Friday, May 26, 2023

نابالغ لڑکے کی امامت اور فتوی دارالعلوم دیوبند! ‏

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 تحریر: محمد اقبال قاسمي سلفي

موضوع: نابالغ لڑکے کی امامت اور فتوی دارالعلوم دیوبند! 

مصادر: مختلف مراجع و مصادر

امامت کا مستحق کون ہے؟ محدثین رحمھم اللہ اجمعین نے کتب احادیث میں عنوان باندھا ہے : 
"باب مَنْ أَحَقُّ بِالإِمَامَةِ"
(امامت کا زیادہ حقدار کون ہے)  اور اس عنوان کے تحت نبی کریم ﷺ کی وہ حدیثیں ذکر کی ہیں جو امامت کے اصول و شرائط پر مبنی ہیں۔ وہ درج ذیل ہیں:

1)ابو مسعود بدری انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
 
يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللهِ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً، فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ، فَإِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَاءً، فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً، فَأَقْدَمُهُمْ سِلْمًا، وَلَا يَؤُمَّنَّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي سُلْطَانِهِ، وَلَا يَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ عَلَى تَكْرِمَتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ» قَالَ الْأَشَجُّ فِي رِوَايَتِهِ: مَكَانَ سِلْمًا سِنًّا۔ 

 لوگوں کی امامت وہ کرائے جو ان میں سے کتاب اللہ کو زیادہ پڑھنے والا ہو ، اگر وہ پڑھنے میں برابر ہوں تو وہ جو ان میں سے سنت کا زیادہ عالم ہو ، اگر وہ سنت ( کے علم ) میں بھی برابر ہوں تو وہ جس نے ان سب کی نسبت پہلے ہجرت کی ہو ، اگر وہ ہجرت میں برابر ہوں تو وہ جو اسلام قبول کرنے میں سبقت رکھتا ہو ۔ کوئی انسان وہاں دوسرے انسان کی امامت نہ کرے جہاں اس ( دوسرے ) کا اختیار ہو اور اس کے گھر میں اس کی قابل احترام نشست پر اس کی اجازت کے بغیر کوئی نہ بیٹھے ۔‘‘ ( ابوسعید ) اشج نے اپنی روایت میں ’’ اسلام قبول کرنے میں ‘‘ ( سبقت ) کے بجائے ’’ عمر میں ‘‘ ( سبقت رکھتا ہو ) کہا ۔

(صحيح المسلم : 1524) 

امامت کا زیادہ مستحق کون ہے، اس حدیث میں بالترتیب چار وجوہ استحقاق کو بیان کیا گیا ہے۔ (1) قوم کی امامت وہ کراۓ جو کتاب اللہ کا زیادہ قاری ہو۔ (2) اس کے بعد ان میں سے جو سنت کا زیادہ عالم ہو۔ (3) اس کے بعد جس نے ہجرت پہلے کی ہو (4) اس کے بعد جو عمر میں بڑا ہو، بعض راویوں نے اسلام کا ذکر کیا ہے یعنی اسلام قبول کرنے میں جس نے سبقت  کی ہو۔ 

واضح ہو کہ ہمارے اس دور میں حافظ، قاری اور عالم ہونے کے خاص معیار متعارف ہو گئے ہیں۔ حالانکہ سلف کے ہاں یہ فرق معروف نہ تھے۔ حافظ حضرات ایک حد تک مُجَوِّد اور صاحب علم بھی ہوتے تھے اور ان کا لقب ”قاری“ ہوتا تھا چونکہ نماز کا تعلق قرآن مجید کی قرات کے ساتھ ساتھ دیگر اہم مسائل سے بھی ہے۔ اس لئے امامت کے لئے ایسا شخص افضل ہے، جو حافظ اور عالم ہو بہ نسبت اس شخص کے جو صرف حافظ ہو یا صرف عالم ہو۔ 
اسی طرح ہجرت کی فضیلت صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے ساتھ خاص تھی۔ 
قابل غور ہے کہ اس حدیث میں  بلوغت و عدم بلوغت کی کوئی شرط نہیں بیان کی گئی۔ بلکہ صحیح مسلم میں یہ حدیث موجود ہے کہ 
عمرو بن سلمہ رضی تعالیٰ عنہ صحابہ کرام کی امامت کیا کرتے تھے جبکہ ان کی عمر صرف آٹھ سال کی تھی۔ 

2) حضرت عمرو بن سلمہ جرمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قافلے ہمارے پاس سے گزرا کرتے تھے ۔ ہم ان سے قرآن سیکھ لیتے تھے ۔ میرے والد محترم نبی  ﷺ  کے پاس  اپنی قوم کا نمائندہ بن کر گئے ۔ واپسی کے وقت نبی ﷺ
نے فرمایا : تم میں سے امامت وہ کرائے جو زیادہ قرآن پڑھا ہوا ہو ۔ میرے والد واپس آئے اور کہا کہ رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا :’’ تمھاری امامت وہ شخص کرائے جو قرآن زیادہ پڑھا ہوا ہو ۔ لوگوں نے تلاش کیا تو میں ان سب سے زیادہ قرآن پڑھا ہوا تھا ، لہٰذا میں ان کی امامت کراتا تھا ، حالانکہ میں آٹھ سال کا تھا۔ 
(سنن نسائى: 790)

اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ غیر مکلف نابالغ بچہ مکلف لوگوں کی امامت کرا سکتا ہے، اس لیے کہ "یؤم القوم أقراہم لکتاب اللہ" کے عموم میں غیر مکلف اور نابالغ بچے بھی داخل ہیں، اور کتاب و سنت میں کوئی بھی نص ایسا نہیں جو اس سے متعارض و متصادم ہو۔

یہ روایت صحیح بخاری، صحیح مسلم و سنن نسائی کے علاوہ اور بھی متعدد کتب احادیث میں موجود ہے۔ اس حدیث کی شرح میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اس حدیث میں شافعیوں کی حجت ہے کہ فرض نماز میں بھی سن تمیز (جس عمر میں نماز کی سمجھ ہو) کو پہنچا ہوا بچہ نماز پڑھا سکتا ہے۔ اس بارے میں اختلاف مشہور ہے ان لوگوں نے انصاف سے کام نہيں لیا جو کہتے ہيں کہ ان لوگوں نے ایسا اپنے اجتہاد سے کیا جبکہ نبی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کو اس کی اطلاع نہیں تھی، کیونکہ یہ لوگ تو ایک چیز کی نفی کی گواہی دے رہے ہیں (یعنی نبی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کو اس کی خبر نہيں تھی، انہيں کس نے بتایا کہ انہيں خبر نہيں تھی!) اور اس لیے بھی کہ وحی کے زمانے میں ایسی چیز کو جاری نہيں رہنے دیا جاتا  جو جائز نہ ہو، جیسا کہ ابو سعید اور جابر رضی اللہ عنہما نے عزل کے جواز  کی اسی کو دلیل بنایا  تھا کہ ہم اسے نبی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے دور میں کیا کرتے تھے اگر یہ منع ہوتا تو ہمیں قرآن میں منع کردیا جاتا۔ (فتح الباری) 

3) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
 إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَحَدُهُمْ، وَأَحَقُّهُمْ بِالْإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ.
 جب نمازی تین ہوں تو ان میں سے ایک ان کی امامت کرائے اور ان میں سے امامت کا زیادہ حقدار وہ ہے جو ان میں سے زیادہ ( قرآن ) پڑھا ہوا ہو. 
(صحيح مسلم:1529)
 
اس حدیث سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ امامت وہ کراۓ جسے قرآن سب سے زیادہ یاد ہو خواہ  وہ دوسروں کے مقابلے میں ایک بچہ ہی کیوں نہ ہو۔

ان صحیح احادیث کے خلاف احناف کا یہ موقف ہے کہ نابالغ قارئ قرآن لڑکے کی امامت درست نہیں ہے۔ 

چنانچہ اس بابت جب دارالعلوم دیوبند سے فتویٰ طلب کیا گیا :

سوال:
 کیا8 سال کا بچہ نماز پڑھا سکتاہے ؟اگر نہیں تو اس روایت کاکیاجواب ہوگا؟ عن عمروبن سلمہ الجرمی رض ۔ ۔ ۔ الی.. واناابن ثمان سنین ۔ ۔ (سنن النسائی۔للالبانی۔الجزء الاول۔رقم 761)

جواب :
آٹھ سالہ بچہ نابالغ ہوتا ہے اور نابالغ بالغین کی امامت نہیں کرسکتا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے: لایوٴم الغلام حتی یحتلم اور حضرت ابن مسعودرضی اللہ عنہ سے مروی ہے: لایوٴم الغلام الذي لاتجب علیہ الحدود․ اور نسائی شریف کی مذکورہ روایت کا جواب یہ ہے کہ متعدد وجوہ سے یہ روایت قابل استدلال نہیں اول یہ کہ حدیث میں اس بات کی کوئی صراحت نہیں کہ عمرو بن سلمہ کے نابالغ ہونے کی حالت میں امامت کی اطلاع حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے باوجود امامت پر برقرار رکھا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فقط قوم کے اَقرأ شخص کو امامت کی ہدایت فرمائی تھی لوگوں نے اپنے اجتہاد سے عمرو بن سلمہ کو امام بنا لیا کیونکہ وہ قرآن سب سے اچھا پڑھتے تھے اور سب سے زیادہ قرآن کا حصہ یاد تھا۔ دوسری بات یہ کہ بعض روایت میں یہ بھی ہے کہ عمرو بن سلمہ فرماتے ہیں کہ جب میں سجدہ کرتاتھا تو میری سرین کھل جاتی تھی تو ایک عورت نے فرمایا کہ اپنے قاری کے ستر کو چھپاوٴ․․․․ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ وضو، نماز کے ضروری مسائل سے اس وقت پوری طرح واقف نہیں تھے۔ تیسری بات یہ کہ امام خطابی فرماتے ہیں کہ امام احمد عمرو بن سلمہ کے اثر کو ضعیف قرار دیتے ہیں اور ایک مرتبہ فرمایا ”اس کو چھوڑو اس میں کچھ نہیں ہے“ خلاصہ یہ کہ کبار صحابہ کے اقوال و اثار کی موجودگی میں ایک بچے کے فعل سے استدلال درست نہیں۔ 

دارالافتاء 
دارالعلوم دیوبند
فتوی نمبر: 131106

فتوے کا تعاقب!! 

