Tuesday, April 18, 2023

نماز میں اگر امام کو سہو ہو جاۓ تو مقتدی الله اكبر کے ذریعے لقمہ دے یا سبحان الله کہہ کر امام کو متنبہ کرے۔!! ‏

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

    محمد اقبال قاسمي سلفي

نماز میں اگر امام کو سہو ہو جاۓ تو مقتدی  الله اكبر کے ذریعے لقمہ دے یا سبحان الله کہہ کر امام کو متنبہ کرے۔!! 

نماز میں امام سے بھول چوک سرزد ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔ بحیثیت انسان امام الانبیاء امام اعظم اللہ کے رسول ﷺ سے غلطیاں ہوئی ہیں اور ان غلطیوں میں بھی امت کے لئے بہت ساری تعلیمات پوشیدہ تھیں۔ 

  نماز  میں امام اگر بھول کا شکار ہوجاۓ تو مقتدی امام کو کن الفاظ کے ساتھ متنبہ کریں گے ، عموماً حنفی مساجد میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ نماز میں امام سے اگر کوئی سہو یا نسیان ہوجاۓ تو اسے متنبہ کرنے کے لئے تکبیر یعنی" الله اكبر" کہا کرتے ہیں۔ 

لیکن یہ سنت سے ثابت نہیں ہے۔ صحیح تو کیا کسی ضعیف حدیث میں بھی موجود نہیں ہے۔ 
صحیح اور مسنون طریقہ یہ ہے کہ ایسی صورت میں مرد مقتدیوں کو الله اكبر کے بجائے سبحان الله کہنا چاہئیے۔  

دلیل!! 
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ . 
(صحيح البخاري:1203) 

حضرت ابو ہریرەؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز میں امام کو متنبہ کرنے کا طریقہ مردوں کے لئے سبحان الله کہنا ہے اور عورتوں کے لئے تالی بجانا ہے۔ 

 سھل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالی عنہ سے صحیح بخاری میں اس حدیث کا پورا سیاق موجود ہے :

حضرت سھل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو خبر پہنچی کہ بنی عمرو بن عوف کے لوگوں میں باہم کوئی جھگڑا پیدا ہو گیا ہے تو آپ چند صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ ملاپ کرانے کے لیے وہاں تشریف لے گئے ۔ رسول اللہ ﷺ ابھی مشغول ہی تھے کہ نماز کا وقت ہو گیا ۔ اس لیے بلال رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ ابھی تک تشریف نہیں لائے ۔ ادھر نماز کا وقت ہو گیا ہے ۔ کیا آپ لوگوں کی امامت کریں گے ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں اگر تم چاہو ۔ چنانچہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر تکبیر ( تحریمہ ) کہی ۔ اتنے میں رسول اللہ ﷺ بھی صفوں سے گزرتے ہوئے پہلی صف میں آ کر کھڑے ہو گئے ۔ لوگوں نے ( حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آگاہ کرنے کے لیے ) ہاتھ پر ہاتھ بجانے شروع کر دیئے لیکن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز میں کسی طرف دھیان نہیں دیا کرتے تھے ۔ جب لوگوں نے بہت تالیاں بجائیں تو آپ متوجہ ہوئے اور کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہیں ۔ آنحضور ﷺ نے اشارہ سے انہیں نماز پڑھاتے رہنے کے لیے کہا ، اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہاتھ اٹھا کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور الٹے پاؤں پیچھے کی طرف آ کر صف میں کھڑے ہو گئے پھر رسول اللہ ﷺ نے آگے بڑھ کر نماز پڑھائی ۔ نماز کے بعد آپ نے فرمایا ۔ لوگو ! نماز میں ایک امر پیش آیا تو تم لوگ ہاتھ پر ہاتھ کیوں مارنے لگے تھے ، یہ دستک دینا تو صرف عورتوں کے لیے ہے ۔ جس کو نماز میں کوئی حادثہ پیش آئے تو سبحان الله کہے کیونکہ جب بھی کوئی سبحان الله سنے گا وہ ادھر خیال کرے گا اور اے ابوبکر ! میرے اشارے کے باوجود تم لوگوں کو نماز کیوں نہیں پڑھاتے رہے ؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ بھلا ابوقحافہ کے بیٹے کی کیا مجال تھی کہ رسول اللہ ﷺ کے آگے نماز پڑھائے 
‌ (صحيح البخاري:1234) 

صحیح بخاری کے علاوہ یہ حدیث صحیح مسلم، سنن ترمذی، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، مسند احمد،سنن دارمی، سنن نسائی صغریٰ، مسند الحمیدی، صحیفہ ھمام بن منبہ اور دوسری کتب حدیث میں بھی موجود ہے۔ 

علامہ یوسف بنوری حنفی دیوبندی پاکستانی نے بھی مسئلہ ہذا کے متعلق ایک سوال کے جواب میں یہ لکھا ہے کہ حدیث سے ایسا ہی ثابت ہے۔ 

سوال :
اگر امام قیام کی جگہ قعدہ کے لیے بیٹھ جائے تو مقتدی کس طرح لقمہ دے گا؟ اور اگر قعدہ کی جگہ قیام کے لیے کھڑا ہو جائے تو کس طرح لقمہ دینا ہوگا؟ مطلب یہ کہ لقمہ کس قسم الفاظ کہنا ہوگا؟

جواب:
اگر اپنے امام کی کسی بھی غلطی کی بنا پر مرد مقتدیوں کو  لقمہ دینے کی ضرورت پیش آئے تو مقتدی کو ’’سبحان اللہ ‘‘ کہنا چاہیے، حدیث سے ایسا ہی ثابت ہے۔

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر : 144109201718

دارالعلوم دیوبند نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھا ہے:

سوال:
 امام کو لقمہ اللہ اکبر یا سبحان اللہ کہ کر دیا جائے ؟

جواب :
دونوں طرح لقمہ دے سکتے ہیں؛ البتہ بہتر یہ ہے کہ سبحان اللہ کہہ کر لقمہ دیا جائے؛ اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: التسبیحُ للرجال والتصفیقُ للنساء. 
ترجمہ : نماز میں امام کو متنبہ کرنے کا طریقہ مردوں کے لئے سبحان الله کہنا ہے اور عورتوں کے لئے تالی بجانا ہے۔ 
(صحیح مسلم ۱/ ۱۸۰) 

دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
جواب نمبر:61667

نوٹ:دارالعلوم دیوبند کے فتوے میں درج یہ بات کہ "دونوں طرح لقمہ دے سکتے ہیں" بے دلیل اور بے بنیاد ہونے کی وجہ سے مردود اور ناقابل عمل ہے۔ 

رضاخانی مکتب فکر نے بھی مسئلہ ہذا میں " سبحان الله" کے ذریعے لقمہ دینے کو بہتر قرار دیا ہے، ملاحظہ کریں! 

