Monday, July 31, 2023

میڈ ان چائنہ جائے نماز پہ نماز پڑھی اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے

میں نے کرسچن ہیگن کی ایجاد کردہ گھڑی کو دیکھا نماز کا وقت قریب تھا۔

 میں نے ڈیملر اور میبچ کا ایجاد کردہ موٹر سائیکل نکالا اور مسجد کی جانب روانہ ہو گیا۔

وہاں پہنچ کر ہالسے ٹیلر کے ایجاد کردہ واٹر کولر سے فلٹر شدہ صاف پانی پیا۔۔۔

اور 
کلارکس والوں کے جوتے اتار کر وضو کرنے لگا،

بینجامن موغن کے ایجاد کردہ گیزر کی وجہ سے گرم پانی آ رہا تھا اور سردی میں بھی کوئی مشکل پیش نہیں آ رہی تھی۔

اس کے بعد مسجد کے اندرونی گیٹ کی طرف گیا اور رابرٹ ہاومن کا ایجاد کردہ شیشے کا دروازہ کھولا،

ایڈیسن کا ایجاد کردہ بلب آن کیا،

بینجامن فریکلن کی ایجاد کردہ بجلی سے مسجد روشن ہو گئی 

سامنے ولس کیریر کا ایجاد کردہ اے سی بھی لگا ہوا تھا مگر چارلس بیکر کا ایجاد کردہ ہیٹر آن تھا۔

اور جیمز ویسٹ کے ایجاد کردہ مائیکروفون پہ اذان ھورہی تھی ،

ایڈورڈ کیلگ اور چیسٹر رائس کے ایجاد کردہ لاوڈ سپیکر کی وجہ سے آواز سب مسلمانوں تک پہنچ رہی تھی۔

میں نے میڈ ان چائنہ جائے نماز پہ نماز پڑھی اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے: 

"یا اللہ کافروں کو نیست و نابود کر اور مسلمانوں کو ان پہ غلبہ عطا فرما ..." 

یہ سن کر میرے کندھے پہ بیٹھے فرشتے کا قہقہہ نکل گیا
منقول

اسی کو کہتے ہیں گڑ کھاؤ اور گلگلے سے پرہیز!! 

Friday, July 28, 2023

نواسہ رسول کا قاتل کون: یزید یا کوئی اور؟ ‏

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محمد اقبال قاسمي سلفي

موضوع: نواسہ رسول کا قاتل کون: یزید یا کوئی اور؟ 

مصادر : مختلف مراجع و مصادر

جیسا کہ عام طور سے لوگوں میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ نواسہ رسول حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا قاتل یزید ہے ۔ یزید نے ہی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کروایا تھا۔ 

کیا واقعی یزید نے ہی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کیا تھا؟ 
یا قاتلینِ نواسہ رسول کوئی اور تھے؟

 آیئے صحیح ترین روایات کی روشنی میں جانتے ہیں کہ اس وقت موجود صحابی رسول اور زوجہ مطہرہ ام المومنین نے قتل کا ذمہ دار کسے ٹھہرایا تھا۔

ابن ابی نعم کہتے ہیں: میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں موجود تھا ان سے ایک شخص نے ( حالت احرام میں ) مچھر کے مارنے کے متعلق پوچھا ( کہ اس کا کیا کفارہ ہو گا ) ابن عمر رضی اللہ عنہما نے دریافت فرمایا کہ تم کہاں کے ہو؟ اس نے بتایا کہ عراق کا، فرمایا کہ اس شخص کو دیکھو، ( مچھر کی جان لینے کے تاوان کا مسئلہ پوچھتا ہے ) حالانکہ اس کے ملک والوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسہ کو ( بےتکلف قتل کر ڈالا ) میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ یہ دونوں ( حسن اور حسین رضی اللہ عنہما ) دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔ 
(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 5994) 

اس روایت سے یہ بالکل واضح ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر جیسے صحابی جو اس وقت موجود تھے، انہوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا قاتل یزید کو نہیں بلکہ عراقیوں اور کوفیوں کو ٹھہرایا۔ اور اس بات کی گواہی دیدی کہ نواسہ رسول کو یزید نے نہیں بلکہ کوفیوں نے قتل کیا تھا۔

اسی طرح ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کوفیوں پر لعنت فرمائی جب انہیں حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کی خبر ملی، چنانچہ شہر بن حوشب کہتے ہیں: 

 عن شهر بن حوشب قال : سمعت أم سلمة حين جاء نعي الحسين بن علي لعنت أهل العراق وقالت : قتلوه قتلهم الله عز و جل غروه وذلوه لعنهم الله

شہر بن حوشب کہتے ہیں کہ جب حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر آئی تو ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو میں نے کہتے ہو سنا، انہوں نے کوفیوں پر اللہ کی لعنت کی۔ اور کہا: "انہوں نے حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا، اللہ انہیں تباہ وبرباد کردے، انہوں نے حسین رضی اللہ عنہ کو دھوکا دیا اور انہیں رسوا کیا۔ اللہ کی ان پر لعنت ہو۔ "

(فضائل صحابہ: امام احمد بن حنبل واسنادہ حسن) 

مجمع الزوائد میں بھی یہ روایت موجود ہے، اور اسے نقل کرنے کے بعد امام ہیثمی نے فرمایا: رواه الطبراني و رجاله مو ثقون. کہ اسے طبرانی نے روایت کیا ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ (مجمع الزوائد:15145) 

اس روایت میں بھی ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے حسین رضی اللہ عنہ کا قاتل یزید کو نہیں بلکہ عراقیوں اور کوفیوں کو قرار دیا۔
اس طرح  صحابہ کرام ، ازواج مطہرات اور اہل بیت میں سے کسی سے بھی کوئی ایسی صحیح روایت موجود نہیں ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہو کہ انہوں نے قتل حسین کا ذمہ دار یزید کو ٹہرایا ہو یا یزید کی خلافت سے دستبرداری اختیار کر لی ہو۔ 

بلکہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے صحابی رسول  واقعہ کربلا کے بعد بھی یزید کی بیعت پر قائم رہے اور دوسروں کو بھی بیعت یزید پر قائم و دائم رہنے کی تلقین کی :

 حضرت نافع مولی عبداللہ بن عمر روایت کرتے ہیں کہ : 

یزید بن معاویہ کے دور حکومت میں جب حرہ کے واقعے میں جو ہوا سو ہوا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عبداللہ بن مطیع کے پاس گئے ، اس نے کہا : ابوعبدالرحمن ( حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی کنیت ) کے لیے گدا بچھاؤ ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : میں اس لیے تمہارے پاس نہیں آیا ، میں تمہارے پاس ( صرف ) اس لیے آیا ہوں کہ تم کو ایک حدیث سناؤں جو میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنی تھی ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے ( مسلمانوں کے حکمران کی ) اطاعت سے ہاتھ کھینچا وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے اس حال میں حاضر ہو گا کہ اس کے حق میں کوئی دلیل نہ ہو گی اور جو شخص اس حال میں مرا کہ اس کی گردن میں کسی ( مسلمان حکمران ) کی بیعت نہیں تھی تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا ۔‘‘ 
(صحیح مسلم: حدیث نمبر: 4793) 

نیز حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے خادموں اور لڑکوں کو جمع کر کے یزید کی بیعت نہ توڑنے کی نصیحت کی اور انہیں آخرت کی ذلت و رسوائی سے آگاہ کیا، 
اور یزید کی بیعت توڑنے والے سے لا تعلقی کا اعلان کر دیا۔ 

جیسا کہ صحیح بخاری میں حضرت نافع سے روایت ہے کہ: 
 جب اہل مدینہ نے یزید بن معاویہ کی بیعت سے انکار کیا تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے خادموں اور لڑکوں کو جمع کیا اور کہا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا ہے ، آپ نے فرمایا کہ ہر غدر کرنے والے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا کھڑا کیا جائے گا اور ہم نے اس شخص ( یزید ) کی بیعت ، اللہ اور اس کے رسول کے نام پر کی ہے اور میرے علم میں کوئی عذر اس سے بڑھ کر نہیں ہے کہ کسی شخص سے اللہ اور اس کے رسول کے نام پر بیعت کی جائے اور پھر اس سے جنگ کی جائے اور دیکھو مدینہ والو ! تم میں سے جو کوئی یزید کی بیعت کو توڑے اور دوسرے کسی سے بیعت کرے تو مجھ میں اور اس میں کوئی تعلق نہیں رہا ، میں اس سے الگ ہوں ۔
(صحیح بخاری حدیث نمبر: 7111) 

واضح ہو کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ بات واقعہ کربلا کے بعد کہی تھی۔
 اگر نواسہ رسول کا قاتل یزید بن معاویہ رضی اللہ عنہ ہوتے تو ہرگز عبداللہ بن عمر رضی اللہ عھما کا موقف یہ نہیں ہوتا بلکہ معاملہ اس کے برعکس ہوتا۔ 

مسلک دیوبند کا مشہور ادارہ دارالعلوم دیوبند کا بھی یہ فتویٰ ہے کہ یزید   حسین رضی اللہ عنہ کا قاتل نہیں ہے۔
چنانچہ دارالعلوم دیوبند سے جب یہ پوچھنا گیا کہ 
کیا یہ  صحیح ہے کہ یزید حضرت  حسین رضی اللہ عنہ کا قاتل نہیں ہے؟ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو کس نے شہید کیا۔

تو دارالعلوم دیوبند نے جواب دیا : 

" جی ہاں! یزید حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا قاتل نہیں بلکہ جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سر مبارک یزید کے دربار میں لے جایا گیا تو اس نے اس پر اظہار افسوس کیا اور ابن زیاد پر لعن طعن کیا۔"

دارالافتاء 
دارالعلوم دیوبند
فتویٰ نمبر:3619

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!!

