Monday, June 26, 2023

قربانی کا جانور اور پل صراط کی سواری ! ‏

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محمد اقبال قاسمي سلفي

مصادر: مختلف مراجع و مصادر

موضوع: قربانی کا جانور اور  پل صراط کی سواری ! 

قربانی کے فضائل بیان کرتے ہوئے اکثر یہ روایت بیان کی جاتی ہے:

"استفرهوا ضحاياكم فانها علي الصراط مطاياكم۔" 

ترجمہ: اپنی قربانی کے جانوروں کو موٹاتازہ  بناؤ کیونکہ وہ پل صراط پر تمہارے لیے سواریاں بنیں گی۔ 

دارالعلوم دیوبند نے بھی ایک استفتاء کا جواب دیتے ہوئے اس روایت کو پیش کیا ہے۔ 

سوال: بعض لوگ قربانی کے لیے جانور ایک ماہ پہلے خرید تے ہیں اس نیت سے بعد میں جانور کی قیمت زیادہ ہو جاتی ہے تو ان کی قربانی میں فرق تو نہیں آجاتا؟
جواب:

اس سے قربانی میں کوئی فرق نہیں آتا، یہ تو پسندیدہ چیز ہے، پہلے خریدنا اور اسے کھلاپلاکر فربہ بنانا تو مستحب ہے، سمنوا ضحایاکم فإنہا علی الصراط مطایاکم․ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی قربانی کے جانوروں کو موٹا بنانا کیونکہ وہ پل صراط پر تمہارے لیے سواریاں بنیں گی، یہ صورت بہت پہلے ہی خریدنے میں حاصل ہوگی۔ 

دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتوی نمبر: 42399

ملا على قارى حنفى نے اپنی مشہور شرح "مرقاة المصابيح"میں فضائل قربانی کے تحت اس روایت کو ذکر کیا ہے۔ (مرقاۃ ج2 ص 286)

مولانا اشرف علی تھانوی نے بھی اپنی کتاب " حیاۃ المسلمین" میں روح ہشدہم کے تحت اس روایت کو ذکر کیا ہے۔ 
چنانچہ لکھتے ہیں: حضرت ابو ہریرەؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنی قربانیوں کو خوب قوی کیا کرو(یعنی کھلا پلا کر)  کیونکہ پل صراط پر وہ تمہاری سواریاں ہوں گی۔ (کزالعمال عن ابی ہریرەؓ) 

(حیاۃ المسلمین، روح ہشدہم ص 124) 

لیکن یہ روایت جمہور محدثین کے نزدیک انتہائی ضعیف، منکر، غیر معروف اور غیر ثابت ہے۔ 

اس حدیث کے متعلق امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں "اس کی تخریج صاحب مسند الفردوس نے یحییٰ بن عبیداللہ بن موہب کے طریق سے کی ہے اور یحییٰ بہت زیادہ ضعیف ہے" 
(تلخیص الحدیث:  ج نمبر 4 ص 138) 

علامہ سخاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں "اس کو دیلمی نے ابن المبارک میں یحییٰ بن عبیداللہ عن ابیہ عن ابی ہریرۃ مرفوعا مسندا روایت کیا ہے اور یحییٰ بہت زیادہ ضعیف ہے۔  
(مقاصد الحسنہ للسخاوی ص 58)

علامہ شیبانی اثری رحمہ اللہ فرماتے ہیں "مختلف الفاظ کے ساتھ متعدد طرق سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے۔ حافظ ابن الصلاح رحمہ اللہ کا قول ہے: "یہ حدیث غیر معروف ہے اور ہمارے علم کے مطابق اس بارے میں کچھ بھی ثابت نہیں ہے۔" 
(تمییز الطیب من الخیث الشیبانی ص 27-28) 

علامہ عجلونی جراحی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں "دیلمی رحمہ اللہ نے اس کو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بہت زیادہ ضعیف سند کے ساتھ مرفوعا روایت کیا ہے"۔ 
(کشف الخفاء و مزیل الالباس للعجلونی رحمہ اللہ ج نمبر 1 ص 133) 

علامہ محمد درویش حوت البیروتی رحمہ اللہ فرماتے ہیں "یہ حدیث غیر ثابت ہے جیسا کہ ابن الصلاح رحمہ اللہ وغیرہ نے بیان کیا ہے۔ 
اسی طرح "انها مطاياكم في الجنه" والی حدیث بھی غیر ثابت ہے اور فضیلتِ اضحیہ کی کوئی حدیث صحیح نہیں ہے۔ "
(اسنى المطالب في احاديث مختلفة المراتب للحوت بیروتی ص 55) 

علامہ سمہودی رحمہ اللہ فرماتے ہیں "ابن الصلاح رحمہ اللہ نے اس کو بے اصل بتایا ہے"۔ بعض دوسرے محققین فرماتے ہیں ضحایا (کی فضیلت) کے متعلق کوئی صحیح روایت وارد نہیں ہے۔ "
(الغماز علی اللماز للسمہودی ص 41) 

 اس روایت کی سند میں 
  یحییٰ بن عبیداللہ بن عبداللہ بن موہب المدنی التیمی ہےجو بقول امام نسائی رحمہ اللہ و دارقطنی رحمہ اللہ ضعیف ہے۔

ابن حبان فرماتے ہیں "اپنے والد سے بے اصل چیزوں کی روایت کرتا ہے اس کا باپ ثقہ ہے لیکن یہ ساقط الاحتجاج ہے"۔ 
 شعبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:  "میں نے اس کی احادیث کو ترک کر دیا ہے"۔ 
ابن معین رحمہ اللہ کا قول ہے "کچھ بھی نہیں ہے"۔ 
 
ابن مثنی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: "اس سے یحییٰ القطان رحمہ اللہ نے روایت کی تھی پھر اسے ترک کر دیا تھا"۔ 
 امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں "اس کی احادیث مناکیر ہوتی ہیں: " ایک مرتبہ آں رحمہ اللہ نے فرمایا "ثقہ نہیں ہے"۔ 

 علامہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "طبقہ ششم کا متروک راوی ہے"۔ 

امام حاکم رحمہ اللہ نے اس کو فاحش بتایا ہے اور حدیث گھڑنے کے لئے مہتم قرار دیا ہے. 
ابو حاتم رحمہ اللہ کا قول ہے کہ "بہت زیادہ ضعیف الحدیث و منکر الحدیث ہے"۔

امام مسلم رحمہ اللہ نے بھی اسے "متروک الحدیث" قرار دیا ہے۔

ان  محدثین عظام کی تحقیق و تحکیم کے مقابلے میں دارالعلوم دیوبند جیسے تقلیدی ادارے کے فتوے اور مولانا اشرف علی تھانوی جیسے صوفی عالم کی بات کو کسی اعتبار کے کھاتے میں رکھنے بجائے یکسر ناقابل اعتبار اور مردود سمجھا جائے گا۔ 

جبکہ  دارالعلوم دیوبند نے بھی اپنے ایک فتوے میں اس طرح کی انتہائی ضعیف اور موضوع روایتوں کو پیش کرنے سے منع کیا ہے۔ 
چنانچہ اپنے فتوے میں رقمطراز ہے:

