Tuesday, October 31, 2023

موضوع: اذان کے بعد کی دعا میں حنفی ملاوٹ !! ‏

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محمد اقبال قاسمي سلفي

موضوع: اذان کے بعد کی دعا میں حنفی ملاوٹ !! 

مصادر : مختلف مراجع و مصادر !! 

عام طور پر احناف کے یہاں اذان کے بعد کی دعا میں "آتِ مُحَمَّدًا ۨ الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ" کے بعد "الدرجۃ الرفیعہ" اور "ابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا ۨ الَّذِي وَعَدْتَهُ" کے بعد "وارزقنا شفاعته" کے الفاظ بھی پڑھاۓ اور سکھاۓ جاتے ہیں۔ 

لیکن اذان کے بعد کی دعا میں یہ الفاظ کسی بھی حدیث میں موجود نہیں ہیں۔ صحیح تو کیا کوئی ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے جس میں یہ الفاظ موجود ہوں۔ 

دارالعلوم دیوبند کے فتوے میں بھی یہ بات موجود ہے کہ اذان کی دعا میں ان دونوں كلمات ’’الدرجۃ الرفیعۃ‘‘ اور ’’ارزقنا شفاعتہ کا احادیث میں کوئی ذکر نہیں ملتا۔ 
چنانچہ دارالعلوم دیوبند سے جب اس بابت فتوی مانگا گیا کہ : اذان کے بعد کی دعا میں والدرجة الرفیعة اور وارزقنا شفاعتہ کے الفاظ کی کیا حقیقت ہے ؟

تو دارالعلوم دیوبند نے جواب دیا: 
اذان کی دعا میں ان دونوں كلمات ’’الدرجۃ الرفیعۃ‘‘ اور ’’وارزقنا شفاعتہ‘‘ كا اس سلسلے میں واردشدہ احادیث میں‏، كوئی ذكر نہیں ملتا۔....قلت وکذلک زیادة وارزقنا شفاعته لم أره في حدیث ...، وفي المقاصد الحسنة ... حدیث الدرجة الرفیعة المدرج فیما یقال بعد الاذان لم أره في شيء من الروایات۔ (اعلاء السنن (2/615، باب الدعاء للنبي صلى الله عليه وسلم بعد الأذان والصلاة عليه، رقم: 587)

دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتوی نمبر : 609480

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ شرح منہاج میں لکھتے ہیں: 

’’ و زیادۃ والدرجۃ الرفیعۃ و ختم بیا أرحم الراحمین لا أصل لھما ‘‘ ( رد المحتار : (باب الأذان‘ ۱/۳۹۸) 

(الدرجۃ الرفیعہ کے اضافے یا ارحم الراحمین کے ذریعے اس دعا کو ختم کرنے کی کوئی اصل نہیں ہے) 


امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب صحیح بخاری میں اذان کے بعد کی دعا کو اپنے استاذ علی بن عیاش سے اس طرح روایت کیا ہے: 

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ ، اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا ۨ الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا ۨ الَّذِي وَعَدْتَهُ ، حَلَّتْ لَهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
(صحیح بخاری: حدیث نمبر:614)
 
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا : 
جو شخص اذان سن کر یہ کلمات کہے:
 اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا ۨ الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا ۨ الَّذِي وَعَدْتَهُ۔

((ترجمہ: اے اللہ! اس کامل دعوت اور قائم ہونے والی صلاۃ کے رب! (ہمارے نبی) محمد (صلی الله علیہ وسلم) کو وسیلہ اور فضیلت عطا کر، اور انہیں مقام محمود میں پہنچا جس کا تو نے وعدہ فرمایا ہے)) 
تو اس کے لیے میری شفاعت واجب ہوگئی۔
(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 634)

انہی الفاظ کے ساتھ یہ دعا صحیح بخاری کے علاوہ جامع ترمذی: حدیث نمبر، 211، سنن ابی داوُد حدیث نمبر: 529، سنن ابن ماجہ حدیث نمبر: 722 ، سنن نسائی الصغرى حدیث نمبر: 681، بلوغ المرام حدیث نمبر: 159، المعجم الصغیر للطبرانی حدیث نمبر: 126 پر بھی موجود ہے۔ 

اذان کی دعا کے یہی مذکورہ بالا الفاظ صحیح اور ثابت شدہ ہیں۔ 

اذان کی دعا کے آخری کلمات "انك لا تخلف الميعاد " !! 

اذان کی دعا کے آخری کلمات "انك لا تخلف الميعاد " کے ثبوت و عدم ثبوت کے بارے میں محدثین رحمھم اللہ کی مختلف رائیں ہیں۔ 
در اصل یہ اضافہ سنن الکبری للبیہقی میں ہے جسے علی بن عیاش کے ایک شاگرد محمد بن عوف روایت کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب علی بن عیاش کے دوسرے ثقہ اور حفاظ شاگر : أحمد بن حنبل ، علي بن المديني، أبو زرعة الرازي، امام بخاری اور جوزجانی جیسےثقہ ثبت کالجبال جیسے راویوں نے اس دعا کو "انک لا تخلف المیعاد" کے بغیر ہی روایت ہے۔ اسی وجہ سے ان الفاظ کی زیادتی کو بعض محدثین نے شاذ قرار دیا ہے جبکہ بعض نے حسن درجے میں رکھا ہے۔ حافظ ابن قیم اور علامہ ابن باز رحمھما اللہ نے اسے حسن قرار دیا ہے جبکہ حافظ ابن حجر، علامہ البانی اور دیگر محدثین رحمھم اللہ نے اسے شاذ قرار دیا ہے کیونکہ ان الفاظ کی زیادتی کرکے ایک ثقہ راوی نے اپنے سے زیادہ ثقہ راویوں کی مخالفت کی ہے جسے اصطلاح محدثین میں شاذ کہا جاتا ہے جو کہ ضعیف کی قسموں میں سے ہے، لیکن چونکہ یہ زیادتی ثقہ کی ہے اور ثقہ کی زیادتی عموماً محدثین کے یہاں مقبول سمجھی جاتی ہے الا یہ کہ عدم قبولیت کا کوئی قرینہ پایا جاۓ اس لیے ان الفاظ (انک لا تخلف المیعاد) کو دعا میں ملانا اور نہ دونوں جائز ہے۔

اذان کے بعد مزید دعائیں!! 

واضح ہوکہ مذکورہ دعا کے علاوہ اذان کے بعد اور بھی دعائیں صحیح احادیث میں منقول ہیں جو انتہائی اجر و ثواب کے باعث ہیں۔ 

صحیح مسلم میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا : 

مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ»
جو شخص اذان سننے کے وقت یہ پڑھے: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا. پڑھے تو اس کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ 
(صحیح مسلم: حدیث نمبر: 386)

اذان کے بعد نبی کریم ﷺ پر درود بھیجنے کی تعلیم! 

اذان کے بعد عموماً وسیلے والی دعا پر ہی اکتفا کر لیا جاتا ہے جبکہ اذان کے بعد سب سے پہلے نبی ﷺ نے اپنے اوپر درود پڑھنے کی تعلیم دی ہے۔ 

صحیح مسلم میں حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا : 

اذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ، فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ، فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّى الله عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا، ثُمَّ سَلُوا اللهَ لِيَ الْوَسِيلَةَ، فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ، لَا تَنْبَغِي إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللهِ، وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ، فَمَنْ سَأَلَ لِي الْوَسِيلَةَ حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ.

جب تم مؤذن کو سنو تو اسی طرح کہو جیسے وہ کہتا ہے ، پھر مجھ پر درود بھیجو کیونکہ جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے ، پھر اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ مانگو کیونکہ وہ جنت میں ایک مقام ہے جو اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک بندے کو ملے گا اور مجھے امید ہے وہ میں ہوں گا ، چنانچہ جس نے میرے لیے وسیلہ طلب کیا اس کے لیے ( میری ) شفاعت واجب ہو گئی. 
(صحیح مسلم : حدیث نمبر: 384) 

دعا میں مذکور "وسیلہ" کی نبوی تشریح! 

سنن ابی داوُد میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا : ’’جب تم مؤذن کو سنو تو اسی طرح کہو جیسے وہ کہتا ہے ۔ پھر مجھ پر درود پڑھو ۔ تحقیق جس نے مجھ پر ایک بار درود پڑھا ، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل کرتا ہے ۔ پھر میرے لیے اللہ سے وسیلہ طلب کرو ۔ بلاشبہ یہ ( وسیلہ ) جنت میں ایک منزل کا نام ہے جو اللہ کے کسی ایک بندے کو ملے گی اور مجھے امید ہے کہ وہ میں ہی ہوں گا ۔ سو جس نے میرے لیے اللہ سے وسیلہ طلب کیا اس کے لیے شفاعت حلال ہو گئی ۔‘‘  
(سنن ابوداؤد : حدیث نمبر : 523) 

درج بالا حدیث میں جہاں نبی ﷺ نے وسیلے کی تشریح کردی ہے وہیں اس حدیث سے  یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ رب العزت سے نبی کریم ﷺ کے لیے 'وسیلہ' مانگنے کی تعلیم دی گئی ہے نہ کہ آپ ﷺ کے وسیلے سے دعا مانگنے کی جیسا کہ جماعت رضاخانیہ کا وطیرہ ہے۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ مسنون طریقہ اذان کے بعد درود پڑھنا ہے نہ کہ اذان سے پہلے۔ 

خلاصۃ التحریر! 
۱) اذان کی دعا میں الدرجۃ الرفیعہ اور وارزقنا شفاعته کے الفاظ غیر ثابت ہیں۔ 

۲) دارالعلوم دیوبند نے بھی یہ فتوی دیا ہے کہ الدرجۃ الرفیعہ اور وارزقنا شفاعته کے الفاظ کا احادیث میں کوئی ذکر نہیں ملتا۔ 

۳) اذان کے بعد سب سے پہلے نبی ﷺ پر درود بھیجنا ، اس کے بعد وسیلے والی دعا کا پڑھنا نبی ﷺ کی شفاعت کا مستحق بناتا ہے۔ 

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه آمين!!

Saturday, October 28, 2023

موضوع: بے نمازی کی نحوست چالیس گھروں تک رہتی ہے روایت کی تحقیق!!

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محمد اقبال قاسمي سلفي

موضوع: "بے نمازی کی نحوست چالیس گھروں تک رہتی ہے."   کی تحقیق!! 

مصادر : مختلف مراجع و مصادر!

