بسم الله الرحمن الرحيم
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
محمد اقبال قاسمي سلفي
موضوع: اوابین کی ادائیگی اور احناف !
مصادر: مختلف مراجع و مصادر
صوفی سنتوں اور موضوع و من گھڑت روایتوں پر عمل کرنے والے حنفی عوام حتی کہ حنفی اکابر علماء و مفتیان بعد نماز مغرب اوابین کی چھ رکعات پڑھنے کا کثرت سے اہتمام کرتے ہیں۔
لیکن چھ رکعات بعد نماز مغرب ادا کرنے کی نہ کوئی صحیح حدیث ہے اور نہ ہی بعد المغرب اوابین نام کی کوئی نماز ہے۔ بعد نماز مغرب ادا کی جانے والی نماز کو نماز اوابین قرار دینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہیں ثابت نہیں۔ اور اس نماز کو اوابین قرار دینا صحیح اور صریح احادیث کے خلاف ہے۔
احادیث صحیحہ میں اوابین ان نمازوں کو قرار دیا گیا جواس وقت پڑھی جاتی ہیں جب اونٹنیوں کے بچوں کے پاؤں سخت جلنے لگیں یعنی چاشت کے وقت۔
1) صحیح مسلم میں حضرت زید بن ارقمؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل قباء کے پاس تشریف لائے ، وہ لوگ ( اس وقت ) نماز پڑھ رہے تھے تو آپ نے فرمایا :
صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ حِينَ تَرْمَضُ الْفِصَالُ.
اوابین کی نماز اس وقت ہے جب اونٹنیوں کے بچوں کے پاؤں سخت جلنے لگیں۔
(صحیح مسلم:1747)
2) مستدرک للحاکم میں حضرت ابو ہریرەؓ سے مرفوعاً روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا یُحَافِظُ عَلٰی صَلَاةِ الضُّحٰی اِلَّا اَوَّابٌ۔ قَالَ وَ هِیَ صَلَاةُ الاَوَّابِینَ.
(المستدرك علی الصحیحین للحاکم :1182)
ترجمہ: چاشت کی نماز کا اہتمام صرف وہی کرتے ہیں جو اواب ہیں (اللہ کی طرف رجوع کرنے والے ہیں۔)
ہیں اور فرمایا یہی اوابین کی نماز ہے۔
اس حدیث کو امام حاکم نے صحیح مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے اور علامہ ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔ابن خزیمہ نے بھی صحیح ابن خزیمہ میں اسے روایت کیا ہے۔
علامہ البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔
3) صحیح ابن خزیمہ میں حضرت ابو ہریرەؓ سے روایت ہے کہ: مجھے میرے خلیل (صلی اللہ علیہ وسلم) نے تین کاموں کی وصیت کی ہے میں انہیں چھوڑنے والا نہیں ہوں۔
۱) میں وتر پڑھے بغیر نہ سوؤں۔
۲) اور میں صلاۃ الضحی کی دو رکعت نہ چھوڑوں اس لیے کہ یہ صلاۃ الاوابین ہے۔
۳) اور ہر ماہ تین روزے رکھوں۔
(صحیح ابن خزیمہ: 1223، سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ: 1994)
4) قاسم شیبانی سے روایت ہے کہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کو چاشت کے وقت نماز پڑھتے دیکھا تو کہا : ہاں یہ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ نماز اس وقت کے بجائے ایک اور وقت میں پڑھنا افضل ہے ، بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اوابین کی نماز اس وقت ہوتی ہے ۔ ، جب گرمی سے اونٹ کے دودھ چھڑائے جانے والے بچوں کے پاؤں جلنے لگتے ہیں ۔‘‘
(صحیح مسلم:1746)
علامہ ابن اثیر فرماتے ہیں:
المراد بصلاة الاوابين صلاة الضحى.
(احادیث میں) نماز اوابین سے مراد نماز چاشت ہے۔
علامہ مناوی فیض القدیر میں صحیح مسلم کی روایت "صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ حِينَ تَرْمَضُ الْفِصَالُ."
ترجمہ: اوابین کی نماز اس وقت ہے جب اونٹنیوں کے بچوں کے پاؤں سخت جلنے لگیں۔" کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
وإنما أضاف الصلاة في هذا الوقت إلى الأوابين لأن النفس تركن فيه إلى الدعة والاستراحة، فصرفها إلى الطاعة والاشتغال فيه بالصلاة رجوع من مراد النفس إلى مرضاة الرب، ذكره القاضي. انتهى.