درج بالا فتوے میں مسئلہ ہذا کا جواب دیتے ہوئے دارالعلوم دیوبند نے درج ذیل دلیلیں پیش فرمائی ہیں۔ 

1) آٹھ سالہ بچہ نابالغ ہوتا ہے اور نابالغ بالغین کی امامت نہیں کرا سکتا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے: لایوٴم الغلام حتی یحتلم. (نیل الاوطار مطبوعہ دارالکتب العربی بیروت 2/ 424 بحوالہ اثرم فی سننہ، اعلاء السنن 4/ 299 ح 1268)
(بچہ امامت نہیں کرا سکتا جب تک وہ بالغ نہ ہوجاۓ)اور حضرت ابن مسعودرضی اللہ عنہ سے مروی ہے: لایوٴم الغلام الذي لاتجب علیہ الحدود․(نیل الاوطار 3/ 165، بحوالہ سنن الاثرم، اعلاء السنن للتھانوی 4/ 298 ح 1267) (وہ بچہ امامت نہیں کر سکتا جب تک اس پر  حدود  واجب نہ ہو جائیں۔) 

آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ دارالعلوم دیوبند کی بطور دلیل پیش کردہ یہ دونوں روایتیں بے سند اور بے بنیاد ہیں۔ صحیح باسند احادیث کے مقابلے میں بے سند اور بے بنیاد دلائل پیش کرکے فتوے دینا دارالعلوم دیوبند جیسے ادارے کا ہی طرۂ امتیاز ہے۔

2) دارالعلوم دیوبند نے عمرو بن سلمہ کی روایت کا بزعم خویش جواب دیتے ہوئے لکھا کہ :" اور نسائی شریف کی مذکورہ روایت کا جواب یہ ہے کہ متعدد وجوہ سے یہ روایت قابل استدلال نہیں ہے۔ اول یہ کہ حدیث میں اس بات کی کوئی صراحت نہیں کہ عمرو بن سلمہ کے نابالغ ہونے کی حالت میں امامت کی اطلاع حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے باوجود امامت پر برقرار رکھا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فقط قوم کے اَقرأ شخص کو امامت کی ہدایت فرمائی تھی لوگوں نے اپنے اجتہاد سے عمرو بن سلمہ کو امام بنا لیا کیونکہ وہ قرآن سب سے اچھا پڑھتے تھے اور سب سے زیادہ قرآن کا حصہ یاد تھا"۔ 

جواب : یہ ساری باتیں صحیح احادیث اور صحابہ کرام کے متفقہ فیصلے کے مقابلے میں محض تقلیدی قیاس آرائی ہے، کیونکہ بالفرض یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ صحابہ کرام نے نبی کریم ﷺ کو مطلع کئے بغیر اپنے اجتہاد سے ایک آٹھ سالہ بچے کو اپنا امام مقرر کر لیا تھا تو بہرحال صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کا وہ اجتہاد دارالعلوم دیوبند کےتقلیدی اجتہاد سے کہیں زیادہ اولی و ارفع ہے کہ دارالعلوم دیوبند کے اجتہاد کے مقابلے میں صحابہؓ کے اجتہاد پر عمل کیا جائے۔ وہ صحابہ کرام جو ابھی ابھی نبوی دارالعلوم سے نماز کے مسائل بالمشافہہ اخذ کرکے آۓ تھے۔  نیز وہ زمانہ نزول وحی کا تھا، اگر عمروبن سلمہ کی امامت درست نہ ہوتی تو وحی کے ذریعے سے نازل وحی اپنے حبیب کریم ﷺ کو اس سے ضرور باخبر کردیتا، مزید برآں حنفی رضاخانیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ حضور عالم الغیب ہیں، پھر وہ کس منہ سے یہ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ کو اس واقعے کی خبر تک نہ ہوئی ہوگی۔ فیا للعجب! 

3) اس فتوے میں آگے لکھا ہے : "دوسری بات یہ کہ بعض روایت میں یہ بھی ہے کہ عمرو بن سلمہ فرماتے ہیں کہ جب میں سجدہ کرتاتھا تو میری سرین کھل جاتی تھی تو ایک عورت نے فرمایا کہ اپنے قاری کے ستر کو چھپاوٴ․․․․ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ وضو، نماز کے ضروری مسائل سے اس وقت پوری طرح واقف نہیں تھے۔"

جواب: اس سے کہیں یہ ثابت نہیں ہوتا کہ صحابہ کرام رضوان  اللہ علیھم اجمعین کے اس امام کو وضو اور نماز کے ضروی مسائل بھی نہیں معلوم تھے، کیونکہ سنن نسائی کی روایت میں عمروبن سلمہ خود فرماتے ہیں:
 جب میری قوم کے لوگ نبی  ﷺ  کے پاس سے لوٹے تو انھوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے واپسی کے وقت ہمیں یہ تعلیم دی کہ: ’’ تمھاری امامت وہ شخص کرائے جو قرآن مجید زیادہ پڑھا ہوا ہو ۔‘‘ تو انھوں نے مجھے بلایا اور مجھے رکوع اور سجدے کا طریقہ سکھایا الخ 
(سنن نسائی:768) 

اس سے معلوم ہوتا کہ   صحابہ کرام نے منصب امامت پر فائز کرنے سے پہلے اپنے امام کو نماز کے متعلق ضروی مسائل سے آگاہی کرادی تھی۔ 
اور عمروبن سلمہ امام بننے سے پہلے امامت کے مسائل سیکھ چکے تھے ورنہ یہ کیسے تصور کیا جا سکتا ہے کہ جو صحابہ ابھی ابھی نبی کریم ﷺ سے براہِ راست دین کا فہم لے کر آۓ ہوں انہوں نے آتے ہی اس فہم کا ایسا ثبوت دیا کہ امامت ایک ایسے بچے کے حوالے کر دی جسے ابھی وضو اور طہارت کے مسائل بھی معلوم نہ تھے؟ 

اور فتوے میں دارالعلوم دیوبند کا یہ کہنا کہ: حالت نماز میں ان کا ستر کھل جایا کرتا تھا۔"  

جواب: یہ ان کی مجبوری اور اضطراری حالت تھی، اور حالت اظطراری پر اعتراض کرنا، فتوؤں اور جلسوں میں اس حالت اظطراری پر عمل نہ کرنے کا جماعت اہلحدیث کو طعنے دینا، تقلیدی مالیخولیا کے سوا کیا ہوسکتا ہے۔ 

چنانچہ شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: 

اول:  یہ واقعہ جان بوجھ کر نہیں، بلکہ بعض اوقات مجبوری اور حالتِ اضطرار میں ہو جاتا تھا۔

یہ عام لوگوں کو بھی معلوم ہے کہ مجبوری اور حالتِ اضطرار کی وجہ سے اعتراض کرنا غلط ہے۔

دوم: بعد میں سیدنا عمرو بن سلمہ الجرمی رضی اللہ عنہ کو جب چادر مل گئی تو شرمگاہ کے، لاعلمی و اضطراری حالت میں ننگا ہو جانے والا مسئلہ بھی ختم ہو گیا۔ (جیسا کہ صحیح بخاری میں یہ الفاظ ہیں:  مجھے لوگوں نے امام بنایا ۔ حالانکہ اس وقت میری عمر چھ یا سات سال کی تھی اور میرے پاس ایک ہی چادر تھی ۔ جب میں ( اسے لپیٹ کر ) سجدہ کرتا تو اوپر ہو جاتی ( اور پیچھے کی جگہ ) کھل جاتی ۔ اس قبیلہ کی ایک عورت نے کہا ‘ تم اپنے قاری کا ستر تو پہلے چھپا دو ۔ آخر انہوں نے کپڑا خریدا اور میرے لیے ایک قمیص بنائی ، میں جتنا خوش اس قمیص سے ہوا اتنا کسی اور چیز سے نہیں ہوا تھا.) 
(صحيح البخاري:4302)

سوم: جان بوجھ کر حالتِ نماز میں شرمگاہ ننگی کرنا کسی حدیث سے ثابت نہیں ہے۔

چہارم: لا علمی اور اضطراری حالت کے علاوہ اگر شرمگاہ کے ننگا کرنے کا جواز کوئی تقلیدی ’’فقیہ‘‘ کہیں سے ڈھونڈ بھی نکالے تو عرض ہے کہ صحیح بخاری (367) کی حدیث: ’’نھی رسول اللہ ﷺ عن اشتمال الصماء و أن یحتبي الرجل في ثوب واحد لیس علٰی فرجہ منہ شئ‘‘ کی رُو سے یہ عمل منسوخ ہے۔"

4) دارالعلوم دیوبند نے آگے لکھا ہے: " 
تیسری بات یہ کہ امام خطابی فرماتے ہیں کہ امام احمد عمرو بن سلمہ کے اثر کو ضعیف قرار دیتے ہیں۔ 

جواب: عمرو بن سلمہ کا اثر و روایت صحیح بخاری اور صحیح مسلم جیسی حدیث کی کتابوں میں موجود ہے جن کتابوں کی صحت پر پوری امت کا اجماع ہے۔ اور جمہور محدثین کے مقابلے میں امام احمد کا قول پیش کرنا سورج کو چراغ دکھانے یا ڈوبتے میں تنکے کا سہارا ڈھونڈھنے کے مترادف ہے۔ 

5) اخیر میں دارالعلوم دیوبند نے اپنے فتوے کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:
"خلاصہ یہ کہ کبار صحابہ کے اقوال و اثار کی موجودگی میں ایک بچے کے فعل سے استدلال درست نہیں"۔ 

جواب: کبار صحابہ کی موجودگی میں نہیں، بلکہ کبار صحابہ نے ہی اس بچے کو اپنا امام بنایا تھا لہذا اب استدلال ایک بچے کے فعل سے نہیں بلکہ کبار صحابہ کے عمل سے ہے۔ نیز اس خلاصے میں جن صحابہ کے اقوال و آثار کی موجودگی کی طرف اشارہ ہے، ان کا بے سند اور بے دلیل ہونا اوپر ظاہر کیا جا چکا ہے۔ بے سند روایتیں مردود اور ناقابل حجت ہوتی ہیں۔
 سرفراز خان صفدر دیوبندی نے امام بخاری کی ایک بے سند بات کا رد کرتے ہوئے لکھا ہے:

