطراری پر عمل نہ کرنے کا جماعت اہلحدیث کو طعنے دینا، تقلیدی مالیخولیا کے سوا کیا ہوسکتا ہے۔
چنانچہ شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
اول: یہ واقعہ جان بوجھ کر نہیں، بلکہ بعض اوقات مجبوری اور حالتِ اضطرار میں ہو جاتا تھا۔
یہ عام لوگوں کو بھی معلوم ہے کہ مجبوری اور حالتِ اضطرار کی وجہ سے اعتراض کرنا غلط ہے۔
دوم: بعد میں سیدنا عمرو بن سلمہ الجرمی رضی اللہ عنہ کو جب چادر مل گئی تو شرمگاہ کے، لاعلمی و اضطراری حالت میں ننگا ہو جانے والا مسئلہ بھی ختم ہو گیا۔ (جیسا کہ صحیح بخاری میں یہ الفاظ ہیں: مجھے لوگوں نے امام بنایا ۔ حالانکہ اس وقت میری عمر چھ یا سات سال کی تھی اور میرے پاس ایک ہی چادر تھی ۔ جب میں ( اسے لپیٹ کر ) سجدہ کرتا تو اوپر ہو جاتی ( اور پیچھے کی جگہ ) کھل جاتی ۔ اس قبیلہ کی ایک عورت نے کہا ‘ تم اپنے قاری کا ستر تو پہلے چھپا دو ۔ آخر انہوں نے کپڑا خریدا اور میرے لیے ایک قمیص بنائی ، میں جتنا خوش اس قمیص سے ہوا اتنا کسی اور چیز سے نہیں ہوا تھا.)
(صحيح البخاري:4302)
سوم: جان بوجھ کر حالتِ نماز میں شرمگاہ ننگی کرنا کسی حدیث سے ثابت نہیں ہے۔
چہارم: لا علمی اور اضطراری حالت کے علاوہ اگر شرمگاہ کے ننگا کرنے کا جواز کوئی تقلیدی ’’فقیہ‘‘ کہیں سے ڈھونڈ بھی نکالے تو عرض ہے کہ صحیح بخاری (367) کی حدیث: ’’نھی رسول اللہ ﷺ عن اشتمال الصماء و أن یحتبي الرجل في ثوب واحد لیس علٰی فرجہ منہ شئ‘‘ کی رُو سے یہ عمل منسوخ ہے۔"
4) دارالعلوم دیوبند نے آگے لکھا ہے: "
تیسری بات یہ کہ امام خطابی فرماتے ہیں کہ امام احمد عمرو بن سلمہ کے اثر کو ضعیف قرار دیتے ہیں۔
جواب: عمرو بن سلمہ کا اثر و روایت صحیح بخاری اور صحیح مسلم جیسی حدیث کی کتابوں میں موجود ہے جن کتابوں کی صحت پر پوری امت کا اجماع ہے۔ اور جمہور محدثین کے مقابلے میں امام احمد کا قول پیش کرنا سورج کو چراغ دکھانے یا ڈوبتے میں تنکے کا سہارا ڈھونڈھنے کے مترادف ہے۔
5) اخیر میں دارالعلوم دیوبند نے اپنے فتوے کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:
"خلاصہ یہ کہ کبار صحابہ کے اقوال و اثار کی موجودگی میں ایک بچے کے فعل سے استدلال درست نہیں"۔
جواب: کبار صحابہ کی موجودگی میں نہیں، بلکہ کبار صحابہ نے ہی اس بچے کو اپنا امام بنایا تھا لہذا اب استدلال ایک بچے کے فعل سے نہیں بلکہ کبار صحابہ کے عمل سے ہے۔ نیز اس خلاصے میں جن صحابہ کے اقوال و آثار کی موجودگی کی طرف اشارہ ہے، ان کا بے سند اور بے دلیل ہونا اوپر ظاہر کیا جا چکا ہے۔ بے سند روایتیں مردود اور ناقابل حجت ہوتی ہیں۔
