Wednesday, March 27, 2024

رمضان کا پہلا عشرہ رحمت ہے، درمیانی مغفرت ہے اور اس کا آخری عشرہ جہنم سے خلاصی ہے ۔

بسم الله الرحمن الرحيم 

السلام عليكم و رحمة الله وبركاته

مولانا اقبال قاسمي سلفي

مصادر : مختلف مراجع و مصادر 

موضوع : رمضان کا پہلا عشرہ رحمت ہے، درمیانی مغفرت ہے اور اس کا آخری عشرہ جہنم سے خلاصی ہے ۔

ضعیف اور موضوع روایات پر عمل کرنے والے دیوبندی اور رضاخانی علماء اور مفتیان رمضان کے موضوع پر بیان کرتے ہوئے اکثر یہ روایت نقل کیا کرتے ہیں ۔

عن سلمان الفارسي رضي الله عنه أنه قال: ( خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في آخر يوم من شعبان فقال : أيها الناس قد أظلكم شهر عظيم مبارك ، شهر فيه ليلة خير من ألف شهر ، جعل الله صيامه فريضة ، وقيام ليله تطوعاً ، من تقرب فيه بخصلة من الخير كان كمن أدى فريضة فيما سواه ومن أدى فيه فريضة كان كمن أدّى سبعين فريضة فيما سواه ، وهو شهر أوله رحمة وأوسطه مغفرة ، وآخرهوأوسطه مغفرة ، وآخره عتق من النار۔

سلمان الفارسي رضي الله تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبان کے آخری دن ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : اے لوگو تمہارے اوپر ایک عظیم بابرکت مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے، اس مہینے میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے ، اللہ نے۔، جس کے روزوں کو فرض قرار دیا ہے اور اس کی راتوں میں قیام کرنے کو نفل ، اس ماہ میں جس کسی نے کوئی نیکی کی وہ اور مہینوں کے فرض کے برابر ہے اور جس نے اس مہینے میں فرض ادا کیا تو گویا اس نے ستر فریضہ ادا کیا۔اور یہ ایسا مہینہ ہے جس کا پہلا عشرہ رحمت ہے،درمیانی مغفرت ہے اور اس کا آخری عشرہ جہنم سے خلاصی ہے ۔

یہ حدیث احادیث ِ نبوی کے مشہور مجموعہ مشکوٰۃ المصابیح، کتاب الصوم میں شامل ہے۔ صاحب ِ مشکوٰۃ نے اس کے سلسلے میں امام بیہقی کی شعب الایمان کا حوالہ دیا ہے۔ اس کے علاوہ یہ ابن خزیمہ کی صحیح، ابن حبان کی کتاب الثواب، سیوطی کی تفسیر الدر المنشور اور متقی ہندی کی کتاب کنز العمال اور دیگر کتابوں میں بھی مروی ہے۔


 یہ حدیث حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی روایت سے مشہور ہے ، ان سے متعدد اسانید سے وارد ہے ،چند اسانید ملاحظہ فرمائیں :

۱۔ پہلی سند 

 عن علي بن حُجر السَّعدي المروزي ، حدثنا يوسف بن زياد ، حدثنا همام بن يحيى ، عن علي بن زيد بن جدعان ، عن سعيد بن المسيب ، عن سلمان به.

تخریجہ :
أخرجه بهذا الإسناد ابن خزيمة في "صحيحه" (1887) وابن أبي الدنيا في "فضائل رمضان" (41) وابن شاهين في "فضائل شهر رمضان" (16) والبيهقي في "فضائل الأوقات" (37 و38) وفي "الشعب" (3336) وغيرهم ۔

اسناد کا حال :
إس کی سند واہی ہے ، اس میں يوسف بن زياد أبو عبد الله البصري ہے ۔ امام بخاری ، ابو حاتم اور ساجي نے اسے منكر الحديث قرار دیا ہے، امام نسائيفرماتے ہیں: ليس بثقة، ابن حجر فرماتے ہیں: يوسف ضعيف جدا ، كما في "كنز العمال" (8/ 477) عقيلي اور ابن حبان نے اسے "الضعفاء" میں ذکر کیا ہے ۔
اس کے علاوہ اس سند میں علی بن زید بن جدعان ہے جسے حافظ ابن حجر عسقلانی ،یحی بن معین ، امام نسائی ، علامہ ذہبی جیسے مستند و معتمد محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

٢- دوسری سند

  عبد الله بن بكرالسَّهمي، عن إياس بن أبي إياس ، عن علي بن زَيد ، عن سعيد بن المسيب ،عن سلمان .
تخریجہ :
أخرجه الحارث في "مسنده" كما في "زوائده"ص112والعقيلي في "الضعفاء" 1/ 35 وابن أبي حاتم في "علل الحديث" 1/249 ۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (5/ 223) برقم 3336 فسماه (إياس بن عبد الغفار ).