صوفی سنتوں کے من گھڑت قصے کہانیوں پر عمل کرنے والے حنفی ائمہ اور مفتیان بہتان تراشی کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب اکثر یہ روایت بیان کیا کرتے ہیں کہ ایک بے نمازی کی نحوست چالیس گاؤں یا گھروں پر پڑتی ہے، چالیس گھر دائیں جانب، چالیس گھر بائیں جانب، چالیس گھر آگے کی جانب اور چایس گھر پیچھے کی جانب۔ 

بے نمازی کے بارے میں قرآن و صحیح احادیث میں بہت ساری وعیدیں ہیں یہاں تک کہ عمداً نماز ترک کرنے کو کفر و شرک تک سے تعبیر کردیا گیا ہے اور کفر و شرک سے بڑی نحوست کیا ہو سکتا ہے؟ 

لیکن دائیں، بائیں، آگے اور پیچھے چالیس گھروں تک نحوست پڑنے والی جو روایت بیان کی جاتی ہے وہ بالکل بے اصل، بے سند اور من گھڑت ہے۔ صحیح تو کیا، کسی ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے جس میں بے نمازی کے متعلق نبی کریم ﷺ نے مذکورہ وعید بیان فرمائی ہو۔ 

مفتیان دارالعلوم دیوبند کو بھی ایسی کوئی روایت نہیں ملی۔ 
چنانچہ دارالعلوم دیوبند سے جب اس بابت فتوی طلب کیا گیا کہ : 

ائمہ حضرات بکثرت اپنے بیانات میں یہ فرماتے ہیں کہ " حدیث میں آیا ہے کہ ایک بے نمازی کی نحوست چالیس گاؤں پر پڑتی ہے ، کیا یہ حدیث صحیح ہے یا موضوع؟ اس کی تحقیق و تخریج مرحمت فرماکر عند اللہ ماجور ہوں۔"
تو دارالعلوم دیوبند نے جواب دینے ہوے درج ذیل فتوی دیا: 

جواب: ”بے نمازی کی نحوست چالیس گاوٴں پر پڑتی ہے“ ایسی کوئی ورایت ہمیں نہیں ملی، جو حضرات اسکو بیان کرتے ہیں ان سے اس کا حوالہ دریافت کریں، اگرحوالہ معلوم ہوجائے تو اس کی تحقیق کی جاسکتی ہے کہ روایت کس درجہ کی ہے۔

دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتوی نمبر : 155532

جامعہ علوم اسلامیہ علامہ یوسف بنوری حنفی دیوبندی پاکستانی نے بھی اپنے فتوے میں ایسی کسی روایت کے ثبوت سے انکار کیا ہے۔

چنانچہ جب ان پوچھا گیا:

سنا یہ گیا ہے کہ بے نمازی کی نحوست چالیس گھروں تک جاتی ہے، اس بات کی کوئی دلیل ہے، یا یہ بات محض ایک بے بنیاد بات ہے ؟

جواب : تلاش کے باوجود اس بات کا ثبوت کتبِ احادیث میں نہیں مل سکا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر : 144102200096

اپنے ہی گھر کے فتووں سے بے خبر حنفی ائمہ اور مفتیان اس روایت کو منبر و محراب اور اجلاس عام کے پرشکوہ اسٹیجوں سے بکثرت بیان کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ 

عمداً نماز ترک کرنے کی قرآن و صحیح احادیث میں بے شمار وعیدیں موجود ہیں لیکن ان صحیح روایات کو چھوڑ کر ایسی بے سند اور من گھڑت روایات بیان کر کے کیوں امت کو ضلالت و بدعت کے راستے پر دھکیلا جاتا ہے؟؟ 

جبکہ نبی کریم ﷺ کی طرف جان بوجھ کر بے سند اور موضوع روایات کی نسبت کرنا حرام ہے اور ایسے مختلق اور مفتری کا ٹھکانا جہنم ہے۔ 

سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا :جو شخص میرے نام سے وہ بات بیان کرے جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
(صحیح بخاری: 109)

مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نے نبی کریم ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے کہ میرے متعلق کوئی جھوٹی بات کہنا عام لوگوں سے متعلق جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے جو شخص بھی جان بوجھ کر میرے اوپر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔

(صحیح بخاری: 1291) 

علامہ سخاوی لکھتے ہیں: اس لئے کہ نبی کریم ﷺ کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنا ایسا نہیں ہے جیسا کہ مخلوق میں سے کسی دوسرے انسان کی طرف منسوب کردینا۔ کیونکہ ارباب علم و بصیرت نے یہ اتفاق کیا ہے کہ یہ کام گناہ کبیرہ میں سے سب سے بڑا گناہ ہے۔اور متعدد علماء دین اور ائمہ نے ایسے شخص کی توبہ قبول نہ ہونے کی صراحت فرمائی ہے۔ بلکہ شیخ ابو محمد جوینی نے تو ایسے شخص کو کافر کہاہے اور اس کے فتنے اور نقصانات سے ڈرایا ہے۔ 
(المقاصد الحسنه : صفحہ نمبر: 4) 

خلاصۃ التحریر: 
۱) چالیس گھروں تک بے نمازی کی نحوست پڑنے والی جو روایت بیان کی جاتی ہے، وہ بے سند اور بے اصل ہے۔ 

۲) دارالعلوم دیوبند جیسے حنفی ادارے نے بھی اس روایت کا بے سند ہونا تسلیم کیا ہے۔ 
۳) دیوبندی اور رضاخانی ائمہ و  خطباء حضرات عام طور پر اپنے گھر کے فتوؤں سے بھی بے خبر ہوتے ہیں۔ 
۴) دیوبندی اور رضاخانی ائمہ کے  ٹولے اکثر بلا تحقیق جھوٹی اور بے سند روایتیں بیان کرتے ہیں۔ 

۵) جان بوجھ کر یا بلا تحقیق ایسی رواتیں بیان کرنا حرام ہے اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ 

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه آمين!!

Thursday, October 26, 2023

موضوع : وضو میں ہر ہر عضو کے دھونے کی دعائیں اور حنفی فتوے ! ‏

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محمد اقبال قاسمي سلفي

موضوع : وضو میں ہر ہر عضو کے دھونے کی دعائیں اور حنفی فتوے ! 

مصادر : مختلف مراجع و مصادر! 
صوفی سنتوں کے من گھڑت قصے کہانیوں پر عمل کرنے والے دیوبندی اور رضاخانی علماء اور مفتیوں نے دین کے مختلف حصوں میں اختراع سازی کی ہے۔ ان ہی میں سے دوران وضو ہر عضو کے دھونے کی الگ الگ مختلف دعائیں ہیں جیسا کہ کلی کرنے کی دعا، ناک میں پانی ڈالنے کی دعا، چہرہ دھوتے وقت کی دعا، دونوں ہاتھ دھونے کی الگ الگ دعا، گردن مسح کرنے کی دعا الخ

چنانچہ دارالعلوم دیوبند سے جب اس کے متعلق فتوی طلب کیا گیا کہ کیا: 

" ہر عضو کے دھوتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا ثابت ہے ۔ اگر ہے تو وہ ہر عضو کی دعا کیا ہے ؟"
تو دارالعلوم دیوبند نے درج ذیل فتوی دیا۔ 

"وضوء کے دوران پڑھنے کی یہ دعائیں منقول ہیں:
کلی کرتے وقت : اللَّہُمَّ أَعِنِّی عَلَی تِلَاوَةِ الْقُرْآنِ وَذِکْرِک وَشُکْرِک وَحُسْنِ عِبَادَتِک، ناک میں پانی ڈالتے وقت: اللَّہُمَّ أَرِحْنِی رَائِحَةَ الْجَنَّةِ وَلَا تُرِحْنِی رَائِحَةَ النَّارِ،چہرہ دھوتے وقت : اللَّہُمَّ بَیِّضْ وَجْہِی یَوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوہٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوہٌ،دایاں ہاتھ دھوتے وقت : اللَّہُمَّ أَعْطِنِی کِتَابِی بِیَمِینِی وَحَاسِبْنِی حِسَابًا یَسِیرًا، بایاں ہاتھ دھوتے وقت: الّلَہُمَّ لَا تُعْطِنِی کِتَابِی بِشِمَالِی وَلَا مِنْ وَرَاءِ ظَہْرِی، سر کا مسح کرتے وقت : اللَّہُمَّ أَظِلَّنِی تَحْتَ عَرْشِک یَوْمَ لَا ظِلَّ إلَّا ظِلُّ عَرْشِک، دونوں کانوں کے مسح کے وقت : اللَّہُمَّ اجْعَلْنِی مِنْ الَّذِینَ یَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُونَ أَحْسَنَہُ، گردن کے مسح کے وقت : اللَّہُمَّ أَعْتِقْ رَقَبَتِی مِنْ النَّارِ، دایاں پاوٴں دھوتے وقت : اللَّہُمَّ ثَبِّتْ قَدَمِی عَلَی الصِّرَاطِ یَوْمَ تَزِلُّ الْأَقْدَامُ، بایاں پاوٴں دھوتے وقت: اللَّہُمَّ اجْعَلْ ذَنْبِی مَغْفُورًا وَسَعْیِ مَشْکُورًا، وَتِجَارَتِی لَنْ تَبُورَ۔ "

دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتوی نمبر : 159128

لیکن دوران وضو ہر ہر عضو کے دھونے سے پہلے مذکورہ دعاؤں کو پڑھنا اور اس کے پڑھنے کا فتوی دینا بے سند اور بے بنیاد ہے۔ یہ دعائیں کہیں بھی منقول نہیں ہے۔ 

نہ نبی کریم ﷺ سے یہ دعائیں منقول ہیں۔ 
نہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین سے۔۔۔۔ 
نہ اتباع تابعین سے۔۔۔۔۔۔ 
نہ ائمہ محدثین سے۔۔۔۔۔ 
نہ حدیث کی کسی کتاب میں۔۔۔۔۔ 
صحیح تو کیا ؛ کسی ضعیف اور موضوع سند سے بھی کسی روایت میں یہ دعائیں منقول نہیں ہیں۔ 

حافظ ابن قیم رحمہ اللہ اپنی کتاب "زاد المعاد" میں لکھتے ہیں: 
ولم يحفظ عنه أنه كان يقول على وضوئه شيئا غير التسمية، وكل حديث في أذكار الوضوء الذي يقال عليه فكذب مختلق، لم يقل رسول الله صلى الله عليه وسلم شيئا منه، ولا علمه لأمته، ولا ثبت عنه غير التسمية في أوله، وقوله: أشْهَدُ أنْ لا إله إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيك لَهُ، وأشْهَدُ أنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَوَّابِينَ، واجْعَلْني مِنَ المُتَطَهِّرِينَ في آخره، وفي حديث آخر في سنن النسائي مما يقال بعد الوضوء أيضاً : سُبْحانَكَ اللَّهُمَّ وبِحَمْدِكَ، أشْهَدُ أنْ لا إلهَ إِلاَّ أنْتَ، أسْتَغْفِرُكَ وأتُوبُ إِلَيْكَ. انتهى .

(وضو کے شروع میں بسم اللہ کے علاوہ نبی کریم ﷺ سے کوئی چیز ثابت نہیں ہے۔ اذکار وضو کے سلسلے میں جو روایات بیان کی جاتی ہیں وہ سب جھوٹ اور گھڑی ہوئی ہیں، وہ ہر گز نبی ﷺ کی حدیث نہیں ہیں۔ نہ امت کو نبی ﷺ نے اس کی تعلیم دی ہے اور نہ بسم اللہ کے علاوہ وضو کے شروع میں کوئی چیز ثابت ہے۔ آپ ﷺ سے وضو کے اخیر میں اشْهَدُ أنْ لا إله إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيك لَهُ، وأشْهَدُ أنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَوَّابِينَ، واجْعَلْني مِنَ المُتَطَهِّرِينَ اور ایک روایت میں : سُبْحانَكَ اللَّهُمَّ وبِحَمْدِكَ، أشْهَدُ أنْ لا إلهَ إِلاَّ أنْتَ، أسْتَغْفِرُكَ وأتُوبُ إِلَيْكَ۔ کہنا ثابت ہے۔) 

(زاد المعاد : حافظ ابن قیم) 

 علامہ نووی الاذکار میں لکھتے ہیں: 
"وأما الدعاء على أعضاء الوضوء فلم يجئ فيه شيء عن النبي صلى الله عليه وسلم. "
(الأذكار : ص 30) 

(اعضاء وضو کو دھونے کی دعاؤں میں سے نبی کریم ﷺ سے کچھ بھی منقول نہیں ہے۔) 

چونکہ کتاب و سنت میں یہ عمل کہیں بھی مذکور نہیں ہے، اسی لیے فتاویٰ لجنہ دائمہ میں اس کو بدعت قرار دیا ہے : 