سوال :
ظہر یا عصر کی نماز میں اگر امام صاحب دوسری رکعت میں بھول کر سلام پھیرنے لگیں یا تیسری رکعت پر بیٹھیں تو لقمہ کیسے دیا جائے الله اکبر کہنا صحیح ہے یا سبحان الله کہنا چاہئیے مدلل جواب عنایت فرمائیں 

الجواب :
امام نماز میں قرأت کے علاوہ کہیں بھی بھولے تو تسبیح یعنی سبحان الله کہہ کر لقمہ دینا افضل ہے ۔
جیسا کہ نبی رحمت صلی الله تعالی علیہ وسلم کی حدیث ہے "من نابه شيئ في صلاته فليسبح فانه اذا سبح التفت اليه”
تـــــــرجــــمہ: جس شخص کی نماز میں کوئی معاملہ(کمی، زیادتی) پیش آجائے تو سبحان الله کہے جب سبحان الله کہاجائےگا تو امام متوجہ ہوجائےگا ۔

(صحيح البخاري : كتاب الاذان) 
تکبیر یعنی الله اکبر کہہ کر بھی لقمہ دینا جائز ہے ۔

جیسا کہ صدر الشریعہ علامہ مفتی امجد علی اعظمی تحریر فرماتےہیں کہ "مقتدی کو ایسے موقعہ پر جبکہ امام کو متوجہ کرنا ہو سبحان الله یا الله اکبر کہنا جائز ہے جس سے امام کو خیال ہوجائے اور نمازکو درست کرلے” (فتاوی امجدیہ )

لیکن سبحان الله کہہ کر لقمہ دینا بہتر ہے لقوله صلي الله عليه وسلم" التسبيح للرجال والتصفيق للنساء "ترجمہ:سبحان الله مردوں کے لئے ہے اور تالی بجانا عورتوں کے لئے ہے۔ 

واللہ تعالي اعلم .
محمد مسعود رضا اسماعیلی مرکزی خادم میرانی دارالافتاء

رضاخانی مفتی امجد علی کا نماز میں بھول جانے کی صورت میں" الله اكبر "کہنے کو بھی جائز قرار دینا دارالعلوم دیوبند کے فتوے کی طرح بے دلیل اور بے بنیاد ہونے کی وجہ سے مردود اور ناقابل عمل ہے۔

عورتیں کس طرح تالی بجائیں گی، اس ضمن میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ شارح بخاری فرماتے ہیں: 

نماز کے دوران میں اگر امام کو کسی امر کے لئے متنبہ کرنا ہو تو مسنون یہ ہے کہ مرد «سبحان الله» کہیں مگر عورت تالی بجائے اور اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ کی پشت پر مارے، نہ کہ معروف تالی کی طرح کیونکہ یہ لہوولعب ہے اور نماز میں لہوولعب جائز نہیں۔ عورتوں کو تسبیح کہنے سے اس لئے روکا گیا ہے کہ ان کی آواز کسی فتنے کا باعث نہ بنے اور مردوں کو تالی سے اس لئے منع کیا گیا ہے کہ یہ عورتوں کا کام ہے۔ (فتح الباری) 

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!!

Sunday, April 16, 2023

شب قدر کی تلاش!!!

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

   محمد اقبال قاسمي سلفي

شب قدر کی تلاش!!!

رمضان المبارک کا اخیر عشرہ الوداعی عشرہ ہے، لہذا اس عشرے میں ہر مسلمان کو بقیہ عشروں کی بہ نسبت زیادہ عبادت کرنی چاہئیے۔ 
نبی کریم ﷺ اس عشرے میں عبادت کے لئے اپنی کمر کس لیا کرتے تھے۔ 
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا سے روایت ہے کہ 
 جب ( رمضان کا ) آخری عشرہ آتا تو نبی کریم ﷺ اپنا تہبند مضبوط باندھتے ( یعنی اپنی کمر پوری طرح کس لیتے ) اور ان راتوں میں آپ خود بھی جاگتے اور اپنے گھر والوں کو بھی جگایا کرتے تھے. 
(صحيح البخاري:2024) 

 صحیح مسلم کی روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا فرماتی ہیں کہ 
رسول اللہ ﷺ ( رمضان کے ) آخری دس دن ( عبادت ) میں اس قدر محنت کرتے جتنی عام دنوں میں نہیں کرتے تھے ۔ ( اور عام دنوں میں بھی آپ ﷺ بہت زیادہ محنت کرتے تھے 
(صحيح مسلم:2788) 

یہ اخیر عشرہ اس وجہ سے بھی بہت  زیادہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اسی عشرے  میں  ایک رات ایسی آتی ہے 
جس میں عبادت ہزار راتوں سے بہتر ہے۔ہزار رات یعنی تراسی سال چار مہینے کی عبادت سے اس ایک رات کی عبادت بہتر ہے۔ 
اسی لئے نبی کریم ﷺ نے  اخیر عشرے میں اسے   تلاش و جستجو کی کثرت سے ترغیب دی ہے۔ 

 اسے کب تلاش کریں؟ آیا صرف ستائیس کی شب کو جیسا کہ اکثر احناف کیا کرتے ہیں یا صرف طاق راتوں کو!! احادیث میں تو متعدد راتوں کا ذکر آیا ہے۔ 

1) بعض روایتوں میں اسے اخیر عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرنے کا حکم دیا گیا ہے:
 عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْوِتْرِ مِنَ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ۔ 

ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے:
 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شب قدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں ڈھونڈو ۔  (صحيح البخاري:2017) 

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ:
 نبی کریم ﷺ نے فرمایا ، شب قدر کو رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو ، جب نو راتیں باقی رہ جائیں یا پانچ راتیں باقی رہ جائیں ۔ ( یعنی اکیسوئیں یا تئیسوئیں یا پچیسوئیں راتوں میں شب قدر کو تلاش کرو ) ۔
(صحيح البخاري:2021) 

2) درج ذیل روایتوں میں مطلقاً اخیر عشرے میں تلاش کرنے کوکہا گیا:
 
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا سے روایت ہے کہ:
نبی کریم ﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرتے اور فرماتے کہ رمضان کے آخری عشرہ میں شب قدر کو تلاش کرو ۔
(صحيح البخاري:2020)

3)   شب قدر کو آخری سات راتوں میں تلاش کیا جائے :