"جہاں تک ان حدیثوں(انتہائی ضعیف حدیثوں) کو بیان کرنے کی بات ہے تو اس سلسلے میں یہ وضاحت کی جائے کہ بیان کرنے والا کیسا شخص ہے؟ عالم دین یا عامی؟ کس طرح کے مجمع میں بیان کرے گا؟ بہرحال محدثین نے صراحت کی ہے کہ جو حدیثیں بہت زیادہ ضعیف ہوں یا قابل اعتماد ناقدین نے موضوعات میں شمار کیا ہو انھیں بیان نہ کرنا چاہیے الا یہ کہ کبھی درس یا کسی مقام میں ان حدیثوں کے ضعیف یا وضع کو بیان کرنے کی ضرورت ہو تو ضعف اور وضع کی صراحت کے ساتھ بیان کیا جاسکتا ہے۔ "

دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتوی نمبر: 43595

واضح ہو کہ یہ روایت (استفرهوا ضحاياكم فانها مطاياكم على الصراط) کے علاوہ "عظموا ضحاياكم فانها مطاياكم على الصراط" اور "سمنوا ضحاياكم فانها مطاياكم على الصراط"  کے الفاظ کے ساتھ بھی بیان کی جاتی ہے۔ لیکن ان الفاظ کے ساتھ بھی یہ روایت بالکل بے اصل اور بے سندہے۔ 

اور بے سند روایت کی نسبت نبی کریم ﷺ کی طرف کرنا آپ پر بہتان باندھنے کے مترادف ہے جس کا ٹھکانا  جہنم ہے۔ 

نبی کریمﷺ نے فرمایا:
جو شخص میرے نام سے وہ بات بیان کرے جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
(صحیح بخاری: 109)

یہ جاننا چاہیے پل صراط پر کسی جانور کے سواری بننے کے متعلق کوئی بھی صحیح روایت موجود نہیں ہے۔ 

پل صراط کے متعلق نبی کریم ﷺ نے فرمایا: 
"پھر انہیں پل پر لایا جائے گا ۔ ہم نے پوچھا : یا رسول اللہ ! پل کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا , وہ ایک پھسلواں گرنے کا مقام ہے اس پر سنسنیاں ہیں ، آنکڑے ہیں ، چوڑے چوڑے کانٹے ہیں ، ان کے سر خمدار سعدان کے کانٹوں کی طرح ہیں جو نجد کے ملک میں ہوتے ہیں ۔ مومن اس پر پلک مارنے کی طرح ، بجلی کی طرح ، ہوا کی طرح ، تیز رفتار گھوڑے اور سواری کی طرح گزر جائیں گے ۔ ان میں بعض تو صحیح سلامت نجات پانے والے ہوں گے اور بعض جہنم کی آگ سے جھلس کر بچ نکلنے والے ہوں گے یہاں تک کہ آخری شخص اس پر سے گھسٹتے ہوئے گزرے گا. "
(صحيح البخاري: 7439) 

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!

Wednesday, June 21, 2023

قربانی کا جانور اور جنت کی سواری! ‏

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله 
وبركاته 

محمد اقبال قاسمي سلفي

موضوع: قربانی کا جانور اور جنت کی سواری! 

مصادر: مختلف مراجع و مصادر 

قربانی کے فضائل بیان کرتے ہوئے اکثر یہ روایت بیان کی جاتی ہے : عظموا ضحاياكم فانها مطاياكم في الجنة. 
ترجمہ: اپنی قربانی کے جانوروں کو خوب موٹا تازہ کرو کیونکہ یہ جنت کی سواری ہے۔ 

یہ بالکل بے اصل اور موضوع روایت ہے۔ 
قربانی کے جانور کا جنت کی سواری ہونے کے متعلق کوئی بھی صحیح حدیث موجود نہیں ہے۔ 

ایسی روایت بیان کرنا نبی کریم ﷺ پر بہتان لگانا ہے اور نبی کریم ﷺ پر بہتان تراشی کرنا جہنم کو اپنا ٹھکانا بنانے کے مترادف ہے۔ 

سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے:  

قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ يَقُلْ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ .
سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا :جو شخص میرے نام سے وہ بات بیان کرے جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
(صحیح بخاری: 109)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ شرح نخبہ میں فرماتے ہیں: علماء کا اتفاق ہے کہ موضوع حدیث بیان کرنا حرام ہے، سواۓ اس کے, کہ وہ اس کے موضوع ہونے کی تصریح کردے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
من حدث عني بحديث يرى انه كذب فهو احد الكاذبين۔ 

ترجمہ: جو شخص مجھ سے حدیث نقل کرے اور وہ خیال کرتا ہو کہ یہ جھوٹ ہے تو وہ خود جھوٹا ہے۔ (مقدمہ صحیح مسلم) (بحوالہ شرح نخبہ) 

مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے:  

قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : إِنَّ كَذِبًا عَلَيَّ لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ . 
 
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ
میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے کہ میرے متعلق کوئی جھوٹی بات کہنا عام لوگوں سے متعلق جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے جو شخص بھی جان بوجھ کر میرے اوپر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
(صحیح بخاری: 1291) 

علامہ علاءالدین حصکفی صاحب در مختار فرماتے ہیں: موضوع روایات پر تو بہر صورت عمل جائز نہیں ہے، نیز اسے بیان کرنا بھی جائز نہیں ہے، مگر یہ کہ ساتھ ساتھ اس کے موضوع ہونے کو بتا دیا جائے۔ (در مختار: ص 87) 

خطیبوں کو چاہئے کہ امت کے سامنے ایسی موضوع روایتیں پیش کرنے سے اجتناب کریں۔ ایسے جھوٹے فضائل بیان کرنے کے بجائے قرآن و حدیث کی روشنی میں قربانی کے صحیح مسائل سے لوگوں کو روشناس کرائیں۔ 

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه آمين.

Monday, June 19, 2023

حدیث میں حنفی اضافہ "وَإِلَیْكَ یَرْجِعُ السَّلاَمُ، حَیِّنَا رَبُّنَا بِالسَّلاَمِ وَأَدْخِلْنَا دَارَالسَّلاَمِ) ‏

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محمد اقبال قاسمي سلفي

موضوع: حدیث میں حنفی اضافہ 

مصادر: مختلف مراجع و مصادر

فرض نماز کے بعد سلام پھیرتے ہی نبی کریم ﷺ ایک بار بلند آواز سے تکبیر یعنی اللہ اکبر کہتے ۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں:
 ہمیں رسول اللہ ﷺ کی نماز ختم ہونے کا پتہ تکبیر سے چلتا تھا۔
 (صحیح مسلم: 583)