(فیض القدیر للمناوی)
ترجمہ: نبیﷺ نے چاشت کے اوقات میں نماز پڑھنے کو اوابین قرار دیا کیونکہ نفس اس وقت راحت و آرام کا تقاضا کرتا ہے پس اس نفس کو طاعت کی پھیرنا اور نماز میں مشغول ہونا گویا نفس کے تقاضے کو چھوڑ کر رب کی رضا کی طرف پلٹنا ہے۔
اللجنۃ الدائمہ للبحوث العلمیہ والافتاء نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھا ہے:
"أوابين کی نماز" یہی چاشت کی نماز ہی ہے جب اسے سورج کی شدت اختیار کرنے کے بعد پڑھا جائے یہ کوئی الگ نماز نہیں ہے۔
اللجنۃ الدائمۃ(6/154)
صوفی عبدالحمید سواتی حنفی اس موقف کی تائید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"صحیح احادیث میں صلاۃ الضحی کو ہی صلاۃ الاوابین کہا گیا ہے" لہذا ہمیں صحیح حدیث کے مطابق ہی عمل کرنا چاہیے اور صلاۃ الضحی کو ہی صلاۃ الاوابین سمجھنا چاہیے اور صلاۃ الضحی دو رکعت (مسلم) چار اور آٹھ رکعات تک ثابت ہے جیسا کہ مسلم وغیرہ سے معلوم ہوتا ہے۔"
(نماز مسنون: 563)
علامہ۔ محمد یوسف بنوری حنفی دیوبندی اپنے فتوے میں لکھتے ہیں:
تاہم اس نماز (نوافل بعد المغرب) کو حدیث میں ’’صلاۃ اوابین‘‘ کا نام نہیں دیا گیا، بلکہ صحیح احادیث میں رسول اللہ ﷺ نے چاشت کی نماز کو ’’اوابین‘‘ کی نماز فرمایا ہے، چناں چہ ایک حدیث میں سورج گرم ہوجانے کے بعد چاشت پڑھنے والوں کی نماز کو ’’صلاۃ الاوابین‘‘ فرمایا ہے، ارشاد ہے: ’’صلاة الأوابین حین ترمض الفصال‘‘. (صحيح مسلم) یعنی اللہ کی طرف رجوع کرنے والوں کی نماز اس وقت ہے جب سورج کی تمازت سے اونٹ کے بچے کے پیر جلنے لگیں۔
دارالافتاء
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن پاکستان
فتوی نمبر:144110200759
دارالعلوم دیوبند نے بھی اپنے فتوے میں کچھ یوں لکھا ہے۔
"اوابین کے معنی رجوع الی اللہ کے ہیں، اس اعتبار سے جملہ نمازوں کو اوابین کہہ سکتے ہیں، لیکن احادیث سے دو وقت کی نوافل پر اطلاق صلاة اوابین کا آیا ہے، ایک صلاة ضحی پر اور دوسرے نوافل بعد المغرب۔ پس مغرب کے بعد کی چھ رکعتوں کے علاوہ صلاة ضحی(چاشت کی نماز) کو بھی صلاة اوابین کہہ سکتے ہیں۔
دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتوی نمبر:7192
دارالعلوم دیوبند کے مذکورہ فتوے میں یہ صاف اعتراف ہے کہ احادیث میں صلوۃ الضحیٰ( چاشت کی نماز )کو اوابین کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ اور فتوے میں درج یہ بات کہ "احادیث میں نوافل بعد المغرب پر بھی اوابین کا اطلاق آیا ہے، " تلبیس کاری ہے۔ کیونکہ کسی بھی صحیح حدیث میں نوافل بعد المغرب کو اوابین کا نام نہیں دیا گیا۔
ان تفصلات سے معلوم ہوا کہ نبی کریم ﷺ نے چاشت کی نماز کو ہی اوابین کی نماز قرار دیا ہے۔ چاشت اور اوابین ایک ہی نماز کے دو مختلف نام ہیں۔ اور اسی کو اشراق کی نماز بھی کہا جاتا ہے تو گویا اوابین، اشراق اور چاشت تینوں ایک ہی نماز ہے۔
شيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:
اول وقت ميں چاشت كى نماز ادا كرنا اشراق كى نماز كہلاتا ہے.