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ:
 نبی کریم ﷺ کے چند اصحاب کو شب قدر خواب میں ( رمضان کی ) سات آخری تاریخوں میں دکھائی گئی تھی ۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے سب کے خواب سات آخری تاریخوں پر متفق ہو گئے ہیں ۔ اس لیے جسے اس کی تلاش ہو وہ اسی ہفتہ کی آخری ( طاق ) راتوں میں تلاش کرے ۔
(صحيح البخاري:2015) 

4)  درج ذیل روایت سے پتہ چلتا ہے کہ شب قدر ستائیسویں شب ہے: 

حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا :’’ ستائیسویں کی رات شب قدر ہے ۔‘‘  
(سنن ابوداؤد:1386) 

5) درج ذیل روایت میں طاق راتوں(21، 23،25،27،29)کے علاوہ آخری رات یعنی تیس کو بھی (رمضان تیس ہونے کی صورت میں) تلاش کرنے کو کہا گیا:

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ﷺ! مجھے شب قدر کے بارے میں بتائیں۔ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا:یہ رات ماہ رمضان کے آخری عشرے میں  اکیسویں، تئیسویں، پچیسویں، ستائیسویں، انتیسویں یا رمضان کی آخری رات ہوتی ہے۔جو بندہ اس میں ایمان و ثواب کی نیت سے قیام کرے اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں۔ 
(مسند احمد:22815) 

ان احادیث سے معلوم ہوا کہ قدر کی راتیں رمضان المبارک کے اخیر عشرے میں تو آتی  ہیں مگر کسی متعین طاق یا جفت راتوں میں نہیں آتی ہیں ۔ 
 احادیث کے مجموعے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ متعدد راتیں 21، 23، 25، 27، 29 بھی ہوسکتی ہیں اور 20، 22، 24، 28، 30 کی جفت راتیں بھی ۔ 

صحیح مسلم میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم اسے رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو ، تم اسے نویں ، ساتویں اور پانچویں ( رات ) میں تلاش کرو ۔ ( ابونضرہ نے ) کہا : میں نے کہا : ابوسعید ! ہماری نسبت آپ اس گنتی کو زیادہ جانتے ہیں ۔ انھوں نے کہا : ہاں ، ہم اسے جاننے کے تم سے زیادہ حقدار ہیں ۔ میں نے پوچھا : نویں ، ساتویں اور پانچویں سے کیا مراد ہے ؟ انھوں نے جواب دیا :  جب اکیس راتیں گزر جائیں تو اب جو اس کے بعد آئے گی وہ بائیسویں رات ہے یہی نویں رات ہے، پھر جب تئیس راتیں گزر جائیں اب اس کے بعد جو آئے گی وہ ساتویں رات ہے، پھر جب پچیس راتیں گزر جائیں تو اس کے بعد والی رات پانچویں ہے۔
 (صحيح مسلم:1167) 

اس سے معلوم ہوا کہ شب قدر رمضان المبارک کے اخیر عشرے کی جفت راتوں یعنی 22، 24 ، 26، 28 ، 30 میں بھی ہوسکتی ہیں کیونکہ یہی جفت راتیں مہینے کے تیس دن ہونے کی صورت میں باعتبار اختتام طاق راتیں بن جاتی ہیں اور مہینے کا شمار نبی کریم ﷺ نے آغاز اور اختتام دونوں اعتبار سے کیا ہے

جیسا کہ صحیح بخاری میں ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے:

 نبی کریم ﷺ نے فرمایا ، شب قدر رمضان کے ( آخری ) عشرہ میں پڑتی ہے ۔ جب نو راتیں گزر جائیں یا سات باقی رہ جائیں ۔ آپ کی مراد شب قدر سے تھی ۔ 
 عبدالوہاب نے ایوب اور خالد سے بیان کیا ، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ شب قدر کو چوبیس تاریخ ( کی رات ) میں تلاش کرو ۔
(صحيح البخاري:2022) 

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"شب قدر رمضان کے آخری عشرے میں ہوتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے یہی بات صحیح ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (شب قدر رمضان کے آخری عشرے میں ہے) لیلۃ القدر آخری عشرے کی طاق راتوں میں آتی ہے لیکن یہ طاق راتیں گزشتہ ایام کے اعتبار سے 21، 23، 25، 27، اور 29 بنتی ہیں جبکہ باقی راتوں کے اعتبار سے طاق راتیں الگ بنیں گے، جیسے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت ہے کہ: "شب قدر تلاش کرو ، جب 9 راتیں باقی رہ جائیں، 7 راتیں باقی رہ جائیں، 5 راتیں باقی رہ جائیں اور 3 راتیں باقی رہ جائیں"۔ 
اس بنا پر: اگر مہینہ 30 دنوں کا ہو تو مذکورہ حدیث کے مطابق جفت راتوں کو طاق راتیں بنیں گی لہذا بائیسویں رات نویں باقی رہ جانے والی رات ہو گی، چوبیسویں رات ساتویں باقی رہ جانے والی رات ہو گی، یہی وضاحت سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بھی صحیح حدیث میں کی ہے، اور اسی کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے قیام فرمایا، اور اگر مہینہ 29 دنوں کا ہو تو پھر مہینے کے آغاز اور اختتام دونوں اعتبار سے طاق راتیں ایک ہی ہوں گی۔

تو اگر معاملہ ایسا ہے تو پھر اہل ایمان کو شب قدر پورے آخری عشرے میں تلاش کرنی چاہیے، جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان بھی ہے کہ: "اس رات کو آخری عشرے میں تلاش کرو۔"  ختم شد
"مجموع الفتاوى"(25/ 284)
ابن عطیہ رحمہ اللہ اپنی تفسیر: (5/ 505) میں لکھتے ہیں:
"لیلۃ القدر رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں گھومتی ہے، یہی موقف صحیح اور قابل اعتماد ہے، چنانچہ طاق رات کا اعتبار مہینے کے 30 یا 29 دونوں اعتبار سے دیکھنا ہو گا، لہذا شب قدر کے متلاشی کو چاہیے کہ 20 ویں رات سے ہی آخری عشرے کی ہر رات میں مہینے کے آخر تک شب قدر تلاش کرے۔ 
اس لئے اگر کوئی یقینی طور پر شب قدر کو پانا چاہتا ہے تو اسے پورے اخیر عشرے میں تلاش کرنی چاہئے۔
اور نبی کریم ﷺ کا یہی فرمان بھی ہے۔ اس لئے شب قدر کو صرف طاق راتوں میں  یا اخیر عشرے کی کسی  ایک رات میں تلاش کرنے کے بجائے اسے پورے عشرے میں تلاش کی جانی چاہئیے۔

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!!