اس کے بعد مندرجہ ذیل کلمات کہتے جیسا کہ ثوبان رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
 كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاتِهِ اسْتَغْفَرَ ثَلَاثًا وَقَالَ: اللهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، قَالَ الْوَلِيدُ: فَقُلْتُ لِلْأَوْزَاعِيِّ: كَيْفَ الْاسْتِغْفَارُ؟ قَالَ: تَقُولُ: أَسْتَغْفِرُ اللهَ، أَسْتَغْفِرُ اللهَ۔
ترجمہ: حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنی نماز سے فارغ ہوتے تو تین دفعہ استغفار کرتے اور اس کے بعد کہتے: اللهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ
(اے اللہ ! تو ہی سلام ہے اور سلامتی تیری ہی طرف سے ہے ، تو صاحب رفعت و برکت ہے ، اے جلال والے اور عزت بخشنے والے!) 
ولید نے کہا: میں نے اوزاعی سے پوچھا: استغفار کیسے کیا جائے؟ انھوں نے کہا: استغفر اللہ، استغفر اللہ کہے۔ 
(صحیح مسلم: 591) 

بعض روایتوں میں تَبَارَكْتَ ذَاالْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ کے بجائے  تَبَارَكْتَ يا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ (یا کے اضافے کے ساتھ) ہے۔ (صحیح مسلم: 592) 

لیکن صوفی سنتوں کے من گھڑت قصے کہانیوں، ضعیف اور موضوع روایتوں پر عمل کر نے والے دیوبندی اور رضاخانی عوام، علماء، اور تقلیدی مفتیوں تک کو یہ سنا جاتا  ہے کہ وہ " اللهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ" کے بعد (وَإِلَیْكَ یَرْجِعُ السَّلاَمُ، حَیِّنَا رَبُّنَا بِالسَّلاَمِ وَأَدْخِلْنَا دَارَالسَّلاَمِ) کے الفاظ کا اضافہ کرتے ہیں۔ 
یہ سراسر تقلیدی دیوبندیوں اور  رضاخانیوں کی ایجاد اور خانہ ساز اضافہ ہے۔ اس اضافے کے ساتھ یہ حدیث رسول ﷺ کہیں بھی موجود نہیں ہے۔ صحیح تو کیا، کسی  ضعیف موضوع اور من گھڑت سند میں بھی یہ اضافہ موجود نہیں ہے۔ 

دیوبندی اور رضاخانی اضافے کے بغیر یہ حدیث فقط اتنا ہے: 
اللهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ۔ 
مشکوۃ کی شرح تصحیح المصابیح میں علامہ جزری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: 
اور ’’منك السلام ‘‘ کے بعد جو  ’’الیك یرجع السلام فحينا ربنا بالسلام وادخلنا الجنة دارك دار السلام‘‘ کا اضافہ کیا گیا ہے ، اس کی کوئی اصل نہیں بلکہ یہ کسی واعظ کی اختراع ہے، صحیح ثابت اس طرح ہے: اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام (مسلم)۔ 
بحوالہ (مرقات: 2/ 358) 

دارالعلوم دیوبند نے بھی اپنے فتوے میں ان زائد کلمات کا انکار کیا ہے، چنانچہ دارالعلوم دیوبند نے اس بابت جواب دیتے ہوئے لکھا ہے: 

حدیث میں صرف اس قدر الفاظ آئے ہیں اللہم انت السلام ومنک السلام تبارک یا ذا الجلال والإکرام، 
قال في شرح المشکاة عن الجزري وأما ما زاد بعد قولہ ومنک السلام من نحو إلیک یرجع السلام حینا ربنا بالسلام وأدخلنا دار السلام فلا أصل لہ بل مختلق بعض القصاص. 
(مشکوۃ کی شرح میں علامہ جزری سے منقول ہے کہ "اور ’’منك السلام ‘‘ کے بعد جو کچھ ’’الیك یرجع السلام فحينا ربنا بالسلام وادخلنا الجنة دارك دار السلام‘‘ کا اضافہ کیا گیا ہے ، اس کی کوئی اصل نہیں بلکہ یہ قصہ گو خطیب اور مفتیوں کی اختراع(ایجاد)ہے۔ 
حاشیة طحطاوي علی المراقي (ص:۳۱۲)

دارالافتاء 
دارالعلوم دیوبند
فتوی نمبر: 159436

اسی طرح کچھ لوگ "اللهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ" میں (تَبَارَکْتَ) کے بعد (رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ) کے الفاظ بھی جوڑ دیتے ہیں جو کہ نبی کریم ﷺ سے ثابت شدہ اذکار میں کہیں موجود نہیں ہے۔بلکہ یہ بھی حدیث رسول ﷺ میں اپنی طرف سے اختراع ہے۔ حدیث رسول میں اپنی طرف سے اختراع اور اضافہ ہے۔ 

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا :’’ جب اپنے بستر پر جانے لگو تو وضو کر لیا کرو جیسے نماز کے لیے کرتے ہو ‘ پھر اپنی دائیں کروٹ پر لیٹ جاؤ اور کہو : (اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏رَهْبَةً وَرَغْبَةً إِلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَى مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ، ‏‏‏‏‏‏) 
 اے اللہ ! میں نے اپنا چہرہ تیرے تابع کر دیا اور اپنا معاملہ تیرے سپرد کر دیا ‘ اپنی کمر تیری طرف لگا لی ( تجھے ہی اپنا سہارا بنا لیا ) مجھے تیرا ہی ڈر ہے اور شوق بھی تیری طرف ہے ۔ تجھ سے بھاگ کر کے میرے لیے تیرے سوا کہیں کوئی جائے پناہ اور جائے نجات نہیں ۔ میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا جو تو نے نازل کی ہے اور اس نبی کو تسلیم کیا جسے تو نے رسول بنا کر بھیجا ہے ۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر تو ( اس رات میں ) مر گیا تو فطرت ( دین اسلام ) پر مرے گا ۔ اور چاہیے کہ یہ تیری آخری بات ہو ( اس کے بعد کوئی اور گفتگو نہ ہو ۔‘‘ ) حضرت براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے اس دعا کو یاد کرتے ہوئے دہرایا تو لفظ کہہ دیے ( وبرسولك الذي أرسلت ) ’’ میں تیرے اس رسول پر ایمان لایا جسے تو نے بھیجا ہے ۔‘‘ تو آپ نے فرمایا :’’ نہیں ( بلکہ جو الفاظ میں نے تمہیں پڑھائے ہیں وہی یاد کرو ‘ اور وہ الفاظ ہیں ) ( ونبيك الذي أرسلت ) ’’ میں تیرے اس نبی پر ایمان لایا جسے تو نے رسول بنا کر بھیجا ہے ۔‘‘  

اس حدیث میں نبی کریم ﷺ نے صحابی رسول براء بن عازب رضی اللہ عنہ کو اپنی حدیث میں کسی بھی طرح کی تبدیلی سے منع فرمایا ہے، جبکہ  وَبِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ،‏‏‏‏ اور ‏‏‏‏‏‏وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ. میں کوئی قابل لحاظ فرق نہیں ہے، براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بنبيك کی جگہ برسولک پڑھ دیا تو آپ نے منع فرما دیا، اور بعینہ مسنون الفاظ دہرانے کی تاکید کردی جبکہ یہاں صرف الفاظ کی تبدیلی تھی، کوئی تقلیدی اضافہ نہیں تھا۔ 

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!

