بسم الله الرحمن الرحيم
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
محمد اقبال قاسمي سلفي
موضوع: ابو جہل کے ہاتھ میں کنکریوں کے کلمہ پڑھنے والی روایت کی تحقيق!
مصادر: مختلف مراجع و مصادر
صوفی سنتوں کے من گھڑت قصے کہانیوں پر عمل کرنے والے دیوبندی اور رضاخانی مقررین اور مفتیوں کو اکثر یہ موضوع روایت بیان کرتے ہوئے سنا جاتا ہے کہ ایک بار ابو جہل رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میرے ہاتھ میں کیا ہے؟ آپ اگر یہ بتادیں گے تو میں ایمان لے آؤں گا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تیرے ہاتھ کی چیز خود بتادے گی کہ میں کون ہوں؟ اس کے بعد نبی ﷺ نے فرمایا کہ اپنے ہاتھ کو اپنے قریب لے جاؤ، وہ جب اپنے کانوں کے قریب لے گیا تو ہاتھ کی کنکریوں سے آواز آ رہی تھی۔ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔ پھر بھی اسے ہدایت نہ ملی ۔ اس نے ہاتھ کی کنکریوں کو پھنک دیا اور کہنے لگا کہ محمد کا جادو کنکریوں پر بھی چل گیا۔
لیکن ابو جہل کی مٹھی میں کنکریوں کے کلمہ پڑھنے کا یہ واقعہ کہیں بھی مذکور نہیں ہے۔ صحیح تو کیا کوئی ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی روایت کتب حدیث میں موجود نہیں ہے۔ بے سند اور بے اصل روایت کو نبی ﷺ کی طرف نسبت کرنا اور ایسی روایتوں کو بیان کرنا حرام ہے۔
علامہ سخاوی لکھتے ہیں: اس لئے کہ نبی کریم ﷺ کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنا ایسا نہیں ہے جیسا کہ مخلوق میں سے کسی دوسرے انسان کی طرف منسوب کردینا۔ کیونکہ ارباب علم و بصیرت نے یہ اتفاق کیا ہے کہ یہ کام گناہ کبیرہ میں سے سب سے بڑا گناہ ہے۔اور متعدد علماء دین اور ائمہ نے ایسے شخص کی توبہ قبول نہ ہونے کی صراحت فرمائی ہے۔ بلکہ شیخ ابو محمد جوینی نے تو ایسے شخص کو کافر کہاہے اور اس کے فتنے اور نقصانات سے ڈرایا ہے۔
(المقاصد الحسنه صفحہ نمبر: 4)
مناظر دیوبند مولانا طاہر حسین گیاوی حنفی دیوبندی " انگشت بوسی سے بائیبل بوسی تک" میں 12-13 پر لکھتے ہیں:
جس طرح حضور اکرم ﷺ کے فرمان کا انکار کرنا محرومی اور تباہی کا باعث ہے، اسی طرح کسی دوسرے کی بات کو حضور ﷺ کا فرمان بتانا بھی عظیم ترین گناہ اور کفر کا سبب ہے۔
(انگشت بوسی سے بائیبل بوسی تک: از مناظر دیوبند مولانا طاہر حسین گیاوی صفحہ نمبر: 12)
موضوع روایتوں کے بجائے ان معجزات کو بیان کرنے پر اکتفا کرنی چاہیے جو صحیح احادیث میں مذکور ہیں:
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ( ایک مہم کے لیے ) روانہ ہوئے ، حتیٰ کہ ہم کشادہ وادی میں جا اترے ، رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کے لیے گئے ، میں ( چمڑے کا بنا ہوا ) پانی کا ایک برتن لے کر آپ کے پیچھے گیا ۔ رسول اللہ ﷺ نے نظر دوڑائی تو کوئی ایسی چیز نظر نہ آئی جس کی آپ اوٹ لے سکتے ۔ وادی کے کنارے پر دو درخت نظر آئے ، آپ ان میں سے ایک درخت کے پاس تشریف لے گئے ، اس کی ٹہنیوں میں سے ایک کو پکڑا اور فرمایا :’’ اللہ کے حکم سے میرے مطیع ہو جاؤ ۔‘‘ تو وہ نکیل ڈالے ہوئے اونٹ کی طرح آپ کا فرمانبردار بن گیا ، پھر دوسرے درخت کے پاس آئے اور اس کی ٹہنیوں میں سے ایک کو پکڑا اور کہا :’’ اللہ کے حکم سے میرے مطیع ہو جاؤ ۔‘‘ تو وہ بھی اسی طرح آپ کے ساتھ چل پڑا ، یہاں تک کہ ( اسے چلاتے ہوئے ) دونوں کے درمیان کے آدھے فاصلے پر پہنچے تو آپ نے ان دونوں کو جھکا کر آپس میں ملا ( کر اکٹھا کر ) دیا ، آپ نے فرمایا :’’ دونوں اللہ کے حکم سے میرے آگے مل جاؤ ۔‘‘ تو وہ دونوں ساتھ مل گئے ( اور آپ ﷺ کو پردہ مہیا کر دیا ۔ )