Thursday, July 27, 2023

موضوع: کیا کربلا میں نواسہ رسول ﷺ پر پانی بند کر دیا گیا تھا؟

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مولانا  اقبال قاسمي سلفي

موضوع: کیا کربلا میں نواسہ رسول ﷺ پر پانی بند کر دیا گیا تھا؟

مصادر: مختلف مراجع و مصادر 

چاند جو ماہ محرم کا نظر آتا ہے
تیرے تن میں کیوں شیطان اترآتاہے۔ 

محرم الحرام میں میں جہاں عوام ڈھول اور تعزیے جیسے غیر اسلامی شیطانی افعال کو انجام دیتے ہیں وہیں واقعہ کربلا کی جعلی اور موضوع روایتیں بیان کرکے دیوبندی اور رضاخانی علماء اور مفتیان ان شیطانی کاموں کو مہمیز لگانے کا کام کرتے ہیں۔

ماہ محرم میں واقعہ کربلا کو بیان کرتے ہوئے ان ڈراما باز کلاکاروں کا صرف اور صرف یہ مقصد ہوتا ہے کہ لوگوں کی آنکھوں سے آنسوؤں کی قطار لگ جائے اور انہیں واقعہ کربلا پر جذباتی بناکر خوب داد تحسین حاصل کر سکیں۔

چنانچہ واقعہ کربلا بیان کرتے ہوئے اکثر یہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ میدان کربلا میں آل حسین پر پانی تک بند کردیا گیا اور آل حسین کو پانی کی ایک ایک بوند کے لیے ترسایا گیا جبکہ وہ شدت پیاس سے تڑپ رہے تھے لیکن پانی تک ان کی رسائی نہیں ہونے دی گئی۔ 

جبکہ میدان کربلا میں آب بندی کا یہ واقعہ سرے سے موضوع اور من گھڑت ہے۔ دنیا و جہان کی کتب احادیث میں کہیں بھی صحیح سند کےساتھ یہ واقعہ موجود نہیں ہے۔

کہا جاتا ہے کہ تین دن تک اہل بیت کے خیمے میں ایک بوند بھی پانی نہیں تھا اور مسلسل تین دن تک بچوں سے لے کر بڑوں تک سب پیاسے رہے اور کچھ مقررین تو اس سے بھی آگے بڑھ جاتے ہیں اور پانچ محرم سے ہی پانی بند کر دیتے ہیں تاکہ واقعہ مزید دردناک ہو جائے۔

جبکہ تاریخ ابن کثیر میں یہ روایت موجود ہے:
دسویں محرم کو امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے غسل فرمایا اور خوشبو لگائی اور بعض دوسرے ساتھیوں نے بھی غسل فرمایا۔

(البداية والنهاية، ج8، ص185) 

اس روایت کو مقررین ہاتھ بھی نہیں لگاتے کیوں کہ اگر اسے بیان کر دیا گیا تو پھر لوگوں کو رلانے کا دھندا چوپٹ ہو جائے گا، پھر کس منھ سے کہا جائے گا کہ تین دن تک اہل بیت کے خیموں میں ایک بوند بھی پانی نہیں تھا۔

پانی بند ہونے والی صرف ایک طرف کی روایت(وہ بھی موضوع اور من گھڑت) کو بیان کرنا اور یہ کہنا کہ تین دن تک اہل بیت کے خیموں میں ایک بوند پانی نہیں تھا، اس سے واضح ہے کہ مقصد صرف لوگوں کو رلانا اور محفل میں رنگ جمانا ہے۔ اپنے مطلب کی روایات میں نمک مرچ لگا لگا کر بیان کرنا اور دوسری روایات کو ہڑپ جانا، یہ کیسی تقلیدیت اور رضا خانیت ہے؟ 

اسی طرح عبد اللہ بن حسین جنہیں علی اصغر کہا جاتا ہےہے، میدان کربلا میں ان کے پیاس کا افسانوی قصہ بھی باطل ہے۔ عموما واعظین کہتے ہیں کہ علی اصغر کو حسین رضی اللہ عنہ نے یزیدیوں کے سامنے لے جا کر پانی مانگا یہ فرضی قصہ "خاک کربلا" جیسی کتب میں بغیر حوالے کے درج ہے بلا تحقیق اور غور و خوض کے عوام الناس میں بیان کیا جاتا ہے۔ 

حقیقت تو یہ ہے کہ واقعہ کربلا آج جھوٹ کا معمہ بنا دیا گیا ہے۔ اور واقعہ کربلا کی جتنی روایات ہیں وہ سب جھوٹی اور جعلی ہیں۔ کیونکہ ان روایتوں کے بیان کرنے والے اکثر راوی جھوٹے، جعلی، مجہول، غالی اور غیر معتبر ہیں۔ ستم بالاۓ ستم یہ کہ مؤرخین نے ان روایات کو بلا کسی نقد و تبصرہ کے اپنی کتابوں میں نقل کر دیا اور پھر وہی روایتیں عوام میں منتقل اور مشہور ہوگئیں۔ جس کا اعتراف شیعہ عالموں نے بھی کیا ہے۔ چنانچہ شیعہ مصنف شاکر عالم لکھتے ہیں: واقعہ کربلا کے بارے میں صدہا باتیں گھڑی گئی ہیں، ان واقعات کی تدوین عرصہ دراز کے بعد ہوئی، رفتہ رفتہ اختلاف کی اس قدر کثرت ہوگئی کہ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ سے الگ کرنا مشکل ہوگیا۔
( بحوالہ: آؤ محرم کی حقیقت تلاش کریں: ص 33) 
فتاویٰ رضویہ میں احمد مولوی احمد رضا خان لکھتے ہیں:
 شہادت نامے (شہادت کے بیانات) جو آج کل عوام میں رائج ہیں اکثر روایات باطلہ وبے سر وپا سے مملو، اکاذیب موضوعہ پر مشتمل ہیں۔ ایسے بیان کا پڑھنا اور سننا وہ شہادت نامہ ہو خواہ کچھ اور، مجلس میلاد مبارک میں ہو خواہ کہیں اور مطلقا حرام و ناجائز ہے 

(فتاوٰی رضویہ، 24، ص 514 رضا فاؤنڈیشن، لاہور)۔

اس کے جعلی روایت کے برخلاف صحیح احادیث سے یہ ثابت شدہ ہے کہ خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر باغیوں نے بئر رومہ کا پانی بند کردیا تھا جس رومہ کو عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میٹھے پانی کے لیے مسلمانوں کو وقف کیا تھا۔ 

ثقہ تابعی ثمامہ بن حزن حزن القشیری کہتے ہیں کہ میں سیدنا عثمان کی شہادت کے دن بیت خلافت میں حاضر ہوا اور انہیں حالات سے مطلع کیا تو آپ رضی اللہ نے باغیوں سے مخاطب ہوکر فرمایا: 
"اپنے ان دونوں ساتھیوں کو بلاؤ جنہوں نے میرے خلاف بھڑکایا ہے۔ "

  انہیں بلایا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر دریافت فرماتا ہوں کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ جب نبی کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو مدینہ میں بئر رومہ کے علاوہ میٹھے پانی کا کوئی کنواں موجود نہیں تھا، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے خالص مال سے یہ کنواں خریدے گا اور اس پر اس کا استحقاق عام مسلمانوں کی طرح ہوگا تو اسے اس سے کہیں بہتر جنت میں ملے گا تو وہ کنواں میں نے خالص اپنے مال سے خریدا لیکن آج تم مجھے ہی اس کے پانی سے روک رہے ہو؟؟ 
(فضائل صحابہ لاحمد بن حنبل حدیث نمبر : 797 و اسنادہ صحیح)

اسی طرح اسلام کی پہلی جنگ میں اللہ رب العزت نے مسلمانوں کو بارش کے ذریعہ کس طرح مدد فرمائی۔ 
اللہ رب العزت نے سورہ انفال میں ارشاد فرمایا: 
إِذْ يُغَشِّيكُمُ النُّعَاسَ أَمَنَةً مِنْهُ وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً لِيُطَهِّرَكُمْ بِهِ وَيُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّيْطَانِ وَلِيَرْبِطَ عَلَى قُلُوبِكُمْ وَيُثَبِّتَ بِهِ الْأَقْدَامَ.
(سورة الانفال: 11) 

اس وقت کو یاد کرو جب کہ اللہ تم پر اونگھ طاری کر رہا تھا تم پر سے گھبراہٹ دور کرنے کے لیے اور تم پر آسمان سے پانی برسا رہا تھا کہ اس پانی کے ذریعہ سے تم کو پاک کر دے اور تم پر سے شیطانی وسوسوں کو دور کردے اور تمہارے دلوں کو مضبوط کردے اور تمہارے قدم جما دے۔ 
(سورہ انفال: 11)

اس بارش کے تین فائدے ہوے : ایک یہ کہ مسلمانوں کو وافر مقدار میں پانی دستیاب ہوگیا ۔ دوسرے یہ کہ مسلمان چونکہ وادی کے بالائی حصہ پر تھے اس لیے بارش کی وجہ سے ریت جم گئی اور زمین اتنی مضبوط ہو گئی کہ قدم اچھی طرح جم سکیں اور نقل و حرکت بھی بآسانی ہو سکے۔ تیسرے یہ کہ لشکر کفار نشیب کی جانب تھا ، بارش ہوجانے کی وجہ سے وہاں کیچڑ ہوگئی اور پاؤں دھنسنے لگے ۔ 

 میں عرب کا پہلا شخص ہوں جس نے راہ خدا میں تیر پھینکا، اور ہم نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کرتے وقت دیکھا ہے کہ ہمارے پاس خاردار درختوں کے پھل اور کیکر کے درخت کے علاوہ کھانے کے لیے کچھ نہ تھا یہاں تک کہ ہم لوگ قضائے حاجت میں بکریوں کی طرح مینگنیاں نکالا کرتے تھے ۱؎، اور اب قبیلہ بنی اسد کے لوگ مجھے دین کے سلسلے میں ملامت کرنے لگے ہیں، اگر میں اسی لائق ہوں تو بڑا ہی محروم ہوں اور میرے اعمال ضائع ہو گئے۔ 
(سنن ترمذی : حدیث نمبر: 2366) 
سعد رضی الله عنہ نے یہ بات اس وقت کہی تھی جب بعض جاہل لوگوں نے آپ پر چند الزامات لگائے تھے، ان الزامات میں سے ایک الزام یہ بھی تھا کہ آپ کو ٹھیک سے نماز پڑھنا نہیں آتی، یہ آپ کے کوفہ کے گورنری کے وقت کی بات ہے، اور شکایت خلیفہ وقت عمر فاروق رضی الله عنہ سے کی گئی تھی۔

ان صحیح ، ثابت شدہ سنہرے واقعات کے بجائے موضوع اور جعلی روایتیں امت کے سامنے پیش کی جاتی ہیں، تاکہ جاہل اور تقلیدی عوام کو بیوقوف بنا کر اپنا الو سیدھا کر سکیں۔ 

میدان کربلا میں پانی بند کئے جانے کی جعلی روایت کو بیان کرنے کے بجائے ان صحیح واقعات و سیر کو بیان کیا جائے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ پیارے نبی ﷺ اور آپ کے جان نثار صحابہ کو اسلام کی راہ میں کیسی مشقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ 

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!

Tuesday, July 25, 2023

وطن کی محبت ایمان کا حصہ ہے۔

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محمد اقبال قاسمي سلفي

موضوع:   وطن کی محبت ایمان کا حصہ ہے۔ "حدیث نہیں ہے ۔

مصادر: مختلف مراجع و مصادر

صوفی سنتوں کے قصے کہانیاں سننے اور سنانے والے حنفی عوام، علماء، خطباء اور مفتیوں کویہ حدیث اکثر بیان کرتے ہوئے سنا جاتا ہے۔ 

حب الوطن من الايمان 

وطن کی محبت ایمان کا حصہ ہے۔ 

لیکن یہ بالکل بے سند اور موضوع روایت ہے۔ صحیح تو کیا، کوئی ضعیف سند بھی اس کی کتب احادیث میں موجود نہیں ہے۔ 

علامہ صغانی حنفی نے اسے موضوع کہا ہے۔ 
(الموضوعات : 81)

علامہ سیوطی لکھتے ہیں :
(حديث) "حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الإِيمَانِ" لم أقف عليه.