Wednesday, June 14, 2023

‎اردو لکھنے میں کی جانی والی عام غلطیاں! ‏

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

موضوع: اردو لکھنے میں کی جانی والی عام غلطیاں! 
          
1)❌ سکول 
✅   اسکول 

2)❌ دوکان  
✅✅دکان

3) ❌بد امنی 
✅   بے امنی 

4) ❌دن بہ دن 
✅روز بہ روز 

5) ❌برسہا برس 
🌹✅ سالہا سال

6) ❌نقطہ چینی 
✅نکتہ چینی 

7) ❌موقعہ 
✅موقع 

8) ❌مصرعہ 
✅مصرع 

9) ❌سٹیشن 
✅اسٹیشن

10) ❌استفادہ حاصل کرنا 
✅استفادہ کرنا 

11) ❌علماء، شعراء، فقراء، جہلاء،  انبیاء، حکماء،ابتداء، انتہاء

✅علما، شعرا، فقرا، جہلا، انبیا، حکما، ابتدا، انتہا۔ 

12) ❌لئے، دئیے، کئے، لیجئے، دیجئے، کیجئے، 

✅لیے، دیےدیے، کیے، لیجیے، دیجیے، کیجیے۔ 

13) ❌درستگی،  ناراضگی، حیرانگی
✅درستی، ناراضی، حیرانی۔

14)❌گذارش ، گذشتہ، مذاق 
✅گزارش، گزشتہ، مزاق

15❌احکامات، جواہرات، القابات، اخبارات، الفاظات، الفاظوں۔ 

✅احکام، جواہر، القاب، اخبار، الفاظ، لفظوں۔

16)   چیخ و پکار (غلط) 
         چیخ پکار  (صحیح) 

17) نکتہ نظر (غلط) 
      نقطہ نظر (صحیح) 

18) کانٹ چھانٹ (غلط) 
       کاٹ چھانٹ  (صحیح) 

19) اہالیان    (غلط) 
      ایل     ( صحیح) 

20)  چراغ (چ کے نیچے زیر کے ساتھ۔( غلط) 
        چراغ   (چ کے نیچے زبر کے ساتھ صحیح) 

21)مسرت (میم کے اوپر پیش کے ساتھ غلط) 
مسرت (میم کے اوپر زبر کےساتھ صحیح) 

21  حرف " کو" کا غلط استعمال

حرف " کو" کا استعمال صرف اسم معرفہ اور اسم نکرہ کے ساتھ ہوتا ہے۔ اسم ضمیر کے ساتھ اس کا استعمال نہیں ہوتا۔ 
جیسے : احمد کو یہ کتاب واپس کر دو۔ 

آپ نے ان کو کھانا کیوں نہیں دیا (غلط)
آپ نے انہیں کھانا کیوں نہیں دیا (صحیح) 

22) اردو کے حروف تہجی میں سے جو سہ حرفی ہیں وہ مذکر  ہیں جیسے الف، جیم ، دال ، ذال شین ، صاد وغیرہ ۔مثلا یہ کہیں گے : شربت کے شروع میں شین آتا ہے۔
اور جو حروف الفاظ میں لکھنے کے بعد دو حرفی بنتے ہیں وہ مؤنث ہیں۔ جیسے بے تے ثے ۔۔۔۔رے ، زے وغیرہ مثلاً کہیں گے " شربت میں ش کے بعد ر آتی ہے ۔



Monday, June 5, 2023

میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہیں؟؟ ‏

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته 

محمد اقبال قاسمي سلفي

موضوع: میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہیں؟؟ 

مصادر: مختلف مراجع و مصادر

صوفی سنتوں اور اپنے نام نہاد ولیوں کے من گھڑت قصے کہانیاں اور کرامتیں سنانے والے دیوبندی اور رخانی علماء و مفتیان کرام منبرو محراب سے اکثر یہ روایت نقل کیا کرتے ہیں کہ " میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہیں".

لیکن علماء کے فضائل پر مبنی یہ روایت بے اصل، بے سند اور موضوع ہے۔ 
صحیح تو کیا ، کتب حدیث میں اس کی کوئی ضعیف سند بھی موجود نہیں ہے۔ 

علامہ البانی فرماتے ہیں: 
لا أصل له.
باتفاق العلماء، وهو مما يستدل به القاديانية الضالة على بقاء النبوة بعده صلى الله عليه وسلم، ولوصح لكان حجة عليهم كما يظهر بقليل من التأمل۔ 
(سلسلة الاحاديث الضعيفة والموضوعة ) 
باتفاق علماء اس حدیث کی کوئی اصل موجود نہیں ہے، اور یہ ان موضوع روایات میں سے جس سے گمراہ آل قادیانی نبی کریم ﷺ کے بعد بھی نبوت کا استدلال کرتے ہیں۔ اور اگر یہ حدیث صحیح بھی ہوتی تب بھی یہ ان کے خلاف حجت بنتی جیسا کہ ادنی غوروفکر سےہی یہ واضح ہوجاتا ہے۔ 

ملا علی قاری حنفی الاسرار المرفوعہ میں لکھتے ہیں: 
 لا أصل له أو بأصله موضوع. 
اس کی کوئی بنیاد نہیں ہے یا یہ اپنی بنیاد سے ہی من گھڑت ہے۔ 

فتوی دارالعلوم دیوبند

"یہ روایت بے اصل ہے، کسی معتبر کتاب میں یہ روایت موجود نہیں ہے۔ ”علماء أمتی کأنبیاء بنی اسرائیل“ ”قال السیوطی فی الدرر: لا أصل لہ، وقال فی المقاصد: قال شیخنا یعنی ابن حجر: لا أصل لہ، وقبلہ الدمیری والزرکشی ، وزاد بعضہم: ولا یعرف فی کتاب معتبر الخ (کشف الخفاء ومزیل الإ لباس: ۲/۷۴، رقم: ۱۷۴۴)۔"

دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتوی نمبر: 164652

علماء کی فضیلت کے بارے میں صحیح حدیث! 

قیس بن کثیر کہتے ہیں کہ ایک شخص مدینہ سے ابو الدرداء رضی الله عنہ کے پاس دمشق آیا، ابوالدرداء رضی الله عنہ نے اس سے کہا: میرے بھائی! تمہیں یہاں کیا چیز لے کر آئی ہے، اس نے کہا: مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث بیان کرتے ہیں، ابو الدرداء نے کہا: کیا تم کسی اور ضرورت سے تو نہیں آئے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، انہوں نے کہا: کیا تم تجارت کی غرض سے تو نہیں آئے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ میں تو صرف اس حدیث کی طلب و تلاش میں آیا ہوں، ابو الدرداء نے کہا: ( اچھا تو سنو ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص علم دین کی تلاش میں کسی راستہ پر چلے، تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ اسے جنت کے راستہ پر لگا دیتا ہے۔ بیشک فرشتے طالب ( علم ) کی خوشی کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں، اور عالم کے لیے آسمان و زمین کی ساری مخلوقات مغفرت طلب کرتی ہیں۔ یہاں تک کہ پانی کے اندر کی مچھلیاں بھی، اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہی ہے جیسے چاند کی فضیلت سارے ستاروں پر، بیشک علماء انبیاء کے وارث ہیں اور انبیاء نے کسی کو دینار و درہم کا وارث نہیں بنایا، بلکہ انہوں نے علم کا وارث بنایا ہے۔ اس لیے جس نے اس علم کو حاصل کر لیا، اس نے ( علم نبوی اور وراثت نبوی سے ) پورا پورا حصہ لیا“