’’اور امام بخاری ؒ نے اپنے استدلال میں ان کے اثر کی کوئی سند نقل نہیں کی اور بے سند بات حجت نہیں ہو سکتی۔‘‘
(احسن الکلام) 
صحیح مسلم کے مقدمے میں امام مسلم نے عبداللہ بن مبارک کا قول نقل کرتے ہوئے لکھا ہے:عبد الله بن المبارك، يقول: الإسناد من الدين، ولولا الإسناد، لقال: من شاء ما شاء ۔  
عبد اللہ بن مبارک فرمایا کرتے تھے: اسناد، دین میں داخل ہے اور اگر اسناد نہ ہوتی تو ہر شخص جو چاہتا کہہ ڈالتا (اور اپنی بات چلا دیتا)۔

 فقہ حنفی میں ذکر کردہ امامت کی شرائط کو بھی ذرا ملاحظہ کیجئے کہ کس طرح شریعت کے مسائل کا مذاق بنایا گیا ہے۔ 

یہ بھی ملاحظہ کرتے جائیے کہ صحیح احادیث کے مقابلے میں تقلید ناسدید و قیاس فاسد پر چلنے کا انجام کیسا شرمناک ہوتا ہے۔ 
چنانچہ فقہ حنفی کی معتبر کتاب رد المختار علی در المختار میں امامت کی اکیس شرائط بیان ہوئی ہیں۔ 

ان شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ امامت کا حقدار وہ ہے جو سب سے زیادہ خوبصورت ہو۔ پھر سب سے زیادہ روشن چہرے والا۔ پھر سب سے زیادہ حسب والا۔ پھر سب سے زیادہ شریف نسب والا۔ پھر وہ جس کی آواز سب سے اچھی ہو۔  پھر وہ جس کی بیوی سب سے زیادہ خوبصورت ہو. پھر جس کے پاس مال زیادہ ہو۔ پھر سب سے زیادہ مرتبے والا۔ پھر سب سے اچھے لباس والا۔ پھر بڑے سر والا۔ پھر چھوٹے آلہ تناسل والا۔ پھر اقامت والا مسافر کے مقابلے الخ

(رد المختار علی در المختار فی شرح تنویر الابصار) 

یہ وہ خانہ زاد شرائط کی لسٹ ہے جو فقہ حنفی میں امام بننے کے لئے تیار کی گئی ہے۔ جسے دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ امامت کے بجائے کسی بیوٹی کانٹسٹ کے ٹرمس اینڈ کنڈیشن بناۓ گئے ہوں۔ 
کیا کسی کو امامت کا منصب سپرد کرنے سے پہلے مسجد کمپنی یہ پتہ لگاۓ گی کہ اس کی بیوی کتنی خوبصورت ہے اور اس کے سرو عضو تناسل کا سائز کیا ہے؟ 

عمروبن سلمہ کے ستر کا کھلنا تو ایک اظطراری امر تھا، ان نفیس ہستیوں کے لباس کی تنگی کا عالم تو یہ تھا کہ تن چھپانے کو بس ایک ہی چادر ہوا کرتی تھی اور وہ بھی ایسی تنگ کہ جب نماز باجماعت ادا کرنی ہوتی تو بچوں کی طرح اسے گلے میں گلیتی باندھ لیا کرتے، جیساکہ صحیح مسلم میں روایت ہے۔ 

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے مردوں کو دیکھا کہ چادریں تنگ ہونے کی وجہ سے وہ بچوں کی طرح اپنی چادریں گردنوں میں باندھے ہوئے نبی ﷺ کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے ، اس پر کسی کہنے والے نے کہا : اے عورتوں کی جماعت ! تم اس وقت تک اپنے سروں کو سجدے سے  نہ اٹھانا جب تک مرد  سر نہ  اٹھا لیں۔ خدا نخواستہ کسی مرد کے ستر کا کوئی حصہ کھلا ہوا نہ ہو ۔ یہ بات آپ ﷺ کی موجودگی میں کہی گئی اور آپ نے کہنے والے کو نہیں ٹوکا۔ 
(صحيح مسلم: 987) 

اس حدیث سے صحابہ کرام کی مجبوری اور اضطراری کیفیت کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ 
اور صحابہ کرام کی اسی اضطراری صورت حال کو فتوے میں "ناواقف" کے نام سے نوازا گیا، اتباع صحابہ میں جماعت اہل حدیث کو  سرین کھول کر نماز پڑھنے کے مشورے دئیے گئے۔ 

لیکن ان نام نہاد فقیہان حرم کو یہ توفیق نہ ہوئی کہ ذرا اپنے گھر کی بھی خبر لے لیں، اپنی خانہ زاد فقہ اور فقیہوں پر بھی نظر ڈال لیں کہ اپنے امیدوار امام کی شرمگاہ اور اس کی بیوی کی دلکشی کا بالقصد مشاہدہ کرنا کس واقفیت و عالمیت کا مظاہرہ ہے؟ جو اب تک جاری ہے، نہ مرجوح ہوا ہے نہ ہی منسوخ۔ 

 چنانچہ امام کی بیوی کے خوبصورت ہونے کی شرط کے متعلق جب دارالعلوم دیوبند سے سوال کیا گیا۔ 

سوال:

حضرت میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ امامت کا حق کس کو ہے؟ امامت کی شریعت میں جہاں بہت سارے شرائط ہیں کیا ان میں ایک یہ بھی ہے کہ جب تمام چیزوں میں برابری پا ئی جائے گی تو امامت کا حق اسکو حاصل ہوگا جسکی بیوی سب سے زیادہ خوبصورت ہو؟

جواب:
امامت میں سب سے پہلے استحقاق اس شخص کو ہے جو صحیح العقیدہ ہونے کے ساتھ مسائل طہارت ونماز سے واقف ہو یعنی عالم ہو اور قرآن صحیح پڑھنا جانتا ہو، پھر اس کی ایک ترتیب ہے کہ اس کے بعد کون زیادہ حق دار ہے، اس کے اخیر میں ایک مرحلہ یہ بھی ہے کہ اگر سب لوگ مطلوبہ اوصاف میں برابر ہوں تو ان میں جس کی بیوی زیادہ خوبصورت ہوگی اس کو استحقاق ہوگا کیوں کہ ایسا شخص قلب ونظر کے اعتبار سے زیادہ عفیف ہوگا۔

دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتوی نمبر:42873

فتوے میں کھلے طور سے یہ رہنمائی کی گئی ہے کہ: اگر سب لوگ مطلوبہ اوصاف میں برابر ہوں تو ان میں جس کی بیوی زیادہ خوبصورت ہوگی اس کو استحقاق ہوگا. بالفاظ دیگر سب سے زیادہ خوبصورت بیوی والے امیدوار امامت کا مستحق قرار پاۓ گا۔ 

نیز اس فتوے کے مطابق جن حنفیوں کی بیویاں خوبصورت و دلکش نہیں ہیں وہ سارے عفیف و پاک دامن بھی نہیں ہیں۔ 

عفت و پاکدامنی کی پیمائش کا کیا نرالا پیمانہ تراشا ہے حضور والا آپ نے! 

انوکھی وضع ہے سارے زمانے سے نرالے ہیں
یہ عاشق کون سی بستی کے یارب رہنے والے ہیں! 

عالم سے ہمارا کچھ مذہب ہی نرالا ہے
یعنی ہیں جہاں ہم واں اسلام نہیں ہوتا! 

 اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه! 

اے اللہ! ہمارے سامنے حق کو واضح فرما اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما اور باطل کو بھی واضح فرمادے اور اس سے بچنے کی توفیق عطا فرما!

Friday, May 12, 2023

اصحابي کاالنجوم الخ روایت کی تحقیق ! ‏

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محمد اقبال قاسمي سلفي

اصحابي کاالنجوم الخ روایت کی تحقیق ! 

صوفی سنتوں اور پیروں کے جعلی اور من گھڑت قصے کہانیاں سنانے والے ،حنفی علماء، خطباء اور مفتیان کرام کو منبر و محراب سے یہ روایت پیش کرتے ہوئے آپ نے ضرور سنا ہوگا ۔ 

صحابہ کرام کے فضائل و مناقب پر خطاب کرتے ہوے   درج ذیل روایت ضرور بیان کی جاتی ہے : 

اصحابي كا النجوم، بأيهم اقتديتم اهتديتم. 
میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں، ان میں سے جن کی بھی تم اقتدا کروگے ہدایت یافتہ ہو جاؤ گے۔

یہ روایت "مشکوۃ المصابیح" میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس طرح مروی ہے:

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میں نے اپنے رب سے۔ اپنے بعد اپنے صحابہ کے اختلاف کے متعلق دریافت کیا تو اس نے میری طرف وحی فرمائی: ”محمد! آپ کے صحابہ میرے نزدیک آسمان کے ستاروں کی مانند ہیں، ان میں سے بعض، بعض سے زیادہ قوی ہیں، اور ہر ایک کی روشنی ہے، اور جس شخص نے باوجود ان کے اختلاف کے جن پر وہ ہیں، عمل کیا تو وہ میرے نزدیک ہدایت پر ہے۔ “ راوی بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں، تم ان میں سے جس کی بھی اقتدا کرو گے ہدایت پا جاؤ گے۔ “ 
(مشكوة المصابيح:6018) 

  مشکوۃ کے علاوہ مختلف الفاظ کے ساتھ درج ذیل محدثین کرام نے بھی اس کی تخریج کی ہے:

علامہ ابن عبد البر : جامع بیان العلم و فضلہ، 
علامہ ابن حزم: الاحکام فی اصول الاحکام
خطیب بغدادی: الکفایہ فی علم الروایہ،  
امام بیہقی: المدخل، 
ابن عساکر:  تاریخ دمشق، امام دیلمی: مسند دیلمی۔ 

اس روایت کو جمہور محدثین نے باطل اور موضوع قرار دیا ہے۔

علامہ ابن قیم فرماتے ہیں: 
یہ روایت متعدد سندوں سے مروی ہے لیکن اس روایت میں سے کچھ بھی نبی کریم ﷺ سے ثابت نہیں ہے۔ 
اعلام الموقعین (2 /242)

ابن حزم فرماتے ہیں: یہ روایت باطل یے، جھوٹی ہے، اہل فسق کی اختراعات میں سے ہے۔ 
(الإحكام في أصول الأحكام:  5 /61) 

امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں: لا يصح هذا الحديث. 
یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔ 
بحوالہ سلسلة الأحاديث (الضعيفة" ، للشيخ الألباني : 1 /145) 

ابن  ملقن 
فرماتے ہیں: "جميع طرقه ضعيفة "
اس حدیث کی تمام سندیں ضعیف ہیں۔ 
(البدر المنير :9 /587) 

علامہ ابن تیمیہ فرماتے ہیں:  ](أصحابي كالنجوم بأيهم اقتديتم اهتديتم) ضعيف باطل .