اسناد کا حال : عقيلي إياس کے بارے میں فرماتے ہیں : "مجهول وحديثه غير محفوظ". اهـ.
علامہ ذهبي " الميزان " (1/282) میں فرماتے ہیں: إِيَاس بن أبي إِيَاس عَن سعيد بن الْمسيب لَا يعرف ، وَالْخَبَر مُنكر.
 أبو حاتم "العلل" 1/249 میں فرماتے ہیں : وقد سأله ابنه عن هذا الحديث : هذا حديث منكر غلط فيه عبد الله بن بكر، إنما هو (أبان بن أبي عياش) فجعل عبد الله بن بكر: "أبان" : "إياس".
نیز سند میں علی بن زید بن جدعان راوی ہے جسے جمہور معتبر و معتمد محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

٣- تیسری سند 

 يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْعَطَّار ، حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ سَلْم، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ .

تخریجہ :
أخرجه ابن شاهين في "فضائل شهر رمضان" (15) ۔

اسناد کا حال :

اس کی سند بھی واہی ہے۔ اس سند میں موجود يحيى بن سعيد العطار کے بارے میں ابن معين فرماتے ہیں: ليس بشيء ،
 عقيلي اور جوزجاني نے اسے منكر الحديث قرار دیا ہے۔
، وضعفه ابن حبان .


٤۔ چوتھی سند 
 سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَوَابٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْجُدْعَانِيُّ القُرشي أبو وهب ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ...

تخریجہ :
أخرجه المحاملي في "الأمالي" (ص: 286) وابن عدي في "الكامل" (6/512) وابن الشجري كما في "ترتيب الأمالي الخميسية" (2/ 16) ، وقال : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ وَعَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ...إلخ فزاد متابعة قتادة لعلي بن زيد .

اسناد کا حال :
عبد العزيز القرشي تكلم فيه ابن عدي. وقال: هو القرشي البصري، ثم ساق له هذا الحديث ، وقال : عامة ما يرويه لا يتابعه عليه الثقات.( الكامل 6/512 ، ميزان الاعتدال 2/630).

جیساکہ واضح ہوگیا کہ اس حدیث کی کوئی بھی سند ضعیف راویوں سے خالی نہیں ہے ، مزید بر آں کہ مذکورہ تمام اسانید کا دار ومدار (علی بن زید بن جدعان ) پر ہے، جس پر محدثین کی سخت جرحیں ہیں۔ تمام مشہور ناقدین حدیث مثلاً حافظ ابن حجر، احمد، یحییٰ بن معین، نسائی، ابن خزیمہ جوز جانی، دار قطنی، ابو زرعہ، عقیلی، ذہبی وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔

اس حدیث کے ضعف کی ایک بہت بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اس روایت کو حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مشہور تابعی سعید بن مسیب روایت کرتے ہیں جب کہ حضرت سلمان فارسیؓ سے حضرت سعید بن المسیب کی ملاقات ثابت نہیں ہے، اس بنا پر یہ روایت منقطع بھی ہے۔

ابو حاتم رازی نے "العلل" میں کہا : (هذا حديث منكر).
عقيلی نے "الضعفاء الكبير" میں فرمایا : (قد رُوي من غير وجهٍ، ليس له طريقٌ ثبتٌ بيّن).
ابن خزيمہ نے"صحيح" میں تخریج کرتے ہوئے لکھا ہے : (إن صحّ الخبر).
ابن عدی نے روایت پیش کرنے کے بعدراوی کے بارے میں کہا : عامة ما يرويه لا يتابعه عليه الثقات ۔
ابن حجر "اتحاف المهرة" میں تحریر فرماتے ہیں : (مَدارُه على علي بن زيد، وهو ضعيفٌ).