 لم يثبت عن النبي صلى الله عليه وسلم دعاء أثناء الوضوء ، وما يدعو به العامة عند غسل كل عضو بدعة ، مثل قولهم عند غسل الوجه : (اللهم بيض وجهي يوم تسود الوجوه) وقولهم : عند غسل اليدين : (اللهم أعطني كتابي بيميني ، ولا تعطني كتابي بشمالي ) إلى غير ذلك من الأدعية عند سائر أعضاء الوضوء".
 (فتاوى اللجنةالدائمة :5/221)

(دوران وضو نبی کریم ﷺ سے کوئی دعا ثابت نہیں ہے، اور (حنفی تقلیدی )عوام الناس کے ذریعہ ہر عضو کے دھونے کے وقت جو دعا پڑھی جاتی ہے وہ بدعت ہے۔ مثلاً چہرہ دھونے کی دعا جسے ان لوگوں نے ایجاد کیا ہے : اللهم بيض وجهي يوم تسود الوجوه، اسی طرح دونوں ہاتھوں کو دھونے وقت کی دعا : اللهم أعطني كتابي بيميني ، ولا تعطني كتابي بشمالي۔) 
(فتاوى اللجنةالدائمة :5/221)

ان حقائق کے باوجود وضو میں اعضاء وضو کو دھونے کی الگ الگ دعائیں پڑھنے کا دارالعلوم دیوبند جیسے ادارے کے ذریعہ فتوی دیا جانا اور اس پر مستزاد یہ کہ ان من گھڑت دعاؤں کو منقول بتانا انتہائی افسوسناک اور شرمناک ہے۔ 

دارالعلوم دیوبند سے سائل نے اپنے سوال میں واضح طور سے یہ پوچھا تھا کہ کیا ہر عضو کے دھوتے وقت رسول اللہ ﷺ سے دعا ثابت ہے ؟ 
اس سوال کے جواب میں دارالعلوم دیوبند کو صرف وہ دعائیں بتانی چاہیے تھی جو نبی کریم ﷺ سے ثابت شدہ ہیں، بصورت دیگر سائل کی صحیح رہنمائی کرتے ہوے یہ واضح کردینا چاہیے تھا کہ اس سلسلے میں نبی ﷺ سے کوئی دعا ثابت نہیں ہے۔ 

سائل نے اپنے سوال میں امداد، درر اور درمختار جیسی فقہی کتابوں کے بے سند حوالے ہرگز طلب نہیں کیے تھے، شاید ان حوالوں کی حقیقت سائل کو پہلے سے پتہ تھیں، جس چیز کا پتہ پوچھا وہ تو آپ نے لا پتہ کر دیا اور جو چیز پہلے سے ہی سائل کو پتہ تھی اس پر آپ نے لمباچوڑا مضمون نگاری کردیا۔ 
الامان والحفيظ! 

اس فتوے کا جواب ملنے پر سائل نے یہ ضرور کہا ہوگا: 

سوال کرکے میں خود ہی بہت پشیماں ہوں
جواب دے کے مجھے اور شرمسار نہ کر! 

وضو کے شروع میں تسمیہ ( بسم اللہ) اور وضو کے بعد درج ذیل دعا کے علاوہ کوئی چیز ثابت نہیں ہے۔ وضو کے بعد کی دعائیں: 

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: كَانَتْ عَلَيْنَا رِعَايَةُ الْإِبِلِ فَجَاءَتْ نَوْبَتِي فَرَوَّحْتُهَا بِعَشِيٍّ فَأَدْرَكْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا يُحَدِّثُ النَّاسَ فَأَدْرَكْتُ مِنْ قَوْلِهِ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، مُقْبِلٌ عَلَيْهِمَا بِقَلْبِهِ وَوَجْهِهِ، إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ» قَالَ فَقُلْتُ: مَا أَجْوَدَ هَذِهِ فَإِذَا قَائِلٌ بَيْنَ يَدَيَّ يَقُولُ: الَّتِي قَبْلَهَا أَجْوَدُ فَنَظَرْتُ فَإِذَا عُمَرُ قَالَ: إِنِّي قَدْ رَأَيْتُكَ جِئْتَ آنِفًا، قَالَ: مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ فَيُبْلِغُ - أَوْ فَيُسْبِغُ - الْوَضُوءَ ثُمَّ يَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ إِلَّا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةُ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ۔ 

 عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ فرماتے ہیں : ہمارے ذمے اونٹ چرانے کا کام تھا ، میری باری آئی ، تو میں شام کے وقت ان کو چرا کر واپس لایا تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ، آپ کھڑے ہو کر لوگوں کو کچھ ارشاد فرما رہے تھے ، مجھے آپ کی یہ بات ( سننے کو ) ملی :’’ جو بھی مسلمان وضو کرتا ہے اور وہ اچھی طرح وضو کرتا ہے ، پھر کھڑے ہو کر پوری یکسوئی اور توجہ کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھتا ہے تو اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے ۔‘‘ میں نے کہا : کیا خوب بات ہے یہ ! تو میرے سامنے ایک کہنے والا کہنے لگا : اس سے پہلے والی بات اس سے بھی زیادہ عمدہ ہے ۔ میں نے دیکھا تو وہ عمر رضی اللہ عنہ تھے ، انہوں نے کہا : میں نے دیکھا ہے تم ابھی آئے ہو ، آپ ﷺ نے ( اس سے پہلے ) فرمایا تھا :’’ تم میں سے جو شخص بھی وضو کرے اور اپنے وضو کو پورا کرے ( یا خوب اچھی طرح وضو کرے ) پھر یہ کہے : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں ، جس سے چاہے داخل ہو جائے ۔‘‘ 

(صحیح مسلم: حدیث نمبر : 234) 
سنن ترمذی میں ہے: 
 رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو وضو کرے اور اچھی طرح کرے پھر یوں کہے: :‏‏‏‏
 أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِينَ وَاجْعَلْنِي مِنَ الْمُتَطَهِّرِينَ۔ 
 تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جائیں گے وہ جس سے بھی چاہے جنت میں داخل ہو“۔

(سنن ترمذی: حدیث نمبر : 55) 

وضو کے بعد کی ایک اور دعا ہے جسے نسائی نے عمل الیوم والیلہ میں اور امام حاکم نے مستدرک میں ذکر کیا ہے اور جس کو محدثین نے موقوفا صحیح قرار دیا ہے گرچہ علاقہ البانی نے اس کے مرفوع ہونے کو بھی صحیح قرار دیا ہے جو کہ راجح معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس طرح کی باتیں صحابہ کرام اپنی رائے اور قیاس سے نہیں کر سکتے۔ 
 من توضأ فقال: سبحانك اللهم وبحمدك أشهد أن لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك كتب في رقٍ ثم طبع بطابع فلم يكسر إلى يوم القيامة.

جس نے وضو کے بعد یہ کہا: 
سبحانك اللهم وبحمدك أشهد أن لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك۔ تو اسے ایک پرچے میں لکھا دیا جاتا ہے، پھر اسے مہر بند کر دیا جاتا ہے اور اب سے قیامت تک نہیں توڑا جاۓ گا۔ 
(عمل الیوم والیل للنسائی)
 
خلاصہ: ۱) وضو کے شروع میں تسمیہ مشروع ہے۔ 

۲) ہر عضو کو الگ الگ دھونے کی کوئی دعا ثابت نہیں بلکہ یہ من گھڑت اور بدعت ہے۔ 
۳) وضو کے بعد درج ذیل دعائیں مسنون ہیں: 
 أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِينَ وَاجْعَلْنِي مِنَ الْمُتَطَهِّرِينَ۔ سبحانك اللهم وبحمدك أشهد أن لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك۔ 

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه آمين!!

Wednesday, October 18, 2023

موضوع : قد قامت الصلوۃ کے جواب میں أقامَها اللهُ وأدامَها کہنا! ‏

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محمد اقبال قاسمي سلفي

موضوع : قد قامت الصلوۃ کے جواب میں أقامَها اللهُ وأدامَها کہنا! 

احناف کے یہاں اقامت کے الفاظ " قد قامت الصلوة " کا جواب " اقامھا الله و ادامها " کے ذریعہ دینے کی تعلیم دی جاتی ہے۔ 
جیسا ان کے نزدیک معتبر اور مفتی بہ سمجھی جانے والی کتاب "در مختار" اور "کنز الدقائق" وغیرہ میں یہ عبارت موجود ہے: 
(ویجیب الإقامۃ) ندباً إجماعاً (کالأذان) ویقول عند قد قامت الصلاۃ: أقامہا اللہ وأدامہا‘‘۔ 
( الدر المختار شرح تنویر الأبصار فی فقہ مذہب الامام أبی حنیفۃ 1؍ 400)

(اور اذان کی طرح اقامت کا بھی جواب دے اور " قد قامت الصلوۃ" کے وقت "اقامھا الله و ادامھا " کہے.) 

مذکورہ بالا عبارت سے یہ واضح ہے کہ احناف کے نزدیک قد قامت الصلوۃ کے وقت اقامھا الله و ادامھا کے الفاظ دہراۓ جائیں گے۔ 
لیکن "قد قامت الصلوۃ" کے جواب میں "اقامھا الله و ادامھا" کہنا کسی بھی صحیح حدیث میں مذکور نہیں ہے۔ 
اور سنن ابوداؤد کی جس روایت سے استدلال کیا جاتا ہے وہ کئی وجوہات کی بناء پر ناقابل استدلال ہے۔ 
چنانچہ وہ روایت مع سند درج ذیل ہے:  

امام ابوداؤد فرماتے ہیں : 

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏ أَنَّ بِلَالًا أَخَذَ فِي الْإِقَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا أَنْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَقَامَهَا اللَّهُ وَأَدَامَهَا ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ فِي سَائِرِ الْإِقَامَةِ كَنَحْوِ حَدِيثِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الْأَذَانِ.

( اہل شام کے ایک فرد نے شہر بن حوشب سے روایت کیا انہوں نے ابوامامہ یا نبی ﷺ کے کسی دوسرے صحابی سے روایت کیا کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہنا شروع کی تو جب ( قد قامت الصلاة ) کہا تو نبی ﷺ نے کہا : ( أقامها الله وأدامها ) ’’ اللہ اسے قائم و دائم رکھے ۔‘‘ اور دیگر کلمات کے جواب میں اسی طرح کہا جیسے کہ مذکورہ بالا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں گزرا ہے۔) 

(سنن ابوداؤد: حدیث نمبر : 528)
اس حدیث کے راوی محمد بن ثابت العبدی پر محدثین نے سخت کلام کیا ہے اور جمہور محدثین کے نزدیک یہ راوی ضعیف ہے۔ 

علامہ نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: 
«وليس هو بالقوي عند اكثر المحدثين» 
”اکثر محدثین کرام کے نزدیک یہ مضبوط راوی نہیں.“ 
(خلاصه الاحكام: ح: 559، نصب الرايه للزيلعي: 5/1،6) 

"رجل من اهل الشام" نامعلوم اور ”مبہم“ ہے۔
اور مبہم راوی کی روایت جمہور محدثین کے نزدیک مردود و مطروح سمجھی جاتی ہے۔ 
یاد رکھیں! دین قرآن اور صحیح و ثقہ راویوں کے ذریعہ بیان کردہ احادیث کا نام ہے، نہ کہ مبہم اور نا معلوم راویوں کی روایت کا نام ہے۔ 