صفة الفتوي ، أحمد الحراني الحنبلي ج1 ص55 

علامہ البانی فرماتے ہیں: موضو ع. یہ روایت موضوع ہے۔ 
(السلسلة الضعيفة:58)

متعدد طرق سے مروی اس موضوع روایت کی سند میں سلام بن سلیم،  سلیمان بن ابی کریمہ،  جویبر،  نعیم بن حماد، عبد الرحمن بن زید العمی جیسےاور   ابن ابی حمزہ جیسے وضاع، کذاب اور منکر الحدیث راوی موجود ہیں۔ 

واضح ہوکہ اس روایت کا بعض حصہ دوسری صحیح روایت سے ثابت ہے، صحیح مسلم کی ایک روایت میں صحابہ کرام کو مشابہ بالنجوم قرار دیا گیا ہے ۔ 
 
سعید بن ابی بردہ نے ابوبردہ سے ، انھوں نے اپنے والد ( ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی ، پھر ہم نے کہا : اگر ہم بیٹھے رہیں یہاں تک کہ آپ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھیں ( تو بہتر ہو گا ۔ ) کہا : تو ہم بیٹھے رہے ، پھر آپ ﷺ باہر ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا :’’ تم اب تک یہیں بیٹھے رہے ہو ؟‘‘ ہم نے کہا : اللہ کے رسول ! ہم نے آپ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی ، پھر ہم نے سوچا کہ ہم یہیں بیٹھے رہتے ہیں حتی کہ آپ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھ لیں ، آپ نے فرمایا :’’ تم نے اچھا کیا ، یا ( فرمایا : ) تم نے صحیح کیا ۔‘‘ پھر آپ نے آسمان کی طرف سر اٹھایا اور آپ اکثر آسمان کی طرف سر اٹھاتے تھے ، آپ نے فرمایا :’’ ستارے آسمان کے لیے امان ( اور سلامتی کی ضمانت ) ہیں اور جب ستارے ختم ہو جائیں گے تو آسمان پر ( پھٹنے اور ٹکڑے ہونے کا ) وہ مرحلہ آ جائے جس کی اسے خبر کر دی گئی ہے ۔ اور میں اپنے صحابہ کے لیے امان ہوں ۔ جب میں چلا جاؤں گا تو میرے اصحاب پر وہ ( فتنے ) آ جائیں گے جن سے ان کو ڈرایا گیا ہے اور میرے صحابہ میری امت کے لیے امان ہیں ۔ جب وہ چلے جائیں گے تو میری امت پر وہ ( فتنے ) آ جائیں گے جن سے اس کو ڈرایا گیا ہے ۔‘‘ 
(صحیح مسلم :6466) 

صحیح مسلم کی اس حدیث  میں صحابہ کرام کو ستاروں سے تشبیہ دی گئی ہے لیکن "بأيهم اقتديتم اهتديتم " (ان میں سے جن کی بھی اقتدا کروگے راہ یاب ہوجائے) کا مفہوم اس صحیح حدیث سے بالکل اخذ نہیں ہوتا جیساکہ حافظ ذہبی نے تلخیص المستدرک میں لکھا ہے : یہ حدیث صحابہ کو ستاروں سے تشبیہ دینے کو صحیح قرار دیتی ہے، رہا کسی ایک کی اقتداء کا معاملہ تو ابو موشی اشعری رضی اللہ کی حدیث سے یہ بالکل ثابت نہیں ہوتا۔ 
(تلخیص المستدرک: 4/191) 

ابن حزم نے "الاحکام فی اصول الاحکام "میں اس روایت کو متن کے اعتبار سے بھی باطل ہونے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے لکھا ہے۔ 

یہ محال ہے کہ نبی کریم ﷺ ہر صحابی کی اتباع کا حکم دے دیں، جبکہ صحابہ میں سے بعض نے کسی شیء کو حلال کہا ہے تو بعض نے اسے حرام قرار دیا ہے ،  (اس روایت کے صحیح مان لینے کی صورت میں تو) شراب کی بیع کو بھی حلال تسلیم کرنی چاہئیے کیونکہ سمرہ بن جندب اسے حلال سمجھتے تھے، ابو طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ کی اقتداء کرتے ہوئے روزہ دار کے لئے برف کھانے کو جائز قرار دیا جانا چاہئیے، حضرت علی، عثمان، طلحہ، ابو ایوب اور ابی بن کعب رضی اللہ عنھم کی اقتدا میں سستی کی وجہ سے ترک غسل کو واجب کہنا پڑے گا جبکہ حضرت عائشہ اور ابن عمر اسے حرام کہتے تھے ، اور یہ تمام روایات ہمارے نزدیک صحیح سند سے ثابت ہیں۔ 
( الإحكام: 6 /244)
 

 اس بابت جب دارالعلوم دیوبند سے سوال کیا گیا:

سوال:
حضرت میرا سوال یہ ہے کہ حدیث "أصحابی کالنجوم..الخ کو ملا علی قاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب موضوعات کبیر میں شامل کیا ہے تو واقعی یہ حدیث من گھڑت ہے؟ موضوعات کبیر اردو، رقم الحدیث 1073۔ 
یہ روایت مشکاة شریف، ص: ۵۵۴/ پر بھی بھی موجود ہے، لیکن محدثین نے جب اس کی سند کے اعتبار سے چھان بین کی تو بعض راوی ایسے نکلے جو متہم بالکذب والوضع تھے لہٰذا اس روایت کو بے اصل کہہ دیا۔ اور ملاعلی قاری نے موضوعات میں اسے ذکر کیا۔ لیکن لفظ کے اعتبار سے کسی روایت کا موضوع اور بے اصل ہونا الگ بات ہے پھر بھی کبھی اس کے بعض معنی معتبر ہوتے ہیں اور دوسری روایت سے ثابت ہوتے ہیں۔ چنانچہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مشابہ نجوم ہونا یا قابل اقتداء ہونا دوسری روایات سے ثابت ہے۔

وقد ذکر ابن حجر العسقلانی تخریج احادیث الرافعی فی باب ادب القضاء ، وأطال الکلام علیہ ، وذکر انہ حدیث واہٍ ، بل ذکر ابن حزم انہ موضوع باطل لکن ذکر البیہقی انہ قال ان حدیث مسلم یوٴدی بعض معناہ یعنی قولہ صلی اللہ علیہ وسلم النجوم أمنة للسماء الحدیث قال ابن حجر: صدق البیہقی وہو یودی صحة التشبیہ للصحابہ بالنجوم اما فی الاقتداء فلایظہر نعم یمکن ان یتلمح ذالک من معنی الاہتداء بالنجوم قلت: ان الاہتداء فرع الاقتداء ۔ مرقاة شرح مشکاة: ۱۱/۱۶۳

دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتوی نمبر :171575

دارالعلوم دیوبند کے اس فتوے سے یہ ظاہر کہ : 

1) محدثین نے جب اس کی سند کے اعتبار سے چھان بین کی تو بعض راوی ایسے نکلے جو جھوٹے اور حدیثیں گھڑنے والے تھے۔ 

2)جمہور  محدثین نے اس روایت کو بے اصل قرار  دیا ہے۔ 

3)  ملا علی قاری حنفی نے بھی اسروایت کو موضوع قرار دیا ہے۔ 

4) یہ روایت لفظ کے اعتبار سے موضوع ہے۔ 

5) اس روایت کا بعض حصہ معتبر ہے اور دوسری صحیح روایت سے ثابت ہے۔ 
جیسا کہ صحیح مسلم کی مذکورہ حدیث میں صحابہ کرام کو آسمان کے ستاروں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ 

6) حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس روایت پر طویل گفتگو کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ یہ روایت واہیات ہے، بلکہ ابن حزم نے اسے موضوع اور باطل قرار دیا ہے الخ 

7) صحابہ کرام کا قابل اقتدا ہونا دوسری روایات سے ثابت ہے،  (جب تک اس صحابی کا عمل کتاب و سنت کے مطابق ہو۔ ) 

8) فتوے میں درج " لیکن لفظ کے اعتبار سے کسی روایت کا موضوع اور بے اصل ہونا الگ بات ہے، پھر بھی کبھی اس کے بعض معنی معتبر ہوتے ہیں" 
دارالعلوم دیوبند کی تلبیس کاری ہے۔ 
محدثین کسی روایت پر موضوع ہونے کا حکم اسی وقت لگاتے ہیں جب وہ روایت لفظ ومعانی دونوں اعتبار سے موضوع ہو۔ نیز کسی روایت کے بعض معنی معتبر ہونے سے اس  روایت کا صحیح ہونا لازم نہیں آتا۔ 

صحابہ کرام کے فضائل میں نبی کریم ﷺ کی بہت ساری صحیح احادیث مذکور ہیں، حنفی علماء، خطباء اور مفتیان حضرات کوچاہئیے کہ اپنے خانہ زاد اکابرین کے بنائے ہوئے من گھڑت قصے کہانیوں کو چھوڑ کر صحیح احادیث کا مطالعہ کریں اور امت کو کتاب و سنت کے صحیح منہج سے روشناس کرائیں۔۔ 

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه! 

اے اللہ! ہمارے سامنے حق کو واضح فرمادے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما! اور باطل کو بھی ظاہر فرمادے اور اس سے بچنے کی توفیق عطا فرما!

