السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
محمد اقبال قاسمي سلفي
موضوع: اذان کے بعد کی دعا میں حنفی ملاوٹ !!
مصادر : مختلف مراجع و مصادر !!
عام طور پر احناف کے یہاں اذان کے بعد کی دعا میں "آتِ مُحَمَّدًا ۨ الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ" کے بعد "الدرجۃ الرفیعہ" اور "ابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا ۨ الَّذِي وَعَدْتَهُ" کے بعد "وارزقنا شفاعته" کے الفاظ بھی پڑھاۓ اور سکھاۓ جاتے ہیں۔
لیکن اذان کے بعد کی دعا میں یہ الفاظ کسی بھی حدیث میں موجود نہیں ہیں۔ صحیح تو کیا کوئی ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے جس میں یہ الفاظ موجود ہوں۔
دارالعلوم دیوبند کے فتوے میں بھی یہ بات موجود ہے کہ اذان کی دعا میں ان دونوں كلمات ’’الدرجۃ الرفیعۃ‘‘ اور ’’ارزقنا شفاعتہ کا احادیث میں کوئی ذکر نہیں ملتا۔
چنانچہ دارالعلوم دیوبند سے جب اس بابت فتوی مانگا گیا کہ : اذان کے بعد کی دعا میں والدرجة الرفیعة اور وارزقنا شفاعتہ کے الفاظ کی کیا حقیقت ہے ؟
تو دارالعلوم دیوبند نے جواب دیا:
اذان کی دعا میں ان دونوں كلمات ’’الدرجۃ الرفیعۃ‘‘ اور ’’وارزقنا شفاعتہ‘‘ كا اس سلسلے میں واردشدہ احادیث میں، كوئی ذكر نہیں ملتا۔....قلت وکذلک زیادة وارزقنا شفاعته لم أره في حدیث ...، وفي المقاصد الحسنة ... حدیث الدرجة الرفیعة المدرج فیما یقال بعد الاذان لم أره في شيء من الروایات۔ (اعلاء السنن (2/615، باب الدعاء للنبي صلى الله عليه وسلم بعد الأذان والصلاة عليه، رقم: 587)
دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتوی نمبر : 609480
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ شرح منہاج میں لکھتے ہیں:
’’ و زیادۃ والدرجۃ الرفیعۃ و ختم بیا أرحم الراحمین لا أصل لھما ‘‘ ( رد المحتار : (باب الأذان‘ ۱/۳۹۸)
(الدرجۃ الرفیعہ کے اضافے یا ارحم الراحمین کے ذریعے اس دعا کو ختم کرنے کی کوئی اصل نہیں ہے)
امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب صحیح بخاری میں اذان کے بعد کی دعا کو اپنے استاذ علی بن عیاش سے اس طرح روایت کیا ہے:
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ ، اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا ۨ الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا ۨ الَّذِي وَعَدْتَهُ ، حَلَّتْ لَهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
(صحیح بخاری: حدیث نمبر:614)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا :
جو شخص اذان سن کر یہ کلمات کہے:
اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا ۨ الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا ۨ الَّذِي وَعَدْتَهُ۔
((ترجمہ: اے اللہ! اس کامل دعوت اور قائم ہونے والی صلاۃ کے رب! (ہمارے نبی) محمد (صلی الله علیہ وسلم) کو وسیلہ اور فضیلت عطا کر، اور انہیں مقام محمود میں پہنچا جس کا تو نے وعدہ فرمایا ہے))
تو اس کے لیے میری شفاعت واجب ہوگئی۔
(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 634)
انہی الفاظ کے ساتھ یہ دعا صحیح بخاری کے علاوہ جامع ترمذی: حدیث نمبر، 211، سنن ابی داوُد حدیث نمبر: 529، سنن ابن ماجہ حدیث نمبر: 722 ، سنن نسائی الصغرى حدیث نمبر: 681، بلوغ المرام حدیث نمبر: 159، المعجم الصغیر للطبرانی حدیث نمبر: 126 پر بھی موجود ہے۔
اذان کی دعا کے یہی مذکورہ بالا الفاظ صحیح اور ثابت شدہ ہیں۔
اذان کی دعا کے آخری کلمات "انك لا تخلف الميعاد " !!