"یہ حدیث مجھے نہیں مل سکی۔" (الدر المنتثرۃ : 190)

علامہ سخاوی لکھتے ہیں :
حَدِيث: حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الإِيمَانِ، لم أقف عليه.
"مجھے بھی نہیں ملی۔" 

(المقاصد الحسنة : 386)

علامہ البانی نے السلسلۃ الضعیفہ میں اسے موضوع قرار دیا ہے۔ 

دارالعلوم دیوبند نے بھی اپنے فتوے میں اسے موضوع کہا ہے۔ 

چنانچہ جب دارالعلوم دیوبند سے پوچھا گیا۔ 

سوال:

براہ کرم ، حب الوطنی سے متعلق قرآنی آیات (نمبر) اور احادیث ارسال فرمائیں یا اس طرف رہنمائی کریں

جواب: 
میرے علم میں ایسی کوئی صحیح حدیث نہیں ہے جو حب الوطنی سے متعلق ہو اور نہ ہی کسی قرآنی آیت میں اس کا ذکر ہے۔ بطور حدیث کے حب الوطن من الایمان جو سنی جاتی ہے علماء نے اس کو موضوع کہا ہے۔

دارالافتاء 
دارالعلوم دیوبند
فتوی نمبر : 1716

علامہ یوسف بنوری حنفی دیوبندی پاکستانی سے جب اس بابت سوال کیا گیا کہ کیا: 

اسلام نے وطن سے محبت کو ایمان کا جزو قرار دیا ہے؟ جواب صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں عنایت فرمائیں۔

جواب: 
حب الوطن من الإیمان" یعنی وطن سے محبت ایمان کا جز ہے، اس قسم کی بات عوام الناس میں حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے طور پر مشہور ہے، جب کہ مذکورہ الفاظ کی نسبت رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرنا درست نہیں، اس لیے کہ محدثین نے اس روایت کو موضوع یعنی من گھڑت قرار دیا ہے،جیساکہ "موضوعات الصغاني" میں ہے:

١- حبُّ الوطنِ منَ الإيمانِ. موضوعات الصغاني.الصفحة أو الرقم: 53)

موضوع المقاصد الحسنةمیں ہے:

٢- حبِّ الوطنِ منَ الإيمانِ. ( المقاصد الحسنة للسخاوي، الصفحة أو الرقم: 218) قال السخاوي : لم أقف عليه.

الدرر المنتثرةمیں ہے:

٣- حبُّ الوطنِ من الإيمانِ. ( الدرر المنتثرة للسيوطي، الصفحة أو الرقم: 65) قال السيوطي : لم أقف عليه.

الأسرار المعروفة میں ہے:

٤- حبُّ الوطنِ مِنَ الإيمانِ. 

( الأسرار المرفوعة لملا علي القاري، الصفحة أو الرقم: 189) قال علي القاري: قيل: لا أصل له أو بأصله موضوع.

البتہ محدثین میں سے علامہ سخاوی رحمہ اللہ مذکورہ روایت کے معنی کو صحیح قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ روایت اگرچہ صحیح نہیں، لیکن اس کا معنی درست ہے.

وقال في المقاصد: لم أقف عليه، ومعناه صحيح.

جب کہ دیگر محدثین نے علامہ سخاوی رحمہ اللہ کے اس قول کو قبول نہیں کیا اور ایمان اور وطن کی محبت کے تلازم کا انکار کیا ہے، اور ایمان کے جز ہونے کا انکار کیا ہے۔

ورد القاري قوله: (ومعناه صحيح) بأنه عجيب، قال: إذ لا تلازم بين حب الوطن وبين الإيمان.

پس مذکورہ بالا تفصیل سے ثابت ہوتا ہے کہ وطن کی محبت کو ایمان کا جز قرار دینا اور اس کی نسبت رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرنا صحیح نہیں، البتہ بعض دیگر کچھ روایات سے وطن کی محبت کا ممدوح ہونا معلوم ہوتا ہے، تاہم ان روایات میں سے کسی سے بھی محبتِ وطن کا ایمان کا جز ہونا ثابت نہیں ہوتا. 

دارالافتاء
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر: 144004200499

جعلی احادیث بیان کر کے بے دھڑک نبی کریم ﷺ پر بہتان باندھنے والے رضاخانی رھبان نے بھی اس روایت کو موضوع کہا ہے۔

 بانی رضاخانیت، احمد رضا خان صاحب لکھتے ہیں: 

حب الوطن من الایمان
 (وطن کی محبت ایمان کا حصہ ہے۔ ) نہ حدیث سے ثابت نہ ہرگز اس کے یہ معنی،
*( الدارالمنتشرۃ فی الاحادیث المشتہرۃ حرف الحاء حدیث ۱۸۹ المکتب الاسلامی بیروت ص۱۰۰)

اس کے یہ معنی امام بدرالدین زرکشی نے اپنے جز اور امام شمس الدین سخاوی نے مقاصد حسنہ میں اور امام خاتم الحفاظ جلال الدین سیوطی نے الدرالمنتشرہ میں بالاتفاق اس روایت کو فرمایا: لم اقف علیہ (میں اس سے آگاہ نہیں ہوسکا۔
*( المقاصد الحسنہ للسخاوی حدیث ۳۸۶ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۱۰۹)*
( الدررالمنتشرۃ فی الاحادیث المشتہرۃ حروف الحاء حدیث ۱۸۹ المکتب الاسلامی بیروت ص۱۰۰)

( فتاوٰی رضویہ جلد:15 صفحہ: 295)


واضح ہوکہ وطن سے محبت ایک فطری شیء ہے نبی کریم ﷺ کو بھی اپنے وطن سے بے پناہ محبت تھی بلکہ محبت کی دعائیں مانگا کرتے تھے۔ 

عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ : لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ ، وُعِكَ أَبُو بَكْرٍ ، وَبِلَالٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَتْ : فَدَخَلْتُ عَلَيْهِمَا ، قُلْتُ : يَا أَبَتِ كَيْفَ تَجِدُكَ ؟ وَيَا بِلَالُ كَيْفَ تَجِدُكَ ؟ قَالَتْ : وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا أَخَذَتْهُ الْحُمَّى يَقُولُ : كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ ، وَكَانَ بِلَالٌ إِذَا أَقْلَعَتْ عَنْهُ يَقُولُ : أَلَا لَيْتَ شِعْرِي ، هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ وَهَلْ أَرِدَنْ يَوْمًا مِيَاهَ مِجَنَّةٍ وَهَلْ تَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ ، أَوْ أَشَدَّ ، اللَّهُمَّ وَصَحِّحْهَا وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّهَا ، وَصَاعِهَا ، وَانْقُلْ حُمَّاهَا فَاجْعَلْهَا بِالْجُحْفَةِ.

ترجمہ: 
 جب رسول اللہ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ اور بلال رضی اللہ عنہ کو بخار ہو گیا ۔ بیان کیا کہ پھر میں ان کے پاس ( عیادت کے لیے ) گئی اور پوچھا ، محترم والد بزرگوار آپ کا مزاج کیسا ہے ؟ بلال رضی اللہ عنہ سے بھی پوچھا کہر آپ کا کیا حال ہے ؟ بیان کیا کہ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بخار ہوا تو وہ یہ شعر پڑھا کرتے تھے ” ہر شخص اپنے گھر والوں میں صبح کرتا ہے اور موت اس کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے ۔“ اور بلال رضی اللہ عنہ کو جب افاقہ ہوتا تو یہ شعر پڑھتے تھے ” کاش مجھے معلوم ہوتا کہ کیا میں پھر ایک رات وادی میں گزار سکوں گا اور میرے چاروں طرف اذخر اور جلیل ( مکہ مکرمہ کی گھاس ) کے جنگل ہوں گے اور کیا میں کبھی مجنہ ( مکہ سے چند میل کے فاصلہ پر ایک بازار ) کے پانی پر اتروں گا اور کیا پھر کبھی شامہ اور طفیل ( مکہ کے قریب دو پہاڑوں ) کو میں اپنے سامنے دیکھ سکوں گا ۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ کو اس کی اطلاع دی آپ نے دعا فرمائی کہ اے اللہ ! ہمارے دل میں مدینہ کی محبت بھی اتنی ہی کر دے جتنی مکہ کی محبت ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ اور اس کی آب و ہوا کو ہمارے موافق کر دے اور ہمارے لیے اس کے مد اور صاع میں برکت عطا فرما ، اللہ اس کا بخار کہیں اور جگہ منتقل کر دے اسے مقام جحفہ میں بھیج دے۔ 
(صحیح بخاری حدیث نمبر: 5654) 

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَكَّةَ:‏‏‏‏ مَا أَطْيَبَكِ مِنْ بَلَدٍ وَأَحَبَّكِ إِلَيَّ، ‏‏‏‏‏‏وَلَوْلَا أَنَّ قَوْمِي أَخْرَجُونِي مِنْكِ مَا سَكَنْتُ غَيْرَكِ.

رسول اللہ ﷺ نے مکہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:کتنا پاکیزہ شہر ہے تو اور تو کتنا مجھے محبوب ہے ، میری قوم نے مجھے تجھ سے نہ نکالا ہوتا تو میں تیرے علاوہ کہیں اور نہ رہتا۔ 
(سنن ترمذی حدیث نمبر: 3926)

اسی طرح آپ ﷺ مدینہ سےبھی بیحد محبت کرتے تھے ۔ بخاری شریف میں ہے کہ جب آپ سفر سے واپس ہوتے اور مدینہ نظر آنے لگتا تو مدینہ سے محبت میں سواری تیز کردیتے چنانچہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: 
كان رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم إذا قَدِمَ مِن سفرٍ ، فأَبْصَرَ درجاتِ المدينةِ ، أَوْضَعَ ناقتَه ، وإن كانت دابَّةً حرَّكَها .
(صحيح البخاري:1802)

ترجمہ: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے مدینہ واپس ہوتے اور مدینہ کے بالائی علاقوں پر نظر پڑتی تو اپنی اونٹنی کو تیز کردیتے، کوئی دوسرا جانور ہوتا تو اسے بھی ایڑ لگاتے۔ 

ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اپنے وطن سے محبت کرنا جائز ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اسے نصف ایمان یا ایمان کا کوئی حصہ قرار دیا جائے، وطن سے محبت کو کسی بھی صحیح حدیث میں ایمان کا حصہ قرار نہیں دیا گیا ہے۔ اور جس حدیث میں اسے ایمان کا حصہ قرار دیا گیا ہے وہ بے سند  اور موضوع ہے۔ جس کا بیان کرنا حرام ہے الا یہ کہ اس کے موضوع اور من گھڑت ہونے کو واضح کرنے کی نیت سے بیان کی جاۓ۔ 
سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا :جو شخص میرے نام سے وہ بات بیان کرے جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
(صحیح بخاری: 109)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ شرح نخبہ میں فرماتے ہیں: علماء کا اتفاق ہے کہ موضوع حدیث بیان کرنا حرام ہے، سواۓ اس کے, کہ وہ اس کے موضوع ہونے کی تصریح کردے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
من حدث عني بحديث يرى انه كذب فهو احد الكاذبين۔ 
جو شخص مجھ سے حدیث نقل کرے اور وہ خیال کرتا ہو کہ یہ جھوٹ ہے تو وہ خود جھوٹا ہے۔ (مقدمہ صحیح مسلم) بحوالہ شرح نخبہ۔ 
 عَنْ الْمُغِيرَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : إِنَّ كَذِبًا عَلَيَّ لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ . 
 