علامہ بن باز رحمہ اللہ نے قد قامت الصلوۃ کے جواب میں اقامھا الله و ادامها کہنے کے متعلق جو فتوی دیا ہے، وہ درج ذیل ہے۔ 
"أما (أقامها الله وأدامها) جاء فيه حديث ضعيف، والأفضل أن يقول: قد قامت الصلاة مثل المؤذن، يقول: قد قامت الصلاة، قد قامت الصلاة، بدلا من (أقامها الله وأدامها) لأن لفظة أقامها الله وأدامها جاء فيه خبر ضعيف، لا يصح عن النبي ﷺ وإنما يقال مثل ما قال النبي ﷺ: إذا سمعتم المؤذن فقولوا مثلما يقول يعني يقول: قد قامت الصلاة، قد قامت الصلاة، في أذان الفجر إذا قال: الصلاة خير من النوم، يقول: الصلاة خير من النوم مثلها."
(اور جو ایک حدیث میں اقامھا الله و ادامها کہنے کے متعلق وارد ہوا ہے ، وہ روایت ضعیف ہے۔ بہتر یہی ہے کہ قد قامت الصلوۃ کے جواب میں قد قامت الصلوۃ ہی کہے جس طرح مؤذن کہتا ہے کیونکہ اقامھا الله و ادامها کے الفاظ جس روایت میں وارد ہے، وہ ضعیف ہے اور نبی کریم ﷺ سے صحیح سند سے ثابت ہی نہی ہے۔ اور جیسا کہ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے : 
اذا سمعتم المؤذن فقولوا مثلها (جب تم مؤذن سے سنو تو تم بھی اسی طرح دہراؤ). 
یعنی قد قامت الصلاة کے جواب میں قد قامت الصلاة ہی کہے جیسا کہ اذان فجر میں الصلوۃ خیر من النوم کے جواب میں الصلوۃ خیر من النوم ہی کہے گا۔) (مجموع الفتاوی)

اس کے برعکس حنفی مفتیان اقامھا الله و ادامھا کہنے کو درست قرار دیتے ہیں اور مذکورہ کلمات کو نبی کریم ﷺ سے ثابت شدہ ہونے کا بے دلیل فتویٰ بھی جاری کرتے ہیں۔ 

چنانچہ علامہ یوسف بنوری حنفی دیوبندی کا فتوی ملاحظہ کریں، جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ " قدقامت الصلاة" اور" الصلاة خیر من النوم" کے جواب میں جو کلمات ہم پڑھتے ہیں، اس کا ثبوت کہاں سے ہے؟ کیوں کہ بعض تحریرات سے اندازہ ہوا کہ یہ دونوں کلمات صحیح احادیث سے ثابت نہیں ہیں. براہِ کرم تفصیل سے راہ نمائی فرمادیں!

جواب: 
"قد قامت الصلاة" کے جواب میں "أقامها الله و أدامها" کہنا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے البتہ "الصلاة خير من النوم" کے جواب میں "صدقت و بررت" کہنے کا ثبوت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین سے ثابت نہیں ہے۔ امام ابو داؤد رحمہ اللہ نے اپنی سنن میں نقل کیا ہے:

" حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَوْ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ بِلَالًا أَخَذَ فِي الْإِقَامَةِ، فَلَمَّا أَنْ قَالَ: قَدْ قَامَتْ الصَّلَاةُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَقَامَهَا اللَّهُ وَأَدَامَهَا، و قَالَ فِي سَائِرِ الْإِقَامَةِ كَنَحْوِ حَدِيثِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الْأَذَانِ."

مذکورہ روایت کی سند پر اگرچہ محدثین نے کلام کیا ہے، تاہم مذکورہ روایت جمہور فقہاءِ کرام کے نزدیک مقبول ہے، اور جس روایت کو جمہور اہلِ علم قبول کرلیں اس سے استدلال درست ہے، اس وجہ سے مذکورہ الفاظ سے جواب دینے کو مستحب قرار دیا ہے؛ لہذا مذکورہ الفاظ سے جواب دینے کو بے اصل قرار دینا درست نہیں۔ 

دارالافتاء
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری 
فتوی نمبر: 143909201320

مذکورہ فتوے سے ظاہر ہے کہ سوال میں اقامھا الله و ادامھا کہنے کے متعلق صحیح احادیث کا مطالبہ کیا گیا تھا تو فتوے میں اپنے موقف کے متعلق کسی صحیح حدیث کا حوالہ دیا جاتا۔ لیکن کسی صحیح حدیث کا حوالہ دیے بغیر جس طرح تلبیس و تدلیس کا سہارا لیا گیا وہ قابل تعجب ہے۔ 
مفتی صاحب لکھتے ہیں: 

"مذکورہ روایت کی سند پر اگرچہ محدثین نے کلام کیا ہے، تاہم مذکورہ روایت جمہور فقہاءِ کرام کے نزدیک مقبول ہے، اور جس روایت کو جمہور اہلِ علم قبول کرلیں اس سے استدلال درست ہے۔"
لیکن۔۔۔۔۔۔ 

جمہور فقہاء کے نزدیک اس روایت کے مقبول ہونے کا دعویٰ بلا دلیل ہے۔ 

جس روایت کو اصول حدیث اور معیار محدثین پر ضعیف قرار دیا گیا ہو اسے کس دنیا کے جمہور اہل علم نے صحیح قرار دیا ہے؟ 
 
کیا مفتی صاحب کے جمہور اہل علم نے مل کر سند میں موجود مبہم اور نامعلوم شخص کا پتہ لگا لیا ہے؟ 
 
کیا اس جمہور اہل علم میں سے کسی نے مفتی صاحب کو اس نامعلوم شخص کا پتہ دے دیا ہے؟ 

کیا مفتی صاحب اس نامعلوم راوی کا پتہ اب امت کو دے سکتے ہیں؟ 

آپ کے جمہور فقہاء میں سے کس فقیہ نے اس روایت کو صحیح قرار دیا یے؟ 

اس کتاب کا نام کیا ہے جس میں اس روایت کو اس فقیہ نے صحیح قرار دیا ہے۔ 

محدثین اور اصول محدثین کے خلاف فقہاء کا راگ الاپنے والے احناف ذرا اپنے اکابر کا فتویٰ بھی ملاحظہ کرلیں۔ 

چنانچہ ملا علی قاری حنفی تذکرۃ الموضوعات میں فرماتے ہیں: 

"صاحب ہدایہ یا دوسرے شارحین ہدایہ کا کوئی اعتبار نہیں ہے کیونکہ یہ فقہاء ہیں ، محدثین نہیں ہیں "

اس بات کو نقل کرنے کے بعد مولانا عبدالحئ حنفی فرماتے ہیں: 

ملا علی قاری کی تحریر سے ایک بہت مفید بات معلوم ہوئی وہ یہ کہ فقہ کی کتابیں اگرچہ اپنی جگہ مسائل فقہی میں معتبر ہیں اور اگرچہ ان کے مصنفین بھی قابل اعتماد ہیں اور فقہاء کاملین میں سے ہیں لیکن ان سب کے باوجود ان سے جو حدیثیں نقل کی گئی ہیں ، ان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا ہے اور نہ محض ان کتابوں میں ہونے کی وجہ سے ان کے ثبوت کا یقین کیا جا سکتا ہے۔ 
مقدمہ عمد ۃ الرعایہ: 13

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه آمين!!

Tuesday, October 10, 2023

الصلوة خير من النوم کے جواب میں " صَدَقْتَ وَبَرَرْتَ " کے الفاظ ‏اور ‏دارالعلوم ‏دیوبند ‏کے ‏مفتی ‏لفاظ ‏! ‏

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محمد اقبال قاسمي سلفي

موضوع:فجر کی اذان میں "الصلوة خير من النوم"  کے جواب میں " صَدَقْتَ وَبَرَرْتَ " کے الفاظ اور دارالعلوم دیوبند کے مفتی لفاظ! 

مصادر: مختلف مراجع و مصادر! 

احناف کے یہاں عام طور سے اذان فجر کے الفاظ " الصلوة خير من النوم " کے جواب میں " صَدَقْتَ وَبَرَرْتَ " کے الفاظ سکھاۓ اور پڑھاۓ جاتے ہیں۔ جیسا کہ دارالعلوم دیوبند کے فتوے میں بھی اس کی تعلیم دی گئی ہے۔ 

چنانچہ دارالعلوم دیوبند سے جب پوچھا گیا : 
سوال: الصلاة خیر من النوم کا جواب حدیث کی روشنی میں تفصیل سے بتادیں۔

تو دارالعلوم دیوبند نے جواب دیا: 
جواب: ”الصلاة خیر من النوم” کے جواب میں ”صدقت وبررت“ یا ”ماشاء اللہ کان ومالم یشأ لم یکن“ کہنا چاہیے۔ قال في المراقي:: وفي أذان الفجر قال المجیب صدقت وبررت ․․․ أو یقول ماشاء اللہ کان وما لم یشأ لم یکن عند قول الموٴذن في أذان الفجر ”الصلاة خیر من النوم“ تحاشیًا عما یشبہ الاستہزاء (ص: ۲۰۴)

دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتوی نمبر: 50760

لیکن " الصلوۃ خیر من النوم" کے جواب میں صَدَقْتَ وَبَرَرْتَ کے الفاظ کہنا کسی بھی مستند اور معتبر حوالے میں موجود نہیں ہے۔ 

صحیح تو کیا کسی ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے جس میں یہ الفاظ مذکور ہو۔ 

نہ رسول ﷺ سے ثابت شدہ ہے۔(نہ قولاً نہ عملاً، نہ تقریرا) ۔۔۔۔ 
نہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین سے۔۔۔ 
نہ اتباع تابعین اور ائمہ محدثین رحمھم اللہ سے۔۔۔ 

حافظ ابن حجر فرماتے ہیں: 
لا أصل لما ذكروه في الصلاة خير من النوم.

(ان الفاظ کی کوئی اصل نہیں جس کو (گھڑنتو مفتیوں) نے الصلوۃ خیر من النوم کے جواب میں لکھا ہے۔ 

 التلخيص الحبير (1/222) 

ملا علی قاری حنفی کہتے ہیں: 
ليس له أصل، وكذا قولهم عند قول المؤذن: (الصلاة خير من النوم): صدقت وبررت وبالحق نطقت.

الصلوۃ خیر من النوم کے جواب میں صدقت و بررت و بالحق نطقت کہنے کی کوئی اصل نہی ہے۔ 

ابن ملقن کہتے ہیں: لم أقف عليه في كتب الحديث۔

الصلوۃ خیر من النوم کے جواب میں صدقت و بررت کے الفاظ مجھے کسی بھی کتب حدیث میں نہیں ملے۔ 

علامہ دمیری لکھتے ہیں 
وادعى ابن الرفعة أن خبرا ورد فيه لا يعرف قائله.

