Wednesday, June 24, 2026

تعزیہ، عاشورہ کا میلہ اور فتوی احمد رضا خان




 احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں : تعزیہ آتا دیکھ کر اعراض و روگردانی کریں۔ اس کی طرف دیکھنا ہی نہیں چاہیے ۔ (عرفان شریعت حصہ اول صفحہ 15)
احمد رضا خان تحریر فرماتے ہیں : غرض عشرۂ محرم الحرام کہ اگلی شریعتوں سے اس شریعت پاک تک نہایت بابرکت محل عبادت ٹھہرا تھا، ان بے ہودہ رسوم نے جاہلانہ اور فاسقانہ میلوں کا زمانہ کر دیا ۔ یہ کچھ اور اس کے ساتھ خیال وہ کچھ کہ گویا خودساختہ تصویریں بعینہٖ حضرات شہداء رضوان اللہ علیہم اجمعین کے جنازے ہیں ۔
کچھ اتارا باقی توڑا اور دفن کر دیے ۔ یہ ہر سال اضاعت مال کے جرم دو وبال جداگانہ ہیں ۔ اب تعزیہ داری اس طریقۂ نامرضیہ کا نام ہے ۔ قطعاً بدعت و ناجائز حرام ہے ۔ تعزیہ پر چڑھایا ہوا کھانا نہ کھانا چاہیے ۔ اگر نیاز دے کر چڑھائیں ، یا چڑھا کر نیاز دیں تو بھی اس کے کھانے سے احتراز کریں ۔
 (رسالہ تعزیہ داری)
تعزیہ بنانا کیسا ؟
احمد رضا خان  فرماتے ہیں کہ تعزیہ بنانا بدعت و ناجائز ہے (فتاویٰ رضویہ جدید جلد 24 صفحہ 501 مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
تعزیہ داری میں تماشا دیکھنا کیسا 
 احمد رضا خان  فرماتے ہیں کہ چونکہ تعزیہ بنانا ناجائز ہے، لہذا ناجائز بات کا تماشا دیکھنا بھی ناجائز ہے (ملفوظات صفحہ 286)
تعزیہ پر منت ماننا کیسا ؟
 احمد رضا خان  فرماتے ہیں کہ تعزیہ پر منت ماننا باطل اور ناجائز ہے (فتاویٰ رضویہ جدید جلد 24 صفحہ 501 مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور،چشتی)
تعزیہ پر چڑھاوا چڑھانا اور اس کا کھانا کیسا ؟
 احمد رضا خان فرماتے ہیں کہ تعزیہ پر چڑھاوا چڑھانا ناجائز ہے اور پھر اس چڑھاوے کو کھانا بھی ناجائز ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 21 صفحہ 246 مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
محرم الحرام میں ناجائز رسومات
 احمد رضا خان  فرماتے ہیں کہ محرم الحرام کے ابتدائی 10 دنوں میں روٹی نہ پکانا، گھر میں جھاڑو نہ دینا، پرانے کپڑے نہ اتارنا (یعنی صاف ستھرے کپڑے نہ پہننا) سوائے امام حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے کسی اور کی فاتحہ نہ دینا اور مہندی نکالنا ، یہ تمام باتیں جہالت پر مبنی ہیں ۔ (فتاویٰ رضویہ جدید صفحہ 488 جلد 24 رضا فاؤنڈیشن لاہور،چشتی)
محرم الحرام میں تین رنگ کے لباس نہ پہنے جائیں
 احمد رضا خان  فرماتے ہیں کہ محرم الحرام میں (خصوصاً یکم تا دس محرم الحرام) میں تین رنگ کے لباس نہ پہنے جائیں، سبز رنگ کا لباس نہ پہنا جائے کہ یہ تعزیہ داروں کا طریقہ ہے ۔ لال رنگ کا لباس نہ پہنا جائے کہ یہ اہلبیت رضی اللہ عنہم سے عداوت رکھنے والوں کا طریقہ ہے اور کالے کپڑے نہ پہنے جائیں کہ یہ رافضیوں کا طریقہ ہے ، لہٰذا مسلمانوںکو اس سے بچنا چاہیے ۔ (احکامِ شریعت)
عاشورہ کا میلہ
 احمد رضا خان  فرماتے ہیں : عاشورہ کا میلہ لغو و لہو و ممنوع ہے ۔ یونہی تعزیوں کا دفن جس طور پر ہوتا ہے ، نیت باطلہ پر مبنی اور تعظیم بدعت ہے اور تعزیہ پر جہل و حمق و بے معنیٰ ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ جدید جلد 24 صفحہ 501 مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور،چشتی)

Sunday, June 21, 2026

موضوع: مصنوعی کربلا ، امام باڑہ اور فتویٰ احمد رضاخان

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 اقبال قاسمي سلفي

موضوع: مصنوعی کربلا ،جعلی امام باڑے اور فتویٰ احمد رضاخان! 

مصادر : مختلف مراجع و مصادر ! 

سب سے پہلے  مصنوعی کربلا کے متعلق مولانا احمد رضا خان  کا فتوی ملاحظہ کریں ۔
 احمد رضا خان  مصنوعی کربلا کے متعلق فتوی دیتے ہوئے لکھتے ہیں: 

مصنوعی کربلا جانا حرام و ناجائز و گناہ ہے۔ 

(فتاوٰی رضویہ، 24، ص 496، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)۔

قرآن و حدیث کے واضح شاہراہ کو چھوڑ کر صوفی سنتوں کے من گھڑت قصے کہانیوں پر عمل کرنے والے  رضاخانیوں نے شرک و بدعات کے ذریعے اسلام کو مضحکہ خیز بنادیا ہے۔

ان ہی میں سے فرضی اور مصنوعی کربلا بھی ہیں، جو آج ہند وپاک میں بکثرت پاۓ جاتے ہیں۔
 اس فرضی اور مصنوعی امام بارہ کو روضہ حسین کا مقام و مرتبہ دیا جاتاہے ۔
جبکہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی اصل قبر کے متعلق کسی کو علم نہیں ہے، اور کسی بھی مستند ماخذ میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے سر اور جسم کے مدفن کے بارے میں مذکور نہیں ہے ۔ اسی لیے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے مدفن کے متعلق دعوے کے ساتھ یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ وہ کہاں ہے۔ 

علامہ بن باز رحمہ اللہ سے جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی قبر کے متعلق سوال کیا گیا کہ وہ کہاں ہے تو انہوں نے جواب دیا: 

 بالواقع قد اختلف الناس في ذلك، فقيل: إنه دفن في الشام، وقيل: في العراق، والله أعلم بالواقع.
أما رأسه فاختلف فيه؛ فقيل: في الشام، وقيل في العراق، وقيل: في مصر، والصواب أن الذي في مصر ليس قبرًا له، بل هو غلط وليس به رأس الحسين، وقد ألف في ذلك بعض أهل العلم، وبينوا أنه لا أصل لوجود رأسه في مصر ولا وجه لذلك، وإنما الأغلب أنه في الشام؛ لأنه نقل إلى يزيد بن معاوية وهو في الشام، فلا وجه للقول بأنه نقل إلى مصر، فهو إما حفظ في الشام في مخازن الشام، وإما أعيد إلى جسده في العراق، وبكل حال فليس للناس حاجة في أن يعرفوا أين دفن؟ وأين كان؟
وإنما المشروع الدعاء له بالمغفرة والرحمة، غفر الله له ورضي عنه، فقد قتل مظلومًا فيدعى له بالمغفرة والرحمة، ويرجى له خير كثير، وهو وأخوه الحسن سيدًا شباب أهل الجنة، كما قال ذلك النبی صلى الله عليه وسلم. 

(مجموع فتاوى ومقالات الشيخ ابن باز (6/ 461).

(در اصل اس بارے میں اختلاف ہے۔ کہاجاتا ہے کہ وہ شام دفن کیے گئے اور یہ بھی کہا گیا کہ وہ عراق میں دفن کیے گئے ہیں والله اعلم بالواقع. 

سر  حسین کے متعلق بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔ شام عراق اور بعض نے مصر کو بھی سر حسین کا مدفن قرار دیا ہے۔ اور درست یہ ہے کہ مصر میں حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر نہی ہے جس کے متعلق باور کرایا جاتا ہے۔ بعض اہل علم نے اس پر کتابیں بھی لکھی ہیں۔ اور اس بات کی وضاحت کی ہے کہ مصر حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سر کے پاۓ جانے کی کوئی اصل نہیں ہے۔ غالب گمان یہ ہے کہ وہ شام میں ہے۔ اس لیے کہ اسے شام میں یزید بن معاویہ کی طرف منتقل کر دیا گیا تھا۔ پس یوں تو وہ شام کے مخازن میں ہی محفوظ کردیا گیا یا اسے عراق میں جسد حسین کی طرف منتقل کر دیا گیا۔ بہر صورت لوگوں کو یہ جاننے کی چنداں ضرورت نہیں ہے کہ انہیں کہاں دفن کیا گیا؟ اب ان کے لیے دعاء مغفرت اور رحمت کی ضرورت ہے کہ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور ان پر رحم فرماۓ! کیونکہ انہیں ظالمانہ طور پر قتل کیا گیا تو ان کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا کی جاۓ اور ان کے لیے ڈھیر ساری بھلائیوں کی امید رکھی جائے۔ 
یقیناً حضرت حسین اور انکے بھائی حسن جنتی جوانوں کے سردار ہیں جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے). 
(مجموع فتاوى ومقالات الشيخ ابن باز (6/ 461)

اور نہ ہی حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد محترم حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مدفن کا کسی کو یقینی علم ہے۔ 

اسی لیے مدفن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق سنیوں اور شیعوں کی مختلف آراء ہیں۔ 
اہلسنت کے نزدیک قصرالامارہ، کوفہ ؛ اہل تشیع کے یہاں روضہ حیدریہ،نجف، عراق جبکہ ممکنہ طور پر مسجد ازرق ، افغانستان کو مدفن علی تصور کیا جاتا ہے۔ 

دارالعلوم دیوبند سے جب اس بابت دریافت کیا گیا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مزار کہاں ہے۔ حوالے کے ساتھ جواب درکار ہے۔ 

دارالعلوم دیوبند نے جواب دیا : 

"تحقیق نہیں۔"

دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتوی نمبر : 41513

اس سے معلوم ہوا کہ نواسہ رسول سیدنا حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی قبر کے متعلق کسی کو بھی یقینی علم نہیں ہے اور نہ ہی ان کے والد محترم حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی قبر کے متعلق یقین کے ساتھ یہ کہا جاسکتا کہ ان کا مدفن کہاں ہے۔

مصنوعی کربلا اور جعلی  امام باڑوں کے متعلق خود بریلوی علماء کے فتوے ملاحظہ کریں:

1) دور حاضر میں امام باڑا بنانا جائز نہیں ہے جیسا کہ فتاوی مرکز تربیت افتاء میں بے امام باڑا بنانا اور اس کو ماننا اسی طرح مصنوعی کربلا اور فرضی قبر بنا کر اسے سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کا روضہ سمجھنا پھر اس کے ساتھ امام پاک کے روضہ مبارک کی طرح برتاؤ کرنا حرام و گناہ ہے صاحب عقل یہ بخوبی جانتا ہے کہ فرضی روضه برگزبرگز حضرت امام پاک کا روضہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ کربلا ہے نہ وہ امام پاک کی بارگاه یا آرام گاہ ہے پھر اس کے ساتھ اصل روضہ کی طرح برتاؤ کرنا کیوں کر جائز ہو سکتا ہے اسلام فرضی مصنوعی چیز کو حقیقی اور سچی ماننے کی تعلیم نہیں دیتا عوام کا یہ طریقہ بالکل غلط ہے اور اسے امام پاک کا روضہ سمجھ کر وہاں فاتحہ پڑھنے والے اور اسی طرح دوسرے امور انجام دینے والے گناہ گار ہیں 
(فتاوی مرکز تربیت افتاء ج دوم )

2) فتاوی رضویہ میں ہے 
چوک پر تعزیہ کے سامنے کچھ رکھ کر نیاز فاتحہ دلانا تعزیہ کو گاوں و گلی کوچوں میں میں گھمانا ماتم کرنا تاشے اور طرح طرح کے ڈھول بجانا کھیل تماشہ کرنا مصنوعی کربلا کو جانا جلوس میں مرد عورت کا باہم خلط ملط ہونا عورتوں کا مرثیہ گانا کسی مرد پر یا عورت پر بابا کی سواری آنا یہ سب باتیں خرافات وبدعات اور سخت ناجائز وحرام ہیں شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں ایسا کرنے والے سخت گنہگار و مستحق عذاب نار ہیں
(فتاویٰ رضویہ ج نہم نصف آخر ص44)

3) فرضی کربلا جو آج کل محرمات و خرافات کی آماجگاہ ہے‘ یہ حرام در حرام‘ بدکام بدانجام ہے۔ 
(فتاویٰ تاج الشریعہ جلد 4)

4) چامعہ اشرفیہ سے اس بابت جب سوال پوچھا گیا کہ کیا امام باڑے پر تعزیہ کے ساتھ شیرینی رکھ کر یا بغیر تعزیہ کے فاتحہ پڑھنے والے امام کے پیچھے نماز ہوگی یا نہیں ؟
تو جامعہ اشرفیہ نے جواب دیا: 

الجواب:---- تعزیہ کے چبوترے پر شیرینی رکھ کر نیاز دینا ، دلانا رافضیوں کا طریقہ ہے اس لیے اس میں تشبہ بالروافض ہے اور ناجائز وگناہ، نیاز گھر دلائیں ۔ تعزیہ کے چبوترے پر ہر گز ہرگز نہ دلائيں ایسا امام جو تعزیہ کے چبوترے پر شیرینی رکھ کر نیاز دیتا ہے ، امامت کے لائق نہیں۔ ہاں اگر توبہ کرے تو اسے امام بنانے میں کوئی حرج نہیں اور یہی حکم امام باڑے کا بھی ہے۔ واللہ تعالی اعلم---
(فتاوی جامعہ اشرفیہ، جلد:۵(فتاوی شارح بخاری)

5) احمد رضا خان لکھتے ہیں : 
یوہیں تعزیہ، چڑھاوا، امام باڑے کا مکان، اس کی نوبت، روشنی، آرائش سب بشرح صدر ہیں، غم والم کا نام اور لہو و لعب کی یہ دھوم دھام اور اس پر امید خوشنودی حضرت امام (العیاذ باللہ) یہ سب بیہودہ، بدعت و ممنوع ہیں،
(فتاویٰ رضویہ کتاب الحظر ،ج ٢٤ ،ص ٤٩٦) 

ان فتووں سے بخوبی معلوم ہوا کہ مسلک بریلویت میں بھی امام باڑا بنانا اور اس کو ماننا اسی طرح مصنوعی کربلا اور فرضی قبر بنا کر اسے سیدنا  حسین رضی اللہ عنہ کا روضہ سمجھنا پھر اس کے ساتھ  روضہ حسین کی طرح برتاؤ کرنا حرام و گناہ ہے اور ایسا امام جو تعزیہ کے چبوترے پر شیرینی رکھ کر نیاز دیتا ہے ، امامت کے لائق نہیں۔ 

رضاخانی علماء کو چاہیے کہ کم از کم  اپنے گھر کے فتووں کا چراغ عوام الناس میں روشن کریں۔ 
حقائق سے آگاہ کریں۔ بدعات و خرافات سے بچاکر کتاب و سنت کی شاہراہ دکائیں۔
قابل غور یہ ہے کہ آج جبکہ حضرت علی اور ابن علی رضوی اللہ تعالی عنہما کی قبریں محفوظ نہیں ہے تب لوگوں نے غلو کرتے ہوئے مصنوعی قبریں بنا کر شرک و بدعت کی حدیں پارکر  رکھی ہیں جس قبر پرستی سے نبی کریم ﷺ نے سختی کے ساتھ منع فرمایا تھا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ ان لوگوں ( یہود و نصاری ) پر لعنت فرمائے جنھوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو عبادت گاہ بنایا ۔‘‘ 
(سنن نسائی : 2048) 


 عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي لَمْ يَقُمْ مِنْهُ : لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : لَوْلَا ذَلِكَ لَأُبْرِزَ قَبْرُهُ خَشِيَ أَنْ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا .

 نبی کریم ﷺ نے اپنے مرض الموت میں فرمایا ، اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کو اپنی رحمت سے دور کر دیا کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اگر یہ بات نہ ہوتی تو آپ کی قبر بھی کھلی رکھی جاتی لیکن آپ کو یہ خطرہ تھا کہ کہیں آپ کی قبر کو بھی سجدہ نہ کیا جانے لگے ۔
(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 4441) 

 حضرت جندب رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے نبی ﷺ کو آپ کی وفات سے پانچ دن پہلے یہ کہتے ہوئے سنا :’’ میں اللہ تعالیٰ کے حضور اس چیز سے براءت کا اظہار کرتا ہوں کہ تم میں سے کوئی میرا خلیل ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا خلیل بنا لیا ہے ، جس طرح اس نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا تھا ، اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابوبکر کو خلیل بناتا ، خبردار ! تم سے پہلے لوگ اپنے انبیاء اور نیک لوگوں کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنا لیا کرتے تھے ، خبردار ! تم قبروں کو سجدہ گاہیں نہ بنانا ، میں تم کو اس سے روکتا ہوں ۔‘‘ 

 عَنْ أَبِي الْهَيَّاجِ الْأَسَدِيِّ قَالَ قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَلَا أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا تَدَعَ تِمْثَالًا إِلَّا طَمَسْتَهُ وَلَا قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ۔
ابوالہیاج اسدی سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا : کیا میں تمھیں اس ( مہم ) پر روانہ نہ کروں جس پر رسول اللہ ﷺ نے مجھے روانہ کیا تھا ؟ ( وہ یہ ہے ) کہ تم کسی تصویر یا مجسمے کو نہ چھوڑنا مگر اسے مٹا دینا اور کسی بلند قبر کو نہ چھوڑنا مگر اسے ( زمین کے ) برابر کر دینا ۔ 

صحیح مسلم حدیث نمبر : 2243

 ایک بار پھر  مصنوعی کربلا کے متعلق احمد رضا خان صاحب کا  فتوی ۔لاحظہ فرمالیں۔

 احمد رضا خان  اس مصنوعی کربلا کے متعلق فتوی دیتے ہوئے لکھتے ہیں: 

مصنوعی کربلا جانا حرام و ناجائز و گناہ ہے۔ 

(فتاوٰی رضویہ، 24، ص 496، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)۔

اخیر میں، میں رضاخانی علماء سے گزارش کروں گا کہ چونکہ ان خرافات و بدعات میں ملوث آپ ہی کی عوام کی اکثریت ہے اور وہ ان خرافات کو سنیت و رضاخانیت سمجھتی ہے جبکہ مولانا احمد رضاخان کی تعلیمات اس کے برعکس ہے۔ اس عوامی غلط فہمی کو دور کر کے  عوام الناس کو اسلام کی صحیح تعلیمات سے روشناس کرائیں۔ 
جزاکم اللہ خیر الجزاء و احسن الجزاء عنا !