یہ منکر روایت اس صحیح روایت کے بھی خلاف ہے ، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ماہ کی یہ خصوصیات کسی خاص عشرے کے ساتھ مختص نہیں ہے بلکہ پورا ماہ ہی ان خصوصیات کا حامل ہے ۔ 
 چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ 
جب رمضان کی پہلی رات آتی ہے تو شیطانوں اور سرکش جنوں کو جکڑ دیا جاتا ہے ۔ جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں ، ان میں سے کوئی دروازہ کھلا نہیں رہتا اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ، ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں رہتا ۔ اور ایک اعلان کرنے والا منادی کرتا ہے : اے نیکی کے طلب گار ، آگے بڑھ اور اے برائی کے طلب گار رک جا ۔ اور اللہ تعالیٰ جہنم سے ( بعض ) لوگوں کو آزاد کرتا ہے ۔ ( رمضان میں ) ہر رات اسی طرح ہوتا ہے ۔‘‘

سنن ابن ماجہ : ابن ماجہ : حدیث نمبر : 1642



اللهم اردنا الحق حقا وارزقنا اتباعه و ارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه !

Tuesday, March 26, 2024

میری امت تمنا کرتی کہ کاش پورا سال رمضان ہی رہتا ۔

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم و رحمة الله وبركاته

محمد اقبال قاسمي سلفي

موضوع : ......میری امت تمنا کرتی کہ کاش پورا سال رمضان ہی رہتا ۔

مصادر : مختلف مراجع و مصادر ! 

ضعیف اور موضوع روایات پر بے دھڑک عمل کرنے والے دیوبندی اور رضاخانی علماء اور مفتیان منبر و محراب سے فضیلت رمضان میں درج ذیل موضوع روایت پیش کرتے ہیں ۔

لو يعلمُ العبادُ ما في رمضانَ لتمنَّت أمَّتي أن يكونَ رمضانُ السَّنةَ كلَّها۔

 اگر میری امت کو رمضان کی فضیلت معلوم ہو جائے تو وہ یہ تمنا کرے کہ سارا سال رمضان ہی رہے۔

ليكن یہ روایت انتہائی ضعیف اور موضوع ہے۔

اس حدیث کو علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ نے " الموضوعات " میں حديث موضوع " قرار دیا ہے 

علامہ شوکانی رحمہ اللہ نے" الفوائد المجموعہ "میں اسے " حديث موضوع " قرار دیا ہے ۔

 علامہ عینی حنفی نے عمدہ القاری میں اس روایت کو منکر اور باطل قرار دیا ہے ۔

علامہ البانی رحمہ اللہ نے ضعیف الترغیب والترہیب میں اسے " حدیث موضوع " قرار دیا ہے ۔

در اصل اس روایت میں ایک راوی جریر بن ایوب البجلی ہے ، جسے جمہور محدثین نے متروک الحدیث اور منکر الحدیث قرار دیا ہے ۔

چنانچہ ابوزرعہ رازی اس راوی کے بارے میں فرماتے ہیں: واه منكر الحديث.
یہ واہی اور منکر الحدیث راوی ہے

ابن دکین فرماتے ہیں: يضع الحديث

یہ حدیثیں گھڑتا ہے .

امام نسائی فرماتے ہیں : متروك، ليس 
بثقة، ولا يكتب حديثه
یہ راوی متروک ہے ، ٹقہ نہیں ہے اور اس کی حدیثیں نہیں لکھی جائیں گی ۔

امام دارقطنی فرماتے ہیں: كان يضع الحديث
یہ حدیثیں گھڑتا تھا ۔

ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں: ضعيف جدا
بہت ضعیف ہے ۔

امام بخاری فرماتے ہیں: منكر الحديث

منکر الحدیث ہے۔

علامہ ذہبی فرماتے ہیں: مشهور بالضعف
ضعف کے ساتھ مشہور ہے ۔

سماجی فرماتے ہیں: ضعيف الحديث جدا
بہت زیادہ ضعیف الحدیث ہے۔

ان محدثین کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ حدیث منکر اور موضوع ہے۔اور منکر و موضوع روایات بیان کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بہتان باندھنا ہے ۔

علامہ علاءالدین حصکفی صاحب در مختار فرماتے ہیں: موضوع روایات پر تو بہر صورت عمل جائز نہیں ہے، نیز اسے بیان کرنا بھی جائز نہیں ہے، مگر یہ کہ ساتھ ساتھ اس کے موضوع ہونے کو بتا دیا جائے۔ (در مختار: ص 87) 
موضوع حدیثیں بیان کرنے والا دجال اور کذاب ہے۔ 
عن ابي هريرة يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ، يَأْتُونَكُمْ مِنَ الْأَحَادِيثِ بِمَا لَمْ تَسْمَعُوا أَنْتُمْ، وَلَا آبَاؤُكُمْ، فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ، لَا يُضِلُّونَكُمْ، وَلَا يَفْتِنُونَكُمْ»
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ آخری زمانے میں ( ایسے ) دجال ( فریب کار ) کذاب ہوں گے جو تمہارے پاس ایسی احادیث لائیں گے جو تم نے سنی ہوں گی نہ تمہارے آباء نے ۔ تم ان سے دور رہنا ( کہیں ) وہ تمہیں گمراہ نہ کر دیں اور تمہیں فتنے میں نہ ڈال دیں ۔‘‘ 
(صحیح مسلم: حدیث نمبر : 16) 
 
اللهم اردنا الحق حقا وارزقنا اتباعه و ارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه!