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ
میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے کہ میرے متعلق کوئی جھوٹی بات کہنا عام لوگوں سے متعلق جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے جو شخص بھی جان بوجھ کر میرے اوپر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
(صحیح بخاری: 1291) 

علامہ علاءالدین حصکفی صاحب در مختار فرماتے ہیں: موضوع روایات پر تو بہر صورت عمل جائز نہیں ہے، نیز اسے بیان کرنا بھی جائز نہیں ہے، مگر یہ کہ ساتھ ساتھ اس کے موضوع ہونے کو بتا دیا جائے۔ (در مختار: ص 87) 
علامہ سخاوی لکھتے ہیں: اس لئے کہ نبی کریم ﷺ کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنا ایسا نہیں ہے جیسا کہ مخلوق میں سے کسی دوسرے انسان کی طرف منسوب کردینا۔ کیونکہ ارباب علم و بصیرت نے یہ اتفاق کیا ہے کہ یہ کام گناہ کبیرہ میں سے سب سے بڑا گناہ ہے۔اور متعدد علماء دین اور ائمہ نے ایسے شخص کی توبہ قبول نہ ہونے کی صراحت فرمائی ہے۔ بلکہ شیخ ابو محمد جوینی نے تو ایسے شخص کو کافر کہاہے اور اس کے فتنے اور نقصانات سے ڈرایا ہے۔ 
(المقاصد الحسنه صفحہ نمبر: 4) 

مناظر دیوبند مولانا طاہر حسین گیاوی حنفی دیوبندی " انگشت بوسی سے بائیبل بوسی تک" میں 12-13 پر لکھتے ہیں: 
جس طرح حضور اکرم ﷺ کے فرمان کا انکار کرنا محرومی اور تباہی کا باعث ہے، اسی طرح کسی دوسرے کی بات کو حضور ﷺ کا فرمان بتانا بھی عظیم ترین گناہ اور کفر کا سبب ہے۔ 
(انگشت بوسی سے بائیبل بوسی تک: از مناظر دیوبند مولانا طاہر حسین گیاوی صفحہ نمبر: 12)
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!

Tuesday, July 18, 2023

عرش پر نعلین پہن کر نبی کریم ﷺ کا تشریف لے جانا! ‏

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محمد اقبال قاسمي سلفي

موضوع: عرش پر نعلین پہن کر نبی کریم ﷺ کا تشریف لے جانا! 

صوفی سنتوں کے موضوع اور من گھڑت قصے کہانیوں پر عمل کرنے والے تقلیدی رضاخانی عوام، علماء، مفتیوں اور قصہ گو واعظین کو واقعہ معراج پر زور خطابت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اکثر یہ واقعہ سنا جاتا ہے کہ نبی کریم ﷺ‎ معراج پر تشریف لے گئے تو اللہ تعالی نے آپ سے فرمایا کہ اے محبوب! آپ نعلین پہنے ہوئے آئیں تو حضور ﷺ اسی طرح یعنی نعلین مبارک پہنے ہوئے عرش پر تشریف لے گئے. 

لیکن مذکورہ روایت بے اصل، بے بنیاد اور باطل محض ہے۔ صحیح تو کیا، کوئی ضعیف اور موضوع سند بھی کتب احادیث میں موجود نہیں ہے۔ 
اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف ایسی روایتوں کا انتساب اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر بہتان باندھنا ہے۔ 

رضاخانیوں کے امام، امام احمد رضا خان صاحب نے بھی اسے باطل اور موضوع قرار دیا ہے۔ 
چنانچہ احمد رضا کھاؤں صاحب سے جب یہ سوال کیا گیا کہ کیا:

" یہ صحیح ہے کہ شب معراج مبارک جب حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم عرش بریں پر پہونچے، نعلین پاک اتارنا چاہیں کہ حضرت موسی علیہ السلام کو وادئ ایمن میں نعلین شریف اتارنے کا حکم ہواتھا، فوراً غیب سے ندا آئی اے حبیب تمہارے مع نعلین شریف رونق افروز ہونے سے عرش کی زینت اور عزت زیادہ ہوگی۔  

(الملفوظ حصہ دوم ص 196) 
تو احمد رضا کھاؤں صاحب نے جواب دیا۔ 

جواب: یہ روایت محض باطل اور موضوع ہے۔ 

اسی طرح رضا کھاؤنیوں کے فقیہ ہند شریف الحق امجدی فرماتے ہیں:  

"نعلین مقدس پہنے ہوئے عرش پر جانا جھوٹ اور موضوع ہے۔ جیساکہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ نے "عرفان شریعت حصہ دوم ص:۹ " پر تحریر فرمایا ہے۔
 (فتاویٰ شارح بخاری، جلد۱، ص۳۰۶)
اس کے بعد دوسرے صفحہ پر لکھتے ہیں: کہ اس روایت کے جھوٹ اور موضوع ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ کسی حدیث کی معتبر کتاب میں یہ روایت مذکور نہیں۔ جو صاحب یہ بیان کرتے ہیں کہ نعلین پاک پہنے عرش پر گئے ان سے پوچھیے کہ کہاں لکھا ہے۔
 ( حوالہ سابق ص۳۰۷)"

مذکورہ روایت پوری اس طرح ہے: 

روي أن الرسول عندما وصل إلى العرش ليلة المعراج أراد أن يخلع نعليه، فنودي: لماذا تخلع نعليك؟ فقال: إلهي خشيت عاقبة الطرد، ومرارة الرد، وأن يقال لي كما قيل لأخي موسى، فنودي: يا محمد، إن كان موسى أراد، فأنت المراد، وإن كان موسى أحب، فأنت المحبوب، وإن كان موسى طلب، فأنت المطلوب، وأنت القريب، وأنت الحبيب، فسلني ما تحب، فإني سميع مجيب.
فقال الرسول الكريم: إلهي؛ لا أسالك آمنة التي ولدتني، ولا حليمة التي أرضعتني، ولا فاطمة ابنتي، وإنما أسألك أمتي، فقيل له: يا نبي الرحمة، ما أشفقك على هذه الأمة! أمتك خلق ضعيف، وأنا رب لطيف، وأنت نبي شريف، ولا يضيع الضعيف بين اللطيف والشريف، فوعزتي وجلالي؛ لأقسمن القيامة بيني وبينك شطرين: أنت تقول: أمتي أمتي، وأنا أقول: رحمتي رحمتي. 

اسے عبد الحئی حنفی لکھنوی "الآثار المرفوعة في الأخبار الموضوعة" میں روایت کرنے کے بعد فرماتے ہیں: 
یہ روایت موضوع اور باطل ہے۔ 


اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!

Thursday, July 13, 2023

موضوع: فرض نمازوں کے بعد ماتھا پکڑ کر پڑھے جانے والے تھانوی وظیفے کی حقیقت!

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مولانا اقبال قاسمي سلفي

موضوع: فرض نماز کے بعد ماتھا پکڑ کر پڑھے جانے والے تھانوی وظیفے کی حقیقت! 

مصادر: مختلف مراجع و مصادر 

صوفی سنتوں کے من گھڑت قصے کہانیوں اور ضعیف و موضوع روایتوں پر عمل کرنے والے دیوبندی اور رضاخانی عوام، علماء اور مفتیوں کو بھی یہ دیکھا جاتا ہے کہ امام کے فرض نماز کے سلام سے فارغ ہوتے ہی یہ لوگ اپنا ماتھا پکڑلیتے ہیں اور مختلف وظیفے ادا کرتے ہیں۔ کوئی ياقوي اور یا نور کا ورد کرتا ہےاور کوئی يارحمان اور يا رحيم کا۔ اور پھر انگلیوں میں پھونک مار کر آنکھوں پر پھیرتے ہیں۔ 
  
لیکن ان کا یہ عمل بالکل نادرست اور من گھڑت ہے۔ فرض نماز کے بعد ماتھا پکڑ کر "ياقوي" اور "يا نور" پڑھنا اور انگلیوں میں پھونک مار کر آنکھوں میں پھیرنا۔۔۔۔ 

نہ رسول اللہﷺ سے ثابت ہے
نہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین سے۔ ۔ ۔۔ 
نہ ائمہ اربعہ رحمھم اللہ سے۔۔ 
نہ محدثین عظام رحمھم اللہ سے۔۔۔ 

نہ قرآن کی کسی آیت میں۔۔۔ 
نہ کسی حدیث رسول ﷺ میں۔۔ 

صحیح تو کیا کسی ضعیف، موضوع اور من گھڑت روایت میں بھی یہ موجود نہیں ہے۔ بلکہ سراسر آج کے تھانویوں اور رضاخانیوں کا گھڑا ہوا عمل ہے، جس کا اعتراف دیوبند کے مشہور مفتی، مفتی شبیر قاسمی نے بھی کیا ہے۔ 

چنانچہ وہ ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں :

"اور ’’ یاقوي‘‘یا ’’یا نور‘‘ وغیرہ پڑھنا کسی حدیث میں نہیں ملا؛ البتہ حضرت تھانویؒ نے بہشتی زیور میں بطور علاج اس عمل کو لکھا ہے کہ سلام کے بعد سر پر ہاتھ رکھ کر ’’ یاقوی‘‘ گیارہ مرتبہ پڑھنے سے دماغ میں قوت آتی ہے اور گیارہ مرتبہ ’’یانور‘‘ پڑھ کر انگلیوں پر پھونک مار کر آنکھوں پر پھیر لینے سے آنکھوں کی روشنی بڑھتی ہے، یہ طب اور تجربہ کے اعتبار سے اچھا عمل ہے" 
(فتویٰ نمبر9478/38)