مجموع فتاوى الشيخ ابن باز ( 11 / 401 )
احادیث میں اشراق اور چاشت دونوں کے لئے ایک ہی لفظ صلاۃ الضحیٰ کا استعمال کیا گیا ہے۔
ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اشراق کے نوافل ہی نماز چاشت کے نوافل ہیں، لیکن اگر آپ انہیں جلد ادا کر لیں، یعنی سورج کے نیزے کے برابر بلند ہونے کے بعد ادا کریں تو یہ نمازِ اشراق ہے، اور اگر اس نماز کو آخری یا درمیانی وقت میں ادا کریں تو یہ نماز چاشت ہے۔ (لقاء الباب المفتوح)
ان نمازوں کے اول اور آخری وقت کے متعلق شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سورج کے ایک نیزہ کے برابر بلند ہونے یعنی تقریبا سورج نکلنے کے پندرہ یا بیس منٹ کے بعد سے زوال کے تھوڑا پہلے یعنی دس پندرہ منٹ پہلے تک۔
(مجموع الفتاویٰ (14/ 306)
علامہ محمد یوسف بنوری حنفی فرماتے ہیں:
تاہم اشراق کی نماز کے لیے حدیث میں مستقل نام ذکر نہیں کیا گیا، جب کہ چاشت کے لیے صلاۃ الضحیٰ کا نام اور عنوان موجود ہے، ان دونوں نمازوں میں ابتداءِ وقت اور انتہاءِ وقت کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں؛ کیوں کہ دونوں کا ابتدائی اور انتہائی وقت ایک ہی ہے یعنی سورج نکلنے سے کم از کم دس منٹ بعد سے زوال تک، البتہ اشراق کی نماز اول وقت میں پڑھنا افضل ہے جب کہ چاشت کا افضل وقت چوتھائی دن گزرنے کے بعد ہے، جب سورج گرم ہوجاتاہے، حدیثِ پاک میں ہے: ’’صلاة الأوابین حین ترمض الفصال،(اوابین کی نماز اس وقت ہے جب سخت گرمی سے اونٹنیوں کے بچوں کے جلنے لگیں۔)
دارالافتاء
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر : 144110200558
دارالعلوم دیوبند نے اپنے فتوے میں لکھا ہے:
ماز چاشت ہی کا دوسرا نام صلاة الضحی ہے اور نماز چاشت اور نماز اشراق دونوں کا وقت مشترک ہے؛ البتہ بہتر یہ ہے کہ سورج نکل کر جب پورے دن کا چوتھائی حصہ گذر جائے تب نماز چاشت پڑھی جائے۔ واضح رہے کہ بعض علما طلوع آفتاب کے بعد صرف ایک نماز مانتے ہیں، یعنی: نماز چاشت ، وہ نماز اشراق نہیں مانتے۔ اور جو حضرات دو نمازیں (نماز اشراق اور نماز چاشت) مانتے ہیں، احادیث سے ان کے قول کی بھی تائید ہوتی ہے۔
دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتوی نمبر: 600555
ان نمازوں کی مسنون رکعات دو، چار اور آٹھ ہیں۔ یعنی کم از کم دو اور زیادہ سے زیادہ آٹھ ہیں۔
دلائل درج ذیل ہیں:
1) حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
صبح کو تم میں سے ہر ایک شخص کے ہر جوڑ پر ایک صدقہ ہوتا ہے ، پس ہر ایک تسبیح ( ایک دفعہ سبحان الله کہنا ) صدقہ ہے ۔ ہر ایک تمحید ( الحمد لله کہنا ) صدقہ ہے ، ہر ایک تہلیل ( لا اله الا الله کہنا ) صدقہ ہے ہر ایک تکبیر ( اللہ اکبر کہنا ) بھی صدقہ ہے اور کسی کو نیکی کی تلقین کرنا صدقہ ہے اور کسی کو برائی سے روکنا بھی صدقہ ہے ۔ اور ان تمام امور کی جگہ دو رکعتیں جو انسان چاشت کے وقت پڑھتا ہے کفایت کرتی ہیں ۔
(صحیح مسلم :1671)
اس سے معلوم ہوا کہ کم ازکم دو دو رکعتیں ہو سکے تو ادا کر لینی چاہئیے۔
2) صحیح مسلم میں عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے چار رکعت بھی مروی ہے۔
معاذہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہ ﷺ چاشت کی نماز کتنی ( رکعتیں ) پڑھتے تھے ؟ انھوں نے جواب دیا چار رکعتیں اور جس قدر زیادہ پڑھنا چاہتے ( پڑھ لیتے ) ۔
(صحیح مسلم: 719)
3) اور حضرت ام ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی آٹھ رکعتیں ادا کی تھیں۔
عبداللہ بن حارث بن نوفل کہتے ہیں کہ میں آرزو رکھتا اور پوچھتا پھرتا تھا کہ کوئی مجھے بتائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز پڑھی ہے تو میں نے کسی کو نہ پایا جو کہ مجھ سے یہ بیان کرے سوائے ام ہانی رضی اللہ عنہا کے۔ ام ہانی رضی اللہ عنہا جو ابوطالب کی بیٹی ہیں انہوں نے خبر دی کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دن چڑھے آئے۔ کپڑے کا ایک پردہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ڈال دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل فرمایا۔ پھر کھڑے ہو کر آٹھ رکعت نماز پڑھی۔ میں نہیں جانتی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام لمبا تھا یا رکوع یا سجدہ، (تقریباً) سب برابر برابر تھے۔ اور میں نے اس سے پہلے اور بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چاشت پڑھتے نہیں دیکھا۔
(مختصر صحیح مسلم:366)
4) سنن ترمذی کی روایت میں بارہ رکعات کا بھی ذکر آیا یے، تاہم وہ روایت ضعیف ہے۔
انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے چاشت کی بارہ رکعتیں پڑھیں، اللہ اس کے لیے جنت میں سونے کا ایک محل تعمیر فرمائے گا۔
(سنن ترمذی: 473)
اس کی سند میں محمد بن اسحاق مدلس اور موسی بن انس ضعیف ہیں۔
بعد مغرب اوابین پڑھنے کی حنفی دلیلیں!