Tuesday, May 9, 2023

کیا علماء کا اختلاف رحمت ہے؟؟ ‏

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محمد اقبال قاسمي سلفي

کیا علماء کا اختلاف رحمت ہے؟؟ 

علماء کے درمیان اختلاف کو اکثر لوگ یہ کہہ کر ہضم کرجاتے ہیں کہ علماء کا اختلاف رحمت ہے اور آج تو دو عالموں کی ذاتی اور مفاد پرستی پر مبنی جھگڑوں کو بھی ، جو سراسر قوم وملت کے لئے زحمت ہوا کرتی ہے، اسے رحمت باور کرادیا جاتا ہے۔ 
اختلاف العلماء رحمۃ یعنی علماء کا اختلاف رحمت ہے،  

یہ جملہ نہ قرآن کی آیت ہے 
نہ حدیث رسول ہے. 
نہ کسی صحابی رسول کا قول ہے . 
صحیح تو کیا، ایسی کوئی ضعیف، موضوع اور من گھڑت روایت بھی ذخیرہ احادیث میں موجود نہیں ہے۔ 
یہ بالکل بے سند، بے اصل اور من گھڑت مفروضہ ہے جو ان قرآنی آیات اور صحیح احادیث کے بھی خلاف ہے جن میں اختلاف کی مذمت اور ممانعت وارد ہوئی ہیں۔ 

سورہ آل عمران میں ارشاد باری ہے :

تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے اپنے پاس روشن دلیلیں آجانے کے بعد بھی تفرقہ ڈالا اور اختلاف کیا انہی لوگوں کے لئے عذاب ہے۔ (سورہ آل عمران:105)

سورہ انفال میں اللہ رب العزت یوں ارشاد فرماتا ہے:

اللہ اور رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں اختلاف نہ کرو، نہیں تو تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی 
(سورہ انفال :46)

سورہ نساء آیت نمبر 59 میں اللہ رب العزت فرماتا ہے :

اے ایمان والوں! اللہ اور رسول کی اطاعت کرو اور صاحبان امر کی اطاعت کرو، پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملے میں اختلاف ہو جاۓ تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دودو، اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو، یہ بہت بہتر ہے اور باعتبار انجام بہت اچھا ہے۔
(سورة النساء: 59) 

سورہ الانعام میں اللہ رب العزت فرماتا ہے:
وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ.

اور یہ کہ یہی میرا سیدھا راستہ ہے تو تم اسی کی پیروی کرو اور مختلف راستوں کی پیروی سے بچو کہ وہ تمہیں اس کے راستے سے ہٹادیں گے، اسی بات کی اس نے تمہیں نصیحت کی ہے تاکہ تم ڈرو۔ 
(سورۃ الانعام :153) 

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے :

خطَّ رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ خطًّا بيدِه ثم قال : هذا سبيلُ اللهِ مستقيمًا، وخطَّ خطوطًا عن يمينِه وشمالِه، ثم قال : هذه السبلُ ليس منها سبيلٌ إلا عليه شيطانٌ يدعو إليه، ثم قرأ : وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكم عَنْ سَبِيلِهِ.

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لکیر کھینچی اور فرمایا یہ اللہ کا(بتایا ہوا) سیدھا راستہ ہے ، اس لکیر کے دائیں بائیں اور بھی لکیریں کھینچی اور فرمایا یہ مختلف راستے ہیں جن میں سے ہر راستے پر شیطان ہے جو اپنے راستے کی دعوت دے رہا ہے پھر اس آیت کی تلاوت کی"وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكم عَنْ سَبِيلِهِ۔ 

اور یہ کہ یہی میرا سیدھا راستہ ہے تو تم اسی کی پیروی کرو اور مختلف راستوں کی پیروی سے بچو کہ وہ تمہیں اس کے راستے سے ہٹادیں گے۔ 

اس مفروضے کے بطلان کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس مفروضے میں اختلاف کو رحمت قرار دیا گیا ہے، اور رحمت کے حصول کی کوشش اور طلب ہر انسان، جماعت اور گروہ کو کرنی چاہئیے اور ہمیں ہمہ وقت اللہ کی رحمت کا طلبگار رہنا چاہئیے۔

رحمت کی دعا مانگتے کی تعلیم تو خود رب العالمین نے ہمیں یوں سکھائی ہے:

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ۔ 

اے ہمارے پروردگار! ہمارے دلوں کو ہدایت دینے کے بعد (گمراہی کے راستے پر) نہ پھیر، اور اپنے پاس سے ہم کو رحمت عطا فرما، بےشک تو ہی عطا والا ہے۔ 
(سورہ آل عمران: 8)

سورۃ الکہف میں اللہ رب العزت نے اپنی رحمت کو طلب کرنے کی تعلیم اس انداز میں دی ہے: 
 
رَبَّنَا آتِنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا۔ 
اے ہمارے پروردگار! اپنی طرف سے ہمیں خاص رحمت عطا فرما اور ہمارے کام میں آسانی فرما دیجیئے۔  

اب جبکہ اختلاف رحمت ہے تو کیا ہمیں اختلاف کی دعا مانگنی چاہئیے اور اختلاف کے لئے کوشاں رہنا چاہئیے۔ 
 العیاذ بالللہ!

سورہ ہود میں اللہ رب العزت نے اختلاف کرنے والوں کو اپنی رحمت سے خارج قرار دیتے ہوئے فرمایا :
وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ إِلَّا مَنْ رَحِمَ رَبُّكَ۔ لوگ برابر اختلاف کرتے رہیں گے مگر وہ لوگ جن پر تیرا پروردگار رحم فرماۓ۔

اس آیت کی تفسیر میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جن پر اللہ کی رحمت ہوتی ہے وہ اختلاف نہیں کرتے۔ 

نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو اختلاف سے بچنے اور اختلاف کے وقت اپنی اور اپنے خلفاء کی سنت کو لازم پکڑنے کی وصیت کرتے ہوئے فرمایا:

 حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا : ایک دن رسول اللہ ﷺ ہم لوگوں میں کھڑے ہوئے اور ایک متاثر کن وعظ فرمایا ، جس سے دل ( اللہ کی ناراضی اور عذاب سے ) خوف زدہ ہو گئے اور آنکھیں اشک بار ہو گئیں ۔ عرض کیا گیا : اے اللہ کے رسول ! آپ نے ہمیں ایسے نصیحت فرمائی ہے جس طرح رخصت کرنے والا نصیحت کیا کرتا ہے ، آپ ہم سے کوئی عہد و پیمان لے لیجیے ۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور حکم سن کر تعمیل کرو اگرچہ ( تمہارا حاکم ) کوئی حبشی غلام ہو ۔ اور تم میرے بعد سخت اختلاف دیکھو گے ، تو میری سنت کو اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کو اختیار کرنا ، اسے ڈاڑھوں سے پکڑ کر رکھنا ، ( اس پر مضبوطی سے قائم رہنا ) اور نئے نئے کاموں سے پرہیز کرنا ، کیوں کہ ہر بدعت گمراہی ہے ۔‘‘  
(سنن ابن ماجه: 42)

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!!
ترجمہ:
اے اللہ! ہمارے سامنے حق کو واضح فرمادے اور اس کی اتباع کی توفیق عطا فرما! 
اور باطل کو بھی ظاہر کردے اور اس سے بچنے کی تو فیق عطا فرما!

Monday, May 8, 2023

کیا امت کا اختلاف رحمت ہے؟ ‏

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محمد اقبال قاسمي سلفي

کیا امت کا اختلاف رحمت ہے؟ 

تم جو سنتے ہو بہت شوق سے اپنی تعریف
تم کو آئینہ دکھاؤں گا تو ڈر جاؤ گے!

"اختلاف امتي رحمة " ترجمہ: میری امت کا اختلاف رحمت ہے۔ 

بے سند، موضوع اور من گھڑت قصے کہانیوں پر عمل کرنے والےحنفی علماء، خطباء اور مفتیان دین و شرع متین کی زبانی منبر و محراب اور اجلاس عام کے پرشکوہ اسٹیجوں سے اس روایت کو پیش ہوتے ہوئے بارہا آپ نے سنا ہوگا۔ 

لیکن یہ بالکل جھوٹی ، بے سند، موضوع اور من گھڑت روایت ہے، صحیح تو کیا، کوئی ضعیف سند بھی کتب حدیث میں اس کی موجود نہیں ہے۔ محدثین کرام کو تلاش بسیار کے باوجود اس کی کوئی سند نہیں ملی۔ 
 
علامہ مناوی نے امام سبکی سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے : و ليس بمعروف عند المحدثين , و لم أقف له على سند صحيح و لا ضعيف و لا موضوع . و أقره الشيخ زكريا الأنصاري في تعليقه على " تفسير البيضاوي ".

علامہ سبکی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث محدثین کے ہاں معروف نہیں ہے اور مجھے اس کی صحیح ، ضعیف اور موضوع سند پر بھی آگاہی حاصل نہیں ہو سکی ہے ، چانچہ شیخ زکریا انصاری نے "تفسیر بیضاوی" کے حواشی میں اس بات کا اعتراف کیا ہے

(بحوالہ السلسلة الضعيفة والموضوعة و اثرها السئ في الامة للالباني) 

ملا علی قاری حنفی ا"لاسرار المرفوعة " میں اس روایت کے متعلق لکھتے ہیں:
 قيل لا أصل له أو بأصله موضوع . 
اس کی کوئی اصل نہیں ہے یا اصلا یہ موضوع ہے۔ 

علامہ الوداعی "الفتاوى الحديثيه " میں فرماتے ہیں:

"لا يوجد له سند ولا يثبت عن النبي صلى الله عليه وسلم".
 اس کی نہ کوئی سند پائی جاتی ہے اور نہ یہ نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے۔ 

علامہ شوکانی فتح الربانی میں لکھتے ہیں:
"لا أصل له كما قال المحدثون ".