Saturday, June 20, 2026

امامت کے متعلق فتاویوہابیوں سے متعلق فتاویوہابی سے تعلقات اور رشتے داری کا حکم4482


امامت کے متعلق فتاویوہابیوں سے متعلق فتاوی
وہابی سے تعلقات اور رشتے داری کا حکم
4482



عنوان:وہابی سے تعلقات کا حکم

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید ایک حافظ قرآن ہے اور اس کا سگا بہنوئی وہابی مولوی ہے۔زید کے گھر اس وہابی مولوی کا آنا جانا ہے اور زید کے گھر والے اس وہابی مولوی سے تعلقات بھی رکھتے ہیں۔اور زید جس گھر میں رہتا ہے اسی گھر میں وہ وہابی مولوی بھی آتا ہے اور زید ہی اپنے گھر کے اخراجات بھی پورے کرتا ہے،ضرورت پڑنے پر ایک مسجد میں امامت بھی کرائی جاتی ہے۔زید ایک سنی مسجد کا ٹرسٹی بھی ہے اور ایک سنی مدرسے میں بھی پڑھاتا ہے۔
دریافت طلب امر یہ ہے کہ زید سے تعلقات رکھنا اور سنی مسجد میں امام بنانا نیز سنی مدرسے میں مدرس رکھنا اور کسی سنی مسجد کا ٹرسٹی بنانا از روئے شرع جائز ہے یا نہیں؟
نیز جن لوگوں نے امام بنایا یا سنی مدرسے میں بحیثیت مدرس رکھا جو ان تمام معاملات کو جانتے ہوئے زید سے تعلقات رکھتے ہیں ان سب پر شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟

المستفتیان:عمران رضا وعوام اہل سنت، میٹھی کھاری، لمبایت، سورت

 
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں:’’وہابیہ وغیر مقلدین و دیوبندی و مرزائی آج کل سب کفار و مرتدین ہیں،ان کے پاس نشست و برخاست حرام ہے،ان سے میل جول حرام ہے اگر چہ اپنا باپ یا بھائی یا بیٹے ہوں اور ان لوگوں سے کسی دنیاوی معاملت کی بھی اجازت نہیں كما بيناه في المحجة المؤتمنة ان کے پاس بیٹھنے والا اگر ان کے پاس بیٹھتا ہے یا ان کے کفر میں شک رکھتا ہے اور وہ ان کے اقوال سے مطلع ہے تو بلا شبہ کافر ہے‘‘۔ (فتاویٰ رضویہ مترجم، ج:٢١،ص:٢٧٨،رضا فاؤنڈیشن)
تاج دارِ اہلِ سنت حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:’’جو مرتدین ہیں نیچڑی وہابی دیوبندی قادیانی رافضی ان سے میل جول رسم و راہ کیسی،نری معاملت بھی حرام ہے‘‘۔(فتاویٰ مفتی اعظم ہند،ج٥،ص٣٣٧،امام احمد رضا اکیڈمی بریلی شریف)
فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:’’وہابیوں سے سلام و کلام کرنا سخت ناجائز و حرام ہے‘‘۔(فتاویٰ فقیہ ملت،ج:١،ص:١٨،مطبوعہ مکتبہ فقیہ ملت)
لہذا صورت مسئولہ میں بر تقدیر صدق سوال زید اور اس کے گھر والوں کا اس دیوبندی سے میل جول رکھنا،اپنے یہاں مہمان بنانا،اس کے یہاں شادی بیاہ کرنا،اس کو عزت دینا،اس کی صحبت اختیار کرنا،سلام وکلام کرنا ناجائز و حرام،بد کام،بد انجام ہے۔زید سچی توبہ کے بعد امامت و تدریس وغیرہ کا فریضہ انجام دے سکتا ہے جب کہ دوسری شرعی ممانعت نہ پائی جائے، اور جب تک توبہ نہ کرے اس کو امام و مدرس وغیرہ بنانا منع ہے۔
ہاں اس وہابی کے کفریہ عقائد پر مطلع ہوتے ہوئے جو بھی تعلقات رکھے اسے مسلمان جانے تو یہ کفر ہےاور ایسی صورت میں توبہ و تجدید ایمان و تجدید نکاح کریں لازم ہے۔والله تعالى أعلم

 دار الافتاء فیضان تاج الشریعہ


 *دیوبندی وہابی وغیرہ کسی بھی بد مزہب کی نماز جنازہ یہ جانتے ہوئے پڑھی کہ مذہبا دیوبندی ہے توبر بنائے مزہب اصح وہ اسلام سے خارج ہے اس پر توبہ و تجدید ایمان لازم ہے بیوی والا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے*

 *📚فتاوی رضویہ میں ہے👇* 
 *جسے یہ معلوم ہو کہ دیوبندیوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی توہین کی ہے پھر ان کے پیچھے نماز پڑھتا ہے اسے مسلمان نہ کہا جائے گا کہ پیچھے نماز پڑھنا اس کی ظاہر دلیل ہے کہ ان کو مسلمان سمجھا اور رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی توہین کرنے والے کو مسلمان سمجھنا کفر ہے - اس لئیے علماء حرمین شریفین نے بالاتفاق دیوبندیوں کو کافر ومرتد لکھا اور صاف فرمایا ــــ من شک فی کفرہ وعذابه فقد كفر جو ان کے عقائد پر مطلع ہو کر مسلمان جاننا اور کناران کے کفر میں. شک ہی کرے وہ بھی کافر اورجن کو اس کی خبر نہیں اجمالا اتنا معلوم ہے کہ یہ برے لوگ بد عقیدہ بد مزہب ہیں. وہ ان کے پیچھے نماز پڑھنے سے سخت اشد گنہگار ہوتے ہیں اور ان کی وہ نمازیں سب باطل و بیکار ہیں "٬ اھ (ص ۷۶'۷۷ ج ۶)*

Saturday, June 13, 2026

تقریری لطیفے۔

1)ایک آدمی کی شادی نہیں ہو رہی تھی
 وہ روزانہ دو رکعت صلاۃ الحاجات “ پڑھتا تھا 
آخر اسکی شادی ہو گئی
 اب وہ روزانہ صلاۃ التوبہ “ پڑھتا ہے 

2)شیر نے مرغے سے کہا: جب بھی کوئی مسئلہ ہو تو اذان دے دینا میں آجاؤں گا۔۔۔
ایک دن گیدڑ کو اپنی طرف آتا دیکھ کر مرغا درخت پر چڑھ گیا🐓 اور اذان دی📢
گیدڑ بولا: نیچے آجاؤ نماز پڑھتے ہیں🧎🏻‍♂️
مرغا بولا: رک جاؤ امام صاحب آرہے ہیں... اتنے میں شیر کو آتا دیکھ کر گیدڑ بھاگنے لگا 
تو مرغا بولا: رکو امام صاحب آگئے ہیں
 گیدڑ بھاگتے ہوئے بولا :یہ امام ہمارے فرقے کا نہیں ہے

3)اک عورت شاپنگ کرنے گئی
دکاندار نے سب کپڑے دیکھا دیے
آخر میں عورت بولی

بھائی یہ پسند نہیں کوئی اور دکھائی 

دکاندار تھک ہار کر بولے
 
باجی اب کفن باقی ہے دکھاؤں کیا؟

4)ایک خاتون کی انگلی ریل گاڑی کے شیشے میں آ کر ٹوٹ گئی۔۔۔اس نے محکمہ ریلوے پر پچاس لاکھ روپے ہرجانے کا دعویٰ کر دیا۔۔۔۔جج (خاتون سے) "آپ نے ایک انگلی کا ہرجانہ پچاس لاکھ روپے کا دعویٰ کیا ہے۔۔۔۔میرا خیال ہے یہ رقم بہت زیادہ ہے۔۔۔۔کم ہونی چاہیے".....خاتون (جج سے)....مائی لارڈ! میری ایک انگلی کے پچاس لاکھ روپے تو بہت کم ہیں۔۔۔۔میں اس انگلی سے اپنے کروڑ پتی شوہر کو نچایا کرتی تھی"

5)ایک آدمی اپنی گھر کی پرشانیوں کے حل کے لیے ایک بابا جی کے پاس گیا...🙂💁‍♂️

بابا جی :

کل اپنے گھر کی مٹّی لانا...!!

اگلے دن بابا جی نے اُس کی لائی ھوئی مٹّی پر کُچھ پڑھ کر پھونکا اور بولے :

سن سکو گے تو بتاؤں...؟؟

آدمی بولا :

بتاؤ بابا میں سن لونگا...!!

بابا جی :

تو سنو تمہاری بیٹی کا اسکول میں چکّر چل رہا ھے اور تمہارے بیٹے غلط راستے پر نکل گئے ھیں اور خاص بات تمہاری بیوی تمہیں دھوکہ دے رھی ھے اور اس کا چکّر تمہارے پڑوسی کے ساتھ چل رہا ھے...!!

آدمی یہ سب سن کر زور زور سے ہنسنے لگا تو بابا جی کو لگا یہ صدمے میں پاگل ھو گیا ھے...!!

بابا جی :

ہنس کیوں رھے ھو...؟؟ 😕🤔

آدمی :

بابا جی اگر ہنسنے کی وجہ بتاؤ تو آپ سن لو گے...؟؟

بابا جی :

ہاں سن لونگا...!! 

آدمی :

میں گھر سے مٹّی لانا بھول گیا تھا تو میں نے آپ کے آنگن سے ھی مٹّی اُٹھا لی تھی...☠️🤓

Sunday, May 24, 2026

قوالی کی حرمت اور احمد رضاخان

بعد نمازِ مغرب کے ایک میرے دوست نے کہا چلو ایک جگہ عرس ہے میں چلا گیا۔ وہاں جا کر کیا دیکھتا ہوں بہت سے لوگ جمع ہیں اور قوالی اس طریقے سے ہو رہی ہے کہ ایک ڈھول دو سارنگی بج رہی ہیں اور چند قوال پیران پیر دستگیر کی شان میں اشعار کہہ رہے ہیں اور رسول مقبول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی نعت کے اشعار اور اولیاء اللہ کی شان میں اشعار گا رہے ہیں اور ڈھول سارنگیاں بج رہی ہیں۔ یہ باجے شریعت میں قطعی حرام ہیں کیا اس فعل سے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور اولیاء اللہ خوش ہوتے ہوں گے اور یہ حاضرین جلسہ گناہگار ہوئے یا نہیں اور ایسی قوالی جائز ہے یا نہیں اور اگر جائز ہے تو کس طرح کی؟

الجواب:
ایسی قوالی حرام ہے۔ حاضرین سب گناہگار ہیں۔ اور ان سب کا گناہ ایسا عرس کرنے والوں اور قوالوں پر ہے اور قوالوں کا بھی گناہ اس عرس کرنے والے پر بغیر اس کے کہ عرس کرنے والے کے ماتھے قوالوں کا گناہ جانے سے قوالوں پر سے گناہ کی کچھ کمی آئے یا اس کے اور قوالوں کے ذمہ حاضرین کا وبال پڑنے سے حاضرین کے گناہ میں کچھ تخفیف ہو۔ نہیں بلکہ حاضرین میں ہر ایک پر اپنا پورا گناہ اور قوالوں پر اپنا گناہ الگ، اور سب حاضرین کے برابر جدا اور ایسا عرس کرنے والے پر اپنا گناہ الگ اور قوالوں کے برابر جدا، اور سب حاضرین کے برابر علیحدہ۔وجہ یہ کہ حاضرین کو عرس کرنے والے نے بلایا، یا اسی کے لئے اس گناہ کا سامان پھیلایا اور قوالوں نے انہیں سنایا اگر وہ سامان نہ کرتا، یہ ڈھول اور سارنگی نہ سناتے تو حاضرین اس گناہ میں کیوں پڑتے۔ اس لئے ان سب کا گناہ ان دونوں پر ہوا۔ پھر قوالوں کے اس گناہ کا باعث وہ عرس کرنے والا ہوا۔ وہ نہ کرتا نہ بلاتا تو یہ کیوں کر آتے بجاتے ۔ لہٰذا قوالوں کا گناہ بھی اس بلانے والے پر ہوا۔کَمَا قَالُوا فِی سَائِلِ قَوِيٍّ ذِيْ مِرَّةٍ سَوِيٍّ اِنَّ الْاٰخِذَ وَ الْمُعْطِيَ اٰثِمَانِ لِاَنَّھُمْ لَوْ لَمْ یُعْطُوْا لَمَا فَعَلُوْا فَکَانَ الْعَطَاءُ ھُوَ الْبَاعِثَ لَھُمْ عَلَی الْاِسْتِرسَالِ فِي التَّکَدِّی وَالسُّؤالِ وَھٰذَا کَالظَّاھِرِ عَلٰی مَنْ عَرَفَ الْقَوَاعِدَ الْکَرِیْمَةَ الشَّرْعِیَّةَ وَ بِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ۔رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: مَنْ دَعَا اِلىٰ هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذٰلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا وَمَنْ دَعَا اِلىٰ ضَلَالَةٍ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذٰلِكَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا۔جو کسی امرِ ہدایت کی طرف بلائے جتنے اس کا اتباع کریں ان سب کے برابر ثواب پائے اور اس سے ان کے ثوابوں میں کچھ کمی نہ آئے۔ اور جو کسی امرِ ضلالت کی طرف بلائے جتنے اس کے بلانے پر چلیں ان سب کے برابر اس پر گناہ ہو اور اس سے ان کے گناہوں میں کچھ تخفیف راہ نہ پائے۔ (رواہ الائمہ احمد ومسلم والاربعہ عن ابی ھریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ)۔باجوں کی حرمت میں احادیث کثیرہ وارد ہیں ازان جملہ اجل واعلیٰ حدیث صحیح بخاری شریف ہے کہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: لَيَكُونَنَّ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ يَسْتَحِلُّونَ الْحِرَ وَالْحَرِيرَ وَالْخَمْرَ وَالْمَعَازِفَ۔ ضرور میری امت میں وہ لوگ ہونے والے ہیں جو حلال ٹھہرائیں گے عورتوں کی شرمگاہ یعنی زنا اور ریشمی کپڑوں اور شراب اور باجوں کو۔ (حدیث صحیح جلیل متصل وقد اخرجہ ایضا احمد وابوداؤد)
بعض جاہل بد مست یا نیم مُلا شہوت پرست یا جھوٹے صوفی باطل پرست کہ احادیثِ صحاحِ مرفوعہ محکمہ کے مقابل بعض ضعیف قصے یا مختلق واقعے یا متشابہ پیش کرتے ہیں انہیں اتنی عقل نہیں یا قصداً بے عقل بنتے ہیں کہ صحیح کے سامنے ضعیف متعیّن کے آگے محتمل، محکم کے حضور متشابہ واجب الترک ہے۔ پھر کہاں قول کہاں حکایتِ فعل، پھر کجا محرم کجا جمیع ہر طرح، وہی واجب العمل اسی کو ترجیح مگر ہوس پرستی کا علاج کس کے پاس ہے؟ کاش وہ گناہ کرتے اور گناہ جانتے۔ استمرار لاتے یہ ڈھٹائی اور بھی سخت ہے کہ ہوس بھی پالیں اور الزام بھی ٹالیں اپنے لئے حرام کو حلال بنالیں۔ پھر اسی پر بس نہیں بلکہ معاذ اللہ اس کی تہمت محبوبانِ خدا اکابرِ سلسلہ عالیہ چشت قدست اسرارہم کے سر دھرتے ہیں۔ نہ خدا سے خوف نہ بندوں سے شرم کرتے ہیں۔حالانکہ خود حضور محبوبِ الہی سیدی و مولائی نظام الحق والدین سلطان الاولیاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ و عنہم فوائد الفواد شریف میں فرماتے ہیں۔ مزامیر حرام است۔مولانا فخر الدین زادی خلیفہ حضور سیدنا محبوبِ الہی رضی اللہ عنہا نے حضور کے زمانہ مبارک میں خود حضور کے حکمِ احکم سے مسئلہ سماع میں رسالہ "کشف القناع عن اصول السماع" تحریر فرمایا اس میں صاف ارشاد فرمایا کہ "اَنَّ سَمَاعَ مَشَائِحِنَا رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنھُم بَرِیٌ عَنْ ھٰذِہِ التُّھَمَۃِ وَ ھُوَ مُجَرَّدُ صَوتِ الْقَوَّالِ مَعَ الْاَشْعَارِ الْمُشِیْرَۃِ بِکَمَالِ صَنْعَۃِ اللّٰہِ تَعَالٰی"۔ ہمارے مشائخ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا سماع، اس مزامیر کے بہتان سے بری ہے۔ وہ صرف قوال کی آواز ہے ان اشعار کے ساتھ جو کمالِ صنعتِ الہی سے خبر دیتے ہیں۔لِلّٰہِ انصاف اس امامِ جلیل خاندانِ عالی چشت کا یہ ارشاد مقبول ہو گیا یا آج کے مدعیانِ خامہ کار کی تہمتِ بے بنیاد و ظاهرة الفساد۔ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ۔سیدی مولانا محمد بن مبارک بن محمد علوی کرمانی مرید حضور شیخ العالم فرید الحق والدین سیر الاولیاء میں فرماتے ہیں، حضرت سلطان المشائخ قدس اللہ سرہ العزیز می فرمود کہ چند چیز می باید تا سماع مباح شود۔ مسمع و مستمع و مسموع و آلہ سماع۔ مسمع یعنی گویندہ مرد تمام باشد کودک نہ باشد و عورت نہ باشد و مستمع آنکہ می شنود از یادِ حق خالی نباشد و مسموع آنچه بگویند فحش و مسخرگی نباشد و آلہ سماع مزامیر است چون چنگ و رباب و مثل آں می باید کہ در میان نہ باشد ایں چنیں سماع حلال است۔مسلمانو! یہ فتویٰ ہے سرور و سردارِ سلسلہ عالیہ چشت حضرت سلطان الاولیاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا۔ کیا اس کے بعد بھی مفتریوں کو منھ دکھانے کی گنجائش ہے؟نیز سیر الاولیاء شریف میں ہے:۔یکے بخدمتِ حضرت سلطان المشائخ عرض داشت کہ دریں روز ہا بعضے از درویشان آستانہ دار در مجمعے کہ چنگ و رباب و مزامیر بود رقص کردند۔ فرمود نیکو نہ کردہ اند آنچہ نامشروع است ناپسندیدہ است بعد ازاں یکے گفت چوں ایں طائفہ ازاں مقام بیرون آمدند بایشان گفتند کہ شما چہ کردہ ید دراں جمع مزامیر بود سماع چگونہ شنیدید و رقص کردید۔ ایشاں جواب دادند کہ ما چناں مستغرقِ سماع بودیم کہ ندانستیم کہ اینجا مزامیر است یا نہ۔ حضرت سلطان المشائخ فرمود ایں جواب ہم چیزے نیست۔ ایں سخن در ہمہ معصیتہا بباید۔
مسلمانو! امامِ ارشاد سے مزامیر ناجائز ہے اور اس عذر کو کہ ہمیں استغراق کے باعث خبر نہ تھی، رد فرمایا کہ یہ تو ہر گناہ میں کہہ سکتے ہیں۔
مسلمانو! کیسا صاف ارشاد ہے کہ مزا میر نا جائز ہے اور اس عذر کا کہ ہمیں استغراق کے باعث مزامیر کی خبر نہ ہوئی کیا مسکت جواب عطا فرمایا کہ ایسا حیلہ ہر گناہ میں چل سکتا ہے شراب پئے اور کہ دے شدت استغراق کے باعث ہمیں خبر نہ ہوئی کہ شراب ہے یا پانی ۔ زنا کرے اور کہہ دے غلبہ حال کے سبب ہمیں تمیز نہ ہوئی کہ جورو ہے یا بیگانی -

