بسم الله الرحمن الرحيم
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
مولانا اقبال قاسمي سلفي
موضوع: فرض نماز کے بعد ماتھا پکڑ کر پڑھے جانے والے تھانوی وظیفے کی حقیقت!
مصادر: مختلف مراجع و مصادر
صوفی سنتوں کے من گھڑت قصے کہانیوں اور ضعیف و موضوع روایتوں پر عمل کرنے والے دیوبندی اور رضاخانی عوام، علماء اور مفتیوں کو بھی یہ دیکھا جاتا ہے کہ امام کے فرض نماز کے سلام سے فارغ ہوتے ہی یہ لوگ اپنا ماتھا پکڑلیتے ہیں اور مختلف وظیفے ادا کرتے ہیں۔ کوئی ياقوي اور یا نور کا ورد کرتا ہےاور کوئی يارحمان اور يا رحيم کا۔ اور پھر انگلیوں میں پھونک مار کر آنکھوں پر پھیرتے ہیں۔
لیکن ان کا یہ عمل بالکل نادرست اور من گھڑت ہے۔ فرض نماز کے بعد ماتھا پکڑ کر "ياقوي" اور "يا نور" پڑھنا اور انگلیوں میں پھونک مار کر آنکھوں میں پھیرنا۔۔۔۔
نہ رسول اللہﷺ سے ثابت ہے
نہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین سے۔ ۔ ۔۔
نہ ائمہ اربعہ رحمھم اللہ سے۔۔
نہ محدثین عظام رحمھم اللہ سے۔۔۔
نہ قرآن کی کسی آیت میں۔۔۔
نہ کسی حدیث رسول ﷺ میں۔۔
صحیح تو کیا کسی ضعیف، موضوع اور من گھڑت روایت میں بھی یہ موجود نہیں ہے۔ بلکہ سراسر آج کے تھانویوں اور رضاخانیوں کا گھڑا ہوا عمل ہے، جس کا اعتراف دیوبند کے مشہور مفتی، مفتی شبیر قاسمی نے بھی کیا ہے۔
چنانچہ وہ ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں :
"اور ’’ یاقوي‘‘یا ’’یا نور‘‘ وغیرہ پڑھنا کسی حدیث میں نہیں ملا؛ البتہ حضرت تھانویؒ نے بہشتی زیور میں بطور علاج اس عمل کو لکھا ہے کہ سلام کے بعد سر پر ہاتھ رکھ کر ’’ یاقوی‘‘ گیارہ مرتبہ پڑھنے سے دماغ میں قوت آتی ہے اور گیارہ مرتبہ ’’یانور‘‘ پڑھ کر انگلیوں پر پھونک مار کر آنکھوں پر پھیر لینے سے آنکھوں کی روشنی بڑھتی ہے، یہ طب اور تجربہ کے اعتبار سے اچھا عمل ہے"
(فتویٰ نمبر9478/38)
معلوم ہوا کہ یہ عمل سراسر بدعت اور تھانوی اختراع ہے۔ نیز تھانوی صاحب کا یہ فرمانا کہ "یہ طب اور تجربہ کے اعتبار سے اچھا عمل ہے" کیا ہی اچھا ہے! کیونکہ طب اور تجربہ کے اعتبار سے کسی عمل کے اچھا ہونے سے اس عمل کا شرعاً بھی اچھا ہونا کہاں لازم آتا ہے؟ ورنہ طبیبوں اور تجربہ کاروں کی اس دنیا میں کیا کمی ہے، ایک ڈونڈھو ہزار ملتے ہیں ! تو کس کس طبیب کے طب اور تجربہ کار کے تجربہ کا ٹانک اپنے معتقد اور مقلد مریدوں کو سپلائی کریں گے۔
یہ طب اور تجربہ کےاعتبار سے اچھا ہو تب بھی اسے ترک کردینا ہی بہتر ہے تاکہ لوگ کسی التباس میں مبتلا نہ ہوں۔
مفتی کفایت اللہ حنفی دیوبندی انگشت بوسی کے مسئلے کے ذیل میں لکھتے ہیں:
"بعض بزرگوں نے اس عمل کو آنکھیں نہ دکھنے کے لیے مؤثربتایاہے تو اگرکوئی شخص اس کوسنت نہ سمجھے اور آنکھوں کے نہ دکھنے کے لیے بطور ایک علاج کے عمل کرے تو اس کے لیے فی نفسہ یہ عمل مباح ہوگا، مگر لوگ اس کو شرعی چیز اور سنت سمجھ کر کرتے ہیں؛ اس لیے اس کوترک کردینا ہی بہتر ہے؛ تاکہ لوگ التباس میں مبتلانہ ہوں‘‘۔اور اللہ کے رسول ﷺ کی مندرجہ ذیل وعید کے مستحق نہ بنیں۔
عن عَائِشَةُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ.