معلوم ہوا کہ یہ عمل سراسر بدعت اور تھانوی اختراع ہے۔ نیز تھانوی صاحب کا یہ فرمانا کہ "یہ طب اور تجربہ کے اعتبار سے اچھا عمل ہے" کیا ہی اچھا ہے! کیونکہ طب اور تجربہ کے اعتبار سے کسی عمل کے اچھا ہونے سے اس عمل کا شرعاً بھی اچھا ہونا کہاں لازم آتا ہے؟ ورنہ طبیبوں اور تجربہ کاروں کی اس دنیا میں کیا کمی ہے، ایک ڈونڈھو ہزار ملتے ہیں ! تو کس کس طبیب کے طب اور تجربہ کار کے تجربہ کا ٹانک اپنے معتقد اور مقلد مریدوں کو سپلائی کریں گے۔ 
یہ طب اور تجربہ کےاعتبار سے اچھا ہو تب بھی اسے ترک کردینا ہی بہتر ہے تاکہ لوگ کسی التباس میں مبتلا نہ ہوں۔ 
مفتی کفایت اللہ حنفی دیوبندی انگشت بوسی کے مسئلے کے ذیل میں لکھتے ہیں: 

"بعض بزرگوں نے اس عمل کو آنکھیں نہ دکھنے کے لیے مؤثربتایاہے تو اگرکوئی شخص اس کوسنت نہ سمجھے اور آنکھوں کے نہ دکھنے کے لیے بطور ایک علاج کے عمل کرے تو اس کے لیے فی نفسہ یہ عمل مباح ہوگا، مگر لوگ اس کو شرعی چیز اور سنت سمجھ کر کرتے ہیں؛ اس لیے اس کوترک کردینا ہی بہتر ہے؛ تاکہ لوگ التباس میں مبتلانہ ہوں‘‘۔اور اللہ کے رسول ﷺ کی مندرجہ ذیل وعید کے مستحق نہ بنیں۔ 

عن عَائِشَةُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ.
(صحيح مسلم حديث نمبر: 4493) 
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس نے ایسا عمل کیا ، ہمارا دین جس پر ہمارا طریقہ نہیں ہے تو وہ مردود ہے ۔‘‘ 

اہل تجربہ کی ارشادی باتیں کسی چیز کے ثبوت و ممانعت کے لئے کافی نہیں ہیں: دیوبندی و بریلوی کا متفقہ فیصلہ! 
چنانچہ بانی رضاخانیت مولانا احمد رضا خان سے پوچھا گیا: 
علماء میں مشہور ہے کہ اپنے دامن آنچل سے بدن نہ پوچھنا چاہیے اور اسے بعض سلف سے نقل کرتے ہیں۔ اور رد المحتار میں فرمایا: دامن سے ہاتھ منہ پوچھنا بھول پیدا کرتا ہے ۔ 
اقول( احمد رضا خان صاحب فرماتے ہیں) یہ اہل تجربہ کی ارشادی باتیں ہیں ، کوئی شرعی ممانعت نہیں۔ 
(فتاویٰ رضویہ جلد اول صفحہ نمبر: 30)

اس فتوے کی تشریح کرتے ہوئے مناطر دیوبند مولانا طاہر حسین گیاوی صاحب لکھتے ہیں: اعلحضرت کے اس قاعدے سے معلوم ہوا کہ کسی معاملے میں اہل تجربہ کی ارشادی باتیں چاہے سلف صالحین سے ہی کیوں نہ نقل کی گئی ہوں وہ نہ شرعی حجت ہیں اور نہ کسی چیز کے ثبوت و ممانعت کے لیے کافی ہو سکتی ہیں ۔ 
(انگشت بوسی سے بائیبل بوسی تک: صفحہ نمبر: 85) 

اس حقیقت کے باوجود دارالعلوم دیوبند جیسے ادارے کا فتویٰ ملاحظہ کریں۔ 
چنانچہ جب دارالعلوم دیوبند سے اس عمل کے بارے میں پوچھا گیا:
سوال:
کچھ لوگ نماز کے بعد سر پر ہاتھ رکھ سات مرتبہ یا قوی پڑھتے ہیں ، کیا اس کا ذکر کسی حدیث میں ہے؟

جو جواب ملا وہ ملاحظہ کریں:
 قويٌّ اسمائے حسنیٰ میں سے ہے اور اسمائے حسنیٰ کی تاثیر اور ان کے ذریعہ قبولیتِ دعاء احادیث سے ثابت ہے۔ أسماء اللہ الحسنیٰ التي أمرنا بالدعاء بھا (بخاری ومسلم) وفي لفظ ابن مردویة وأبي نعیم: من دعا بھا استجاب اللہ دعاءہ۔ اور بوقت دعا و ذکر سر پر ہاتھ رکھنا بھی حدیث سے ثابت ہے اور نماز کے بعد بھی وروینا في کتاب ابن السني عن أنس -رضي اللہ عنہ- قال: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا قضی صلاتہ مسح جبھتہ بیدہ الیُمنی ثم قال: أشھد أن لا إلٰہ إلا اللہ الرحمن الرحیم اللھم أذھب عني الھمّ والحزن (کتاب الأذکار للنووي:ص63)

 اور جس عضو میں تکلیف ہو اس پر ہاتھ رکھ کر دعا پڑھنا متعدد احادیث میں وارد ہے اور یاقوي کا وظیفہ وہ شخص پڑھتا ہے جس کا ذہن کمزور ہوتا ہے لہٰذا جب اس کی نظیر احادیث سے ثابت ہے تو اس کو بدعت کہنا درست نہیں۔

دارالافتاء 
دارالعلوم دیوبند۔
 جواب نمبر: 1052

یہ تھا دار العلوم دیوبند کا فتوی! 

ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ پوچھے گئے سوال کے مطابق کہ :
"کچھ لوگ نماز کے بعد سر پر ہاتھ رکھ سات مرتبہ یا قوی پڑھتے ہیں ، کیا اس کا ذکر کسی حدیث میں ہے؟"
 
یہ جواب دیتے کہ سر پر ہاتھ رکھ کر سات مرتبہ یا قوی پڑھنا فلاں حدیث میں ہے۔ یہ عمل فلاں صحابی، تابعی یا تبع تابعی کا ہے۔ یا کم از کم فقہ حنفی کی فلاں کتاب میں یہ عمل مذکور ہے۔
اور دراصل سوال کے طریقےسے سائل کا منشاء بھی یہی ظاہر ہورہا ہے۔ کیونکہ سوال میں واضح طور پر اس عمل کے متعلق حدیث کا مطالبہ کیا گیا۔

لیکن سائل کے اس مطالبے کو پورا کرنے کے بجائے اس بے دلیل عمل پوری ڈھٹائی کے ساتھ سند جوازعطا کیا گیا۔ 

آئیے اس فتویٰ کا جائزہ لیں۔

 مفتی دارالعلوم دیوبند فرماتے ہیں:
قويٌّ اسمائے حسنیٰ میں سے ہے اور اسمائے حسنیٰ کی تاثیر اور ان کے ذریعہ قبولیتِ دعاء احادیث سے ثابت ہے۔ أسماء اللہ الحسنیٰ التي أمرنا بالدعاء بھا (بخاری ومسلم) وفي لفظ ابن مردویة وأبي نعیم: من دعا بھا استجاب اللہ دعاءہ۔ 

جواب: یقیناً "قوي"اسماۓ حسنی میں سے ہے اور اسماۓ حسنی کی تاثیر اور ان کے ذریعہ قبولیت دعا قرآن وحدیث سے ثابت ہے۔ اسماء الحسنیٰ کے وسیلے سے دعا کرنا تو دعا کی قبولیت کے اسباب میں سے ہے۔ 

اللہ رب العزت نے فرمایا:

وَلِلَّـهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ فَادْعُوهُ بِهَا ( سورہ اعراف آیت نمبر: 180)
" اور اللہ تعالٰی کے سب نام اچھے ہیں، اسے انہی ناموں سے پکارو"۔
 سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"ان للہ تسعۃ وتسعین اسما مائۃ الا واحد من احصاھا دخل الجنۃ"
(مشکوٰۃ ص نمبر: 199)

ترجمہ : بے شک اللہ کے ننانوے ایک کم سو نام ہیں جو شخص ان کو یاد کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا۔ 

پتہ چلا کہ اسماۓ حسنی کے ذریعے اللہ سے دعا کرنی چاہیے۔
 اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: 

أَلِظُّوا بياذا الجلالِ و الإكرامِ.(صحيح الجامع حدیث نمبر: 1250) 

"ذوالجلال والا کرام" کے نام کا واسطہ دیکر اللہ کے حضور گڑگڑا کر دعا کیا کرو۔

معلوم ہوا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے لوگوں کو اسماۓ حسنی کے ذریعہ دعا کرنے کی تعلیم دی ہے، اور یہ ذرائع قبولیت دعا میں سے ہیں، لیکن ہر فرض نماز کے بعد ماتھا پکڑ کر وہ کون سی دعا مانگی جاتی ہے کہ جس کی قبولیت کا اسے ذریعہ اور وسیلہ بنایا جاتا ہے، جب ماتھا پکڑ کر دعا ہی نہیں مانگی جا رہی ہے تو ماتھا پکڑ کر وسیلہ کس چیز کے لئے اختیار کیا جا رہا ہے؟ 

اللہ کے اچھے ناموں کے ذریعہ دعا کرنے کی تعلیم دی گئی ہے، ماتھا پکڑ کر اس سے دماغی قوت بڑھانے کا معجون بنانے کی تعلیم تو نہیں دی گئی ہے نا۔ 

بایں وجہ اس "دماغی ٹانک" سے آج تک کسی تقلیدی کے دماغی قوت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ، ٹھیک اسی طرح جیسے رضاخانی عوام علماء اسم نبی سن کر انگوٹھا چومتے ہیں اور انگوٹھے کو آنکھوں سے لگاتے ہیں تاکہ آنکھوں کی روشنی میں اضافہ ہو جائے، لیکن آج تک ان اندھے رضاخانیوں کی بینائی واپس آئی اور نہ ان کی بینائی میں اضافہ ہی ہوا۔ کیونکہ بدعت سے کبھی نور نہیں پیدا ہوتا بلکہ رہی سہی نورانیت بھی ختم ہوکر رہ جاتی ہے۔ 

حقیقت یہ ہے کہ ان تقلیدیوں کا عمل ہی کتاب و سنت کے مطابق نہیں۔
اگر عمل کتاب و سنت کے مطابق ہوتا تو دماغی قوت میں اضافہ کرنے کے لئے کسی بدعت کا سہارا نہیں لیا جاتا بلکہ از خود ذہن و دماغ روشن ہوجاتا۔ 
 
آگے مفتی صاحب فرماتے ہیں:
" اور بوقت دعا و ذکر سر پر ہاتھ رکھنا بھی حدیث سے ثابت ہے". 
جواب : یہ سراسر جھوٹ ہے۔ بوقت دعا اور ذکر سر پر ہاتھ رکھنا کہیں بھی ثابت نہیں ہے۔

 مفتی دارالعلوم دیوبند :

"اور نماز کے بعد بھی۔ (سر پر ہاتھ رکھنا ثابت ہے۔) وروینا في کتاب ابن السني عن أنس -رضي اللہ عنہ- قال: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا قضی صلاتہ مسح جبھتہ بیدہ الیُمنی ثم قال: أشھد أن لا إلٰہ إلا اللہ الرحمن الرحیم اللھم أذھب عني الھمّ والحزن" (کتاب الأذکار للنووي:ص63)

جواب: 

 اس روایت میں "ياقوي" نہیں بلکہ أشھد أن لا إلٰہ إلا اللہ الرحمن الرحیم اللھم أذھب عني الھمّ والحزن پڑھنا مذکور ہے۔ 
 اور نہ انگلیوں میں پھونک مار کر آنکھوں پر پھیرنے کا کہیں کوئی ذکر ہے۔ 
نیز اس روایت کی سند سخت ضعیف ہے۔
 
اس کی سند میں سلام الطّویل المدائنی راوی ہے جس کے بارے میں امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 

"تركوه "
 (محدثین نے اسے چھوڑ دیا ہے)
(كتاب الضعفاء) 
 امام حاکم فرماتے ہیں: 

”اس نے حمید الطّویل، ابوعمرو بن العلاء اور ثور بن یزید سے موضوع احادیث بیان کی ہیں۔“ 
(المدخل الي الصحيح) 

حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
وقد أجمعوا على ضعفه ”
(اور اس کے ضعیف ہونے پر اجماع ہے۔ “) 
(مجمع الزوائد)  

 اس سند کا دوسرا راوی زید العمی بھی بالاتفاق ضعیف ہے۔ 
(تقریب التہذیب : 2131) 

اسے جمہور (محدثین) نے ضعیف قرار دیا ہے۔
 (مجمع الزوائد ) 

 مفتی دارالعلوم دیوبند :

"اور جس عضو میں تکلیف ہو اس پر ہاتھ رکھ کر دعا پڑھنا متعدد احادیث میں وارد ہے." 