اس حدیث کی کوئی اصل نہیں ہے جیسا کہ محدثین نے فرمایا ہے۔ 
(الفتح الرباني:2156) 

علامہ البانی " السلسلة الضعيفة والموضوعة و اثرها السيء في الامة" میں فرماتے ہیں:
"لا اصل له". 
اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔ 
(السلسلة الضعيفة: 57) 
 
صفة الصلاة میں علامہ البانی نے اس حدیث کو باطل جبکہ ضعيف الجامع میں موضوع قرار دیا ہے۔ 

امام عجلونی نے " كشف الخفاء " میں امام سیوطی کے حوالے سے لکھا ہے کہ امام سیوطی نے کہا : "اسے نصر مقدسی نے "الحجه " میں اور امام بیہقی نے "الرسالة الاشعرية " میں بغیر کسی سند کے ذکر کیا ہے۔ "
(كشف الخفاء للعجلوني ) 


مذکورہ بالا تفصیلات سے یہ بخوبی معلوم ہوا کہ جملہ محدثین کرام نے اس روایت کو بے سند اور موضوع قرار دیا ہے، محدثین کو تلاش بسیار کے باوجود اس کی سند نہیں مل سکی، صحیح تو کیا کوئی ضعیف سند بھی ذخیرہ حدیث میں اس کی موجود نہیں ہے۔ 

ایسی بے سند اور موضوع روایت کو پیش کرنا یا بیان کرنا نبی کریم ﷺ پر کذب اور جھوٹ کی تہمت لگانا ہے، ایسے لوگوں کو نبی ﷺ کا درج ذیل فرمان ضرور یاد رکھنا چاہئیے۔ 
 
 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس نے عمداً مجھ پر جھوٹ بولا وہ آگ میں اپنا ٹھکانا بنا لے ۔‘‘ 
(صحيح مسلم: 4) 

 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس نے میرے ذمے وہ بات لگائی جو میں نے نہیں کہی ، اسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانا ( جہنم کی ) آگ میں بنا لے ۔‘‘ 
(سنن ابن ماجه:34)

یہ روایت اس لئے بھی باطل ہے کیونکہ یہ ان قرآنی آیات اور صحیح احادیث کے خلاف ہے جن میں اختلاف کی مذمت اور ممانعت وارد ہوئی ہیں۔ 

تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے اپنے پاس روشن دلیلیں آجانے کے بعد بھی تفرقہ ڈالا اور اختلاف کیا انہی لوگوں کے لئے عذاب ہے۔ (سورہ آل عمران:105)

اللہ اور رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں اختلاف نہ کرو، نہیں تو تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی 
(سورہ انفال :46)

سورہ نساء آیت نمبر 59 میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے :
اے ایمان والوں! اللہ اور رسول کی اطاعت کرو اور صاحبان امر کی اطاعت کرو، پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملے میں اختلاف ہو جاۓ تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دودو، اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو، یہ بہت بہتر ہے اور باعتبار انجام بہت اچھا ہے۔
(سورة النساء: 59) 

اس حدیث کے بطلان کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس باطل روایت میں اختلاف کو رحمت قرار دیا گیا ہے، اور رحمت کے حصول کی کوشش اور طلب ہر انسان، جماعت اور گروہ کو کرنی چاہئیے اور ہمیں ہمہ وقت اللہ کی رحمت کا طلبگار رہنا چاہئیے۔

رحمت کی دعا مانگتے کی تعلیم تو خود رب العالمین ہمیں سکھائی ہے:

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ۔ 

اے ہمارے پروردگار! ہمارے دلوں کو ہدایت دینے کے بعد (گمراہی کے راستے پر) نہ پھیر، اور اپنے پاس سے ہم کو رحمت عطا فرما، بےشک تو ہی عطا والا ہے۔ 
(سورہ آل عمران: 8)

سورۃ الکہف میں اللہ رب العزت نے اپنی رحمت کو طلب کرنے کی تعلیم اس انداز میں دی ہے: 
 
رَبَّنَا آتِنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا۔ 
اے ہمارے پروردگار! اپنی طرف سے ہمیں خاص رحمت عطا فرما اور ہمارے کام میں آسانی فرما دیجیئے۔  

اب جبکہ اختلاف رحمت ہے تو کیا ہمیں اختلاف کی دعا مانگنی چاہئیے اور اختلاف کے لئے کوشاں رہنا چاہئیے۔ 
 العیاذ بالللہ!

سورہ ہود میں اللہ رب العزت نے اختلاف کرنے والوں کو اپنی رحمت سے خارج قرار دیتے ہوئے فرمایا :
وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ إِلَّا مَنْ رَحِمَ رَبُّكَ۔ لوگ برابر اختلاف کرتے رہیں گے مگر وہ لوگ جن پر تیرا پروردگار رحم فرماۓ۔
اس آیت کی تفسیر میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جن پر اللہ کی رحمت ہوتی ہے وہ اختلاف نہیں کرتے۔ 

ان تفصیلات سے معلوم ہوا کہ " اختلاف امتي رحمة " (میری امت کا اختلاف رحمت ہے) کو تمام محدثین نے بےاصل اور موضوع قرار دیا ہے ، لیکن محدثین کے اس اجماعی فیصلے کے بر خلاف دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ ملاحظہ کریں۔

چنانچہ اس روایت کی بابت جب دارالعلوم دیوبند سے پوچھا گیا: 

سوال : علماء کے اختلاف یا امت کا اختلاف رحمت ہے: ایسی بات کسی حدیث شریف میں موجود ہے یا کسی عالم دین نے بعد کے زمانے میں کبھی سمجھانے کے لیے کہی ہے؟ 

جواب : حدیث: ”اختلاف أمتي رحمة“ بالکل بے اصل نہیں ہے؛ بلکہ کئی ایک محدثین نے اسے حدیث کے طور پر ذکر کیا ہے جیسے نصر مقدسی نے کتاب الحجة میں، خطابی نے غریب الحدیث میں اورامام بیہقی نے رسالة اشعریہ میں (تفصیل کے لیے جامع الأحادیث للسیوطی ۱:۱۲۴ حدیث نمبر: ۷۰۶ اور کشف الخفاء ۱:۶۴-۶۶ حدیث نمبر، ۱۵۳ وغیرہ دیکھیں)۔

دارالافتاء 
دارالعلوم دیوبند
(فتویٰ نمبر : 57654)

1) دارالعلوم دیوبند کے فتوے میں درج یہ بات کہ " حدیث: ”اختلاف أمتي رحمة“ بالکل بے اصل نہیں ہے "، نہ صرف جمہور محدثین کرام کے فیصلے کے خلاف ہے بلکہ خود ان کے اکابر حنفی علماء کی تصریحات کے بھی منافی ہے۔ 

2) دارالعلوم دیوبند کا اس روایت کے متعلق یہ فتویٰ دینا کہ : " کئی ایک محدثین نے اسے حدیث کے طور پر ذکر کیا ہے جیسے نصر مقدسی نے کتاب الحجة میں، خطابی نے غریب الحدیث میں اورامام بیہقی نے رسالة اشعریہ میں" ایک مغالطے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ کیونکہ یقیناً ان محدثین نے اس ذکر کیا ہے لیکن سند کے بغیر۔ 
اور کسی روایت کے محض ذکر کر دینے سے وہ روایت اصل کے درجے کو نہیں پہنچ جاتی جب تک اس کی سند نہ ذکر کی جاۓ۔
بے سند روایت محدثین کے یہاں بے اصل ہی ہوا کرتی ہے، کیونکہ کسی روایت کی اصل اور مدار اس کی سند ہوتی ہے۔

اب یہ کوئی جاکر مفتیان دارالعلوم دیوبند سے ہی معلوم کرے کہ ایسی روایت جس کی صحیح تو کیا، کوئی ضعیف اور موضوع سند بھی ذخیرہ احادیث میں موجود نہ ہو، متقدمین و متاخرین میں سے جملہ محدثین نے تلاش بسیار کے بعد لا اصل له (جس کی کوئی اصل نہیں ہے) کا متفقہ فتویٰ لگا دیا ہو ، تاہم وہ روایت " بالکل بے اصل نہیں ہے " کس اصول کی روشنی میں روا ہے۔

اس جوابی فتوے سے تو ایسا مترشح ہوتا ہے کہ ایک نہیں، اس روایت کی کئی کئی  سندیں اس ادارے کے پاس موجود ہے، بس سائل نے سند کا مطالبہ ہی نہیں کیا ورنہ سندوں کا یہ ازھر ہند انبار لگا دیتا۔ افسوس! 

 دیانت داری کا تقاضا تھا کہ جہاں کئی محدثین کے حوالے سے اسے" بطور حدیث " کہا گیا وہاں ان ہی محدثین کے حوالے سے یہ بات بھی کہہ دی جاتی کہ ان محدثین نے اسے بغیر سند کے ہی ذکر کیا ہے، دیانت کا پاس بھی رہ جاتا اور سائل کا مقصد بھی تمام۔ 

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه! 

اے اللہ! ہمارے سامنے حق کو ظاہر کردے اور اس کی اتباع کی توفیق عطا فرما! اور باطل کو بھی واضح فرما دے اور اس سے بچنے کی توفیق عطا فرما!

Saturday, May 6, 2023

کیا رمضان میں فوت ہونے والے جنتی ہے؟ ‏

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
محمد اقبال قاسمي سلفي

کیا رمضان میں فوت ہونے والے جنتی ہے؟ 

عوام میں مشہور ہے کہ رمضان میں فوت ہونا باعث فضیلت ہے اور رمضان المبارک میں فوت ہونے والا بغیر کسی سوال و جواب کے جنت میں چلا جاتا ہے۔ گرچہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو۔ 

دارالعلوم دیوبند کے ایک فتوے (فتویٰ نمبر: 54438) میں یہ بات کہی گئی ہے۔ 

" اگر کسی فاسق مسلمان کی موت رمضان المبارک یا جمعہ میں ہوجائے تو اس کو ہلکا عذاب ہوگا اس کے بعد قیامت تک مرتفع ہوجاتا ہے اور وہ عذاب قبر سے محفوظ رہے گا، اور اگر کسی کافر کی موت ان ایام میں ہوجائے تو اس سے صرف رمضان المبارک اور جمعہ میں عذاب مرتفع ہوگا، رمضان وجمعہ گزرنے کے بعد پھر اس پر عذاب ہوگا اور اگلا رمضان وجمعہ آنے پر پھر اس سے عذاب اٹھالیا جائے گا، اور یہی سلسلہ جاری رہے گا۔ یہی تمام اہل السنة والجماعة کا عقیدہ ہے"-
(دارالافتاء 
دارالعلوم دیوبند) 

علامہ یوسف بنوری حنفی پاکستانی اپنے فتوے میں رقمطراز ہیں:

 "مولانا اشرف علی تھانوی کے ملفوظات میں ہے:

 رمضان میں اگر انتقال ہو تو ایک قول یہ ہے کہ قیامت کے دن حساب نہیں ہوتا ۔ یہی جی کو لگتا ہے اور أنا عند ظن عبدي بي پر عمل کرے۔ “(26/405)

اور اگر کوئی غیر مسلم رمضان المبارک میں مر جائے تو صرف ماہ مبارک کے احترام میں رمضان المبارک تک عذاب قبر سے محفوظ رہے گا،اور رمضان کے بعد پھر اسے عذاب ہوگا۔

دارالافتاء 
جامعہ اسلامیہ بنوری ٹاؤن، پاکستان  
فتوی نمبر : 143909200282

لیکن نہ تو یہ تمام اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے اور نہ ہی یہ کسی صحیح حدیث میں مذکور ہے بلکہ یہ حنفی حضرات کے خود ساختہ مسائل میں سے ہے۔