رد بدعات و منکرات احمد رضا خان ص نمبر 266

Wednesday, May 20, 2026

حکم طعام میت مولانا احمد رضا خان کے فتوے کی روشنی میں

طعامِ میت (میت کا کھانا)

اکثر بلادِ ہند میں رسم ہے کہ میت کے روزِ وفات سے اس کے اعزہ و اقارب و احباب کی عورتیں اس کے یہاں جمع ہوتی ہیں، اس اہتمام کے ساتھ جو شادیوں میں کیا جاتا ہے۔ پھر کچھ دوسرے دن، اکثر تیسرے دن واپس آتی ہیں، بعض چالیسویں تک بیٹھی رہتی ہیں۔ اس مدتِ اقامت میں عورتوں کے کھانے پینے کا اہتمام اسی طرح ہوتا ہے جس کے باعث ایک قرض کثیر کے زیر بار ہوتے ہیں اگر اس وقت ان کا ہاتھ خالی ہو تو قرض لیتے ہیں۔یوں نہ ملے تو سودی نکلواتے ہیں اگر نہ کریں تو مطعون و بدنام ہوتے ہیں۔ یہ شرعا جائز ہے یا کیا؟
الجواب: سبحان اللہ! اے مسلمان! یہ پوچھنا ہے کہ جائز ہے یا کیا ہے؟ یوں پوچھ کہ یہ ناپاک رسم کتنے قبیح اور شدید گناہوں، سخت و شنیع خرابیوں پر مشتمل ہے۔اولاً: یہ دعوت خود ناجائز و بدعتِ شنیعہ و قبیحہ ہے۔ امام احمد اپنے مسند اور ابن ماجہ سنن میں بسندِ صحیح حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راویت ہے : 
"کُنَّا نَعُدُّ الْاِجْتِمَاعَ اِلٰی اَہْلِ الْمَیِّتِ وَ صَنْعَہُمُ الطَّعَامَ مِنَ النِّیَاحَۃِ"(ترجمہ: ہم گروہِ صحابہ اہل میت کے یہاں جمع ہونے اور ان کے کھانا تیار کرنے کو مُردے کی نیاحت (ماتم) سے شمار کرتے تھے جس کی حرمت پر متواتر حدیثیں ناطق ہیں۔)
امام محقق علی الاطلاق فتح القدیر شرح ہدایہ میں فرماتے ہیں:"یُکْرَہُ اِتِّخَاذُ الضِّیَافَۃِ مِنَ الطَّعَامِ مِنْ اَہْلِ الْمَیِّتِ لِاَنَّہٗ شُرِعَ فِی السُّـرُوْرِ لَا فِی الشُّـرُوْرِ وَہِیَ بِدْعَۃٌ مُّسْتَقْبَحَۃٌ"(ترجمہ: اہل میت کی طرف سے کھانے کی ضیافت تیار کرنی منع ہے کہ شرع نے ضیافت خوشی میں رکھی ہے نہ کہ غمی میں، اور یہ بدعتِ شنیعہ ہے۔)
فتاویٰ خلاصہ، فتاویٰ سراجیہ، فتاویٰ ظہیریہ، فتاویٰ تاتارخانیہ اور ظہیر یہ سے خزانہ المفتیین، کتاب الکراہتہ اور تاتارخانیہ سے فتاویٰ ہندیہ میں بالفاظ متقارب ہے:"لَا یُبَاحُ اِتِّخَاذُ الضِّیَافَۃِ عِنْدَ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ فِی الْمُصِیْبَۃِ"(ترجمہ: مصیبت کے ایام یعنی تیسرے دن کی دعوت جائز نہیں کہ دعوت تو خوشی میں ہوتی ہے۔)
تبیین الحقائق امام زیلعی میں ہے:"لَا بَاْسَ بِالْجُلُوْسِ لِلْمُصِیْبَۃِ اِلٰی ثَلٰثٍ مِنْ غَیْرِ اِرْتِکَابِ مَحْظُوْرٍ مِّنْ فَرْشِ الْبُسُطِ وَالْاَطْعِمَۃِ مِنْ اَہْلِ الْمَیِّتِ"(ترجمہ: مصیبت کے لیے تین دن بیٹھنے میں کوئی مضائقہ نہیں جب کسی امر ممنوع کا ارتکاب نہ ہو، جیسے تکلف سے فرش بچھانا اور میت والوں کی طرف سے کھانے کا اہتمام۔)

امام بزازی وجیز میں فرماتے ہیں:"یُکْرَہُ اِتِّخَاذُ الطَّعَامِ فِی الْیَوْمِ الْاَوَّلِ وَالثَّالِثِ وَ بَعْدَ الْاُسْبُوْعِ"(ترجمہ: یعنی میت کے پہلے یا تیسرے دن یا ہفتے کے بعد جو کھانے تیار کرائے جاتے ہیں سب مکروہ ہیں۔)


علامہ شامی رد المحتار میں فرماتے ہیں۔ الطمال ذالك في المعراج وقال : هذه الافعال كلها للسمعة والرياء فيتحسون عنها يعنى معراج الدراية شرح ہدایہ نے اس مسئلہ میں بہت کلام طویل کیا اور فرمایا کہ یہ سب ناموری اور دکھاوے کے کام ہیں ان سے احتراز کیا جائے ۔

ثانيا : غالباً ورثہ میں کوئی یتیم یا اور بچہ نا بالغ ہوتا ہے یا اور ورثہ موجود نہیں ہوتے نہ ان سے اس کا اذن لیا جاتا ہے جب تو یہ امر سخت حرام شدید پر متضمن ہوتا ہے ۔ اللہ عز وجل فرماتا ہے ۔ ان الذين يأْكُلُونَ أَموال اليتیم ظُلُمَا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَاراً وَ سَيَصْلَوْنَ سَعِيراً 
بے شک جو لوگ یتیموں کے مال ناحق کھاتے ہیں وہ بلاشبہ اپنے پیٹ میں انگارے بھرتے ہیں اور قریب ہے کہ جہنم کے گہراؤ میں جائیں گے ۔

مال غیر میں ہے اذن غیر تصرف خود نا جائز ہے ۔ قال الله تعالى لا تَأْكُلُوا أَمْوَائِكُم بَيْنَكُم بِالباطل . خصوصاً نا بالغ کا مال ضائع کرنا جس کا اختیار نہ خود اسے ہے نہ اس کے باپ نہ اس کے وصی کو لأن الولاية للنظر لا للضرر على الخصوص۔
 اور اگر ان میں کوئی یتیم ہوا تو آفت سخت تر ہے۔ والعياذ بالله رب العالمين .

ہاں اگر محتاجوں کے دینے کو کھانا پکوائیں تو حرج نہیں بلکہ خوب ہے۔ بشرطیکہ یہ کوئی عاقل بالغ اپنے مال خاص سے کرے یا ترکہ سے کریں تو سب وارث موجود و بالغ و راضی ہوں ۔

ثالثا:۔ یہ عورتیں کہ جمع ہوتی ہیں افعال منکرہ کرتی ہیں۔ مثلاً چلا کر رونا پیٹنا، بناوٹ سے منھ ڈھانکنا الی غیر ذالک۔ اور یہ سب نیاحت ہے اور نیاحت حرام ہے ۔ ایسے مجمع کے لئے میت کے عزیزوں اور دوستوں کو بھی جائز نہیں کہ کھانا بھیجیں کہ گناہ کی امداد ہوگی ۔ قال تعالى وَلَا تَعَاوَنُو عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدوان -

نہ کہ اہل میت کا اہتمام طعام کرنا کہ سرے سے نا جائز ہے تو اس نا جائز مجمع کے لئے ناجائز ترہوگا ۔
کشف الفطار میں ہے . ساختن طعام در روز ثانی و ثالث برائے اہل میت اگر نوحہ گراں جمع باشند مکروه است زیرا که اعانت است ایشان را بر گناه -

رابعا : اکثر لوگوں کو اس رسم شنیع کے باعث اپنی طاقت سے زیادہ ضیافت کرنی پڑتی ہے۔

یہاں تک کہ میت والے بیچارے اپنے غم کو بھول کر اس آفت میں مبتلا ہوتے ہیں کہ اس میلے کے لئے کھا نا پان چھالیاں کہاں سے لائیں اور بارہا ضرورت قرض لینے کی پڑتی ہے۔ ایسا تکلف شرع کو کسی امر مباح کے لئے زینہار پسند نہیں نہ کہ ایک رسم ممنوع کے لئے ۔پھر اس کے باعث جو دقتیں پڑتی ہیں خود ظاہر ہیں پھر اگر قرض سودی مال ک ملا تو حرام خالص ہو گیا اور معاذ الله لعنت انہی سے پورا حصہ ملا کہ بے ضرورت شرعیہ سود دینا بھی سود لینے کے مثل باعث لعنت ہے جیسا کہ صحیح حدیث میں فرمایا ۔

غرض اس رسم کی شناعت و ممانعت میں شک نہیں۔ اللہ عز وجل مسلمانوں کو توفیق بخشے کو قطعاً ایسی رسوم شنیعہ جن سے ان کے دین و دنیا کا ضرر ہے ترک کر دیں اور طعن بیہودہ کا لحاظ نہ کریں

 تنبیه :- اگر چہ صرف ایک دن یعنی پہلے ہی روز عزیزوں ، ہمسایوں کو مسنون ہے کہ اہل میت کے لیے اتنا کھانا پکوا کر بھیجیں جیسے وہ دو وقت کھا سکیں اور باصرار انہیں کھلائیں۔ مگر یہ کھانا صرف اس میت ہی کے قابل ہونا سنت ہے اس میلے کے لئے بھیجنے کا ہرگز حکم نہیں اور ان کے لئے بھی فقط روز اول کا حکم ہے آگے کا نہیں۔

مسئلہ :۔ مردہ کے نام کا کھانا جو امیر و غریب کو کھلاتے ہیں کس کو کھانا چاہئے اور کس کو نہیں اور یوں بھی کہتے ہیں کہ مردہ کے نام کا کھانا مصلی امیر غریب سب کو کھلاتے ہیں جائز ہے یا نہیں ؟

الجواب:۔ مردہ کا کھانا صرف فقراء کے لئے ہے عام دعوت کے طور پر جو کرتے ہیں یہ منع ہے غنی نہ کھائے۔ کمافی فتح القدیر و مجمع البركات .

میت کے یہاں جو لوگ جمع ہوتے ہیں اور ان کی دعوت کی جاتی ہے اس کھانے کی تو ہر طرح ممانعت ہے اور بغیر دعوت کے جمعراتوں، چالیسویں ، چھ ماہی ، برسی میں جو بھاجی کی طرح اغنیاء کو بانٹا جاتا ہے وہ بھی اگر چہ بے معنی ہے مگر اس کا کھانا منع نہیں بہتری ہے کہ غنی نہ کھائے اور فقیر کو تو کچھ مضائقہ نہیں کہ وہی اس کے مستحق ہیں۔ الخ 

موت میں دعوت بے معنی ہے۔ فتح القدیر میں اسے بدعت مستقبحہ فرمایا : لان الدعوة شرعت في السرور لا في الشرور۔
 اغنیاء کا اس میں کچھ حق نہیں اور اگر بنظر :المعهود عرفا کا المشروط لفظا۔ 

وہ اجرت قرآن خوانی کی حد تک پہونچ گیا ہو۔ کھلانے والا جانتا ہو ان کی تلاوت کے عوض میں مجھے کھانا دینا ہے۔ یہ جانتے ہوں کہ ہمیں قرآن پڑھ کر کھانا لینا ہے تو آپ ہی حرام ہے۔ کھانا بھی حرام۔ اور کھلانا بھی حرام . لا تشتروا بایاتی ثمنا قلیلا۔

اہل میت کے گھر کھانا بھیجنا

..... بروز وفات جو کھانا اہل میت کے یہاں بطریق بھائی بھیجا جاتا ہے اس کو اہل میت کے اعزہ وغیرہ کھا سکتے ہیں یا نہیں۔ بروز سوم - دہم جہلم ششماہی وغیرہ جو کھانا بغرض ایصال ثواب پکا کر مسکین کو تقسیم کیا جاتا ہے اس میں بقدر ضرورت اضافہ کر کے علاوہ مساکین کے دیگر اعزہ واقرباء کو کھلایا اور برادری میں تقسیم کیا جا سکتا ہے یا نہیں ۔

الجواب: پہلے دن صرف اتنا کھانا کہ میت کے گھر والوں کو کافی ہو بھیجنا سنت ہے۔ اس سے زیادہ کی اجازت نہیں۔ نہ دوسرے دن بھیجنے کی اجازت نہ اوروں کے واسطے بھیجا جائے۔ نہ اور اس میں کھائیں ۔ 

ایصال ثواب سنت ہے اور موت میں ضیافت ممنوع - فتح القدیر وغیرہ میں ہے۔ ٹکرہ اتخاذ الضيافةِ مِنَ الطَّعَامِ مِنْ أَهْلِ المَيِّتِ لانہ شُرِعَ فِي السُّرُورِلا في الشرور و هي بدعة مستقبحة - روى الامام احمد وابن ماجة باسناد صحيح عن جرير بن عبد الله قال كُنَّا نَعُد الاجتماع الى أَهْلِ المَيِّتِ وَصَنْعَهُم ! الطَّعَامَ مِنَ النياحة . جب علماء نے اسے غیر مشروع و بدعت قبیحہ کہا تو اس کا کھانا بھی غیر مشروع بدعت قبیحہ ہوا کہ معصیت پر اعانت ہے اور معصیت پر اعانت گناہ ۔ قال تعالى. ولا تعاونوا على الإثم والعدوان . والله تعانی اعلم
فتاوی رضویہ جلد چہارم بحوالہ رد بدعات و منکرات مولانا احمد رضا خان صفحہ نمبر : 321

Sunday, May 3, 2026

لا سلام و ولا کلام علی الطعام اور حنفی عوام!

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
 
موضوع: لا سلام  ولا کلام علی الطعام اور حنفی عوام! 