Thursday, April 13, 2023

سحری میں لوگوں کو بیدار کرنے کے لئے مسجد کے مالک سے اعلان کرنا!! ‏

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
محمد اقبال قاسمي سلفي

سحری میں لوگوں کو بیدار کرنے کے لئے مسجد کے مالک سے اعلان کرنا!! 

 اکثر ایسا دیکھا جاتا ہے کہ سحری کے وقت لوگوں کو بیدار کرنے کے لئے مسجد کے مائک سے اعلان کیا جاتا ہے، وقفے وقفے سے لوگوں کو یہ اطلاع دی جاتی کہ  اتنے  بج کر اتنے منٹ ہو گئے ہیں اور ختم سحری میں اتنے منٹ رہ گئے ہیں لہذا جلد سے جلد سحری سے فارغ ہولیں۔
اور کتنی مسجدیں تو ایسی بھی ہیں جہاں آدھی رات گذرتے ہی مسجد کے مناروں سے قوالوں کی قوالیاں سنائی دینے لگتی ہیں۔ 

لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایسا کرکے بہت بڑا کارثواب کررہے ہیں اور بہت بڑی خدمت انجام دے رہے ہیں جبکہ یہ خدمت نہیں بلکہ بدعت پر عمل کرہے ہیں اور ایسا عمل کرکے یہ کار ثواب نہیں بلکہ اپنے کار عذاب میں اضافہ فرما رہے ہیں۔ 

کیونکہ  رمضان المبارک کے روزے تو سنہ دو ھجری میں ہی فرض کیے گئے تھے، 

اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگي میں نوبرس رمضان المبارک کے روزے رکھے ۔

ازواج مطہرات رضوان اللہ علیھن اجمعین نے روزے رکھے۔ 
خلفاء راشدین نے روزے رکھے۔ 

صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے روزے رکھے 

محدثین فقہائے عظام نے روزے رکھے 
 
لیکن کیا ان میں سے کسی نے ایسا کیا یا ایسا کرنے کو کہا؟؟ 

آج تو الحمد للہ ہم میں سے ہر کسی کے پاس گھڑی ہے، موبائل میں الارم ہے، لیکن آج سے چودہ سو سال پہلے نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کے زمانے میں آج کی موڈلائزڈ گھڑیاں تھیں اور نہ ہی الارم والے موبائل تھے، انہیں آج کی بہ نسبت اعلان کی کہیں  زیادہ ضرورت تھی , اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  ہر تھوڑی دیر کے وقفے سے لوگوں کو بیدار کرنے کے لئے کسی صحابی کی ڈیوٹی لگا دیتے جو مدینے کی گلیوں میں گھوم گھوم کر "اٹھو!!سحری کھا لو! سحر قریب ہے! " کی صدا لگاتا پھرتا۔ 

لیکن اس سنہرے دور کی سنہری سنت کیا ہے، آئیے ذرا دیکھتے ہیں:
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں:
  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بلال رضی اللہ عنہ رات میں اذان دیتے ہیں۔ اس لیے تم لوگ سحری کھا پی سکتے ہو یہاں تک کہ  ( فجر کے لیے )  دوسری اذان پکاری جائے۔“ یا  ( یہ فرمایا )  یہاں تک کہ ”عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی اذان سن لو۔“ عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نابینا تھے اور جب تک ان سے کہا نہ جاتا صبح ہو گئی ہے، وہ اذان نہیں دیتے تھے۔ 
(صحیح بخاری:2565)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ:
 نبیﷺ کے دور مبارک میں صلاۃ فجر کے لیے دو اذانیں ہوا کرتی تھیں۔ ایک فجرکے طلوع سے پہلے ( تاکہ لوگ جاگ جائیں اور حوائج ضروریہ سے فارغ ہولیں کیونکہ قدرتی طور پر اس وقت باقی نمازوں کے اوقات کے مقابل میں زیادہ مصروفیت ہوتی ہے۔ اگر ایک اذان پر اکتفا کرتے تو لوگ جماعت سے رہ جاتے ) اور دوسری اذان طلوع فجر کے بعد , نماز فجر کا قرب ظاہر کرنے کے لیے تاکہ لوگ گھروں سے چل پڑیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اذان اور اقامت میں زیادہ فاصلہ نہیں فرماتے تھے بلکہ اندھیرے میں نماز شروع فرماتے تھے۔ پہلی اذان بلال رضی اللہ عنہ کہتے اور دوسری ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ۔ 
واضح ہوکہ یہ پہلی اذان نہ تو تہجد کے لیے ہوا کرتی تتھی اور نہ ہی سحری کے لیے، کیونکہ تہجد نفل ہیں اور نفل نماز کے لیے اذان نہیں، جیسے صلاۃ عید، صلاۃ کسوف، صلاۃ استسقا اور تراویح وغیرہ، لہٰذا تہجد کے لیے بھی اذان نہیں ہو تی تھی ۔ سحری ویسے ہی اذان غیر متعلق ہے۔ کیونکہ کھانے پینے کا اذان سے کیا تعلق ہے، اذان تو اسلام میں نماز کے لیے ہے مشروع ہوئی ہے نہ کہ کھانے پینے کی اطلاع دینے کے لئے۔ ہاں! ان دو اذانوں سے کوئی سحری کا فائدہ اٹھانا چاہے تو اٹھا لے، منع نہیں جیسا کہ حدیث کے اندر اشارہ موجود ہے۔

  آج سحری میں قوالی سنانے کی ضرورت اس لئے پڑتی ہے کیونکہ ہمیں سحری میں گھنٹوں وقت ضائع کرنے کی عادت پڑ چکی ہے۔ 
سحری کب کرنی  چاہئیے، نبی کریم ﷺ سحری کب کھایا کرتے تھے آئیے ملاحظہ کرتے ہیں:
صحیح بخاری میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ :    تَسَحَّرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ ، قُلْتُ : كَمْ كَانَ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالسَّحُورِ ؟ قَالَ : قَدْرُ خَمْسِينَ آيَةً ۔ 
 نبی کریم ﷺ کے ساتھ ہم نے سحری کھائی ، پھر آپ ﷺ صبح کی نماز کے لیے کھڑے ہوئے ۔ میں نے پوچھا کہ سحری اور اذان میں کتنا فاصلہ ہوتا تھا تو انہوں نے کہا کہ پچاس آیتیں ( پڑھنے ) کے موافق فاصلہ ہوتا تھا ۔
(صحیح بخاری:1925) 
یعنی اذان سے بیس بائیس منٹ پہلے سحری کھانا مسنون ہے۔