(صحيح مسلم حديث نمبر: 4493)
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس نے ایسا عمل کیا ، ہمارا دین جس پر ہمارا طریقہ نہیں ہے تو وہ مردود ہے ۔‘‘
اہل تجربہ کی ارشادی باتیں کسی چیز کے ثبوت و ممانعت کے لئے کافی نہیں ہیں: دیوبندی و بریلوی کا متفقہ فیصلہ!
چنانچہ بانی رضاخانیت مولانا احمد رضا خان سے پوچھا گیا:
علماء میں مشہور ہے کہ اپنے دامن آنچل سے بدن نہ پوچھنا چاہیے اور اسے بعض سلف سے نقل کرتے ہیں۔ اور رد المحتار میں فرمایا: دامن سے ہاتھ منہ پوچھنا بھول پیدا کرتا ہے ۔
اقول( احمد رضا خان صاحب فرماتے ہیں) یہ اہل تجربہ کی ارشادی باتیں ہیں ، کوئی شرعی ممانعت نہیں۔
(فتاویٰ رضویہ جلد اول صفحہ نمبر: 30)
اس فتوے کی تشریح کرتے ہوئے مناطر دیوبند مولانا طاہر حسین گیاوی صاحب لکھتے ہیں: اعلحضرت کے اس قاعدے سے معلوم ہوا کہ کسی معاملے میں اہل تجربہ کی ارشادی باتیں چاہے سلف صالحین سے ہی کیوں نہ نقل کی گئی ہوں وہ نہ شرعی حجت ہیں اور نہ کسی چیز کے ثبوت و ممانعت کے لیے کافی ہو سکتی ہیں ۔
(انگشت بوسی سے بائیبل بوسی تک: صفحہ نمبر: 85)
اس حقیقت کے باوجود دارالعلوم دیوبند جیسے ادارے کا فتویٰ ملاحظہ کریں۔
چنانچہ جب دارالعلوم دیوبند سے اس عمل کے بارے میں پوچھا گیا:
سوال:
کچھ لوگ نماز کے بعد سر پر ہاتھ رکھ سات مرتبہ یا قوی پڑھتے ہیں ، کیا اس کا ذکر کسی حدیث میں ہے؟
جو جواب ملا وہ ملاحظہ کریں:
قويٌّ اسمائے حسنیٰ میں سے ہے اور اسمائے حسنیٰ کی تاثیر اور ان کے ذریعہ قبولیتِ دعاء احادیث سے ثابت ہے۔ أسماء اللہ الحسنیٰ التي أمرنا بالدعاء بھا (بخاری ومسلم) وفي لفظ ابن مردویة وأبي نعیم: من دعا بھا استجاب اللہ دعاءہ۔ اور بوقت دعا و ذکر سر پر ہاتھ رکھنا بھی حدیث سے ثابت ہے اور نماز کے بعد بھی وروینا في کتاب ابن السني عن أنس -رضي اللہ عنہ- قال: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا قضی صلاتہ مسح جبھتہ بیدہ الیُمنی ثم قال: أشھد أن لا إلٰہ إلا اللہ الرحمن الرحیم اللھم أذھب عني الھمّ والحزن (کتاب الأذکار للنووي:ص63)
اور جس عضو میں تکلیف ہو اس پر ہاتھ رکھ کر دعا پڑھنا متعدد احادیث میں وارد ہے اور یاقوي کا وظیفہ وہ شخص پڑھتا ہے جس کا ذہن کمزور ہوتا ہے لہٰذا جب اس کی نظیر احادیث سے ثابت ہے تو اس کو بدعت کہنا درست نہیں۔
دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند۔
جواب نمبر: 1052
یہ تھا دار العلوم دیوبند کا فتوی!
ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ پوچھے گئے سوال کے مطابق کہ :
"کچھ لوگ نماز کے بعد سر پر ہاتھ رکھ سات مرتبہ یا قوی پڑھتے ہیں ، کیا اس کا ذکر کسی حدیث میں ہے؟"
یہ جواب دیتے کہ سر پر ہاتھ رکھ کر سات مرتبہ یا قوی پڑھنا فلاں حدیث میں ہے۔ یہ عمل فلاں صحابی، تابعی یا تبع تابعی کا ہے۔ یا کم از کم فقہ حنفی کی فلاں کتاب میں یہ عمل مذکور ہے۔
اور دراصل سوال کے طریقےسے سائل کا منشاء بھی یہی ظاہر ہورہا ہے۔ کیونکہ سوال میں واضح طور پر اس عمل کے متعلق حدیث کا مطالبہ کیا گیا۔
لیکن سائل کے اس مطالبے کو پورا کرنے کے بجائے اس بے دلیل عمل پوری ڈھٹائی کے ساتھ سند جوازعطا کیا گیا۔
آئیے اس فتویٰ کا جائزہ لیں۔
مفتی دارالعلوم دیوبند فرماتے ہیں:
قويٌّ اسمائے حسنیٰ میں سے ہے اور اسمائے حسنیٰ کی تاثیر اور ان کے ذریعہ قبولیتِ دعاء احادیث سے ثابت ہے۔ أسماء اللہ الحسنیٰ التي أمرنا بالدعاء بھا (بخاری ومسلم) وفي لفظ ابن مردویة وأبي نعیم: من دعا بھا استجاب اللہ دعاءہ۔
جواب: یقیناً "قوي"اسماۓ حسنی میں سے ہے اور اسماۓ حسنی کی تاثیر اور ان کے ذریعہ قبولیت دعا قرآن وحدیث سے ثابت ہے۔ اسماء الحسنیٰ کے وسیلے سے دعا کرنا تو دعا کی قبولیت کے اسباب میں سے ہے۔
اللہ رب العزت نے فرمایا:
وَلِلَّـهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ فَادْعُوهُ بِهَا ( سورہ اعراف آیت نمبر: 180)
" اور اللہ تعالٰی کے سب نام اچھے ہیں، اسے انہی ناموں سے پکارو"۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"ان للہ تسعۃ وتسعین اسما مائۃ الا واحد من احصاھا دخل الجنۃ"
(مشکوٰۃ ص نمبر: 199)
ترجمہ : بے شک اللہ کے ننانوے ایک کم سو نام ہیں جو شخص ان کو یاد کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا۔
پتہ چلا کہ اسماۓ حسنی کے ذریعے اللہ سے دعا کرنی چاہیے۔
اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
أَلِظُّوا بياذا الجلالِ و الإكرامِ.(صحيح الجامع حدیث نمبر: 1250)
"ذوالجلال والا کرام" کے نام کا واسطہ دیکر اللہ کے حضور گڑگڑا کر دعا کیا کرو۔
معلوم ہوا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے لوگوں کو اسماۓ حسنی کے ذریعہ دعا کرنے کی تعلیم دی ہے، اور یہ ذرائع قبولیت دعا میں سے ہیں، لیکن ہر فرض نماز کے بعد ماتھا پکڑ کر وہ کون سی دعا مانگی جاتی ہے کہ جس کی قبولیت کا اسے ذریعہ اور وسیلہ بنایا جاتا ہے، جب ماتھا پکڑ کر دعا ہی نہیں مانگی جا رہی ہے تو ماتھا پکڑ کر وسیلہ کس چیز کے لئے اختیار کیا جا رہا ہے؟
اللہ کے اچھے ناموں کے ذریعہ دعا کرنے کی تعلیم دی گئی ہے، ماتھا پکڑ کر اس سے دماغی قوت بڑھانے کا معجون بنانے کی تعلیم تو نہیں دی گئی ہے نا۔
بایں وجہ اس "دماغی ٹانک" سے آج تک کسی تقلیدی کے دماغی قوت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ، ٹھیک اسی طرح جیسے رضاخانی عوام علماء اسم نبی سن کر انگوٹھا چومتے ہیں اور انگوٹھے کو آنکھوں سے لگاتے ہیں تاکہ آنکھوں کی روشنی میں اضافہ ہو جائے، لیکن آج تک ان اندھے رضاخانیوں کی بینائی واپس آئی اور نہ ان کی بینائی میں اضافہ ہی ہوا۔ کیونکہ بدعت سے کبھی نور نہیں پیدا ہوتا بلکہ رہی سہی نورانیت بھی ختم ہوکر رہ جاتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ان تقلیدیوں کا عمل ہی کتاب و سنت کے مطابق نہیں۔
اگر عمل کتاب و سنت کے مطابق ہوتا تو دماغی قوت میں اضافہ کرنے کے لئے کسی بدعت کا سہارا نہیں لیا جاتا بلکہ از خود ذہن و دماغ روشن ہوجاتا۔
آگے مفتی صاحب فرماتے ہیں:
" اور بوقت دعا و ذکر سر پر ہاتھ رکھنا بھی حدیث سے ثابت ہے".