مصادر: مختلف مراجع و مصادر 

اقبال قاسمی سلفی 

لوگوں میں یہ مقولہ مشہور ہے: 
لاسلام ولا کلام علی الطعام ۔
یعنی کھاتے ہوئے نہ کوئی سلام ہے اور نہ کوئی کلام ہے۔
اسی لیے ہمارے یہاں دیوبندی اور بریلوی عوام میں یہ بات رائج ہے کہ کھانا کھانے والے کو سلام نہیں کیا جاتا ہے اور اگر کوئی سلام کردے تو سلام کا جواب دینے کے بجائے وہ یہ کہتے ہیں کہ کھانا کھا رہے ہیں ۔ دارالعلوم دیوبند کے فتوے میں بھی یہ بات موجود ہے کہ کھانا کھانے والے کو سلام نہیں کرنا چاہیے ۔

 لیکن " لا سلام ولا کلام علی المعام "یعنی کھاتے وقت کوئی سلام اور کلام نہیں" محض ایک مقولہ ہے جس کی کوئی استنادی حیثیت موجود نہیں ہے ۔صحیح تو کیا کسی ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے ۔

اس عوامی مقولے کے بر عکس کھانے کے دوران گفتگو کرنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ 
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَعْوَةٍ فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ فَنَهَسَ مِنْهَا نَهْسَةً ، وَقَالَ : أَنَا سَيِّدُ الْقَوْمِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ هَلْ تَدْرُونَ بِمَنْ يَجْمَعُ اللَّهُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ فَيُبْصِرُهُمُ النَّاظِرُ وَيُسْمِعُهُمُ الدَّاعِي وَتَدْنُو مِنْهُمُ الشَّمْسُ ، فَيَقُولُ : بَعْضُ النَّاسِ أَلَا تَرَوْنَ إِلَى مَا أَنْتُمْ فِيهِ إِلَى مَا بَلَغَكُمْ أَلَا تَنْظُرُونَ إِلَى مَنْ يَشْفَعُ لَكُمْ إِلَى رَبِّكُمْ ، فَيَقُولُ : بَعْضُ النَّاسِ أَبُوكُمْ آدَمُ فَيَأْتُونَهُ ، فَيَقُولُونَ : يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ وَأَمَرَ الْمَلَائِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ وَأَسْكَنَكَ الْجَنَّةَ أَلَا تَشْفَعُ لَنَا إِلَى رَبِّكَ أَلَا تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ وَمَا بَلَغَنَا ، فَيَقُولُ : رَبِّي غَضِبَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ ، وَلَا يَغْضَبُ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَنَهَانِي عَنِ الشَّجَرَةِ فَعَصَيْتُهُ نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَى نُوحٍ فَيَأْتُونَ نُوحًا ، فَيَقُولُونَ : يَا نُوحُ أَنْتَ أَوَّلُ الرُّسُلِ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ وَسَمَّاكَ اللَّهُ عَبْدًا شَكُورًا أَمَا تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ أَلَا تَرَى إِلَى مَا بَلَغَنَا أَلَا تَشْفَعُ لَنَا إِلَى رَبِّكَ ، فَيَقُولُ : رَبِّي غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَا يَغْضَبُ بَعْدَهُ مِثْلَهُ نَفْسِي نَفْسِي ائْتُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَأْتُونِي فَأَسْجُدُ تَحْتَ الْعَرْشِ ، فَيُقَالُ : يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ وَسَلْ تُعْطَهْ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ : لَا أَحْفَظُ سَائِرَهُ .
 ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک دعوت میں شریک تھے ۔ آپ ﷺ کی خدمت میں دست کا گوشت پیش کیا گیا جو آپ کو بہت مرغوب تھا ۔ آپ نے اس دست کی ہڈی کا گوشت دانتوں سے نکال کر کھایا ۔ پھر فرمایا کہ میں قیامت کے دن لوگوں کا سردار ہوں گا ۔ تمہیں معلوم ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ ( قیامت کے دن ) تمام مخلوق کو ایک چٹیل میدان میں جمع کرے گا ؟ اس طرح کہ دیکھنے والا سب کو ایک ساتھ دیکھ سکے گا ۔ آواز دینے والے کی آواز ہر جگہ سنی جا سکے گی اور سورج بالکل قریب ہو جائے گا ۔ ایک شخص اپنے قریب کے دوسرے شخص سے کہے گا ، دیکھتے نہیں کہ سب لوگ کیسی پریشانی میں مبتلا ہیں ؟ اور مصیبت کس حد تک پہنچ چکی ہے ؟ کیوں نہ کسی ایسے شخص کی تلاش کی جائے جو اللہ پاک کی بارگاہ میں ہم سب کی شفاعت کے لیے جائے ۔ کچھ لوگوں کا مشورہ ہو گا کہ دادا آدم علیہ السلام اس کے لیے مناسب ہیں ۔ چنانچہ لوگ ان کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے ، اے باوا آدم ! آپ انسانوں کے دادا ہیں ۔ اللہ پاک نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا تھا ، اپنی روح آپ کے اندر پھونکی تھی ، ملائکہ کو حکم دیا تھا اور انہوں نے آپ کو سجدہ کیا تھا اور جنت میں آپ کو ( پیدا کرنے کے بعد ) ٹھہرایا تھا ۔ آپ اپنے رب کے حضور میں ہماری شفاعت کر دیں ۔ آپ خود ملاحظہ فرما سکتے ہیں کہ ہم کس درجہ الجھن اور پریشانی میں مبتلا ہیں ۔ وہ فرمائیں گے کہ ( گناہ گاروں پر ) اللہ تعالیٰ آج اس درجہ غضبناک ہے کہ کبھی اتنا غضبناک نہیں ہوا تھا اور نہ آئندہ کبھی ہو گا اور مجھے پہلے ہی درخت ( جنت ) کے کھانے سے منع کر چکا تھا لیکن میں اس فرمان کو بجا لانے میں کوتاہی کر گیا ۔ آج تو مجھے اپنی ہی پڑی ہے ( نفسی نفسی ) تم لوگ کسی اور کے پاس جاؤ ۔ ہاں ، نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ ۔ چنانچہ سب لوگ نوح علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے ، اے نوح علیہ السلام ! آپ ( آدم علیہ السلام کے بعد ) روئے زمین پر سب سے پہلے نبی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو ” عبد شکور “ کہہ کر پکارا ہے ۔ آپ ملاحظہ فرما سکتے ہیں کہ آج ہم کیسی مصیبت و پریشانی میں مبتلا ہیں ؟ آپ اپنے رب کے حضور میں ہماری شفاعت کر دیجیے ۔ وہ بھی یہی جواب دیں گے کہ میرا رب آج اس درجہ غضبناک ہے کہ اس سے پہلے کبھی ایسا غضبناک نہیں ہوا تھا اور نہ کبھی اس کے بعد اتنا غضبناک ہو گا ۔ آج تو مجھے خود اپنی ہی فکر ہے ۔ ( نفسی نفسی ) تم نبی کریم ﷺ کی خدمت میں جاؤ ۔ چنانچہ وہ لوگ میرے پاس آئیں گے ۔ میں ( ان کی شفاعت کے لیے ) عرش کے نیچے سجدے میں گر پڑوں گا ۔ پھر آواز آئے گی ، اے محمد ! سر اٹھاؤ اور شفاعت کرو ، تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی ۔ مانگو تمہیں دیا جائے گا ۔

صحیح بخاری حدیث نمبر: 3340
آپ نے دیکھا کہ کھانا کے دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گفتگو فرماتے ہوے طویل حدیث صحابہ کو بیان فرمائی جو شفاعت سے متعلق ہے‌۔ 

اسی طرح صحیح مسلم میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: 
 عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ أَهْلَهُ الْأُدُمَ فَقَالُوا مَا عِنْدَنَا إِلَّا خَلٌّ فَدَعَا بِهِ فَجَعَلَ يَأْكُلُ بِهِ وَيَقُولُ نِعْمَ الْأُدُمُ الْخَلُّ نِعْمَ الْأُدُمُ الْخَلُّ۔

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے گھر والوں سے سالن کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا : ہمارے پاس تو صرف سرکہ ہے ، آپ نے سرکہ منگایا اور اسی کے ساتھ روٹی کھانا شروع کر دی ۔ آپ ﷺ فرما رہے تھے :’’ سرکہ عمدہ سالن ہے ، سرکہ عمدہ سالن ہے ۔‘‘ 
صحیح مسلم حدیث نمبر: 2052
ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھانا کھاتے ہوئے بات بھی کر لیا کرتے تھے، جیسے کہ پہلے سرکہ والی حدیث میں اس بات کا تذکرہ ہے، اور اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سوتیلے بیٹے عمرو بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہما کو کھانا کھلاتے ہوئے فرمایا: (بسم اللہ پڑھو، اور اپنے سامنے سے کھاؤ)" انتہی
"زاد المعاد " (2/366)

اسی طرح حنفی دیوبندی دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
سے پوچھا گیا کہ کیا کھانا کھانے کے دوران باتیں کرنا چاہیے یا نہیں؟ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ باتیں نہ کرنا کافروں سے مشابہت ہے.
تو اس دارالافتاء نے جواب دیا :
 
کھانے کے دوران گفتگو جائز ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کھانا کھانے کے دوران گفتگو کرنا ثابت ہے۔
 نیز کھانا کھاتے ہوئے خاموش رہنا غیر قوموں کا طریقہ ہے، فتاویٰ ہندیہ اور فتاویٰ شامی میں اسے مجوسیوں کا طریقہ لکھا گیا ہے، لہٰذا اس سے اجتناب کرنا چاہیے، کھانے کھاتے ہوئے اچھی باتوں کے تذکرے، مثلاً: نیک لوگوں کی حکایات وغیرہ بہتر ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6 / 340):
"ويكره السكوت حالة الأكل؛ لأنه تشبه بالمجوس، و يتكلم بالمعروف".

الفتاوى الهندية (5 / 345):
"يكره السكوت حالة الأكل؛ لأنه تشبه بالمجوس، كذا في السراجية. ولايسكت على الطعام ولكن يتكلم بالمعروف وحكايات الصالحين، كذا في الغرائب". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر : 144107200416

اس تفصیل سے ہمیں بخوبی معلوم ہو گیا ہوگا کہ کھانے کے دوران گفتگو کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح احادیث سے ثابت ہے ۔
اور جب دوران طعام گفتگو کرنا ثابت شدہ ہے تو سلام کرنا اور سلام کا جواب دینا بدرجہ اولی جائز ہوگا۔
نیز قرآن و سنت نے ہمیں سلام کو عام کرنے اور اس میں پہل کرنے کی تعلیم دی ہے۔

سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَإِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ حَسِيبًا (86)
 اور جب تمھیں سلامتی کی کوئی دعا دی جائے ، تو تم اس سے اچھی سلامتی کی دعا دو، یا جواب میں وہی کہہ دو ۔ بےشک اللہ ہمیشہ سے ہر چیز کا پورا حساب کرنے والا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو سلام عام کرنے کا حکم دیا ہے ۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا، وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا، أَوَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى شَيْءٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ؟ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ»
 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم جنت میں داخل نہیں ہو گے یہاں تک کہ تم مومن ہو جاؤ ، اور تم مومن نہیں ہو سکتے یہاں تک کہ ایک دوسرے سے محبت کرو ۔ کیا تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ جب تم اس پر عمل کرو تو ایک دوسرے کے ساتھ محبت کرنے لگو ، آپس میں سلام عام کرو ۔‘‘ 
صحیح مسلم حدیث نمبر:54

 عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قِيلَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلَانِ يَلْتَقِيَانِ أَيُّهُمَا يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَوْلَاهُمَا بِاللَّهِ ،‏‏‏‏

پوچھا گیا: اللہ کے رسول! جب دو آدمی آپس میں ملیں تو سلام کرنے میں پہل کون کرے؟ آپ نے فرمایا: ”ان دونوں میں سے جو اللہ کے زیادہ قریب ہے“ ( وہ پہل کرے گا ) .
سنن ترمذی حدیث نمبر 2694

 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ " قِيلَ: مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: " إِذَا لَقِيتَهُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ، وَإِذَا دَعَاكَ فَأَجِبْهُ، وَإِذَا اسْتَنْصَحَكَ فَانْصَحْ لَهُ، وَإِذَا عَطَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ فَسَمِّتْهُ، وَإِذَا مَرِضَ فَعُدْهُ، وَإِذَا مَاتَ فَاتَّبِعْهُ ".
 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حق ہیں۔“ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! وہ کون سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اس سے ملو تو اس کو سلام کرو اور جب وہ تم کو دعوت دے تو قبول کرو اور جب وہ تم سے نصیحت طلب کرے تو اس کو نصیحت کرو، اور جب اسے چھینک آئے اور الحمدللہ کہے تو اس کے لیے رحمت کی دعا کرو۔ جب وہ بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرو اور جب وہ فوت ہو جائے تو اس کے پیچھے (جنازے میں) جاؤ۔“ 
[صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5651]

عن ابی هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي، وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ، وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ۔

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوار پیادہ کو سلام کرے، چلنے والا بیٹھے ہوئے کو سلام کرے اور کم لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کریں۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5646]

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلًا سَأَل رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيُّ الْإِسْلَامِ خَيْرٌ؟ قَالَ:" تُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتَقْرَأُ السَّلَامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ"

 عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کون سا اسلام بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو کھانا کھلائے اور ہر شخص کو سلام کرے خواہ اس کو تو جانتا ہو یا نہ جانتا ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الإيمان/حدیث: 28]

یہ احادیث عام ہیں اور ان احادیث میں بلا استثناء سلام کو عام کرنے ،عند اللقاء سلام میں پہل کرنے اور معروف غیر معروف ہر طرح کے لوگوں کو سلام کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ کھانے کے دوران سلام کرنے یا سلام کا جواب دینے کی ممانعت کسی بھی صحیح حدیث میں موجود نہیں ہے ، صحیح تو کیا کسی ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے جس سے یہ پتہ چلتا ہو کہ سلام علی الطعام ممنوع یا مکروہ ہے۔

ان حقائق کے برخلاف حنفی اداروں کے فتوے بڑا مضحکہ خیز ہیں جنہوں نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ اگر لقمہ منہ میں ہو تو اس وقت سلام کرنا ممنوع ہے ۔
چنانچہ دارالعلوم دیوبند سے اس بابت جب دریافت کیا گیا کہ کیا کھانا کھاتے وقت سلام کرنا اور جواب دینا منع ہے یا جائز ہے؟ 
تو دارالعلوم دیوبند نے جواب دیا: 
لقمہ اگر منھ میں نہ ہو تو اس وقت سلام کرنا اور جواب دینا دونوں جائز ہے، لقمہ منھ میں ہونے کی حالت میں سلام نہ کرنا چاہیے، اسی طرح اگر کوئی سلام کرے تو اس کا جواب دینا بھی واجب نہیں۔ قال في الشامي: رَدُّ السَّلام واجبٌ إلا علی مَن في الصلاة أو بأکل شغلا۔
دارالافتاء 
دارالعلوم دیوبند 
فتویٰ نمبر: 20663

جواباً عرض ہے کہ: 
یہ فتویٰ قرآن و حدیث کے دلائل سے بالکل خالی اور عاری ہے۔ یہ محض ایک تقلیدی فتویٰ ہے‌ ۔ جس علامہ شامی کے حوالے سے یہ فتویٰ دیا گیا ہے اس شامی نے اس تخصیص کی کتاب و سنت اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے عمل سے کوئی دلیل نہیں دی۔ 

یہ بات عقل و مشاہدے ک بھی خلاف ہے کیونکہ جو لوگ کھانا کھا رہے ہوتے ہیں تب وہ سلام کا جواب دینے کے بجائے جواباً اتنا ضرور عرض کرتے ہیں کہ " کھانا کھا رہاہوں ، ائیے کھانا کھائیے ۔ جب اتنا کہنے میں لقمہ حلق میں نہیں اٹکتا نہ کوئی عجز پایا جاتاہے  تو سلام کا جواب دینے میں کیسے اٹک سکتا ہے جس اندیشے کی بنیاد پر علماء احناف نے سلام کا جواب دینے سے مکروہ لکھا ہے۔ 
آج لوگوں کو عموماً یہ دیکھا جاتا ہے کہ کھانے کے دوران لمبی لمبی گفتگو کرتے ہیں یا فون کالز پر لگے رہتے ہیں لیکن جب انہیں سلام کر دیا جائے تو وہ سلام کا جواب دینے کے بجائے فوراً یہ کہ دیتے ہیں کہ ابھی کھانا کھا رہا ہوں ۔ گویا کہ سلام سنتے ہی لقمہ ان کے حلق میں اٹکنے لگتا ہے یا وہ عاجز و اپاہج ہو جاتے ہیں۔
اور اگر بالفرض کسی نے اسی لمحہ سلام کر دیا جب لقمہ بالکل درمیان حلق میں تھا تب زیادہ سے زیادہ یہ ہوسکتا ہے کہ سلام کا جواب دینے میں اتنی تاخیر ہو جتنی کہ لقمہ حلق سے نیچے اتر جائے ۔جو کہ ایسی معمولی تاخیر ہے جس کی پیمائش یہ مفتیان ہی کر سکتے ہیں ، تب بھی سلام کرنے کو ممنوع نہیں قرار دیا جا سکتا۔ بلکہ سلام کا جواب اس معمولی لمحے تک کے لیے مؤخر کیا جا سکتا ہے جتنی دیر میں ان کا لقمہ حلق سے نہ اتر جاۓ۔
 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کے سلام کا جواب تاخیر سے دیا کیونکہ اس وقت آپ پیشاب کر رہے تھے: 
عَنْ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ حَتَّى تَوَضَّأَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ اعْتَذَرَ إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَذْكُرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِلا عَلَى طُهْرٍ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ قَالَ:‏‏‏‏ عَلَى طَهَارَةٍ . 
  حضرت مہاجر بن قنفذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی ﷺ کے پاس سے گزرے اور آپ پیشاب کر رہے تھے ۔ انہوں نے سلام کیا تو آپ نے جواب نہ دیا حتیٰ کہ آپ نے وضو کیا ( اور جواب دیا ) اور معذرت کرتے ہوئے فرمایا :’’ مجھے یہ بات ناپسند آئی کہ طہارت کے بغیر اللہ تعالیٰ کا ذکر کروں ۔

سنن ابوداؤد حدیث نمبر: 17
 
واضح ہو کہ حنفی علماء نے کھانے والے کو سلام کرنا اس وقت مکروہ لکھا تھا جب لقمہ بالکل منہ میں ہو اور مبادا وہ لقمہ جواب دینے سے حلق میں نہ اٹک جاۓ ۔لیکن آج صورت حال یہ ہو گئ ہے کہ لوگ کھانے کے دوران سلام کرنے کو مطلقاً مکروہ اور ناجائز سمجھتے ہیں ۔اور ان میں یہ تصور قائم ہو گیا ہے کہ جوٹھا منہ ہونے کی وجہ سے سلام کا جواب نہیں دینا چاہیے ۔ اور یہ غلط تصورات اس غلط اور من گھڑت تکلفات کا نتیجہ ہے جو علماء احناف نے اس مسئلے میں اختیار کیا ہے ۔
موشگافی پر مبنی یہ  تخصیص و تفصیل کتاب و سنت میں کہیں موجود نہیں ہے ۔
علماء احناف نے تو وضو ، اذان ، ذکر و اذکار اور تلاوت میں مشغول شخص کو بھی سلام کرنے کو مکروہ لکھا ہے ۔ 
جیسا کہ دارالعلوم دیوبند کے فتوے میں شامی کے حوالے سے موجود ہے : 
وضو کرنے والا اگر وضو کی دعاؤں میں مشغول ہو،یادورانِ اکل کھانا منھ میں ہو،یا کوئی شخص اذان کا جواب دینے میں لگا ہو توایسے لوگوں پر سلام کا جواب دینا واجب نہیں۔ یکرہ السلام علی العاجر عن الجواب حقیقة کالمشغول بالأکل أو الاستفراغ، أو شرعًا کالمشغول بالصلاة وقراء ة القرآن، لو سلّم لا یستحق الجواب … یأثم بالسلام علی المشغولین بالخطبة أو الأذان والإقامة ویردون في الباقي لإمکان الجمع بین فضیلتي الرد․(شامي:۲/۳۷۵کتاب الصلاة / باب ما یفسد الصلاة وما یکرہ فیہا، مطلب: المواضع التي یکرہ فیہا السلام ،ط: زکریا)
دارالافتاء 
دارالعلوم دیوبند 
فتویٰ نمبر : 154606

لیکن یہ مسائل احناف کے ان ہفوات میں سے ہیں جو بے دلیل اور بے سند ہونے کی وجہ سے یکسر مردود ہے۔ جسے ان شاء اللہ ہم دوسرے پوسٹ میں ملاحظہ کریں گے۔
علامہ بن باز رحمہ اللہ سے جب اس بابت پوچھا گیا کہ:  
إذا مر رجل على قوم يأكلون، هل يسلم عليهم، لأنا سمعنا أن ذلك لا يجوز؟
جب کوئی شخص کھانا کھانے والے لوگوں ک پاس سے گزرے تو کیا وہ انہیں سلام کرے ،کیونکہ ہم نے سنا ہے کہ یہ جائز نہیں ہے۔؟

تو علامہ بن باز نے جواب دیا: 

نعم يسلم عليهم، والذي قال: لا يسلم غلط، يسلم عليهم، إذا جاء لقوم وهم يأكلون، أو يقرؤون، أو يتحدثون؛ يسلم عليهم، يقول: السلام عليكم، أو السلام عليكم ورحمة الله، أو ورحمة الله وبركاته، ولا يكره ذلك، بل يشرع، وهم يردون عليه. نعم..

