Monday, September 25, 2023

موضوع: سجدہ سہو میں ایک طرف سلام پھیرنا! ‏

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محمد اقبال قاسمي سلفي

موضوع: سجدہ سہو میں ایک طرف سلام پھیرنا! 

صوفی سنتوں کے من گھڑت قصے کہانیوں پر عمل کرنے والے دیوبندی اور رضاخانی اماموں اور مفتیوں کو یہ دیکھا جاتا ہے کہ نماز میں سہو ہوجانے پر سجدہ سہو سے پہلے صرف ایک طرف سلام پھیرتے ہیں ۔   

 ایک طرف سلام پھیرنا کسی بھی حدیث سے ثابت نہیں ہے۔ صحیح تو کیا کسی ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے جس میں صرف ایک طرف سلام پھیرنا مذکور ہو۔

نہ نبی کریم ﷺ سے ایسا ثابت ہے۔ 
نہ صحابہ کرام سے۔۔۔۔۔۔۔ 
نہ تابعین سے۔۔۔۔۔ 
نہ اتباع تابعین سے۔۔۔۔۔ 

حنفیوں کے نزدیک معتبر کتب فتاویٰ میں بھی یہ درج ہے ؛ مثلاً: 
فتاویٰ ہندیہ میں ہے : 
ویأتی بتسلیمتین ،ھو الصحیح ،کذا فی الھدایہ۔ اور دونوں طرف سلام پھیرے یہی صحیح ہے اور ہدایہ میں بھی ایسا ہی لکھا ہے۔ 
(الفتاوی الھندیہ: 1/139)

رد محتار میں علامہ عابدین فرماتے ہیں:
 و قیل : یأتی بالتسلیمتین وھو اختیار شمس الائمۃ. ( رد المحتار: 2/540)
اور کہا گیا کہ دونوں طرف سلام پھیرے اور اسی کو شمس الائمہ نے اختیار فرمایا ہے۔ 
اس کے برعکس فتوؤں کی کتاب میں جو کچھ درج ہے مثلاً فتاویٰ عالمگیری میں لکھا ہوا ہے : 
”صحیح مسئلہ یہ ہے کہ ایک طرف سلام پھیرے یہی جمہور کا مذہب ہے ۔“  
                (1125/1) 
 يجب بعد سلام واحد عن یمینہ فقط ؛لأنہ المعھود، و بہ یحصل التحلیل، وھو الاصح وعلیہ لو أتی بتسلیمتین سقط عنہ السجود"
الدرالمختار: (2/540) 


 یہ باتیں بے سند اور بے دلیل ہے۔ اور بے سند بات شریعت میں مردود اور ناقابل عمل ہے۔  

عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں:
 الْإِسْنَادُ مِنَ الدِّينِ، وَلَوْلَا الْإِسْنَادُ لَقَالَ مَنْ شَاءَ مَا شَاءَ.
 
اسناد ( سلسلہ سند سے حدیث روایت کرنا ) دین میں سے ہے ۔ اگر اسناد نہ ہوتا تو جو کوئی جو کچھ چاہتا ، کہہ دیتا ۔ 
(صحیح مسلم: 32) 

امام ابوعبد اللہ الحاکم فرماتے ہیں: 
اگر اسناد نہ ہوتی، محدثین کرام اس کی طلب اور اس کی حفاظت و صیانت کا مکمل اہتمام نہ فرماتے تو مینارۂ اسلام منہدم ہوچکا ہوتا ، ملحدین اور بدعتیوں کو حدیثیں گڑھنے اور اسانید کو الٹ پلٹ کرنے پر قدرت ہوجاتی؛ کیوں کہ احادیث جب اسانید سے خالی ہوں گی تو وہ بے اعتبار ہوکر رہ جائیں گی ۔ (معرفۃ علوم الحدیث ،ص : 115)

 سفیان ثوری رَحْمَہ اللہ فرماتے ہیں:
 الَإسْنَادُ سِلَاحُ الْمُؤْمِنِ , فَإِذَا لَمْ يَكُنْ مَعَهُ سِلَاحٌ , فَبِأَيِّ شَيْءٍ يُقَاتِلُ ؟ 
 اسناد مومن کا ہتھیار ہے، جب اس کے پاس ہتھیار ہی نہیں ہوگا تو وہ کس چیز سے جنگ لڑے گا ۔( کتاب المجروحین، ص:31)

عبد اللہ بن مبارک رحمہ الله فرماتے ہیں :
 بَیْنَنَا وَ بَیْنَ الْقَوْمِ الْقَوَائِمُ: یَعْنِي الِاسْنَادَ۔ 
 ہمارے (محدثین) اور دوسرے لوگوں کے درمیان قابل اعتماد چیز اسناد ہے ۔
(مقدمہ مسلم) 

اسی طرح فتاویٰ عالمگیری کا یہ دعویٰ کہ " ایک طرف سلام پھیرے یہی جمہور کا مذہب ہے "
محض کھوکھلا دعویٰ ہے۔  
 
ایک فتوے میں تو دارالعلوم دیوبند نے ایک طرف سلام پھیرنے کو (بے دلیل) سنت قرار دیا ہے۔ 
فتویٰ نمبر: 35009

جبکہ کسی عمل کو بے دلیل سنت قرار دینا نبی کریم ﷺ پر بہتان ہے جس کی سخت وعیدیں وارد ہیں۔ 
سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا :جو شخص میرے نام سے وہ بات بیان کرے جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
(صحیح بخاری: 109)

مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ
میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے کہ میرے متعلق کوئی جھوٹی بات کہنا عام لوگوں سے متعلق جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے جو شخص بھی جان بوجھ کر میرے اوپر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
(صحیح بخاری: 1291) 
مناظر دیوبند مولانا طاہر حسین گیاوی حنفی دیوبندی " انگشت بوسی سے بائیبل بوسی تک" میں 12-13 پر لکھتے ہیں: 
جس طرح حضور اکرم ﷺ کے فرمان کا انکار کرنا محرومی اور تباہی کا باعث ہے، اسی طرح کسی دوسرے کی بات کو حضور ﷺ کا فرمان بتانا بھی عظیم ترین گناہ اور کفر کا سبب ہے۔ 

(انگشت بوسی سے بائیبل بوسی تک: از مناظر دیوبند مولانا طاہر حسین گیاوی صفحہ نمبر: 12)

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه! آمين!

Friday, September 15, 2023

جوتے چپل پہن کر نماز جنازہ پڑھنا! ‏

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محمد اقبال قاسمي سلفي

موضوع: جوتے چپل پہن کر نماز جنازہ پڑھنا! 