سحری میں اذان سے گھنٹوں قبل مائک پر قوالیوں کا لطف لینا نہ یہ صرف شرعی رو سے  ایک امر قبیح ہے بلکہ ہم برادران وطن کے ساتھ جس مخلوط سماج میں رہتے ہیں ، انہیں ایذارسانی کا سبب  بنتے ہیں اور یہ باور کراتے ہیں کہ اسی ایذارسانی کا نام اسلام ہے، اسلام نے ہی ہمیں سکھایا ہے کہ ہم مسجد کے مناروں سے لاؤڈ اسپیکر کے فل ساؤنڈ پر جوف لیل میں لوگوں کو اس قدر پریشان کریں کہ لوگ ماہ رمضان سے ہی نہیں بلکہ مذہب اسلام سے پناہ مانگتے لگیں۔ غیر اسلامی ایجادات اور بدعات کو ہم  اسلامی شعار بتاکر لوگوں کو دین سے دور کرنے کے بجائے کاش صحیح سنت نبوی ﷺ کا پیغام لوگوں تک پہنچاتے۔ 

اس بابت دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ ملاحظہ کریں۔ 

سوال نمبر: 42068

سوال: آج کل رمضان المبارک کے مہینے میں یہ دیکھا جا رہا ہے کہ سحری کے وقت لاوڈاسپیکر پر قوالی یا کوئی واعظ وغیرہ بلند اواز میں لگا دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے عبادت و تلاوت میں پریشانی ہوتی ہے اسکے علاوہ برادران وطن کی نیند خراب ہوتی ہیتو کیا یہ یہ فعل ایذا رسانی کے فعل میں داخل ہے، اگر ہے تو اسکی نکیر کی جانی ضروری ہے، اسکے علاوہ ہر ۰ منٹ کے بعد وقت بتلانے کا فعل کیسا ہے، کیا اسکی اجازت دی جا سکتی ہے۔ براہ کرم، وضاحت فرمائیں۔

جواب :

 لوگوں کو جگانے کی خاطر لاوٴڈ اسپیکر پر قوالی یا تقریر وغیرہ کی کیسٹس چلانا حرام ہے، اس پر نکیر کرنا بلکہ بند کرنا ضروری اور واجب ہے، البتہ اگر ماہ مبارک میں سحری کا وقت ختم ہونے سے مثلاً ایک گھنٹہ قبل صرف ایک مرتبہ وقت بتلاکر اور اسی طرح سحری سے دس منٹ قبل وقت بتلاکر صرف اعلان کردیا جائے تاکہ سحری کھانے والے تیار کرنے والوں کو سہولت ہوجائے اگر اتنے سے اعلان سے بھی نمازیوں یا غیرمکلف لوگوں کو تکلیف ہو تو اس کو بھی نہ کیا جائے، دس دس منٹ کے وقفہ سے وقت بتانا بھی جائز نہیں۔

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
 

اسی طرح ایک دوسرے سوال کا جواب دیتے ہوئے دارالعلوم دیوبند نے فتویٰ  دیا ہے۔ 

سوال:
کیا مسجد کے مائک کا استعمال اس قسم کے اعلان کے لیے جائز ہے؟ فلانی پارٹی / تنظیم کی طرف سے روزہ افطار کی دعوت ہے، یا فری آنکھوں کی جانچ کیجئے۔ براہ کرم، اس پر روشنی ڈالیں۔

جواب :
مسجد کے مائک سے مذکورہ اعلان درست نہیں۔

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
جواب نمبر: 21275

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!!

Wednesday, April 5, 2023

سورة الحج کا سجدہ ثانی!

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مولانا اقبال قاسمي سلفي

 موضوع : سورة الحج کا سجدہ ثانی! 

مصادر : مختلف مراجع و مصادر 

سورہ حج آیت نمبر 77میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ارْكَعُوا وَاسْجُدُوا وَاعْبُدُوا رَبَّكُمْ وَافْعَلُوا الْخَيْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ  (77)
اے ایمان والو! رکوع سجدہ کرتے رہو، اپنے پروردگار کی عبادت میں لگے رہو اور نیک کام کرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔ (پارہ :17) 

صلاة التراويح میں حنفی حفاظ کرام جب سورہ حج کے اس دوسری آیت سجدہ  پر پہنچتے ہیں تو سجدہ کرنے کے بجائے اسکپ skip کرجاتے ہیں کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ سجدہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ہیں، نہ کہ ابوحنیفہ رحمہ الله کے یہاں۔ 
اور آپ کو یہ جان کر بڑی حیرت ہوگی کہ سورہ حج کے اس سجدہ ثانی کے حاشیے پر "السجدة عند الشافعي"(یہ سجدہ امام شافعی کے نزدیک ہے) لکھا ہوا ہوتا ہے، تقلید و تعصب کا ایسا منظر شاید ہی کہیں دیکھنے کو ملے گا کہ جس نے قرآن کو بھی الگ الگ سجدے یعنی حنفی سجدے اور شافعی سجدے  کے لئے فرقہ وارانہ کھیل کا میدان بنادیا۔ 

آہ محکومی و تقلید و زوال تحقیق!
خود بدلتے نہیں، قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق!

اور افسوس تو یہ ہے کہ فرقوں والی یہ عبارت (جس میں فرقے والا سجدہ لکھا ہوا ہوتا ہے)اب بھی فرقہ پرستی کے علمبردار مکتبوں سے شائع ہو رہی ہے۔ 

حالانکہ فرقہ پرستوں کو شاید معلوم نہیں کہ یہ سجدے امام شافعی سے بہت پہلے امام الانبیاء امام اعظم حضرت محمد ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور تابعین عظام رحمھم اللہ سے ثابت ہیں

اس لئے اگر لکھنا ہی تھا تو "السجدۃ عند الشافعي" لکھنے کے بجائے 
 "السجدة عند رسول الله صلى الله عليه وسلم وعند عمر و عند عبدالله بن عمر وعند أبى الدرداء و غيرهم من الصحابة رضي الله عنهم أجمعين"  لکھنا چاہئیے تھا۔ 
یعنی یہ سجدے رسولِ اللہﷺ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی عنہما جیسے صحابہ کرام اور تابعین عظام کے نزدیک یہ سجدہ ہے۔ 

1) خاتم الانبیاءﷺ اور سورہ حج کے دونوں سجدے! 

امام ابوداؤد فرماتے ہیں:
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ مِشْرَحَ بْنَ هَاعَانَ أَبَا الْمُصْعَبِ حَدَّثَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ حَدَّثَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَفِي سُورَةِ الْحَجِّ سَجْدَتَانِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ لَمْ يَسْجُدْهُمَا فَلَا يَقْرَأْهُمَا. 