حضرت ابو ہریرەؓ سے سنن ترمذی میں روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جس نے مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھیں اور ان کے درمیان کوئی بری بات نہ کی، تو ان کا ثواب بارہ سال کی عبادت کے برابر ہو گا۔ (سنن ترمذی: 435)
اولاً:اس حدیث میں کہیں بھی اسے اوابین کی نماز سے موسوم نہیں کیا گیا:
ثانیاً: اسے روایت کرنے کے بعد امام ترمذی خود فرماتے ہیں:
حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ الْحُبَابِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي خَثْعَمٍ، قَالَ: وسَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل، يَقُولُ: عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي خَثْعَمٍ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ وَضَعَّفَهُ جِدًّا.
ہم اسے صرف زيد بن حباب عن عمر بن أبي خثعم کی سند سے جانتے ہیں، میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ عمر بن عبداللہ بن ابی خثعم منکرالحدیث ہیں۔ اور انہوں نے انہیں سخت ضعیف کہا ہے۔
معلوم ہواکہ یہ روایت عمر بن عبداللہ بن ابی خثعم راوی کی وجہ سے سخت ضعیف ہے۔
امام ترمذی کے علاوہ دیگر محدثین نے بھی اس روایت کو سخت ضعیف اور منکر قرار دیا ہے۔
بعض روایتوں میں نوافل بین المغرب والعشاء کو اوابین کہا گیا ہے، لیکن وہ روایتیں موقوف ہونے کے ساتھ ساتھ شدید ضعیف بھی ہیں۔
جیساکہ مصنف ابن ابی شیبہ میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول مروی ہے:
- حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: نا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عمرو ، قَالَ: «صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ، مَا بَيْنَ أَنْ يَلْتَفِتَ أَهْلُ الْمَغْرِبِ، إِلَى أَنْ يَثُوبَ إِلَى الْعِشَاءِ» . مصنف ابن أبي شيبة (2/ 14)
صلاۃ الاوابین جب مغرب کی نماز پڑھ کر نمازی فارغ ہوں تو اس سے لے کر اس وقت تک ہوتی ہے جب عشاء کا وقت آ جائے ۔
اس روایت میں عبداللہ بن عمروبن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مغرب اور عشاء کے درمیان پڑھی جانے والی نماز کو ہی اوابین کی نماز قرار دیا ہے۔
لیکن اس کی سند میں موسی بن عبید الربذی نامی راوی موجود ہے جسے جمہور محدثین نے ضعیف اور منکر قرار دیا ہے۔
اسی طرح عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے بلا اسناد یہ مذکور ہے :
وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَحُفُّ بِالَّذِينِ يُصَلُّونَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، وَهِيَ صلاة الأوابين . تفسير البغوي - إحياء التراث (3/ 130) و"ابن زنجويه". كنز العمال (8/ 54)
بےشک فرشتے ان لوگوں کو گھیر لیتے ہیں جو مغرب اور عشاء کے درمیان نماز پڑھتے ہیں اور یہ بھی صلاۃ الاوابین ہے۔
عبداللہ بن عباس کا یہ قول بے سند ہونے کی وجہ سے ناقابل استدلال ہے نیز امام بغوی نے صیغۂ تمریض کے ساتھ ذکر کرکے اس کے ضعف اور اور بے اصل کی طرف اشارہ کردیا۔
خلاصة التحرير!
1)صحیح مرفوع احادیث سے یہ ثابت شدہ ہے کہ اوابین کی نماز چاشت کے وقت پڑھی جانے والی نماز ہے، حنفی فتوؤں میں بھی اس کا اعتراف موجود ہے۔
2) صحیح احادیث کے مطابق اوابین، اشراق اور چاشت ایک ہی نماز کے مختلف نام ہیں، حنفی فتوؤں میں بھی یہ درج ہے۔
3) بعد نماز مغرب اوابین نام کی کوئی نماز نہیں ہے۔
4) بعد مغرب چھ رکعات کی تحدید کسی بھی صحیح سے ثابت نہیں ہے۔
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!!