جو روایت اس قول کے ثبوت میں وارد ہے اس کی کوئی اصل نہیں

( ابن الملقن في تخريج أحاديث الرافعي) 

جناب مولوی عاشق الٰہی بلند شہری دیوبندی صاحب لکھتے ہیں: 
الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ کے جواب میں کوئی خاص کلمات کہنا ثابت نہیں ہے۔ قُولْوا مِثْلَ مَا یَقُولْ (اسی طرح کہو جیسے مؤذن کہے) کا تقاضہ یہ ہے کہ جواب دینے والا بھی ‏‏‏‏‏‏الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ کہے اور اس سے اپنے نفس کو خطاب کرے اور حنفیہ شافعیہ کی کتابوں میں جو یہ لکھا ہے کہ اس کے جواب میں صَدَقْتَ وَبَرَرْتَ کہے، اس کی کوئی اصل نہیں۔ “ ( حاشیہ حصن حصین از عاشق الٰھی دیوبندی : 255 )

علامہ یوسف بنوری حنفی دیوبندی پاکستانی نے بھی اپنے فتوے میں اس کے ثبوت سے انکار کیا ہے: 

چنانچہ لکھتے ہیں: "الصلاة خير من النوم" کے جواب میں "صدقت و بررت" کہنے کا ثبوت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین سے ثابت نہیں ہے۔ 

دارالافتاء
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر:143909201320

لیکن افسو ! آج صوفی سنتوں کے من گھڑت قصے کہانیوں پر آمنا و صدقنا کہنے والے دیوبندی اور رضاخانی مفتیوں کا ٹولہ اپنے گھر کے فتوے سے بے خبر، عوام کو بدعت و ضلالت کی دعوت دینے پر تلا ہوا ہے۔ 
حد تو یہ ہے کہ دارالعلوم دیوبند جیسے ادارے سے جب الصلوۃ خیر من النوم کا جواب حدیث کی روشنی میں دریافت کیا جاتا ہے تو حدیث کی روشنی میں جواب دینے کے بجائے جس تقلیدی کلا بازی کا مظاہرہ کیا ہے وہ ہر متبع سنت کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ 

وہ سوال و جواب ملاحظہ کریں۔ 

سوال: الصلاة خیر من النوم کا جواب حدیث کی روشنی میں تفصیل سے بتادیں۔

تو دارالعلوم دیوبند نے جواب دیا: 
جواب: ”الصلاة خیر من النوم” کے جواب میں ”صدقت وبررت“ یا ”ماشاء اللہ کان ومالم یشأ لم یکن“ کہنا چاہیے۔ قال في المراقي:: وفي أذان الفجر قال المجیب صدقت وبررت ․․․ أو یقول ماشاء اللہ کان وما لم یشأ لم یکن عند قول الموٴذن في أذان الفجر ”الصلاة خیر من النوم“ تحاشیًا عما یشبہ الاستہزاء (ص: ۲۰۴)

دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتوی نمبر: 50760

جیساکہ آپ نے بخوبی اس فتوے کو ملاحظہ کرلیا ۔ 

کیا سائل کے سوال اور منشاء کو مد نظر رکھتے ہوئے دارالعلوم دیوبند کو اپنے فتوے میں کسی حدیث کا حوالہ نہیں دینا چاہیے یا سائل کو یہ نہیں بتانا چاہیے تھا کہ اس سلسلے میں رسول ﷺ سے کوئی حدیث وارد ہے کہ نہیں ؟؟
اور در اصل سوال کے طریقے سے سائل کا منشا بھی یہی ظاہر ہوتا کہ وہ اس عمل کے متعلق حدیث رسول ﷺ سے دلیل کا طالب ہے۔
یہ کیسا فتوی ہے جس میں نہ قرآن ہے نہ حدیث ہے نہ اجماع ہے نہ قیاس ہے۔ 
یہ سراسر دین میں اختراع نہیں تو کیا ہے؟ 
ایسے ہی شریعت ساز مفتیوں کے متعلق اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا : 
اَمْ لَـهُـمْ شُرَكَآءُ شَرَعُوْا لَـهُـمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا لَمْ يَاْذَنْ بِهِ اللّـٰهُ ۚ وَلَوْلَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِىَ بَيْنَـهُـمْ ۗ وَاِنَّ الظَّالِمِيْنَ لَـهُـمْ عَذَابٌ اَلِـيْـمٌ (21)

کیا ان کے اور شریک ہیں جنہوں نے ان کے لیے دین کا وہ طریقہ نکالا ہے جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی، اور اگر فیصلہ کا وعدہ نہ ہوا ہوتا تو ان کا دنیا ہی میں فیصلہ ہوگیا ہوتا، اور بے شک ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے
(سورہ شوری : آیت نمبر : 21) 
 اور ایسے شریعت ساز رہبانیوں کو اپنا مفتی ماننے والے تقلیدی عوام الناس کے متعلق اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا: 

اِتَّخَذُوۡۤا اَحۡبَارَهُمۡ وَرُهۡبَانَهُمۡ اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَالۡمَسِيۡحَ ابۡنَ مَرۡيَمَ‌ ۚ وَمَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِيَـعۡبُدُوۡۤا اِلٰهًا وَّاحِدًا‌ ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ‌ ؕ سُبۡحٰنَهٗ عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ‏ ۞
ترجمہ:

انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے علماء اور پیروں کو خدا بنا لیا ہے اور مسیح ابن مریم کو (بھی) حالانکہ ان کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ یہ صرف ایک خدا کی عبادت کریں، اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے وہ ان کے خود ساختہ شرکاء سے پاک ہے۔ 
(سورہ توبہ آیت نمبر: 31)

اب ایسے من گھڑت عمل کے بارے میں اللہ کے رسول ﷺ کا فتوی بھی ملاحظہ کریں: 

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا : مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ.
جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا طریقہ نہیں تھا تو وہ عمل مردود ہے۔ 
(صحیح مسلم : حدیث نمبر : 4493)

واضح ہو کہ الصلوۃ خیر من النوم کے جواب میں الصلوۃ خیر من النوم کے الفاظ ہی دہراۓ جائیں گے، کیونکہ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے۔ إِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَاءَ ، فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ المُؤَذِّنُ۔ 
جب تم اذان سنو تو وہی دہراؤ جو مؤذن کہ رہا ہے۔ 

(صحیح بخاری: حدیث نمبر : 611) 

ان الفاظ کے عموم سے پتہ چلتا ہے کہ اذان سننے والا بعینہ وہی الفاظ دہراۓ جو مؤذن کہ رہا ہے۔ صرف دو کلمات اذان صحیح احادیث سے مستثنیٰ ہیں۔ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ ، اور حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، ان کے جواب میں ‏‏‏‏ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ کہا جائے گا۔
 
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب مؤذن اللہ اکبر ، اللہ اکبر کہے تو تم میں سے ( ہر ) ایک اللہ اکبر اللہ اکبر كہے ، پھر وہ ( مؤذن ) کہے أشهد أن لا الہ إلا الله تو وہ بھی کہے : أشهد أن لا إله إلا الله پھر ( مؤذن ) أشهد أن محمد رسول الله کہے تو وہ بھی أشهد أن محمدا رسول الله کہے ، پھر وہ ( مؤذن ) حي على الصلاة کہے تو وہ لا حول ولا قوة إلا بالله کہے ، پھر مؤذن حي على الفلاح کہے ، تو وہ لا حول ولا قوة إلا بالله کہے ، پھر ( مؤذن ) اللہ اکبر اللہ اکبر کہے ، تو وہ بھی اللہ اکبر اللہ اکبر کہے ، پھر ( مؤذن ) لا إله إلا الله کہے تو وہ بھی اپنے دل سے لا إله إلا الله کہے تو وہ جنت میں داخل ہو گا ۔‘‘ 
(صحیح مسلم : حدیث نمبر: 385) 

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه آمين!!

Monday, October 9, 2023

موضوع: جنید بغدادی اور شیخ عبدالقادر جیلانی کے دریا پار کرانے کا رضاخانی اور تھانوی تنتر! ‏

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محمد اقبال قاسمي سلفي

موضوع: جنید بغدادی اور شیخ عبدالقادر جیلانی کے دریا پار کرانے کا رضاخانی اور تھانوی تنتر! 

مصادر: مختلف مراجع و مصادر
صوفی سنتوں کے من گھڑت قصے کہانیوں پر چلنے والے 
قبر پرست دیوبندی اور رضاخانی مقررین کو اپنے بزرگوں سے منسوب اکثر شرکیہ اور من گھڑت  قصے کہانیاں بیان کرتے ہوئے سنا جاتا ہے۔ 
ان ہی میں سے جنید بغدادی کے دریائے دجلہ پار کرنے کا واقعہ ہے۔ 
چنانچہ احمد رضا خان سے سوال کیا گیا: 
عرض: حضور! یہ واقعہ کس کتاب میں ہے کہ حضرت سید الطائفہ جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے یا اللہ فرمایا اور دریا سے اتر گئے پورا واقعہ یاد نہیں۔ 

تو مولوی احمد رضا خان نے جواب دیا 
ارشاد : غالباً حدیقہ ندیہ میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیدی جنید بغدادی دجلہ پر تشریف لائے اور یااللہ کہتے ہوئے اس پر زمین کے مثل چلنے لگے بعد کو ایک شخص آیا اسے بھی پار جانے کی ضرورت تھی کوئی کشتی اس وقت موجود نہیں تھی جب اس نے حضرت کو جاتے دیکھا، عرض کی میں کس طرح آؤں، فرمایا یاجنید یاجنید کہتا چلا آ، اس نے یہی کیا اور دریا پر زمین کی طرح چلنے لگا جب بیچ دریا میں پہنچا شیطان لعین نے دل میں وسوسہ ڈالا کہ حضرت خود تو یااللہ کہیں اور مجھ سے یاجنید یاجنید کہلواتے ہیں، میں بھی یااللہ کیوں نہ کہوں. اس نے یااللہ کہا اور ساتھ ہی غوطہ کھایا. پکارا حضرت میں چلا، فرمایا وہی کہہ یاجنید یاجنید جب کہا دریا سے پار ہوا.
(ملفوظات احمد رضا خان بریلوی جلد:1 ص:124)

اسی طرح کا واقعہ غالی صوفی اشرف علی تھانوی نے بھی  اپنی کتاب امداد المشتاق میں لکھا ہے کہ : 
ایک دن حضرت غوث الاعظم اپنے سات اولیاء اللہ کے ہمراہ بیٹھے ہوے تھے۔ ناگاہ نظر بصیرت سے ملاحظہ فرمایا کہ ایک جہاز قریب غرق ہونے کے ہے آپ نے ہمت و توجہ باطنی سے اس کو غرق ہونے سے بچالیا ۔ 

یہ دونوں واقعات موضوع، من گھڑت اور بے بنیاد ہے۔ 

پہلا واقعہ جسے احمد رضا خان نے الملفوظ میں بیان فرمایا ہے وہ جنید بغدادی کی طرف منسوب ہے۔جنید بغدادی کی ولادت تیسری صدی ہجری کے اوائل 210ھج اور 220 ھجری بمطابق 830 عیسوی کے درمیان ہوئی ہے۔ جبکہ احمد رضا خان 18 جون 1856 عیسوی کو پیدا ہونے والے انیسوی صدی عیسوی کے عجوبہ روزگار ہیں۔ بالفاظ دیگر جنید بغدادی اور احمد رضا خان کے درمیان ہزاروں سال کا فاصلہ ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اس واقعے کے رونما ہونے کے وقت احمد رضا خان کا اس دنیا فانی میں وجود ہی نہیں تھا کہ وہ اس واقعے کا از خود ملاحظہ کرتے اور نہ ہی اس واقعہ کا کوئی سند اور حوالہ ہی پیش کیا ہے۔ 

لیکن ایسے بے بنیاد واقعات کو رد کرنے کے بجائے کس طرح تائید کی جاتی ہے ذرا نیچے کے فتوے میں اسے ملاحظہ کریں۔ 

کیا فرماتے ہیں مفتیان دین وملت اس مسئلے میں کہ زید نے یا جنید یا جنید کہہ کر دریا پار کرنے کا واقعہ اپنی تقریر میں بیان کیا جسے المفوظ حصہ اول میں حضور مفتی اعظم ہند مصطفیٰ رضا خاں علیہ الرحمۃ والرضوان نے تحریر فرمایا ہے۔ بکر اس واقعے کو بے بنیاد اور بے اصل کہتا ہے اور اسے گمراہ کن قرار دیتا ہے اور حوالے میں فتاویٰ رضویہ جلد ۲ ص ۲۹۵ کی یہ عبارت پیش کرتا ہے کہ یہ غلط ہے کہ سفر میں دریا ملا بلکہ دجلہ ہی کے پار جانا تھا اور یہ بھی زیادہ ہے کہ میں اللہ اللہ کہتا چلوں گا اور محض افترا ہے کہ انھوں نے فرمایا تو اللہ اللہ مت کہہ یا جنید کہنا الخ۔ اور الملفوظ کو غیر مستند کہتا ہے۔