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا سورۃ الحج میں دو سجدے ہیں ؟ آپ نے فرمایا :’’ ہاں ! اور جو یہ نہ کرنا چاہے وہ ان کی تلاوت ہی نہ کرے ۔‘‘  
)سنن ابو داؤد:1402) 

اس حدیث میں نبی کریم ﷺ نے سورہ حج کے دونوں سجدہ تلاوت پر سجدہ نہ کرنے والے کو زجر کرتے ہوئے یہ کہا کہ ایسا شخص اس سورہ کی تلاوت ہی نہ کرے جب وہ دونوں سجدے نہیں کرنا چاہتا۔ 
(اس حدیث کی سند پر بعض لوگوں نے کلام کیا ہے پہلا:ابن لہیعہ ہر۔ 
مگر ابن لہیعہ نے اس روایت کو اختلاط سے پہلے بیان کیا ہے نیز دوسرے مقام پر انہوں نے سماع کی تصریح بھی کر دی ہے۔ 
دوسرا : اس حدیث کی سند میں مشرح بن ھاعان راوی ہیں۔ 
جس کے بارے میں محدثین فرماتے ہیں:
علامه الذهبي فرماتے ہیں: ثقة، ومرة: صدوق۔ 
احمد بن حنبل فرماتے ہیں : معروف۔ 
أبو أحمد بن عدي الجرجاني فرماتے ہیں : أرجو أنه لا بأس به۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس راوی میں کوئی حرج نہیں۔ 

مصنفوا تحرير تقريب التهذيب : صدوق حسن الحديث، فقد روى عنه جمع، والصواب في أمره: ترك ما انفرد من الروايات، والاعتبار بما وافق الثقات۔ 

تحریر تقریب التہذیب کے مصنفین فرماتے ہیں:مشرح بن ھاعان راوی صدوق ہے، حسن الحدیث ہے، اس سے پوری ایک جماعت نے روایت کیا ہے، اور اس راوی کے معاملے میں درست بات یہ ہے کہ اس کی منفرد روایات کو ترک کردیا جائے گا اور جو روایت ثقہ راویوں کی روایت کے موافق ہوں گی انہیں معتبر سمجھا جائے گا۔ 

اس تفصیل سے یہ معلوم ہوا کہ یہ راوی حسن الحدیث ہیں اور یہ راویت حسن درجے کی ہے۔ نیز مشرح بن ھامان کی اس روایت میں متابعت بھی موجود ہے۔)

2) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ الْبَرْقِيِّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْحَارِثِ بْنِ سَعِيدٍ الْعُتَقِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُنَيْنٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ كُلَالٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْرَأَهُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَجْدَةً فِي الْقُرْآنِ، ‏‏‏‏‏‏مِنْهَا ثَلَاثٌ فِي الْمُفَصَّلِ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي سُورَةِ الْحَجِّ سَجْدَتَانِ.
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مجھے قرآن میں پندرہ سجدے پڑھائے ، ان میں سے تین جز ء مفصل ( آخری منزل ) میں ( سورۃ النجم ، سورۃ الانشقاق ، اور سورۃ العلق میں ) اور دو سورہ حج میں ہیں. (سنن ابوداؤد:1402) 

اس حدیث کو امام نووی اور علامہ منذری نے حسن قرار دیا ہے جبکہ دوسرے لوگوں نے اس پر کلام کیا ہے کیونکہ اس میں ایک راوی عبداللہ بن منین مجہول الحال ہیں لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔احناف کے یہاں ضعیف حدیثوں پر دھڑلے سے عمل کیا جاتاہے اس لئے انہیں چنداں مضر نہیں۔ 

3) صحابی رسول سیدنا عبداللہ بن عمر رضی عنھما اور سورہ حج کے دونوں سجدے! 
 
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سورہ حج میں دو سجدے کرتے تھے۔ (مؤطا امام مالک: 483 و سندہ صحیح) 

4) صحابی رسول سیدنا حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ اور سورہ حج کے دونوں سجدے! 
سیدنا عمر (بن الخطاب) رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صبح کی نماز پڑھائی تو سورہ حج میں دو سجدے کئے۔ 
(ابن ابي شيبه: 4288) 

5) صحابی رسول سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ تعالی عنہ اور سورہ حج کے دونوں سجدے! 
سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سورہ حج میں دو سجدے کرتے تھے۔ (السنن الکبری للبیہقی و سندہ صحیح) 

6) ابو اسحاق السبیعی تابعی کہتے ہیں: أدركت الناس منذ سبعين سنة يسجدون فى الحج سجدتين ”میں نے ستر (70) سال سے لوگوں کو سورہ حج میں دو سجدے (ہی) کرتے پایا ہے۔“ (ابن ابی شیبہ: 4295 و سندہ صحیح)

اس کے علاوہ ابوالعالیہ تابعی، زر بن جیش تابعی رحمھم اللہ بھی سورہ حج میں دو سجدے کیا کرتے تھے۔ 
(مصنف ابن ابی شیبہ)

عبداللہ بن مبارک، امام شافعی،امام احمد بن حبنل اور اسحاق بن راہویہ رحمھم اللہ جیسے بلند پایہ محدثین بھی سورہ حج کے دونوں سجدوں کے قاعل وفاعل تھے۔ (سنن ترمذی:578) 

ان دلائل کے ہوتے ہوئے فرقہ پرستوں کا یہ کہنا کہ اس میں نماز کا حکم دیا گیا ہے، کیونکہ اس میں سجدہ کے ساتھ ساتھ رکوع کا بھی حکم دیا گیا ہے، محض فرقہ پرستی اور قیاس آرائی ہے۔ 
اور اگر بالفرض نماز پڑھنے کا ہی حکم دیا گیا ہے تو اس سے سجدہ تلاوت کی نفی نہ جانے کیسے نکل آئی؟ قیاس کا تو تقاضا یہ تھا کہ اس مقام پر سجدہ کرنا اور مؤکد ہوجاتا۔ 

اگر اس مقام پر سجدے کے علاوہ رکوع کا حکم دیا گیا ہے تو سورہ الاعراف وغیرہ میں سجدے کے ساتھ اللہ کی عبادت کا بھی تذکرہ آیا ہے تو کیا وہاں بھی اس نکتہ سنجی کی زحمت گوارہ ہوگا کہ سورہ اعراف میں سجدہ تلاوت نہیں بلکہ اللہ رب العزت کی مطلق  عبادت کا حکم دیا گیا ہے۔ 
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!!