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں ڈر سے بھاگتا ہوا وہاں سے نکلا کہ میرے قریب ہونے کو محسوس کر کے رسول اللہ ﷺ وہاں سے ( مزید ) دور ( جانے پر مجبور ) نہ ہو جائیں ، اور محمد بن عباد نے ( اپنی روایت میں ) کہا : آپ کو دور جانے کی زحمت کرنی پڑے ، میں ( ایک جگہ ) بیٹھ گیا اور اپنے آپ سے باتیں کرنے لگا ۔ اچانک میری نگاہ پڑی تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لا رہے ہیں اور دیکھا کہ دونوں درخت الگ الگ ہو چکے ہیں ، ہر ایک درخت تنے پر سیدھا کھڑا ہو گیا ہے ، پھر میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ ایک بار رکے اور اپنے سر مبارک سے اس طرح اشارہ کیا ۔ ابواسماعیل ( حاتم بن اسماعیل ) نے اپنے سر سے دائیں بائیں اشارہ کیا ۔ پھر آپ آگے تشریف لائے ، جب میرے پاس پہنچے تو فرمایا :’’ جابر ! کیا تم نے میرے کھڑے ہونے کی جگہ دیکھی تھی ؟‘‘ میں نے عرض کی : جی ہاں ۔ آپ نے فرمایا :’’ دونوں درختوں کی طرف جاؤ اور دونوں میں سے ہر ایک سے ایک ( ایک ) شاخ کاٹ کر لاؤ ، یہاں تک کہ آ کر جب میری جگہ پر کھڑے ہو جاؤ تو ایک شاخ اپنی دائیں طرف ڈال دینا اور ایک شاخ اپنی بائیں طرف ۔‘‘
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں اٹھا ، ایک پتھر اٹھایا ، اسے توڑا اور اسے گھسایا ، جب وہ میرے ( کام کے ) لئے تیز ہو گیا تو ان دونوں درختوں کی طرف آیا ، ہر ایک سے ایک ( ایک ) شاخ کاٹی ، پھر ان کو گھسیٹتا ہوا آیا ، یہاں تک کہ آ کر اس جگہ کھڑا ہوا جہاں پہلے رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے تھے تو ایک شاخ اپنی دائیں طرف ڈال دی اور ایک اپنی بائیں طرف ، پھر میں آپ کے ساتھ جا ملا اور عرض کی : اللہ کے رسول ! ( جو آپ نے فرمایا تھا ) میں نے کر دیا ہے ، وہ کس لیے تھا ؟ فرمایا :’’ میں دو قبروں کے پاس سے گزرا ، ان کو عذاب دیا جا رہا تھا ۔ میں نے ان کے بارے میں شفاعت کرنی چاہی کہ ان سے اس وقت تک کے لیے تخفیف کر دی جائے جب تک یہ شاخیں گیلی رہیں ۔‘‘
(صحیح مسلم: حدیث نمبر : 3012)
اسی طرح صحیح احادیث میں ایک کھجور کے تنے کا نبی کریم ﷺ کی جدائی کے غم میں رونا مذکور ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُومُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَى شَجَرَةٍ أَوْ نَخْلَةٍ ، فَقَالَتْ : امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ أَوْ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَجْعَلُ لَكَ مِنْبَرًا ، قَالَ : إِنْ شِئْتُمْ فَجَعَلُوا لَهُ مِنْبَرًا فَلَمَّا كَانَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ دُفِعَ إِلَى الْمِنْبَرِ فَصَاحَتِ النَّخْلَةُ صِيَاحَ الصَّبِيِّ ، ثُمَّ نَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَمَّهُ إِلَيْهِ تَئِنُّ أَنِينَ الصَّبِيِّ الَّذِي يُسَكَّنُ قَالَ : كَانَتْ تَبْكِي عَلَى مَا كَانَتْ تَسْمَعُ مِنَ الذِّكْرِ عِنْدَهَا۔