Thursday, March 14, 2024

تراویح کی خود ساختہ حنفی دعا !

بسم الله الرحمن الرحيم 

السلام عليكم و رحمة الله وبركاته

موضوع: تراویح کی خود ساختہ حنفی دعا ! 

مصادر : مختلف مراجع و مصادر ! 

مولانا اقبال قاسمی سلفی 

قرآن و صحیح احادیث کو چھوڑ کر موضوع اور من گھڑت قصے کہانیوں پر عمل کرنے والے حنفی علماء اور مفتیان تراویح کے دوران ایک خود ساختہ دعا کا کثرت سے اہتمام کرتے ہیں ، یہی نہیں بلکہ ہر سال اسے دعاۓ تراویح کے نام پر رمضان کیلنڈروں میں بھی بڑے تزک و احتشام کے ساتھ شایع کرتے ہیں ۔
جو درج ذیل ہے : 

”سبحان ذی الملک والملکوت، سبحان ذی العزة والعظمة والقدرة والکبریاء والجبروت، سبحان الملک الحي الذي لا یموت، سبوح قدوس ربنا ورب الملائکة والروح ، اللهم اجرنا من النار، يا مجير، يا مجير، يا مجير". 

  اس تسبیح کو اتنی اہمیت دی جاتی ہے کہ مساجد میں اس تسبیح کے پمفلٹ چسپاں کیے جاتے ہیں. 
عوام اور علماء دونوں ہی اس دعا کو بڑے اہتمام سے تراویح کی ہر چار رکعات کے بعد اجتماعی طور سے بالجہر پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ 

جبکہ تراویح کے دوران پڑھنے کی ایسی کوئی مخصوص دعا ذخیرۂ اسلام میں موجود نہیں ہے۔ 

نہ قرآن میں ہے۔۔۔۔ 
نہ بخاری میں ہے ۔۔۔ 
نہ مسلم میں ہے ۔۔۔۔ 
نہ ترمذی میں ہے ۔۔۔ 
نہ ابو داؤد میں ہے ۔۔۔ 
نہ نسائی میں ہے۔۔۔ 
نہ ابن ماجہ میں ہے ۔۔۔ 

بلکہ حدیث کی کسی کتاب میں موجود نہیں ہے۔ صحیح تو کیا کسی ضعیف سند سے بھی ایسی کوئی دعا موجود نہیں ہے۔ پھر بھی احناف کے دینی ادارے اس دعا کو ہر سال بڑے اہتمام سے(بڑی ڈھٹائی سے) بے حوالہ و بے سند کیلنڈروں کی زینت ایسے بناتے ہیں جیسے یہ دعا مستحب ہی نہیں بلکہ سنت اور واجب ہو۔  

جبکہ خود ان کے اکابر علماء احناف نےبھی اس دعا کے بدعت اور من گھڑت ہونے کی گواہی خود اپنی زبانی ان الفاظ میں دی ہے۔ 

" کسی حدیث شریف میں اس کا حکم یا ترغیب یا آپ صلی اللہ علیہ و سلم و صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین کا اس پر عمل مذکور نہیں ہے، بلکہ فقہ حنفی کی کتابوں میں سب سے پہلے یہ دعا قہستانی کی شرح وقایہ میں ملتی ہے، اور قہستانی نے اس کا حوالہ "منہج العباد" نامی کتاب کا دیا ہے، پھر قہستانی کی کتاب سے علامہ شامی نے "رد المحتار" میں نقل کیا ہے، پھر ردالمحتار سے یہ دعا کتب فقہ وفتاوی میں رائج ہوگئی
۔( متفقہ علمائے احناف) 

اس سے یہ بات بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ علمائے احناف کو بھی اس بات کا اعتراف ہے کہ یہ دعا حدیث کی کسی کتاب میں نہیں ہے۔ بلکہ اللہ کے رسول ﷺ کے ایک ہزار سال بعد شمس الدین قہستانی حنفی المتوفی 1546ء نے منہج العباد نامی کتاب کا حوالہ دے کرسب سے پہلے یہ بدعت ایجاد کی تھی۔ 