دریافت طلب امر یہ ہے کہ زید کا واقعۂ مذکور بیان کرنا درست ہے یا نہیں؟ اور بکر کا قول کیسا ہے؟ بینوا توجروا 
المستفتی: محمد اسحاق قادری، ڈھلمئو شریف، ڈاکخانہ التفات گنج، امبیڈکر نگر

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الجواب:

یا جنید یا جنید کہہ کر دریا پار کرنے کا واقعہ مجدد اعظم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی رضی عنہ ر بہ القوی کا بیان فرمانا اور امام الفقہا حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمة والرضوان کا اسے الملفوظ میں تحریر فرمانا واقعۂ مذکورہ کے مستند ہونے کی کھلی ہوئی دلیل ہے۔ لہذا زید کا اس کو بیان کرنا درست ہے۔ اور بکر کا اس واقعہ کو بے بنیاد و بے اصل کہنا اور اسے گمراہ کن قرار دینا غلط ہے۔ اور ثبوت میں عبارت مذکورہ کا پیش کرنا صحیح نہیں اس لیے کہ اعلیٰ حضرت نے اصل واقعہ کو غلط قرار نہیں دیا ہے بلکہ سوال میں جتنی باتیں خلاف واقعہ تھیں صرف ان کا غلط ہونا ظاہر فرمایا ہے۔

اگر کوئی کہے کہ یا جنید یا جنید کہے تو نہ ڈوبے اور اللہ اللہ کہے تو ڈوب جائے یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ تو ایسا کہنے والے کو صوبہ مہاراشٹر میں پونہ بھیج دیا جائے کہ اس شہر کے قریب حضرت قمر علی درویش رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا مزار مبارک ہے۔ وہاں ایک بڑا گول پتھر ہے جس کا وزن نوے کلو بتایا جاتا ہے وہ ”قمر علی درویش“ کہنے پر انگلیوں کے معمولی سہارا دینے سے اوپر اٹھتا ہے اور اللہ کہنے سے نہیں اٹھتا۔ میں بذات خود اس کا تجربہ کر چکا ہوں ۔ اس میں کیا راز ہے اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ اور الملفوظ کو غیر مستند بتانا امام الفقہا حضور مفتی اعظم ہند مصطفی رضاخاں علیہ الرحمة والرضوان کی کھلی ہوئی توہین ہے۔ وهو تعالیٰ اعلم 
کتبہ: 
فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمۃ اللہ علیہ

[فتاوی فقیہ ملت المعروف بہ فتاوی مرکز تربیت افتا ج: 1، ص: 1]

اسی طرح اشرف علی تھانوی کا شیخ عبدالقادر جیلانی کی طرف منسوب واقعہ بھی بے دلیل ہونے کی وجہ سے مردود ہے، کیونکہ شیخ عبدالقادر جیلانی بارہویں صدی عیسوی کے عالم ہیں جبکہ اشرف علی تھانوی 19 اگست 1863 عیسوی کو تھانہ بھون میں پیدا ہوۓ یعنی شیخ عبدالقادر جیلانی اور اشرف علی تھانوی کے تقریباً درمیان سات سو سالوں کا فاصلہ ہے۔ شیخ عبدالقادر جیلانی کے سات سو سال بعد تھانہ بھون میں پیدا ہونے والے تھانوی صاحب کو اس واقعہ کا علم کیسے ہوا؟

سرفراز خان صفدر دیوبندی نے لکھا ہے:

’’اور امام بخاریؒ نے اپنے استدلال میں ان کے اثر کی کوئی سند نقل نہیں کی اور بے سند بات حجت نہیں ہو سکتی۔‘‘

(احسن الکلام ج1ص 327، دوسرانسخہ ص 403)

جب امام بخاری کی بیان کردہ بے سند بات حجت نہیں ہو سکتی تو یہ صوفیان کس کھیت کی مولی ہیں کہ بے دلیل ہی ان کی بات کو صحیح تسلیم کر لی جائے؟ 

نیز یہ افسانے قرآن  و حدیث میں دییے گۓ عقیدے کے بھی خلاف ہے۔ 

قرآن کریم میں تو اللہ فرماتایے: 
هُوَ الَّـذِىْ يُسَيِّـرُكُمْ فِى الْبَـرِّ وَالْبَحْرِ ۖ حَتّــٰٓى اِذَا كُنْتُـمْ فِى الْفُلْكِۚ وَجَرَيْنَ بِـهِـمْ بِـرِيْـحٍ طَيِّبَةٍ وَّفَرِحُوْا بِـهَا جَآءَتْـهَا رِيْحٌ عَاصِفٌ وَّجَآءَهُـمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّظَنُّـوٓا اَنَّـهُـمْ اُحِيْطَ بِـهِـمْ ۙ دَعَوُا اللّـٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَـهُ الـدِّيْنَ لَئِنْ اَنْجَيْتَنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُـوْنَنَّ مِنَ الشَّاكِـرِيْنَ (22)
فَلَمَّآ اَنْجَاهُـمْ اِذَا هُـمْ يَبْغُوْنَ فِى الْاَرْضِ بِغَيْـرِ الْحَقِّ ۗ يَآ اَيُّـهَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْيُكُمْ عَلٰٓى اَنْفُسِكُمْ ۖ مَّتَاعَ الْحَيَاةِ الـدُّنْيَا ۖ ثُـمَّ اِلَيْنَا مَرْجِعُكُمْ فَـنُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُـمْ تَعْمَلُوْنَ (23)
وہ وہی ہے جو تمہیں جنگل اور دریا میں سیر کرنے کی توفیق دیتا ہے، یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں بیٹھتے ہو، اور وہ کشتیاں لوگوں کو موافق ہوا کے ذریعہ سے لے کر چلتی ہیں اور وہ لوگ ان سے خوش ہوتے ہیں تو ناگہاں تیز ہوا چلتی ہے اور ہر طرف سے ان پر لہریں چھانے لگتی ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ بے شک وہ لہروں میں گھر گئے ہیں، تو سب خالص اعتقاد سے اللہ ہی کو پکارنے لگتے ہیں کہ اگر تو ہمیں اس مصیبت سے بچا دے تو ہم ضرور شکر گزار رہیں گے
کرنے لگتے ہیں، اے لوگو تمہاری شرارت کا وبال تمہاری جانوں پر ہی پڑے گا، دنیا کی زندگی کا نفع اٹھا لو، پھر ہمارے ہاں ہی تمہیں لوٹ کر آنا ہے پھر ہم تمہیں بتلا دیں گے جو کچھ تم کیا کرتے تھے
.( سورہ یونس; 22,23) 
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ مشکل گھڑی میں کفار مکہ بھی خالص اللہ کو ہی پکارتے تھے گویا کفار مکہ اللہ ہی کو مشکل کشا ہونے کا عقیدہ اوریقین رکھتے تھے۔ لیکن رضا خانی اور تھانوی افسانہ یہ بتا رہاہے کہ مشکل کشائی میں  جنید بغدادی اور شیخ عبدالقادر جیلانی بھی شریک ہے۔ 

نیز یہ دونوں واقعے کسی بھی معتبر اور مستند حوالے میں موجود نہیں ہے۔ 

جبکہ  مشہور محدث امام ابن ابی حاتم ؒ(المتوفی327ھ ) فرماتے ہیں :
ثقہ محدث یونس بن عبدالاعلیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت امام شافعی ؒ سے عرض کی کہ امام لیثؒ بن سعد(جو مصر کے جلیل القدر فقیہ ہیں ) فرماتے ہیں :اگر تم کسی کو پانی (یعنی دریا یا سمندر ) پر چلتا بھی دیکھو تو اس پر اعتماد نہ کرو اور اس کے متعلق دھوکے میں نہ پڑو ، تو امام شافعیؒ نے فرمایا کہ امام لیثؒ نے پوری بات نہیں فرمائی جو یہ ہے کہ اگر تم کسی کو (پانی پر چلتا اور) ہوا میں اڑتابھی دیکھو تو اس پر اعتماد نہ کرو اور اس کے متعلق دھوکے میں نہ پڑو۔" اس روایت کی اسناد بہت ہی صحیح اورمعتبر ہے "
(آداب الشافعی ومناقبہ ص141 ) سیر اعلام النبلاء (10/23)

ابو یزید بسطامی (المتوفی 261ھ) جو جنید بغدادی کے ہم عصر ہیں، فرماتے ہیں کہ : اللہ تعالیٰ کی بہت ساری مخلوق ایسی ہے جو پانی پر چلتی ہے ، اور اس وصف کے باوجود اللہ کے ہاں اس مخلوق کی کوئی قدر و قیمت نہیں ، اور اگر تم کسی ایسے آدمی کو دیکھو جسے کئی کرامات حاصل ہیں ،حتی کہ وہ ہوا میں اڑتا ہے تو اس کی کرامات سے ہرگز دھوکا نہ کھانا ۔ تاوقتیکہ جان لو کہ وہ امر ونواہی اور شریعت کا پابند ہے "۔​
ذكره الذهبي في سير اعلام النبلاء(13/87)
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه آمين!

Sunday, October 8, 2023

مولانا ‏خالد ‏سیف ‏اللہ ‏رحمانی ‏اور ‏مدارس ‏کا ‏نصاب ‏تعلیم

کچھ چیزیں ایسی ہیں، جن کی انسان کو گھڑی دو گھڑی ضرورت پڑتی ہے، اور کچھ چیزیں وہ ہیں، جن کی انسان کو ہر لمحہ ضرورت پڑتی رہتی ہے، ایسی ہی چیزوں میں علم بھی ہے، علم میں تازگی، عصریت اور ارتقاء ضروری ہے، اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات اور ارشادات کے سوا کوئی علم نہیں، جس کو دوام اور ہمیشگی حاصل ہو، جو چیز اپنے زمانے کا ساتھ نہ دے اُسے پس پشت ڈال دیا جاتا ہے، ہم لوگوں نے اپنی مختصر سی عمر میں دیکھا کہ ایک زمانہ میں جوتے چپل کی دنیا میں باٹا(BATA ) کا نام سکہ رائج الوقت تھا، ہر آدمی اسی کمپنی کا جوتا چپل لینا چاہتا تھا، یہ اور بات ہے کہ بعض لوگ گراں ہونے کی وجہ سے اس کے لینے سے قاصر رہتے تھے؛ لیکن باٹا نے اپنے ماضی کی شہرت ومقبولیت پر تکیہ کر لیا اور بدلتے ہوئے مزاج کے مطابق نئے ڈیزائن اور نئی سہولتوں کی طرف توجہ نہیں دی، نتیجہ یہ ہے کہ آہستہ آہستہ اس کی مقبولیت کا گراف گرتا جا رہا ہے، ابھی کل کی بات ہے کہ موبائل کی دنیا میں نوکیا(NOKIA) بلا شرکت غیر تختۂ اقتدار پر براجمان تھا، ہر چھوٹا بڑا نوکیا کا سیٹ حاصل کرتا تھا، نوجوان فخریہ کہتے تھے کہ ان کے پاس نوکیا کا موبائل ہے؛ لیکن نوکیا والے نوشتۂ دیوار پڑھ نہیں سکے کہ کسی انسان کے زندہ رہنے کے لئے سانس لیتے ہوئے پیدا ہو جانا کافی نہیں ہے؛ بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ ہر لمحہ سانس اس کا ساتھ دے، نتیجہ یہ ہے کہ آہستہ آہستہ اس کمپنی کا نام بھی لوگوں کے ذہن سے ختم ہوگیا۔


آج مدارس ساری خوبیوں کے باوجود ایک کمی یہ ہے کہ بعض لوگوں نے نصاب تعلیم کے ہر جز کو ناقابل تبدیل سمجھ لیا؛ حالاں کہ ایسا نہیں ہے، 