(سنن ترمذی: 2682)

حنفی علماء و مفتیان حضرات کو چاہئیے کہ بے سند اور موضوع روایات کو ترک و تحقیق کرکے صحیح احادیث لوگوں کے سامنے بیان کریں کیونکہ موضوع روایت بیان کرنا نبی کریم ﷺ پر بہتان لگانا ہے اور نبی کریم ﷺ پر بہتان لگانا جہنم میں اپنا ٹھکانا بنانا لینا ہے۔ 

عَنْ سَلَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ يَقُلْ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ .
سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا :جو شخص میرے نام سے وہ بات بیان کرے جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
(صحیح بخاری: 109)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ شرح نخبہ میں فرماتے ہیں: علماء کا اتفاق ہے کہ موضوع حدیث بیان کرنا حرام ہے، سواۓ اس کے, کہ وہ اس کے موضوع ہونے کی تصریح کردے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
من حدث عني بحديث يرى انه كذب فهو احد الكاذبين۔ 
جو شخص مجھ سے حدیث نقل کرے اور وہ خیال کرتا ہو کہ یہ جھوٹ ہے تو وہ خود جھوٹا ہے۔ (مقدمہ صحیح مسلم) بحوالہ شرح نخبہ۔ 
 عَنْ الْمُغِيرَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : إِنَّ كَذِبًا عَلَيَّ لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ . 
 
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ
میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے کہ میرے متعلق کوئی جھوٹی بات کہنا عام لوگوں سے متعلق جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے جو شخص بھی جان بوجھ کر میرے اوپر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
(صحیح بخاری: 1291) 

علامہ علاءالدین حصکفی صاحب در مختار فرماتے ہیں: موضوع روایات پر تو بہر صورت عمل جائز نہیں ہے، نیز اسے بیان کرنا بھی جائز نہیں ہے، مگر یہ کہ ساتھ ساتھ اس کے موضوع ہونے کو بتا دیا جائے۔ (در مختار: ص 87) 

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!

موضوع: ایک عورت چار مردوں کو جہنم میں لیکر جاۓ گی! ‏

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محمد اقبال قاسمي سلفي

موضوع: ایک عورت چار مردوں کو جہنم میں لیکر جاۓ گی! 

مصادر: مختلف مراجع و مصادر

صوفی سنتوں کے موضوع و من گھڑت قصے کہانیاں سنانے والے  دیوبندی اور رضاخانی علماء، خطباء اور مفتیان حضرات منبر و محراب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب اکثر یہ روایت بیان کرتے ہیں کہ عورت جب جہنم میں داخل ہوگی تو اپنے ساتھ چار لوگوں کو جہنم میں لے کر جائے گی۔ 

 روایت کے الفاظ:

إذا دخلت امرأة إلى النار أدخلت معها أربعة، أباها وأخاها وزوجها وولدها. 

ترجمہ: جب عورت جہنم میں داخل ہوگی تو اپنے ساتھ چار لوگوں کو جہنم میں لے کر جائے گی؛ 
(۱) اپنے باپ کو، (۲) اپنے بھائی کو، (۳) اپنے شوہر کو (۴) اور اپنے بیٹے کو۔

بہت سارے حنفی علماء اور مفتیان اس روایت کو پردے کی وعید کے ضمن میں بیان فرماتے ہوے نظر آتے ہیں:
 
أربعة يُسألون عن حجاب المرأة : أبوها، وأخوها، وزوجها، وابنها

ترجمہ: چار لوگوں سے عورت حجاب کے متعلق سوال کیا جائے گا:
اس کے باپ سے، اس کے بھائی سے، اس کے شوہر سے 
اور اس کے بیٹے سے۔

لیکن بہر صورت یہ روایت بے اصل اور بے سند ہے۔ اس کی صحیح تو کیا، کوئی ضعیف سند بھی حدیث کی کتابوں میں موجود نہیں ہے۔ 

فتوی دارالعلوم دیوبند:

چنانچہ جب دارالعلوم دیوبند سے اس بابت سوال کیا گیا:

کیا ایک عورت چار مردوں کو جہنم میں لے جائے گی؟

جواب:
اس طرح کے عذاب پر مشتمل روایت کو علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے ”الکبائر“ میں الکبیرة السابعة والأربعون، نشوز المرأة علی زوجہا کے تحت بغیر سند کے ذکر کیا ہے، لیکن ایک عورت کے چار جنتی مردوں (باپ، بیٹا، شوہر، بھائی) کو جہنم میں لے جانے کی صراحت کسی روایت میں نہیں مل سکی. 

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
فتوی نمبر :605065
 
فتوی علامہ محمد یوسف بنوری دیوبندی  پاکستانی

سوال
ایک عورت اپنے ساتھ چار لوگوں کو جہنم لے کر جائے گی۔۔۔۔إلى آخره. کیا یہ حدیث ہے؟

جواب:
یہ روایت ہمیں تلاش کے باوجود نہیں مل سکی، اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنے سے گریز کیا جائے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء
جامعہ  علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن 
فتوی نمبر : 144106200833

ضعیف اور موضوع روایات پر بے دھڑک عمل کرنے والے حنفی رضاخانی علماء نے بھی ایسی کسی روایت کی رویت وسماعت سے انکار کیا ہے

فتوی صدام حسین برکاتی فیضی میرانی

"السلام علیکم و رحمة اللہ تعالیٰ وبرکاتہ
عرض خدمت یہ ہے کہ ایک حدیث بیان کی جاتی ہے کہ ایک عورت چار مردوں کو جہنم میں لیکر جائیگی کیا یہ حدیث صحیح ہے ، کس کتاب میں ہے یہ حدیث جواب عنایت فر مائیں۔
المستفتی محمد الطاف رضا رضوی احمدآباد , گجرات انڈیا ۔

وعلیکم السلام و رحمۃاللہ تعالیٰ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب

ایسی کوئی حدیث فقیر نے نہ پڑھی نہ معتمد علماء و مشائخ اہل سنت سے کبھی سنی نہ ہی تلاش بسیار پر کہیں ملی ،
حضرت مفتی حبیب اللہ نعیمی اشرفی علیہ الرحمہ سے ایسا ہی سوال ہوا جواباً تحریر فرمایا : آج تک میری نظر سے اس مضمون کی کوئی حدیث نہیں گذری اور تلاش کرنے پر بھی کہیں نہیں ملی لہذا زید کی بات پر ہرگز کوئی دھیان نہ کرے اگر زید سچا ہے تو حدیث معتبر دکھائے اور بتائے تاکہ اس کی تحقیق کی جاسکے ” اھ ( حبیب الفتاوی جلد 4 صفحہ 300 ، مسائل شتی مطبوعہ السید محمود اشرف دار التحقیق والتصنیف کچھوچھہ شریف )