اب کابرین دیوبند کا موقف ملاحظہ کریں: 

مرغوب الفتاوی [ج3ص429 ] پر حاشیہ میں یہ لکھا ہے :

ہمارے اس زمانہ میں تسبیحِ تراویح میں بہت غلو ہونے لگاہے، خصوصا برطانیہ کی اکثر مساجد میں تراویح کی یہ تسبیح (سبحان ذی الملک والملکوت۔۔۔الخ)بڑے بڑے پوسٹر اور اشتہارکی شکل میں قبلہ کی دیوار پربڑی تعداد میں چسپاں کی جاتی ہے،حالانکہ کسی مستحب کے ساتھ زیادہ اہتمام اور واجب کا سا معاملہ ہونے لگے ، تو فقہاء اس کے ترک حکم فرماتے ہیں۔اور یہاں حال یہ ہے کہ عوام تو عوام،علماء تک اسے بڑے اہتمام سے پڑھتے ہیں، اور لطف یہ کہ بالجہر پڑھنے کا رواج عام ہوتا جارہاہے۔

اولا:اس تسبیح کا ثبوت حدیث سے مشکل ہے ، علامہ شامی نے ضرور اسے لکھاہے ،اور ان کی اتباع میں یہ دعا ہماری کتب فقہ وفتاوی میں درج ہوگئی ہے ،حالانکہ جو دعائیں اور اذکار احادیث میں مروی ہیں ان کا پڑھنا زیادہ ثواب رکھتاہے۔

اسی وجہ سے حضرتِ  مولانا رشید احمد  گنگوہی ؒ کا معمول اس کے بجائے (سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر) پڑھنے کا تھا۔

حضرت مفتی عزیز الرحمن صاحبؒ تحریر فرماتے ہیں : 
احقر کہتا ہے کہ کلمہ(سبحان اللہ )الخ کی بہت فضیلت احادیث صحیحہ میں وارد ہے ، اس لئے تکرار اس کا افضل ہے ، اور یہی معمول ومختار تھا حضرت محدث وفقیہ گنگوہی ؒ کا ۔[فتاوی دار العلوم دیوبند ص246ج4،سوال نمبر1761]۔

حضرت  مولانا اشرف علی تھانویؒ سے کسی نے پوچھا کہ: آپ ترویحہ میں کیا پڑھتے ہیں؟  تو فرمایا :

 شرعا کوئی ذکر متعین تو ہےنہیں ، باقی میں پچیس مرتبہ درود شریف پڑھ لیتاہوں۔[تحفۂ رمضان ص۱۱۱] ۔

اس سے معلوم ہوا کہ اکابر علمائے دیوبند بھی اس دعا کے پڑھنے سے پرہیز کیا کرتے تھے۔ 

اپنے من میں ڈوب کر پاجا سراغ زندگی۔ 
میرا نہیں بنتا تو مت بن اپنا تو بن۔ 

اللهم اردنا الحق حقا وارزقنا اتباعه و ارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه !

Tuesday, March 12, 2024

روزے کی من گھڑت نیت !

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم و رحمة الله وبركاته

موضوع : روزے کی من گھڑت نیت ! 

مصادر : مختلف مراجع و مصادر 
 

مولانا اقبال قاسمی سلفی

ضلالت و گمراہی کے داعی حنفی علماء اور مفتیان روزہ رکھنے کی خود ساختہ نیت " بصوم غد نويت من شهر رمضان " کی نہ صرف یہ کہ تلقین کرتے ہیں بلکہ ہر سال بڑے اہتمام کے ساتھ اس من گھڑت نیت کو اپنے رمضان کیلنڈروں کی زینت بناتے ہیں ۔

جبکہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 یہ نیت نہ قرآن مجید کی کسی آیت میں ہے۔ 
 نہ کسی حدیث رسول ﷺ میں ہے۔ 
نہ خلفاء راشدین سے ثابت ہے۔ 
 نہ عشرہ مبشرہ سے۔۔۔۔۔۔ 
  نہ کسی صحابی رسول نے یہ نیت کی ہے۔ 
 نہ کسی تابعی نے۔۔۔۔ 
 نہ کسی تبع تابعین نے۔۔۔۔ 
نہ امام ابو حنیفہؒ، امام شافعی، امام مالک، امام احمد بن حنبل نے۔۔۔۔ 
نہ امام محمد اور ابو یوسف نے۔۔۔۔۔ 
 نہ شیخ عبدالقادر جیلانی نے۔۔۔۔۔۔