مصادر: مختلف مراجع و مصادر 

کیا نماز جنازہ جوتے چپل پہن کر پڑھی جا سکتی ہے ؟ کیونکہ دیوبندی اور رضاخانی عوام کی اکثریت اس سلسلے میں تقلیدی کنفیوزن کے شکار ہیں۔ بعض لوگ جوتے چپل پہن کر نماز پڑھتے ہیں، بعض لوگ جوتے اتار کر نماز جنازہ پڑھتے ہیں تو بعض ان جوتے چپلوں کو پاؤں سے نکال کر ان چپلوں پر کھڑے ہوکر نماز پڑھتے ہیں۔ نیز یہ ایک دوسرے کو غلط بھی سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ 
جبکہ جوتے چپل پہن کر نماز ادا کرنا بلا کراہت جائز ہے۔ 

دلائل درج ذیل ہیں: 

 عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَدِّهِ کی روایت ہے، وہ فرماتے ہیں
رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي حَافِيًا وَمُنْتَعِلًا . 

میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ جوتے اتار کر بھی نماز پڑھتے تھے اور پہن کر بھی ۔ 

(سنن ابوداؤد: حدیث نمبر: 653) 

حضرت ابو ہریرەؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا : 

إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ فَلَا يُؤْذِ بِهِمَا أَحَدًا، ‏‏‏‏‏‏لِيَجْعَلْهُمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ لِيُصَلِّ فِيهِمَا . 

 جب کوئی نماز پڑھنے لگے اور اپنے جوتے اتارے تو ان سے کسی دوسرے کو ایذا نہ دے ۔ ( یعنی اس کے آگے یا دائیں طرف نہ رکھے یا کسی اور طرح سے بھی اذیت کا باعث نہ بنے ۔ ) چاہیے کہ انہیں اپنے قدموں کے درمیان میں رکھے یا پہنے ہوئے ہی نماز پڑھ لے ۔‘‘  
(سنن ابوداؤد: حدیث نمبر: 655) 

سعید بن یزید ازدی روایت کرتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی کریم ﷺ اپنی جوتیاں پہن کر نماز پڑھتے تھے ؟ تو انہوں نے فرمایا ، کہ ہاں !
(صحیح بخاری: حدیث نمبر : 386)

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا : 
‏‏‏‏‏‏خَالِفُوا الْيَهُودَ فَإِنَّهُمْ لَا يُصَلُّونَ فِي نِعَالِهِمْ وَلَا خِفَافِهِمْ . 

   یہود کی مخالفت کرو ۔ یہ لوگ اپنے جوتوں یا موزوں میں نماز نہیں پڑھتے ہیں ۔‘‘  

(سنن ابو داؤد: حدیث نمبر : 652) 

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کو نماز پڑھا رہے تھے کہ آپ نے ( دوران نماز میں ) اپنے جوتے اتار کر اپنی بائیں جانب رکھ لیے ۔ جب صحابہ کرام‬ رضی اللہ عنہم نے آپ کو دیکھا تو انہوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیے ۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا :’’ تم لوگوں نے اپنے جوتے کیوں اتارے ؟‘‘ انہوں نے کہا کہ ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اپنے جوتے اتارے ہیں تو ہم نے بھی اتار دیے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور بتایا کہ آپ کے جوتے میں گندگی لگی ہے ۔‘‘ ( لفظ ( قذر ) تھا یا ( أذى ) ) آپ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو اپنے جوتوں کو بغور دیکھ لیا کرے ۔ اگر ان میں کوئی گندگی یا نجاست نظر آئے تو اسے پونچھ ڈالے اور پھر ان میں نماز پڑھ لے ۔‘‘  

(سنن ابوداؤد: حدیث نمبر: 650) 

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جوتوں میں نماز احادیث کی روشنی میں ایک درست عمل ہے، اس کا ثواب کی کمی بیشی سے کوئی تعلق نہیں، سفر ہو یا حضر، فرض نمازیں ہوں یا نماز جنازہ، مقتدی ہو یا امام ، تنہا ہو یا با جماعت ۔جوتے پہن کر یا اتار کر، نماز پڑھنا دونوں طرح جائز ہے، اگر جوتے پہنے ہوں تو ان کا پاک ہونا شرط ہے اور انہیں پاک کرنے کے لیے خشک زمیں پر رگڑ لینا ہی کافی ہے۔ 
نجاست آلود جوتے یا کپڑے میں نماز جائز نہیں۔ اثنائے نماز میں اسے دور کرنا ممکن ہو تو اسے دور کر دے، ورنہ نماز چھوڑ دے اور نجاست دور کرے۔ 
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نمازی کو اگر نماز کے آغاز کے وقت اس کا علم نہ ہو سکا ہو کہ اس کے بدن یا جوتے وغیرہ پر نجاست لگی ہوئی ہے اور دوران نماز میں کسی طرح علم ہو جائے تو وہ اس ناپاک چیز کو اسی حالت میں اتار کر نماز کو پورا کر لے تو نماز بالکل صحیح ہو گی۔

دارالعلوم دیوبند سے اس بابت جب دریافت کیا گیا کہ :
نماز خنازہ میں بعض لوگ چپل پہنکر اور بعض لوگ چپل پاوں سے نکال کر ان چپلوں پر کھڑے ہوتے ہیں حالاں کہ ان چپلوں کا استعمال بہت الخلاء کے لیے بھی کرتے ہیں تو کیا اس طرح نماز پڑھنا درست ہے یا چپل بالکل اتار کر علیحدہ رکھنے ضروری ہیں؟ نوٹ:بعض لوگ اپنی بات کو درست کرنے کے لیے یہ بھی کہتے ہیں کہ جب تک چپل پاوں میں ہے تو چپل اور پاوں میں اتصال قوی ہے اور اگر پاوں نکال کر چپل پر رکھ لیں تو اتصال ضعیف ہے ، اب اگر نجاست چپل میں ہو تو بھی مضر نہیں ہوگی۔یہ بات کہاں تک درست ہے ؟ آپ تینوں صورتوں: ۱۔چپل پاوں میں ہوں،۲۔پاوں چپل کے اوپر ہوں،۳پاوں اور چپل بالکل علیحدہ ہوں ، کی وضاحت فرمائیں۔