 بات ظاہر ہے کہ دینی مدارس میں جو کتابیں شامل درس ہیں، وہ نصابی نقطۂ نظر سے نہیں لکھی گئی ہیں؛ لیکن اس کتاب کی افادیت کی وجہ سے اس کو داخل درس کر لیا گیا، اس زمانہ میں طلبہ اپنی تعلیم کے لئے بھی کافی وقت لگاتے تھے، اور وہ ان تمام کتابوں کو مکمل کرتے تھے، موجودہ دور میں طلبہ کی نفسیات کو سامنے رکھ کر نصابی کتابیں مرتب کی جاتی ہیں، زیادہ تر ایک فرد کے بجائے چند افراد مل کر نصاب تیار کرتے ہیں، اس میں طلبہ کی عمر کے لحاظ سے عبارتوں کو آسان بنایا جاتا ہے، مثالوں اور نقشوں کے ذریعہ مضمون کو فہم سے قریب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، بعض دفعہ یہ کام تصویروں سے لیا جاتا ہے، ہر مضمون کے ساتھ مشق اور ہوم ورک رکھا جاتا ہے؛ تاکہ تعلیم وتعلم میں طلبہ کی شرکت ہو سکے، اگر کوئی مضمون کئی سالوں میں داخل نصاب ہو تو کس سال کتنا پڑھایا جائے؟ اس کی درجہ بندی کی جاتی ہے، اس طرح طلبہ کے لئے کتابوں کا سمجھنا آسان ہو جاتا ہے، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کہ لوگوں سے ان کے فہم کے مطابق بات کرو ’’کلموا الناس علیٰ قدر عقولھم ‘‘ کے عین مطابق ہے، قرآن وحدیث اور مختلف اسلامی علوم وفنون کے بنیادی کتابوں کو چھوڑ کر اسی نہج پر کتابیں مرتب کی جائیں اور پڑھائی جائیں تو کتنا بہتر ہوگا، اس طرح بچے مشکل الفاظ میں الجھ کر نہ رہ جائیں گے اور اصل مضمون کے بجائے عبارت کو حل کرنے میں ہی ان کی صلاحیت خرچ نہ ہو جائے گی۔
کتابوں کے اوپر محنت کرنے کی ضرورت ہے، مثلاََ ذیلی عناوین لگائے جائیں ، مسلسل عبارت کے بجائے پیراگراف قائم کیا جائے، تمرینات قائم کی جائیں، جس باب میں جو نئے مسائل آئے ہیں، باب کے آخر میں ان کا اضافہ کر دیا جائے، اس طرح قدیم متن کو جوں کا توں رکھتے ہوئے اس کو موجودہ تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے، اس کے لئے ضروری ہے کہ مدارس کی مشترکہ نصاب تعلیم کمیٹی ہو، جس میں باصلاحیت فضلاء اور تجربہ کار اساتذہ مسلسل نصابی کتابوں پر نظر رکھیں؛ تاکہ ہمارا نصاب وقت کے تقاضوں کے مطابق ہو۔

 مدارس کے نظام تعلیم میں ایک بڑی ضرورت ہے کہ اس کو مراحل میں تقسیم کیا جائے، یہ طریقہ کار کہ جو ’’ میزان الصرف‘‘ کی جماعت میں داخلہ لے وہ بخاری پڑھ کر ہی مدرسہ سے باہر نکلے، ایک غیر فطری طریقہ ہے، نہ ہر طالب علم کی صلاحیت یکساں ہوتی ہے اور نہ ملت کے تمام کاموں کے لئے یکساں صلاحیت کے حامل لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے، ایک طالب علم کو آئندہ نورانی قاعدہ کی تعلیم دینا ہے، ایک کو ناظرۂ قرآن پڑھانا ہے، ایک کو عالمیت وفضیلت کی اعلیٰ کتابیں پڑھانا ہے، ایک کو عصری درسگاہوں میں اسلامیات کا ٹیچر بننا ہے، تو ان سبھوں کو ایک ہی درجہ کی صلاحیت کی ضرورت نہیں ہے؛ اس لئے ہمیں عصری تعلیمی اداروں کی طرح تعلیم کو مختلف مراحل میں تقسیم کرنا چاہئے، ہر مرحلہ کی الگ الگ سند جاری کرنی چاہئے؛ تاکہ لوگ اپنی صلاحیت کے مطابق خدمت انجام دے سکیں اور قوم وملت کے لئے مفید بن سکیں، اس تقسیم کے نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے طلبہ کو خواہی نہ خواہی عالمیت یا فضیلت تک پڑھنا پڑتا ہے، اس کے بعد اُن کے سامنے تدریس کے سوا اور کوئی راستہ نہیں ہوتا، بے صلاحیت یا کم صلاحیت اساتذہ کی یہ بھیڑ تعلیم کے معیار کو متأثر کرتی ہے، پھر جو لوگ اپنی صلاحیت کی وجہ سے تدریس میں کامیاب نہیں ہوتے ہیں، وہ بلا ضرورت مدرسہ کھول کر بیٹھ جاتے ہیں، یہ مدارس تعلیمی ادارے سے زیادہ معاش کا ذریعہ ہوتے ہیں، جن پر قوم کے ڈھیر سارے پیسے ضائع ہوتے ہیں؛ اس لئے اگر طالب علم ایک مرحلہ کو مکمل کر لے اور وہ اگلے مرحلہ کو پڑھنے کی صلاحیت رکھتا ہو تبھی اگلے مرحلہ میں اس کا داخلہ قبول کیا جائے۔

 ایک زمانہ میں دارالعلوم دیوبند میں ایک شعبہ’’ دارالصنائع ‘‘کا تھا، اس میں کچھ دستی صنعتیں سکھائی جاتی تھیں، جن میں زیر تعلیم طلبہ کا بھی داخلہ ہوتا تھا اور فارغ شدہ طلبہ کا بھی، اس زمانہ میں ہنر کی تعلیم کا دائرہ بہت محدود تھا، اب ووکیشنل کورسیز کا دائرہ بہت وسیع ہو گیا ہے، لڑکوں کے لئے بھی اور لڑکیوں کے لئے بھی، ایسے کورسیز بھی ہیں، جن کو ناخواندہ حضرات بھی سیکھ سکتے ہیں اور ان کے ذریعہ باعزت روزگار حاصل کر سکتے ہیں، جن کے پاس وقت کی کمی ہو یا جن کا ذہن اعلیٰ دینی تعلیم کے لئے ساتھ نہ دیتا ہو، یا جن پر اپنے گھر کی معاشی ذمہ داریوں کا بوجھ ہو، وہ کسی مرحلہ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایسے کورسوں میں داخلہ لے سکتے ہیں، اور حسب موقع دین کی خدمت کرتے ہوئے اپنے لئے باعزت روزگار کا راستہ نکال سکتے ہیں، اس طرح وہ اپنے آپ کو مفید تر ثابت کر سکیں گے اور سماج کے سرمایہ دار لوگوں کی تحقیر سے بھی اپنے آپ کو بچا سکیں گے، پہلے زمانہ میں مدارس میں طلبہ کی تعداد بہت کم ہوا کرتی تھی، اور خطرہ ہوتا تھا کہ اگر ان حضرات نے معاش کا کوئی اور ذریعہ اختیار کیا تو دینی خدمات کے میدان میں خلا پیدا ہو جائے گا؛ مگر اب صورت حال ایسی نہیں ہے، اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ اس وقت دیہات وقریہ جات کے لئے دینی خدمت گزار نہیں مل پاتے ہیں، جو باصلاحیت فضلاء ہوتے ہیں، وہ ایسی جگہوں پر جانا نہیں چاہتے ہیں اور جو نسبتاََ کم صلاحیت کے ہوتے ہیں، وہ اس وجہ سے نہیں جانا چاہتے ہیں کہ معاشی اعتبار سے یہ جگہیں ان کے لئے مناسب نہیں ہوتیں، تو کم تنخواہ کے ساتھ اگر وہ ہنر مند بھی ہوں تو یہ مہارت ان کے لئے زندگی کے گزران کو آسان بنا دے گی؛ اس لئے ضرورت ہے کہ مدارس میں چھوٹے پیمانہ کی صنعت کی تعلیم دی جائے، اگر بزنس مینجمنٹ کا چھوٹا موٹا کورس مرتب کیا جا سکتا ہو تو اسے پڑھایا جائے اور ان کی ایسی تربیت کی جائے کہ وہ اپنی دینی شناخت کے ساتھ مختلف میدانوں میں کام کر سکیں۔

 یہ بہت خوش آئند بات ہے کہ اس وقت ہندوستان کی بعض مرکزی دینی جامعات سے یہ آواز اٹھ رہی ہے کہ دینی مدارس میں عصری تعلیم شامل ہونی چاہئے؛ بلکہ میٹرک تک کی تعلیم ضرور ہی ہونی چاہئے، متعدد مدارس نے اپنے بچوں کو اوپن اسکول سے میٹرک اور انٹر کا امتحان دلانا شروع کیا ہے اور ماشاء اللہ مدارس کے طلبہ نے اچھے نتائج حاصل کئے ہیں، کاش، کم سے کم آج سے پچاس سال پہلے یہ کوشش شروع کی گئی ہوتی تو آج کی صورت حال بہت مختلف ہوتی، ہندوستان میں علماء کی ایسی نسل موجود ہوتی جو زندگی کے تمام گوشوں میں انسانیت کی رہنمائی کرت






Wednesday, October 4, 2023

موضوع: امام نے بھول کر چار رکعت والی نماز میں تیسری رکعت پر سلام پھیر دیا! ‏

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محمد اقبال قاسمي سلفي

موضوع: امام نے بھول کر تیسری رکعت پر سلام پھیر دیا! 

مصادر : مختلف مراجع و مصادر! 

صوفی سنتوں کے قصے کہانیوں پر عمل کرنے والی دیوبندی اور رضاخانی مساجد میں یہ مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ چار رکعت والی نماز میں بھول کر اگر تیسری رکعت پر امام نے سلام پھیر دیا تو ہنگامہ آرائی کرنے کے ساتھ پوری نماز پھر سے دہرائی جاتی ہے ۔ 
چنانچہ حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح (ص: 473) میں یہ حنفی مسئلہ درج ہے:

"مصل رباعية" فريضة "أو ثلاثية" ولو وتراً "أنه أتمها فسلم ثم علم" قبل إتيانه بمناف "أنه صلى ركعتين" أو علم أنه ترك سجدةً صلبيةً أو تلاويةً "أتمها" بفعل ما تركه "وسجد للسهو" لبقاء حرمة الصلاة.

حاصل المسألة أنه إذا سلم ساهياً على الركعتين مثلاً وهو في مكانه ولم يصرف وجهه عن القبلة ولم يأت بمناف عاد إلى الصلاة من غير تحريمة وبنى على ما مضى وأتم ما عليه". 

یعنی: گر کوئی شخص بھول کر تمام رکعات مکمل کرنے سے پہلے ایک طرف یا دونوں طرف سلام پھیردے، تو جب تک اس نے سلام پھیر کر نماز کے منافی کوئی کام نہ کیا ہو، یعنی کسی سےکوئی بات چیت نہ کی ہو اور اپنے سینے کو قبلہ رخ سے بھی نہ پھیرا ہو، اور اٹھ کر چلنا نہ شروع کیا ہو، کچھ کھایا پیا نہ ہو، دوسری نماز شروع نہ کی ہو وغیرہ اور اس کے بعد خود یاد آنے پر یا کسی مقتدی کے تسبیح پڑھنے پر فوراً کھڑے ہوکر نماز مکمل کر لے اور آخر میں سجدہ سہو کرلے تو اس کی نماز درست ہو جائے گی، اعادہ کی ضرورت نہیں ہے، اسی طرح اگر صرف سجدہ سہو رہ گیا ہو تو سجدہ سہو بھی ادا کر سکتا ہے۔

لیکن یہ حنفی تقلیدی تفصیل سراسر اس نبوی طریقے کے خلاف ہے جو کتب احادیث میں نبی کریم ﷺ سے مذکور ہے۔ 


حضرت ابو ہریرەؓ سے روایت ہے: 
 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنَ اثْنَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ:‏‏‏‏ أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّاسُ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى اثْنَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ كَبَّرَ فَرَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ.