Sunday, April 2, 2023

نماز تراویح میں سر اور کندھے کو ہلانا! ‏

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محمد اقبال قاسمي سلفي

نماز تراویح میں سر اور کندھے کو ہلانا! 

صلاۃ التراویح میں تلاوت کرتے ہوئے بعض حفاظ کی یہ عادت ہوتی ہے کہ جب  وہ تلاوت کرتے ہیں تو سر اور کندھے کو کثرت کے ساتھ ہلاتے ہیں، جبکہ بعض حفاظ دوران تلاوت شدت کے ساتھ اپنے سروں کو گھماتے ہیں لیکن نماز میں ایسا کرنایعنی نماز میں سر،کندھے  یا پاؤں وغیرہ  کو کثرت کے ساتھ ہلانا نماز کے خشوع خضوع کے منافی ہے نیز تسلسل کے ساتھ ایسا کرنا عمل کثیرکہلاۓ گا جو کہ مفسد نماز بھی ہو سکتا ہے۔ 
نماز میں پورے اطمینان اور وقار کے ساتھ کھڑے رہنا ہی مطلوب ہے گویا ہم اپنے رب کو دیکھ رہے ہیں۔ 

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
صَلِّ صَلَاةَ مُوَدِّع، فَإِنَّكَ إِنْ كُنْتَ لَا تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ
(سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ حدیث نمبر 1914۔ حسن لغیرہ)
نماز اس طرح پڑھو گویا یہ تمہاری آخری نماز ہے۔ اور یہ تصور کرو کہ تم اپنے رب کو دیکھ رہے ہو اگر یہ نہ کرسکو تو اتنا ضرور خیال پیدا کرو کہ وہ تمہیں یقیناً دیکھ رہا ہے۔ 

صحابہ کرام سلام پھیرنے سے پہلے اپنے ہاتھوں سے بھی اشارے کر دیا کرتے تھے تو نبی ﷺ نے انہیں منع فرماتے ہوۓ ارشاد فرمایا کہ سرکش گھوڑوں کی طرح نہ ہلاؤ۔
جابر بن سمرہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کرتے تھے ہم السَّلَامُ عَلَيْکُمْ ور السَّلَامُ عَلَيْکُمْاورمسعر نے اپنے ہاتھ کودائیں بائیں اشارہ کرکے بتایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ لوگ اپنے ہاتھوں کواس طرح کیوں اٹھاتے ہیں جیسا کہ سرکش گھوڑے کی دم تم میں سے ہر ایک کے لئے کافی ہے کہ وہ اپنی ران پر ہاتھ رکھے پھر اپنے بھائی پر اپنے دائیں طرف اور بائیں طرف سلام کرے۔
 (المعجم الكبير للطبرانی رقم 1836 واسنادہ صحیح)

نماز میں نبی کریم ﷺ نے کنکریوں کو بھی ہٹانے اور صاف کرنے سے منع فرمایا ہے جبکہ اس کے لئے معمولی حرکت کی ضرورت ہے:

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں :’’ جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو ( اللہ کی ) رحمت اس کے روبرو ہوتی ہے لہذا کنکریاں نہ چھوا کرے ۔
(سنن ابوداؤد:945) 

اسی طرح صحیح مسلم میں روایت ہے:
حضرت معیقیب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم ﷺ نے مسجد میں ہاتھ سے کنکریاں صاف کرنے کا تذکرہ کیا اور فرمایا :’’ اگر تمھارے لیے اسے کیے بغیر چارہ نہ ہو تو ایک بار ( کر لو . (صحیح مسلم:1219) 

اس بابت دارالعلوم دیوبند نے اپنے فتوے میں لکھا ہے:

سوال:
مسجد کے امام صاحب نماز کے دوران قیام میں جب قرات کرتے ہیں تو وہ منڈی/گردن ہلاتے ہیں بجاے سجدے کی جگہ دیکھنے کے ۔کیا یہ صیح ہے ؟

جواب :
 دورانِ نماز سکون اور وقار کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے۔ قال تعالیٰ: وقوموا للہ قانتین۔ قرأت کے دوران امام صاحب کا گردن ہلانا خلافِ اولیٰ اور مکروہ ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
جواب نمبر:146542

اسی طرح دارالعلوم دیوبند نے ایک دوسرے سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھا ہے:

سوال: (۱) کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام نماز میں عمل کثیرکیا ہے ؟ کب لازم آتا ہے ؟ اور عمل کثیر کی کیا کیا صورتیں ہیں؟ اور مندرجہ ذیل صورت حال میں نماز باقی رہے گی یا کہ لوٹانی پڑے گی؟ (۲) امام صاحب نماز کے کسی بھی رکن میں ایک بار خارش کریں تو نماز کی صحت پر کیا اثر پڑے گا، اگر دو بار کریں پھر کیا اثر پڑے گا اور اگر تین بار کریں پھر کیا اثر پڑے گا؟ (۳) امام صاحب رکوع سے اٹھتے وقت اپنی قمیض کو پیچھے یا آگے کی طرف سے ایک ہاتھ سے سیدھا کریں تو نماز کی صحت پر کیا اثر پڑے گا اور اگر دونوں ہاتھوں کا استعمال کریں تو نماز پر کیا اثر پڑے گا۔ اور کیا ایک ہاتھ سے قمیض کو سیدھا کر سکتے ہیں؟ (۴) امام صاحب سجدے میں جاتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھوں سے شلوار کو اوپر کی طرف کھینچیں اور پھر سجدے میں جائیں تو نماز کی صحت پر کیا اثر پڑے گا۔ (۵) امام صاحب جب دونوں سجدوں کے درمیا ن جلسے میں بیٹھتے ہیں تو دونوں ہاتھوں سے اپنی قمیض کو سیدھا کرتے ہیں اس صورتحال میں نماز پر کیا اثر پڑے گا اور کیا ایک ہاتھ سے قمیض کو سیدھا کر سکتے ہیں؟ (۵) ہماری مسجد کے امام صاحب مندرجہ بالا تمام کام نماز میں کرتے ہیں کیا آیا اس صورت میں ہماری نماز ہو جاتی ہے یا نہیں اگر نہیں ہوتی تو ہم نے پچھلے چھ سال ان کے پیچھے نماز پڑھی ان نمازوں کا کیا حکم ہے اور مسجدکے امام کو بتایا جائے کہ وہ نماز میں عمل کثیر نہ کرے اگر پھر بھی کرے تو ہمارے لئے اس مسجد میں نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے ؟

جواب نمبر: 146179

 (۱) نماز پڑھتے ہوئے کو ئی ایسی حرکت کرنا کہ دیکھنے والا سمجھے کہ یہ شخص نماز میں نہیں ہے مثلاً ٹوپی اتار کر دونوں ہاتھوں سے کھجلانا یہ عمل کثیر ہے ۔ 