دیوبندی اور رضاخانی عوام اور علماء کے یہاں مقبول و معروف یہ دعا اس قدر من گھڑت ہے کہ صحیح تو کیا, کسی ضعیف سے ضعیف ترین روایت میں بھی یہ موجود نہیں ہے ۔آج تک اس کے گھڑنے والے کذاب اور وضاع کا نام و نشان تک موجود نہیں ہے ۔

لہذا اس نیت کے من گھڑت ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ 

  اور رسول اللہﷺ کا فرمان ہے۔ 
من احدث في امرنا هذا ما ليس منه فهو رد ( متفق علیہ) 
ترجمہ۔
 جس کسی نے بھی ہمارے اس دین میں کوئی نئی چیز گھڑی جو اس میں سے نہ ہو تو وہ مردود ہے۔ صحیح بخاری حدیث نمبر (2697) 


نیت صرف دل کے ارادے کا
 نام ہے۔ کوئی بھی نماز خواہ فرض ہو، سنت ہو ، نماز تراویح ہو ، نماز جنازہ ہو ،عیدین ہو یا روزہ ، زبان سے نیت کے الفاظ قرآن و سنت سے ثابت ہی نہیں ہے ۔

 اکابر علمائے احناف نے بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے اسے بدعت لکھا ہے. 

 ابن ہمام حنفی فرماتے ہیں:
بعض حفاظ نے کہا ہے کہ کسی صحیح یا ضعیف سند سے بھی ثابت نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی ابتدا کرتے وقت یہ فرماتے کہ میں فلاں نماز ادا کر رہا ہوں اور نہ ہی صحابہ یا تابعین میں سے کسی سے یہ منقول ہے۔ بلکہ جو منقول ہے وہ یہ کہ آپ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو ’اللہ اکبر‘ کہتے، اور یہ (زبان سے نیت کرنا) بدعت ہے۔ (فتح القدیر شرح الہدایہ‘‘ (۱/۲۶۶،۲۶۷)

 ابن عابدین حنفی اپنی کتاب ) میں فرماتے ہیں:
زبان سے نیت کرنا بدعت ہے۔(رد المحتار‘‘ ۱/۲۷۹

 ملا علی قاری حنفی لکھتے ہیں:
’’الفاظ کے ساتھ نیت کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ بدعت ہے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع جس طرح آپ کے کاموں میں کرنا لازم ہے، اسی طرح اتباع کام کے نہ کرنے میں بھی لازم ہے ۔ 

علامہ انور شاہ کاشمیری دیوبندی حنفی فرماتے ہیں:
’’نیت صرف دل کا معاملہ ہے۔‘‘ (فیض الباری شرح صحیح البخاری :۱/۸)

علامہ عبد الحی لکھنوی حنفی فرماتے ہیں:
نماز کی ابتداء میں زبان سے نیت کرنا بدعت ہے۔(عمدۃ الرعایۃ حاشیہ شرح وقایہ) 

اور دیوبندی جماعت کے مشہور مفتی مفتی طارق مسعود دیوبندی پاکستانی کہتے ہیں۔ " زبان سے نماز روزے کی نیت کرنا پاگل اور وہمی لوگوں کا کام ہے"۔ "تقریر مفتی طارق مسعود) 

واضح ہو کہ ہر عمل کا دارومدار نیت پر ہے ، صحیح بخاری کی پہلی حدیث ہے: : إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى ، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوْ إِلَى امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا ، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ ۔

تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر عمل کا نتیجہ ہر انسان کو اس کی نیت کے مطابق ہی ملے گا ۔ پس جس کی ہجرت ( ترک وطن ) دولت دنیا حاصل کرنے کے لیے ہو یا کسی عورت سے شادی کی غرض سے ہو ۔ پس اس کی ہجرت ان ہی چیزوں کے لیے ہو گی جن کے حاصل کرنے کی نیت سے اس نے ہجرت کی ہے ۔‘‘

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر عمل کی صحت کا مدار نیت ہے ۔اور جب نیت ہی من گھڑت ہو ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ نہ ہو تو وہ عمل قابل قبول کیسے ہو سکتا ہے ۔ذ

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!

Saturday, March 9, 2024

دعاے افطار اور حنفیوں کی اختراع بازی !

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم و رحمة الله وبركاته

محمد اقبال قاسمي سلفي

موضوع: دعاے افطار  اور حنفیوں کی اختراع بازی !
 