حضرت ابو ہریرەؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( ظہر یا عصر کی ) دو رکعت پڑھ کر ( مقتدیوں کی طرف ) پلٹے تو ذوالیدین نے آپ سے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں؟“ لوگوں نے عرض کیا: ہاں ( آپ نے دو ہی رکعت پڑھی ہیں ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آخری دونوں رکعتیں پڑھیں پھر سلام پھیرا، پھر اللہ اکبر کہا، پھر اپنے پہلے سجدہ کی طرح یا اس سے کچھ لمبا سجدہ کیا، پھر اللہ اکبر کہا اور سر اٹھایا، پھر اپنے اسی سجدہ کی طرح یا اس سے کچھ لمبا سجدہ کیا۔ ( یعنی سجدہ سہو کیا )  
 
(سنن ترمذی: حدیث نمبر: 399) 

وَفِي الْبَاب عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ،‏‏‏‏ وَابْنِ عُمَرَ،‏‏‏‏ وَذِي الْيَدَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْكُوفَةِ:‏‏‏‏ إِذَا تَكَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ نَاسِيًا أَوْ جَاهِلًا أَوْ مَا كَانَ فَإِنَّهُ يُعِيدُ الصَّلَاةَ، ‏‏‏‏‏‏وَاعْتَلُّوا بِأَنَّ هَذَا الْحَدِيثَ كَانَ قَبْلَ تَحْرِيمِ الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَأَمَّا الشَّافِعِيُّ فَرَأَى هَذَا حَدِيثًا صَحِيحًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ:‏‏‏‏ هَذَا أَصَحُّ مِنَ الْحَدِيثِ الَّذِي رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّائِمِ إِذَا أَكَلَ نَاسِيًا فَإِنَّهُ لَا يَقْضِي وَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ رَزَقَهُ اللَّهُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الشافعي:‏‏‏‏ وَفَرَّقَ هَؤُلَاءِ بَيْنَ الْعَمْدِ وَالنِّسْيَانِ فِي أَكْلِ الصَّائِمِ بِحَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ أَحْمَدُ فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ:‏‏‏‏ إِنْ تَكَلَّمَ الْإِمَامُ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ قَدْ أَكْمَلَهَا ثُمَّ عَلِمَ أَنَّهُ لَمْ يُكْمِلْهَا يُتِمُّ صَلَاتَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ تَكَلَّمَ خَلْفَ الْإِمَامِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّ عَلَيْهِ بَقِيَّةً مِنَ الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏فَعَلَيْهِ أَنْ يَسْتَقْبِلَهَا، ‏‏‏‏‏‏وَاحْتَجَّ بِأَنَّ الْفَرَائِضَ كَانَتْ تُزَادُ وَتُنْقَصُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّمَا تَكَلَّمَ ذُو الْيَدَيْنِ وَهُوَ عَلَى يَقِينٍ مِنْ صَلَاتِهِ أَنَّهَا تَمَّتْ، ‏‏‏‏‏‏وَلَيْسَ هَكَذَا الْيَوْمَ لَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يَتَكَلَّمَ عَلَى مَعْنَى مَا تَكَلَّمَ ذُو الْيَدَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏لِأَنَّ الْفَرَائِضَ الْيَوْمَ لَا يُزَادُ فِيهَا وَلَا يُنْقَصُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَحْمَدُ نَحْوًا مِنْ هَذَا الْكَلَامِ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ إِسْحَاق نَحْوَ قَوْلِ أَحْمَدَ فِي هَذَا الْبَابِ.
 
ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے۔ 
اس باب میں عمران بن حصین، ابن عمر، ذوالیدین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ 
اس حدیث کے بارے میں اہل علم کے مابین اختلاف ہے۔ بعض اہل کوفہ کہتے ہیں کہ جب کوئی نماز میں بھول کر یا لاعلمی میں یا کسی بھی وجہ سے بات کر بیٹھے تو اسے نئے سرے سے نماز دہرانی ہو گی۔ وہ اس حدیث میں مذکور واقعہ کی تاویل یہ کرتے ہیں کہ یہ واقعہ نماز میں بات چیت کرنے کی حرمت سے پہلے کا ہے ۔
رہے امام شافعی تو انہوں نے اس حدیث کو صحیح جانا ہے اور اسی کے مطابق انہوں نے فتویٰ دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ حدیث اُس حدیث سے زیادہ صحیح ہے جو روزہ دار کے سلسلے میں مروی ہے کہ جب وہ بھول کر کھا لے تو اس پر روزہ کی قضاء نہیں، کیونکہ وہ اللہ کا دیا ہوا رزق ہے۔ شافعی کہتے ہیں کہ ان لوگوں نے روزہ دار کے قصداً اور بھول کر کھانے میں جو تفریق کی ہے وہ ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث کی وجہ سے ہے، ۵- امام احمد ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر امام یہ سمجھ کر کہ اس کی نماز پوری ہو چکی ہے کوئی بات کر لے پھر اسے معلوم ہو کہ اس کی نماز پوری نہیں ہوئی ہے تو وہ اپنی نماز پوری کر لے، اور جو امام کے پیچھے مقتدی ہو اور بات کر لے اور یہ جانتا ہو کہ ابھی کچھ نماز اس کے ذمہ باقی ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اسے دوبارہ پڑھے، انہوں نے اس بات سے دلیل پکڑی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں فرائض کم یا زیادہ کئے جا سکتے تھے۔ اور ذوالیدین رضی الله عنہ نے جو بات کی تھی تو وہ محض اس وجہ سے کہ انہیں یقین تھا کہ نماز کامل ہو چکی ہے اور اب کسی کے لیے اس طرح بات کرنا جائز نہیں جو ذوالیدین کے لیے جائز ہو گیا تھا، کیونکہ اب فرائض میں کمی بیشی نہیں ہو سکتی۔ احمد کا قول بھی کچھ اسی سے ملتا جلتا ہے، اسحاق بن راہویہ نے بھی اس باب میں احمد جیسی بات کہی ہے۔ 

اس حدیث میں مذکور واقعے کے متعلق یہ دعویٰ کرنا کہ یہ نماز میں بات چیت کے ممنوع قرار دیے جانے سے پہلے کا واقعہ ہے، بے دلیل ہے۔ 

کیونکہ اس حدیث کے راوی صحابی رسول ذو الیدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات، نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد ہوئی ہے۔ 
جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: أما ذو اليدين فتأخر بعد النبي صلى الله عليه وسلم بمدة لأنه حدث بهذا الحديث بعد النبي صلى الله عليه وسلم كما أخرجه الطبراني وغيره وهو سلمي واسمه الخرباق 
فتح الباري لابن حجر (3/ 97)
ذو الیدین تو حضور صلی اللہ علیہ کی وفات کے بعد تک رہے کیونکہ اس کے بعد بھی انہوں نے اس حدیث کو بیان کیا جیساکہ طبرانی وغیرہ میں موجود ہے ، ان کا نام خرباق سلمی ہے ۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے طبرانی کی جس روایت کی طرف اشارہ کیا ہے وہ (مسند الشاميين للطبراني (4/ 42)
میں ہے، جس میں ابن سیرین خرباق سلمی سے براہ راست روایت کر رہے ہیں ، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ذو الیدین بدر میں شہید نہیں ہوئے تھے ، بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد تک زندہ رہے ، لہذا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور ذو الیدین کا کسی واقعہ میں شریک ہونا کوئی محال نہیں۔ 

علامہ صنعاني سبل السلام (2/ 214) میں لکھتے ہیں: 

وَفِي رِوَايَةٍ " رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ " الْخِرْبَاقُ بْنُ عَمْرٍو بِكَسْرِ الْخَاءِ الْمُعْجَمَةِ وَسُكُونِ الرَّاءِ فَبَاءٍ مُوَحَّدَةٍ، آخِرُهُ قَافٌ لَقَبُ ذِي الْيَدَيْنِ، لِطُولٍ كَانَ فِي يَدَيْهِ، وَفِي الصَّحَابَةِ رَجُلٌ آخَرَ يُقَالُ لَهُ ذُو الشِّمَالَيْنِ هُوَ غَيْرُ ذِي الْيَدَيْنِ، وَوَهَمَ الزُّهْرِيُّ فَجَعَلَ ذَا الْيَدَيْنِ وَذَا الشِّمَالَيْنِ وَاحِدًا، وَقَدْ بَيَّنَ الْعُلَمَاءُ وَهْمَهُ۔

اور ایک روایت میں خرباق بن عمرو یے جنہیں ذوالیدین بھی کہا جاتا ہے۔ اور ذوالیدین کے علاوہ ایک دوسرے صحابی بھی تھے جنہیں ذو الشمالین کہاجا تا تھا۔ لیکن امام زہری کو وہم ہوا اور انہوں نے ذوالیدین اور ذو الشمالین کو ایک ہی قرار دے دیا، جس وہم کو علماء محدثین نے ظاہر کردیا ہے۔ 

نیز اس حدیث کے راوی ابو ہریرەؓ ہیں جو غزوہ بدر کے بعد خیبر کے سال سنہ سات ہجری میں مسلمان ، معاویہ بن حدیج اس حدیث کے راوی ہیں جو سنہ دس ہجری میں مسلمان ہوے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ واقعہ مدینے میں پیش آیا۔ 


علامہ بن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں: 
إذا سلم الرجل، أو المرأة من ثنتين في الظهر، أو العصر، أو العشاء، أو المغرب ناسيًا، ثم تذكر؛ يتم الصلاة فقط، يقوم، ويأتي بما بقي، ويسجد للسهو بعد السلام، يسلم بعد التحيات، وبعد الدعاء، ثم يسجد للسهو سجدتين بعد السلام، هذا هو الأفضل، كما فعله النبي ﷺ فإنه في بعض الصلوات سلم من ثنتين في الظهر، أو العصر، ثم نبه؛ فقام، وكمل -عليه الصلاة والسلام- فلما كمل وسلم؛ سجد للسهو بعد السلام سجدتين، وإن سجد قبل السلام؛ أجزأ ذلك، ولا حرج، لكن الأفضل بعد السلام لفعله، عليه الصلاة والسلام.

جب کوئی ظہر، عصر،مغرب، عشاء کی نماز میں بھول کر رکعت مکمل ہونے سے پہلے سلام پھیر دے پھر یاد آۓ تو کھڑے ہو کر صرف اپنی بقیہ نماز پوری کرے گا اور سلام کے بعد سجدہ سہو کرے گا جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے کیا ہے۔ جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے ظہر یا عصر کی بعض نمازوں میں جب ایسا کیا ( دو رکعت پر سلام پھیر دیا) پھر جب آپ متنبہ ہوے تو کھڑے ہوے اور بقیہ دو رکعت پوری کر کے سلام پھیرا، سلام کے بعد سہو کے دو سجدے کیے۔ الخ(مفہوم)

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه آمين!

Recent posts

وقف ترمیمی بل

عامۃ المسلمین میں ایسے کئی لوگ ہوسکتے ہیں جو نئے وقف قانون کی باریکیوں سے واقف نہ ہوں اسی لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس پر تفصیلی گفتگو ہو۔ م...