جواب: یقیناً جس عضو میں تکلیف ہو اس ہر ہاتھ رکھ کر دعا پڑھنا متعدد احادیث میں وارد ہے. 

لیکن اس سے فرض نماز کے فوراً بعد ماتھا پکڑ کر "یا قوی" پڑھنے کا ثبوت فراہم کہاں ہوتا ہے۔ کیونکہ بمطابق فتویٰ "جس عضو میں تکلیف ہو اس پر ہاتھ رکھ کر دعا پڑھنا متعدد احادیث میں وارد ہے." لیکن یہاں تو کسی کے ماتھے میں کوئی تکلیف نہیں ہے۔ اور اگر ہے تو کیا تکلیف بھی ان تقلیدیوں کی اجتماعی ہوتی ہے، یہ تکلیف ہے یاتقلید کا طاعون ؟؟ 
اللهم احفظنا منه يا رب العالمين! 

 مفتی دارالعلوم دیوبند :

"اور "یاقوي" کا وظیفہ وہ شخص پڑھتا ہے جس کا ذہن کمزور ہوتا ہے۔"
جواب: صحیح فرمایا آپ نے! قوی ذہن کا آدمی ایسا من گھڑت عمل کر بھی کیسے سکتا ہے؟ 
 
اور اخیر میں مفتی صاحب فرماتے ہیں:
"لہٰذا جب اس کی نظیر احادیث سے ثابت ہے تو اس کو بدعت کہنا درست نہیں"

جواب: آپ کا فتویٰ ہی بے نظیر ہے جناب! آپ کے اس فتوے کے بعد دنیا میں کسی بھی بدعت کو بدعت کہنا درست نہیں ہوگا۔ کیونکہ ہر بدعت کی نظیر یا کم از کم اس نظیر کی نظیر تو موجود ہی ہے۔

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!

Wednesday, July 12, 2023

مسنون دعاء قنوت اور احناف

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محمد اقبال قاسمي سلفي

موضوع: مسنون دعاء قنوت اور احناف 

مصادر: مختلف مراجع و مصادر

 حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: 

عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏كَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ فِي الْوِتْرِ: اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، ‏‏‏‏‏‏وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، ‏‏‏‏‏‏وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، ‏‏‏‏‏‏وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، ‏‏‏‏‏‏تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ.
 
 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ کلمات سکھائے جنہیں میں وتر میں پڑھا کروں، وہ کلمات یہ ہیں:

اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، ‏‏‏‏‏‏وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، ‏‏‏‏‏‏وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، ‏‏‏‏‏‏وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، ‏‏‏‏‏‏تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ
(اے اللہ! مجھے ہدایت دے کر ان لوگوں کے زمرہ میں شامل فرما جنہیں تو نے ہدایت سے نوازا ہے، مجھے عافیت دے کر ان لوگوں میں شامل فرما جنہیں تو نے عافیت بخشی ہے، میری سرپرستی فرما کر، ان لوگوں میں شامل فرما جن کی تو نے سرپرستی کی ہے، اور جو کچھ تو نے مجھے عطا فرمایا ہے اس میں برکت عطا فرما، اور جس شر کا تو نے فیصلہ فرما دیا ہے اس سے مجھے محفوظ رکھ، یقیناً فیصلہ تو ہی صادر فرماتا ہے، تیرے خلاف فیصلہ صادر نہیں کیا جا سکتا، اور جس کا تو والی ہو وہ کبھی ذلیل و خوار نہیں ہو سکتا، اے ہمارے رب! تو بہت برکت والا اور بہت بلند و بالا ہے۔“)

(سنن ترمذی حدیث نمبر :464)

اس کے بعد امام ترمذی فرماتے ہیں:
هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْحَوْرَاءِ السَّعْدِيِّ وَاسْمُهُ:‏‏‏‏ رَبِيعَةُ بْنُ شَيْبَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا نَعْرِفُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقُنُوتِ فِي الْوِتْرِ شَيْئًا أَحْسَنَ مِنْ هَذَا.

یہ حدیث حسن ہے۔ اسے ہم صرف اسی سند سے یعنی ابوالحوراء سعدی کی روایت سے جانتے ہیں، ان کا نام ربیعہ بن شیبان ہے۔ میرے علم میں وتر کے قنوت کے سلسلے میں اس سے بہتر کوئی اور چیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی نہیں ہے۔ 

یہ حدیث سنن ترمذی حدیث نمبر 464 کے علاوہ سنن ابوداؤد حدیث نمبر1425، سنن نسائی حدیث نمبر 1746، سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 1178، مسند احمد حدیث نمبر 220اور سنن دارمی حدیث نمبر 1632 پر بھی موجود ہے۔


حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ وتر میں درج ذیل دعاۓ قنوت بھی پڑھا کرتے تھے:

 اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نفسك. 

(اے اللہ! میں تیری ناراضگی سے بچ کر تیری رضا و خوشنودی کی پناہ میں آتا ہوں، اے اللہ! میں تیرے عذاب و سزا سے بچ کر تیرے عفو و درگزر کی پناہ چاہتا ہوں، اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں تیرے غضب سے، میں تیری ثناء ( تعریف ) کا احاطہٰ و شمار نہیں کر سکتا تو تو ویسا ہی ہے جیسا کہ تو نے خود اپنے آپ کی ثناء و تعریف کی ہے“۔ ) 
(سنن ترمذی حدیث نمبر:3566) 
یہ حدیث سنن ترمذی حدیث نمبر 3566 کے علاوہ سن ابی داوُد حدیث نمبر 1427، سنن نسائی حدیث نمبر 1748، سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 1179 اور مسند احمد حدیث نمبر 150 ہر بھی موجود ہے۔ اور اس کی سند بھی صحیح ہے۔ 
 


اس مسنون قنوت وتر کے برخلاف احناف کے یہاں جو دعاۓ قنوت وتر رائج ہے وہ نبی کریم ﷺ سے ثابت شدہ نہیں ہیں بلکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسے فجر کی نماز میں بطور قنوت پڑھا کرتے تھے۔ حضرت عبید بن نمیر روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر کے پیچھے صبح کی نماز پڑھی تو انہوں نے رکوع کے بعد قنوت نازلہ میں یہ دعا پڑھی۔ 

مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے: 

حدثنا حفص بن غياث، عن ابن جريج، عن عطاء، عن عبيد بن نمير، قال: سمعت عمر، يقنت في الفجر يقول: «بسم الله الرحمن الرحيم، اللهم إنا نستعينك ونؤمن بك، ونتوكل عليك ونثني عليك الخير كله، ولا نكفر» ثم قرأ: «بسم الله الرحمن الرحيم اللهم إياك نعبد، ولك نصلي ونسجد، وإليك نسعى ونحفد، نرجو رحمتك، ونخشى عذابك، إن عذابك الجد بالكفار ملحق، اللهم عذب كفرة أهل الكتاب الذين يصدون عن سبيلك»

ترجمہ :عبید بن عمیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر کو فجر کی نماز میں دعائے قنوت پڑھتے سنا۔ انہوں نے پہلے یہ کہا (ترجمہ) بسم اللہ الرحمن الرحیم ، اے اللہ ! ہم تجھ سے مدد مانگتے ہیں، تجھ پر ایمان لاتے ہیں، تجھ پر بھروسہ کرتے ہیں، تیری خیر کی تعریف کرتے ہں ہ، ترمی ناشکری نہیں کرتے۔ پھر انہوں نے یہ پڑھا (ترجمہ) بسم اللہ الرحمن الرحیم، اے اللہ ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں، تیرے لئے نماز پڑھتے ہیں، تیرے آگے سجدہ کرتے ہیں۔ تیری طرف چلتے ہیں، تیری رحمت کی امید رکھتے ہیں، تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں اور بیشک تیرا عذاب کافروں تک پہنچنے والا ہے۔ اے اللہ ! ان اہل کتاب کافروں کو عذاب میں مبتلا فرما جو تیرے راستے سے روکتے ہیں۔ 

 اس کی سند میں ابن جریج مدلس ہیں لیکن مصنف عبد الرزاق کی روایت میں تحدیث کی صراحت کے ساتھ یہ روایت موجود ہے۔
 

 سنن الکبری للبیقہی میں یہ روایت کچھ الفاظ کی کمی بیشی کے ساتھ اس طرح موجود ہے۔ (2/211)

اس دعا میں " نتوكل عليك" کے الفاظ کہیں بھی موجود نہیں ہے، یہ سراسر رضاخانیوں اور دیوبندیوں کا ادراج ہے۔ 

عن سعيد بن عبد الرحمن بن أبزي عن أبيه قال صليت خلف عمر بن الخطاب رضي الله عنه صلاة الصبح فسمعته يقول بعد القراءة قبل الركوع اللهم إياك نعبد ولك نصلى ونسجد وإليك نسعى ونحفد نرجو رحمتك ونخشى عذابك إن عذابك بالكافرين ملحق اللهم إنا نستعينك ونستغفرك ونثني عليك الخير ولا نكفرك ونؤمن بك ونخضع لك ونخلع من يكفرك

سعید بن عبد الرحمن بن ابزی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں :
میں نے صبح کی نماز حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی پیچھے پڑھی تو میں نے انہیں قررأت کے بعد رکوع سے پہلے یہ قنوت پڑھتے ہوئے سنا: 
اللهم إياك نعبد ولك نصلى ونسجد الخ 