اذان کی دعا کے آخری کلمات "انك لا تخلف الميعاد " کے ثبوت و عدم ثبوت کے بارے میں محدثین رحمھم اللہ کی مختلف رائیں ہیں۔
در اصل یہ اضافہ سنن الکبری للبیہقی میں ہے جسے علی بن عیاش کے ایک شاگرد محمد بن عوف روایت کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب علی بن عیاش کے دوسرے ثقہ اور حفاظ شاگر : أحمد بن حنبل ، علي بن المديني، أبو زرعة الرازي، امام بخاری اور جوزجانی جیسےثقہ ثبت کالجبال جیسے راویوں نے اس دعا کو "انک لا تخلف المیعاد" کے بغیر ہی روایت ہے۔ اسی وجہ سے ان الفاظ کی زیادتی کو بعض محدثین نے شاذ قرار دیا ہے جبکہ بعض نے حسن درجے میں رکھا ہے۔ حافظ ابن قیم اور علامہ ابن باز رحمھما اللہ نے اسے حسن قرار دیا ہے جبکہ حافظ ابن حجر، علامہ البانی اور دیگر محدثین رحمھم اللہ نے اسے شاذ قرار دیا ہے کیونکہ ان الفاظ کی زیادتی کرکے ایک ثقہ راوی نے اپنے سے زیادہ ثقہ راویوں کی مخالفت کی ہے جسے اصطلاح محدثین میں شاذ کہا جاتا ہے جو کہ ضعیف کی قسموں میں سے ہے، لیکن چونکہ یہ زیادتی ثقہ کی ہے اور ثقہ کی زیادتی عموماً محدثین کے یہاں مقبول سمجھی جاتی ہے الا یہ کہ عدم قبولیت کا کوئی قرینہ پایا جاۓ اس لیے ان الفاظ (انک لا تخلف المیعاد) کو دعا میں ملانا اور نہ دونوں جائز ہے۔
اذان کے بعد مزید دعائیں!!
واضح ہوکہ مذکورہ دعا کے علاوہ اذان کے بعد اور بھی دعائیں صحیح احادیث میں منقول ہیں جو انتہائی اجر و ثواب کے باعث ہیں۔
صحیح مسلم میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا :
مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ»
جو شخص اذان سننے کے وقت یہ پڑھے: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا. پڑھے تو اس کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔
(صحیح مسلم: حدیث نمبر: 386)
اذان کے بعد نبی کریم ﷺ پر درود بھیجنے کی تعلیم!
اذان کے بعد عموماً وسیلے والی دعا پر ہی اکتفا کر لیا جاتا ہے جبکہ اذان کے بعد سب سے پہلے نبی ﷺ نے اپنے اوپر درود پڑھنے کی تعلیم دی ہے۔
صحیح مسلم میں حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا :
اذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ، فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ، فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّى الله عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا، ثُمَّ سَلُوا اللهَ لِيَ الْوَسِيلَةَ، فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ، لَا تَنْبَغِي إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللهِ، وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ، فَمَنْ سَأَلَ لِي الْوَسِيلَةَ حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ.
جب تم مؤذن کو سنو تو اسی طرح کہو جیسے وہ کہتا ہے ، پھر مجھ پر درود بھیجو کیونکہ جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے ، پھر اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ مانگو کیونکہ وہ جنت میں ایک مقام ہے جو اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک بندے کو ملے گا اور مجھے امید ہے وہ میں ہوں گا ، چنانچہ جس نے میرے لیے وسیلہ طلب کیا اس کے لیے ( میری ) شفاعت واجب ہو گئی.
(صحیح مسلم : حدیث نمبر: 384)
دعا میں مذکور "وسیلہ" کی نبوی تشریح!
سنن ابی داوُد میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا : ’’جب تم مؤذن کو سنو تو اسی طرح کہو جیسے وہ کہتا ہے ۔ پھر مجھ پر درود پڑھو ۔ تحقیق جس نے مجھ پر ایک بار درود پڑھا ، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل کرتا ہے ۔ پھر میرے لیے اللہ سے وسیلہ طلب کرو ۔ بلاشبہ یہ ( وسیلہ ) جنت میں ایک منزل کا نام ہے جو اللہ کے کسی ایک بندے کو ملے گی اور مجھے امید ہے کہ وہ میں ہی ہوں گا ۔ سو جس نے میرے لیے اللہ سے وسیلہ طلب کیا اس کے لیے شفاعت حلال ہو گئی ۔‘‘
(سنن ابوداؤد : حدیث نمبر : 523)
درج بالا حدیث میں جہاں نبی ﷺ نے وسیلے کی تشریح کردی ہے وہیں اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ رب العزت سے نبی کریم ﷺ کے لیے 'وسیلہ' مانگنے کی تعلیم دی گئی ہے نہ کہ آپ ﷺ کے وسیلے سے دعا مانگنے کی جیسا کہ جماعت رضاخانیہ کا وطیرہ ہے۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ مسنون طریقہ اذان کے بعد درود پڑھنا ہے نہ کہ اذان سے پہلے۔
خلاصۃ التحریر!
۱) اذان کی دعا میں الدرجۃ الرفیعہ اور وارزقنا شفاعته کے الفاظ غیر ثابت ہیں۔
۲) دارالعلوم دیوبند نے بھی یہ فتوی دیا ہے کہ الدرجۃ الرفیعہ اور وارزقنا شفاعته کے الفاظ کا احادیث میں کوئی ذکر نہیں ملتا۔
۳) اذان کے بعد سب سے پہلے نبی ﷺ پر درود بھیجنا ، اس کے بعد وسیلے والی دعا کا پڑھنا نبی ﷺ کی شفاعت کا مستحق بناتا ہے۔
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه آمين!!