جواب : یہ سراسر جھوٹ ہے۔ بوقت دعا اور ذکر سر پر ہاتھ رکھنا کہیں بھی ثابت نہیں ہے۔
مفتی دارالعلوم دیوبند :
"اور نماز کے بعد بھی۔ (سر پر ہاتھ رکھنا ثابت ہے۔) وروینا في کتاب ابن السني عن أنس -رضي اللہ عنہ- قال: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا قضی صلاتہ مسح جبھتہ بیدہ الیُمنی ثم قال: أشھد أن لا إلٰہ إلا اللہ الرحمن الرحیم اللھم أذھب عني الھمّ والحزن" (کتاب الأذکار للنووي:ص63)
جواب:
اس روایت میں "ياقوي" نہیں بلکہ أشھد أن لا إلٰہ إلا اللہ الرحمن الرحیم اللھم أذھب عني الھمّ والحزن پڑھنا مذکور ہے۔
اور نہ انگلیوں میں پھونک مار کر آنکھوں پر پھیرنے کا کہیں کوئی ذکر ہے۔
نیز اس روایت کی سند سخت ضعیف ہے۔
اس کی سند میں سلام الطّویل المدائنی راوی ہے جس کے بارے میں امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
"تركوه "
(محدثین نے اسے چھوڑ دیا ہے)
(كتاب الضعفاء)
امام حاکم فرماتے ہیں:
”اس نے حمید الطّویل، ابوعمرو بن العلاء اور ثور بن یزید سے موضوع احادیث بیان کی ہیں۔“
(المدخل الي الصحيح)
حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
وقد أجمعوا على ضعفه ”
(اور اس کے ضعیف ہونے پر اجماع ہے۔ “)
(مجمع الزوائد)
اس سند کا دوسرا راوی زید العمی بھی بالاتفاق ضعیف ہے۔
(تقریب التہذیب : 2131)
اسے جمہور (محدثین) نے ضعیف قرار دیا ہے۔
(مجمع الزوائد )
مفتی دارالعلوم دیوبند :
"اور جس عضو میں تکلیف ہو اس پر ہاتھ رکھ کر دعا پڑھنا متعدد احادیث میں وارد ہے."
جواب: یقیناً جس عضو میں تکلیف ہو اس ہر ہاتھ رکھ کر دعا پڑھنا متعدد احادیث میں وارد ہے.
لیکن اس سے فرض نماز کے فوراً بعد ماتھا پکڑ کر "یا قوی" پڑھنے کا ثبوت فراہم کہاں ہوتا ہے۔ کیونکہ بمطابق فتویٰ "جس عضو میں تکلیف ہو اس پر ہاتھ رکھ کر دعا پڑھنا متعدد احادیث میں وارد ہے." لیکن یہاں تو کسی کے ماتھے میں کوئی تکلیف نہیں ہے۔ اور اگر ہے تو کیا تکلیف بھی ان تقلیدیوں کی اجتماعی ہوتی ہے، یہ تکلیف ہے یاتقلید کا طاعون ؟؟
اللهم احفظنا منه يا رب العالمين!
مفتی دارالعلوم دیوبند :
"اور "یاقوي" کا وظیفہ وہ شخص پڑھتا ہے جس کا ذہن کمزور ہوتا ہے۔"
جواب: صحیح فرمایا آپ نے! قوی ذہن کا آدمی ایسا من گھڑت عمل کر بھی کیسے سکتا ہے؟
اور اخیر میں مفتی صاحب فرماتے ہیں:
"لہٰذا جب اس کی نظیر احادیث سے ثابت ہے تو اس کو بدعت کہنا درست نہیں"
جواب: آپ کا فتویٰ ہی بے نظیر ہے جناب! آپ کے اس فتوے کے بعد دنیا میں کسی بھی بدعت کو بدعت کہنا درست نہیں ہوگا۔ کیونکہ ہر بدعت کی نظیر یا کم از کم اس نظیر کی نظیر تو موجود ہی ہے۔
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!