مصنف عبدالرزاق (3/110) میں بھی یہ روایت موجود ہے :

عن أبي رافع قال: صليت خلف عمر بن الخطاب الصبح فقنت بعد الركوع قال: فسمعته يقول: «اللهم إنا نستعينك، ونستغفرك، ونثني عليك ولا نكفرك، ونؤمن بك ونخلع ونترك من يفجرك، اللهم إياك نعبد، ولك نصلي ونسجد، وإليك نسعى ونحفد، ونرجو رحمتك ونخاف عذابك إن عذابك بالكفارين ملحق، اللهم عذب الكفرة۔ 

ابو رافع روایت کرتے ہیں کہ میں نے صبح کی نماز حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے پڑھی تو میں نے انہیں رکوع کے بعد یہ قنوت پڑھتے ہوئے سنا: اللهم إنا نستعينك، ونستغفرك الخ

مراسیل ابی داود(1/109) میں یہ قنوت مرفوعاً بھی روایت کی گئی ہے:

عن خالد بن أبي عمران ، قال بينا رسول الله صلى الله عليه وسلم يدعو على مضر إذ جاءه جبريل فأومأ إليه أن اسكت فسكت ، فقال يا محمد إن الله لم يبعثك سبابا ولا لعانا وإنما بعثك رحمة ولم يبعثك عذابا ليس لك من الأمر شيء أو يتوب عليهم أو يعذبهم فإنهم ظالمون قال : ثم علمه هذا القنوت اللهم إنا نستعينك ونستغفرك ونؤمن بك ونخضع لك ، ونخلع ونترك من يكفرك ، اللهم إياك نعبد ولك نصلي ونسجد ، وإليك نسعى ونحفد نرجو رحمتك ونخاف عذابك الجد ، إن عذابك بالكفار ملحق. 

خالد بن ابی عمران سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ جبکہ آپ مضر قبیلے کے خلاف بد دعا کر رہے تھے۔ حضرت جبریل آۓ اور آپ کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا، جب آپ خاموش ہوگئے تو کہا: اے محمد ﷺ اللہ نے آپ کو برا کہنے والا اور لعنت کرنے والا بناکر نہیں بھیجا، آپ کو رحمت بناکر بھیجا بھیجا نہ کہ عذاب بناکر۔ آپ کو اس معاملے کا کچھ بھی اختیار نہیں، اللہ چاہے تو ان کی توبہ قبول کرے یا انہیں عذاب دے ، یہ لوگ تو ظالم ہیں ہی، پھر جبریل نے نبی ﷺ کو یہ قنوت سکھایا: اللهم إنا نستعينك ونستغفرك ونؤمن بك الخ

(مراسیل ابوداؤد: 1/109)

لیکن مرفوعاً یہ روایت مرسل ہے، خالد بن ابی عمران تابعی ہیں جوکسی صحابی کے واسطے کے بغیر براہ راست نبی کریم ﷺ سے روایت کر رہے ہیں۔ کسی تابعی کا براہِ راست نبی کریم ﷺ سے روایت مرسل کہلاتی ہے اور جمہور محدثین کے یہاں مرسل روایت ضعیف مانی جاتی ہے۔
صحیح یہی ہے کہ یہ روایت موقوفا صحیح ہے۔

یہ روایت موقوفا گرچہ صحیح ہے لیکن موقوف روایت کے مقابلے میں کسی صحیح مرفوع حدیث رسول ﷺ کو یکسر نظر انداز کردینا، کون سا اتباع رسول ہے۔

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!

Monday, July 3, 2023

خطبہ قربانی

اابسم الله الرحمن الرحيم

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

محمد اقبال قاسمي سلفي

موضوع: خطبہ قربانی 

1) قربانی کا تصور تمام قوموں میں موجود ہے۔ 

 وَلِكُلِّ أُمَّةٍۢ جَعَلْنَا مَنسَكًا لِّيَذْكُرُواْ ٱسْمَ ٱللَّهِ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّنۢ بَهِيمَةِ ٱلْأَنْعَٰمِ ۗ فَإِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَٰحِدٌ فَلَهُۥٓ أَسْلِمُواْ ۗ وَبَشِّرِ ٱلْمُخْبِتِينَ 
(سوره حج:34) 

سب سے پہلی قربانی 

وَاتْلُ عَلَيْہِمْ نَبَاَ ابْنَيْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِہِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِ قَالَ لَاَقْتُلَـنَّكَ قَالَ اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللہُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ (المائدہ:27)

ابراہیم علیہ السلام کی قربانی! 

اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: 

{وَقَالَ إِنِّي ذَاهِبٌ إِلَىٰ رَبِّي سَيَهْدِينِ (99) رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ (100) فَبَشَّرْنَاهُ بِغُلَامٍ حَلِيمٍ (101) فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَىٰ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانظُرْ مَاذَا تَرَىٰ ۚ قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ۖ سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ (102) فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ (103) وَنَادَيْنَاهُ أَن يَا إِبْرَاهِيمُ (104) قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا ۚ إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ (105) إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِينُ (106) وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ (107) وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ (108) سَلَامٌ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ (109) كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ (110) إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِينَ (111)  

(سورہ الصافات: 99۔ 111) 

ہندو دھرم میں بھی قربانی کا تصور موجود ہے! 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

اس امت میں بھی قربانی کی مشروعیت کو برقرار رکھا گیا۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

2) قربانی اللہ سے قرب اور تقرب کا ذریعہ ہے۔ قربانی کا معنی ہی اللہ سے قریب ہونا ہے۔ چاہے اپنوں سے سماج سے ،خاندان‌سے وطن سے کیوں نہ دور ہو جائے ۔
رَّبَّنَآ إِنِّيٓ أَسۡكَنتُ مِن ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيۡرِ ذِي زَرۡعٍ عِندَ بَيۡتِكَ ٱلۡمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ فَٱجۡعَلۡ أَفۡـِٔدَةٗ مِّنَ ٱلنَّاسِ تَهۡوِيٓ إِلَيۡهِمۡ وَٱرۡزُقۡهُم مِّنَ ٱلثَّمَرَٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَشۡكُرُونَ (سورہ ابراہیم : 37)

 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ، وَهُوَ سَاجِدٌ، فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ»

 ذکوان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب اس حالت میں ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہوتا ہے ، لہذا اس میں کثرت سے دعا

 7405) 

، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ قَالَ :، وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ ، وَمَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ ، فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ ، وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ ، وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا ، وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا ، وَإِنْ سَأَلَنِي لَأُعْطِيَنَّهُ ، وَلَئِنْ اسْتَعَاذَنِي لَأُعِيذَنَّهُ ، وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ تَرَدُّدِي عَنْ نَفْسِ الْمُؤْمِنِ يَكْرَهُ الْمَوْتَ ، وَأَنَا أَكْرَهُ مَسَاءَتَهُ۔

 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی اسے میری طرف سے اعلان جنگ ہے اور میرا بندہ جن جن عبادتوں سے میرا قرب حاصل کرتا ہے اور کوئی عبادت مجھ کو اس سے زیادہ پسند نہیں ہے جو میں نے اس پر فرض کی ہے ( یعنی فرائض مجھ کو بہت پسند ہیں جیسے نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ ) اور میرا بندہ فرض ادا کرنے کے بعد نفل عبادتیں کر کے مجھ سے اتنا نزدیک ہو جاتا ہے کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں ۔ پھر جب میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے ، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے ، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے ، اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اور اگر وہ مجھ سے مانگتا ہے تو میں اسے دیتا ہوں اگر وہ کسی دشمن یا شیطان سے میری پناہ کا طالب ہوتا ہے تو میں اسے محفوظ رکھتا ہوں اور میں جو کام کرنا چاہتا ہوں اس میں مجھے اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا کہ مجھے اپنے مومن بندے کی جان نکالنے میں ہوتا ہے ۔ وہ تو موت کو بوجہ تکلیف جسمانی کے پسند نہیں کرتا اور مجھ کو بھی اسے تکلیف دینا برا لگتا ہے ۔
(صحیح البخاری:6502) 

3) قربانی یہ پیغام دیتا ہے کہ ہم اپنی عداوتوں، نفرتوں، اور اپنوں سے دوریوں کی قربانی دیں۔  

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ، وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا، إِلَّا رَجُلًا كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ، فَيُقَالُ: أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا، أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا، أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا۔ 
 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ہر اس بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناتا ، اس بندے کے سوا جس کی اپنے بھائی کے ساتھ عداوت ہو ، چنانچہ کہا جاتا ہے : ان دونوں کو مہلت دو حتی کہ یہ صلح کر لیں ، ان دونوں کو مہلت دو حتی کہ یہ صلح کر لیں ۔ ان دونوں کو مہلت دو حتی کہ یہ صلح کر لیں ۔‘‘ ( اور صلح کے بعد ان کی بھی بخشش کر دی جائے ۔ ) 
(صحیح مسلم: 6544) 

4) قربانی ہم سے اخلاص کا مطالبہ کرتی ہے. 

لن ينال الله لحومها الخ (سوره حج:37)

عن ابی ہریرەؓ
إِنَّ اللهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى أَجْسَادِكُمْ، وَلَا إِلَى صُوَرِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ» وَأَشَارَ بِأَصَابِعِهِ إِلَى صَدْرِهِ۔ 
اللہ تعالیٰ تمہارے جسموں کو دیکھتا ہے نہ تمہاری صورتوں کو لیکن وہ تمہارے دلوں کی طرف دیکھتا ہے ۔‘‘ اور آپ نے اپنی انگلیوں سے اپنے سینے کی طرف اشارہ کیا ۔ 
(صحیح مسلم: 6542)


سوشل میڈیا پر فوٹو شئیر کرنا یہ ریا ہے جو قربانی کے عمل کو ضائع کردیتا ہے۔ 

5) عیدین کی نمازوں میں عورتوں کی حاضری کو یقینی بنایا جائے۔ 

 عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُخْرِجَهُنَّ فِي الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى الْعَوَاتِقَ وَالْحُيَّضَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ فَأَمَّا الْحُيَّضُ فَيَعْتَزِلْنَ الصَّلَاةَ وَيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِحْدَانَا لَا يَكُونُ لَهَا جِلْبَابٌ قَالَ لِتُلْبِسْهَا أُخْتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا۔ 
عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ میں عورتوں کو باہر نکالیں ، دوشیزہ ، حائضہ اور پردہ نشیں عورتوں کو ، لیکن حائضہ نماز سے دور رہیں ۔ وہ خیر و برکت اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں ۔ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! ہم میں سے کسی عورت کے پاس چادر نہیں ہوتی ۔ آپ نے فرمایا :’’ اس کی ( کوئی مسلمان ) بہن اس کو اپنی چادر کا ایک حصہ پہنا دے ۔‘‘

(صحیح مسلم: 2056)  