جواب: 
 جوتا، چپل پہن کر نماز جنازہ پڑھنے کی صورت میں پورا جوتا یاچپل اور جوتا، چپل کی جگہ دونوں کا پاک ہونا ضروری ہے، اگر جوتے ، چپل کا کوئی بھی حصہ یا جوتا، چپل کی جگہ ناپاک ہوئی اور اس کی ناپاکی بہ قدر مانع ہے تو نماز نہ ہوگی(فتاوی دار العلوم دیوبند، ۵: ۳۱۸، جواب سوال: ۲۸۸۴، مطبوعہ: مکتبہ دار العلوم دیوبند، احکام میت جدید تخریج شدہ،ص: ۱۰۹ ) ؛ لیکن جو جوتا، چپل استنجا خانہ لے جائے جاتے ہیں، ان کا ناپاک ہونا ضروری نہیں ہے؛ کیوں کہ عام طور پر لوگ احتیاط کے ساتھ ہی آب دست لیتے ہیں اور ناپاک چھینٹیں جوتا، چپل پر نہیں پڑتیں،اور اگر جوتا یا چپل کاتلا ناپاک ہوگیا ہو تو پاک زمین پر بار بار چلنے اور رگڑ لگنے سے وہ پاک ہوجاتا ہے؛ البتہ احتیاط اس میں ہے کہ ایسا جوتا، چپل پہن کر نماز جنازہ نہ پڑھی جائے۔
جب آدمی جوتا، چپل پہن کر نماز پڑھے گا تو جسم کے کپڑوں کی طرح جوتا، چپل انسان کے تابع ہوں گے ؛ اس لیے جگہ کی طرح ان کا بھی پاک ہونا ضروری ہوگا۔ اور جوتا، چپل پر کھڑے ہوکر نماز پڑھی جائے تو اس صورت میں جوتا، چپل تابع نہ ہوں گے ۔
 اگر کوئی شخص جوتا، چپل اتارکر ان پر کھڑے ہوکر نماز پڑھے تو صرف جوتا، چپل کے اس حصہ کا پاک ہونا کافی ہے جس پر آدمی کا پیر ہو، جگہ کا یا جوتا، چپل کے تلے اور اطراف کا پاک ہونا ضروری نہیں۔ اور اگر جوتا، چپل اتار کر زمین پر کھڑے ہوکر نماز پڑھی جائے تو صرف زمین کا پاک ہونا کافی ہے۔
دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتوی نمبر : 158894

علامہ بن باز رحمہ اللہ اس سے متعلق اپنے فتوے میں رقمطراز ہیں: 
أما إذا كانت المساجد بدون فرش فإنه إذا صلى في نعليه فهو أفضل إذا كانت نظيفة وسليمة من الأذى عملًا بالسنة۔ 
جب مسجدیں بنا فرش والی ہوں، تو اگر کوئی اپنے جوتوں میں نماز پڑھے تو سنت پر عمل کی وجہ سے یہ افضل ہے بشرطیکہ وہ جوتے صاف ستھرے ہوں۔ 

(مجموع فتاوى ومقالات الشيخ ابن باز 29/228)

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه آمين!

Tuesday, September 12, 2023

موضوع: نماز جنازہ کی صفوں کے درمیان عام نمازوں کی طرح فاصلے رکھنا! ‏

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محمد اقبال قاسمي سلفي

موضوع: نماز جنازہ کی صفوں کے درمیان عام نمازوں کی طرح فاصلے رکھنا! 

مصادر: مختلف مراجع و مصادر

صوفی سنتوں کے من گھڑت قصے کہانیوں پر چلنے والے دیوبندی اور رضاخانی عوام علماء اور مفتیان فرض نمازوں میں صفوں کی درستگی کا اہتمام تو کبھی کرتے نہیں، لیکن نماز جنازہ میں منظر اس کے برعکس دیکھنے کو ملتا ہے۔ نماز جنازہ ایسی نماز ہے جس میں نہ رکوع ہے نہ سجدہ ہے۔ تاہم لوگ جگہ کی تنگی کے باوجود دو صفوں کے بیچ اتنے فاصلوں کے ساتھ صف بندی کرتے ہیں جتنے میں بآسانی رکوع اور سجدہ کیا جا سکے۔ حد تو یہ ہے کہ یہ جاہلانہ تکلفات بڑے بڑے امام مفتیوں کی امامت و نگرانی میں کئے جاتے ہیں۔ 

جبکہ نماز جنازہ میں ایسے تکلفات کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔اور نہ کتاب و سنت میں اس کی کوئی اصل ہے۔ اپنے ہی گھر کے فتوؤں سے تقلیدی مفتیوں کی لا علمی کے نتیجے میں آج لوگ سڑکوں پر نماز جنازہ کی صف بندی کرتے اور سڑکوں کو بلا وجہ جام کرتے نظر آتے ہیں۔ 

دارالعلوم دیوبند سے اس بابت جب سوال کیا گیا کہ نماز جنازہ میں دو صفوں کے بیچ کی دوری کتنی ہونی چاہئے؟

تو دارالعلوم دیوبند نے جواب دیتے ہوئے لکھا: 

نماز جنازہ میں چوں کہ رکوع، سجدہ نہیں ہے؛ اس لیے ہر دو صف کے درمیان صرف اتنا فصل کافی ہے کہ ایک صف والوں کا جسم دوسرے صف والوں کے جسم سے ٹچ نہ ہو، مثلا ڈیڑھ، دو بالشت کا فصل ہو، لوگوں میں جو مشہور ہے کہ عام نمازوں کی طرح نماز جنازہ میں بھی رکوع سجدے کے بہ قدر فصل ہونا چاہیے تو شریعت میں اس کی کچھ اصل نہیں ہے اور نہ ہی اس کی کچھ ضرورت ہے ( فتاوی دار العلوم دیوبند، ۵: ۲۸۹، جواب سوال: ۲۸۱۷، مطبوعہ:مکتبہ دار العلوم دیوبند، 
فتاوی محمودیہ، ۸: ۵۹۸، ۵۹۹، جواب سوال: ۴۰۸۳، ۴۰۸۴، مطبوعہ: ادارہ صدیق ڈابھیل)۔

مستفاد:و رکنھا شیئان: التکبیرات الأربع… والقیام (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، ۳:۱۰۵، ۱۰۶، ط: مکتبة زکریا دیوبند )

دارالافتاء 
دارالعلوم دیوبند
فتوی نمبر : 158805

رضاخانی اور دعوت اسلامی مفتیوں نے بھی یہی جواب دیا۔ چنانچہ جب ان سے سوال کیا گیاکہ کیانمازِجنازہ کی صفوں کے درمیان اتنا فاصلہ ضروری ہے کہ جتنا نمازپنجگانہ والی صفوں کے درمیان فاصلہ ہوتا ہے ، ہمارے ہاں جنازے کی صفوں میں صرف اتنا فاصلہ ہوتا ہے کہ آدمی کھڑا ہو سکتا ہے ، رہنمائی فرما دیں ۔