سرفراز خان صفدر دیوبندی نے امام بخاری کی ایک بے سند بات کا رد کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’اور امام بخاری ؒ نے اپنے استدلال میں ان کے اثر کی کوئی سند نقل نہیں کی اور بے سند بات حجت نہیں ہو سکتی۔‘‘
(احسن الکلام)
صحیح مسلم کے مقدمے میں امام مسلم نے عبداللہ بن مبارک کا قول نقل کرتے ہوئے لکھا ہے:عبد الله بن المبارك، يقول: الإسناد من الدين، ولولا الإسناد، لقال: من شاء ما شاء ۔
عبد اللہ بن مبارک فرمایا کرتے تھے: اسناد، دین میں داخل ہے اور اگر اسناد نہ ہوتی تو ہر شخص جو چاہتا کہہ ڈالتا (اور اپنی بات چلا دیتا)۔
فقہ حنفی میں ذکر کردہ امامت کی شرائط کو بھی ذرا ملاحظہ کیجئے کہ کس طرح شریعت کے مسائل کا مذاق بنایا گیا ہے۔
یہ بھی ملاحظہ کرتے جائیے کہ صحیح احادیث کے مقابلے میں تقلید ناسدید و قیاس فاسد پر چلنے کا انجام کیسا شرمناک ہوتا ہے۔
چنانچہ فقہ حنفی کی معتبر کتاب رد المختار علی در المختار میں امامت کی اکیس شرائط بیان ہوئی ہیں۔
ان شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ امامت کا حقدار وہ ہے جو سب سے زیادہ خوبصورت ہو۔ پھر سب سے زیادہ روشن چہرے والا۔ پھر سب سے زیادہ حسب والا۔ پھر سب سے زیادہ شریف نسب والا۔ پھر وہ جس کی آواز سب سے اچھی ہو۔ پھر وہ جس کی بیوی سب سے زیادہ خوبصورت ہو. پھر جس کے پاس مال زیادہ ہو۔ پھر سب سے زیادہ مرتبے والا۔ پھر سب سے اچھے لباس والا۔ پھر بڑے سر والا۔ پھر چھوٹے آلہ تناسل والا۔ پھر اقامت والا مسافر کے مقابلے الخ
(رد المختار علی در المختار فی شرح تنویر الابصار)
یہ وہ خانہ زاد شرائط کی لسٹ ہے جو فقہ حنفی میں امام بننے کے لئے تیار کی گئی ہے۔ جسے دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ امامت کے بجائے کسی بیوٹی کانٹسٹ کے ٹرمس اینڈ کنڈیشن بناۓ گئے ہوں۔
کیا کسی کو امامت کا منصب سپرد کرنے سے پہلے مسجد کمپنی یہ پتہ لگاۓ گی کہ اس کی بیوی کتنی خوبصورت ہے اور اس کے سرو عضو تناسل کا سائز کیا ہے؟
عمروبن سلمہ کے ستر کا کھلنا تو ایک اظطراری امر تھا، ان نفیس ہستیوں کے لباس کی تنگی کا عالم تو یہ تھا کہ تن چھپانے کو بس ایک ہی چادر ہوا کرتی تھی اور وہ بھی ایسی تنگ کہ جب نماز باجماعت ادا کرنی ہوتی تو بچوں کی طرح اسے گلے میں گلیتی باندھ لیا کرتے، جیساکہ صحیح مسلم میں روایت ہے۔
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے مردوں کو دیکھا کہ چادریں تنگ ہونے کی وجہ سے وہ بچوں کی طرح اپنی چادریں گردنوں میں باندھے ہوئے نبی ﷺ کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے ، اس پر کسی کہنے والے نے کہا : اے عورتوں کی جماعت ! تم اس وقت تک اپنے سروں کو سجدے سے نہ اٹھانا جب تک مرد سر نہ اٹھا لیں۔ خدا نخواستہ کسی مرد کے ستر کا کوئی حصہ کھلا ہوا نہ ہو ۔ یہ بات آپ ﷺ کی موجودگی میں کہی گئی اور آپ نے کہنے والے کو نہیں ٹوکا۔