(۲) ایک مرتبہ کھجلانے سے نماز کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا لیکن بلا ضرورت ایسا کرنا اچھا نہیں، اسی طرح ایک مرتبہ ہاتھ اٹھا کر کھجلانے سے نماز کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

(۳، ۴، ۵) نماز میں رکوع سے اٹھتے ہوئے یا سجدہ میں جاتے ہوئے یا دونوں سجدوں کے درمیان جلسے میں بیٹھتے وقت دامن یا شلوار ٹھیک کرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی ہے بشرطیکہ عمل کثیر نہ ہو، اور عمل قلیل کی عادت بنا لینا مکروہ ہے اس سے احتراز کرنا چاہئے۔ وکرہ عبثہ بثوبہ (شامی: ۲/۴۰۶۔ مکروہات الصلوة، ط: زکریا دیوبند)

(۶) امام صاحب کو ایسے امور سے جن سے نماز میں کراہت آتی ہو خاص طور سے بچنے کا اہتمام کرنا چاہئے۔

واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!!

Saturday, April 1, 2023

تراویح میں سجدہ تلاوت سے کھڑے ہونے کے بعد سہوا سورہ فاتحہ پڑھ دینا!

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
محمد اقبال قاسمي سلفي

تراویح میں سجدہ تلاوت سے کھڑے ہونے کے بعد سہوا سورہ فاتحہ پڑھ دینا!

دوران تراویح سجدہ تلاوت سے کھڑے ہوکر بسا اوقات حفاظ کرام سہوا سورہ فاتحہ کی تلاوت کردیا کرتے ہیں، جس سے حالت نماز میں ایک کشمکش پیدا ہوجاتی ہے، لوگ بعد نماز چہ مگوئیاں شروع کردیتے ہیں، بعض حفاظ سجدہ سہو کرتے ہیں تو بعض لاعلمی کے باعث پوری نماز اور اس رکعت میں پڑھی گئی پوری تلاوت کا اعادہ کر ڈالتے ہیں، ایک ہنگامہ آرائی کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے، لیکن ایسی صورت میں کسی ہنگامے کی ضرورت ہے، نہ سجدہ سہو کی اور نہ ہی پوری تلاوت کے اعادے کی۔ بلکہ ایسی صورت میں  سورہ فاتحہ کی تکمیل کرتے ہوئے آگے کی تلاوت جاری رکھنی چاہیے، کیونکہ سورہ فاتحہ بھی قرآن کریم کی سورتوں میں سے ایک سورۃ ہے بلکہ عظیم سورۃ ہے اور کسی سورہ کو نماز میں مکرر پڑھنا نبی کریم ﷺ سے ثابت شدہ ہے۔ 

معاذ بن عبداللہ جہنی کا بیان ہے کہ بنو جہینہ کے ایک شخص نے نبی ﷺ کو سنا کہ آپ فجر کی نماز میں دونوں رکعات میں ( إذا زلزلت الأرض ) پڑھ رہے تھے (سنن ابوداؤد:816) 

 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاحب کو ایک مہم پر روانہ کیا۔ وہ صاحب اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تھے اور نماز میں ختم قل ھو اللہ احد پر کرتے تھے۔ جب لوگ واپس آئے تو اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان سے پوچھو کہ وہ یہ طرز عمل کیوں اختیار کئے ہوئے تھے۔ چنانچہ لوگوں نے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ وہ ایسا اس لیے کرتے تھے کہ یہ اللہ کی صفت ہے اور میں اسے پڑھنا عزیز رکھتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں بتا دو کہ اللہ بھی انہیں عزیز رکھتا ہے۔ 
(صحيح البخاري:7375) 
 
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا : نبی ﷺ نے صبح تک ایک ہی آیت بار بار پڑھتے ہوئے قیام فرمایا ۔ آیت یہ ہے : ﴿ إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴾ ’’ اگر تو ان کو سزا دے تو بے شک وہ تیرے ہی بندے ہیں اور اگر تو ان کو معاف فرما دے تو بے شک تو ہی غالب ہے ، بڑی حکمت والا ہے ۔‘‘ 
(سنن ابن ماجه:1350) 


علامہ یوسف بنوری حنفی اس سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

سوال:
ایک شخص نے آیتِ سجدہ پڑھی اور  سجدہ کرکے  جب تلاوت کے لیے کھڑا ہوا  تب دوبارہ غلطی سے سورہ فاتحہ تلاوت کرنا شروع کر دیا۔  پوچھنا ہے کیا سورہ فاتحہ پوری یا دو چار آیت پڑھنے سے سجدہ سہو واجب ہوگا ؟

جواب:
 اگر فرض کی پہلی دو رکعات یا تراویح  کی کسی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد بقدرِ واجب قراءت کرنے کے بعد سورہ فاتحہ مکرر پڑھ لی تو سجدہ سہو واجب نہیں ہوتا، لہذا صورتِ مسئولہ آیتِ سجدہ پر سجدہ کرنے کے بعد کھڑے ہوکر دوبارہ سورتِ فاتحہ پڑھنے کی وجہ سے سجدہ سہو واجب نہ ہوگا، 
فتوی نمبر : 144008201476
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

دارالعلوم دیوبند اس بابت اپنے فتوے میں رقمطراز ہے:

سوال: اگر نمازتراویح میں امام آیت سجدہ کے بعد سورہ فاتحہ پڑھ لیتا ہے تو اس پر کیا حکم ہے مفتیانے کرم کا؟ نماز ہو جائیگی؟یا لوٹانی پڑیگی؟یا سہو سے نماز ہو جائیگی؟ اور کیا تمام آیتیں جو اس نماز میں پڑھی جا چکی دہرانی پڑے گی یا نہیں؟

جواب:
 امام نے نماز تراویح میں آیت سجدہ تلاوت کرنے کے بعد سجدہ کیا، پھر کھڑے ہوکر بجائے اس کے کہ جہاں سے قرآن پڑھنا تھا اس کو نہیں پڑھا بلکہ سورہٴ فاتحہ پڑھ لیا تو بھی اس کی نماز ہوجائے گی، سجدہٴ سہو واجب نہیں ہوگا۔ (۲) نہیں دہرانی پڑے گی۔ 
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
سوال نمبر: 42382
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!!

Recent posts

تلاوت قرآن کے بعد صدق الله العظيم پڑھنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم  السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ  موضوع: تلاوت قرآن کے بعد صدق الله العظيم پڑھنا !  محمد اقبال قاسمی صاحب  مصادر: مخ...