جواب: 
 نمازِ جنازہ کی صفوں کے درمیان اتنافاصلہ رکھنا جتنا رکوع و سجود والی نماز میں فاصلہ کیا جاتا ہے ، ایسا ضروری نہیں ، کیونکہ رکوع و سجود والی نماز میں تو اس لیے مخصوص فاصلہ کیا جاتا ہے تا کہ نمازی آسانی سے رکوع اور سجدہ کر سکے اور جنازے میں رکوع وسجودنہیں ہوتے ، لہٰذا اگر اتنا فاصلہ نہیں کیا گیا اور قریب قریب صفیں بنا کر نمازِ جنازہ ادا کر لیا گیا ،تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ 

دارالافتاء اہلسنت 
فتویٰ نمبر: WAT-933

دیوبندیوں کے نزدیک معتبر فتوے کی کتاب فتاویٰ محمودیہ میں ہے: 

صلوۃ مطلقہ میں رکوع سجدے ہوتا ہے، دو صفوں کے بیچ اتنی جگہ خالی چھوڑی جاتی ہے کہ رکوع سجدہ سنت کے موافق ادا ہو سکے ، نماز جنازہ میں اس کی ضرورت نہیں، قریب قریب صفیں ہوں تب بھی درست ہے۔ 
(فتاوی محمودیہ، ۸: ۵۹۸، ۵۹۹، جواب سوال: ۴۰۸۳، ۴۰۸۴، مطبوعہ: ادارہ صدیق ڈابھیل)۔


واضح ہو کہ دو صفوں کے بیچ کے فاصلے کی کوئی حد شریعت نے مقرر نہیں کی ہے، لیکن فرض نمازوں میں دو صفوں کے بیچ اس قدر فاصلہ رکھنا ضروری ہے جس سے رکوع سجدہ ممکن ہو۔ سکے۔ نماز جنازہ میں چونکہ رکوع سجدے نہیں ہے، اس لیے نہ تو اس تکلف کی ضرورت ہے اور نہ ہی کتاب و سنت میں اس کی کوئی دلیل موجود ہے۔ اسی طرح نماز جنازہ میں چونکہ رکوع سجدے نہیں ہیں، اس لیے بقیہ نمازوں کی طرح نماز جنازہ میں امام اور مقتدی کے درمیان بھی اتنا فصل کافی ہے جتنا کہ بآسانی کھڑے ہو سکیں، خصوصاً اس وقت جبکہ لوگوں کا ازدحام بھی زیادہ ہو۔ حد تو یہ ہےکہ عام نمازوں کی طرح نماز جنازہ میں بھی امام کے لیے مصلی بچھانے کا شدت سے اہتمام کیا جاتا ہے جس تکلف کی شرعاً کوئی اصل نہیں ہے اور نہ ہی اس کی کچھ ضرورت ہے۔ انتہا تو یہ ہے کہ بسا اوقات حنفیوں کی جاہل عوام جو صرف نماز جنازہ میں ہی شرکت کیا کرتے ہیں، اس غیر ضروری مصلے کو جھگڑے اور نزاع کا باعث بنا کر مصلی آنے تک نماز جنازہ کو مؤخر کرواتے ہیں اور اماموں اور مفتیوں کے لب تک نہیں ہلتے۔

 اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه! ٱمين!

Sunday, September 10, 2023

موضوع: دعا کے اخیر میں کلمہ طیبہ پڑھنا! ‏

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محمد اقبال قاسمي سلفي

مصادر: مختلف مراجع و مصادر 

موضوع: دعا کے اخیر میں کلمہ طیبہ پڑھنا! 

حنفی مساجد میں اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ لوگ اپنی دعاؤں کا اختتام کلمہ طیبہ سے کرتے ہیں۔
لیکن اختتام دعا کا یہ طریقہ کتاب و سنت میں کہیں مذکور نہیں ہے۔ صحیح تو کیا، کوئی ضعیف، موضوع اور من گھڑت روایت بھی ایسی کوئی موجود نہیں ہے جس سے اس عمل کا کوئی ثبوت ملتا ہو۔ 

یہ عمل نہ رسول ﷺ سے۔۔۔۔ثابت ہے۔ 
نہ خلفاء راشدین سے ۔۔۔ 
نہ اتباع تابعین سے۔۔۔ 
نہ ائمہ اربعہ رحمھم اللہ سے 
نہ محدثین کرام سے۔۔۔ 
نہ فقہاء عظام سے۔۔۔۔۔۔ 

کتب حدیث کے علاوہ کسی مستند کتب فقہ میں بھی یہ عمل مذکور نہیں ہے۔ 

دارالعلوم دیوبند سے جب اس بابت دریافت کیا گیا کہ: 

دعا کے آخر میں کلمہ شریف پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب:

 دعا کے اخیر میں کلمہ شریف لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا پڑھنا منقول نہیں بلکہ آداب ومستحبات دعا میں بھی شمار نہیں پس اس کا التزام خلافِ ست ہے کبھی کبھار کی کسی نے سرًا پڑھ لیا تو مضائقہ نہیں۔

دارالافتاء 
دارالعلوم دیوبند
فتویٰ نمبر: 61744

اس سے متعلق ایک دوسرے فتوے میں دارالعلوم دیوبند نے لکھا ہے: 

" کلمہ طیبہ ( لا الہ الا اللہ) کے ذریعہ دعا ختم کرنا ثابت نہیں، لہٰذا اس کا معمول نہ بنایا جائے، اختتام پر درود شریف اور آمین پڑھنا چاہئے۔"

دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتویٰ نمبر: 602058

نبی کریم ﷺ نے دعا کے مسنون طریقے کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا:  

 فضالہ بن عبید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگوں کے ساتھ ( مسجد میں ) تشریف فرما تھے، اس وقت ایک شخص مسجد میں آیا، اس نے نماز پڑھی، اور یہ دعا کی: اے اللہ! میری مغفرت کر دے اور مجھ پر رحم فرما، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے نمازی! تو نے جلدی کی، جب تو نماز پڑھ کر بیٹھے تو اللہ کے شایان شان اس کی حمد بیان کر اور پھر مجھ پر صلاۃ ( درود ) بھیج، پھر اللہ سے دعا کر“، کہتے ہیں: اس کے بعد پھر ایک اور شخص نے نماز پڑھی، اس نے اللہ کی حمد بیان کی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے نمازی! دعا کر، تیری دعا قبول کی جائے گی“۔ 
(سنن ترمذی: 3476) 