6) عیدین کے دن مسلمان بالخصوص صدقے کا اہتمام کریں۔ 
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْأَضْحَى وَيَوْمَ الْفِطْرِ فَيَبْدَأُ بِالصَّلَاةِ فَإِذَا صَلَّى صَلَاتَهُ وَسَلَّمَ قَامَ فَأَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ وَهُمْ جُلُوسٌ فِي مُصَلَّاهُمْ فَإِنْ كَانَ لَهُ حَاجَةٌ بِبَعْثٍ ذَكَرَهُ لِلنَّاسِ أَوْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ بِغَيْرِ ذَلِكَ أَمَرَهُمْ بِهَا وَكَانَ يَقُولُ تَصَدَّقُوا تَصَدَّقُوا تَصَدَّقُوا وَكَانَ أَكْثَرَ مَنْ يَتَصَدَّقُ النِّسَاءُ ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى كَانَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ فَخَرَجْتُ مُخَاصِرًا مَرْوَانَ حَتَّى أَتَيْنَا الْمُصَلَّى فَإِذَا كَثِيرُ بْنُ الصَّلْتِ قَدْ بَنَى مِنْبَرًا مِنْ طِينٍ وَلَبِنٍ فَإِذَا مَرْوَانُ يُنَازِعُنِي يَدَهُ كَأَنَّهُ يَجُرُّنِي نَحْوَ الْمِنْبَرِ وَأَنَا أَجُرُّهُ نَحْوَ الصَّلَاةِ فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ مِنْهُ قُلْتُ أَيْنَ الِابْتِدَاءُ بِالصَّلَاةِ فَقَالَ لَا يَا أَبَا سَعِيدٍ قَدْ تُرِكَ مَا تَعْلَمُ قُلْتُ كَلَّا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَأْتُونَ بِخَيْرٍ مِمَّا أَعْلَمُ ثَلَاثَ مِرَارٍ ثُمَّ انْصَرَفَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عیدالاضحیٰ اور عیدالفطر کے دن تشریف لاتے تو نماز سے آغاز فرماتے اور جب اپنی نماز پڑھ لیتے اور سلام پھیرتے تو کھڑے ہو جاتے ، لوگوں کی طرف رخ فرماتے جبکہ لوگ اپنی نماز پڑھنے کی جگہ میں بیٹھے ہوتے ۔ اگر آپ کو کوئی لشکر بھیجنے کی ضرورت ہوتی تو اس کا لوگوں کے سامنے ذکر فرماتے اور اگر آپ کو اس کے سوا کوئی اور ضرورت ہوتی تو انھیں اس کا حکم دیتے اور فرمایا کرتے :’’ صدقہ کرو ، صدقہ کرو ، صدقہ کرو ۔‘‘ زیادہ صدقہ عورتیں دیا کرتی تھیں ، پھر آپ واپس ہو جاتے اور یہی معمول چلتا رہا حتیٰ کہ مروان بن حکم کا دور آ گیا ، میں اس کے ساتھ ، ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر نکلا حتیٰ کہ ہم عیدگاہ میں پہنچ گئے تو دیکھا کہ کثیر بن صلت نے وہاں مٹی ( کے گارے ) اور اینٹوں سے منبر بنایا ہوا تھا ۔ تو اچانک مروان کا ہاتھ مجھ سے کھینچا تانی کرنے لگا ، جیسے وہ مجھے منبر کی طرف کھینچ رہا ہو اور میں اسے نماز کی طرف کھینچ رہا ہوں ۔ جب میں نے اس کی طرف سے یہ بات دیکھی تو میں نے کہا : نماز سے آغاز ( کا مسنون طریقہ ) کہاں ہے ؟ اس نے کہا : اے ابوسعید ! نہیں ، جو آپ جانتے ہیں اسے ترک کر دیا گیا ہے ۔ میں نے کہا : ہرگز نہیں ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! جو میں جانتا ہوں تم لوگ اس سے بہتر طریقہ نہیں لا سکتے ۔۔۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے تین دفعہ کہا ، پھر چل دیے ۔ 
(صحیح مسلم: 2053)

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفِطْرِ فَصَلَّى فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ ، ثُمَّ خَطَبَ فَلَمَّا فَرَغَ نَزَلَ فَأَتَى النِّسَاءَ فَذَكَّرَهُنَّ وَهُوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى يَدِ بِلَالٍ ، وَبِلَالٌ بَاسِطٌ ثَوْبَهُ يُلْقِي فِيهِ النِّسَاءُ الصَّدَقَةَ ، قُلْتُ لِعَطَاءٍ : زَكَاةَ يَوْمِ الْفِطْرِ ، قَالَ : لَا ، وَلَكِنْ صَدَقَةً يَتَصَدَّقْنَ حِينَئِذٍ تُلْقِي فَتَخَهَا وَيُلْقِينَ ، قُلْتُ : أَتُرَى حَقًّا عَلَى الْإِمَامِ ذَلِكَ وَيُذَكِّرُهُنَّ ، قَالَ : إِنَّهُ لَحَقٌّ عَلَيْهِمْ وَمَا لَهُمْ لَا يَفْعَلُونَهُ۔ 

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
 نبی کریم ﷺ نے عیدالفطر کی نماز پڑھی ۔ پہلے آپ نے نماز پڑھی اس کے بعد خطبہ دیا ۔ جب آپ خطبہ سے فارغ ہو گئے تو اترے اور عورتوں کی طرف آئے ۔ پھر انہیں نصیحت فرمائی ۔ آپ ﷺ اس وقت بلال رضی اللہ عنہ کے ہاتھ کا سہارا لیے ہوئے تھے ۔ بلال رضی اللہ عنہ نے اپنا کپڑا پھیلا رکھا تھا جس میں عورتیں صدقہ ڈال رہی تھیں ۔ میں نے عطاء سے پوچھا کیا یہ صدقہ فطر دے رہی تھیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں بلکہ وہ صدقہ کے طور پر دے رہی تھیں ۔ اس وقت عورتیں اپنے چھلے ( وغیرہ ) برابر ڈال رہی تھیں ۔ پھر میں نے عطاء سے پوچھا کہ کیا آپ اب بھی امام پر اس کا حق سمجھتے ہیں کہ وہ عورتوں کو نصیحت کرے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ان پر یہ حق ہے اور کیا وجہ ہے کہ وہ ایسا نہیں کرتے۔ 
(صحیح بخاری: 978) 

7) ایام تشریق تک تکبیرات کا اہتمام کریں۔
 
ایام تشریق یعنی گیارہ ، بارہ اور تیرہ ذی الحجہ کو بھی تکبیرات کہنا مشروع ہے :

”عن نبيشة الهذلي، قال: قال رسول الله ﷺ: «أيام التشريق أيام أكل وشرب وذكر لله» “
”نبیشہ ھذلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:تشریق کے دن کھانے ، پینے اوراللہ کے ذکر کے دن ہیں“ 
(صحيح مسلم ،رقم 1141) 

اس حدیث میں وارد ”ذکر“ کے اندر ”تکبیر“ بھی شامل ہے ، نیز متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ایام تشریق میں تکبیرات کہنے کا ثبوت ملتا ہے ، چنانچہ:

 امام ابن أبي شيبة رحمه الله فرماتے ہیں :
”حدثنا يحيى بن سعيد القطان، عن أبي بكار، عن عكرمة، عن ابن عباس: أنه كان يكبر من صلاة الفجر يوم عرفة إلى آخر أيام التشريق، لا يكبر في المغرب“

ترجمہ : ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ عرفہ کے دن نماز فجر کی صبح سے تشریق کے آخری دن تک تکبیر کہتے تھے ، اور مغرب میں نہیں کہتے تھے“ 
(مصنف ابن أبي شيبة: 4/ 212 ، رقم 5764 إسناده صحيح) 

 امام ابن أبي شيبة رحمه الله (المتوفى235)نے کہا:
”حدثنا حسين بن علي، عن زائدة، عن عاصم، عن شقيق، عن علي أنه كان يكبر بعد صلاة الفجر يوم عرفة إلى صلاة العصر من آخر أيام التشريق، ويكبر بعد العصر“

”علی رضی للہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ عرفہ کے دن نماز فجرکے بعد سے لیکر تشریق کے آخری دن عصر تک تکبیر کہتے تھے اورعصر کے بعد بھی تکبیر کہتے تھے“ 
(مصنف ابن أبي شيبة : 4/ 209 ، إسناده حسن) 

اللہ کے نبی ﷺ سے صحیح سند کے ساتھ ان دنوں میں تکبیر کا کوئی بھی صیغہ منقول نہیں ہے ، اس لئے دیگر مقامات پر ثابت شدہ کسی بھی صیغہ تکبیر کے ساتھ ان دنوں میں تکبیر کہی جاسکتی ہے ، مثلا:

سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے الفاظ:
  اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا  
(مصنف عبد الرزاق، رقم 20581 ، إسناده صحيح) 

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے الفاظ:
 الله أكبر كبيرا، الله أكبر كبيرا، الله أكبر وأجل، الله أكبر ولله الحمد! 
 (مصنف ابن أبي شيبه ، رقم : 5773، إسناده صحيح) 


8) قربانی کے جانور کو خود ہی ذبح کرنی چاہیے ! 

ابراہیم علیہ السلام نے اپنے فرزند ارجمند پر خود ہی چھری چلائی تھی جبکہ وہ اپنے لخت جگر کی قربانی دے رہے تھے۔۔۔۔۔۔ 

نبی کریم ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع سے اپنے ہاتھوں سے تریسٹھ اونٹ قربان کئے.
ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمَنْحَرِ، فَنَحَرَ ثَلَاثًا وَسِتِّينَ بِيَدِهِ، ثُمَّ أَعْطَى عَلِيًّا، فَنَحَرَ مَا غَبَرَ،
(صحیح مسلم: 2950) 

9)قربانی کا مقصد تقویٰ کا حصول ہے ۔

10) قربانی کا گوشت خود بھی کھائیں ،دوسروں کو بھی کھلائیں۔

11)عید الاضحٰی کی نماز کی ادائیگی تک کچھ نہ کھانے پینے کو روزہ سمجھنا ایک غلط فہمی ہے جو عوام الناس میں ہمارے یہاں پانی جاتی ہے۔

12) اسی طرح لوگ آج کے دن کےدن گلے ملنے کو ضروری خیال کرتے ہیں جس کی کوئی اصل نہیں ہے ۔۔مزید یہ کہ لوگ معانقہ کرتے ہوئے تین بار گلے ملتے ہیں ۔جو سررسر غلط ہے ۔معانقہ ایک بار گلے ملتے کو کو کہتے ہیں ۔جیسے مصافحہ ۔


Recent posts

وقف ترمیمی بل

عامۃ المسلمین میں ایسے کئی لوگ ہوسکتے ہیں جو نئے وقف قانون کی باریکیوں سے واقف نہ ہوں اسی لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس پر تفصیلی گفتگو ہو۔ م...