Saturday, April 25, 2026

نحوست و توہم پرستی اسلام کی نظر میں!

بسم االلہ الرحمٰن الرحیم 

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ 

موضوع: نحوست و توہم پرستی اسلام کی نظر میں!
 
محمد اقبال قاسمی سلفی 

مصادر: مختلف مراجع و مصادر 

پر صغیر کے مسلمانوں میں مختلف طرح کی نحوست پرستی اور توہم پرستی دیکھنے کو ملتی ہے۔
آج سے چودہ سو سال پہلے امام الانبیاء خاتم النبیین والمرسلین نے لوگوں کو جس توہم پرستی سے روکا تھا ، پھر سے آج اسی توہم پرستی کی کھائی میں گرچکے ہیں۔
آج بھی لوگ صفر کے مہینے کو منحوس سمجھتے ہیں ، شادی کی تاریخوں میں عقرب اور نحس نکالا جاتا ہے، آگے سے بلی گزر جانے تو بد عقیدگی میں مبتلا ہوجاتے ہیں ،  الو کو تو عالمی پیمانے پر منحوس قرار دے دیا گیا ہے۔ علماء اور مفتیان کرام علامہ اقبال کے اس شعر کو اپنی تقریروں و تحریروں میں بیان کرنے کو شان خطابت سمجھتے ہیں: 
برباد گلستان کرنے کو ایک ہی الو کافی ہے 
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا ۔

ہمارے ہاں رائج نحوست پرستی کی مختلف شکلیں
کسی بلی کا آگے سے گزرنے کو کسی مصیبت کا پیش خیمہ سمجھنا 
صفر کے مہنے میں شادی بیاہ نہ کرنا 
نیا مکان بناتے ہوئے جوتا چپل لٹکانا
چھینک آنے کو براسمجھنا 
رات میں جھاڑو نہیں لگانا ورنہ برکت چلی جائے گی 
ٹوٹا ہوا آئینہ دیکھنے سے مصیبت آتی ہے ۔
بائیں آنکھ پھڑکنے سے مصیبتیں آتی ہیں۔
دائیں ہاتھ میں اگر کھجلی ہو تو مطلب دولت آنے والی ہے  
شادی کی تاریخ فال دیکھ کر متعین کرنا۔
پہلے گراہک کو ادھار دینا وغیرہ

جبکہ نحوست پرستی اور توہم پرستی کی اسلام میں کوئی جگہ نہیں ہے ۔
نبی صلی اللہ علیہ نے فرمایا:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ ۔
 نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” چھوت لگ جانا بدشگونی یا الو یا صفر کی نحوست یہ کوئی چیز نہیں ہے ۔“
صحیح بخاری حدیث نمبر:5757

 عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَوَّالٍ وَأُدْخِلْتُ عَلَيْهِ فِي شَوَّالٍ فَأَيُّ نِسَائِهِ كَانَ أَحْظَى عِنْدَهُ مِنِّي۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے شوال میں نکاح فرمایا اور شوال ہی میں آپ کے ہاں میری رخصتی ہوئی ۔ ( بتاؤ ! ) پھر آپ کی بیویوں میں سے کون آپ کے ہاں مجھ سے بڑھ کر محبت سے بہرہ ور ہوئی ؟ 
عروی راوی کہتے ہیں :وَكَانَتْ تَسْتَحِبُّ أَنْ تُدْخِلَ عَلَى النِّسَاءِ فِي شَوَّالٍ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پسند کرتی تھیں کہ ان کی رشتہ دار عورتوں کی شوال میں رخصتی ہو۔
سنن نسائی حدیث نمبر :3379

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بدشگونی کو شرک قرار دیتے ہوے فرمایا: 
الطِّيَرَةُ شِرْكٌ الطِّيَرَةُ شِرْكٌ ثَلَاثًا، ‏‏‏‏‏‏وَمَا مِنَّا إِلَّا وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ . 

  حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بدشگونی شرک ہے ، بدشگونی شرک ہے ۔‘‘ تین بار فرمایا ۔ اور ہم میں سے ہر ایک کو کوئی نہ کوئی وہم ہو ہی جاتا ہے ‘ مگر اللہ عزوجل اسے توکل کی برکت سے زائل کر دیتا ہے ۔
  
سنن ابوداؤد حدیث نمبر : 3910
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَطَيَّرَ ، أَوْ تُطِيَّرَ لَهُ أَوْ تَكَهَّنَ ، أَوْ تُكِهِّنَ لَهُ أَوْ سَحَرَ ، أَوْ سُحِرَ لَهُ وَمَنْ عَقَدَ عُقْدَةً أَوْ قَالَ : مَنْ عَقَدَ عُقْدَةً ، وَمَنْ أَتَى كَاهِنًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ(المعجم الكبير للطبراني:17/ 355)
’’حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشادفرمایا کہ
’’جس شخص نے فال نکالی یافال نکلوائی یاکہانت کاکام کیایااپنے لیے کروایایاجادوکیایاکسی سے جادوکروایا اس کاہم سے کوئی تعلق نہیں اورجوشخص کسی ’عامل ‘کے پاس گیااوراس کی باتوں پریقین کیاتواس نے اس چیز کے ساتھ کفرکیاجومحمدﷺ پرنازل کی گئی ہے۔‘‘

 عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ رَدَّتْهُ الطِّيَرَةُ مِنْ حَاجَةٍ فَقَدْ أَشْرَكَ ». قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كَفَّارَةُ ذَلِكَ قَالَ « أَنْ يَقُولَ أَحَدُهُمْ اللَّهُمَّ لاَ خَيْرَ إِلاَّ خَيْرُكَ وَلاَ طَيْرَ إِلاَّ طَيْرُكَ وَلاَ إِلَهَ غَيْرُكَ »(مسند أحمد:2/ 220 )
’’حضرت عبداللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
’’جس شخص کوبراخیال (بدشگونی)اس کے کام سے روک دے اس نے شرک کیا۔لوگوں نےکہاکہ پھراس کاکفارہ کیاہے؟آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایسی صورت میں یہ دعاپڑھاکرو:
اللہم لاطیر إلاطیرك ولاخیر إلاخیرك ولا إله غیرك‘‘
’’یااللہ !تیرے شگون کےسواکوئی شگون نہیں ،تیری بھلائی کےسواکوئی بھلائی نہیں اورتیرے سواکوئی معبودنہیں‘‘۔
اس سے معلوم ہواکہ اگردل میں کوئی براشگون پیداہوتومذکورہ دعاپڑھ لینی چاہیے ۔
بدفالی وبدشگونی لینا یہ ہردور میں کفارومشرکین کا شیوہ اوروطیرہ رہا ہے جيسا كه سوره يس كے اندر اللہ رب العالمین نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ جب اللہ رب العزت نے انطاکیہ بستی کے اندر اپنے کئی رسول بھیجے تو ان گاؤں والوں نے یہ کہا کہ ’ ’ إِنَّا تَطَيَّرْنَا بِكُمْ ‘‘ ہم تو تم کو منحوس سمجھتے ہیں۔(یس:17)اسي طرح سے قوم ثمود نے بھی بدشگونی لیتے ہوئے حضرت صالح علیہ الصلاۃ والسلام سے کہا کہ ’’ قَالُوا اطَّيَّرْنَا بِكَ وَبِمَنْ مَعَكَ ‘‘کہ اے صالح ہم تو تیری اور تیرے ساتھیوں کی بدشگونی لے رہے ہیں۔ (النمل:47)اسی طرح سے قرآن میں یہ بھی بیان موجود ہے کہ بدشگونی لینا اور بدشگونی کا عقیدہ رکھنا یہ فرعونیوں کا کام تھا جیساکہ اللہ رب العزت نے بیان فرمایا کہ ’’ فَإِذَا جَاءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوا لَنَا هَذِهِ وَإِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَطَّيَّرُوا بِمُوسَى وَمَنْ مَعَهُ ‘‘کہ جب فرعونیوں پر خوشحالی آجاتی تو یہ کہتے کہ یہ تو ہمارے لئے ہونا ہی چاہیے اور اگر ان کوکوئی بدحالی پیش آتی تو موسی علیہ الصلاۃ والسلام اور ان کے ساتھیوں کی نحوست بتلاتے۔(الاعراف:131)

بدشگونی لینے والوں کے لیے روز قیامت سب سے بڑے خسارے کی بات یہ ہوگی کہ ایسے لوگ ان ستر ہزار لوگوں میں شامل نہیں ہوں گے جو بغیر حساب کتاب جنت میں داخل ہوں گے ۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ ، هُمُ الَّذِينَ لَا يَسْتَرْقُونَ ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ .
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” میری امت کے ستر ہزار لوگ بے حساب جنت میں جائیں گے ۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو جھاڑ پھونک نہیں کراتے نہ شگون لیتے ہیں اور اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں ۔“

نحوست کہاں پائی جاتی ہے ۔
نحوست کی سب سے بڑی وجہ انسان کے خود کے اعمال اور اس کے کرتوت ہیں جس کے نتیجے میں اس کے دل و دماغ زنگ آلود ہو جاتے ہیں ۔

اللہ رب العزت کا فرمان ہے۔: 
إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِ آيَاتُنَا قَالَ أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ"
(جب اس کے سامنے ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ کہتا ہے، "یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں")۔
كَلَّا بَلْ ۜ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِـهِـمْ مَّا كَانُـوْا يَكْسِبُوْنَ (14)
ہرگز نہیں بلکہ ان کے (برے) کاموں سے ان کے دلوں پر زنگ لگ گیا ہے۔
یہ گناہوں کی نحوست ہے جس سے انسان کے دل و دماغ سیاہ ہو جاتے ہیں۔
 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا أَخْطَأَ خَطِيئَةً نُكِتَتْ فِي قَلْبِهِ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ، فَإِذَا هُوَ نَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ وَتَابَ سُقِلَ قَلْبُهُ، وَإِنْ عَادَ زِيدَ فِيهَا حَتَّى تَعْلُوَ قَلْبَهُ وَهُوَ الرَّانُ الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ: كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ سورة المطففين آية 14
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ پڑ جاتا ہے، پھر جب وہ گناہ کو چھوڑ دیتا ہے اور استغفار اور توبہ کرتا ہے تو اس کے دل کی صفائی ہو جاتی ہے (سیاہ دھبہ مٹ جاتا ہے) اور اگر وہ گناہ دوبارہ کرتا ہے تو سیاہ نکتہ مزید پھیل جاتا ہے یہاں تک کہ پورے دل پر چھا جاتا ہے، اور یہی وہ «ران» ہے جس کا ذکر اللہ نے اس آیت «كلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون» ”یوں نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ (چڑھ گیا) ہے“ (المطففین: ۱۴)، میں کیا ہے“۔
سنن ترمذی حدیث نمبر : 3334
پچھلی قوموں کو ان کے گناہوں کی نحوست نے ہی ہلاک کیا تھا :
 اللہ تعالی کا فرمان ہے : ﴿ أَلَمْ یَرَوْا کَمْ أَھْلَکْنَا مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنْ قَرْنٍ مَّکَّنّٰہُمْ فِی الْأَرْضِ مَا لَمْ نُمَکِّنْ لَّکُمْ وَأَرْسَلْنَا السَّمَآئَ عَلَیْہِمْ مِدْرَارًا وَّجَعَلْنَا الْأَنْھَارَ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھِمْ فَأَھْلَکْنٰھُمْ بِذُنُوْبِھِمْ وَأَنْشَأْنَا مِنْ بَعْدِھِمْ قَرْنًا آخَرِیْنَ ﴾ [ الأنعام : ۶ ]

’’ کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ ہم ان سے پہلے کتنی جماعتوں کو ہلاک کرچکے ہیں ، وہ جن کو ہم نے دنیا میں ایسی قوت دی تھی کہ تم کو وہ قوت نہیں دی ۔ اور ہم نے ان پر خوب بارشیں برسائیں اور ہم نے ان کے نیچے سے نہریں جاری کیں۔ پھر ہم نے انہیں ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کرڈالا اور ان کے بعد دوسری جماعتوں کو پیدا کردیا۔ ‘‘

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی نے سابقہ اقوام کی ہلاکت وبربادی کا تذکرہ کیا ہے جنھیں ان کے گناہوں کی وجہ سے ہی ہلاک وبرباد کیا گیا ۔ اسی طرح اللہ تعالی فرماتاہے : 
 فَکُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْبِہِ فَمِنْھُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِ حَاصِبًا وَ مِنْھُمْ مَّنْ اَخَذَتْہُ الصَّیْحَۃُ وَ مِنْھُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِہِ الْاَرْضَ وَ مِنْھُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیَظْلِمَھُمْ وَ لٰکِنْ کَانُوْٓا اَنْفُسَھُمْ یَظْلِمُوْنَ﴾ [العنکبوت: 40]

’’ ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ کے جرم میں دھر لیا ۔ پھر ان میں سے کچھ پر ہم نے پتھراؤ کیا اور کچھ ایسے جنھیں زبردست چیخ نے آلیا اور کچھ ایسے جنھیں ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور کچھ ایسے ہیں جنھیں ہم نے غرق کردیا ۔ اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہیں تھا لیکن یہ لوگ خود ہی اپنے آپ پر ظلم کر رہے تھے ۔ ‘‘
اور آئندہ بھی لوگ گناہوں کی وجہ سے ہی عذاب الٰہی کے مستحق بنیں گے:
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

( سَیَکُوْنُ فِیْ آخِرِ الزَّمَانِ خَسْفٌ وَقَذْفٌ وَمَسْخٌ ، قِیْلَ : وَمَتٰی ذَلِکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ؟ قَالَ : إِذَا ظَہَرَتِ الْمَعَازِفُ وَالْقَیْنَاتُ وَاسْتُحِلَّتِ الْخَمْرُ ) [صحیح الجامع للألبانی : 3665 ]

’’ آخری زمانے میں لوگوں کو زمین میں دھنسایا جائے گا ، ان پر پتھروں کی بارش کی جائے گی اور ان کی شکلیں مسخ کی جائیں گی ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ ایسا کب ہو گا ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب آلاتِ موسیقی پھیل جائیں گے ، گانے والیاں عام ہو جائیں گی اور شراب کو حلال سمجھ لیا جائے گا ۔ ‘‘

اسی طرح ارشاد باری ہے: 
 اَفَاَمِنَ الَّذِیْنَ مَکَرُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّخْسِفَ اللّٰہُ بِھِمُ الْاَرْضَ اَوْ یَاْتِیَھُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ ٭ اَوْ یَاْخُذَھُمْ فِیْ تَقَلُّبِھِمْ فَمَا ھُمْ بِمُعْجِزِیْنَ ٭ اَوْ یَاْخُذَھُمْ عَلٰی تَخَوُّفٍ فَاِنَّ رَبَّکُمْ لَرَؤفٌ رَّحِیْمٌ ﴾ [ النحل:۴۵۔ ۴۷]

’’برائیوں کا داؤ پیچ کرنے والے کیا اس بات سے بے خوف ہو گئے ہیں کہ اللہ تعالی انھیں زمین میں دھنسا دے یا ان پر ایسی جگہ سے عذاب آ جائے جہاں کا انھیں وہم وگمان بھی نہ ہو ؟ یا انھیں چلتے پھرتے پکڑ لے ؟ یہ کسی صورت میں اللہ تعالی کو عاجز نہیں کر سکتے ۔ یا انھیں ڈرا دھمکا کر پکڑ لے ؟ یقینا تمھارا رب نہایت مشفق اور بڑا ہی رحم کرنے والا ہے ۔ ‘‘

گناہوں کی نحوست  کی وجہ سے رزق میں تنگی آتی ہے۔
 وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِیْ فَإِنَّ لَہٗ مَعِیْشَۃً ضَنْکًا وَّنَحْشُرُہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اَعْمٰی٭ قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْ أَعْمٰی وَقَدْ کُنْتُ بَصِیْرًا٭ قَالَ کَذَلِکَ أَتَتْکَ اٰیَاتُنَا فَنَسِیْتَہَا وَکَذَلِکَ الْیَوْمَ تُنْسٰی﴾ [ طٰہ: ۱۲۴۔۱۲۶ ]

  ’’ اور جو شخص میرے ذکر سے روگردانی کرے گا وہ دنیا میں تنگ حال رہے گا اور ہم اسے بروز قیامت اندھا کرکے اٹھائیں گے۔ وہ پوچھے گا : اے میرے رب ! تو نے مجھے نابینا بنا کر کیوں اٹھایا حالانکہ میں توبینا تھا ؟
تعالیٰ جواب دے گا : اسی طرح ہونا چاہئے تھا کیونکہ تمہارے پاس ہماری آیات آئی تھیں لیکن تم نے انہیں بھلا دیا۔ اسی طرح آج تمہیں بھی بھلا دیا جائے گا ۔‘‘

عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «لَا يَزِيدُ فِي الْعُمْرِ إِلَّا الْبِرُّ ، وَلَا يَرُدُّ الْقَدَرَ إِلَّا الدُّعَاءُ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيُحْرَمُ الرِّزْقَ بِخَطِيئَةٍ يَعْمَلُهَا»
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ صرف نیکی ہی عمر میں اضافے کا باعث ہوتی ہے اور تقدیر کو محض دعا ہی ٹالتی ہے ، بلا شبہ انسان کو بعض اوقات ایک گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے رزق سے محروم کر دیا جاتا ہے ۔‘‘ 

سنن ابن ماجہ حدیث نمبر: 90
 گناہوں کی نحوست کی وجہ سے انسان کا کام مشکل جبکہ نیکیوں کی برکت سے آسان ہو جاتا ہے: 

للہ تعالی کا فرمان ہے :
﴿ وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَہٗ مِنْ اَمْرِہٖ یُسْرًا﴾ [الطلاق: 4 ]

’’ اور جو اللہ تعالی سے ڈرتا رہے ( یعنی اس سے ڈر کر گناہوں سے بچتا رہے ) تو اللہ اس کے ہر کام کو آسان کردیتاہے ۔ ‘‘
نحوست پرستی اور بد عقیدگی سے کیسے بچیں ، آئیے جانتے ہیں ۔
1)انسان کو یہ عقیدہ رکھنا چاہیے کہ نفع نقصان کا مالک اللہ کی ذات ہے ۔ اللہ کی مشیت کے بنا دنیا کی کوئی شیء انسان کو نفع پہنچا سکتی ہے اور نہ نقصان ۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا غُلَامُ،‏‏‏‏ إِنِّي أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ:‏‏‏‏ احْفَظْ اللَّهَ يَحْفَظْكَ احْفَظْ اللَّهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ لَكَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَضُرُّوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏رُفِعَتِ الْأَقْلَامُ وَجَفَّتِ الصُّحُفُ ۔
 میں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سواری پر پیچھے تھا، آپ نے فرمایا: ”اے لڑکے! بیشک میں تمہیں چند اہم باتیں بتلا رہا ہوں: تم اللہ کے احکام کی حفاظت کرو، وہ تمہاری حفاظت فرمائے گا، تو اللہ کے حقوق کا خیال رکھو اسے تم اپنے سامنے پاؤ گے، جب تم کوئی چیز مانگو تو صرف اللہ سے مانگو، جب تو مدد چاہو تو صرف اللہ سے مدد طلب کرو، اور یہ بات جان لو کہ اگر ساری امت بھی جمع ہو کر تمہیں کچھ نفع پہنچانا چاہے تو وہ تمہیں اس سے زیادہ کچھ بھی نفع نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، اور اگر وہ تمہیں کچھ نقصان پہنچانے کے لیے جمع ہو جائے تو اس سے زیادہ کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، قلم اٹھا لیے گئے اور ( تقدیر کے ) صحیفے خشک ہو گئے ہیں“ ۔

سنن ترمذی حدیث نمبر:2516

سورہ توبہ میں اللہ رب العزت فرماتا ہے۔ 
قُلْ لَّنْ يُّصِيْبَنَـآ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّـٰهُ لَنَاۚ هُوَ مَوْلَانَا ۚ وَعَلَى اللّـٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُـوْنَ (51)
کہہ دو ہمیں ہرگز نہ پہنچے گا مگر وہی جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دیا، وہی ہمارا کارساز ہے، اور اللہ ہی پر چاہیے کہ مومن بھروسہ کریں۔
، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الطِّيَرَةُ شِرْكٌ الطِّيَرَةُ شِرْكٌ ثَلَاثًا، وَمَا مِنَّا إِلَّا وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: ”بدشگونی شرک ہے اور ہم میں سے ہر ایک کو وہم ہو ہی جاتا ہے لیکن اللہ اس کو توکل سے دور فرما دیتا ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3910]
2) اللہ کی ذات سے ہر حال میں حسن ظن قائم رکھے۔
حدیث قدسی ہے اللہ نے کہا کہ ’’ أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي إِنْ ظَنَّ بِي خَيْرًا فَلَهُ وَإِنْ ظَنَّ شَرًّا فَلَهُ ‘‘میں اپنے بندوں کے ساتھ اس کے گمان کے مطابق اس کے معاملات کو انجا م دیتا ہوں وہ اس طرح سے کہ اگر وہ میرے بارے میں اچھا گمان رکھتا ہے تو اس کے ساتھ اچھا ہی ہوتا ہے اور اگر وہ میرے بارے میں براگمان رکھتا ہے تو اس کے ساتھ برا ہی ہوتا ہے۔ (الصحیحہ:1664،احمد:9076)

3)بدگمانی اور بد عقیدگی پیدا کرنے والی جگہوں سے دوری اختیار کرے۔
 ‏‏‏‏‏‏عَنْأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَجُلٌ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّا كُنَّا فِي دَارٍ كَثِيرٌ فِيهَا عَدَدُنَا، ‏‏‏‏‏‏وَكَثِيرٌ فِيهَا أَمْوَالُنَا، ‏‏‏‏‏‏فَتَحَوَّلْنَا إِلَى دَارٍ أُخْرَى فَقَلَّ فِيهَا عَدَدُنَا وَقَلَّتْ فِيهَا أَمْوَالُنَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ ذَرُوهَا ذَمِيمَةً .
  حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہم ایک گھر میں تھے ‘ اس میں ہم بہت سے افراد تھے اور وہاں ہمارے اموال بھی بہت تھے ۔ پھر ہم ایک دوسرے گھر میں منتقل ہوئے تو ہمارے افراد کم ہو گئے اور اموال میں بھی قلت ہو گئی ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے چھوڑ دو ‘ یہ برا گھر ہے ۔‘‘  
سنن ابوداؤد حدیث نمبر:3924

4)مسنون اذکار کو لازم پکڑے 

عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ , قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" مَا مِنْ عَبْدٍ , يَقُولُ فِي صَبَاحِ كُلِّ يَوْمٍ , وَمَسَاءِ كُلِّ لَيْلَةٍ: بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ , ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَيَضُرَّهُ شَيْءٌ" , قَالَ: وَكَانَ أَبَانُ قَدْ أَصَابَهُ طَرَفٌ مِنَ الْفَالِجِ , فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَنْظُرُ إِلَيْهِ , فَقَالَ لَهُ أَبَانُ: مَا تَنْظُرُ إِلَيَّ؟ أَمَا إِنَّ الْحَدِيثَ كَمَا قَدْ حَدَّثْتُكَ , وَلَكِنِّي لَمْ أَقُلْهُ يَوْمَئِذٍ لِيُمْضِيَ اللَّهُ عَلَيَّ قَدَرَهُ.
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو کوئی بندہ ہر دن صبح اور شام تین بار یہ کہے: «بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الأرض ولا في السماء وهو السميع العليم» ”اس اللہ کے نام سے جس کے نام لینے سے زمین اور آسمان کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی ہے، وہ سمیع و علیم (یعنی سننے اور جاننے والا ہے) تو اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی“۔ راوی کہتے ہیں: ابان کچھ فالج سے متاثر ہو گئے تو وہ شخص انہیں دیکھنے لگا، ابان نے اس سے کہا: مجھے کیا دیکھتے ہو؟ سنو! حدیث ویسے ہی ہے جیسے میں نے تم سے بیان کی، لیکن میں اس دن یہ دعا نہیں پڑھ سکا تھا تاکہ اللہ تعالیٰ اپنی تقدیر مجھ پر نافذ کر دے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3869]

5)گھروں میں قرآن کی تلاوت کا اہتمام کرے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْفِرُ مِنَ الْبَيْتِ الَّذِي تُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ ‘‘ کہ تم اپنے اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ ،بیشک کہ شیطان اس گھر سے بھاگ جاتاہے جس گھر میں سورہ بقرہ کی تلاوت کی جاتی ہو،اور ایک دوسری روایت کے اندر یہ الفاظ ہیں ’’ لَا يَدْخُلُهُ الشَّيْطَانُ ‘‘ایسے گھر میں شیطان داخل بھی نہیں ہوسکتا ہے۔(مسلم:780،احمد:8915)اسی طرح سے یہ بھی آپﷺ نے فرمایا کہ فرض نماز باجماعت ادا کرکے اپنے نفل نماز کا کچھ نہ کچھ حصہ اپنے گھرکے لئے ضروربچالیا کرو اور پھر اپنے گھرمیں جاکرنفل نمازیں اداکیا کرو جیسا کہ ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا ’’ اِجْعَلُوا فِي بُيُوتِكُمْ مِنْ صَلاَتِكُمْ وَلاَ تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا ‘‘کہ تم اپنے اپنے گھروں میں نمازیں کچھ نہ کچھ ضروراداکیاکرو اور اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ۔(بخاری:432،مسلم:777) 

6)گھروں میں سلام سلام کرکے داخل ہو۔
 اللہ تعالی کا فرمان ہے
(فَإِذَا دَخَلْتُم بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَى أَنفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِّنْ عِندِ اللَّهِ مُبَارَكَةً طَيِّبَةً)سورة النور
"جب تم گھروں میں داخل هو تو اپنے گھر والوں کو سلام کرلیا کروجو اللہ کی جانب سے مبارک اور پاکیزہ سلام ہے "

قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‏:‏ ”ثَلاَثَةٌ كُلُّهُمْ ضَامِنٌ عَلَى اللهِ، إِنْ عَاشَ كُفِيَ، وَإِنْ مَاتَ دَخَلَ الْجَنَّةَ‏:‏ مَنْ دَخَلَ بَيْتَهُ بِسَلاَمٍ فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَمَنْ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَى اللهِ، وَمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِ اللهِ فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَى اللهِ‏.‏“
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین شخص ایسے ہیں جن کی ضمانت اور ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے لی ہے کہ اگر وہ زندہ رہے تو اللہ کی طرف سے ان کی حاجات کی کفایت ہوگی (اور ہر شر سے بھی اللہ کافی ہوگا)، اور اگر فوت ہو گئے تو جنت میں داخل ہوں گے: جو گھر میں «السلام» کہہ کر داخل ہوا تو اللہ عز و جل نے اس کا ذمہ لے لیا، اور جو مسجد کی طرف گیا تو اس کی ضمانت بھی اللہ پر ہے، نیز جو شخص اللہ کے راستے میں نکلے اس کا ضامن بھی اللہ تعالیٰ ہے۔“ [الادب المفرد/كتاب الاستئذان/حدیث: 1094]
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ فَذَكَرَ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ وَعِنْدَ طَعَامِهِ قَالَ الشَّيْطَانُ لَا مَبِيتَ لَكُمْ وَلَا عَشَاءَ وَإِذَا دَخَلَ فَلَمْ يَذْكُرْ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ قَالَ الشَّيْطَانُ أَدْرَكْتُمْ الْمَبِيتَ وَإِذَا لَمْ يَذْكُرْ اللَّهَ عِنْدَ طَعَامِهِ قَالَ أَدْرَكْتُمْ الْمَبِيتَ وَالْعَشَاءَ
 حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے خبر دی ، انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جب کوئی شخص اپنے گھر میں داخل ہو اور گھر میں داخل ہوتے وقت اور کھانا شروع کرتے وقت اللہ کا نام لے تو شیطان کہتا ہے : یہاں تمہارے لیے ٹھہرنے کی جگہ ہے نہ کھانا ہے ، اور جب کوئی شخص گھر میں داخل ہو اور داخل ہوتے وقت اللہ کا نام نہ لے تو شیطان کہتا ہے : تمہیں رات گزارنے کی جگہ مل گئی اور جب وہ کھانے کے وقت اللہ کا نام نہ لے تو شیطان کہتا ہے : تمہیں رات گزارنے کی جگہ اور کھانا دونوں مل گئے ۔‘‘
صحیح مسلم حدیث نمبر:2018

7)گھروں کو تصویروں اور مجسموں سے پاک رکھے کیوں کہ فرشتے ایسے گھروں میں داخل نہیں ہوتے جہاں تصویریں ہوتی ہیں اور جہاں فرشتے نہیں آئیں گے وہاں شیطان آۓ گا اور جہاں شیطان آۓ گا وہاں نحوست آۓ گی۔ 
8)کسی مصیبت یا پریشانی کے بعد اگر مگر کرنے کے بچو ۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ وَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَلَا تَعْجَزْ وَإِنْ أَصَابَكَ شَيْءٌ فَلَا تَقُلْ لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَانَ كَذَا وَكَذَا وَلَكِنْ قُلْ قَدَرُ اللَّهِ وَمَا شَاءَ فَعَلَ فَإِنَّ لَوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ
 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ طاقتور مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن کی نسبت بہتر اور زیادہ محبوب ہے ، جبکہ خیر دونوں میں ( موجود ) ہے ۔ جس چیز سے تمہیں ( حقیقی ) نفع پہنچے اس میں حرص کرو اور اللہ سے مدد مانگو اور کمزور نہ پڑو ( مایوس ہو کر نہ بیٹھ ) جاؤ ، اگر تمہیں کوئی ( نقصان ) پہنچے تو یہ نہ کہو : کاش ! میں ( اس طرح ) کرتا تو ایسا ایسا ہوتا ، بلکہ یہ کہو : ( یہ ) اللہ کی تقدیر ہے ، وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ، اس لیے کہ ( حسرت کرتے ہوئے ) کاش ( کہنا ) شیطان کے عمل ( کے دروازے ) کو کھول دیتا ہے ۔‘‘ 

صحیح مسلم حدیث نمبر 2664
میرے محترم اسلامی بھائیو! مذہب اسلام نے جہاں بدشگونی اور توہم پرستی سے منع کیا ہے وہیں نیک فال لینے کو جائز و مباح قرار دیا ہے۔ فال اور بدشگونی میں یہ  فرق ہے کہ بدشگونی انسان کو مایوسی اور شرک کی طرف لے جاتی ہے جبکہ 
فال انسان کو اللہ پر حسنِ ظن اور امید کی طرف لاتی ہے بشگوںی انسان کو منفی سوچ کا حامل بنادیتی ہے جبکہ نیک فال انسان کو مثبت سوچ  ( thinking positive) فراہم کرتی ہے۔ بدشگونی تذبذب اور توہم جیسی لاعلاج بیماریاں پیدا کرتی ہیں جبکہ فال ان کو محکم اور مظبوط بناتی ہے۔ اسی مذہب اسلام نے بدشگونی کو بجائے فال لینے کو جائز قرار دیا ہے۔

 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا طِيَرَةَ وَخَيْرُهَا الْفَأْلُ"، قَالَ: وَمَا الْفَأْلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ:" الْكَلِمَةُ الصَّالِحَةُ يَسْمَعُهَا أَحَدُكُمْ"
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بدشگونی کی کوئی اصل نہیں اور اس میں بہتر فال نیک ہے۔“ لوگوں نے پوچھا کہ نیک فال کیا ہے یا رسول اللہ؟ فرمایا ”کلمہ صالحہ (نیک بات) جو تم میں سے کوئی سنے۔
صحیح البخاری حدیث نمبر: 5755
رضاخانی علماء نے بھی بدشگونی کو غلط قرار دیا ہے۔چنانچہ بہار شریعت میں ہے: 
تیرہ تیزی یعنی صفر المظفر کے ابتدائی تیرہ تاریخوں اور اسی ماہ کے آخری بدھ کے متعلق عوام الناس نے کئی خلاف شرع باتیں گڑھ لی ہیں، جس کی کوئی اصل نہیں ہے۔ حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: "ماہ صفر کو لوگ منحوس جانتے ہیں اس میں شادی بیاہ نہیں کرتے، لڑکیوں کو رخصت نہیں کرتے اور بھی اس قسم کے کام کرنے سے پرہیز کرتے ہیں اور سفر کرنے سے گریز کرتے ہیں، خصوصاً ماہ صفر کی ابتدائی تیرہ تاریخیں بہت زیادہ نحس مانی جاتی ہیں اور ان کو تیرہ تیزی کہتے ہیں یہ سب جہالت کی باتیں ہیں۔ 
(بہار شریعت ج٣، ح١٦، مسئلہ٣٨)
مولانا احمد رضاخان سے ماہ صفر ک آخری بدھ ک بار میں سوال کیا گیا کہ ماہ صفر کے آخری چارشنبہ (بدھ)کے متعلق عوام میں مشہور ہے کہ اس روز رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض سے صحت پائی تھی بنا بریں اس روزکھانا تقسیم کرتے ہیں اور جنگل کی سیر کوجاتے ہیں۔۔۔۔ مختلف جگہوں پر مختلف معمولات ہیں کہیں اس روز کو نجس و نامبارک جان کرپرانے پرتن گلی میں توڑ ڈالتے ہیں اور تعویز،چھلہ چاندی اس روز کی صحت بخشی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مریضوں کو استعمال کراتے ہیں یہ جملہ امور شریعت میں ثابت ہیں کے نہیں ؟
تو مولانا احمد رضا خان نے جواب دیتے ہوے لکھا : 

" آخری چارشنبہ (بدھ) کی کوئی اصل نہیں نہ ہی اس دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحت پانے کا کوئی ثبوت ہے۔بلکہ مرض اقدس جس میں وفات مبارک ہوئی اس کی ابتدا اسی دن سے بتائی جاتی ہے اور اسے نجس سمجھ کرمٹی کے برتنوں کو توڑدینا گناہ اور اضاعت مال ہے ۔ بہرحال یہ سب باتیں بلکل بے اصل اور بے معنی ہیں “

احکام شریعت حصہ دوم صفحہ 193،194

احمد رضاخان بری فال نکالنے والوں کے بارے میں لکھتے ہیں:  حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :بری فال نکالنا اور اس پر کار بندہونا مشرکین کا طریقہ اور دستور ہے۔ "(فتاوی رضویہ ،ج 23، ص 266، رضا فاؤنڈیشن ،لاہور)

دعوت اسلامی والوں کے جب پوچھا گیا کہ : 

   کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی کی دائیں آنکھ پھڑکے تو کیا ہوتا ہے؟ 
تو جواب دیا گیا : 
  بائیں آنکھ پھڑکنے کو کچھ برا ہونے کی علامت سمجھا جاتا ہے،اور یہ نظریہ رکھنا کہ آنکھ پھڑکنے کی وجہ سے کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے تو یہ بدشگونی ہے اور کسی چیز سے بد شگونی لینا مسلمانوں کا طریقہ نہیں بلکہ غیر مسلموں کا شیوہ ہے۔ لہذا ایسے نظریات سے بچنا چاہیے۔اوراللہ تعالی پرتوکل اوربھروسہ رکھناچاہیے ، بحیثیت مسلمان ہمارا یہ عقیدہ ہونا چاہیے کہ اچھائی برائی، غمی خوشی ،اسی طرح کسی کام کا سنورنابگڑنا، الغرض کوئی کام بھی اللہ رب العالمین کی مشیت کے بغیرممکن نہیں۔ 

   قرآن پاک میں اللہ تعالٰی ارشاد فرماتاہے ﴿ قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِكَ وَ بِمَنْ مَّعَكَ ط-قَالَ طٰٓىٕرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ﴾ ترجمہ کنز الایمان: بولے ہم نے برا شگون لیا تم سے اور تمہارے ساتھیوں سے فرمایا تمہاری بدشگونی اللہ کے پاس ہے بلکہ تم لوگ فتنے میں پڑے ہو۔ (پارہ 19،سورۃ النمل،آیت 47)

    مذکورہ آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے” یاد رہے کہ بندے کو پہنچنے والی مصیبتیں اس کی تقدیر میں لکھی ہوئی ہیں ۔۔۔ اورمصیبتیں آنے کا عمومی سبب بندے کے اپنے برے اعمال ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے﴿ وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍ ﴾ ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ تمہارے ہاتھوں کے کمائے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہے اور بہت کچھ تو (اللہ) معاف فرما دیتا ہے۔

   اور جب ایسا ہے تو کسی چیز سے بد شگونی لینا اور اپنے اوپر آنے والی مصیبت کو اس کی نحوست جاننا درست نہیں اور کسی مسلمان کو تو یہ بات زیب ہی نہیں دیتی کہ وہ کسی چیز سے بد شگونی لے کیونکہ یہ تو مشرکوں کا ساکام ہے جیساکہ حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے تین بار ارشاد فرمایا کہ بد شگونی شرک (یعنی مشرکوں کا سا کام) ہے اور ہمارے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں ،اللہ تعالٰی اسےتوکُّلکے ذریعے دور کر دیتا ہے۔ (صراط الجنان،ج 7،ص 211،212،مکتبۃ المدینہ)

   حدیث پاک میں ہے” ثلاث لم تسلم منها هذه الأمة: الحسد والظن والطيرة، ألا أنبئكم بالمخرج منها! إذا ظننت فلا تحقق، وإذا حسدت فلا تتبع، وإذا تطيرت فامض‘‘ ترجمہ: تین خصلتیں اس امت سے نہ چھوٹیں گی، حسد، بدگمانی اور بدشگونی، کیامیں تمہیں ان کا علاج نہ بتادوں، بد گمانی آئے تو اس پر کاربند نہ ہو اور حسد آئے تو محسود پر زیادتی نہ کرواور بدشگونی کے باعث کام سے نہ رکو ۔ (کنز العمال،رقم الحدیث 43789،ج 16،ص 27،28، مؤسسة الرسالة )

   شیخِ محقق عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:”(ترجمہ) براشگون لینے کا،فائدہ حاصل کرنے اور نقصان کے دور کرنے میں کچھ دخل نہیں ہے ،اس کا عقیدہ نہیں رکھنا چاہیے اور اس کا اعتبار نہیں کرنا چاہیے جو کچھ ہونے والا ہے ،ہو کر رہے گا۔شارع علیہ السلام نے اس کا اعتبار نہیں کیا اور اسے دخل نہیں دیا۔‘‘(اشعۃ اللمعات مترجم،ج5،ص755،مطبوعہ:فرید بک سٹال)

فتوی دعوت اسلامی 
فتوی نمبر : WAT-3076
اللہ ربّ العزت امت مسلمہ کو شرک و بدعت سے بچنے اور قرآن و سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے!

Monday, April 13, 2026

متفرقات احمد رضا خان

 1) اگر کسی شخص کایہ اعتقاد ہے کہ جب تک کھانا سامنے نہ کیاجائے گا، ثواب نہ پہنچے گا، تویہ گمان اس کا محض غلط ہے۔
‘‘(فتاوی رضویہ،ج9،ص564،565،566،567،رضا فاؤنڈیشن،لاہور)

Sunday, April 5, 2026

786 کی بدعت

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ 

موضوع: 786 کی بدعت
 
اقبال قاسمی سلفی 

مصادر: مختلف مراجع و مصادر 

ہمارے یہاں دیوبندی اور بریلوی عوام و خواص میں 786 لکھنے کی بدعت عام ہے۔ لوگ اسے بسم اللہ الرحمن الرحیم کا بدل سمجھ کر بے دھڑک استعمال کرتے ہیں، رضاخانیت کے پیروکاوں نے تو اسے رضاخانیت کی شناخت کا ذریعہ اور علامت ہی نہیں بلکہ اسے تبرک کا عدد بنالیا ہے۔ چنانچہ دین مہر کی مقدار متعین کرنے سے لے کر تعزیے کے چندے تک میں اس عدد کو ملحوظ نظر رکھا جاتا ہے۔
جبکہ بسم اللہ الرحمن الرحیم کی جگہ 786 کا استعمال کرنا کتاب و سنت کی تعلیمات کےخلاف ہے ۔ نہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے یہ ثابت ہے اور نہ ہی ائمہ اربعہ رحمہم اللہ نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے ۔ بلکہ یہ یہودیت کی روش اور ان کے علوم کی تقلید کے نتیجے میں مسلمانوں کے تقلیدی جماعت میں داخل ہو گیا ہے۔ اس کی کڑیاں اسلام سے تو نہیں لیکن ہندومت ،مجوس اور یہودیوں سے جاکرضرور ملتی ہیں۔ 
"جب مسلمانوں نے یہود کے علمِ قبالا سے استفادہ کر کے جی میٹریا کا علم حاصل کیا تو پھر اس کا قرآنِ مجید کی آیاتِ مبارکہ بلکہ سورتوں پر بھی اطلاق ایسا عمل تھا جو ہمارے جسارت کوش نْدرت پسندوں کے لیے مشکل نہ تھا ۔انہوں نے اس کا مصحف پاک پر بے دھڑک استعمال کیا۔مگر بِسمِ اللّٰہ کے لیے 786 کا استعمال ہر قسم کی تحریروں مثلاً کتابوں' مجلّوں اور مقالوں میں بہ شدتِ تمام نظر آتا ہے۔ اور یہ یقین دلایا جاتا ہے کہ786 واقعی بِسمِ اللّٰہ کا بدل ہے۔

درحقیقت یہ ہر گز بدل یا مترادف نہیں۔ یہ تو محض عدد ہے کیونکہ اس کا اطلاق کسی چیز پر بھی کیا جا سکتا ہے، مثلاً786ظروفِ شراب' جڑی بوٹیاں وغیرہ وغیرہ چاہے وہ وہ اچھی ہوں یا بری' حرام ہوں یا حلال۔ لہٰذا یہ اعداد کسی صورت بِسمِ اللّٰہ شریف کا بدل ہر گز نہیں۔

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کو عربی زبان میں نازل کیا تا کہ لوگ اس کو سمجھ سکیں اور ہدایت یاب ہوں۔ اگر اعداد ہی سے مقصد حاصل ہو سکتا تو یہ آسان طریقہ کیوں اختیار نہیں کیا گیا؟ کیا نعوذ باللہ ذاتِ باری تعالیٰ سے غلطی سرزد ہوئی جسے ہمارے علما درست کرنے کی کوشش فرما رہے ہیں؟" 

بعض لوگ کہتے ہیں ہم اس لیے ایسا لکھتے ہیں کہ کہیں بسم اللہ کی بے ادبی نہ ہو جائے۔
ایسا لگتا ہے کہ ان کے دل میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کا ادب و احترام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے سے زیادہ ہے۔
 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو جب غیر مسلموں کو دعوتی خط لکھےتھے تو آپ علیہ السلام نے پوری بسم اللہ ہی لکھی تھی نہ کہ اس کی جگہ کوئی اور الفاظ استعمال کیے تھےتو ہمارے لیے سب سے بہترین طریقہ نبی علیہ السلام کا طریقہ ہے۔
صلح حدیبیہ جو کہ کفار کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک فیصلہ کن صلح کر رہے تھے ، اور کفار کے ساتھ صلح نامہ لکھا جا رہا تھا ، جن کفار کو اللہ کے نام اور اس کی صفات سے دشمنی تھی ، تب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کاتب سے پوری بسم اللہ ہی لکھنے کو کہا جب کافروں نے نے اس پر اعتراض کیا تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےایسے الفاظ لکھنے کو کہا جس میں کم از کم اسم اللہ موجود تھا۔
جیسا کہ صحیح بخاری میں درج ہے: 
فجاء سهيل بن عمرو، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ هات اكتب بيننا وبينكم كتابا، ‏‏‏‏‏‏فدعا النبي صلى الله عليه وسلم الكاتب، ‏‏‏‏‏‏فقال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ بسم الله الرحمن الرحيم، ‏‏‏‏‏‏قال سهيل:‏‏‏‏ اما الرحمن، ‏‏‏‏‏‏فوالله ما ادري ما هو، ‏‏‏‏‏‏ولكن اكتب باسمك اللهم كما كنت تكتب، ‏‏‏‏‏‏فقال المسلمون:‏‏‏‏ والله لا نكتبها إلا بسم الله الرحمن الرحيم، ‏‏‏‏‏‏فقال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ اكتب باسمك اللهم۔
صحیح بخاری حدیث نمبر : 2732
جب سہیل بن عمرو آیا تو کہنے لگا کہ ہمارے اور اپنے درمیان ( صلح ) کی ایک تحریر لکھ لو ۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے کاتب کو بلوایا اور فرمایا کہ لکھو بسم الله الرحمن الرحيم سہیل کہنے لگا رحمن کو اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ وہ کیا چیز ہے ۔ البتہ تم یوں لکھ سکتے ہو باسمك اللهم‏ جیسے پہلے لکھا کرتے تھے مسلمانوں نے کہا کہ قسم اللہ کی ہمیں بسم الله الرحمن الرحيم کے سوا اور کوئی دوسرا جملہ نہ لکھنا چاہئے ۔ لیکن آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ باسمك اللهم‏ ہی لکھنے دو ۔ 

سلیمان علیہ السلام اللہ کے نبی تھے ، انہوں نے جب ایک کافر عورت کو اپنا خط بھیجا تو اس خط کے شروع میں بھی انہوں نے پورا بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا تھا۔
قرآن پاک نے سلیمان علیہ السلام کے اس خط کے ابتدائی حصے کا ذکر کیا ہے جو انہوں نے ملکہ بلقیس کو لکھا تھا : 
چنانچہ اس واقعے کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا: 

 :قَالَتْ يٰٓاَيُّهَا الْمَلَؤُا اِنِّىْٓ اُلْقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيْمٌ 
وہ کہنے لگی اے سردارو! میری طرف ایک باوقعت خط ڈالا گیا ہے۔
اِنَّهٗ مِنْ سُلَيْمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ 
جو سلیمان کی طرف سے ہے اور جو بخشش کرنے والے مہربان اللہ کے نام سے شروع ہے۔
 سورۃ النمل آیت نمبر ۲۹،۳۰
اَلَّا تَعۡلُوۡا عَلَیَّ وَ اۡتُوۡنِیۡ مُسۡلِمِیۡنَ۔
(اس کامضمون یہ ہے) کہ تم لوگ مجھ پر سربلندی (کی کوشش) مت کرو اور فرمانبردار ہو کر میرے پاس آجاؤ۔ سورہ نمل :٣١
اس آیت سے بھی یہی ہم کو درس ملتا ہے کہ چاہے وہ خط کسی کافر کو بھی کیوں نہ لکھنا ہو پوری بسم اللہ لکھ کر ہی شروع کرنا چاہیے۔جو آجکل بسم اللہ کی جگہ ۷۸۶ لکھا جا رہا ہے یہ غلط ہے۔ بعض لوگ بسم اللہ کی جگہ ۷۸۶ تو لکھتے ہیں تو کیا کبھی انہوں نے اسلام علیکم کی جگہ اس کے اعداد لکھے ہیں؟ جو کہ یہ بنتے ہیں ۳۲۲ یقینا کبھی کسی نے ایسا نہیں لکھا تو بسم اللہ کے ساتھ ہی یہ معاملہ کیوں کیا جاتا ہے؟دوسرا اس کا نقصان بھی بہت ہوتا ہے مثلا اگر ہم بسم اللہ لکھیں تو کیونکہ یہ قرآن کی آیت ہے اس لیے ہر لفظ پر ۱۰ نیکیاں ملتی ہیں ٹوٹل اس میں ۱۹ حروف بنتے ہیں تو نیکیاں ۱۹۰ ملتی ہیں اور اگر ہم ۷۸۶ لکھیں تو ایک تو ہم ۱۹۰ نیکیوں سے محروم ہو گے اور دوسرا ایک ایسا عمل کر کے جو کہ قرآن و سنت کے خلاف ہے بدعت کے مرتکب بھی بن گے۔
اس سے یہ بخوبی واضح ہے کہ 786 کو سند جواز عطا کرنے کے لیے جو دلیلیں پیش کرتے ہیں کہ بسم اللہ کے بجائے 786 لکھ کر وہ اسے موقع اہانت سے بچانے کا کام کر رہے ہیں ، ان کا یہ فتویٰ سرے سے غلط ہے ۔ کیونکہ اگر اس اندیشے کی بنیاد پر بسم اللہ نہ لکھنا ہی بہتر ہوتا تو سلیمان علیہ السلام ایک کافرہ کو خط لکھتے ہوے اس ک شروع میں بسم اللہ ہرگز نہیں لکھٹے۔
اب آپ اس کے بر خلاف دارلعلوم دیوبند کا فتویٰ ملاحظ کریں
چنانچہ جب دارالعلوم دیوبند سے اس بابت پوچھا گیا کہ 7860کی کیا حقیقت ہے؟ کیا اسے بسم اللہ کی لکھا جاسکتا ہے؟
تو دارالعلوم دیوبند نے جواب دیا: 
  آیت کریمہ بسم اللہ پر دال ہے، اور آیت کریمہ کا واجب الاحترام والتعظیم ہونا اور اس کو موقع اہانت و ذلت سے بچانا شرعاً واجب ہوتا ہے اورخط وغیرہ عام تحریرات عموماً ہرجگہ پڑی رہتی ہیں اگر آیت کریمہ لکھی جائے تو اس کا موقع ذلت واہانت بلکہ مواقع نجاست تک میں پڑجانا ظاہر ہے اس لیے اگر کوئی شخص اس آیت کریمہ کو موقع ذلت واہانت میں پڑنے سے بچانے کی نیت سے بجائے آیت کریمہ کے ۷۸۶ لکھ دے تو الأمور بمقاصدھا کے مطابق بلاشبہ جائز رہے گا۔ (نظام الفتاویٰ: ج۱ ص۳۹۵)
دارالافتاء 
دارالعلوم دیوبند 
فتویٰ نمبر : 2857
دارالعلوم دیوبند کے اس فتوے میں بھی بسم اللہ الرحمن الرحیم کی جگہ 786 لکھنے کو جائز قرار دیا گیا ہے بلکہ اس فتوے کے مطابق بسم اللہ الرحمن الرحیم کی جگہ 786 لکھنا بلاشبہ جائز ہے ، اور وجہ جواز یہ قرار دیا کہ اسے موقع اہانت و ذلت سے بچانا ہے۔ لیکن بسم اللہ الرحمن الرحیم کی جگہ 786 کا استعمال ہی سب سے بڑی ذلت و اہانت اور سوء ادب ہے۔ کیونکہ ہمیں اور آپ کو قطعی یہ گوارہ نہیں ہوگا کہ کوئی ہمیں ہمارے نام کے بجائے عدد سے پکارے یا خطاب کرے ۔ مثلا خالد بھائی کو خالد بھائی نہ کہ کر 635 بھائی کہ کر بلایا جاۓ، مولانا صاحب کو 128 صاحب اور مفتی صاحب کو 530 صاحب کہ کر پکارا چاۓ۔ سوچیے ! تب یہ خالد بھائی ،مولانا صاحب اور مفتی صاحب ملکر اس شخص کا کیا حال کریں گے ، مفتی صاحب اس پر بدسلوک، بد تہذیب اور بدتمیز ہونے کے فتوے لگا دیں گے۔ دل میں اہانت و ذلت کی بھٹی سلگ اٹھے گی، تحمل طاق پر ہوگا ، زباں پر تو صرف سب و شتم ہی ہونگے۔
اب غور کیجئے! جب خالد بھائی ،مولانا صاحب اور مفتی صاحب کو اس کے نام کے بجائے نمبر سے بلانا بدسلوکی ،بدتہذیبی اور بدتمیزی کے زمرے میں آۓ گا تب ہم وہی بدسلوکی اللہ کے نام کے ساتھ کیسے روا رکھ سکتے ہیں ؟ 
یہ تو ایسا ہی ہے گویا کہ کوئی ایک غلطی سے بچنے کے لیے اس سے بڑی غلطی کر بیٹھے، ایک جرم سے بچنے کے لیے اس سے بڑے جرم ارتکاب کر لے۔

اللہ رب العزت کا تو فرمان ہے: 

وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا۪-وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اَسْمَآىٕهٖؕ-سَیُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(سورہ اعراف: 180)
ترجمہ: اور اللہ سے تو بس وہ نام مخصوص ہیں جو بہت اچھے ) نہایت عمدہ ) ہیں ( اس لیے ) اس کو تو صرف اچھے ہی ناموں کے ذریعے سے پکارو ( پکارا کرو ) اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں کے سلسلے میں غلط راستہ اختیار کرتے وہ جو کچھ بھی کرتے ہیں ۔ انھیں اس کی سزا ضرور مل کر ہی رہے گی۔