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔

 دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا"

لیکن افسوس!   باوجود اس کے حنفی تقلیدی علماء خطباء اور مفتیان اس روایت کو دھڑلے سے بیان کرکے جہنم کے مستحق بنتے ہیں ۔ 

 ، عَنْ سَلَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ يَقُلْ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ    .
سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا :جو شخص میرے نام سے وہ بات بیان کرے جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
(صحیح بخاری: 109)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ شرح نخبہ میں فرماتے ہیں: علماء کا اتفاق ہے کہ موضوع حدیث بیان کرنا حرام ہے، سواۓ اس کے, کہ وہ اس کے موضوع ہونے کی تصریح کردے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
من حدث عني بحديث يرى انه كذب فهو احد الكاذبين۔ 
جو شخص مجھ سے حدیث نقل کرے اور وہ خیال کرتا ہو کہ یہ جھوٹ ہے تو وہ خود جھوٹا ہے۔ (مقدمہ صحیح مسلم) بحوالہ شرح نخبہ۔ 
 عَنْ الْمُغِيرَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ :    إِنَّ كَذِبًا عَلَيَّ لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ . 
 
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ
میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے کہ میرے متعلق کوئی جھوٹی بات کہنا عام لوگوں سے متعلق جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے جو شخص بھی جان بوجھ کر میرے اوپر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
(صحیح بخاری: 1291) 

علامہ علاءالدین حصکفی صاحب در مختار فرماتے ہیں: موضوع روایات پر تو بہر صورت عمل جائز نہیں ہے، نیز اسے بیان کرنا بھی جائز نہیں ہے، مگر یہ کہ ساتھ ساتھ اس کے موضوع ہونے کو بتا دیا جائے۔ (در مختار: ص 87) 

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!

Thursday, June 1, 2023

اوابین کی ادائیگی اور احناف !

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته 

محمد اقبال قاسمي سلفي

موضوع: اوابین کی ادائیگی اور احناف !

مصادر: مختلف مراجع و مصادر

صوفی سنتوں اور موضوع و من گھڑت روایتوں پر عمل کرنے والے حنفی عوام حتی کہ حنفی اکابر علماء و مفتیان بعد نماز مغرب اوابین کی چھ رکعات پڑھنے کا کثرت سے اہتمام کرتے ہیں۔ 

لیکن چھ رکعات بعد نماز مغرب ادا کرنے کی نہ کوئی صحیح حدیث ہے اور نہ ہی بعد المغرب اوابین نام کی کوئی نماز ہے۔ بعد نماز مغرب  ادا کی جانے والی نماز کو نماز اوابین قرار دینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہیں ثابت نہیں۔ اور اس نماز کو اوابین قرار دینا صحیح اور صریح احادیث کے خلاف ہے۔ 

احادیث صحیحہ میں اوابین ان نمازوں کو قرار دیا گیا جواس وقت پڑھی جاتی ہیں  جب اونٹنیوں کے بچوں کے پاؤں سخت جلنے لگیں یعنی چاشت کے وقت۔ 

1)  صحیح مسلم میں حضرت زید بن ارقمؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اہل قباء کے پاس تشریف لائے ، وہ لوگ ( اس وقت ) نماز پڑھ رہے تھے تو آپ نے فرمایا :
صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ حِينَ تَرْمَضُ الْفِصَالُ.
اوابین کی نماز اس وقت ہے جب اونٹنیوں کے بچوں کے پاؤں سخت جلنے لگیں۔ 
(صحیح مسلم:1747)

2)  مستدرک للحاکم میں حضرت ابو ہریرەؓ سے مرفوعاً روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لا یُحَافِظُ عَلٰی صَلَاةِ الضُّحٰی اِلَّا اَوَّابٌ۔ قَالَ وَ هِیَ صَلَاةُ الاَوَّابِینَ.
(المستدرك علی الصحیحین للحاکم :1182)

ترجمہ: چاشت کی نماز کا اہتمام صرف وہی کرتے ہیں جو اواب ہیں (اللہ کی طرف رجوع کرنے والے ہیں۔) 
ہیں اور فرمایا یہی اوابین کی نماز ہے۔ 

اس حدیث کو امام حاکم نے صحیح مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے اور علامہ ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔ابن خزیمہ نے بھی صحیح ابن خزیمہ میں اسے روایت کیا ہے۔ 
علامہ البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔ 


3) صحیح ابن خزیمہ میں حضرت ابو ہریرەؓ سے روایت ہے کہ: مجھے میرے خلیل (صلی اللہ علیہ وسلم) نے تین کاموں کی وصیت کی ہے میں انہیں چھوڑنے والا نہیں ہوں۔

۱) میں وتر پڑھے بغیر نہ سوؤں۔
۲) اور میں صلاۃ الضحی کی دو رکعت نہ چھوڑوں اس لیے کہ یہ صلاۃ الاوابین ہے۔
۳) اور ہر ماہ تین روزے رکھوں۔
(صحیح ابن خزیمہ: 1223،  سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ: 1994) 

4) قاسم شیبانی سے روایت ہے کہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کو چاشت کے وقت نماز پڑھتے دیکھا تو کہا : ہاں یہ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ نماز اس وقت کے بجائے ایک اور وقت میں پڑھنا افضل ہے ، بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اوابین کی نماز اس وقت ہوتی ہے ۔ ، جب گرمی سے  اونٹ کے دودھ چھڑائے جانے والے بچوں کے پاؤں جلنے لگتے ہیں ۔‘‘
 (صحیح مسلم:1746)

علامہ ابن اثیر فرماتے ہیں:
المراد بصلاة الاوابين صلاة الضحى. 
(احادیث میں) نماز اوابین سے مراد نماز چاشت ہے۔ 

علامہ مناوی  فیض القدیر میں صحیح مسلم کی روایت "صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ حِينَ تَرْمَضُ الْفِصَالُ."
ترجمہ: اوابین کی نماز اس وقت ہے جب اونٹنیوں کے بچوں کے پاؤں سخت جلنے لگیں۔" کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: 

وإنما أضاف الصلاة في هذا الوقت إلى الأوابين لأن النفس تركن فيه إلى الدعة والاستراحة، فصرفها إلى الطاعة والاشتغال فيه بالصلاة رجوع من مراد النفس إلى مرضاة الرب، ذكره القاضي. انتهى.
(فیض القدیر للمناوی)

ترجمہ: نبیﷺ نے چاشت کے اوقات میں نماز پڑھنے کو اوابین قرار دیا کیونکہ نفس اس وقت راحت و آرام کا تقاضا کرتا ہے پس اس نفس کو طاعت کی پھیرنا اور نماز میں مشغول ہونا گویا نفس کے تقاضے کو چھوڑ کر رب کی رضا کی طرف پلٹنا ہے۔ 

اللجنۃ الدائمہ للبحوث العلمیہ  والافتاء نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھا ہے:

"أوابين کی نماز" یہی چاشت کی نماز ہی ہے جب اسے سورج کی شدت اختیار کرنے کے بعد پڑھا جائے یہ کوئی الگ نماز نہیں ہے۔
اللجنۃ الدائمۃ(6/154)

صوفی عبدالحمید سواتی حنفی اس موقف کی تائید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"صحیح احادیث میں صلاۃ الضحی کو ہی صلاۃ الاوابین کہا گیا ہے" لہذا ہمیں صحیح حدیث کے مطابق ہی عمل کرنا چاہیے اور صلاۃ الضحی کو ہی صلاۃ الاوابین سمجھنا چاہیے اور صلاۃ الضحی دو رکعت (مسلم) چار اور آٹھ رکعات تک ثابت ہے جیسا کہ مسلم وغیرہ سے معلوم ہوتا ہے۔"
(نماز مسنون: 563) 

علامہ۔ محمد یوسف بنوری حنفی دیوبندی  اپنے فتوے میں لکھتے ہیں:

تاہم اس نماز (نوافل بعد المغرب) کو حدیث میں ’’صلاۃ اوابین‘‘ کا نام نہیں دیا گیا، بلکہ صحیح احادیث میں رسول اللہ ﷺ نے چاشت کی نماز کو ’’اوابین‘‘  کی نماز فرمایا ہے، چناں چہ ایک حدیث میں سورج گرم ہوجانے کے بعد  چاشت پڑھنے والوں کی نماز کو ’’صلاۃ الاوابین‘‘  فرمایا ہے، ارشاد ہے: ’’صلاة الأوابین حین ترمض الفصال‘‘. (صحيح مسلم)  یعنی اللہ کی طرف رجوع کرنے والوں کی نماز اس وقت ہے جب سورج کی تمازت سے اونٹ کے بچے کے پیر جلنے لگیں۔

دارالافتاء
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن پاکستان
فتوی نمبر:144110200759

دارالعلوم دیوبند نے بھی اپنے فتوے میں کچھ یوں لکھا ہے۔ 

"اوابین کے معنی رجوع الی اللہ کے ہیں، اس اعتبار سے جملہ نمازوں کو اوابین کہہ سکتے ہیں، لیکن احادیث سے دو وقت کی نوافل پر اطلاق صلاة اوابین کا آیا ہے، ایک صلاة ضحی پر اور دوسرے نوافل بعد المغرب۔ پس مغرب کے بعد کی چھ رکعتوں کے علاوہ صلاة ضحی(چاشت کی نماز) کو بھی صلاة اوابین کہہ سکتے ہیں۔
دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتوی نمبر:7192

دارالعلوم دیوبند کے مذکورہ  فتوے میں  یہ صاف اعتراف  ہے کہ احادیث میں صلوۃ الضحیٰ( چاشت کی نماز )کو اوابین کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ اور فتوے میں درج یہ بات کہ "احادیث میں نوافل بعد المغرب پر بھی اوابین کا اطلاق آیا ہے، " تلبیس کاری ہے۔ کیونکہ کسی بھی صحیح حدیث میں نوافل بعد المغرب کو اوابین کا نام نہیں دیا گیا۔ 

ان تفصلات  سے معلوم ہوا کہ نبی کریم ﷺ نے چاشت کی نماز کو ہی اوابین کی نماز قرار دیا ہے۔ چاشت اور اوابین ایک ہی نماز کے دو مختلف  نام ہیں۔ اور اسی کو اشراق کی نماز بھی کہا جاتا ہے تو گویا اوابین، اشراق اور چاشت تینوں ایک ہی نماز ہے۔ 
شيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

اول وقت ميں چاشت كى نماز ادا كرنا اشراق كى نماز كہلاتا ہے.
مجموع فتاوى الشيخ ابن باز ( 11 / 401 )

احادیث میں اشراق اور چاشت دونوں کے لئے ایک ہی لفظ صلاۃ الضحیٰ کا استعمال کیا گیا ہے۔

ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اشراق کے نوافل ہی نماز چاشت کے نوافل ہیں، لیکن اگر آپ انہیں جلد ادا کر لیں، یعنی سورج کے نیزے کے برابر بلند ہونے کے بعد ادا کریں تو یہ نمازِ اشراق ہے، اور اگر اس نماز کو آخری یا درمیانی وقت میں ادا کریں تو یہ نماز چاشت ہے۔ (لقاء الباب المفتوح)

ان نمازوں کے اول اور آخری وقت کے متعلق شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سورج کے ایک نیزہ کے برابر بلند ہونے یعنی تقریبا سورج نکلنے کے پندرہ یا بیس منٹ کے بعد سے زوال کے تھوڑا پہلے یعنی دس پندرہ منٹ پہلے تک۔ 
(مجموع الفتاویٰ (14/ 306)

علامہ محمد یوسف بنوری حنفی فرماتے ہیں:
تاہم اشراق کی نماز کے لیے حدیث میں مستقل نام ذکر نہیں کیا گیا، جب کہ چاشت کے لیے صلاۃ الضحیٰ کا نام اور عنوان موجود ہے،  ان دونوں نمازوں میں ابتداءِ وقت اور انتہاءِ وقت کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں؛ کیوں کہ دونوں  کا ابتدائی اور انتہائی وقت ایک ہی ہے یعنی سورج نکلنے سے کم از کم دس منٹ بعد سے زوال تک، البتہ اشراق کی نماز  اول وقت میں پڑھنا افضل ہے جب کہ چاشت کا افضل وقت چوتھائی دن گزرنے کے بعد ہے، جب سورج گرم ہوجاتاہے، حدیثِ پاک میں ہے: ’’صلاة الأوابین حین ترمض الفصال،(اوابین کی نماز اس وقت ہے جب سخت گرمی سے اونٹنیوں کے بچوں کے جلنے لگیں۔) 

دارالافتاء
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر : 144110200558

دارالعلوم دیوبند نے اپنے فتوے میں لکھا ہے:
ماز چاشت ہی کا دوسرا نام صلاة الضحی ہے اور نماز چاشت اور نماز اشراق دونوں کا وقت مشترک ہے؛ البتہ بہتر یہ ہے کہ سورج نکل کر جب پورے دن کا چوتھائی حصہ گذر جائے تب نماز چاشت پڑھی جائے۔ واضح رہے کہ بعض علما طلوع آفتاب کے بعد صرف ایک نماز مانتے ہیں، یعنی: نماز چاشت ، وہ نماز اشراق نہیں مانتے۔ اور جو حضرات دو نمازیں (نماز اشراق اور نماز چاشت) مانتے ہیں، احادیث سے ان کے قول کی بھی تائید ہوتی ہے۔ 

دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتوی نمبر: 600555

ان نمازوں کی مسنون رکعات دو، چار  اور آٹھ  ہیں۔ یعنی کم از کم دو اور زیادہ سے زیادہ آٹھ ہیں۔ 

دلائل درج ذیل ہیں:

1) حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
صبح کو تم میں سے ہر ایک شخص کے ہر جوڑ پر ایک صدقہ ہوتا ہے ، پس ہر ایک تسبیح ( ایک دفعہ سبحان الله کہنا ) صدقہ ہے ۔ ہر ایک تمحید ( الحمد لله کہنا ) صدقہ ہے ، ہر ایک تہلیل ( لا اله الا الله کہنا ) صدقہ ہے ہر ایک تکبیر ( اللہ اکبر کہنا ) بھی صدقہ ہے  اور کسی کو  نیکی کی تلقین کرنا صدقہ ہے اور کسی کو برائی سے روکنا بھی صدقہ ہے ۔ اور ان تمام امور کی جگہ دو رکعتیں جو انسان چاشت کے وقت پڑھتا ہے کفایت کرتی ہیں ۔  
(صحیح مسلم :1671)

اس سے معلوم ہوا کہ کم ازکم دو دو رکعتیں ہو سکے تو ادا کر لینی چاہئیے۔ 

2) صحیح مسلم میں عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے چار رکعت بھی مروی ہے۔ 
 معاذہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہ ﷺ چاشت کی نماز کتنی ( رکعتیں ) پڑھتے تھے ؟ انھوں نے جواب دیا چار رکعتیں اور جس قدر زیادہ پڑھنا چاہتے ( پڑھ لیتے ) ۔ 
(صحیح مسلم: 719)

3) اور حضرت ام ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی آٹھ رکعتیں ادا کی تھیں۔ 

 عبداللہ بن حارث بن نوفل کہتے ہیں کہ میں آرزو رکھتا اور پوچھتا پھرتا تھا کہ کوئی مجھے بتائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز پڑھی ہے تو میں نے کسی کو نہ پایا جو کہ مجھ سے یہ بیان کرے سوائے ام ہانی رضی اللہ عنہا کے۔ ام ہانی رضی اللہ عنہا جو ابوطالب کی بیٹی ہیں انہوں نے خبر دی کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دن چڑھے آئے۔ کپڑے کا ایک پردہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ڈال دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل فرمایا۔ پھر کھڑے ہو کر آٹھ رکعت نماز پڑھی۔ میں نہیں جانتی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام لمبا تھا یا رکوع یا سجدہ، (تقریباً) سب برابر برابر تھے۔ اور میں نے اس سے پہلے اور بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چاشت پڑھتے نہیں دیکھا۔
(مختصر صحیح مسلم:366) 

4) سنن ترمذی کی روایت میں بارہ رکعات کا بھی ذکر آیا یے، تاہم وہ روایت ضعیف ہے۔ 
انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ
 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے چاشت کی بارہ رکعتیں پڑھیں، اللہ اس کے لیے جنت میں سونے کا ایک محل تعمیر فرمائے گا۔ 
(سنن ترمذی: 473) 

اس کی سند میں محمد بن اسحاق مدلس اور موسی بن انس ضعیف ہیں۔ 

بعد مغرب اوابین پڑھنے کی حنفی دلیلیں! 
 
حضرت ابو ہریرەؓ سے سنن ترمذی میں روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

جس نے مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھیں اور ان کے درمیان کوئی بری بات نہ کی، تو ان کا ثواب بارہ سال کی عبادت کے برابر ہو گا۔ (سنن ترمذی: 435) 

اولاً:اس حدیث میں کہیں بھی اسے اوابین کی نماز سے موسوم نہیں کیا گیا:
ثانیاً:  اسے روایت کرنے کے بعد امام ترمذی خود فرماتے ہیں: 
حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ الْحُبَابِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي خَثْعَمٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وسَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي خَثْعَمٍ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ وَضَعَّفَهُ جِدًّا.
ہم اسے صرف زيد بن حباب عن عمر بن أبي خثعم کی سند سے جانتے ہیں،  میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ عمر بن عبداللہ بن ابی خثعم منکرالحدیث ہیں۔ اور انہوں نے انہیں سخت ضعیف کہا ہے۔ 

معلوم ہواکہ یہ روایت عمر بن عبداللہ بن ابی خثعم راوی کی وجہ سے سخت ضعیف ہے۔ 
امام ترمذی کے علاوہ دیگر محدثین نے بھی اس روایت کو سخت ضعیف اور منکر قرار دیا ہے۔

بعض روایتوں میں نوافل بین المغرب والعشاء کو اوابین کہا گیا ہے، لیکن وہ روایتیں موقوف ہونے کے ساتھ ساتھ شدید ضعیف بھی ہیں۔ 
جیساکہ مصنف ابن ابی شیبہ میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول مروی ہے:

- حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: نا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عمرو ، قَالَ: «صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ، مَا بَيْنَ أَنْ يَلْتَفِتَ أَهْلُ الْمَغْرِبِ، إِلَى أَنْ يَثُوبَ إِلَى الْعِشَاءِ» . مصنف ابن أبي شيبة (2/ 14)

صلاۃ الاوابین جب مغرب کی نماز پڑھ کر نمازی فارغ ہوں تو اس سے لے کر اس وقت تک ہوتی ہے جب عشاء کا وقت آ جائے ۔ 
اس روایت میں عبداللہ بن عمروبن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مغرب اور عشاء کے درمیان پڑھی جانے والی نماز کو ہی اوابین کی نماز قرار دیا ہے۔
لیکن اس کی سند میں موسی بن عبید الربذی نامی راوی موجود ہے جسے جمہور محدثین نے ضعیف اور منکر قرار دیا ہے۔ 

اسی طرح عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے بلا اسناد یہ مذکور ہے :

وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَحُفُّ بِالَّذِينِ يُصَلُّونَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، وَهِيَ صلاة الأوابين . تفسير البغوي - إحياء التراث (3/ 130) و"ابن زنجويه". كنز العمال (8/ 54)
بےشک فرشتے ان لوگوں کو گھیر لیتے ہیں جو مغرب اور عشاء کے درمیان نماز پڑھتے ہیں اور یہ بھی صلاۃ الاوابین ہے۔ 

عبداللہ بن عباس کا یہ قول بے سند ہونے کی وجہ سے ناقابل استدلال ہے نیز امام بغوی نے صیغۂ تمریض کے ساتھ ذکر کرکے اس کے ضعف اور اور بے اصل کی طرف اشارہ کردیا۔ 


خلاصة التحرير! 

1)صحیح مرفوع احادیث سے یہ ثابت شدہ ہے کہ اوابین کی نماز چاشت کے وقت پڑھی جانے والی نماز ہے، حنفی فتوؤں میں بھی اس کا اعتراف موجود ہے۔ 

2) صحیح احادیث کے مطابق اوابین، اشراق اور چاشت ایک ہی نماز کے مختلف نام ہیں، حنفی فتوؤں میں بھی یہ درج ہے۔ 

3) بعد نماز مغرب اوابین نام کی کوئی نماز نہیں ہے۔ 

4) بعد مغرب چھ رکعات کی تحدید کسی بھی صحیح سے ثابت نہیں ہے۔ 

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!!

Recent posts

تلاوت قرآن کے بعد صدق الله العظيم پڑھنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم  السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ  موضوع: تلاوت قرآن کے بعد صدق الله العظيم پڑھنا !  محمد اقبال قاسمی صاحب  مصادر: مخ...