حضرت ابو ہریرەؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
 ادْعُوا اللَّهَ وَأَنْتُمْ مُوقِنُونَ بِالْإِجَابَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَجِيبُ دُعَاءً مِنْ قَلْبٍ غَافِلٍ لَاهٍ۔ 
”تم اللہ سے دعا مانگو اور اس یقین کے ساتھ مانگو کہ تمہاری دعا ضرور قبول ہو گی، اور ( اچھی طرح ) جان لو کہ اللہ تعالیٰ بےپرواہی اور بے توجہی سے مانگی ہوئی غفلت اور لہو و لعب میں مبتلا دل کی دعا قبول نہیں کرتا“۔
(سنن ترمذی : 3479)

 دعا کرنے والا شخص توحید ربوبیت، توحید الوہیت، اور توحید اسماء و صفات میں وحدانیت الہی کا قائل ہو، اس کا دل عقیدہ توحید سے سرشار ہونا چاہیے؛ کیونکہ دعا کی قبولیت کیلئے شرط ہے کہ انسان اپنے رب کا مکمل فرمانبردار ہو اور نافرمانی سے دور ہو،۔ 

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ۔ 

ترجمہ: اور جس وقت میرے بندے آپ سے میرے متعلق سوال کریں تو میں قریب ہوں، ہر دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب بھی وہ دعا کرے، پس وہ میرے احکامات کی تعمیل کریں، اور مجھ پر اعتماد رکھیں، تا کہ وہ رہنمائی پائیں. (البقرة : 186) 

دعا میں قافیہ بندی سے اجتناب کریں۔ 
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں کہ لوگوں کو وعظ ہفتہ میں صرف ایک دن جمعہ کو کیا کر ، اگر تم اس پر تیار نہ ہو تو دو مرتبہ اگر تم زیادہ ہی کرنا چاہتے ہو تو بس تین دن اور لوگوں کو اس قرآن سے اکتا نہ دینا ، ایسا نہ ہو کہ تم کچھ لوگوں کے پاس پہنچو ، وہ اپنی باتوں میں مصروف ہوں اور تم پہنچتے ہی ان سے اپنی بات ( بشکل وعظ ) بیان کرنے لگو اور ان کی آپس کی گفتگو کو کاٹ دو کہ اس طرح وہ اکتا جائیں ، بلکہ ( ایسے مقام پر ) تمہیں خاموش رہنا چاہئے ۔ جب وہ تم سے کہیں تو پھر تم انہیں اپنی باتیں سناؤ ۔ اس طرح کہ وہ بھی اس تقریر کے خواہشمند ہوں اور دعا میں قافیہ بندی سے پرہیز کرتے رہنا ، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کو دیکھا ہے کہ وہ ہمیشہ ایسا ہی کرتے تھے ۔
(صحیح بخاری: 6337) 

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه! آمین!

Saturday, September 9, 2023

موضوع: ہرنی اور نبی ﷺ کا واقعہ

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محمد اقبال قاسمي سلفي

مصادر: مختلف مراجع و مصادر

موضوع: ہرنی اور نبی ﷺ کا واقعہ

صوفی سنتوں کے موضوع اور من گھرت قصے کہانیوں کو اوڑھنا بچھونا بنانے والے رضاخانی مولویوں اور مفتیوں کو منبروں اور اسٹیجوں سے نبی کریم پر جھوٹے واقعات کا بہتان لگاتے اکثر سنا جاتا ہے۔ ان ہی میں سے ہرنی کا واقعہ بھی ہے کہ ایک جنگل میں کسی یہودی نے ہرنی کو شکار کیا اس طرف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر ہوا۔ ہرنی نے آپ کو دیکھ کر درخواست کی کہ میرے بچے بھوکے ہیں۔ آپ اس یہودی سے درخواست کریں کہ مجھے چھوڑدے میں بچو ں کو دودھ پلاکر واپس آجاوں گی۔ یہودی کو اعتماد نہ ہوا تو آپ خود وہاں بیٹھ گئے ۔ہرنی گئی بچوں کو علم ہوا تو وہ بھی دودھ پلائے بغیر ماں کے ساتھ آگئے اس واقعہ کو دیکھ یہودی مسلمان ہوگیا۔

روایت کے الفاظ درج ذیل ہے: 
 رواه الحافظ أبو نعيم الأصبهاني من حديث عمرو بن علي الفلاس ثنا يعلى بن إبراهيم الغزال ثنا الهيثم بن جماز عن أبي كثير عن زيد بن أرقم قال : كنت مع النبي صلى الله عليه وسلم في بعض سكك المدينة ، فَمَرَرْنا بِخِباء أعرابي فإذا ظبية مَشدودة إلى الخباء ، فقالت : يا رسول الله ، إن هذا الأعرابي صادني ولي خشفان في البرية ، وقد تَعَقّد هذا اللبن في اخلافي ، فلا هو يذبحني فاستريح ، ولا يدعني فأرجع الى خِشفيّ في البرية ، فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم : إن تركتك ترجعين ؟ قالت : نعم ، وإلاّ عَذّبني الله عَذَاب العَشّار ، فأطلقها رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فلم تلبث أن جاءت تَلَمّظ فَشَدّها رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى الخباء ، وأقبل الأعرابي ومعه قِربه ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : أتبيعها مني ؟ فقال : هي لك يا رسول الله . قال : فأطلقها رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال زيد بن أرقم : وأنا والله رأيتها تسيح في البر ، وهي تقول : لا إله إلا الله محمد رسول الله !

(زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ مدینے کے اطراف میں تھا، تو ہمارا گزر ایک دیہاتی کے خیمے کے پاس سے ہوا تو وہاں ہم نے ایک بندھی ہوئی ہرن کو دیکھا۔ ہرن نے فریاد کرنی شروع کر دی : اے اللہ کے رسول اس دیہاتی نے مجھے شکار کر لیا ہے اور میرے دو چھوٹے چھوٹے بچے ہیں اور حال یہ ہے کہ میرا تھن دودھ سے بھرا ہوا ہے۔ یہ مجھے ذبح بھی نہیں کر رہا ہے کہ میں آرام پاجاؤں اور مجھے چھوڑتا بھی نہیں کہ میں جنگل میں اپنے بچوں کے پاس لوٹ جاؤں۔ تو رسول ﷺ نے فرمایا: کیا اگر میں تجھے چھوڑ دوں تو تم واپس چلی آؤ گی ؟ تو اس ہرنی نے کہا: ہاں، ورنہ اللہ مجھے سخت عذاب دے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے چھوڑ دیا۔ ابھی تھوڑی ہی دیر گزرنے پایا تھا کہ وہ ہرنی ہانپتے ہوے آپہنچی، آپ نے اسے خیمے سے باندھ دیا، رسول ﷺ نے اس دیہاتی سے پوچھا: کیا تم اسے مجھ سے فروخت کروگے؟ تو اس نے کہا یہ تو آپ ہی کا ہے اللہ کے رسول! راوی کہتے ہیں: تو رسول ﷺ نے اسے آزاد کردیا۔ زید بن ارقم کہتے ہیں: اللہ کی قسم میں نے اس ہرنی کو دیکھا کہ وہ جنگل کی طرف جب نکلی تو یہ کہہ رہی تھی، لاالہ الا الله محمد رسول اللہ! 

یہ قصہ مختلف کتب (جیسے دلائل النبوة للبيهقي (6/34-35) الدلائل لأبی نعيم الأصبھانی (273 ) میں مختلف الفاظ کے ساتھ موجود ہے۔
لیکن اس روایت کی سند سخت ضعیف اور متن منکر ہے۔ اس کی سند میں يَعْلى بن إبراهيم اور ان کے شیخ الهيثم بن جماز حنفی نامی دونوں راوی مجہول ہیں۔ 
یحییٰ بن معین اس راوی کے بارے میں فرماتے ہیں: ليس بشىء
امام احمد بن حنبل اور امام نسائی فرماتے ہیں: متروک الحدیث۔ 

حافظ ابن حجر فرماتے ہیں:(وأما تسليم الغزالة فلم نجد له إسناداً لا من وجه قوي ولا من وجه ضعيف والله أعلم) (فتح الباري 7/404) 
ہرنی والے واقعے کی ہمیں کوئی سند نہیں ملی، نہ قوی نہ ضعیف۔ 

مزید برآں حافظ ابن حجر لسان الميزان میں ہیثم بن جماز حنفی کے بارے میں فرماتے ہیں:
 قال ابن عدي وأحاديثه افراد غراب وفيها ما ليس بالمحفوظ وقال أبو زرعة وأبو حاتم ضعيف زاد أبو حاتم منكر الحديث قال البزار لا يحتج بما انفرد به وقال الجوزجاني كان قاضيا ضعيفا روى عن ثابت معاضيل وقال الساجي متروك جدا ذكره البرقي في الكذابين
(لسان المیزان : 6/205) 

(ابن عدی فرماتے ہیں: اس کی حدیثیں منفرد اور غریب ہوا کرتی ہیں اور اس کی رویتوں میں وہ باتیں ہوتی ہیں جو کسی محفوظ روایت میں نہیں پائی جاتی۔ 
ابوزرعہ اور حاتم کہتے ہیں: یہ ضعیف ہے۔ 
ابو حاتم اسے منکر الحدیث قرار دیتے ہیں۔ 
بزار کہتے ہیں:جس روایت میں یہ منفرد ہوجاۓ، اس سے دلیل نہیں پکڑی جا سکتی ہے۔ 
جوزجانی کہتے ہیں: یہ قاضی تھا لیکن ضعیف الروایہ، یہ ثابت سے معضل روایتیں بیان کرتا ہے۔ 
ساجی کہتے ہیں: یہ بہت ہی متروک ہے۔ 
علامہ برقی نے اسے جھوٹوں میں شمار کیا ہے۔) 

علامہ سخاوی فرماتے ہیں: 
حديث تسليم الغزالة الذي اشتهر على الألسنة وفي المدائح النبوية وليس له أصل كما قال ابن كثير ومن نسبه إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقد كذب. (المقاصد الحسنة ص 156) 

ہرنی کے بات کرنے کا واقعہ مدائح نبویہ میں بہت زیادہ بیان کیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت میں جیسا کہ امام ابن کثیر نے بیان کیا ہے، اس کی کوئی اصل نہیں ہے، جو اس کو نبی کریمﷺ کی طرف منسوب کرتا ہے ، وہ آپ پر جھوٹ باندھتا ہے۔


حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں:

ليس له أصل ومن نسبه إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقد كذب] المصنوع في (معرفة الحديث الموضوع ص 80) 

اس روایت کی کوئی اصل نہیں ہے۔ اور جو اسے نبی ﷺ کی طرف منسوب کرے تو اس نے نبی کریم ﷺ پر جھوٹ باندھا۔

علامہ ذہبی میزان الاعتدال میں یعلی بن ابراہیم کے ترجمہ میں لکھتے ہیں: 
له خبر باطل عن شيخ واه, يعني الهيثم بن جماز.
(اس کی یہ روایت باطل ہے جو اس نے ایک غیر معتبر یعنی ہیثم بن جماز سے روایت کیا یے۔ 
اس کے بعد علامہ ذہبی نے پوری روایت لاکر اس پر موضوع ہونے کا حکم لگایا ہے۔ (ميزان الاعتدال ٤/ ٤٥٦) 


مذکورہ بالا تفصیل سے یہ بخوبی معلوم ہوا کہ تسلیم الغزالہ کا یہ واقعہ موضوع ہے۔ جمہور محدثین نے اسے موضوع اور باطل قرار دیا ہے۔ ایسی روایتوں کو جان بوجھ کر نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کرنا نبی کریم ﷺ پر جھوٹ باندھنا ہے جو کہ ناجائز اور حرام اور جس کا ٹھکانا جہنم ہے۔

لہذا ایسی موضوع روایتوں سے اجتناب کرتے ہوئے دیوبندی اور رضاخانی خطیبوں اور مفتیوں کو چاہیے کہ امت کے سامنے سیرت نبویﷺ کے ان ہی واقعات و معجزات کو پیش کریں جو صحیح احادیث سے ثابت شدہ ہوں۔ 

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه! آمین!

Tuesday, September 5, 2023

موضوع: ابو جہل کے ہاتھ میں کنکریوں کے کلمہ پڑھنے والی روایت کی حقیقت! ‏

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محمد اقبال قاسمي سلفي

موضوع: ابو جہل کے ہاتھ میں کنکریوں کے کلمہ پڑھنے والی روایت کی تحقيق! 