ان تمام مفروضے کے لئے علامہ جلال الدین سیوطی (المتوفی 911ھ) کی کتاب شرح الصدور کے حوالے سے حضرت انس رضی الله عنہ کی ایک روایت پیش کی جاتی ہے۔ لیکن علامہ نے اس 
روایت کو ابن رجب (م 795ھ) کی طرف منسوب کرکے خود ہی اس کے ضعف کی طرف اشارہ کردیا ہے۔۔

ابن رجب نے اسے اپنی کتاب اهوال القبور میں صفحہ نمبر 187 (مکتبہ دار الزمان مدینہ منورہ تحقیق و تخریج محمد نظام الدین الفتیح) پر 
وقد يرفع عذاب القبر او بعضه في بعض الاوقات الشريفه
کے عنوان کے تحت اس روایت کو بایں الفاظ ذکر کیاہے۔ 
"فقد روي باسناد ضعيف عن انس بن مالك :ان عذاب القبر يرفع عن الموتى في شهر رمضان " (اهوال القبور ص187) 
ترجمہ : انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ایک ضعیف سند سے روایت کی گئی کہ رمضان کے مہینے میں مردوں سے عذاب قبر ہٹالیا جاتاہے"۔ 
لیکن ابن رجب حنبلی نے اسے صیغۂ تمریض کے ساتھ ذکر کر کے اس کے ضعف کو واضح کردیا نیز اس روایت کی کوئی سند ذکر نہیں کی۔ 

 یہ ہے وہ بے سند روایت جس کی بنیاد پر رمضان میں مرنے والے مسمان ہی نہیں بلکہ کافروں تک سے عذاب الہی کے ہٹا لئے جانے کے دعوے کئے جا رہے ہیں۔

رمضان المبارک میں فوت ہونے ہونے بھی عام دنوں میں فوت ہونے والوں ہی کی طرح ہے، اور اس کے نجات کا دارومدار مدار اس کے اعمال پر ہے۔ 
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!

جنازہ لے جاتے ہوئے بآواز بلند کلمہ شہادت پڑھنا! ‏

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

    محمد اقبال قاسمي سلفي

جنازہ لے جاتے ہوئے بآواز بلند کلمہ شہادت پڑھنا! 

احناف کے یہاں اکثر دیکھنے کو ملتا ہے کہ جنازہ لے جاتے ہوئے لوگ بلند آواز سے کلمہ شہادت پڑھتے  ہیں دوسروں کو بھی اس کے اہتمام کی تلقین کرتے ہیں اور اس عمل کو کار ثواب اور اہمیت و فضیلت کا حامل سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ 

لیکن ان کا یہ عمل کار ثواب نہیں بلکہ عذاب کا باعث ہے کیونکہ یہ بدعت ہے، سنت نہیں۔ 
نہ یہ نبی کریم ﷺ کی سنت ہے 
نہ خلفاء راشدین کی سنت ہے
 نہ دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کا طریقہ ہے۔ 

نہ محدثین عظام کا منہج ہے۔ 
نہ امام ابوحنیفہ، شافعی، مالک اور احمد بن حنبل رحمھم اللہ کا قول ہے۔ 

 صحیح حدیث تو کیا، کسی ضعیف حدیث میں بھی یہ مذکور نہیں ہے۔ 

ایک روایت میں تو اس کی ممانعت وارد ہوئی ہے۔ 

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا تُتْبَعُ الْجَنَازَةُ بِصَوْتٍ وَلَا نَارٍ . 

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ‘ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جنازے کے ساتھ کوئی آواز یا آگ نہ جائے۔ 

(سنن ابو داؤد:3171)

اس کی سند میں "رجل من اهل المدينة" راوی کے مجہول ہونے کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے۔ 

لیکن حنفیوں کے یہاں ضعیف اور موضوع روایات پر دھڑلے سے عمل کیا جاتا ہے اس لئے انہیں چنداں مضر نہیں۔ ان کے اصولوں کے مطابق یہ روایت کم از کم حسن لغیرہ ہے۔ 
نیز موقوفا اس معنی کی بہت ساری روایات ہیں۔ 

علامہ ابن عبد البر رحمہ اللہ "الاستذکار" میں لکھتے ہیں: قد روي عن حديث أبي هريرة مرفوعا عن النبي صلى الله عليه وسلم ‌مرفوعاأنه قال: "لا تتبع الجنازة بصوت ولا نار"، ولا أعلم بين العلماء خلافا في كراهة ذلك۔

نبی کریم ﷺ سے مرفوعاً یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ " جنازے کے ساتھ نہ کوئی آواز ہو اور نہ کوئی آگ لے جائی جاۓ، اور مجھے نہیں معلوم کہ اس کی کراہت کے سلسلے میں علماء نے کوئی اختلاف کیا ہے (اس عمل کے مکروہ ہونے ہونے پر پوری امت کا اجماع ہے۔) 
اس کے بعد  علامہ ابن عبد البر لکھتے ہیں :یہ جو ہم نے اس مسئلے پر علماء کےاجماع کا ذکر کیا ہے، اسی میں (امت کے لئے) شفاء ہے ان شاءاللہ۔ 
(الاستذكار:8/225) 

قیس بن عباد صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین کا طریقہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں؛:

عن قيس بن عباد قال: كان أصحاب رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يكرهون رفع الصوت عند ثلاث: عند
 القتال، وعند الجنائز، وعند الذكر.
قیس بن عباد سے روایت ہے  کہ اصحاب رسول ﷺ تین موقعوں پر آواز بلند کرنے کو ناپسند فرمایا کرتے تھے (1) قتال  (2) جنازہ (3)ذکر 

اسے امام بیہقی نے "البیہقی" میں، ابن ابی شیبہ نے"مصنف ابن ابی شیبہ" میں اور ابن منذر ننے"الاوسط" میں ذکر کیا ہے اور اس کی سند بھی صحیح ہے۔

علماء احناف نے بھی متفقہ طور سے جنازے کے ساتھ چلنے والوں کے لئے بلند آواز سے ذکر کرنے کو مکروہ قرار دیا ہے، چنانچہ:
علامہ ابن ہمام حنفی فرماتے ہیں: ""جنازے کے ساتھ چلنے والے کے لیے بلند آواز سے ذکر اور قرآءت کرنا مکروہ ہے اسے دل میں کرنا چاہیے۔"
(فتح القدیر)

علامہ ابن نجیم حنفی اسے مکروہ تحریمی قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
"جنازے کے پیچھے آنے والے کو چاہیے کہ لمبی خاموشی اختیار کرے ذکر اور تلاوت قرآن وغیرہما کے ساتھ آواز بلند کرنا مکرو ہ ہے اور یہ مکروہ تحریمی ہے۔"
(البحر الرائق)

علامہ طحطاوی حنفی فرماتے ہیں:
"جنازے کے ساتھ بلند آواز سے ذکر کرنا مکروہ ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مکروہ تحریمی ہے۔ "
(حاشیہ طحطاوی)

فتاویٰ عالمگیری میں اس ضمن میں صاف لکھا ہوا ہے :

"جنازے کے ساتھ چلنے والوں پر خاموشی لازم ہے اور ان کے لیے بلند آواز سے ذکر کرنا اور قرآن کی تلاوت کرنا مکروہ ہے جیسا کہ طحاوی کی شرح میں ہے۔"
(فتاویٰ عالمگیری) 

علامہ ابن عابدین شامی حنفی لکھتے ہیں:

"جنازے کے پیچھے آنے والے کو چاہیے کہ وہ لمبی خاموشی اختیار کرے۔"
(فتاویٰ شامی)

دارالعلوم دیوبند نے اس سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھا ہے: 

"جنازہ کے ہمراہ راستہ میں کلمہٴ شہادت یا کوئی اور ذکر بلند آواز سے کرنا مکروہ و بدعت ہے، حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ تین موقعوں پر خاموش رہنے کو پسند فرماتے ہیں: قرآن شریف کی تلاوت کے وقت، دشمن سے مقابلہ (قتال) کے وقت اور جنازے کے پاس (تفسیر ابن کثیر: 2/417 )  اور صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تین موقعوں پر بولنے کو مکروہ سمجھتے تھے۔ جنازے، قتال اور ذکر اللہ کے وقت ۔" 

دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتوی نمبر:147

ان سب کے باوجود رضاخانی نام نہاد حنفی  علماؤں کا جنازے کے ساتھ چلنے والوں کے لئے بآواز بلند کلمہ شہادت، ذکر و اذکار اور نعت گوئی کو نہ صرف جائز قرار دینا بلکہ اسے فروغ دینا مسلک صحابہ،  منہج محدثین یہاں تک کہ اپنے ہی مذہب، مذہب حنفیت سے بغاوت کی دلیل ہے۔ 

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه! 

اے اللہ! ہمارے سامنے حق کو واضح کردے اور اس کی اتباع کی توفیق عطا فرما !اور باطل کو بھی ظاہر کردے اور اس سے بچنے کی توفیق عطا فرما!

Wednesday, May 3, 2023

نماز میں موبائل فون کی گھنٹی بجنے پر کیا کریں! ‏

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
محمد اقبال قاسمي سلفي

نماز میں موبائل فون کی گھنٹی بجنے پر کیا کریں! 