مصادر : مختلف مراجع و مصادر  !
قرآن و حدیث کو چھوڑ کر                                                      
صوفی سنتوں کے قصے کہانیوں پر عمل کرنے والے دیوبندی اور رضاخانی علماء اور مفتیان افطار کے وقت کی دعا کا کثرت سے اہتمام کرتے ہیں اور ہر سال اپنے رمضان کیلنڈروں میں اس دعا کو بڑے تزک و احتشام کے ساتھ شائع کرتے ہیں ، جو درج ذیل ہے: 
اللهم لك صمت و بك آمنت عليك توكلت و على رزقك افطرت!

لیکن یہ دعا کتاب و سنت میں کہیں موجود نہیں ہے ۔صحیح تو کیا، کسی ضعیف ، موضوع اور من گھڑت روایت میں موجود نہیں ہے
آپ کو بتا دیں کہ اس دعا کے کچھ الفاظ سنن ابوداؤد میں ہیں ۔ 

امام ابو داؤد فرماتے ہیں: 
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حُصَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُعَاذِ بْنِ زُهْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَفْطَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ لَكَ صُمْتُ وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ . 
  جناب معاذ بن زہرہ ( تابعی ) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ افطار کے وقت یہ دعا پڑھتے تھے : اللهم لك صمت وعلى رزقك أفطرت ’’ اے اللہ ! میں نے تیرے لیے روزہ رکھا اور تیرے ہی رزق پر کھول رہا ہوں ۔“          
سنن ابی داؤد: حدیث نمبر : 2358

أولاً  اس روایت میں صرف اللَّهُمَّ لَكَ صُمْتُ وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ کے الفاظ ہیں ، "و بك آمنت عليك توكلت " کے الفاظ جو حنفی حضرات کا اختراع ہے ، کہیں ان الفاظ کا نام و نشان نہیں ہے ۔
 نیز  روایت میں درج اللَّهُمَّ لَكَ صُمْتُ وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ کے الفاظ بھی ضعیف ہیں ۔ کیونکہ معاذ بن زہرہ تابعی براہ راست نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کر رہے ہیں ، اور تابعی کی روایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بنا صحابی کے واسطے کے  اصطلاح محدثین میں مرسل کہلاتی ہے جو کہ ضعیف کے اقسام میں سے ہے۔

اس حدیث کو درج ذیل محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

  اللهمَّ لك صمتُ وعلى رزقِك أفطرتُ
الراوي:معاذ بن زهرة
 المحدث:صدر الدين المناوي المصدر:كشف المناهج والتناقيح الجزء أو الصفحة:2/169 
حكم المحدث: مرسل

 المحدث:ا بن حجر العسقلاني المصدر:الفتوحات الربانية 
الجزء أو الصفحة:4/341 
حكم المحدث:مرسل

الراوي:أنس بن مالك
 المحدث:الألباني المصدر:إرواء الغليل الجزء أو الصفحة:4/37
 حكم المحدث:فيه إسماعيل بن عمرو ضعيف وشيخه داود شر منه

الراوي:معاذ بن زهرة 
المحدث:الألباني المصدر:ضعيف أبي داود
 الجزء أو الصفحة:2358 
حكم المحدث:ضعيف

اللَّهمَّ لَكَ صُمتُ وعلَى رزقِكَ أفطَرتُ ، فتَقبَّلْ منِّي ، إنَّكَ أنتَ السَّميعُ العليمُ
الراوي:عبدالله بن عباس المحدث:الألباني المصدر:ضعيف الجامع 
الجزء أو الصفحة:4350 
حكم المحدث:ضعيف

الراوي:معاذ بن زهرة المحدث:الألباني المصدر:إرواء الغليل
 الجزء أو الصفحة:4/38 
حكم المحدث:إسناده ضعيف

الراوي:- المحدث:ابن عثيمين المصدر:مجموع فتاوى ابن عثيمين الجزء أو الصفحة:363/19 حكم المحدث:فيه ضعف

اللَّهمَّ لكَ صُمتُ، وعلى رِزقِك أفطَرْتُ.
الراوي:- المحدث:ابن عثيمين المصدر:فتاوى نور على الدرب لابن عثيمين 
الجزء أو الصفحة:2/550 حكم المحدث:أعل بالإرسال

اللَّهُمَّ لكَ صُمْتُ، وعلى رِزقِكَ أفْطَرْتُ.
الراوي:- المحدث:شعيب الأرناؤوط المصدر:تخريج زاد المعاد الجزء أو الصفحة:2/49
 حكم المحدث:مرسل