مصادر: مختلف مراجع و مصادر 

صوفی سنتوں کے من گھڑت قصے کہانیوں پر عمل کرنے والے دیوبندی اور رضاخانی مقررین اور مفتیوں کو اکثر یہ موضوع روایت بیان کرتے ہوئے سنا جاتا ہے کہ ایک بار ابو جہل رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میرے ہاتھ میں کیا ہے؟ آپ اگر یہ بتادیں گے تو میں ایمان لے آؤں گا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تیرے ہاتھ کی چیز خود بتادے گی کہ میں کون ہوں؟ اس کے بعد نبی ﷺ نے فرمایا کہ اپنے ہاتھ کو اپنے قریب لے جاؤ، وہ جب اپنے کانوں کے قریب لے گیا تو ہاتھ کی کنکریوں سے آواز آ رہی تھی۔ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔ پھر بھی اسے ہدایت نہ ملی ۔ اس نے ہاتھ کی کنکریوں کو پھنک دیا اور کہنے لگا کہ محمد کا جادو کنکریوں پر بھی چل گیا۔

لیکن ابو جہل کی مٹھی میں کنکریوں کے کلمہ پڑھنے کا یہ واقعہ کہیں بھی مذکور نہیں ہے۔ صحیح تو کیا کوئی ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی روایت کتب حدیث میں موجود نہیں ہے۔ بے سند اور بے اصل روایت کو نبی ﷺ کی طرف نسبت کرنا اور ایسی روایتوں کو بیان کرنا حرام ہے۔ 
علامہ سخاوی لکھتے ہیں: اس لئے کہ نبی کریم ﷺ کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنا ایسا نہیں ہے جیسا کہ مخلوق میں سے کسی دوسرے انسان کی طرف منسوب کردینا۔ کیونکہ ارباب علم و بصیرت نے یہ اتفاق کیا ہے کہ یہ کام گناہ کبیرہ میں سے سب سے بڑا گناہ ہے۔اور متعدد علماء دین اور ائمہ نے ایسے شخص کی توبہ قبول نہ ہونے کی صراحت فرمائی ہے۔ بلکہ شیخ ابو محمد جوینی نے تو ایسے شخص کو کافر کہاہے اور اس کے فتنے اور نقصانات سے ڈرایا ہے۔ 
(المقاصد الحسنه صفحہ نمبر: 4) 

مناظر دیوبند مولانا طاہر حسین گیاوی حنفی دیوبندی " انگشت بوسی سے بائیبل بوسی تک" میں 12-13 پر لکھتے ہیں: 
جس طرح حضور اکرم ﷺ کے فرمان کا انکار کرنا محرومی اور تباہی کا باعث ہے، اسی طرح کسی دوسرے کی بات کو حضور ﷺ کا فرمان بتانا بھی عظیم ترین گناہ اور کفر کا سبب ہے۔ 
(انگشت بوسی سے بائیبل بوسی تک: از مناظر دیوبند مولانا طاہر حسین گیاوی صفحہ نمبر: 12)
 موضوع روایتوں کے بجائے ان معجزات کو بیان کرنے پر اکتفا کرنی چاہیے جو صحیح احادیث میں مذکور ہیں: 

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ( ایک مہم کے لیے ) روانہ ہوئے ، حتیٰ کہ ہم کشادہ وادی میں جا اترے ، رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کے لیے گئے ، میں ( چمڑے کا بنا ہوا ) پانی کا ایک برتن لے کر آپ کے پیچھے گیا ۔ رسول اللہ ﷺ نے نظر دوڑائی تو کوئی ایسی چیز نظر نہ آئی جس کی آپ اوٹ لے سکتے ۔ وادی کے کنارے پر دو درخت نظر آئے ، آپ ان میں سے ایک درخت کے پاس تشریف لے گئے ، اس کی ٹہنیوں میں سے ایک کو پکڑا اور فرمایا :’’ اللہ کے حکم سے میرے مطیع ہو جاؤ ۔‘‘ تو وہ نکیل ڈالے ہوئے اونٹ کی طرح آپ کا فرمانبردار بن گیا ، پھر دوسرے درخت کے پاس آئے اور اس کی ٹہنیوں میں سے ایک کو پکڑا اور کہا :’’ اللہ کے حکم سے میرے مطیع ہو جاؤ ۔‘‘ تو وہ بھی اسی طرح آپ کے ساتھ چل پڑا ، یہاں تک کہ ( اسے چلاتے ہوئے ) دونوں کے درمیان کے آدھے فاصلے پر پہنچے تو آپ نے ان دونوں کو جھکا کر آپس میں ملا ( کر اکٹھا کر ) دیا ، آپ نے فرمایا :’’ دونوں اللہ کے حکم سے میرے آگے مل جاؤ ۔‘‘ تو وہ دونوں ساتھ مل گئے ( اور آپ ﷺ کو پردہ مہیا کر دیا ۔ ) 
 حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں ڈر سے بھاگتا ہوا وہاں سے نکلا کہ میرے قریب ہونے کو محسوس کر کے رسول اللہ ﷺ وہاں سے ( مزید ) دور ( جانے پر مجبور ) نہ ہو جائیں ، اور محمد بن عباد نے ( اپنی روایت میں ) کہا : آپ کو دور جانے کی زحمت کرنی پڑے ، میں ( ایک جگہ ) بیٹھ گیا اور اپنے آپ سے باتیں کرنے لگا ۔ اچانک میری نگاہ پڑی تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لا رہے ہیں اور دیکھا کہ دونوں درخت الگ الگ ہو چکے ہیں ، ہر ایک درخت تنے پر سیدھا کھڑا ہو گیا ہے ، پھر میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ ایک بار رکے اور اپنے سر مبارک سے اس طرح اشارہ کیا ۔ ابواسماعیل ( حاتم بن اسماعیل ) نے اپنے سر سے دائیں بائیں اشارہ کیا ۔ پھر آپ آگے تشریف لائے ، جب میرے پاس پہنچے تو فرمایا :’’ جابر ! کیا تم نے میرے کھڑے ہونے کی جگہ دیکھی تھی ؟‘‘ میں نے عرض کی : جی ہاں ۔ آپ نے فرمایا :’’ دونوں درختوں کی طرف جاؤ اور دونوں میں سے ہر ایک سے ایک ( ایک ) شاخ کاٹ کر لاؤ ، یہاں تک کہ آ کر جب میری جگہ پر کھڑے ہو جاؤ تو ایک شاخ اپنی دائیں طرف ڈال دینا اور ایک شاخ اپنی بائیں طرف ۔‘‘ 
 حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں اٹھا ، ایک پتھر اٹھایا ، اسے توڑا اور اسے گھسایا ، جب وہ میرے ( کام کے ) لئے تیز ہو گیا تو ان دونوں درختوں کی طرف آیا ، ہر ایک سے ایک ( ایک ) شاخ کاٹی ، پھر ان کو گھسیٹتا ہوا آیا ، یہاں تک کہ آ کر اس جگہ کھڑا ہوا جہاں پہلے رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے تھے تو ایک شاخ اپنی دائیں طرف ڈال دی اور ایک اپنی بائیں طرف ، پھر میں آپ کے ساتھ جا ملا اور عرض کی : اللہ کے رسول ! ( جو آپ نے فرمایا تھا ) میں نے کر دیا ہے ، وہ کس لیے تھا ؟ فرمایا :’’ میں دو قبروں کے پاس سے گزرا ، ان کو عذاب دیا جا رہا تھا ۔ میں نے ان کے بارے میں شفاعت کرنی چاہی کہ ان سے اس وقت تک کے لیے تخفیف کر دی جائے جب تک یہ شاخیں گیلی رہیں ۔‘‘
 (صحیح مسلم: حدیث نمبر : 3012)