نبی کریم ﷺ جمعہ کے دن خطبہ کے لیے ایک درخت ( کے تنے ) کے پاس کھڑے ہوتے ، یا ( بیان کیا کہ ) کھجور کے درخت کے پاس ۔ پھر ایک انصاری عورت نے یا کسی صحابی نے کہا : یا رسول اللہ ! کیوں نہ ہم آپ کے لیے ایک منبر تیار کر دیں ؟ آپ نے فرمایا : اگر تمہارا جی چاہے تو کر دو ۔ چنانچہ انہوں نے آپ کے لیے منبر تیار کر دیا ۔ جب جمعہ کا دن ہوا تو آپ اس منبر پر تشریف لے گئے ۔ اس پر اس کھجور کے تنے سے بچے کی طرح رونے کی آواز آنے لگی ۔ آنحضرت ﷺ منبر سے اترے اور اسے اپنے گلے سے لگا لیا ۔ جس طرح بچوں کو چپ کرنے کے لیے لوریاں دیتے ہیں ۔ آنحضرت ﷺ نے بھی اسی طرح اسے چپ کرایا ۔ پھر آپ نے فرمایا کہ یہ تنا اس لیے رو رہا تھا کہ وہ اللہ کے اس ذکر کو سنا کرتا تھا جو اس کے قریب ہوتا تھا ۔
(صحیح بخاری: 3584)
اسی طرح بے جان پتھروں کا نبی ﷺ کو سلام کرنا بھی صحیح احادیث میں مذکور ہے۔
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَأَعْرِفُ حَجَرًا بِمَكَّةَ كَانَ يُسَلِّمُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُبْعَثَ إِنِّي لَأَعْرِفُهُ الْآنَ»
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں مکہ میں اس پتھر کو اچھی طرح پہچانتا ہوں جو بعثت سے پہلے مجھے سلام کیا کرتا تھا ، بلاشبہ میں اس پتھر کو اب بھی پہچانتا ہوں ۔‘‘
(صحیح مسلم: 5939)
مقررین اور علماء کو چاہیے کہ وہ افسانوں اور بے سند واقعات کے بجائے ان صحیح اخبار و قصص کے بیان پر اکتفا کریں جو سندا ثابت شدہ ہیں۔
کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا :جو شخص میرے نام سے وہ بات بیان کرے جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
(صحیح بخاری: 109)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ شرح نخبہ میں فرماتے ہیں: علماء کا اتفاق ہے کہ موضوع حدیث بیان کرنا حرام ہے، سواۓ اس کے, کہ وہ اس کے موضوع ہونے کی تصریح کردے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
من حدث عني بحديث يرى انه كذب فهو احد الكاذبين۔
جو شخص مجھ سے حدیث نقل کرے اور وہ خیال کرتا ہو کہ یہ جھوٹ ہے تو وہ خود جھوٹا ہے۔ (مقدمہ صحیح مسلم) بحوالہ شرح نخبہ۔
عَنْ الْمُغِيرَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : إِنَّ كَذِبًا عَلَيَّ لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ .
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نے نبی کریم ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے کہ میرے متعلق کوئی جھوٹی بات کہنا عام لوگوں سے متعلق جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے جو شخص بھی جان بوجھ کر میرے اوپر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
(صحیح بخاری: 1291) ،
موضوع حدیثیں بیان کرنے والا جھوٹا دجال ہے۔
عن ابي هريرة يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ، يَأْتُونَكُمْ مِنَ الْأَحَادِيثِ بِمَا لَمْ تَسْمَعُوا أَنْتُمْ، وَلَا آبَاؤُكُمْ، فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ، لَا يُضِلُّونَكُمْ، وَلَا يَفْتِنُونَكُمْ»
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ آخری زمانے میں ( ایسے ) دجال ( فریب کار ) کذاب ہوں گے جو تمہارے پاس ایسی احادیث لائیں گے جو تم نے سنی ہوں گی نہ تمہارے آباء نے ۔ تم ان سے دور رہنا ( کہیں ) وہ تمہیں گمراہ نہ کر دیں اور تمہیں فتنے میں نہ ڈال دیں ۔‘‘
(صحیح مسلم: حدیث نمبر : 16)
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه! آمين!