اس آیت کریمہ میں اللہ رب العزت نے ان لوگوں سے علحیدگی کا حکم دیا ہے جو لوگ اللہ کے نام میں الحاد کرتے ہیں اور اللہ کے نام کے ساتھ الحاد کی کئی شکلیں ہیں ۔ ایک الحاد تو وہ تھا جو کفار مکہ کیا کرتے تھے اور ایک الحاد یہ بھی ہے کہ اللہ کے لیے ایسے نام منتخب کرے جس سے اس کی شان میں کمی آتی ہو جیسا کہ مفسرین نے اس آیت کریمہ کی تفسیر میں لکھا ہے۔
تقی عثمانی دیوبندی صاحب اس آیت ک ضمن میں لکھتے ہیں: 
.......البتہ اس کو پکارنے کے لیے یہ ضرور قرار دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جو اچھے اچھے نام (اسمائے حسنی) خود اللہ تعالیٰ نے یا اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بتا دئیے ہیں، انہی ناموں سے اس کو پکارا جائے۔ ان اسمائے حسنی کی طرف قرآن کریم نے کئی مقامات پر اشارہ فرمایا ہے (دیکھئے سورۃ بنی اسرائیل 110:17 و سورۃ طہ 8:20 و سورۃ حشر 24:59) اور صحیح بخاری وغیرہ میں ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں۔ یہ ننانوے نام ترمذی اور حاکم نے روایت کیے ہیں خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر انہی اسمائے حسنی میں سے کسی اسم مبارک کے ساتھ کرنا چاہئے اور اپنی طرف سے اللہ تعالیٰ کا کوئی نام نہیں گھڑ لینا چاہیے۔ بہت سے کافروں کے ذہن میں اللہ تعالیٰ کا جو ناقص، ادھورا یا غلط تصور تھا اس کے مطابق انہوں نے اللہ تعالیٰ کا کوئی نام یا کوئی صفت بنالی تھی یہ آیت متنبہ کررہی ہے کہ مسلمانوں کے لئے جائز نہیں ہے کہ ان لوگوں کی پیروی میں وہ بھی اللہ تعالیٰ کا وہ نام یا صفت استعمال کرنا شروع کردیں۔
دارالعلوم دیوبند کا وجہ جواز اس لیے بھی مردود و مطروح ہے ، کیونکہ کفار تک کو دیے گیۓ خطوط میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھنا ثابت ہے، جیساکہ اور اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔

اگر یہ موقع ذلت و اہانت ہوتا تو اللہ رب العزت اپنے انبیاء کرام علیہم السلام کو ضرور اس پر متنبہ فرماتا۔
 ایسا لگتا ہے کہ مفتیان دیوبند اور ان جیسے حضرات کے دل میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کا ادب و احترام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بھی زیادہ ہے۔

آگے دارلعلوم دیوبند نے اپنے اس فتوے میں لکھا کہ: اگر کوئی شخص اس آیت کریمہ کو موقع ذلت واہانت میں پڑنے سے بچانے کی نیت سے بجائے آیت کریمہ کے 786 لکھ دے تو الأمور بمقاصدھا کے مطابق بلاشبہ جائز رہے گا۔ (نظام الفتاویٰ: ج۱ ص۳۹۵)

ہم کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص پوری بسم اللہ لکھ دے تو الامور بمقاصدھا کے تحت بلاشبہ یہ جائز رہےگا۔ کیونکہ اس کی نیت اہانت و ذلت کی نہیں بلکہ اجر و ثواب کی ہے۔انسان اپنی نیت و ارادے کا مکلف ہے، نہ کہ دوسروں کے عمل و ارادے کا۔

ایک قابل غور بات یہ بھی ہے کہ جو لوگ اپنے کیلنڈرز ،کاڈز اور جنتریوں میں اللہ کی نام کی توہین کے اندیشے سے شروع 786 سے کرتے ہیں ، اسی کیلنڈرز ،کارڈز وغیرہ میں کئی جگہ اللہ کے نام آۓ ہوتے ہیں ۔مثلا کسی مدرسے کا کیلنڈر ہو اور اس کے مہتمم کا نام مفتی عبداللہ ہو ، تو کہیں آۓ یا نہ آۓ اس کیلنڈر کے ترسیل زر کا پتہ یعنی جندے کا اکاؤنٹ نمبر عبد اللہ ضرور لکھا ہوگا۔ 
مفتی صاحب کو تو چاہیے کہ عبد اللہ لکھنے کا بجائے اس کا نمبر 142 استعمال کریں۔
اور یہ نام ہی کیوں بلکہ اس کیلنڈر میں تو قرآن کی آیت بھی ہے ، حدیث رسول بھی لکھی ہوئی ہے۔ تب توہین کا کوئی خطرہ انہیں محسوس ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔
وہی اسم اعظم جب شروع میں آۓ تب توہین سمجھتے ہیں اور درمیان میں آۓ تو  باعث اجر و ثواب!!

ضرورتوں کے مطابق دعا بدلتے رہے یہ لوگ
خود نہیں بدلے خدا بدلتے رہے !
اور اب تو ان کی عوام کی حالت یہ ہے کہ 786  اور بسم اللہ دونوں ایک ساتھ ہی لکھتے ہیں ۔ فیاللعجب ! 

مبشر احمد ربانی حفظہ اللہ اپنی کتاب احکام و مسائل میں لکھتے ہیں: 
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اگر اعداد الفاظ کا بدل ہیں تو کیا ہم اپنے معاملات میں ان کا اس لحاظ سے استعمال قبول کر سکتے ہیں؟ ایک شخص آپ سے کوئی واقعہ بیان کرتا ہے۔ آپ سمجھتے ہیں کہ جھوٹ بول رہا ہے ۔ آپ اسے کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم کھاؤ، وہ کہتا ہے چھیاسٹھ کی دوسو میں سچ کہہ رہا ہوں تو کیا آپ تسلیم کر لیں گے کہ اس نے اللہ کی قسم کھائی ہے؟ کیا اس کی بات کا اعتبار کر لیا جائے ؟ اسی طرح نکاح کے موقع پر دولہا کے میں نے ۱۳۸ کیا تو کیا یہ تسلیم کیا جائے گا کہ اس نے قبول کر لیا ؟ یا کوئی اپنی بیوی سے کہے جا تجھے ۱۴۰ ہے، تو کیا اسے طلاق سمجھا جا سکتا ہے۔ یقینا کوئی سمجھ ار اس منطق کو قبول نہیں کر سکتا۔

پھر کیا وجہ ہے کہ جس چیز کو اپنے لیے پسند نہیں کرتے اسے اللہ تعالی کے مقدس نام کے لیے اور جناب رسول اللہ صل الام کے اسم مبارک کے لیے ہم پسند کریں ۔ ایک مومن کے لیے اس کا تصور بھی نا قابل قبول ہے۔
آگے مزید لکھتے ہیں: 
 عجیب بات یہ ہے کہ 786 کا عدد بسم اللہ کا نعم البدل صرف تحریر میں سمجھا جاتا ہے، زبان سے بولنے میں نہیں ، ورنہ کھانا کھاتے ہوئے بھی سات سو چھیاسی 786 پڑھ کر کھانا شروع کر دیا جائے اور تلاوت کرتے ہوئے بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھایا جائے اور اگر نماز کے لیے اذکار کے اعداد نکال لیے جائیں تو بڑی آسانی سے جھٹ پٹ نماز سے فراغت حاصل ہو سکتی ہے۔ لہذا قارئین سے گزارش ہے کہ وہ 786 کا عدد استعمال کرنے کی بجائے اللہ تعالی کا مبارک نام اور مکمل "بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا کریں تا کہ وہ یہود و نصاری کی نقل سے بچتے ہوے اللہ کے نام کی۔ برکتوں سے فیض ہو سکیں۔
(احکام و مسائل : صفحہ نمبر : 666)"

اللہ سے دعا ہے کہ ہم سب کو فہم سلیم عطا فرمائے!

Saturday, February 14, 2026

معاشرتی عقائد نہ کہ شرعی عقائد

معاشرتی عقائد نہ کہ شرعی عقائد 

۱۔ آذان کے وقت عورتوں کا دوپٹہ اوڑھنا۔
۲۔ قرآن گر جائے تو اسے چومنا یا اس کے کفارہ میں آٹا صدقہ کرنا۔
۳۔ قرآن کی طرف پیٹھ نہ کرنا۔
۴۔ کعبہ کی طرف پیر نہ کرنا۔
۵۔ اذان کی آواز پر سارے کام ترک کر کے صرف اذان سننا۔
۶۔ بیت الخلاء میں داخل ہوتے وقت بایاں پاؤں پہلے داخل کرنا اور نکلتے وقت پہلے دایاں پاؤں نکالنا۔
۷۔ مرنے والے کا تیجہ، چہلم یا برسی منانا۔
۸۔ ختم قرآن پر مروجہ دعا پڑھنا۔
۹۔ قرآن کی تلاوت کے بعد ’’صدق اللہ العظیم‘‘ پڑھنا۔
۱۰۔ اذان میں اشھد ان محمدا رسول اللہ سن کر شہادت کی انگلی اٹھانا۔
۱۱۔ قرآن کھلا ہو تو اسے اس خیال سے بند کرنا کہ شیطان پڑھتا ہے۔
۱۲۔ جاء نماز کا کونہ اس خیال سے موڑنا کہ کہیں شیطان نماز نہ پڑھ لے۔
۱۳۔ نظر اتارنے کے لیے مرچیں جلا کر دھونی دینا یا پانی سے اتارنا۔
۱۴۔ رات میں ناخن نہ کاٹنا یا ناخن کاٹ کر باہر نہ پھیکنا بلکہ دفنا دینا۔
۱۵۔ کوا بولنے سے مہمان کے آنے کی امید لگانا۔
۱۶۔ قینچی چلانے سے لڑائی جھگڑے کی نحوست سمجھنا۔
۱۷۔ کالے رنگ پر نظر نہیں لگتی اس کے لیے چہرے پر کالے بال ہونے کے باوجود کالا نشان لگانا یا کالا دھاگا باندھنا۔
۱۸۔ رات میں جھاڑو لگانے سے نحوست ماننا۔
۱۹۔ مغرب کے وقت دہلیز پر نہ بیٹھنا۔
۲۰۔ الو کے بولنے سے نحوست ماننا۔
۲۱۔ سور کا نام لینے سے چالیس دن تک زبان کو ناپاک قرار دینا۔

بیٹی کو رخصت کرتے وقت قرآن دینا۔

یہ وہ معاشرتی عقائد ہیں جن کا شرعی عقائد سے کوئی واسطہ نہیں ہے ۔

Thursday, January 29, 2026

تلاوت قرآن کے بعد صدق الله العظيم پڑھنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ 

موضوع: تلاوت قرآن کے بعد صدق الله العظيم پڑھنا ! 

محمد اقبال قاسمی صاحب 

مصادر: مختلف مراجع و مصادر 

اکثر حنفی قراء، علماء اور مفتیان کو دیکھا جاتا ہے کہ تلاوت قرآن کریم کے اختتام پر "صدق اللہ العظیم" بھی پڑھتے ہیں جو کہ کتاب و سنت سے ثابت نہیں ہے ، کسی بھی صحیح حدیث میں مذکور نہیں ہے ، صحیح تو کیا کسی ضعیف سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے جس سے یہ پتہ چلتا ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت قرآن کریم کے بعد یہ الفاظ کہیں ہوں۔ 
نہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ۔۔۔
نہ تابعین رحمہم اللہ سے۔۔۔
 بلکہ یہ خیر القرون کے بعد کے قراء حضرات کی ایجاد ہے۔

اسلام سوال جواب پر اس سوال کا درج ذیل جواب دیا گیا جو اس طرح ہے: 
سوال: 2209
كيا تلاوت كرنے كے بعد صدق اللہ العظيم كہنا بدعت ہے اور اگر واقعى بدعت ہے تو يہ اسلام ميں كيسے داخل ہوا ؟

جواب کا متن
ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

اكثر لوگوں كى عادت ہے كہ جب تلاوت سے فارغ ہوتے ہيں تو صدق اللہ العظيم كہتے ہيں يہ مشروع نہيں كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ايسا نہيں كيا، اور نہ ہى صحابہ كرام كى عادت تھى، اور پھر تابعين كے دور ميں بھى ايسا نہيں ہوا، بلكہ يہ آخرى دور ميں كچھ قراء حضرات كى جانب سے جارى ہوا جنہوں نے اللہ تعالى كے فرمان ( قل صدق اللہ ) سے دليل ليتے ہوئے بطور استحسان كہنا شروع كيا، ليكن يہ استحسان مردود ہے كيونكہ اگر يہ اچھا اور بہتر ہوتا تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اور صحابہ كرام اور تابعين عظام اس پر ضرور عمل كرتے، كيونكہ وہ اس امت كے سلف ہيں.

رہا فرمان بارى تعالى:

قل صدق اللہ .

اس سے يہ مراد نہيں كہ جب تلاوت ختم كى جائے تو صدق اللہ كہا جائے، اگر اس سے يہى مراد ہوتى تو اللہ تعالى يہ فرماتا: كہ جب تم قرآت سے فارغ ہو تو صدق اللہ كہا كرو، جس طرح يہ فرمايا كہ:

تو جب تم قرآن مجيد كى تلاوت كرو تو اعوذ باللہ من الشيطان الرجيم كہو .

مذكورہ آيت سے دليل لے كر صدق اللہ العظيم كہا بدعت ہے، بلكہ يہ فرمان تو اللہ تعالى نے بنى اسرائيل كے ليے سب كچھ كھانا حلال قرار ديا صرف وہى جو يعقوب عليہ السلام نے خود اپنے ليے حرام كيا تھا اس كى خبر ديتے ہوئے فرمايا ہے:

كہہ ديجئے تورات لا كر پڑھو اگر تم سچے ہو، جو كوئى بھى اس كے بعد اللہ تعالى پر افترا پردازى كرتا ہے تو يہى لوگ ظالم ہيں، كہہ ديجئے اللہ تعالى نے سچ فرمايا ہے، لہذا تم ملت ابراہيم كى يكسو ہو كر پيروى كرو، اور وہ مشركوں ميں سے نہ تھے .

اگر اس سے قرآن مجيد كى تلاوت سے فارغ ہو كر صدق اللہ كہنا مراد ہوتا تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم اس كے علم كا زيادہ حق ركھتے تھے، اور وہ اس پر سب سے پہلے خود عمل كرتے، جب ايسا نہيں ہوا تو پھر اس سے يہ مراد نہيں ہے.

خلاصہ:

قرآن مجيد كى تلاوت سے فارغ ہو كر صدق اللہ العظيم بدعت ہے مسلمان كو ايسا نہيں كرنا چاہيے.

اللہ تعالى نے جو كچھ فرمايا ہے اس كى سچائى كا اعتقاد ركھنا مسلمان كے ليے فرض ہے، كيونكہ جس شخص نے بھى اللہ تعالى كے كسى فرمان يا اس ميں سے كسى چيز كو جھٹلايا يا اس ميں شك كيا تو وہ كافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے، اللہ اس سے محفوظ ركھے.

اور جو كسى مناسبت سے مثلا جن اشياء كى اللہ تعالى نے خبر دى ہے وہ واقع ہو تو اس وقت كسى شخص كا بطور تاكيد صدق اللہ يعنى اللہ نے سچ فرمايا كہنا جائز ہے، كيونكہ سنت سے يہ ثابت ہے.

ايك بار رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے كہ حسن اور حسين رضى اللہ تعالى عنہما آئے تو آپ نے منبر سے اتر كر انہيں اٹھايا اور اپنے سامنے بٹھا كر فرمايا: اللہ تعالى نے سچ فرمايا ہے كہ:

يقينا تمہارے مال اور تمہارى اولاد فتنہ ہيں .

ديكھيں: ازالۃ الستار عن الجواب المختار ابن عثيمين ( 79 - 80 ).
ماخذ : اسلام سوال جواب 
سوال نمبر : 2209

الجواب: اعتياد الكثير من الناس أن يقولوا: صدق الله العظيم عند الانتهاء من قراءة القرآن الكريم وهذا لا أصل له، ولا ينبغي اعتياده بل هو على القاعدة الشرعية من قبيل البدع إذا اعتقد قائله أنه سنة، فينبغي ترك ذلك وأن لا يعتاده لعدم الدليل.
 وأما قوله تعالى: قُلْ صَدَقَ اللَّهُ فليس في هذا الشأن، وإنما أمره الله  أن يبين لهم صدق الله فيما بينه في كتبه العظيمة من التوراة وغيرها، وأنه صادق فيما بينه لعباده في كتابه العظيم القرآن، ولكن ليس هذا دليلا على أنه مستحب أن يقول ذلك بعد قراءة القرآن أو بعد قراءة آيات أو قراءة سورة؛ لأن ذلك ليس ثابتًا ولا معروفًا عن النبي ﷺ ولا عن صحابته رضوان الله عليهم.
ولما قرأ ابن مسعود على النبي ﷺ أول سورة النساء حتى بلغ قوله تعالى: فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيدًا [النساء: 41] قال له النبي ﷺ: حسبك قال ابن مسعود: فالتفت إليه فإذا عيناه تذرفان عليه الصلاة والسلام، أي يبكي لما تذكر هذا المقام العظيم يوم القيامة المذكور في الآية وهي قوله سبحانه: فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ أي يا محمد على هؤلاء شهيدا أي على أمته عليه الصلاة والسلام، ولم ينقل أحد من أهل العلم فيما نعلم عن ابن مسعود رضي الله عنه أنه قال: صدق الله العظيم بعد ما قال له النبي ﷺ: حسبك والمقصود أن ختم القرآن بقول القارئ صدق الله العظيم ليس له أصل في الشرع المطهر، أما إذا فعلها الإنسان بعض الأحيان لأسباب اقتضت ذلك فلا بأس۔

Recent posts

تعزیہ، عاشورہ کا میلہ اور فتوی احمد رضا خان

 احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں : تعزیہ آتا دیکھ کر اعراض و روگردانی کریں۔ اس کی طرف دیکھنا ہی نہیں چاہیے ۔ (عرفان شریعت حص...