اسی طرح صحیح احادیث میں ایک کھجور کے تنے کا نبی کریم ﷺ کی جدائی کے غم میں رونا مذکور ہے۔ 
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُومُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَى شَجَرَةٍ أَوْ نَخْلَةٍ ، فَقَالَتْ : امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ أَوْ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَجْعَلُ لَكَ مِنْبَرًا ، قَالَ : إِنْ شِئْتُمْ فَجَعَلُوا لَهُ مِنْبَرًا فَلَمَّا كَانَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ دُفِعَ إِلَى الْمِنْبَرِ فَصَاحَتِ النَّخْلَةُ صِيَاحَ الصَّبِيِّ ، ثُمَّ نَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَمَّهُ إِلَيْهِ تَئِنُّ أَنِينَ الصَّبِيِّ الَّذِي يُسَكَّنُ قَالَ : كَانَتْ تَبْكِي عَلَى مَا كَانَتْ تَسْمَعُ مِنَ الذِّكْرِ عِنْدَهَا۔ 

 نبی کریم ﷺ جمعہ کے دن خطبہ کے لیے ایک درخت ( کے تنے ) کے پاس کھڑے ہوتے ، یا ( بیان کیا کہ ) کھجور کے درخت کے پاس ۔ پھر ایک انصاری عورت نے یا کسی صحابی نے کہا : یا رسول اللہ ! کیوں نہ ہم آپ کے لیے ایک منبر تیار کر دیں ؟ آپ نے فرمایا : اگر تمہارا جی چاہے تو کر دو ۔ چنانچہ انہوں نے آپ کے لیے منبر تیار کر دیا ۔ جب جمعہ کا دن ہوا تو آپ اس منبر پر تشریف لے گئے ۔ اس پر اس کھجور کے تنے سے بچے کی طرح رونے کی آواز آنے لگی ۔ آنحضرت ﷺ منبر سے اترے اور اسے اپنے گلے سے لگا لیا ۔ جس طرح بچوں کو چپ کرنے کے لیے لوریاں دیتے ہیں ۔ آنحضرت ﷺ نے بھی اسی طرح اسے چپ کرایا ۔ پھر آپ نے فرمایا کہ یہ تنا اس لیے رو رہا تھا کہ وہ اللہ کے اس ذکر کو سنا کرتا تھا جو اس کے قریب ہوتا تھا ۔

(صحیح بخاری: 3584) 

اسی طرح بے جان پتھروں کا نبی ﷺ کو سلام کرنا بھی صحیح احادیث میں مذکور ہے۔ 
 عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَأَعْرِفُ حَجَرًا بِمَكَّةَ كَانَ يُسَلِّمُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُبْعَثَ إِنِّي لَأَعْرِفُهُ الْآنَ»
 حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں مکہ میں اس پتھر کو اچھی طرح پہچانتا ہوں جو بعثت سے پہلے مجھے سلام کیا کرتا تھا ، بلاشبہ میں اس پتھر کو اب بھی پہچانتا ہوں ۔‘‘ 
(صحیح مسلم: 5939)

مقررین اور علماء کو چاہیے کہ وہ افسانوں اور بے سند واقعات کے بجائے ان صحیح اخبار و قصص کے بیان پر اکتفا کریں جو سندا ثابت شدہ ہیں۔

کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : 
سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا :جو شخص میرے نام سے وہ بات بیان کرے جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
(صحیح بخاری: 109)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ شرح نخبہ میں فرماتے ہیں: علماء کا اتفاق ہے کہ موضوع حدیث بیان کرنا حرام ہے، سواۓ اس کے, کہ وہ اس کے موضوع ہونے کی تصریح کردے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
من حدث عني بحديث يرى انه كذب فهو احد الكاذبين۔ 
جو شخص مجھ سے حدیث نقل کرے اور وہ خیال کرتا ہو کہ یہ جھوٹ ہے تو وہ خود جھوٹا ہے۔ (مقدمہ صحیح مسلم) بحوالہ شرح نخبہ۔ 
 عَنْ الْمُغِيرَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : إِنَّ كَذِبًا عَلَيَّ لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ . 
 
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نے نبی کریم ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے کہ میرے متعلق کوئی جھوٹی بات کہنا عام لوگوں سے متعلق جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے جو شخص بھی جان بوجھ کر میرے اوپر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
(صحیح بخاری: 1291) ،

موضوع حدیثیں بیان کرنے والا جھوٹا دجال ہے۔ 
عن ابي هريرة يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ، يَأْتُونَكُمْ مِنَ الْأَحَادِيثِ بِمَا لَمْ تَسْمَعُوا أَنْتُمْ، وَلَا آبَاؤُكُمْ، فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ، لَا يُضِلُّونَكُمْ، وَلَا يَفْتِنُونَكُمْ»
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ آخری زمانے میں ( ایسے ) دجال ( فریب کار ) کذاب ہوں گے جو تمہارے پاس ایسی احادیث لائیں گے جو تم نے سنی ہوں گی نہ تمہارے آباء نے ۔ تم ان سے دور رہنا ( کہیں ) وہ تمہیں گمراہ نہ کر دیں اور تمہیں فتنے میں نہ ڈال دیں ۔‘‘ 
(صحیح مسلم: حدیث نمبر : 16) 

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه! آمين!

Recent posts

وقف ترمیمی بل

عامۃ المسلمین میں ایسے کئی لوگ ہوسکتے ہیں جو نئے وقف قانون کی باریکیوں سے واقف نہ ہوں اسی لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس پر تفصیلی گفتگو ہو۔ م...