كان إذا أفطر قال : اللهمَّ لك صمتُ وعلى رِزقِك أفطرتُ
الراوي:معاذ بن زهرة المحدث:أبو داود المصدر:المراسيل لأبي داود الجزء أو الصفحة:203
 حكم المحدث:أورده في كتاب المراسيل
كانَ إذا أفطرَ قالَ : اللَّهمَّ لَك صمتُ، وعلى رزقِك أفطرتُ
الراوي:معاذ بن زهرة المحدث:السيوطي المصدر:الجامع الصغير 
الجزء أو الصفحة:6570
 حكم المحدث:مرسل

اللَّهمَّ لكَ صُمتُ، وعلى رِزقِكَ أفطَرتُ؛ فتَقبَّلْ مِنَّا إنَّكَ أنتَ السَّميعُ العَليمُ.
الراوي:[عبدالله بن عباس] المحدث:ابن القيم المصدر:زاد المعاد الجزء أو الصفحة:2/49 
حكم المحدث:لا يثبت

أنَّ النَّبيَّ عليهِ السَّلامُ كانَ إذا أفطرَ قالَ اللَّهمَّ لَك صُمتُ وعلى رزقِك أفطرتُ
الراوي:معاذ بن زهرة المحدث:العيني المصدر:العلم الهيب الجزء أو الصفحة:427 
حكم المحدث:مرسل

أن النبيَّ _صلى الله عليه وسلم _كان إذا أفطرَ قال : اللهمَّ لكَ صمتُ، وعلى رِزْقِكَ أفطرتُ.
الراوي:معاذ بن زهرة المحدث:الذهبي المصدر:المهذب في اختصار السنن الجزء أو الصفحة:4/1616 حكم المحدث:مرسل

أنَّ النبيَّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ كان إذا أفطرَ قال اللهمَّ لك صمتُ وعلى رزقك أفطرتُ
الراوي:معاذ بن زهرة المحدث:ابن الملقن المصدر:تحفة المحتاج 
الجزء أو الصفحة:2/96 حكم المحدث:مرسل

درج بالا محدثین کی تحقیق و تخریج سے معلوم ہوا کہ افطار کی دعا: اللهم لك صمت و على رزقك افطرت جمہور محدثین کے نزدیک بالاتفاق ضعیف ہے ۔جبکہ اس دعا میں "و بك آمنت و عليك توكلت" کا دیوبندی اور بریلوی اضافہ تو کسی ضعیف اور موضوع روایت میں بھی موجود نہیں ہے ۔
جیسا کہ دارالعلوم دیوبند نے اپنے فتوے میں بھی اس کا اعتراف کیا ہے ۔․
چنانچہ دارالعلوم دیوبند اپنے فتوے میں رقمطراز ہے:
" اور اس دعا میں ”وبک آمنت وعلیک توکلتُ“ کا اضافہ جامع الرموز میں قہستانی نے ذکر کیا ہے۔ (کتاب الصوم قبل فصل الاعتکاف: ص۱۶۴)، لیکن حدیث کی کتابوں میں مجھے اس کا کوئی حوالہ نہیں ملا؛ بلکہ ملا علی قاری رحمہ اللہ نے مرقات المفاتیح (۴:۴۲۶، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت) میں اورحضرت مولانا عاشق الٰہی بلند شہری رحمہ اللہ نے حصن حصین مترجم (ص۲۱۶) کے حاشیہ میں اس اضافہ کو بے اصل قرار دیا ہے "
دار الافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتوے نمبر : 56008

واضح ہو کہ افطار کی ایک صحیح دعا سنن ابی داؤد میں موجود ہے ۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَفْطَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ وَثَبَتَ الْأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . 
رسول اللہ ﷺ جب روزہ افطار کرتے تو یہ دعا پڑھتے تھے : ذهب الظمأ وابتلت العروق وثبت الأجر إن شاء الله ’’ پیاس بجھ گئی ‘ رگیں تر ہو گئیں اور اللہ نے چاہا تو اجر بھی ثابت ہو گیا ۔“ 
سنن ابی داؤد: حدیث نمبر : 2357
 
اس حدیث کو امام دارقطنی ، حافظ ابن حجر عسقلانی، علامہ البانی علامہ جلال الدین سیوطی اور علامہ بن باز رحمہم اللہ نے صحیح قرار دیا ہے ۔
اللهم اردنا الحق حقا وارزقنا اتباعه و ارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه!

Recent posts

تلاوت قرآن کے بعد صدق الله العظيم پڑھنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم  السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ  موضوع: تلاوت قرآن کے بعد صدق الله العظيم پڑھنا !  محمد اقبال قاسمی صاحب  مصادر: مخ...