(صحيح مسلم: 987)
اس حدیث سے صحابہ کرام کی مجبوری اور اضطراری کیفیت کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
اور صحابہ کرام کی اسی اضطراری صورت حال کو فتوے میں "ناواقف" کے نام سے نوازا گیا، اتباع صحابہ میں جماعت اہل حدیث کو سرین کھول کر نماز پڑھنے کے مشورے دئیے گئے۔
لیکن ان نام نہاد فقیہان حرم کو یہ توفیق نہ ہوئی کہ ذرا اپنے گھر کی بھی خبر لے لیں، اپنی خانہ زاد فقہ اور فقیہوں پر بھی نظر ڈال لیں کہ اپنے امیدوار امام کی شرمگاہ اور اس کی بیوی کی دلکشی کا بالقصد مشاہدہ کرنا کس واقفیت و عالمیت کا مظاہرہ ہے؟ جو اب تک جاری ہے، نہ مرجوح ہوا ہے نہ ہی منسوخ۔
چنانچہ امام کی بیوی کے خوبصورت ہونے کی شرط کے متعلق جب دارالعلوم دیوبند سے سوال کیا گیا۔
سوال:
حضرت میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ امامت کا حق کس کو ہے؟ امامت کی شریعت میں جہاں بہت سارے شرائط ہیں کیا ان میں ایک یہ بھی ہے کہ جب تمام چیزوں میں برابری پا ئی جائے گی تو امامت کا حق اسکو حاصل ہوگا جسکی بیوی سب سے زیادہ خوبصورت ہو؟
جواب:
امامت میں سب سے پہلے استحقاق اس شخص کو ہے جو صحیح العقیدہ ہونے کے ساتھ مسائل طہارت ونماز سے واقف ہو یعنی عالم ہو اور قرآن صحیح پڑھنا جانتا ہو، پھر اس کی ایک ترتیب ہے کہ اس کے بعد کون زیادہ حق دار ہے، اس کے اخیر میں ایک مرحلہ یہ بھی ہے کہ اگر سب لوگ مطلوبہ اوصاف میں برابر ہوں تو ان میں جس کی بیوی زیادہ خوبصورت ہوگی اس کو استحقاق ہوگا کیوں کہ ایسا شخص قلب ونظر کے اعتبار سے زیادہ عفیف ہوگا۔
دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتوی نمبر:42873
فتوے میں کھلے طور سے یہ رہنمائی کی گئی ہے کہ: اگر سب لوگ مطلوبہ اوصاف میں برابر ہوں تو ان میں جس کی بیوی زیادہ خوبصورت ہوگی اس کو استحقاق ہوگا. بالفاظ دیگر سب سے زیادہ خوبصورت بیوی والے امیدوار امامت کا مستحق قرار پاۓ گا۔
نیز اس فتوے کے مطابق جن حنفیوں کی بیویاں خوبصورت و دلکش نہیں ہیں وہ سارے عفیف و پاک دامن بھی نہیں ہیں۔
عفت و پاکدامنی کی پیمائش کا کیا نرالا پیمانہ تراشا ہے حضور والا آپ نے!
انوکھی وضع ہے سارے زمانے سے نرالے ہیں
یہ عاشق کون سی بستی کے یارب رہنے والے ہیں!
عالم سے ہمارا کچھ مذہب ہی نرالا ہے
یعنی ہیں جہاں ہم واں اسلام نہیں ہوتا!
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!
اے اللہ! ہمارے سامنے حق کو واضح فرما اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما اور باطل کو بھی واضح فرمادے اور اس سے بچنے کی توفیق عطا فرما!