آج کی زندگی میں موبائل فون ہماری زندگی کا جزو لاینفک بن گیا ہے، ہمارے ساتھ کچھ رہے یا نہ رہے موبائل ضرور ہوتا ہے، ہمہ وقت موبائل کی گھنٹی کانوں میں سنائی دیتی رہتی ہے، یہاں تک کہ لوگ اللہ کے حضور سجدہ ریز ہونے سے پہلے بھی اسے خاموش (silent) کرنا بھول جاتے ہیں اور دوران نماز ہی اس کی دلخراش گھنٹیاں کانوں کے پردے سے ٹکراتے ہوے دل و دماغ میں اتر کر نماز کی روح کو فنا کر دیتی ہے۔ 
لیکن اس سے پہلے کہ یہ نمازیوں کی نماز کے خشوع و خضوع کو فنا کرے، سوال یہ ہے کہ کیا ہم دوران نماز موبائل فون کی گھنٹی کو سائلنٹ یا بند کر سکتے ہیں؟؟ 

 اکثر لوگ دوران نماز موبائل فون کی گھنٹی بجنے پر اسے یونہی بجتے ہوۓ چھوڑ دیتے ہیں یہ سمجھ کر کہ نماز میں موبائل کو جیب سے نکال کر سائلنٹ یا بند کردینے سے نماز فاسد ہوجاتی ہے، جبکہ نماز میں فساد موبائل فون کی گھنٹی بند کردینے سے نہیں بلکہ اسے  یونہی بجتے ہوۓ چھوڑ دینے سے پیدا ہوتا ہے ۔ 
 
دوران نماز موبائل فون کی گھنٹی بجنے پر اسے سائلنٹ یا بند کردینے سے اس لئے بھی نماز فاسد نہیں ہوتی کیونکہ دوران نماز بوقت ضرورت معمولی نقل و حرکت کئے جا سکتے ہیں۔ 

امام بخاری نے اپنی صحیح بخاری میں باضابطہ ایک عنوان ہی باندھا ہے "كتاب العمل في الصلاة"
یعنی "دوران نماز در پیش امور کے بارے میں"

اس عنوان کے تحت امام بخاری رحمہ اللہ  نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوران نماز افعال کا تتبع کرتے ہوئے تقریباً32احادیث بیان کی ہیں، پھر ان پر اٹھارہ کے قریب چھوٹے چھوٹے عنوان قائم کرتے ہوئےمسائل کا استنباط اخراج کر کے اپنی فقہی بصیرت کا اعلی ترین نمونہ پیش کیا ہے۔ 
ان میں سے چند درج ذیل ہیں:

1) نماز میں اگر کسی کو تھوکنے کی ضرورت پڑے تو بائیں جانب تھوک لے اس سے نماز فاسد نہیں ہوگی۔ 
 
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی نماز میں ہو تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے ، اس لیے اس کو سامنے نہ تھوکنا چاہیے اور نہ دائیں طرف البتہ بائیں طرف اپنے قدم کے نیچے تھوک لے . 
(صحيح البخاري:1214) 

آج مسجدیں پکی ہونے کی صورت میں دوران نماز تھوکنے کی ضرورت پڑے تو نمازی اپنے کپڑے کا کنارہ ، دستی یا رومال وغیرہ کا استعمال کرے۔ 
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے قبلہ کی طرف ( دیوار پر ) بلغم دیکھا تو آپ نے خود اسے کھرچ ڈالا اور آپ کی ناخوشی کو محسوس کیا گیا یا ( راوی نے اس طرح بیان کیا کہ ) اس کی وجہ سے آپ کی شدید ناگواری کو محسوس کیا گیا ۔ پھر آپ نے فرمایا کہ جب کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے ، یا یہ کہ اس کا رب اس کے اور قبلہ کے درمیان ہوتا ہے ۔ اس لیے قبلہ کی طرف نہ تھوکا کرو ، البتہ بائیں طرف یا قدم کے نیچے تھوک لیا کرو ۔ پھر آپ نے اپنی چادر کا ایک کونا ( کنارہ ) لیا ، اس میں تھوکا اور چادر کی ایک تہہ کو دوسری تہہ پر پھیر لیا اور فرمایا ، یا اس طرح کر لیا کرے۔ 
(صحيح البخاري:417) 
 
2) سجدے کی جگہ سے صرف ایک بار کنکریوں کو صاف کرنا
معیقیب بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص سے جو ہر مرتبہ سجدہ کرتے ہوئے کنکریاں برابر کرتا تھا فرمایا اگر ایسا کرنا ہے تو صرف ایک ہی بار کر ۔
(صحيح البخاري:1207) 

3)گھوڑے کی لگام ہاتھ میں لے کر صحابی رسول ﷺ کا نماز پڑھنا! 
 
ارزق بن قیس بیان کرتے ہیں کہ ہم اہواز میں ( جو کئی بستیاں ہیں بصرہ اور ایران کے بیچ میں ) خارجیوں سے جنگ کر رہے تھے ۔ ایک بار میں نہر کے کنارے بیٹھا تھا ۔ اتنے میں ایک شخص ( ابوبرزہ صحابی رضی اللہ عنہ ) آیا اور نماز پڑھنے لگا ۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ان کے گھوڑے کی لگام ان کے ہاتھ میں ہے ۔ اچانک گھوڑا ان سے چھوٹ کر بھاگنے لگا ۔ تو وہ بھی اس کا پیچھا کرنے لگے ۔ شعبہ نے کہا یہ ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ تھے ۔ یہ دیکھ کر خوارج میں سے ایک شخص کہنے لگا کہ اے اللہ ! اس شیخ کا ناس کر ۔ جب وہ شیخ واپس لوٹے تو فرمایا کہ میں نے تمہاری باتیں سن لی ہیں ۔ اور ( تم کیا چیز ہو ؟ ) میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چھ یا سات یا آٹھ جہادوں میں شرکت کی ہے اور میں نے آپ ﷺ کی آسانیوں کو دیکھا ہے ۔ اس لیے مجھے یہ اچھا معلوم ہوا کہ اپنا گھوڑا ساتھ لے کر لوٹوں نہ کہ اس کو چھوڑ دوں وہ جہاں چاہے چل دے اور میں تکلیف اٹھاؤں ۔‌ 
(صحيح البخاري:1211) 

4) حالت نماز میں نبی کریم ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنھما کو پکڑ کر دائیں جانب کھڑا کیا! 
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنھما سے روایت ہے کہ میں نے ایک دفعہ اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات گذاری ۔ نبی کریم ﷺ رات میں نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے تو میں بھی آپ کے ساتھ نماز میں شریک ہو گیا ۔ میں ( غلطی سے ) آپ کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا تھا ۔ پھر آپ نے میرا سر پکڑ کے دائیں طرف کر دیا ۔ ( تاکہ صحیح طور پر کھڑا ہو جاؤں )
(صحيح البخاري:699) 

5)نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو روکے، اگر نہ رکے تو اسے دوران نماز ہی زبردستی روکے! 
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” اگر تم میں سے نماز پڑھنے میں کسی شخص کے سامنے سے کوئی گزرے تو اسے گزرنے سے روکے ، اگر وہ نہ رکے تو پھر روکے اور اگر اب بھی نہ رکے تو اس سے لڑے وہ شیطان ہے ۔“
(صحيح البخاري:3274) 

6) دوران نماز نبی کریم ﷺ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا کا پاؤں دبا دیا کرتے تھے! 
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا بیان فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے سو جاتی اور میرے پاؤں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبلہ میں ہوتے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے، تو میرے پاؤں کو آہستہ سے دبا دیتے۔ میں اپنے پاؤں سمیٹ لیتی اور آپ جب کھڑے ہو جاتے تو میں انہیں پھر پھیلا دیتی۔ ان دنوں گھروں میں چراغ بھی نہیں ہوا کرتے تھے۔ 
(صحيح البخاري:382)
 
دارالعلوم دیوبند نے اس مسئلے کا جواب دیتے ہوئے لکھا ہے:
 
سوال: اگر نماز کے درمیان موبائل کی گھنٹی بج جاے تو جیب سے موبائل نکال کر اسکوبند کرنا کیسا ہے اور موبائل کی اسکرین پر نظر پڑ جاے اور یہ معلوم ہوجاے فون کس کا ہے تو کیا اس صورت میں نماز ہو جائیگی یا نہیں مفصل جواب مرحمت فرمائیں۔

جواب :
اگر جیب سے صرف ایک ہاتھ سے موبائل نکال کر بند کیا اور نکالنے کے بعد اسکرین پر نظر پڑگئی جس سے معلوم ہوگیا کہ کس کا فون آرہا ہے تو چونکہ یہ عمل کثیر نہیں ہے؛ لہٰذا اس وجہ سے نماز فاسد نہ ہوگی، البتہ اگر ایسے موقعہ پر جیب ہی میں ہاتھ ڈال کر موبائل بند کردے یا فون کاٹ دے تو اچھا ہے؛ بلکہ نماز سے پہلے نمازی کو موبائل بند کرلینا چاہیے یا سائلنٹ کرلینا چاہیے، تاکہ نماز میں فون آنے سے اپنے کو یا آس پاس کے کسی نمازی کو کوئی تشویش نہ ہو۔

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
جواب نمبر:56205

 رضاخانی علماء نے بھی اس مسئلے میں اسی موقف کا اظہار کیا ہے، چنانچہ لکھتے ہیں:

نماز کے وقت میں اولا تو موبائل آف کر دینے کے عادت ڈالنی چاہیے ۔ سائلنٹ میں کبھی کبھی تھرتھراہٹ کی وجہ سے نمازی خود ہی خلل میں پڑ جاتا ہے اور اس کا خشوع و خضوع درہم برہم ہو جاتا ہے، لیکن اگر بند کرنا بھول گیا اور دوران نماز موبائل بجنا شروع ہوگیا اور موبائل ایسا ہے کہ ایک ہی مرتبہ کوئی بٹن دبانے سے آواز بند ہو جائے گی تو بند کر دیں کیونکہ نماز میں عمل قلیل کی رخصت ہے ۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے
” ان کنت لا بد فاعلا فواحدۃ ” 
اگر کرنا ضروری ہو تو ایک بار کر سکتے ہیں ۔
 مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور۔

ان دلائل سے یہ اس مسئلے کا بخوبی اثبات ہوجاتا ہے کہ دوران  نماز موبائل فون کی گھنٹی بجنے پر اسے بند یا سائلنٹ کیا جاسکتا ہے، اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی بلکہ اپنی نماز کے ساتھ ساتھ دوسرے نمازیوں کی نماز اور ان کے خشوع و خضوع کی حفاظت بھی ہوتی ہے ۔ 
ائمہ حضرات کو چاہئیے کہ ان جیسے مسائل سے عوام کو روشناس کراکر قوم وملت کی صحیح رہنمائی کریں! 

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!!
ترجمہ:اے اللہ ہمارے سامنے حق کو واضح کردے اور اس کی اتباع کی توفیق عطا فرما دے اور باطل کو بھی ظاہر کردے اور اس سے بچنے کی توفیق عطا فرما! 

Recent posts

وقف ترمیمی بل

عامۃ المسلمین میں ایسے کئی لوگ ہوسکتے ہیں جو نئے وقف قانون کی باریکیوں سے واقف نہ ہوں اسی لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس پر تفصیلی گفتگو ہو۔ م...